🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-11-1443 ᴴ | 08-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-11-1443 ᴴ | 09-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-11-1443 ᴴ | 09-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-11-1443 ᴴ | 09-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
-----------------------------------------------------------
*📚مساجد میں قالین کے مصلوں پر تصویر ہونے کا خیال درست نہیں، ان مصلوں پر نماز بلاکراہت جائز ہے📚*


*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
ہمارے گاؤں میں مسجد کیلئے بطور مصلے کچھ قالینیں منگائی گئی ہیں ، جن میں ستون ٹائپ کا نقشہ ہے جس کے سرے پر پھول بنے ہوئے ہیں ، کچھ لوگوں کا کہناہے کہ یہ پھول نہیں بلکہ کسی جاندار کے سر کی تصویر ہے ، یا مورتی یا مورتی کے مشابہ ہے ، اسلئے ان مصلوں پر نماز مکروہ ہوگی
سوال یہ ہےکہ کیا ان لوگوں کایہ کہنا درست ہے ؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔
نوٹ : سہولت و تحقیق کیلئے مصلے کی تصویر بھی حاضر خدمت ہے
*المستفتی : سنی مسلم جماعت ، مالیا ہاتھینا ، گجرات*


*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
علمائے لغت نے تصویر کی تعریف بایں طور کی ہے کہ
*🖋️" ھيئة مفردة يتميز بهاعلى اختلافها وكثرتها "*
*(📘لسان العرب ، حرف الراء ، فصل الصاد ، مادۃ: صور ، ۶/۱۴۳ ، مطبوعۃ وزارۃ الشئون الاسلامیۃ المملکۃالسعودیۃ)*
یعنی، صورت اس ہیئت مفردہ کو کہتےہیں کہ کثرت و اختلاف کے باوجود شئے متمیز ہوجائے،

اور یہ تعریف تصویر سایہ دار و غیرسایہ دار ، مجسمہ و غیرمجسمہ سب کو شامل ہے

موسوعہ فقہیہ میں ہے:
*🖋️" صنع الصورة التي هي تمثال الشيء، أي : ما يماثل الشيء ويحكي هيئته التي هو عليهـا، سواء كانت الصورة مجسمة أو غير مجسمة، أو كما يعبر بعض الفقهاء : ذات ظل أو غير ذات ظل "*
*(📕الموسوعۃالفقھیۃ ، حرف التاء ، مادۃ:التصویر ۱ ، ۱۲/۹۲,۹۳ ، وزارۃالاوقاف الکویت ، الطبعۃالثانیۃ:۱۴۰۸ھ)*
یعنی،تصویر شئے کی ایسی صورت بنانے کو کہتےہیں جو شئے کی عکاسی کرے ، یعنی جو شئے کی مماثل ہو اور اس کی اسی ہیئت کی حکایت کرے جس پر وہ ہے ، چاہے وہ صورت مجسمہ ہو یا غیرمجسمہ ، یا جیسےکہ بعض فقہاء نے تعبیرکی ہےکہ سایہ دار ہو یا غیرسایہ دار ،

تصویر کی اس تعریف و توضیح میں اہل لغت کے ساتھ فقہائےکرام رحمھم اللہ بھی متفق ہیں

موسوعہ فقہیہ میں ہے:
*🖋️" والتصوير والصورة في اصطلاح الفقهاء يجري على ما جرى عليه في اللغة "*

*(📗ایضا ، ص۹۳)*
یعنی،تصویر و صورت اصطلاح فقہاء میں بھی اسی کو کہاجاتا ہے جس پر اہل لغت چلےہیں ،

البتہ حرمت و کراہت اس تصویر کےساتھ خاص ہے جو " تمثال " ہو

جیساکہ علامہ زین الدین ابن نجیم مصری حنفی متوفی ۹۷۰ ھ فرماتے ہیں:
*🖋️" وقولهـم ويكره التصاويرالمرادبهاالتماثيل اه فالحاصـل ان الصورة عام والتماثيل خاص والمرادهنا الخاص فان غيرذى الروح لايكره كالشجرلمـاسـياتى "*
*(📔البحر الرائق ، کتاب الصلاۃ ، باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ ، تحت قولہ : ولبس ثوب فیہ تصاویر ، ۲/۲۹ ، مطبوعۃ مصر)*
یعنی، فقہائے کرام کا یہ قول کہ تصاویر مکروہ ہیں سے مراد تماثیل ہیں ، حاصل یہ کہ تصویر عام ہے اور ثماثیل خاص ، یہاں پر مراد خاص ہے کیونکہ غیرذوی الروح کی تصویر مکروہ نہیں ہے ،

تماثیل کی کراہت میں یہ بھی لازم ہےکہ تصویر نہ تو بہت چھوٹی ہو نہ مقطوع الراس ہو

امام ابوالبرکات عبداللہ بن احمد نسفی حنفی متوفی ۷۱۰ھ فرماتے ہیں:
*🖋️" إلا أن تكون صغيرة، أو مقطوعة الرأس "*
*(📙کنز الدقائق ، کتاب الصلاۃ ، باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیھا ، ص۱۷۴ ، دارالبشائر ، الطبعۃالاولی:۱۴۳۲ھ)*
یعنی،تصاویر مکروہ ہیں مگر جب چھوٹی ہوں یا مقطوع الراس ہوں ،

چھوٹی ہونے کا مطلب یہ ہےکہ اگر زمین پر رکھی ہوں تو دور سے دیکھنےپر واضح طور پر نظر نہ آئیں

علامہ سید ابوالسعود ازہری حنفی فرماتےہیں:
*🖋️" والمرادبالبعدعلى القول باعتباره ان يكون بحال لوكانت الصورة على الارض وهو واقف لا يرى تفاصيل اعضائها "*
*(📕فتح اللہ المعین ، کتاب الصلاۃ ، باب مایفسد الصلاۃ و مایکرہ فیھا ، ۱/۲۴۵ ، مطبوعۃ مصر ، الطبعۃالاولی)*
یعنی، دور سے دیکھنے سے مراد یہ ہےکہ اگر آدمی کھڑا ہو تو اسے زمین پر رکھی تصویر کے اعضا کی تفصیل معلوم نہ ہو ،

اور امام اہلسنت امام احمد رضا قادری حنفی متوفی ۱۳۴۰ھ فرماتے ہیں:
*🖋️" جاندار کی اتنی بڑی تصویر کہ اسے زمین پر رکھ کر کھڑے ہوکر دیکھیں تو اعضاء بالتفصیل نظر آئیں بشر طیکہ نہ سر بریدہ ہو ، نہ چہرہ محوکردہ، نہ پاؤں کے نیچے ، نہ فرش پاانداز میں ، نہ مخفی پوشیدہ جس کمرہ میں ہو ، اس میں نماز مطلقا مکروہ ہے "*
*(📘فتاوی رضویہ مترجم ، کتاب الصلاۃ ، باب مکروہات الصلاۃ ، ۷/۳۸۸ ، رضافاؤنڈیشن لاہور)*

*صورت مسئولہ میں اولا تو وہ تماثیل ہی نہیں ہیں ، ثانیا اگر تصاویر مان بھی لی جائیں تو چہرہ مہرہ واضح نہیں ، یہ محض ایک خیال ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں اور محض شک و خیال پر کوئی حکم شرع مرتب نہیں ہوتا*

علامہ ابن نجیم مصری حنفی فرماتے ہیں:
2👍1
*🖋️" لا يتصور أن يثبت شك في محل ثبوت اليقين ليتصور ثبوت شك فيه لا يرتفع به ذلك اليقين "*
*(📘الاشباہ والنظائر ، الفن الاول ، القاعدۃ الثالثۃ ، ص۴۸ ، دارالکتب العلمیۃ ، الطبعۃالاولی:۱۴۱۹ھ)*
یعنی، یہ بات متصور نہیں ہےکہ محل ثبوت یقین میں شک کو ثابت کیاجائے تاکہ اس میں شک کا ثبوت متصور ہو ، ایسی صورت میں اس شک سے یقین مرتفع نہیں ہوگا ،

*خلاصہ کلام یہ کہ ہم نے ارسال کردہ مصلے کی تصویر دیکھی اور خود ہمارے یہاں کی مساجد میں اسی قسم کے مصلے بھی بارہا بغور دیکھے ، ان میں تصویر کا شائبہ بھی موجود نہیں ہے ، بس تصور کرنے والے کی خام خیالی ہے اور کچھ نہیں ، فلہذا ان مصلوں پر نماز بلاکراہت درست ہے کیونکہ منع شرعی و وجہ کراہت موجود نہیں*

*ھذا ماظھرلی والعلم الحقیقی عندربی*
*واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب*


*✍🏻 کتبــــــــــــــه:*
*محمد شکیل اخترقادری برکاتی شیخ الحدیث مدرسۃالبنات مسلک اعلی حضرت ہبلی کرناٹک الھند۔*

*📚الجواب صحیح والمجیب نجیح: عبدہ محمد عطاء اللہ النعیمی عفی عنہ ٫خادم الحدیث والافتاء بجامعۃ النور٫ جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی۔*
*📚الجواب صحیح والمجیب نجیح: عبدہ محمد جنید العطاری النعیمی عفی عنہ,دارلافتاء جامعة النور,جمعیت اشاعت اہلسنت(پاکستان) کراچی۔*
*📚الجواب صحيح والمجيب نجيح: أبو الضياء محمد فرحان القادري النعيمي دار الإفتاء الضيائية بالجامعة الغوثية الرضوية كراتشي باكستان۔*
*صح الجواب؛ احوج الناس الی شفاعة سید الانس والجان فقیر مُحَمَّد قاسم القادری اشرفی نعیمی غفر اللہ لہ والدیہ شیش جراہ ببلدة برلی الشریفہ و خادم غوثیہ دار الافتا کاشی پر اتراکھنڈ الھند۔*
*الجواب صحیح والمجیب نجیح: محمد شرف الدین رضوی ، دارالعلوم حبیبیہ قادریہ فیلخانہ ہوڑہ کلکتہ الھند۔*
*📚الجواب صحیح والمجیب نجیح: محمد شفیع عالم ساحل اشرفی ، گجرات۔*
*📚الجواب صحیح والمجیب نجیح: خواجہ مسعود رضا عفی عنہ ، دارالعلوم حبیبیہ قادریہ فیلخانہ ہوڑہ کلکتہ۔*
*📚الجواب صحیح والمجیب نجیح: عبدالستار رضوی ، جامعہ ارشدالعلوم عالم بازار ، کلکتہ الھند۔*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯بد مذہبوں کے پاس بیٹھنا کیسا🕯*


📬 حضرت علامہ امام ابوبکر محمد ابنِ سیرین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں دو بد عقیدہ آدمی حاضر ہوئے اور کہنے لگے:اے ابوبکر! ہم آپ کو ایک حدیث سناتے ہیں_فرمایا: میں نہیں سُنوں گا_ دونوں نے کہا: اچھا چلیے قرآن کریم کی ایک آیت ہی سُن کیجئے فرمایا : نہیں سنوں گا،تم دونوں میرے پاس سے چلے جاؤ ورنہ میں اُٹھ کر چلا جاتا ہوں_آخر وہ چلے گئے تو بعض لوگوں نے (حیرت سے)عرض کی:اے ابوبکر! آپ اگر ان سے حدیث پاک یا آیتِ قرآنی سن لیتے تو اس میں آخر کیا حرج تھا؟ فرمایا مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ یہ لوگ قرآن و حدیث کے ساتھ اپنی تاویل لگائیں اور وہ میرے دل میں رہ جائے (تو ہلاک ہو جاؤں اس لیے میں نے اُن سے قرآن و حدیث سننا گوارا نہ کیا)
(سنن دارمی، جلد1، صفحہ120، رقم397، فتاویٰ رضویہ جلد 15،صفحہ106)

پیارے اسلامی بھائیو! اس حکایت میں مشہور تابعی بُزرگ امامُ المعَبِّرِین حضرت سیدنا ابوبکر محمد ابنِ سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے دو شخصوں کے بارے میں یہ جو فرمایا ہے کہ"مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ یہ لوگ قرآن و حدیث کے ساتھ اپنی کچھ تاویل لگائیں" یہ بظاہر بد گمانی و غیبت ہے بلکہ ایسی غیبت باعثِ ثوابِ آخرت ہوتی ہے کیونکہ وہ دونوں بد عقیدہ تھے لہذا آپ نے ان کی بد عقیدگی کا لوگوں پر اظہار فرما دیا۔
دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبتہ المدینہ کی مطبوعہ 312 صفحات پر مشتمل کتاب "بہار شریعت، حصہ16، صفحہ 175تا176پر صدرالشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
بد عقیدہ لوگوں کا ضرر (یعنی نقصان)فاسِق کے ضرر سے بہت زائد ہے،فاسق سے جو ضرر (یعنی نقصان) پہنچے گا وہ اس سے بہت کم ہے جو بد عقیدہ لوگوں سے پہنچتا ہے_فاسق سے اکثر دنیا کا ضرر (نقصان) ہوتا ہے اور بد مذہب سے تو دین و ایمان کی بربادی کا ضرر (نقصان) ہے اور بد مذہب اپنی بد مذہبی پھیلانے کے لیے نماز روزہ کی بظاہر خوب پابندی کرتے ہیں،تاکہ ان کا وقار لوگوں میں قائم ہو پھر جو گمراہی کی بات کریں گے ان کا پورا اثر ہو گا،لہٰذا ایسوں کی بد مذہبی کا اظہار فاسق کے فسق کے اظہار سے زیادہ اہم ہے اس کے بیان کرنے میں ہر گز دَریغ نہ کریں۔

مذکورہ حکایت سے ان لوگوں کو بھی درس حاصل کرنا چاہیئے کہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ جو کوئی بھی قرآن و حدیث بیان کرے آنکھیں بند کر کے اُس سے سُن لینا چاہیے اگر ایسا ہوتا تو مسلمانوں کے جلیل القدر امام حضرت سیدنا امام ابو بکر محمد ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ جیسے عظیم عالمِ دین نے اُن بد عقیدہ آدمیوں سے قرآن وحدیث کو کیوں نہیں سُنا!بس یوں سمجھو کہ انہوں نے نہ سُن کر گویا ہم جیسوں کو سمجھایا ہے کہ میں بھی نہیں سُنتا تم بھی مت سُنو! حالانکہ آپ رحمتہ اللہ علیہ عربی دان اور جلیل القدر عالم و مُجتہد تھے، اگر وہ بد عقیدہ لوگ تاویل کرتے تو پکڑے بھی جاتے مگر ان منحوس بد مذہبوں سے سننا ہی نہیں ہے کہ شیطان کو بہکاتے دیر نہیں لگتی_اگر آپ رحمتہ اللہ علیہ سُن لیتے تو دوسروں کے لئے دلیل ہو جاتی اور وہ سُن کر گمراہ ہوتے_اور ہاں آپ نے ان کو جو چَلے جانے کا حکم فرمایا وہ کوئی بد اخلاقی نہیں تھی بلکہ ایسا کرنا عین حُسنِ اَخلاق ہے_ اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے دُشمنوں کی خاطِر تواضع نہیں کی جا سکتی۔

جو ہیں دُشمن رسول کے اُن کو
ہم نے دل سے نکال رکھا ہے

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبتہ المدینہ کی مطبوعہ 561 صفحات پر مشتمل کتاب، "ملفوظات اعلیٰ حضرت" (مکمل) صفحہ 302 پر ہے:
حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز مغرب پڑھ کر مسجد سے تشریف لائے تھے کہ ایک شخص نے آواز دی:کون ہے کہ مسافر کو کھانا دے؟امیرالمؤمنین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خادم سے ارشاد فرمایا: اسے ہمراہ لے آؤ_وہ آیا (تو) اسے کھانا منگا کر دیا_مسافر نے کھانا شروع ہی کیا تھا کہ ایک لفظ اس کی زبان سے ایسا نکلا جس سے"بد مذہبی کی بُو"آتی تھی، فوراً کھانا سامنے سے اُٹھوا لیا اور اسے نکال دیا_
(کنزالعمال،جلد10،صفحہ117،رقم29384)
فارقِ حق و باطل امام الہدیٰ
تیغِ مَسلُولِ شدّت پہ لاکھوں سلام

ملفوظات اعلیٰ حضرت"(مکمل) صفحہ 277 سے عرض، ارشاد کا اقتباس ملاحظہ فرمائیے اور اپنی آخرت کی بہتری کی صورت بنائیے۔

عرض: اکثر لوگ بد مذہبوں کے پاس جان بُوجھ کر بیٹھتے ہیں_ان کے لیے کیا حکم ہے؟
2👍2
ارشاد: (بد مذہبوں کے پاس بیٹھنا) حرام ہے اور بد مذہب ہو جانے کا اندیشہ کامل اور دوستانہ نہ ہو تو دین کے لیے زہرِ قاتل_رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:اِیَّاکُمْ وَ اِیَّاہُمْ لَا یُضِلُّوْنَکُمْ وَلَا یَفْتِنُوْنَکُمْ یعنی انہیں اپنے سے دور کرو اور ان سے دور بھاگو وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں کہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈالیں_(مقدمہ صحیح مسلم،حدیث7،صفحہ9) اور اپنے نفس پر اعتماد کرنے والا بڑے کذاب (یعنی بہت بڑے جھوٹے)پر اعتماد کرتا ہے،"اِنَّھَا اَکْذَبُ شَی٘ ءِِ اِذَا حَلَفَت٘ فَکَیْفَ اِذَا وَعَدَت٘(نفس اگر کوئی بات قسم کھا کر کہے تو سب سے بڑھ کر جھوٹا ہے نہ کہ جب خالی وعدہ کرے) صحیح حدیث میں فرمایا:جب دجال نکلے گا،کچھ افراد اسے تماشا کے طور پر دیکھنے جائیں گے کہ ہم تو اپنے دین پر مستقیم (یعنی مضبوط) ہیں، ہمیں اس سے کیا نقصان ہو گا؟وہاں جا کر ویسے ہی ہو جائیں گے ۔(سُننِ ابو داؤد،جلد4، صفحہ157،حدیث4319)
حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو جس قوم سے دوستی رکھتا ہے اُس کا حشر اسی قوم کے ساتھ ہوگا۔ (المعجم الاوسط للطبرانی، جلد5، صفحہ157،حدیث6450)

اللہ عزوجل فرماتا ہے:
وَمَن٘ یَّتَوَلَّھُم٘ مِّن٘کُم٘ فَاِنَّهٗ مِن٘ھُم٘
ترجمه کنزالایمان:تم میں سے جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے۔ (پارہ6،سورۂ مائدہ:51)

ایک بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ایک تیرا دشمن،ایک تیرے دوست کا دشمن اور ایک تیرے دشمن کا دوست)
(المختصر المحتاج الیه للذھبی،صفحہ 125)
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

(✍️ اللہ کے فضل کا محتاج 🙏 شاہد)
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯حضرت سید نظام الدین قادری بھکاری رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*


*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* سید نظام الدین۔
*لقب:* بھکاری۔
*والد کا اسمِ گرامی:* حضرت علامہ قاری سید سیف الدین رحمۃ اللہ علیہ۔
*بھکاری کی وجہِ تسمیہ:* آپ علیہ الرحمہ ولایت اور توکل کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے، اسلئے آپ ہر چیز کا سوال اللہ تعالیٰ سے کرتے تھے، اسلئے "بھکاری" لقب مشہور ہوا، یعنی رب کا بھکاری۔ رسولِ اکرم نورِ مجسم رحمتِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليسأل أحدكم ربه حاجته كلها، حتى يسأل شسع نعله إذا انقطع۔ (رواہ الترمذی)

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنی ضرورت کی ہر چیز اپنے رب سے مانگے حتیٰ کہ جب اُس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹے تو وہ بھی اُسی سے مانگے۔
*(مشکوٰۃ المصابیح:2273)*

*تاریخِ ولادت:* آپ علیہ الرحمہ 890ھ، کو قصبہ" کا کوری "ضلع لکھنؤ (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔

*تحصیلِ علم:* آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والدِ ماجد حضرت سیدنا سیف الدین علیہ الرحمہ اپنے وقت کے بڑے مایہ ناز عالم اور قراءتِ سبعہ کے بہت بڑے امام تھے۔ انہی کی نگرانی میں آپ نے علومِ نقلیہ و عقلیہ اور تفاسیر و تجوید نیز وظائف و اَذکار حاصل کئے۔

*بیعت و خلافت:* آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بیعت کا شرف حضرت سید ابراہیم ایرجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حاصل تھا اور اُن ہی سے خرقہ خلافت و اجازت حاصل ہوا تھا۔

*سیرت و خصائص:* آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے متعدد بار حضور سرورِکائنات ﷺ کی زیارت کی اور بارگاہ ِرسالت ﷺ سے عظیم بشارتوں سے فیض یاب ہوئے۔ اکثر مرتبہ سرکار ِغوثیت مآب رضی اللہ تعالی عنہ کی بھی زیارت فرمائی۔ چنانچہ آپ ارشاد فرماتے ہیں:
کہ میں اکثر زیارتِ حضرت غوث پاک رضی اللہ تعالی عنہ سے مشرف ہوا ہوں مگر حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو تنہا کبھی بھی نہیں دیکھا بلکہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ بانیِ سلسلہ سہروردیہ حضرت شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی ہوتے ہیں۔

*وصال:* 91 برس کی عمر میں بروز جمعۃ المبارک، 9/ ذیقعدہ 981ھ، بمطابق یکم مارچ /1574 کو آپ کا وصال ہوا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزار مبارک قصبہ" کاکوری" کے وسط محلہ" جھنجھری" ضلع لکھنؤ ،صوبہ اترپردیش (انڈیا) میں واقع ہے۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
1👍1