🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-11-1443 ᴴ | 05-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-11-1443 ᴴ | 05-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
ایک‌ خوب صورت واقعہ 🥀

مشہور سَیّاح ابن بطوطہ نے تقریبا 29 سال دنیا کی سیر کی ، اور اس دوران تقریبا 75000 مِیل سفر کیا ۔
یہ سفر کرتے کرتے جب مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں اِن کی ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی جس کا نام حسن تھا اور لوگ اُسے حسن مجنون کہتے تھے ۔
اس نوجوان سے عجیب و غریب چیزیں ظاہر ہوتی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ جس دکان سے کھانا کھالیتا خیر و برکت کا رخ ادھر ہوجاتا ؛ لوگ اس کا ازحد احترام کیا کرتے تھے ، اور تمنا کرتے کہ کاش وہ ہم سے کچھ قبول کرے ۔

ابن بطوطہ نے اس کے متعلق معلوم کیا تو پتاچلا کہ:

حسن رات کو بیت اللہ شریف کا کثرت سے طواف کیا کرتا تھا ۔
اس کے ساتھ ایک فقیر بھی طواف کرتا تھا جو صرف رات کو ہی نظر آتا ، دن کو نظر نہیں آتا تھا ۔

ایک رات وہ فقیر حسن سے ملا ، اس کا حال چال پوچھا اور کہنے لگا:

حسن ! تیری ماں اللہ کی نیک بندی ہے وہ تیرے لیے روتی ہے اور تجھے دیکھنا چاہتی ہے ، کیا تُو‌ چاہتا ہے کہ وہ تیرا دیدار کرلے ؟
حسن نے کہا: ہاں ، لیکن مجھ میں یہ طاقت نہیں کہ میں اپنا آپ والدہ کو دکھا سکوں ( کیوں کہ وہ یہاں سے میلوں دور ہیں ) ۔

فقیر نے کہا: ہم کل رات انشاءاللہ یہیں ملیں گے ( میرا انتظار کرنا ) ۔
اگلی رات فقیر حسب وعدہ پہنچ گیا ، دونوں نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا ۔۔۔۔۔۔۔ پھر فقیر باہر نکل گیا ، حسن اس کے پیچھے تھا ، جب باب مُعلٰی پر پہنچے تو فقیر نےکہا:

اپنی آنکھیں بند کرو اور کپڑے سمیٹ لو ۔
حسن نے اسی طرح کیا تو تھوڑی دیر بعد فقیر نے پوچھا:
کیا اپنے شہر کو پہچانتے ہو ؟
اس نے کہا ہاں !
فقیر نے کہا‌: دیکھ ، کیا یہی تیرا شہر ہے ؟ حسن نے آنکھیں کھولیں تو کیا دیکھتا ہے کہ اپنی والدہ کے گھر پر موجود ہے ۔

حسن والدہ کے پاس چلا گیا اور انھیں کچھ نہ بتایا ، اور آدھا ماہ ان کی خدمت میں رہا ۔
( ابن بطوطہ کہتے ہیں ) میرا خیال ہے حسن کا شہر اَسَفِی تھا ۔

پھر ایک دن حسن قبرستان کی طرف گیا تو کیا دیکھتا ہے کہ وہی فقیر اُس کے ساتھ ہے ۔
اس نے حسن سے پوچھا : کیا حال ہے؟
حسن نے کہا:
یاسیدی ! ( میں اپنے پیر و مرشد ) شیخ نجم الدین کی زیارت کے لیے ترس رہا ہوں ، میں تو حسب معمول وہاں سے آیا تھا اب اتنے دن ہوگئے ان سے جدا ہوئے ؛ میں چاہتا ہوں مجھے آپ کی طرف لوٹا دیاجائے ۔
فقیر نے کہا ٹھیک ہے ، رات کو اسی قبرستان میں ملاقات کا وعدہ رہا ۔
جب رات کو وہاں پہنچے تو فقیر نے پہلے کی طرح ہی آنکھیں بند کروائیں اور جب کھولیں تو وہ مکہ معظمہ میں تھے ۔

فقیر نے حسن کو نصیحت کی کہ یہ معاملہ شیخ نجم الدین یا کسی اور کے سامنے بالکل بیان نہ کرنا ۔

حسن جب شیخ نجم الدین کے پاس گیا تو آپ نے پوچھا: تم اتنے دن کہاں غائب رہے ؟
کہنے لگا: حضرت ، نہ پوچھیے !
لیکن جب انھوں نے اصرار کیا تو مجبوراً بیا‌ن کرنا پڑا ۔
اب شیخ کہنے لگے: مجھے وہ شخص دکھاؤ ! ( جو تمھیں پلک‌جھپکنے میں اتنی دور لے گیا ، اور لے بھی آیا ۔)

حسن اُنھیں لے کر رات کے وقت ( حرم کعبہ میں ) آیا ۔
جب‌ وہ فقیر حسب عادت آیا اور ان کے پاس سے گزرنے لگا تو حسن نے کہا: یاسیدی ! یہ ہے وہ شخص ۔
یہ بات فقیر نے سن لی اور اس نے حسن کے منھ پر ہاتھ مار کر کہا:

چپ ہوجا ، خدا تجھے خاموش کرے !

اتنا کہنا تھا کہ حسن گونگا ہوگیا ، اور اس کی عقل‌جاتی رہی ۔
پھر وہ اسی حال میں حرم پاک میں رہتا تھا اور دن رات بغیر وضو کے ہی طواف کرتا رہتا اور اسے نماز کا کوئی ہوش نہ رہا ۔

(تحفۃ النظار فی غرائب الامصار وعجائب الاسفار ، ج1 ، ص 171 ، 172 ، ط داراحیاءالعلوم‌بیروت ، س 1407ھ )

1 رجال‌الغیب ایک مخلوق ہے جسے اللہ کریم‌ نے بڑے مرتبے سے نوازا ہے ، اگر خوش قسمتی سے کسی کی‌ ان سے ملاقات ہوجائے تو اسے غنیمت سمجھنا چاہیےاور ان کی اجازت کے بغیر ان کے معاملات کو کسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہیے ۔

2 مکہ‌مکرمہ‌اور مدینہ منورہ میں رجال‌الغیب بکثرت حاضری دیتے ہیں ، وہاں ہر ایک‌ کا احترام کرنا چاہیے کسی کے ساتھ جھگڑنا نہیں چاہیے ، کیا معلوم جسے آپ بداخلاق ہوٹل‌والا سمجھ رہے ہوں ، یا غبار سے اٹا صفائی کرنے والا نظر آرہا ہو وہ انھی میں سے ہو ۔

( نوٹ: بعض باتیں خاص قسم کی ہوتی ہیں جنھیں مخصوص لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ )

خاکِ راہِ حجاز
✍️ لقمان شاہد
23-4-2022 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid08SEEjgduypkgP4MXJfS1nyBKvR7UNicNsqVFpzKr93gSeYBiSsjZpAgBp1HPq7Dil&id=100008105947430
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
آقا و مولا ﷻ نے اپنے بندے کو پھر اذنِ حاضری عطا فرمایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ان شاءاللہ آج رات رسولِ پاک ﷺ کے مقدس شہر مکہ مکرمہ کی طرف روانگی ہو گی ، اور ایمان و محبت کے ساتھ بیت اللہ شریف کا دیدار نصیب ہوگا ۔ اللہ اللہ 😥😥

کب کوئی درِ شاہ پہ تدبیر سے پہنچا
پہنچا تو فقط خوبیِ تقدیر سے پہنچا

احباب دعا فرمادیں کہ لمحہ بھر کی بھی غفلت نہ ہو ، دل اپنے پاک پروردگار کی یاد سے معمور رہے !

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02nLX3BCSKYKK5ytPb7yNS462mmVELRfu5k9cqcHUfWjN6RUiTLzmWhcJB88gMRizbl&id=100008105947430
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
اللہ پاک مجھے اور آپ کو بار بار بیت اللہ شریف کی زیارت نصیب فرمائے !

آپ جب مکہ مکرمہ میں حاضرہونا چاہیں تو امام حسن بصری تابعی رحمہ اللہ کا یہ رسالہ ضرور پڑھ لیں ۔

یہ ایک خط ہے جو آپ نے اپنے بہت ہی پیارے دوست حضرت عبدالرحمان بن انس رحمہ اللہ کو لکھا تھا ۔

حضرت عبدالرحمان مکہ پاک میں رہتے تھے ، انھوں نے مکہ شریف چھوڑنے کا ارادہ کیا تو امام حسن بصری نے انھیں لکھا کہ:

اے بھائی ! اللہ تیری عمر دراز کرے ، مجھے خبر ملی ہے کہ تُو امن کی جگہ حرم الہی سے یمن کی طرف جانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔
اللہ کی قسم ! مجھے یہ بہت برا لگا ہے ، اور میں بڑا غمگین ہوا ہوں ؛ مجھے تیرے اس فیصلے سے بڑی وحشت ہوئی ۔۔۔۔ یہ حرمِ الہی سے تجھے شیطان دور کرنا چاہتا ہے ۔

پھر آپ نے مکہ پاک زادھا اللہ شرفا کے اس طرح خصائص و فضائل بیان کیے کہ سبحان اللہ !

یہ رسالہ بار بار پڑھنے والا ہے ، ان شاءاللہ آج میرا ہم‌ سفر بھی یہی رسالہ ہوگا ۔

علماے کرام متن سے استفادہ کریں ، اور دیگر احباب کے لیے اس کا اردو ترجمہ جو حضرت مولانا محمد راشد مدنی حفظہ اللہ نے کیا ہے وہ مفید رہے گا ، ماشاءاللہ خوب صورت ترجمہ ہے ۔

خاک راہ حجاز
✍️ لقمان شاہد
24-4-2022 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02n9VG5VZywGoJyXbcoPwf1ePkv4gsPnwaCTWqLfyfDPifptmbokZpKrCA5VMyETxAl&id=100008105947430
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
مکہ معظمہ وہ پیارا شہر ہے جسے اللہ کریم ﷻ نے کثیر انبیا کا جاے سکونت اور سید الانبیا کا جاے ولادت بنایا ۔
اللہ کے حبیب اس شہر کی گلیوں میں چلتے پھرتے رہے ، آپ ﷺ کی حیاتِ ظاہری کے اکثر ماہ و سال اِسی شہر میں گزرے ۔

اکثر ائمہ و علما ( بشمول ائمہ ثلاثہ: امام اعظم ، امام شافعی و امام احمد رضی اللہ عن جمیعھم ) کے نزدیک مکہ معظمہ سب شہروں سے افضل ہے حتی کہ مدینہ پاک سے بھی افضل ہے ۔

امام احمد رضا حنفی نوراللہ مرقدہ فرماتےہیں:

تُربت اطہر یعنی وہ زمین کہ ( رسول اللہ ﷺ کے ) جسمِ انور سے متصل ہے ، کعبہ معظمہ ۔۔۔۔۔۔ بلکہ عرش سے بھی افضل ہے ۔
باقی مزار شریف کا بالائی حصہ ( یعنی گنبد خضرا شریف فضیلت کے اعتبار سے ) اس میں داخل نہیں ۔

کعبہ معظمہ مدینہ طیبہ سے افضل ہے !

ہاں اس میں اختلاف ہے کہ:

مدینہ طیبہ سوائے موضع تُربتِ اَطہر ، اور مکہ معظمہ سوائے کعبہ مکرمہ ، ان دونوں میں کون افضل ہے ؟

اکثر جانب ثانی ہیں ( کہ مکہ پاک ہی افضل ہے ) اور اپنا مسلک اول ( کہ مدینہ طیبہ افضل ہے ) اور یہی مذہب فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے ، طبرانی کی حدیث میں تصریح ہے کہ:

المدینۃ افضل من مکۃ ۔
مدینہ پاک ، مکہ شریف سے افضل ہے ۔
( فتاوی رضویہ شریف )

اللہ پاک ہمیں حرمین طیبین میں جہاں بھی رکھے ، ایمان و محبت کی سلامتی کے ساتھ رکھے ، اور ہمیشہ اِن کا احترام کرتے رہنے کی توفیق بخشے !

✍️لقمان شاہد
25-4-2022 ء


https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid058g5JCqDctpU9AFsr4Crx4Vdv4ncJ4syYABY9SNmF2UiVV113mpVzCWC7uKn98DCl&id=100008105947430
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
فِداکَ اَبِی واُمِی یارسول اللہ ! حضور آپ نے فرمایا تھا:

رمضان شریف میں عمرہ کرنا " میرے ساتھ " حج کرنے کے برابر ہے ۔

( صحیح البخاری ، ر 1863 )

حضور ! آپ کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے غلام نے یہ شرف پالیا ۔۔۔۔۔۔۔ کاشکے! ظاہری طور پر بھی " آپ کا ساتھ " نصیب ہوتا ؎

جو ہم بھی واں ہوتے خاکِ گلشن ، لپٹ کے قدموں سے لیتے اُترن
مگر کریں کیا ، نصیب میں تو یہ نامُرادی کے دِن لکھے تھے 😥

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0ZQMYj4RUAQJFnAWPpvpuK94ntrhFVfXaUapA23f22wMYFgqTnsHuBFqbWaWPS56zl&id=100008105947430
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
جب مکے مدینے کے عاشقوں کی فہرست مرتب ہو گی تو اس میں مولانا محمد الیاس عطار قادری حفظہ اللہ کا نام ضرور آئے گا ۔

آپ نہ صرف خود بے مثال عاشق ہیں ، بلکہ عاشقوں کے مقتدا ہیں ۔
جسے اللہ کریم نے نورِ معرفت عطا فرمایا ہو وہ مکتبِ عشق کے اِس شیخ سے مستغنی نہیں ہو گا ۔

علامہ ارشد القادری رحمہ اللہ نے کسی دیوار پر یہ جملہ لکھا دیکھا:

" واہ کیا بات ہے مدینے کی ! "

تو آپ کو وجد آگیا ، اور پوچھنے لگے یہ کس کا جملہ ہے ؟
تو بتایا گیا: حضرت ! یہ مولانا الیاس قادری صاحب کا ہے ۔

آپ حفظہ اللہ کے عشق کے کیا کہنے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ آپ ہی کا شعر ہے جسے جب بھی پڑھیں نیا ذوق ملتا ہے ؎

وَہاں پیارا کعبہ ، یہاں سبز گنبد
وہ مکہ بھی میٹھا تو پیارا مدینہ

آج مکہ مکرمہ میں ، 26 اپریل ، اور 26 رمضان المبارک کی رات ہے ، اور چھبیس رمضان آپ کی تاریخِ ولادت بھی ہے ۔
حرم مکہ کی بابرکت فضاؤں اور ان بابرکت ساعتوں میں آپ کے لیے رب کعبہ کے حضور ڈھیروں دعائیں ہیں اور آپ کی بارگاہ میں عرض ہے کہ شیخ ! عشق کے کسی دائمی سبق کا یہ طالب ، بھی طالب ہے ؛ بنامِ " حضرتِ عشق " اس کی طلب پوری فرمادیں !!

پِیر و مُرشد! اگرچہ مجھ کو نہیں
ذوقِ آرائشِ سر و دستار

نہ کہوں آپ سے تو کس سے کہوں
مُدعائے ضروری الاظہار

ختم کرتا ہُوں اب دُعا پہ کلام
شاعری سے نہیں مجھے سروکار

تُم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں ، دن پچاس ہزار !

خاک راہِ حجاز
✍️ لقمان شاہد
26-4-2022 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02VTzjFJ1fMFbZ8Euv6x8S3wHWERbgqeJHG6P8XnGmVtRum42iTXvFxUwAbYLWV7Qdl&id=100008105947430
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1