🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-11-1443 ᴴ | 06-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-11-1443 ᴴ | 07-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-11-1443 ᴴ | 07-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-11-1443 ᴴ | 07-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯وارث علوم اعلیٰ حضرت، جانشینِ مفتیٔ اعظم ہند، قاضی القضاۃ فی الہند، تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری بریلوی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯


نام ونسب:
اسم گرامی: محمد اسماعیل رضا۔
لقب: تاج الشریعہ۔
عرفیت: اختر رضا۔
آپ ’’اختر‘‘ بطورِ تخلص استعمال فرماتے تھے۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے: تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں بن مفسراعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا خاں بن حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں بن شیخ الاسلام امام احمد رضا خاں بن رئیس الاتقیا مولانا نقی علی خاں بن امام العلماء مولانا رضا علی خاں بن مولانا شاہ محمد اعظم خاں بن مولانا حافظ کاظم علی خاں بن محمد سعادت یار خاں بن شجاعت جنگ سعید اللہ خاں قندھاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔
(مفتی اعظم اوران کے خلفاء، ص145)

حضرت تاج الشریعہ، مفسر اعظم مولانا محمد ابراہیم رضا جیلانی میاں کے صاحبزادے، حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں کے پوتے، مفتیِ اعظم ہند مولانا شاہ مصطفیٰ رضاخاں کے نواسے؛ اور شیخ الاسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پڑ پوتے تھے۔

تاریخِ ولادت: آپ کی تاریخِ ولادت میں مختلف اقوال ہیں: 14؍ ذوالقعدہ 1361ھ/23؍نومبر 1942ء، بروز منگل۔ 24؍ذوالقعدہ 1362ھ، مطابق 23؍نومبر 1943ء۔ 25؍محرم الحرام 1362ھ/ یکم فروری 1943ء۔ 25؍ صفر 1361ھ /1942ء۔ صاحبِ سوانحِ تاج الشریعہ کے بقول اول الذکر راجح ہے۔
*(سوانح تاج الشریعہ، ص18)*

تحصیل علم: حضرت تاج الشریعہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی عمر شریف جب 4 ؍سال، 4؍ماہ، اور 4؍ دن ہوئی تو آپ کے والد ماجد مفسر اعظم ہند مولانا ابراہیم رضا خاں جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تقریب بسم اللہ خوانی منعقد فرمائی۔ اس تقریب سعید میں دارالعلوم منظر الاسلام کے تمام طلبہ کو دعوت دی گئی۔ رسم بسم اللہ نانا جان حضرت مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کرائی۔
قرآن مجید والدہ ماجدہ سے گھر پر مکمل کیا۔ والد ماجد سے ابتدائی اردو کتب پڑھیں، اس کے بعد والد ماجد نے دارالعلوم منظر اسلام میں داخل کرا دیا۔
درس نظامی کی تکمیل دارالعلوم منظر اسلام سےکی۔ تاج الشریعہ بچپن ہی سے ذہانت و فطانت اور قوت حافظہ کے مالک، اور عربی ادب کے دلدادہ تھے۔ جامعہ ازہر مصر میں داخلہ کے بعد جب آپ کی جامعہ کے اساتذہ اور طلبہ سے گفتگو ہوتی تو وہ آپ کی بے تکلف فصیح و بلیغ عربی سن کر محوِ حیرت ہوجاتے، اور کہتے کہ ایک عجمی النسل ہندوستانی عربی النسل اہلِ علم حضرات سے گفتگو کرنے میں کوئی تکلف محسوس نہیں کرتا۔ درسِ نظامی کی تکمیل کے بعد 1963ء میں جامعۃ الازہر قاہرہ تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے ’’کلیۃ اصول الدین‘‘ میں داخلہ لیا اور مسلسل تین سال تک جامعۃ الازہر مصر میں فن تفسیر و حدیث کے ماہر اساتذہ سے اکتساب علم کیا۔ حضرت تاج الشریعہ 1966ء /1386ھ کو جامعۃ الازہر سے فارغ ہوئے۔ جامعۃ الازہر میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر ’’جامعۃ الازہر ایوارڈ‘‘ سے نوازے گئے۔ آپ تمام علوم ِقدیمہ اور جدیدہ پر مہارتِ تامہ رکھتے تھے۔ قرأت عشرہ کے ماہر تھے، بالخصوص جب مصری لہجے میں تلاوت فرماتے تو سامعین جھوم جاتے، حضرت تاج الشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو چھتیس علوم پر مہارت، اور عربی، اردو، فارسی، اور انگلش پر مکمل عبور حاصل تھا۔ ان کے علاوہ علاقائی زبانیں میں بھی بات چیت فرمایا کرتےتھے۔ آپ کے اساتذہ میں قابل ذکر اساتذہ کرام یہ ہیں:
مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا خاں،بحر العلوم مفتی سید محمد افضل حسین مونگیری، مفسر اعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا خاں جیلانی، فضیلۃالشیخ علامہ محمد سماحی، شیخ الحدیث والتفسیر جامعہ ازہر ،حضرت علامہ محمود عبدالغفار، استاذ الحدیث جامعہ ازہر، ریحان ملت مولانا محمد ریحان رضا خاں رحمانی میاں، استاذ الاساتذہ مولانا مفتی محمد احمد عرف جہانگیر خاں اعظمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ۔ (مفتی اعظم ہند اور آپ کے خلفاء، ص150)

بیعت و خلافت: حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بیعت و خلافت کا شرف سرکار مفتی اعظم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے حاصل ہے۔ حضرت مفتی اعظم ہند رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بچپن میں آپ کو بیعت کا شرف عطاء فرمادیا تھا، اور صرف 19؍ سال کی عمر میں 15؍جنوری 1962ء/1381ھ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے نوازا۔ علاوہ ازیں خلیفہ اعلیٰ حضرت برہان ملت مفتی برہان الحق جبل پوری، سید العلماء شاہ آل مصطفیٰ برکاتی، احسن العلماء سید حیدر حسن میاں برکاتی، والد ماجد مفسر اعظم مفتی ابراہیم رضا خاں رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے جمیع سلاسل کی اجازت و خلافت حاصل تھی۔(ایضا:ص160)
1👍1