ایک خوب صورت واقعہ 🥀
مشہور سَیّاح ابن بطوطہ نے تقریبا 29 سال دنیا کی سیر کی ، اور اس دوران تقریبا 75000 مِیل سفر کیا ۔
یہ سفر کرتے کرتے جب مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں اِن کی ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی جس کا نام حسن تھا اور لوگ اُسے حسن مجنون کہتے تھے ۔
اس نوجوان سے عجیب و غریب چیزیں ظاہر ہوتی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ جس دکان سے کھانا کھالیتا خیر و برکت کا رخ ادھر ہوجاتا ؛ لوگ اس کا ازحد احترام کیا کرتے تھے ، اور تمنا کرتے کہ کاش وہ ہم سے کچھ قبول کرے ۔
ابن بطوطہ نے اس کے متعلق معلوم کیا تو پتاچلا کہ:
حسن رات کو بیت اللہ شریف کا کثرت سے طواف کیا کرتا تھا ۔
اس کے ساتھ ایک فقیر بھی طواف کرتا تھا جو صرف رات کو ہی نظر آتا ، دن کو نظر نہیں آتا تھا ۔
ایک رات وہ فقیر حسن سے ملا ، اس کا حال چال پوچھا اور کہنے لگا:
حسن ! تیری ماں اللہ کی نیک بندی ہے وہ تیرے لیے روتی ہے اور تجھے دیکھنا چاہتی ہے ، کیا تُو چاہتا ہے کہ وہ تیرا دیدار کرلے ؟
حسن نے کہا: ہاں ، لیکن مجھ میں یہ طاقت نہیں کہ میں اپنا آپ والدہ کو دکھا سکوں ( کیوں کہ وہ یہاں سے میلوں دور ہیں ) ۔
فقیر نے کہا: ہم کل رات انشاءاللہ یہیں ملیں گے ( میرا انتظار کرنا ) ۔
اگلی رات فقیر حسب وعدہ پہنچ گیا ، دونوں نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا ۔۔۔۔۔۔۔ پھر فقیر باہر نکل گیا ، حسن اس کے پیچھے تھا ، جب باب مُعلٰی پر پہنچے تو فقیر نےکہا:
اپنی آنکھیں بند کرو اور کپڑے سمیٹ لو ۔
حسن نے اسی طرح کیا تو تھوڑی دیر بعد فقیر نے پوچھا:
کیا اپنے شہر کو پہچانتے ہو ؟
اس نے کہا ہاں !
فقیر نے کہا: دیکھ ، کیا یہی تیرا شہر ہے ؟ حسن نے آنکھیں کھولیں تو کیا دیکھتا ہے کہ اپنی والدہ کے گھر پر موجود ہے ۔
حسن والدہ کے پاس چلا گیا اور انھیں کچھ نہ بتایا ، اور آدھا ماہ ان کی خدمت میں رہا ۔
( ابن بطوطہ کہتے ہیں ) میرا خیال ہے حسن کا شہر اَسَفِی تھا ۔
پھر ایک دن حسن قبرستان کی طرف گیا تو کیا دیکھتا ہے کہ وہی فقیر اُس کے ساتھ ہے ۔
اس نے حسن سے پوچھا : کیا حال ہے؟
حسن نے کہا:
یاسیدی ! ( میں اپنے پیر و مرشد ) شیخ نجم الدین کی زیارت کے لیے ترس رہا ہوں ، میں تو حسب معمول وہاں سے آیا تھا اب اتنے دن ہوگئے ان سے جدا ہوئے ؛ میں چاہتا ہوں مجھے آپ کی طرف لوٹا دیاجائے ۔
فقیر نے کہا ٹھیک ہے ، رات کو اسی قبرستان میں ملاقات کا وعدہ رہا ۔
جب رات کو وہاں پہنچے تو فقیر نے پہلے کی طرح ہی آنکھیں بند کروائیں اور جب کھولیں تو وہ مکہ معظمہ میں تھے ۔
فقیر نے حسن کو نصیحت کی کہ یہ معاملہ شیخ نجم الدین یا کسی اور کے سامنے بالکل بیان نہ کرنا ۔
حسن جب شیخ نجم الدین کے پاس گیا تو آپ نے پوچھا: تم اتنے دن کہاں غائب رہے ؟
کہنے لگا: حضرت ، نہ پوچھیے !
لیکن جب انھوں نے اصرار کیا تو مجبوراً بیان کرنا پڑا ۔
اب شیخ کہنے لگے: مجھے وہ شخص دکھاؤ ! ( جو تمھیں پلکجھپکنے میں اتنی دور لے گیا ، اور لے بھی آیا ۔)
حسن اُنھیں لے کر رات کے وقت ( حرم کعبہ میں ) آیا ۔
جب وہ فقیر حسب عادت آیا اور ان کے پاس سے گزرنے لگا تو حسن نے کہا: یاسیدی ! یہ ہے وہ شخص ۔
یہ بات فقیر نے سن لی اور اس نے حسن کے منھ پر ہاتھ مار کر کہا:
چپ ہوجا ، خدا تجھے خاموش کرے !
اتنا کہنا تھا کہ حسن گونگا ہوگیا ، اور اس کی عقلجاتی رہی ۔
پھر وہ اسی حال میں حرم پاک میں رہتا تھا اور دن رات بغیر وضو کے ہی طواف کرتا رہتا اور اسے نماز کا کوئی ہوش نہ رہا ۔
(تحفۃ النظار فی غرائب الامصار وعجائب الاسفار ، ج1 ، ص 171 ، 172 ، ط داراحیاءالعلومبیروت ، س 1407ھ )
1 رجالالغیب ایک مخلوق ہے جسے اللہ کریم نے بڑے مرتبے سے نوازا ہے ، اگر خوش قسمتی سے کسی کی ان سے ملاقات ہوجائے تو اسے غنیمت سمجھنا چاہیےاور ان کی اجازت کے بغیر ان کے معاملات کو کسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہیے ۔
2 مکہمکرمہاور مدینہ منورہ میں رجالالغیب بکثرت حاضری دیتے ہیں ، وہاں ہر ایک کا احترام کرنا چاہیے کسی کے ساتھ جھگڑنا نہیں چاہیے ، کیا معلوم جسے آپ بداخلاق ہوٹلوالا سمجھ رہے ہوں ، یا غبار سے اٹا صفائی کرنے والا نظر آرہا ہو وہ انھی میں سے ہو ۔
( نوٹ: بعض باتیں خاص قسم کی ہوتی ہیں جنھیں مخصوص لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ )
خاکِ راہِ حجاز
✍️ لقمان شاہد
23-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid08SEEjgduypkgP4MXJfS1nyBKvR7UNicNsqVFpzKr93gSeYBiSsjZpAgBp1HPq7Dil&id=100008105947430
مشہور سَیّاح ابن بطوطہ نے تقریبا 29 سال دنیا کی سیر کی ، اور اس دوران تقریبا 75000 مِیل سفر کیا ۔
یہ سفر کرتے کرتے جب مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں اِن کی ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی جس کا نام حسن تھا اور لوگ اُسے حسن مجنون کہتے تھے ۔
اس نوجوان سے عجیب و غریب چیزیں ظاہر ہوتی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ جس دکان سے کھانا کھالیتا خیر و برکت کا رخ ادھر ہوجاتا ؛ لوگ اس کا ازحد احترام کیا کرتے تھے ، اور تمنا کرتے کہ کاش وہ ہم سے کچھ قبول کرے ۔
ابن بطوطہ نے اس کے متعلق معلوم کیا تو پتاچلا کہ:
حسن رات کو بیت اللہ شریف کا کثرت سے طواف کیا کرتا تھا ۔
اس کے ساتھ ایک فقیر بھی طواف کرتا تھا جو صرف رات کو ہی نظر آتا ، دن کو نظر نہیں آتا تھا ۔
ایک رات وہ فقیر حسن سے ملا ، اس کا حال چال پوچھا اور کہنے لگا:
حسن ! تیری ماں اللہ کی نیک بندی ہے وہ تیرے لیے روتی ہے اور تجھے دیکھنا چاہتی ہے ، کیا تُو چاہتا ہے کہ وہ تیرا دیدار کرلے ؟
حسن نے کہا: ہاں ، لیکن مجھ میں یہ طاقت نہیں کہ میں اپنا آپ والدہ کو دکھا سکوں ( کیوں کہ وہ یہاں سے میلوں دور ہیں ) ۔
فقیر نے کہا: ہم کل رات انشاءاللہ یہیں ملیں گے ( میرا انتظار کرنا ) ۔
اگلی رات فقیر حسب وعدہ پہنچ گیا ، دونوں نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا ۔۔۔۔۔۔۔ پھر فقیر باہر نکل گیا ، حسن اس کے پیچھے تھا ، جب باب مُعلٰی پر پہنچے تو فقیر نےکہا:
اپنی آنکھیں بند کرو اور کپڑے سمیٹ لو ۔
حسن نے اسی طرح کیا تو تھوڑی دیر بعد فقیر نے پوچھا:
کیا اپنے شہر کو پہچانتے ہو ؟
اس نے کہا ہاں !
فقیر نے کہا: دیکھ ، کیا یہی تیرا شہر ہے ؟ حسن نے آنکھیں کھولیں تو کیا دیکھتا ہے کہ اپنی والدہ کے گھر پر موجود ہے ۔
حسن والدہ کے پاس چلا گیا اور انھیں کچھ نہ بتایا ، اور آدھا ماہ ان کی خدمت میں رہا ۔
( ابن بطوطہ کہتے ہیں ) میرا خیال ہے حسن کا شہر اَسَفِی تھا ۔
پھر ایک دن حسن قبرستان کی طرف گیا تو کیا دیکھتا ہے کہ وہی فقیر اُس کے ساتھ ہے ۔
اس نے حسن سے پوچھا : کیا حال ہے؟
حسن نے کہا:
یاسیدی ! ( میں اپنے پیر و مرشد ) شیخ نجم الدین کی زیارت کے لیے ترس رہا ہوں ، میں تو حسب معمول وہاں سے آیا تھا اب اتنے دن ہوگئے ان سے جدا ہوئے ؛ میں چاہتا ہوں مجھے آپ کی طرف لوٹا دیاجائے ۔
فقیر نے کہا ٹھیک ہے ، رات کو اسی قبرستان میں ملاقات کا وعدہ رہا ۔
جب رات کو وہاں پہنچے تو فقیر نے پہلے کی طرح ہی آنکھیں بند کروائیں اور جب کھولیں تو وہ مکہ معظمہ میں تھے ۔
فقیر نے حسن کو نصیحت کی کہ یہ معاملہ شیخ نجم الدین یا کسی اور کے سامنے بالکل بیان نہ کرنا ۔
حسن جب شیخ نجم الدین کے پاس گیا تو آپ نے پوچھا: تم اتنے دن کہاں غائب رہے ؟
کہنے لگا: حضرت ، نہ پوچھیے !
لیکن جب انھوں نے اصرار کیا تو مجبوراً بیان کرنا پڑا ۔
اب شیخ کہنے لگے: مجھے وہ شخص دکھاؤ ! ( جو تمھیں پلکجھپکنے میں اتنی دور لے گیا ، اور لے بھی آیا ۔)
حسن اُنھیں لے کر رات کے وقت ( حرم کعبہ میں ) آیا ۔
جب وہ فقیر حسب عادت آیا اور ان کے پاس سے گزرنے لگا تو حسن نے کہا: یاسیدی ! یہ ہے وہ شخص ۔
یہ بات فقیر نے سن لی اور اس نے حسن کے منھ پر ہاتھ مار کر کہا:
چپ ہوجا ، خدا تجھے خاموش کرے !
اتنا کہنا تھا کہ حسن گونگا ہوگیا ، اور اس کی عقلجاتی رہی ۔
پھر وہ اسی حال میں حرم پاک میں رہتا تھا اور دن رات بغیر وضو کے ہی طواف کرتا رہتا اور اسے نماز کا کوئی ہوش نہ رہا ۔
(تحفۃ النظار فی غرائب الامصار وعجائب الاسفار ، ج1 ، ص 171 ، 172 ، ط داراحیاءالعلومبیروت ، س 1407ھ )
1 رجالالغیب ایک مخلوق ہے جسے اللہ کریم نے بڑے مرتبے سے نوازا ہے ، اگر خوش قسمتی سے کسی کی ان سے ملاقات ہوجائے تو اسے غنیمت سمجھنا چاہیےاور ان کی اجازت کے بغیر ان کے معاملات کو کسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہیے ۔
2 مکہمکرمہاور مدینہ منورہ میں رجالالغیب بکثرت حاضری دیتے ہیں ، وہاں ہر ایک کا احترام کرنا چاہیے کسی کے ساتھ جھگڑنا نہیں چاہیے ، کیا معلوم جسے آپ بداخلاق ہوٹلوالا سمجھ رہے ہوں ، یا غبار سے اٹا صفائی کرنے والا نظر آرہا ہو وہ انھی میں سے ہو ۔
( نوٹ: بعض باتیں خاص قسم کی ہوتی ہیں جنھیں مخصوص لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ )
خاکِ راہِ حجاز
✍️ لقمان شاہد
23-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid08SEEjgduypkgP4MXJfS1nyBKvR7UNicNsqVFpzKr93gSeYBiSsjZpAgBp1HPq7Dil&id=100008105947430
❤1👍1
آقا و مولا ﷻ نے اپنے بندے کو پھر اذنِ حاضری عطا فرمایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ان شاءاللہ آج رات رسولِ پاک ﷺ کے مقدس شہر مکہ مکرمہ کی طرف روانگی ہو گی ، اور ایمان و محبت کے ساتھ بیت اللہ شریف کا دیدار نصیب ہوگا ۔ اللہ اللہ 😥😥
کب کوئی درِ شاہ پہ تدبیر سے پہنچا
پہنچا تو فقط خوبیِ تقدیر سے پہنچا
احباب دعا فرمادیں کہ لمحہ بھر کی بھی غفلت نہ ہو ، دل اپنے پاک پروردگار کی یاد سے معمور رہے !
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02nLX3BCSKYKK5ytPb7yNS462mmVELRfu5k9cqcHUfWjN6RUiTLzmWhcJB88gMRizbl&id=100008105947430
کب کوئی درِ شاہ پہ تدبیر سے پہنچا
پہنچا تو فقط خوبیِ تقدیر سے پہنچا
احباب دعا فرمادیں کہ لمحہ بھر کی بھی غفلت نہ ہو ، دل اپنے پاک پروردگار کی یاد سے معمور رہے !
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02nLX3BCSKYKK5ytPb7yNS462mmVELRfu5k9cqcHUfWjN6RUiTLzmWhcJB88gMRizbl&id=100008105947430
❤2👍1
اللہ پاک مجھے اور آپ کو بار بار بیت اللہ شریف کی زیارت نصیب فرمائے !
آپ جب مکہ مکرمہ میں حاضرہونا چاہیں تو امام حسن بصری تابعی رحمہ اللہ کا یہ رسالہ ضرور پڑھ لیں ۔
یہ ایک خط ہے جو آپ نے اپنے بہت ہی پیارے دوست حضرت عبدالرحمان بن انس رحمہ اللہ کو لکھا تھا ۔
حضرت عبدالرحمان مکہ پاک میں رہتے تھے ، انھوں نے مکہ شریف چھوڑنے کا ارادہ کیا تو امام حسن بصری نے انھیں لکھا کہ:
اے بھائی ! اللہ تیری عمر دراز کرے ، مجھے خبر ملی ہے کہ تُو امن کی جگہ حرم الہی سے یمن کی طرف جانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔
اللہ کی قسم ! مجھے یہ بہت برا لگا ہے ، اور میں بڑا غمگین ہوا ہوں ؛ مجھے تیرے اس فیصلے سے بڑی وحشت ہوئی ۔۔۔۔ یہ حرمِ الہی سے تجھے شیطان دور کرنا چاہتا ہے ۔
پھر آپ نے مکہ پاک زادھا اللہ شرفا کے اس طرح خصائص و فضائل بیان کیے کہ سبحان اللہ !
یہ رسالہ بار بار پڑھنے والا ہے ، ان شاءاللہ آج میرا ہم سفر بھی یہی رسالہ ہوگا ۔
علماے کرام متن سے استفادہ کریں ، اور دیگر احباب کے لیے اس کا اردو ترجمہ جو حضرت مولانا محمد راشد مدنی حفظہ اللہ نے کیا ہے وہ مفید رہے گا ، ماشاءاللہ خوب صورت ترجمہ ہے ۔
خاک راہ حجاز
✍️ لقمان شاہد
24-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02n9VG5VZywGoJyXbcoPwf1ePkv4gsPnwaCTWqLfyfDPifptmbokZpKrCA5VMyETxAl&id=100008105947430
آپ جب مکہ مکرمہ میں حاضرہونا چاہیں تو امام حسن بصری تابعی رحمہ اللہ کا یہ رسالہ ضرور پڑھ لیں ۔
یہ ایک خط ہے جو آپ نے اپنے بہت ہی پیارے دوست حضرت عبدالرحمان بن انس رحمہ اللہ کو لکھا تھا ۔
حضرت عبدالرحمان مکہ پاک میں رہتے تھے ، انھوں نے مکہ شریف چھوڑنے کا ارادہ کیا تو امام حسن بصری نے انھیں لکھا کہ:
اے بھائی ! اللہ تیری عمر دراز کرے ، مجھے خبر ملی ہے کہ تُو امن کی جگہ حرم الہی سے یمن کی طرف جانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔
اللہ کی قسم ! مجھے یہ بہت برا لگا ہے ، اور میں بڑا غمگین ہوا ہوں ؛ مجھے تیرے اس فیصلے سے بڑی وحشت ہوئی ۔۔۔۔ یہ حرمِ الہی سے تجھے شیطان دور کرنا چاہتا ہے ۔
پھر آپ نے مکہ پاک زادھا اللہ شرفا کے اس طرح خصائص و فضائل بیان کیے کہ سبحان اللہ !
یہ رسالہ بار بار پڑھنے والا ہے ، ان شاءاللہ آج میرا ہم سفر بھی یہی رسالہ ہوگا ۔
علماے کرام متن سے استفادہ کریں ، اور دیگر احباب کے لیے اس کا اردو ترجمہ جو حضرت مولانا محمد راشد مدنی حفظہ اللہ نے کیا ہے وہ مفید رہے گا ، ماشاءاللہ خوب صورت ترجمہ ہے ۔
خاک راہ حجاز
✍️ لقمان شاہد
24-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02n9VG5VZywGoJyXbcoPwf1ePkv4gsPnwaCTWqLfyfDPifptmbokZpKrCA5VMyETxAl&id=100008105947430
❤1👍1
مکہ معظمہ وہ پیارا شہر ہے جسے اللہ کریم ﷻ نے کثیر انبیا کا جاے سکونت اور سید الانبیا کا جاے ولادت بنایا ۔
اللہ کے حبیب اس شہر کی گلیوں میں چلتے پھرتے رہے ، آپ ﷺ کی حیاتِ ظاہری کے اکثر ماہ و سال اِسی شہر میں گزرے ۔
اکثر ائمہ و علما ( بشمول ائمہ ثلاثہ: امام اعظم ، امام شافعی و امام احمد رضی اللہ عن جمیعھم ) کے نزدیک مکہ معظمہ سب شہروں سے افضل ہے حتی کہ مدینہ پاک سے بھی افضل ہے ۔
امام احمد رضا حنفی نوراللہ مرقدہ فرماتےہیں:
تُربت اطہر یعنی وہ زمین کہ ( رسول اللہ ﷺ کے ) جسمِ انور سے متصل ہے ، کعبہ معظمہ ۔۔۔۔۔۔ بلکہ عرش سے بھی افضل ہے ۔
باقی مزار شریف کا بالائی حصہ ( یعنی گنبد خضرا شریف فضیلت کے اعتبار سے ) اس میں داخل نہیں ۔
کعبہ معظمہ مدینہ طیبہ سے افضل ہے !
ہاں اس میں اختلاف ہے کہ:
مدینہ طیبہ سوائے موضع تُربتِ اَطہر ، اور مکہ معظمہ سوائے کعبہ مکرمہ ، ان دونوں میں کون افضل ہے ؟
اکثر جانب ثانی ہیں ( کہ مکہ پاک ہی افضل ہے ) اور اپنا مسلک اول ( کہ مدینہ طیبہ افضل ہے ) اور یہی مذہب فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے ، طبرانی کی حدیث میں تصریح ہے کہ:
المدینۃ افضل من مکۃ ۔
مدینہ پاک ، مکہ شریف سے افضل ہے ۔
( فتاوی رضویہ شریف )
اللہ پاک ہمیں حرمین طیبین میں جہاں بھی رکھے ، ایمان و محبت کی سلامتی کے ساتھ رکھے ، اور ہمیشہ اِن کا احترام کرتے رہنے کی توفیق بخشے !
✍️لقمان شاہد
25-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid058g5JCqDctpU9AFsr4Crx4Vdv4ncJ4syYABY9SNmF2UiVV113mpVzCWC7uKn98DCl&id=100008105947430
اللہ کے حبیب اس شہر کی گلیوں میں چلتے پھرتے رہے ، آپ ﷺ کی حیاتِ ظاہری کے اکثر ماہ و سال اِسی شہر میں گزرے ۔
اکثر ائمہ و علما ( بشمول ائمہ ثلاثہ: امام اعظم ، امام شافعی و امام احمد رضی اللہ عن جمیعھم ) کے نزدیک مکہ معظمہ سب شہروں سے افضل ہے حتی کہ مدینہ پاک سے بھی افضل ہے ۔
امام احمد رضا حنفی نوراللہ مرقدہ فرماتےہیں:
تُربت اطہر یعنی وہ زمین کہ ( رسول اللہ ﷺ کے ) جسمِ انور سے متصل ہے ، کعبہ معظمہ ۔۔۔۔۔۔ بلکہ عرش سے بھی افضل ہے ۔
باقی مزار شریف کا بالائی حصہ ( یعنی گنبد خضرا شریف فضیلت کے اعتبار سے ) اس میں داخل نہیں ۔
کعبہ معظمہ مدینہ طیبہ سے افضل ہے !
ہاں اس میں اختلاف ہے کہ:
مدینہ طیبہ سوائے موضع تُربتِ اَطہر ، اور مکہ معظمہ سوائے کعبہ مکرمہ ، ان دونوں میں کون افضل ہے ؟
اکثر جانب ثانی ہیں ( کہ مکہ پاک ہی افضل ہے ) اور اپنا مسلک اول ( کہ مدینہ طیبہ افضل ہے ) اور یہی مذہب فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے ، طبرانی کی حدیث میں تصریح ہے کہ:
المدینۃ افضل من مکۃ ۔
مدینہ پاک ، مکہ شریف سے افضل ہے ۔
( فتاوی رضویہ شریف )
اللہ پاک ہمیں حرمین طیبین میں جہاں بھی رکھے ، ایمان و محبت کی سلامتی کے ساتھ رکھے ، اور ہمیشہ اِن کا احترام کرتے رہنے کی توفیق بخشے !
✍️لقمان شاہد
25-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid058g5JCqDctpU9AFsr4Crx4Vdv4ncJ4syYABY9SNmF2UiVV113mpVzCWC7uKn98DCl&id=100008105947430
❤1👍1
فِداکَ اَبِی واُمِی یارسول اللہ ! حضور آپ نے فرمایا تھا:
رمضان شریف میں عمرہ کرنا " میرے ساتھ " حج کرنے کے برابر ہے ۔
( صحیح البخاری ، ر 1863 )
حضور ! آپ کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے غلام نے یہ شرف پالیا ۔۔۔۔۔۔۔ کاشکے! ظاہری طور پر بھی " آپ کا ساتھ " نصیب ہوتا ؎
جو ہم بھی واں ہوتے خاکِ گلشن ، لپٹ کے قدموں سے لیتے اُترن
مگر کریں کیا ، نصیب میں تو یہ نامُرادی کے دِن لکھے تھے 😥
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0ZQMYj4RUAQJFnAWPpvpuK94ntrhFVfXaUapA23f22wMYFgqTnsHuBFqbWaWPS56zl&id=100008105947430
رمضان شریف میں عمرہ کرنا " میرے ساتھ " حج کرنے کے برابر ہے ۔
( صحیح البخاری ، ر 1863 )
حضور ! آپ کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے غلام نے یہ شرف پالیا ۔۔۔۔۔۔۔ کاشکے! ظاہری طور پر بھی " آپ کا ساتھ " نصیب ہوتا ؎
جو ہم بھی واں ہوتے خاکِ گلشن ، لپٹ کے قدموں سے لیتے اُترن
مگر کریں کیا ، نصیب میں تو یہ نامُرادی کے دِن لکھے تھے 😥
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0ZQMYj4RUAQJFnAWPpvpuK94ntrhFVfXaUapA23f22wMYFgqTnsHuBFqbWaWPS56zl&id=100008105947430
❤1👍1
جب مکے مدینے کے عاشقوں کی فہرست مرتب ہو گی تو اس میں مولانا محمد الیاس عطار قادری حفظہ اللہ کا نام ضرور آئے گا ۔
آپ نہ صرف خود بے مثال عاشق ہیں ، بلکہ عاشقوں کے مقتدا ہیں ۔
جسے اللہ کریم نے نورِ معرفت عطا فرمایا ہو وہ مکتبِ عشق کے اِس شیخ سے مستغنی نہیں ہو گا ۔
علامہ ارشد القادری رحمہ اللہ نے کسی دیوار پر یہ جملہ لکھا دیکھا:
" واہ کیا بات ہے مدینے کی ! "
تو آپ کو وجد آگیا ، اور پوچھنے لگے یہ کس کا جملہ ہے ؟
تو بتایا گیا: حضرت ! یہ مولانا الیاس قادری صاحب کا ہے ۔
آپ حفظہ اللہ کے عشق کے کیا کہنے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ آپ ہی کا شعر ہے جسے جب بھی پڑھیں نیا ذوق ملتا ہے ؎
وَہاں پیارا کعبہ ، یہاں سبز گنبد
وہ مکہ بھی میٹھا تو پیارا مدینہ
آج مکہ مکرمہ میں ، 26 اپریل ، اور 26 رمضان المبارک کی رات ہے ، اور چھبیس رمضان آپ کی تاریخِ ولادت بھی ہے ۔
حرم مکہ کی بابرکت فضاؤں اور ان بابرکت ساعتوں میں آپ کے لیے رب کعبہ کے حضور ڈھیروں دعائیں ہیں اور آپ کی بارگاہ میں عرض ہے کہ شیخ ! عشق کے کسی دائمی سبق کا یہ طالب ، بھی طالب ہے ؛ بنامِ " حضرتِ عشق " اس کی طلب پوری فرمادیں !!
پِیر و مُرشد! اگرچہ مجھ کو نہیں
ذوقِ آرائشِ سر و دستار
نہ کہوں آپ سے تو کس سے کہوں
مُدعائے ضروری الاظہار
ختم کرتا ہُوں اب دُعا پہ کلام
شاعری سے نہیں مجھے سروکار
تُم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں ، دن پچاس ہزار !
خاک راہِ حجاز
✍️ لقمان شاہد
26-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02VTzjFJ1fMFbZ8Euv6x8S3wHWERbgqeJHG6P8XnGmVtRum42iTXvFxUwAbYLWV7Qdl&id=100008105947430
آپ نہ صرف خود بے مثال عاشق ہیں ، بلکہ عاشقوں کے مقتدا ہیں ۔
جسے اللہ کریم نے نورِ معرفت عطا فرمایا ہو وہ مکتبِ عشق کے اِس شیخ سے مستغنی نہیں ہو گا ۔
علامہ ارشد القادری رحمہ اللہ نے کسی دیوار پر یہ جملہ لکھا دیکھا:
" واہ کیا بات ہے مدینے کی ! "
تو آپ کو وجد آگیا ، اور پوچھنے لگے یہ کس کا جملہ ہے ؟
تو بتایا گیا: حضرت ! یہ مولانا الیاس قادری صاحب کا ہے ۔
آپ حفظہ اللہ کے عشق کے کیا کہنے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ آپ ہی کا شعر ہے جسے جب بھی پڑھیں نیا ذوق ملتا ہے ؎
وَہاں پیارا کعبہ ، یہاں سبز گنبد
وہ مکہ بھی میٹھا تو پیارا مدینہ
آج مکہ مکرمہ میں ، 26 اپریل ، اور 26 رمضان المبارک کی رات ہے ، اور چھبیس رمضان آپ کی تاریخِ ولادت بھی ہے ۔
حرم مکہ کی بابرکت فضاؤں اور ان بابرکت ساعتوں میں آپ کے لیے رب کعبہ کے حضور ڈھیروں دعائیں ہیں اور آپ کی بارگاہ میں عرض ہے کہ شیخ ! عشق کے کسی دائمی سبق کا یہ طالب ، بھی طالب ہے ؛ بنامِ " حضرتِ عشق " اس کی طلب پوری فرمادیں !!
پِیر و مُرشد! اگرچہ مجھ کو نہیں
ذوقِ آرائشِ سر و دستار
نہ کہوں آپ سے تو کس سے کہوں
مُدعائے ضروری الاظہار
ختم کرتا ہُوں اب دُعا پہ کلام
شاعری سے نہیں مجھے سروکار
تُم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں ، دن پچاس ہزار !
خاک راہِ حجاز
✍️ لقمان شاہد
26-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02VTzjFJ1fMFbZ8Euv6x8S3wHWERbgqeJHG6P8XnGmVtRum42iTXvFxUwAbYLWV7Qdl&id=100008105947430
❤1👍1
سفرنامہ لقمان سے 🚝
آج مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف روانگی ہے ۔
سیدعالم ﷺ جب سفر سے مدینہ پاک کی طرف لوٹتے تو " دَابَّۃًحَرَّکَھَا مِنْ حُبِّھَا " مدینہ پاک سے محبت کی وجہ سے سواری کو تیز کردیا کرتے تھے ۔ ( بخاری شریف ، ر 1802 )
ہم مکہ سے مدینہ اگر پیدل جائیں تو تقریباً تین چار دن لگتے ہیں ، اور گاڑی پر تین چار گھنٹے ۔
اب ایک حرمین ٹرین چلی ہے جو تقریباً دوگھنٹے میں مکہ مکرمہ سے ، مدینہ طیبہ پہنچا دیتی ہے ؛ اور اِس وقت تک مدینہ منورہ جانے والی یہی سب سے تیز رفتارسواری ہے ۔
میں نے تیزی سے مدینہ پاک پہنچنے کے لیے اِس کی ٹکٹ لی ہے ، اور عازم مدینہ ہونے لگا ہوں ؛ ان شاءاللہ جلدی درِ حبیب تک پہنچ جاؤں گا ؎
مجھ سے ناشاد کو پہنچا دے دَرِ احمد تک
میرے خالق ، میرے بچھڑوں کے ملانے والے ! 😥
دورانِ سفر " مصارع العشاق " کتاب زیرِ مطالعہ رہے گی جو کہ اپنے زمانے کے فقیہ ، محدث ، لغوی اور قاری ابو محمد جعفر بن احمد السراج بغدادی م 500 ھ کی ہے ، اور رات کو ہی بازارِ مکہ سے خریدی ہے ۔
بعض لوگ تو اس کتاب کو خطرناک کہتے ہیں ، لیکن میری نظر میں یہ مکتبِ عشق کی ایک نصابی کتاب ہے ۔
سالک جب اِسے پڑھے گا تو اُسے راہِ عشق پر چلنے کا شعور آجائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ اور اُس کا عشقِ الہی اور عشقِ رسول محض دعووں کیحد تک نہیں رہے گا ۔
اے عشق تِرے صَدقے ، جلنے سے چُھٹے سَستے
جو آگ بجھا دے گی ، وہ آگ لگائی ہے
خاکِ راہِ حجاز
✍️ لقمان شاہد
28-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02CrDWZWqUeWtip5cZtVdwki1ujz2NFiC8aBVLHanK3cPvdTWReeCgj8bYGVLjwVutl&id=100008105947430
آج مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف روانگی ہے ۔
سیدعالم ﷺ جب سفر سے مدینہ پاک کی طرف لوٹتے تو " دَابَّۃًحَرَّکَھَا مِنْ حُبِّھَا " مدینہ پاک سے محبت کی وجہ سے سواری کو تیز کردیا کرتے تھے ۔ ( بخاری شریف ، ر 1802 )
ہم مکہ سے مدینہ اگر پیدل جائیں تو تقریباً تین چار دن لگتے ہیں ، اور گاڑی پر تین چار گھنٹے ۔
اب ایک حرمین ٹرین چلی ہے جو تقریباً دوگھنٹے میں مکہ مکرمہ سے ، مدینہ طیبہ پہنچا دیتی ہے ؛ اور اِس وقت تک مدینہ منورہ جانے والی یہی سب سے تیز رفتارسواری ہے ۔
میں نے تیزی سے مدینہ پاک پہنچنے کے لیے اِس کی ٹکٹ لی ہے ، اور عازم مدینہ ہونے لگا ہوں ؛ ان شاءاللہ جلدی درِ حبیب تک پہنچ جاؤں گا ؎
مجھ سے ناشاد کو پہنچا دے دَرِ احمد تک
میرے خالق ، میرے بچھڑوں کے ملانے والے ! 😥
دورانِ سفر " مصارع العشاق " کتاب زیرِ مطالعہ رہے گی جو کہ اپنے زمانے کے فقیہ ، محدث ، لغوی اور قاری ابو محمد جعفر بن احمد السراج بغدادی م 500 ھ کی ہے ، اور رات کو ہی بازارِ مکہ سے خریدی ہے ۔
بعض لوگ تو اس کتاب کو خطرناک کہتے ہیں ، لیکن میری نظر میں یہ مکتبِ عشق کی ایک نصابی کتاب ہے ۔
سالک جب اِسے پڑھے گا تو اُسے راہِ عشق پر چلنے کا شعور آجائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ اور اُس کا عشقِ الہی اور عشقِ رسول محض دعووں کیحد تک نہیں رہے گا ۔
اے عشق تِرے صَدقے ، جلنے سے چُھٹے سَستے
جو آگ بجھا دے گی ، وہ آگ لگائی ہے
خاکِ راہِ حجاز
✍️ لقمان شاہد
28-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02CrDWZWqUeWtip5cZtVdwki1ujz2NFiC8aBVLHanK3cPvdTWReeCgj8bYGVLjwVutl&id=100008105947430
❤1👍1
مسجد میں آنے والا ہر شخص امن میں ہوتا ہے چاہے وہ پرلے درجے کاگناہ گار ہی کیوں نہ ہو ؛ یہاں کسی کوعار دلانا ، گالی دینا ، یاکسی سے جھگڑا کرنا جائز نہیں ۔
سیدعالم ﷺ کافرمان ہے:
خُصُومَاتكُمْ ، ورَفعَ أَصوَاتكُمْ ، وَإِقَامَة حدُودكُمْ
مسجدوں کو جھگڑوں ، اونچی آوازوں اور حدود قائم کرنے سے محفوظ رکھو ۔
( سنن ابن ماجہ ، ر750 )
یہ تو ہر اس مسجد کے متعلق ہے جو رسول اللہ ﷺ کے نام پر بنی ۔
رہی وہ مسجد جو رسول اللہ ﷺ نے خود بنائی ، اور قیامت تک جس کے پہلو میں تشریف فرمارہیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں تو اونچا سانس لینے میں بھی احتیاط چاہیے !!
اللہ کریم دانستہ و نادانستہ غلطیاں معاف فرمائے ، اورسچی توبہ کی توفیق بخشے !
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0ZTjubLpUwVktr6oqKDvoWAvrhNVMnsuMjoVqne8CGLiwb1erNvpABRwmchto6GTnl&id=100008105947430
سیدعالم ﷺ کافرمان ہے:
خُصُومَاتكُمْ ، ورَفعَ أَصوَاتكُمْ ، وَإِقَامَة حدُودكُمْ
مسجدوں کو جھگڑوں ، اونچی آوازوں اور حدود قائم کرنے سے محفوظ رکھو ۔
( سنن ابن ماجہ ، ر750 )
یہ تو ہر اس مسجد کے متعلق ہے جو رسول اللہ ﷺ کے نام پر بنی ۔
رہی وہ مسجد جو رسول اللہ ﷺ نے خود بنائی ، اور قیامت تک جس کے پہلو میں تشریف فرمارہیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں تو اونچا سانس لینے میں بھی احتیاط چاہیے !!
اللہ کریم دانستہ و نادانستہ غلطیاں معاف فرمائے ، اورسچی توبہ کی توفیق بخشے !
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0ZTjubLpUwVktr6oqKDvoWAvrhNVMnsuMjoVqne8CGLiwb1erNvpABRwmchto6GTnl&id=100008105947430
❤1👍1
قاری ابوالعباس احمد بن نفیس رحمہ اللہ کہتے ہیں:
میں حجاز مقدس سے مغرب کی طرف جارہا تھا تو مصر میں مجھےسیدعالم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور آپ فرمانےلگے:
ابوالعباس ! تو نے مجھے بے چین کردیا ہے ۔ ( کہ میرا شہر چھوڑ کر چلاگیا ہے )
اور حضور کا یہ فرمانا اس لیے تھا کہ میں مدینہ پاک میں قبرِ انور کےپاس کثرت سے تلاوت کرتاتھا ۔
آپ رحمہاللہ کے شاگرد نے پوچھا:
استاد صاحب ! آپ نے قبرِ انور کے پاس کتنے قرآن پاک ختم کیے؟
تو فرمانےلگے: ایک ہزار قرآن پڑھے ۔
( مصباح الظلام فی المستغیثین بخیر الانام علیہ الصلاۃ والسلام فی الیقظۃ والمنام ، ص104 ، دارالکتب العلمیۃ بیروت )
اللہاللہ ایکوہ لوگ تھے جو بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوکر ہزار ہزار قرآن پاک پڑھ دیتے تھے اور ایک ہم غافل ہیں ۔ 😥
اللہ و رسول کو قرآن پاک پڑھنے والے بہت پسند ہیں ۔
قرآن پڑھنے والوں سے رسول اللہ ﷺ بہت محبت فرماتے ہیں اور اللہ پاک بھی انھیں بے مانگے عطافرماتا ہے ۔
رب تعالی ہمیشہ خلوص نیت ، محبت اور شوق سے قرآن پڑھتے رہنے کی توفیق بخشے ، اور اس کے طفیل ہمیں بھی رخ زیبا کی دید نصیب فرمائے !
✍️ لقمان شاہد
29-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid01UG5k1sZwZxQfFDoNAhQp1Rn2RHN53HvSSGWuWcBhSpdnZiEBf2NUzRpYuWFN3hdl&id=100008105947430
میں حجاز مقدس سے مغرب کی طرف جارہا تھا تو مصر میں مجھےسیدعالم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور آپ فرمانےلگے:
ابوالعباس ! تو نے مجھے بے چین کردیا ہے ۔ ( کہ میرا شہر چھوڑ کر چلاگیا ہے )
اور حضور کا یہ فرمانا اس لیے تھا کہ میں مدینہ پاک میں قبرِ انور کےپاس کثرت سے تلاوت کرتاتھا ۔
آپ رحمہاللہ کے شاگرد نے پوچھا:
استاد صاحب ! آپ نے قبرِ انور کے پاس کتنے قرآن پاک ختم کیے؟
تو فرمانےلگے: ایک ہزار قرآن پڑھے ۔
( مصباح الظلام فی المستغیثین بخیر الانام علیہ الصلاۃ والسلام فی الیقظۃ والمنام ، ص104 ، دارالکتب العلمیۃ بیروت )
اللہاللہ ایکوہ لوگ تھے جو بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوکر ہزار ہزار قرآن پاک پڑھ دیتے تھے اور ایک ہم غافل ہیں ۔ 😥
اللہ و رسول کو قرآن پاک پڑھنے والے بہت پسند ہیں ۔
قرآن پڑھنے والوں سے رسول اللہ ﷺ بہت محبت فرماتے ہیں اور اللہ پاک بھی انھیں بے مانگے عطافرماتا ہے ۔
رب تعالی ہمیشہ خلوص نیت ، محبت اور شوق سے قرآن پڑھتے رہنے کی توفیق بخشے ، اور اس کے طفیل ہمیں بھی رخ زیبا کی دید نصیب فرمائے !
✍️ لقمان شاہد
29-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid01UG5k1sZwZxQfFDoNAhQp1Rn2RHN53HvSSGWuWcBhSpdnZiEBf2NUzRpYuWFN3hdl&id=100008105947430
❤1👍1
مغرب سے پہلے حرمِ نبوی میں حاضر تھا ، میرے ساتھ بیٹھے دو عراقی مجھ سے بار بار دلائل الخیرات شریف کا تقاضا کرنے لگے ، لیکن میرے پاس موجود نہیں تھی میں نے انھیں کہا:
ابھی تو نہیں ہے ، انشاءاللہ جب عراق آیا تو آپ کے لیے لیتا آؤں گا ۔
اُن کی حسرت اور تقاضا دیکھ کر میرے دل میں خیال بھی آرہا تھا کہ کاش میرے پاس ابھی ہوتی تو انھیں تحفہ دے دیتا ۔
مغرب کے بعد میں حرم شریف سے نکلا ہوں تو ایک اللہ کے بندے سے ملاقات ہوئی ہے ، انھوں نے میرے تقاضہ کیے بغیر ہی مجھے دلائل الخیرات دی ہے اور کہا ہے:
ابھی میرے پاس آپ کے لیے یہی تحفہ ہے ، اسے قبول کریں ۔
حضور کی بارگاہ کے کیا کہنے ، یہاں سوال سے پہلے ۔۔۔۔۔۔ خیال پر بھی عطاہوجاتاہے ؎
منگتا کا ہاتھ اُٹھتے ہی داتا کی دَین تھی
دُوری قبول و عرض میں بس ہاتھ بھر کی ہے
خاکِ راہِ حجاز
✍️ لقمان شاہد
30-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0yphcKTacBid5EPfQguYTDHLP6W7aFjURyBKEjZEzV5mn8uDGRaYofgMjLpL6cPGZl&id=100008105947430
ابھی تو نہیں ہے ، انشاءاللہ جب عراق آیا تو آپ کے لیے لیتا آؤں گا ۔
اُن کی حسرت اور تقاضا دیکھ کر میرے دل میں خیال بھی آرہا تھا کہ کاش میرے پاس ابھی ہوتی تو انھیں تحفہ دے دیتا ۔
مغرب کے بعد میں حرم شریف سے نکلا ہوں تو ایک اللہ کے بندے سے ملاقات ہوئی ہے ، انھوں نے میرے تقاضہ کیے بغیر ہی مجھے دلائل الخیرات دی ہے اور کہا ہے:
ابھی میرے پاس آپ کے لیے یہی تحفہ ہے ، اسے قبول کریں ۔
حضور کی بارگاہ کے کیا کہنے ، یہاں سوال سے پہلے ۔۔۔۔۔۔ خیال پر بھی عطاہوجاتاہے ؎
منگتا کا ہاتھ اُٹھتے ہی داتا کی دَین تھی
دُوری قبول و عرض میں بس ہاتھ بھر کی ہے
خاکِ راہِ حجاز
✍️ لقمان شاہد
30-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0yphcKTacBid5EPfQguYTDHLP6W7aFjURyBKEjZEzV5mn8uDGRaYofgMjLpL6cPGZl&id=100008105947430
❤1👍1
سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ بڑے ہنس مکھ تھے ، مسکراتے رہتے تھے ۔۔۔۔۔۔ لیکن جب ان کے سامنے رسول اللہ ﷺ کا ذکر پاک کیا جاتا تو ( ہیبت و محبت رسول کی وجہ سے ) آپ کا رنگ زرد ہوجاتا ؛ اور ( ادب کا یہ عالم تھا کہ ) بغیر وضو حضور کا ذکر پاک نہیں کیا کرتے تھے ۔ 😥
( انظر: مصباح الظلام فی المستغیثین بخیر الانام علیہ الصلاۃ والسلام فی الیقظۃ والمنام ، ص 236 ، دارالکتب العلمیۃ بیروت )
اللہ پاک ہمیں بھی ایسا کردے !!
✍️ لقمان شاہد
1-5-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0AwUhsESAiJ7ESfbozZKwaV4EsMnSvo6tuQxXufXjEv4amEYrRmSDyvXbhwgoUxWel&id=100008105947430
( انظر: مصباح الظلام فی المستغیثین بخیر الانام علیہ الصلاۃ والسلام فی الیقظۃ والمنام ، ص 236 ، دارالکتب العلمیۃ بیروت )
اللہ پاک ہمیں بھی ایسا کردے !!
✍️ لقمان شاہد
1-5-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0AwUhsESAiJ7ESfbozZKwaV4EsMnSvo6tuQxXufXjEv4amEYrRmSDyvXbhwgoUxWel&id=100008105947430
❤2👍1