🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-11-1443 ᴴ | 08-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-11-1443 ᴴ | 09-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-11-1443 ᴴ | 09-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-11-1443 ᴴ | 09-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
-----------------------------------------------------------
*📚مساجد میں قالین کے مصلوں پر تصویر ہونے کا خیال درست نہیں، ان مصلوں پر نماز بلاکراہت جائز ہے📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
ہمارے گاؤں میں مسجد کیلئے بطور مصلے کچھ قالینیں منگائی گئی ہیں ، جن میں ستون ٹائپ کا نقشہ ہے جس کے سرے پر پھول بنے ہوئے ہیں ، کچھ لوگوں کا کہناہے کہ یہ پھول نہیں بلکہ کسی جاندار کے سر کی تصویر ہے ، یا مورتی یا مورتی کے مشابہ ہے ، اسلئے ان مصلوں پر نماز مکروہ ہوگی
سوال یہ ہےکہ کیا ان لوگوں کایہ کہنا درست ہے ؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔
نوٹ : سہولت و تحقیق کیلئے مصلے کی تصویر بھی حاضر خدمت ہے
*المستفتی : سنی مسلم جماعت ، مالیا ہاتھینا ، گجرات*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
علمائے لغت نے تصویر کی تعریف بایں طور کی ہے کہ
*🖋️" ھيئة مفردة يتميز بهاعلى اختلافها وكثرتها "*
*(📘لسان العرب ، حرف الراء ، فصل الصاد ، مادۃ: صور ، ۶/۱۴۳ ، مطبوعۃ وزارۃ الشئون الاسلامیۃ المملکۃالسعودیۃ)*
یعنی، صورت اس ہیئت مفردہ کو کہتےہیں کہ کثرت و اختلاف کے باوجود شئے متمیز ہوجائے،
اور یہ تعریف تصویر سایہ دار و غیرسایہ دار ، مجسمہ و غیرمجسمہ سب کو شامل ہے
موسوعہ فقہیہ میں ہے:
*🖋️" صنع الصورة التي هي تمثال الشيء، أي : ما يماثل الشيء ويحكي هيئته التي هو عليهـا، سواء كانت الصورة مجسمة أو غير مجسمة، أو كما يعبر بعض الفقهاء : ذات ظل أو غير ذات ظل "*
*(📕الموسوعۃالفقھیۃ ، حرف التاء ، مادۃ:التصویر ۱ ، ۱۲/۹۲,۹۳ ، وزارۃالاوقاف الکویت ، الطبعۃالثانیۃ:۱۴۰۸ھ)*
یعنی،تصویر شئے کی ایسی صورت بنانے کو کہتےہیں جو شئے کی عکاسی کرے ، یعنی جو شئے کی مماثل ہو اور اس کی اسی ہیئت کی حکایت کرے جس پر وہ ہے ، چاہے وہ صورت مجسمہ ہو یا غیرمجسمہ ، یا جیسےکہ بعض فقہاء نے تعبیرکی ہےکہ سایہ دار ہو یا غیرسایہ دار ،
تصویر کی اس تعریف و توضیح میں اہل لغت کے ساتھ فقہائےکرام رحمھم اللہ بھی متفق ہیں
موسوعہ فقہیہ میں ہے:
*🖋️" والتصوير والصورة في اصطلاح الفقهاء يجري على ما جرى عليه في اللغة "*
*(📗ایضا ، ص۹۳)*
یعنی،تصویر و صورت اصطلاح فقہاء میں بھی اسی کو کہاجاتا ہے جس پر اہل لغت چلےہیں ،
البتہ حرمت و کراہت اس تصویر کےساتھ خاص ہے جو " تمثال " ہو
جیساکہ علامہ زین الدین ابن نجیم مصری حنفی متوفی ۹۷۰ ھ فرماتے ہیں:
*🖋️" وقولهـم ويكره التصاويرالمرادبهاالتماثيل اه فالحاصـل ان الصورة عام والتماثيل خاص والمرادهنا الخاص فان غيرذى الروح لايكره كالشجرلمـاسـياتى "*
*(📔البحر الرائق ، کتاب الصلاۃ ، باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ ، تحت قولہ : ولبس ثوب فیہ تصاویر ، ۲/۲۹ ، مطبوعۃ مصر)*
یعنی، فقہائے کرام کا یہ قول کہ تصاویر مکروہ ہیں سے مراد تماثیل ہیں ، حاصل یہ کہ تصویر عام ہے اور ثماثیل خاص ، یہاں پر مراد خاص ہے کیونکہ غیرذوی الروح کی تصویر مکروہ نہیں ہے ،
تماثیل کی کراہت میں یہ بھی لازم ہےکہ تصویر نہ تو بہت چھوٹی ہو نہ مقطوع الراس ہو
امام ابوالبرکات عبداللہ بن احمد نسفی حنفی متوفی ۷۱۰ھ فرماتے ہیں:
*🖋️" إلا أن تكون صغيرة، أو مقطوعة الرأس "*
*(📙کنز الدقائق ، کتاب الصلاۃ ، باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیھا ، ص۱۷۴ ، دارالبشائر ، الطبعۃالاولی:۱۴۳۲ھ)*
یعنی،تصاویر مکروہ ہیں مگر جب چھوٹی ہوں یا مقطوع الراس ہوں ،
چھوٹی ہونے کا مطلب یہ ہےکہ اگر زمین پر رکھی ہوں تو دور سے دیکھنےپر واضح طور پر نظر نہ آئیں
علامہ سید ابوالسعود ازہری حنفی فرماتےہیں:
*🖋️" والمرادبالبعدعلى القول باعتباره ان يكون بحال لوكانت الصورة على الارض وهو واقف لا يرى تفاصيل اعضائها "*
*(📕فتح اللہ المعین ، کتاب الصلاۃ ، باب مایفسد الصلاۃ و مایکرہ فیھا ، ۱/۲۴۵ ، مطبوعۃ مصر ، الطبعۃالاولی)*
یعنی، دور سے دیکھنے سے مراد یہ ہےکہ اگر آدمی کھڑا ہو تو اسے زمین پر رکھی تصویر کے اعضا کی تفصیل معلوم نہ ہو ،
اور امام اہلسنت امام احمد رضا قادری حنفی متوفی ۱۳۴۰ھ فرماتے ہیں:
*🖋️" جاندار کی اتنی بڑی تصویر کہ اسے زمین پر رکھ کر کھڑے ہوکر دیکھیں تو اعضاء بالتفصیل نظر آئیں بشر طیکہ نہ سر بریدہ ہو ، نہ چہرہ محوکردہ، نہ پاؤں کے نیچے ، نہ فرش پاانداز میں ، نہ مخفی پوشیدہ جس کمرہ میں ہو ، اس میں نماز مطلقا مکروہ ہے "*
*(📘فتاوی رضویہ مترجم ، کتاب الصلاۃ ، باب مکروہات الصلاۃ ، ۷/۳۸۸ ، رضافاؤنڈیشن لاہور)*
*صورت مسئولہ میں اولا تو وہ تماثیل ہی نہیں ہیں ، ثانیا اگر تصاویر مان بھی لی جائیں تو چہرہ مہرہ واضح نہیں ، یہ محض ایک خیال ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں اور محض شک و خیال پر کوئی حکم شرع مرتب نہیں ہوتا*
علامہ ابن نجیم مصری حنفی فرماتے ہیں:
-----------------------------------------------------------
*📚مساجد میں قالین کے مصلوں پر تصویر ہونے کا خیال درست نہیں، ان مصلوں پر نماز بلاکراہت جائز ہے📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
ہمارے گاؤں میں مسجد کیلئے بطور مصلے کچھ قالینیں منگائی گئی ہیں ، جن میں ستون ٹائپ کا نقشہ ہے جس کے سرے پر پھول بنے ہوئے ہیں ، کچھ لوگوں کا کہناہے کہ یہ پھول نہیں بلکہ کسی جاندار کے سر کی تصویر ہے ، یا مورتی یا مورتی کے مشابہ ہے ، اسلئے ان مصلوں پر نماز مکروہ ہوگی
سوال یہ ہےکہ کیا ان لوگوں کایہ کہنا درست ہے ؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔
نوٹ : سہولت و تحقیق کیلئے مصلے کی تصویر بھی حاضر خدمت ہے
*المستفتی : سنی مسلم جماعت ، مالیا ہاتھینا ، گجرات*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
علمائے لغت نے تصویر کی تعریف بایں طور کی ہے کہ
*🖋️" ھيئة مفردة يتميز بهاعلى اختلافها وكثرتها "*
*(📘لسان العرب ، حرف الراء ، فصل الصاد ، مادۃ: صور ، ۶/۱۴۳ ، مطبوعۃ وزارۃ الشئون الاسلامیۃ المملکۃالسعودیۃ)*
یعنی، صورت اس ہیئت مفردہ کو کہتےہیں کہ کثرت و اختلاف کے باوجود شئے متمیز ہوجائے،
اور یہ تعریف تصویر سایہ دار و غیرسایہ دار ، مجسمہ و غیرمجسمہ سب کو شامل ہے
موسوعہ فقہیہ میں ہے:
*🖋️" صنع الصورة التي هي تمثال الشيء، أي : ما يماثل الشيء ويحكي هيئته التي هو عليهـا، سواء كانت الصورة مجسمة أو غير مجسمة، أو كما يعبر بعض الفقهاء : ذات ظل أو غير ذات ظل "*
*(📕الموسوعۃالفقھیۃ ، حرف التاء ، مادۃ:التصویر ۱ ، ۱۲/۹۲,۹۳ ، وزارۃالاوقاف الکویت ، الطبعۃالثانیۃ:۱۴۰۸ھ)*
یعنی،تصویر شئے کی ایسی صورت بنانے کو کہتےہیں جو شئے کی عکاسی کرے ، یعنی جو شئے کی مماثل ہو اور اس کی اسی ہیئت کی حکایت کرے جس پر وہ ہے ، چاہے وہ صورت مجسمہ ہو یا غیرمجسمہ ، یا جیسےکہ بعض فقہاء نے تعبیرکی ہےکہ سایہ دار ہو یا غیرسایہ دار ،
تصویر کی اس تعریف و توضیح میں اہل لغت کے ساتھ فقہائےکرام رحمھم اللہ بھی متفق ہیں
موسوعہ فقہیہ میں ہے:
*🖋️" والتصوير والصورة في اصطلاح الفقهاء يجري على ما جرى عليه في اللغة "*
*(📗ایضا ، ص۹۳)*
یعنی،تصویر و صورت اصطلاح فقہاء میں بھی اسی کو کہاجاتا ہے جس پر اہل لغت چلےہیں ،
البتہ حرمت و کراہت اس تصویر کےساتھ خاص ہے جو " تمثال " ہو
جیساکہ علامہ زین الدین ابن نجیم مصری حنفی متوفی ۹۷۰ ھ فرماتے ہیں:
*🖋️" وقولهـم ويكره التصاويرالمرادبهاالتماثيل اه فالحاصـل ان الصورة عام والتماثيل خاص والمرادهنا الخاص فان غيرذى الروح لايكره كالشجرلمـاسـياتى "*
*(📔البحر الرائق ، کتاب الصلاۃ ، باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ ، تحت قولہ : ولبس ثوب فیہ تصاویر ، ۲/۲۹ ، مطبوعۃ مصر)*
یعنی، فقہائے کرام کا یہ قول کہ تصاویر مکروہ ہیں سے مراد تماثیل ہیں ، حاصل یہ کہ تصویر عام ہے اور ثماثیل خاص ، یہاں پر مراد خاص ہے کیونکہ غیرذوی الروح کی تصویر مکروہ نہیں ہے ،
تماثیل کی کراہت میں یہ بھی لازم ہےکہ تصویر نہ تو بہت چھوٹی ہو نہ مقطوع الراس ہو
امام ابوالبرکات عبداللہ بن احمد نسفی حنفی متوفی ۷۱۰ھ فرماتے ہیں:
*🖋️" إلا أن تكون صغيرة، أو مقطوعة الرأس "*
*(📙کنز الدقائق ، کتاب الصلاۃ ، باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیھا ، ص۱۷۴ ، دارالبشائر ، الطبعۃالاولی:۱۴۳۲ھ)*
یعنی،تصاویر مکروہ ہیں مگر جب چھوٹی ہوں یا مقطوع الراس ہوں ،
چھوٹی ہونے کا مطلب یہ ہےکہ اگر زمین پر رکھی ہوں تو دور سے دیکھنےپر واضح طور پر نظر نہ آئیں
علامہ سید ابوالسعود ازہری حنفی فرماتےہیں:
*🖋️" والمرادبالبعدعلى القول باعتباره ان يكون بحال لوكانت الصورة على الارض وهو واقف لا يرى تفاصيل اعضائها "*
*(📕فتح اللہ المعین ، کتاب الصلاۃ ، باب مایفسد الصلاۃ و مایکرہ فیھا ، ۱/۲۴۵ ، مطبوعۃ مصر ، الطبعۃالاولی)*
یعنی، دور سے دیکھنے سے مراد یہ ہےکہ اگر آدمی کھڑا ہو تو اسے زمین پر رکھی تصویر کے اعضا کی تفصیل معلوم نہ ہو ،
اور امام اہلسنت امام احمد رضا قادری حنفی متوفی ۱۳۴۰ھ فرماتے ہیں:
*🖋️" جاندار کی اتنی بڑی تصویر کہ اسے زمین پر رکھ کر کھڑے ہوکر دیکھیں تو اعضاء بالتفصیل نظر آئیں بشر طیکہ نہ سر بریدہ ہو ، نہ چہرہ محوکردہ، نہ پاؤں کے نیچے ، نہ فرش پاانداز میں ، نہ مخفی پوشیدہ جس کمرہ میں ہو ، اس میں نماز مطلقا مکروہ ہے "*
*(📘فتاوی رضویہ مترجم ، کتاب الصلاۃ ، باب مکروہات الصلاۃ ، ۷/۳۸۸ ، رضافاؤنڈیشن لاہور)*
*صورت مسئولہ میں اولا تو وہ تماثیل ہی نہیں ہیں ، ثانیا اگر تصاویر مان بھی لی جائیں تو چہرہ مہرہ واضح نہیں ، یہ محض ایک خیال ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں اور محض شک و خیال پر کوئی حکم شرع مرتب نہیں ہوتا*
علامہ ابن نجیم مصری حنفی فرماتے ہیں:
❤2👍1