👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*حضور تاج الشریعہ*
مقبولیتِ عامہ اور جلوۂ تاباں
_(بموقع عرس حضور تاج الشریعہ)_
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اللہ اللہ ! کردارایسا روشن و تابناک کہ طبیعتیں کھل اُٹھتی ہیں۔ پرنور چہرے پر جمالیات کا پہرہ ہوتا ہے۔ نگاہیں ایسی کہ جن پر پڑ جائے دل کی دُنیا بدل جائے۔ شباہت ایسی کہ مفتی اعظم کا پیکرِ دل پذیر یاد آجائے۔ جنھوں نے مفتی اعظم کو دیکھا ہے وہ اِس بات کی توثیق کرتے ہیں- ہم نے مفتی اعظم کو نہیں دیکھا؛ لیکن ان کے جانشین کو دیکھا ہے؛ جن کی ذات مظہرِ مفتی اعظم ہے؛ اور جن کی یاد آتی ہے تو دل کی کلیاں کھل اُٹھتی ہیں۔ اللہ اللہ! حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان قادری ازہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ذات اِس قدر محبوب کیوں بن گئی! ہاں! کچھ سبب ہے اس کا۔ وہ ہے شریعت پر استقامت اور اسوۂ مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ پر عمل؛ اور ظاہر و باطن، کردار و عمل کی یک رنگی۔ جس نے ان کی ذات کو چہار دانگ عالم میں مقبول بنا دیا ، اور ان کا ذکر ہر بزم میں محبت و عشق کی ایک جوت جگا دیتا ہے؛ وہ عاشقِ صادق ہیں؛ کیوں کہ ان کے عشق کا محور ذاتِ سرور دو عالم ﷺ ہے اور اس عشق کی ملاحت نے انھیں دُنیا کی طلب سے بے نیاز کر دیا ہے۔ سچ ہے محبت رحمت عالمﷺ میں بڑی کشش ہے اور عظیم کامیابی ؎
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ذات مرجع العلماء تھی۔ ان کا سراپا دل آویز تھا۔ ان کا کردار بڑا تابندہ و مثالی تھا۔ وہ جس جگہ جاتے تھے؛ عقیدہ و عمل کی سلامتی کا پیغام دیتے تھے۔ دل کے رشتے بارگاہِ سرور کائنات ﷺ سے جوڑ دیتے تھے،اور پھر نگاہوں کا قبلہ بدل جاتا تھا، افکار دَمک اُٹھتے تھے۔ عشق ہی عشق نظر آتا۔ ہاں! عشقِ رسولﷺ میں بڑی پاکیزگی ہے؛ بڑی تب و تاب اور توانائی ہے؛ یہی منزل فتح و سربلندی سے ہمکنار کرتی ہے؛ یہی عشق وارفتگی سکھاتا ہے اور مختلف میادین میں باطل کے فتنہ و یورش کے مقابل مضبوط حصار کا کام کرتا ہے؛ اہلِ محبت نے بڑی پُرخار وادیوں میں ایمان و ایقان کی روشنی پھیلائی ہے- حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ نے بدعقیدگی کے مقابل ناقابلِ تسخیر قوت بن کر سوادِ اعظم اہلِ سنت کے گلشن کی آبیاری کی۔ ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے لاکھوں دلوں کو جانبِ گنبدِ خضرا موڑ دیا- آپ کے دیدار کی برکت سے ایمان و ایقان ایسا پختہ ہو جاتا کہ آپ کا یہ شعر دل کی کیفیت کا پتہ دیتا ؎
نبی سے جو ہو بیگانہ اسے دل سے جدا کر دیں
پدر، مادر، برادر، مال و جاں ان پر فدا کر دیں
راقم نے علما کے جلوے دیکھے، ان کی بزمِ تاباں سے استفادہ کیا- لیکن حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری رحمۃ اللہ علیہ جیسا متقی نہ دیکھا۔ مفتیانِ کرام دیکھے؛ ان کی تابندہ خدمات کے نقوش ملاحظہ کیے؛ لیکن آپ کے جیسا محتاط نہ پایا۔ محب دیکھے لیکن عشق و عرفان کی جس بلندی پر آپ فائز ہیں؛ وہ منفرد بھی ہے اور جاوداں بھی، کیوں کہ محورِ نگاہ وہ ذات پاک ہے جن کے صدقے وجودِ آدمیت ہے۔ آپ مقبول ہیں مگر یہ مقبولیت وہ نہیں جو مول لی جائے؛ جو بازاروں میں ملتی ہو؛ بلکہ یہ تو عطائے ایزدی ہے- اور جسے اللہ تعالیٰ مقبول بنا دے، اس کی عظمت کو کون کم کر سکتا ہے،کون گھٹا سکتا ہے- جس پر رسول کونین ﷺ کی عنایت خاص ہو؛ اسے جہاں کی باطل قوتیں کیسے اسیرِ گردشِ دوراں کر سکتی ہیں! ان کے نقوشِ دل آویز کو دلوں کی بزم تاباں سے کیسے مٹایا جا سکتا ہے! حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ جہاں جاتے دین پر استقامت کا درس دیتے۔ ہاں! ایمان ہی تو بڑی چیز ہے اگر یہ نہ رہا تو زندہ رہ کر بھی انسان مردہ اور ناکارہ ہے۔ ایمان سے ہی حسنِ آدمیت ہے؛ وہ ایمان والا کیسے ہو سکتا ہے! جو بارگاہِ رحمت عالم ﷺ میں بے ادبی و توہین کی جسارت کرتا ہو۔ اسی وجہ سے آپ جہاں جاتے؛ ایسے رہزنوں سے بچنے کی تلقین فرماتے جو ایمان کی تاک میں ہیں۔ ایسے افراد سے اتحاد کی سختی سے ممانعت فرماتے؛ جن کی صحبت میں عقیدے کا خسارہ ہو، نقصان کا اندیشہ ہو- آخرت کی بربادی کا امکان ہو ؎
دُشمنِ جاں سے کہیں بدتر ہے دُشمن دین کا اُن کے دُشمن سے کبھی اُن کا گدا ملتا نہیں
حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری رحمۃاللہ علیہ کا پیغام ہے کہ اللہ و رسول کی شان و عظمت میں جسے جرأت کرتا دیکھو اس سے دور ہو جاؤ۔ جوعاشقِ رسول ہے، سنی ہے؛ اسے گلے لگاؤ۔ آپ جب بولتے تو ایسا لگتا جیسے سخن کی معراج ہو رہی ہو۔ بہاریں چھا رہی ہوں۔ مینھ برس رہا ہو۔ تشنہ لب سیراب ہو رہے ہوں۔ پھوہار پڑ رہی ہو۔ کلیاں چٹک رہی ہوں۔ پھول کھل رہے ہوں۔ فکر کے غبار دُھل رہے ہوں۔ غنچے کھل رہے ہوں۔ ایمان کی فصل سرسبز و شاداب ہو رہی ہو۔ اداسی چھٹ رہی ہو۔ خوشبو پھیل رہی ہو۔ عقیدہ پختہ ہو رہا ہو؛ عقیدت بڑھ رہی ہو۔ایمان کی بزم نورسجی ہو۔ ہم نے خود مشاہدہ کیا- جلوے دیکھے- مدینہ شریف کی بہاروں میں؛ شہر بریلی شریف کے گلشن میں؛ گلشن آباد (ناسک) اور جوارِ مخدوم
مقبولیتِ عامہ اور جلوۂ تاباں
_(بموقع عرس حضور تاج الشریعہ)_
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اللہ اللہ ! کردارایسا روشن و تابناک کہ طبیعتیں کھل اُٹھتی ہیں۔ پرنور چہرے پر جمالیات کا پہرہ ہوتا ہے۔ نگاہیں ایسی کہ جن پر پڑ جائے دل کی دُنیا بدل جائے۔ شباہت ایسی کہ مفتی اعظم کا پیکرِ دل پذیر یاد آجائے۔ جنھوں نے مفتی اعظم کو دیکھا ہے وہ اِس بات کی توثیق کرتے ہیں- ہم نے مفتی اعظم کو نہیں دیکھا؛ لیکن ان کے جانشین کو دیکھا ہے؛ جن کی ذات مظہرِ مفتی اعظم ہے؛ اور جن کی یاد آتی ہے تو دل کی کلیاں کھل اُٹھتی ہیں۔ اللہ اللہ! حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان قادری ازہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ذات اِس قدر محبوب کیوں بن گئی! ہاں! کچھ سبب ہے اس کا۔ وہ ہے شریعت پر استقامت اور اسوۂ مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ پر عمل؛ اور ظاہر و باطن، کردار و عمل کی یک رنگی۔ جس نے ان کی ذات کو چہار دانگ عالم میں مقبول بنا دیا ، اور ان کا ذکر ہر بزم میں محبت و عشق کی ایک جوت جگا دیتا ہے؛ وہ عاشقِ صادق ہیں؛ کیوں کہ ان کے عشق کا محور ذاتِ سرور دو عالم ﷺ ہے اور اس عشق کی ملاحت نے انھیں دُنیا کی طلب سے بے نیاز کر دیا ہے۔ سچ ہے محبت رحمت عالمﷺ میں بڑی کشش ہے اور عظیم کامیابی ؎
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ذات مرجع العلماء تھی۔ ان کا سراپا دل آویز تھا۔ ان کا کردار بڑا تابندہ و مثالی تھا۔ وہ جس جگہ جاتے تھے؛ عقیدہ و عمل کی سلامتی کا پیغام دیتے تھے۔ دل کے رشتے بارگاہِ سرور کائنات ﷺ سے جوڑ دیتے تھے،اور پھر نگاہوں کا قبلہ بدل جاتا تھا، افکار دَمک اُٹھتے تھے۔ عشق ہی عشق نظر آتا۔ ہاں! عشقِ رسولﷺ میں بڑی پاکیزگی ہے؛ بڑی تب و تاب اور توانائی ہے؛ یہی منزل فتح و سربلندی سے ہمکنار کرتی ہے؛ یہی عشق وارفتگی سکھاتا ہے اور مختلف میادین میں باطل کے فتنہ و یورش کے مقابل مضبوط حصار کا کام کرتا ہے؛ اہلِ محبت نے بڑی پُرخار وادیوں میں ایمان و ایقان کی روشنی پھیلائی ہے- حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ نے بدعقیدگی کے مقابل ناقابلِ تسخیر قوت بن کر سوادِ اعظم اہلِ سنت کے گلشن کی آبیاری کی۔ ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے لاکھوں دلوں کو جانبِ گنبدِ خضرا موڑ دیا- آپ کے دیدار کی برکت سے ایمان و ایقان ایسا پختہ ہو جاتا کہ آپ کا یہ شعر دل کی کیفیت کا پتہ دیتا ؎
نبی سے جو ہو بیگانہ اسے دل سے جدا کر دیں
پدر، مادر، برادر، مال و جاں ان پر فدا کر دیں
راقم نے علما کے جلوے دیکھے، ان کی بزمِ تاباں سے استفادہ کیا- لیکن حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری رحمۃ اللہ علیہ جیسا متقی نہ دیکھا۔ مفتیانِ کرام دیکھے؛ ان کی تابندہ خدمات کے نقوش ملاحظہ کیے؛ لیکن آپ کے جیسا محتاط نہ پایا۔ محب دیکھے لیکن عشق و عرفان کی جس بلندی پر آپ فائز ہیں؛ وہ منفرد بھی ہے اور جاوداں بھی، کیوں کہ محورِ نگاہ وہ ذات پاک ہے جن کے صدقے وجودِ آدمیت ہے۔ آپ مقبول ہیں مگر یہ مقبولیت وہ نہیں جو مول لی جائے؛ جو بازاروں میں ملتی ہو؛ بلکہ یہ تو عطائے ایزدی ہے- اور جسے اللہ تعالیٰ مقبول بنا دے، اس کی عظمت کو کون کم کر سکتا ہے،کون گھٹا سکتا ہے- جس پر رسول کونین ﷺ کی عنایت خاص ہو؛ اسے جہاں کی باطل قوتیں کیسے اسیرِ گردشِ دوراں کر سکتی ہیں! ان کے نقوشِ دل آویز کو دلوں کی بزم تاباں سے کیسے مٹایا جا سکتا ہے! حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ جہاں جاتے دین پر استقامت کا درس دیتے۔ ہاں! ایمان ہی تو بڑی چیز ہے اگر یہ نہ رہا تو زندہ رہ کر بھی انسان مردہ اور ناکارہ ہے۔ ایمان سے ہی حسنِ آدمیت ہے؛ وہ ایمان والا کیسے ہو سکتا ہے! جو بارگاہِ رحمت عالم ﷺ میں بے ادبی و توہین کی جسارت کرتا ہو۔ اسی وجہ سے آپ جہاں جاتے؛ ایسے رہزنوں سے بچنے کی تلقین فرماتے جو ایمان کی تاک میں ہیں۔ ایسے افراد سے اتحاد کی سختی سے ممانعت فرماتے؛ جن کی صحبت میں عقیدے کا خسارہ ہو، نقصان کا اندیشہ ہو- آخرت کی بربادی کا امکان ہو ؎
دُشمنِ جاں سے کہیں بدتر ہے دُشمن دین کا اُن کے دُشمن سے کبھی اُن کا گدا ملتا نہیں
حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری رحمۃاللہ علیہ کا پیغام ہے کہ اللہ و رسول کی شان و عظمت میں جسے جرأت کرتا دیکھو اس سے دور ہو جاؤ۔ جوعاشقِ رسول ہے، سنی ہے؛ اسے گلے لگاؤ۔ آپ جب بولتے تو ایسا لگتا جیسے سخن کی معراج ہو رہی ہو۔ بہاریں چھا رہی ہوں۔ مینھ برس رہا ہو۔ تشنہ لب سیراب ہو رہے ہوں۔ پھوہار پڑ رہی ہو۔ کلیاں چٹک رہی ہوں۔ پھول کھل رہے ہوں۔ فکر کے غبار دُھل رہے ہوں۔ غنچے کھل رہے ہوں۔ ایمان کی فصل سرسبز و شاداب ہو رہی ہو۔ اداسی چھٹ رہی ہو۔ خوشبو پھیل رہی ہو۔ عقیدہ پختہ ہو رہا ہو؛ عقیدت بڑھ رہی ہو۔ایمان کی بزم نورسجی ہو۔ ہم نے خود مشاہدہ کیا- جلوے دیکھے- مدینہ شریف کی بہاروں میں؛ شہر بریلی شریف کے گلشن میں؛ گلشن آباد (ناسک) اور جوارِ مخدوم
👍2❤1