Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
کسی کو خوش کرنے کے لیے اس کی منشاء کے مطابق فتویٰ نہیں تحریر فرمایا۔ جب کبھی کوئی فتویٰ تحریر فرمایا تو اپنے اسلاف، اپنے آباؤ اجداد کے قدم بقدم ہو کر تحریر فرمایا۔ جس طرح جد امجد امام احمد رضا فاضل بریلوی اور مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری نے بے خوف و خطر فتاویٰ تحریر فرمائےاسی طرح اپنے اجداد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جانشین مفتی اعظم نظر آتے ہیں۔ اس حق گوئی کے شواہد آج آپ کے ہزاروں فتاویٰ ہیں جو ملک اور بیرون ملک میں پھیلےہوئے ہیں۔
اسی طرح تصلب فی الدین اور مسلک اعلیٰ حضرت، اور تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پوری دنیا میں تبلیغی دورے فرماتے تھے، لیکن صلح کلیت کے بالکل خلاف تھے۔ امت ِ مسلمہ کی زبوں حالی، اور بابری مسجد کی شہادت و پامالی پر لوگوں نے آنسو بہاتے دیکھا، اور اسی طرح مسلمانانِ ہند پر ہنود کے مظالم پر کبھی خاموش نہ رہے، ساری زندگی حق کی آواز بلند فرماتے رہے۔ ہمیشہ حق کا ساتھ دیا۔ اس میں اپنے پرائے کی کبھی پراوہ نہ کی۔ اس آواز کو منصب و عہدے کا لالچ دے کر خاموش کرنے کی کوشش کی گئی، تو آپ نے اپنے جد امجد کی آواز میں یہ جواب دیا:
؏: میں غلام ہوں اپنے کریم کا میرا دین پارۂ نان نہیں
یہ آپ ہی تھے کہ 1995ء کو وزیر اعظم ہند7؍گھنٹے بریلی سرکٹ ہاؤس میں آپ کا انتظار کرتا رہا، اور اس کا سیکرٹری بار بار حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔ لیکن حضرت نے یہ کہ کر ملاقات سے صاف انکار کردیا:
’’میں ایسے شخص سے ملاقات نہیں کرسکتا؛ جس کے ہاتھ بابری مسجد کی شہادت میں ملوث ہیں‘‘۔
(سوانح تاج الشریعہ:72)
اہل سنت وجماعت کی موجودہ صورت حال جس میں باالعموم پاک و ہند کے سنی علماءِ کرام کا پوری دنیا کے سنی علماء و شیوخ سے کوئی ربط و تعلق نہیں ہے۔ جب کہ بدمذہبوں نے پوری دنیا کے حنفی اور صوفیاء کو اپنی عیاری اور چالاکی سے متوجہ کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک کے علماء و صوفیاء کی نظر میں ہماری کوئی شخصیت نہیں ہے، جن کا علمی، یا ویسے ہی کسی لحاظ سے ان کے ہاں کوئی تعارف موجود ہو۔
یہ حضرت تاج الشریعہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی ذاتِ گرامی تھی، کہ جن کا عرب اور مسلم دنیا میں ایک خاص مقام تھا۔عرب کے جید علماء و صوفیاءاعلیٰ حضرت امام احمد رضاخاں رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی نسبت اور آپ کی علمی قابلیت و صلاحیت کی بناء پر قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ عرب دنیا کے سوشل و الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر حضرت کے وصال کی خبر ایسے ہی شائع ہوئی جس طرح پاک و ہند میں ہوئی۔بڑے بڑے شیوخ نے تعزیتی کلمات کے ساتھ لواحقین سے اظہارِ تعزیت فرمایا، جب کہ ایصالِ ثواب کا سلسلہ پوری دنیا میں ہوتا رہا۔ حضرت تاج الشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فیضانِ علوم و معارفِ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو پوری دنیا میں عام کیا۔ آپ کے حلقہ ارادت میں ہر طبقہ فکر کے لوگ پوری دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔
وصال پر ملال: 7؍ ذوالقعدہ 1439ھ، مطابق 20؍ جولائی 2018ء، بروز جمعۃ المبارک؛ بوقتِ آذانِ مغرب، واصل باللہ ہوئے۔ ازہری گیسٹ ہاؤس بریلی شریف(ہند) میں ابدی آرام فرما ہیں۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
اسی طرح تصلب فی الدین اور مسلک اعلیٰ حضرت، اور تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پوری دنیا میں تبلیغی دورے فرماتے تھے، لیکن صلح کلیت کے بالکل خلاف تھے۔ امت ِ مسلمہ کی زبوں حالی، اور بابری مسجد کی شہادت و پامالی پر لوگوں نے آنسو بہاتے دیکھا، اور اسی طرح مسلمانانِ ہند پر ہنود کے مظالم پر کبھی خاموش نہ رہے، ساری زندگی حق کی آواز بلند فرماتے رہے۔ ہمیشہ حق کا ساتھ دیا۔ اس میں اپنے پرائے کی کبھی پراوہ نہ کی۔ اس آواز کو منصب و عہدے کا لالچ دے کر خاموش کرنے کی کوشش کی گئی، تو آپ نے اپنے جد امجد کی آواز میں یہ جواب دیا:
؏: میں غلام ہوں اپنے کریم کا میرا دین پارۂ نان نہیں
یہ آپ ہی تھے کہ 1995ء کو وزیر اعظم ہند7؍گھنٹے بریلی سرکٹ ہاؤس میں آپ کا انتظار کرتا رہا، اور اس کا سیکرٹری بار بار حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔ لیکن حضرت نے یہ کہ کر ملاقات سے صاف انکار کردیا:
’’میں ایسے شخص سے ملاقات نہیں کرسکتا؛ جس کے ہاتھ بابری مسجد کی شہادت میں ملوث ہیں‘‘۔
(سوانح تاج الشریعہ:72)
اہل سنت وجماعت کی موجودہ صورت حال جس میں باالعموم پاک و ہند کے سنی علماءِ کرام کا پوری دنیا کے سنی علماء و شیوخ سے کوئی ربط و تعلق نہیں ہے۔ جب کہ بدمذہبوں نے پوری دنیا کے حنفی اور صوفیاء کو اپنی عیاری اور چالاکی سے متوجہ کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک کے علماء و صوفیاء کی نظر میں ہماری کوئی شخصیت نہیں ہے، جن کا علمی، یا ویسے ہی کسی لحاظ سے ان کے ہاں کوئی تعارف موجود ہو۔
یہ حضرت تاج الشریعہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی ذاتِ گرامی تھی، کہ جن کا عرب اور مسلم دنیا میں ایک خاص مقام تھا۔عرب کے جید علماء و صوفیاءاعلیٰ حضرت امام احمد رضاخاں رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی نسبت اور آپ کی علمی قابلیت و صلاحیت کی بناء پر قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ عرب دنیا کے سوشل و الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر حضرت کے وصال کی خبر ایسے ہی شائع ہوئی جس طرح پاک و ہند میں ہوئی۔بڑے بڑے شیوخ نے تعزیتی کلمات کے ساتھ لواحقین سے اظہارِ تعزیت فرمایا، جب کہ ایصالِ ثواب کا سلسلہ پوری دنیا میں ہوتا رہا۔ حضرت تاج الشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فیضانِ علوم و معارفِ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو پوری دنیا میں عام کیا۔ آپ کے حلقہ ارادت میں ہر طبقہ فکر کے لوگ پوری دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔
وصال پر ملال: 7؍ ذوالقعدہ 1439ھ، مطابق 20؍ جولائی 2018ء، بروز جمعۃ المبارک؛ بوقتِ آذانِ مغرب، واصل باللہ ہوئے۔ ازہری گیسٹ ہاؤس بریلی شریف(ہند) میں ابدی آرام فرما ہیں۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
👍2❤1
وارث علوم اعلی حضرت، نبیرۂ حجۃ الاسلام، جانشین مفتیٔ اعظم، جگر گوشۂ مفسر اعظم، شیخ الاسلام والمسلمین، تاج الشریعہ، مفتی محمد اختر رضا خان حنفی قادری نوری رضوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 26 محرم الحرام 1362ھ مطابق 2 فروری 1943ء بروز منگل بریلی شریف میں ہوئی۔ آپ بلاشبہ اپنے عہد کے سب سے زیادہ قد آور، علمی، متقی، محترم، مکرم، محبوب اور بااثر شخصیات میں سے تھے۔ آپ بہت بڑے عاشق رسول ﷺ، متحبر عالم، عظیم محقق، ماہر فقیہ، مایہ ناز شاعر، بہترین مصنف، محتاط مترجم، تقویٰ و استقامت کے پیکر، یادگار اسلاف، حق و صداقت کے علم بردار، صاحب بصارت، عظیم روحانی شخصیت، اور جامع فضائل و کمالات تھے۔ 7 ذی القعدہ 1439ھ بمطابق 20 جولائی 2018 بروز جمعہ مغرب کے لیے وضو فرمایا اور جب اذان شروع ہوئی تو ’’یا اللہ! یا اللہ! یا اللہ! اللہ اکبر! اللہ اکبر!‘‘ کی صدا بلند فرمائی اور ان آخری الفاظ کے ساتھ وصال باکمال فرمایا۔ آپ کے جنازے میں لاکھوں لاکھ مریدین، محبین، معتقدین، متوسلین نے شرکت کی۔ ازہری گیسٹ ہاؤس، بریلی شریف، ہندستان میں آپ کا مزار پرانوار نزول رحمت اور دعاؤں کی قبولیت کا مقام ہے۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=563886948644287&id=100050689590519
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=563886948644287&id=100050689590519
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
وارث علوم اعلی حضرت، نبیرۂ حجۃ الاسلام، جانشین مفتیٔ اعظم، جگر گوشۂ مفسر اعظم، شیخ الاسلام والمسلمین، تاج الشریعہ، مفتی محمد اختر رضا خان حنفی قادری نوری رضوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 26 محرم الحرام 1362ھ مطابق 2 فروری 1943ء بروز منگل بریلی شریف میں…
https://t.me/islaamic_Knowledge/34159
عرسِ حضور تاج الشریعہ 💐
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=563886948644287&id=100050689590519
عرسِ حضور تاج الشریعہ 💐
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=563886948644287&id=100050689590519
❤1👍1
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
❤1👍1