🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-11-1443 ᴴ | 10-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-11-1443 ᴴ | 10-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰عدیل احمد قادری مصباحی✰)
بیوپاری کا مال بچواکر اس سے کمیشن لینا کیسا؟ حکم وتفصیل!
➖➖➖➖➖
الاستفتاء _السلام علیکم__حضرت ہمارےیہاں بکروں کا کاروبار اس طرح کیا جاتا ہے کہ ایک بیپاری بکرے لےکر آتا ہے ان بکروں کو بیچنے کے لیے ایک دلال ہوتا ہے اس دلال کا کام یہ ہوتا ہے وہ بکرے خریدنے والے کسائی سے بات کرتا ہے کہ یہ بکرے اتنے کے ہے جب کسائی پیسے بتاتا ہے تو وہ بیپاری سے کان میں بات کرتا ہے بیپاری اگر راضی ہوتا ہے تو وہ بکرے اس کسائی کو دیدیے جاتے ہے اور یہ دلال کسائی سے پندرہ بیس دن یا ایک مہینہ بعد ان بکروں کے پیسے لیتا ہے لیکن دلال اس بیپاری کو اسی وقت سارے پیسے دیدیتا ہے اب یہ دلال جو کسائیوں کو بکرے دلوارہا ہے اس بیپاری سے تین یا چار پرسینٹ منافع لیتا ہے کیا یہ منافع لینا درست ہے یا نہیں.
المستسفی: محمد حسن.
➖➖➖➖➖➖
*وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
*الـــجــــــــــوابـــــــ :۔ ⇩* ● *ہاں دلال اس بیوپاری سے کمیشن لے سکتاہے جبکہ اس کابکرا بچوانے میں وہ آیا گیا ہو، محنت کی ہو اور اس کام میں اپنا وقت صرف کیاہو، ورنہ اگر گاہک سے صرف دوچار باتیں کہہ دی ہوں یا صلاح مشورہ دے دیاہو تو اجرت کا مستحق نہیں.*
●زید اجرت کے طور پر اجرت مثل پائےگا، یعنی اتنی مزدوری پر جتنی اجرت وہاں کے لوگ بطور کمیشن دیتے ہوں اتنی اجرت پائے گا، اگرچہ اجرت کتنی ہی کیوں نہ پرسینٹ٪ طے ہوئی ہو، اسی طرح اجرت اگر اجرت مثل سے کم پر طے ہوئی تھی تو جتنی طے ہوئی تھی وہی پائے گا کہ وہ اس پر خود راضی ہوا.
● *اس طرح کمیشن لیناجائز ہے، لیکن اگر کمیشن لینے والا دلال بیوپاری اور خریدار کے درمیان جھوٹ بول کر بیع/خریدوفروخت کرائے تو یہ ناجائز وحرام ہے، مثلاً بیوپاری سے قیمت طے کیا اور خریدار سے اس سے زیادہ بتایا تو یہ جائز نہیں اور اس کا کمیشن لینا بھی ناجائزوحرام کہ اس نے جھوٹ بول کر کمیشن وصول کیا.*
__
فتاوی رضویہ میں ہے:...اجرت آنے جانے محنت کرنے کی ہوتی ہے نہ بیٹھے بیٹھے، دو چار باتیں کہنے، صلاح بتانے مشورہ دینے کی....إلخ.
*اور اگر بائع کی طرف سے محنت وکوشش ودوادوش میں اپنا زمانہ صرف کیا تو صرف اجر مثل کا مستحق ہوگا، یعنی ایسے کام اتنی سعی پر جو مزدوری ہوتی ہے اس سے زائد نہ پائے گا اگر چہ بائع سے قرارداد کتنے ہی زیادہ کا ہو، اور اگر قرارداد اجر مثل سے کم کا ہو تو کم ہی دلائیں گے کہ سقوط زیادت پر خود راضی ہوچکا* خانیہ میں ہے:ان کان الدلال الاول عرض تعنٰی وذھب فی ذٰلک روزگارہ کان لہ اجر مثلہ بقدر عنائہ....إلخ.(مترجم،ج:١٩،ص:٤٥٢،کتاب الاجارہ،رضافاؤنڈیشن،جامعہ نظامیہ لاہور،)
اس مسئلے کی تفصیل کےلیے فتاوی رضویہ کا مطالعہ کیاجاسکتاہے، اس کا کچھ ذکر فتاوی فقیہ ملت،ج:٢،ص:١٩١/١٩٠،(شبیر برادرز، اردو بازار لاہور) پر بھی موجود ہے.واللہ تعالی اعلم.
*کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه:عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیا*
4/دسمبر،2021بروزسنیچر.
*📲+263780498811*
➖➖➖➖➖
الاستفتاء _السلام علیکم__حضرت ہمارےیہاں بکروں کا کاروبار اس طرح کیا جاتا ہے کہ ایک بیپاری بکرے لےکر آتا ہے ان بکروں کو بیچنے کے لیے ایک دلال ہوتا ہے اس دلال کا کام یہ ہوتا ہے وہ بکرے خریدنے والے کسائی سے بات کرتا ہے کہ یہ بکرے اتنے کے ہے جب کسائی پیسے بتاتا ہے تو وہ بیپاری سے کان میں بات کرتا ہے بیپاری اگر راضی ہوتا ہے تو وہ بکرے اس کسائی کو دیدیے جاتے ہے اور یہ دلال کسائی سے پندرہ بیس دن یا ایک مہینہ بعد ان بکروں کے پیسے لیتا ہے لیکن دلال اس بیپاری کو اسی وقت سارے پیسے دیدیتا ہے اب یہ دلال جو کسائیوں کو بکرے دلوارہا ہے اس بیپاری سے تین یا چار پرسینٹ منافع لیتا ہے کیا یہ منافع لینا درست ہے یا نہیں.
المستسفی: محمد حسن.
➖➖➖➖➖➖
*وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
*الـــجــــــــــوابـــــــ :۔ ⇩* ● *ہاں دلال اس بیوپاری سے کمیشن لے سکتاہے جبکہ اس کابکرا بچوانے میں وہ آیا گیا ہو، محنت کی ہو اور اس کام میں اپنا وقت صرف کیاہو، ورنہ اگر گاہک سے صرف دوچار باتیں کہہ دی ہوں یا صلاح مشورہ دے دیاہو تو اجرت کا مستحق نہیں.*
●زید اجرت کے طور پر اجرت مثل پائےگا، یعنی اتنی مزدوری پر جتنی اجرت وہاں کے لوگ بطور کمیشن دیتے ہوں اتنی اجرت پائے گا، اگرچہ اجرت کتنی ہی کیوں نہ پرسینٹ٪ طے ہوئی ہو، اسی طرح اجرت اگر اجرت مثل سے کم پر طے ہوئی تھی تو جتنی طے ہوئی تھی وہی پائے گا کہ وہ اس پر خود راضی ہوا.
● *اس طرح کمیشن لیناجائز ہے، لیکن اگر کمیشن لینے والا دلال بیوپاری اور خریدار کے درمیان جھوٹ بول کر بیع/خریدوفروخت کرائے تو یہ ناجائز وحرام ہے، مثلاً بیوپاری سے قیمت طے کیا اور خریدار سے اس سے زیادہ بتایا تو یہ جائز نہیں اور اس کا کمیشن لینا بھی ناجائزوحرام کہ اس نے جھوٹ بول کر کمیشن وصول کیا.*
__
فتاوی رضویہ میں ہے:...اجرت آنے جانے محنت کرنے کی ہوتی ہے نہ بیٹھے بیٹھے، دو چار باتیں کہنے، صلاح بتانے مشورہ دینے کی....إلخ.
*اور اگر بائع کی طرف سے محنت وکوشش ودوادوش میں اپنا زمانہ صرف کیا تو صرف اجر مثل کا مستحق ہوگا، یعنی ایسے کام اتنی سعی پر جو مزدوری ہوتی ہے اس سے زائد نہ پائے گا اگر چہ بائع سے قرارداد کتنے ہی زیادہ کا ہو، اور اگر قرارداد اجر مثل سے کم کا ہو تو کم ہی دلائیں گے کہ سقوط زیادت پر خود راضی ہوچکا* خانیہ میں ہے:ان کان الدلال الاول عرض تعنٰی وذھب فی ذٰلک روزگارہ کان لہ اجر مثلہ بقدر عنائہ....إلخ.(مترجم،ج:١٩،ص:٤٥٢،کتاب الاجارہ،رضافاؤنڈیشن،جامعہ نظامیہ لاہور،)
اس مسئلے کی تفصیل کےلیے فتاوی رضویہ کا مطالعہ کیاجاسکتاہے، اس کا کچھ ذکر فتاوی فقیہ ملت،ج:٢،ص:١٩١/١٩٠،(شبیر برادرز، اردو بازار لاہور) پر بھی موجود ہے.واللہ تعالی اعلم.
*کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه:عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیا*
4/دسمبر،2021بروزسنیچر.
*📲+263780498811*
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-11-1443 ᴴ | 10-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-11-1443 ᴴ | 11-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1