🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-11-1443 ᴴ | 04-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-11-1443 ᴴ | 05-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-11-1443 ᴴ | 05-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-11-1443 ᴴ | 05-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
ایک خوب صورت واقعہ 🥀
مشہور سَیّاح ابن بطوطہ نے تقریبا 29 سال دنیا کی سیر کی ، اور اس دوران تقریبا 75000 مِیل سفر کیا ۔
یہ سفر کرتے کرتے جب مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں اِن کی ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی جس کا نام حسن تھا اور لوگ اُسے حسن مجنون کہتے تھے ۔
اس نوجوان سے عجیب و غریب چیزیں ظاہر ہوتی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ جس دکان سے کھانا کھالیتا خیر و برکت کا رخ ادھر ہوجاتا ؛ لوگ اس کا ازحد احترام کیا کرتے تھے ، اور تمنا کرتے کہ کاش وہ ہم سے کچھ قبول کرے ۔
ابن بطوطہ نے اس کے متعلق معلوم کیا تو پتاچلا کہ:
حسن رات کو بیت اللہ شریف کا کثرت سے طواف کیا کرتا تھا ۔
اس کے ساتھ ایک فقیر بھی طواف کرتا تھا جو صرف رات کو ہی نظر آتا ، دن کو نظر نہیں آتا تھا ۔
ایک رات وہ فقیر حسن سے ملا ، اس کا حال چال پوچھا اور کہنے لگا:
حسن ! تیری ماں اللہ کی نیک بندی ہے وہ تیرے لیے روتی ہے اور تجھے دیکھنا چاہتی ہے ، کیا تُو چاہتا ہے کہ وہ تیرا دیدار کرلے ؟
حسن نے کہا: ہاں ، لیکن مجھ میں یہ طاقت نہیں کہ میں اپنا آپ والدہ کو دکھا سکوں ( کیوں کہ وہ یہاں سے میلوں دور ہیں ) ۔
فقیر نے کہا: ہم کل رات انشاءاللہ یہیں ملیں گے ( میرا انتظار کرنا ) ۔
اگلی رات فقیر حسب وعدہ پہنچ گیا ، دونوں نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا ۔۔۔۔۔۔۔ پھر فقیر باہر نکل گیا ، حسن اس کے پیچھے تھا ، جب باب مُعلٰی پر پہنچے تو فقیر نےکہا:
اپنی آنکھیں بند کرو اور کپڑے سمیٹ لو ۔
حسن نے اسی طرح کیا تو تھوڑی دیر بعد فقیر نے پوچھا:
کیا اپنے شہر کو پہچانتے ہو ؟
اس نے کہا ہاں !
فقیر نے کہا: دیکھ ، کیا یہی تیرا شہر ہے ؟ حسن نے آنکھیں کھولیں تو کیا دیکھتا ہے کہ اپنی والدہ کے گھر پر موجود ہے ۔
حسن والدہ کے پاس چلا گیا اور انھیں کچھ نہ بتایا ، اور آدھا ماہ ان کی خدمت میں رہا ۔
( ابن بطوطہ کہتے ہیں ) میرا خیال ہے حسن کا شہر اَسَفِی تھا ۔
پھر ایک دن حسن قبرستان کی طرف گیا تو کیا دیکھتا ہے کہ وہی فقیر اُس کے ساتھ ہے ۔
اس نے حسن سے پوچھا : کیا حال ہے؟
حسن نے کہا:
یاسیدی ! ( میں اپنے پیر و مرشد ) شیخ نجم الدین کی زیارت کے لیے ترس رہا ہوں ، میں تو حسب معمول وہاں سے آیا تھا اب اتنے دن ہوگئے ان سے جدا ہوئے ؛ میں چاہتا ہوں مجھے آپ کی طرف لوٹا دیاجائے ۔
فقیر نے کہا ٹھیک ہے ، رات کو اسی قبرستان میں ملاقات کا وعدہ رہا ۔
جب رات کو وہاں پہنچے تو فقیر نے پہلے کی طرح ہی آنکھیں بند کروائیں اور جب کھولیں تو وہ مکہ معظمہ میں تھے ۔
فقیر نے حسن کو نصیحت کی کہ یہ معاملہ شیخ نجم الدین یا کسی اور کے سامنے بالکل بیان نہ کرنا ۔
حسن جب شیخ نجم الدین کے پاس گیا تو آپ نے پوچھا: تم اتنے دن کہاں غائب رہے ؟
کہنے لگا: حضرت ، نہ پوچھیے !
لیکن جب انھوں نے اصرار کیا تو مجبوراً بیان کرنا پڑا ۔
اب شیخ کہنے لگے: مجھے وہ شخص دکھاؤ ! ( جو تمھیں پلکجھپکنے میں اتنی دور لے گیا ، اور لے بھی آیا ۔)
حسن اُنھیں لے کر رات کے وقت ( حرم کعبہ میں ) آیا ۔
جب وہ فقیر حسب عادت آیا اور ان کے پاس سے گزرنے لگا تو حسن نے کہا: یاسیدی ! یہ ہے وہ شخص ۔
یہ بات فقیر نے سن لی اور اس نے حسن کے منھ پر ہاتھ مار کر کہا:
چپ ہوجا ، خدا تجھے خاموش کرے !
اتنا کہنا تھا کہ حسن گونگا ہوگیا ، اور اس کی عقلجاتی رہی ۔
پھر وہ اسی حال میں حرم پاک میں رہتا تھا اور دن رات بغیر وضو کے ہی طواف کرتا رہتا اور اسے نماز کا کوئی ہوش نہ رہا ۔
(تحفۃ النظار فی غرائب الامصار وعجائب الاسفار ، ج1 ، ص 171 ، 172 ، ط داراحیاءالعلومبیروت ، س 1407ھ )
1 رجالالغیب ایک مخلوق ہے جسے اللہ کریم نے بڑے مرتبے سے نوازا ہے ، اگر خوش قسمتی سے کسی کی ان سے ملاقات ہوجائے تو اسے غنیمت سمجھنا چاہیےاور ان کی اجازت کے بغیر ان کے معاملات کو کسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہیے ۔
2 مکہمکرمہاور مدینہ منورہ میں رجالالغیب بکثرت حاضری دیتے ہیں ، وہاں ہر ایک کا احترام کرنا چاہیے کسی کے ساتھ جھگڑنا نہیں چاہیے ، کیا معلوم جسے آپ بداخلاق ہوٹلوالا سمجھ رہے ہوں ، یا غبار سے اٹا صفائی کرنے والا نظر آرہا ہو وہ انھی میں سے ہو ۔
( نوٹ: بعض باتیں خاص قسم کی ہوتی ہیں جنھیں مخصوص لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ )
خاکِ راہِ حجاز
✍️ لقمان شاہد
23-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid08SEEjgduypkgP4MXJfS1nyBKvR7UNicNsqVFpzKr93gSeYBiSsjZpAgBp1HPq7Dil&id=100008105947430
مشہور سَیّاح ابن بطوطہ نے تقریبا 29 سال دنیا کی سیر کی ، اور اس دوران تقریبا 75000 مِیل سفر کیا ۔
یہ سفر کرتے کرتے جب مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں اِن کی ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی جس کا نام حسن تھا اور لوگ اُسے حسن مجنون کہتے تھے ۔
اس نوجوان سے عجیب و غریب چیزیں ظاہر ہوتی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ جس دکان سے کھانا کھالیتا خیر و برکت کا رخ ادھر ہوجاتا ؛ لوگ اس کا ازحد احترام کیا کرتے تھے ، اور تمنا کرتے کہ کاش وہ ہم سے کچھ قبول کرے ۔
ابن بطوطہ نے اس کے متعلق معلوم کیا تو پتاچلا کہ:
حسن رات کو بیت اللہ شریف کا کثرت سے طواف کیا کرتا تھا ۔
اس کے ساتھ ایک فقیر بھی طواف کرتا تھا جو صرف رات کو ہی نظر آتا ، دن کو نظر نہیں آتا تھا ۔
ایک رات وہ فقیر حسن سے ملا ، اس کا حال چال پوچھا اور کہنے لگا:
حسن ! تیری ماں اللہ کی نیک بندی ہے وہ تیرے لیے روتی ہے اور تجھے دیکھنا چاہتی ہے ، کیا تُو چاہتا ہے کہ وہ تیرا دیدار کرلے ؟
حسن نے کہا: ہاں ، لیکن مجھ میں یہ طاقت نہیں کہ میں اپنا آپ والدہ کو دکھا سکوں ( کیوں کہ وہ یہاں سے میلوں دور ہیں ) ۔
فقیر نے کہا: ہم کل رات انشاءاللہ یہیں ملیں گے ( میرا انتظار کرنا ) ۔
اگلی رات فقیر حسب وعدہ پہنچ گیا ، دونوں نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا ۔۔۔۔۔۔۔ پھر فقیر باہر نکل گیا ، حسن اس کے پیچھے تھا ، جب باب مُعلٰی پر پہنچے تو فقیر نےکہا:
اپنی آنکھیں بند کرو اور کپڑے سمیٹ لو ۔
حسن نے اسی طرح کیا تو تھوڑی دیر بعد فقیر نے پوچھا:
کیا اپنے شہر کو پہچانتے ہو ؟
اس نے کہا ہاں !
فقیر نے کہا: دیکھ ، کیا یہی تیرا شہر ہے ؟ حسن نے آنکھیں کھولیں تو کیا دیکھتا ہے کہ اپنی والدہ کے گھر پر موجود ہے ۔
حسن والدہ کے پاس چلا گیا اور انھیں کچھ نہ بتایا ، اور آدھا ماہ ان کی خدمت میں رہا ۔
( ابن بطوطہ کہتے ہیں ) میرا خیال ہے حسن کا شہر اَسَفِی تھا ۔
پھر ایک دن حسن قبرستان کی طرف گیا تو کیا دیکھتا ہے کہ وہی فقیر اُس کے ساتھ ہے ۔
اس نے حسن سے پوچھا : کیا حال ہے؟
حسن نے کہا:
یاسیدی ! ( میں اپنے پیر و مرشد ) شیخ نجم الدین کی زیارت کے لیے ترس رہا ہوں ، میں تو حسب معمول وہاں سے آیا تھا اب اتنے دن ہوگئے ان سے جدا ہوئے ؛ میں چاہتا ہوں مجھے آپ کی طرف لوٹا دیاجائے ۔
فقیر نے کہا ٹھیک ہے ، رات کو اسی قبرستان میں ملاقات کا وعدہ رہا ۔
جب رات کو وہاں پہنچے تو فقیر نے پہلے کی طرح ہی آنکھیں بند کروائیں اور جب کھولیں تو وہ مکہ معظمہ میں تھے ۔
فقیر نے حسن کو نصیحت کی کہ یہ معاملہ شیخ نجم الدین یا کسی اور کے سامنے بالکل بیان نہ کرنا ۔
حسن جب شیخ نجم الدین کے پاس گیا تو آپ نے پوچھا: تم اتنے دن کہاں غائب رہے ؟
کہنے لگا: حضرت ، نہ پوچھیے !
لیکن جب انھوں نے اصرار کیا تو مجبوراً بیان کرنا پڑا ۔
اب شیخ کہنے لگے: مجھے وہ شخص دکھاؤ ! ( جو تمھیں پلکجھپکنے میں اتنی دور لے گیا ، اور لے بھی آیا ۔)
حسن اُنھیں لے کر رات کے وقت ( حرم کعبہ میں ) آیا ۔
جب وہ فقیر حسب عادت آیا اور ان کے پاس سے گزرنے لگا تو حسن نے کہا: یاسیدی ! یہ ہے وہ شخص ۔
یہ بات فقیر نے سن لی اور اس نے حسن کے منھ پر ہاتھ مار کر کہا:
چپ ہوجا ، خدا تجھے خاموش کرے !
اتنا کہنا تھا کہ حسن گونگا ہوگیا ، اور اس کی عقلجاتی رہی ۔
پھر وہ اسی حال میں حرم پاک میں رہتا تھا اور دن رات بغیر وضو کے ہی طواف کرتا رہتا اور اسے نماز کا کوئی ہوش نہ رہا ۔
(تحفۃ النظار فی غرائب الامصار وعجائب الاسفار ، ج1 ، ص 171 ، 172 ، ط داراحیاءالعلومبیروت ، س 1407ھ )
1 رجالالغیب ایک مخلوق ہے جسے اللہ کریم نے بڑے مرتبے سے نوازا ہے ، اگر خوش قسمتی سے کسی کی ان سے ملاقات ہوجائے تو اسے غنیمت سمجھنا چاہیےاور ان کی اجازت کے بغیر ان کے معاملات کو کسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہیے ۔
2 مکہمکرمہاور مدینہ منورہ میں رجالالغیب بکثرت حاضری دیتے ہیں ، وہاں ہر ایک کا احترام کرنا چاہیے کسی کے ساتھ جھگڑنا نہیں چاہیے ، کیا معلوم جسے آپ بداخلاق ہوٹلوالا سمجھ رہے ہوں ، یا غبار سے اٹا صفائی کرنے والا نظر آرہا ہو وہ انھی میں سے ہو ۔
( نوٹ: بعض باتیں خاص قسم کی ہوتی ہیں جنھیں مخصوص لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ )
خاکِ راہِ حجاز
✍️ لقمان شاہد
23-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid08SEEjgduypkgP4MXJfS1nyBKvR7UNicNsqVFpzKr93gSeYBiSsjZpAgBp1HPq7Dil&id=100008105947430
❤1👍1
آقا و مولا ﷻ نے اپنے بندے کو پھر اذنِ حاضری عطا فرمایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ان شاءاللہ آج رات رسولِ پاک ﷺ کے مقدس شہر مکہ مکرمہ کی طرف روانگی ہو گی ، اور ایمان و محبت کے ساتھ بیت اللہ شریف کا دیدار نصیب ہوگا ۔ اللہ اللہ 😥😥
کب کوئی درِ شاہ پہ تدبیر سے پہنچا
پہنچا تو فقط خوبیِ تقدیر سے پہنچا
احباب دعا فرمادیں کہ لمحہ بھر کی بھی غفلت نہ ہو ، دل اپنے پاک پروردگار کی یاد سے معمور رہے !
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02nLX3BCSKYKK5ytPb7yNS462mmVELRfu5k9cqcHUfWjN6RUiTLzmWhcJB88gMRizbl&id=100008105947430
کب کوئی درِ شاہ پہ تدبیر سے پہنچا
پہنچا تو فقط خوبیِ تقدیر سے پہنچا
احباب دعا فرمادیں کہ لمحہ بھر کی بھی غفلت نہ ہو ، دل اپنے پاک پروردگار کی یاد سے معمور رہے !
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02nLX3BCSKYKK5ytPb7yNS462mmVELRfu5k9cqcHUfWjN6RUiTLzmWhcJB88gMRizbl&id=100008105947430
❤2👍1
اللہ پاک مجھے اور آپ کو بار بار بیت اللہ شریف کی زیارت نصیب فرمائے !
آپ جب مکہ مکرمہ میں حاضرہونا چاہیں تو امام حسن بصری تابعی رحمہ اللہ کا یہ رسالہ ضرور پڑھ لیں ۔
یہ ایک خط ہے جو آپ نے اپنے بہت ہی پیارے دوست حضرت عبدالرحمان بن انس رحمہ اللہ کو لکھا تھا ۔
حضرت عبدالرحمان مکہ پاک میں رہتے تھے ، انھوں نے مکہ شریف چھوڑنے کا ارادہ کیا تو امام حسن بصری نے انھیں لکھا کہ:
اے بھائی ! اللہ تیری عمر دراز کرے ، مجھے خبر ملی ہے کہ تُو امن کی جگہ حرم الہی سے یمن کی طرف جانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔
اللہ کی قسم ! مجھے یہ بہت برا لگا ہے ، اور میں بڑا غمگین ہوا ہوں ؛ مجھے تیرے اس فیصلے سے بڑی وحشت ہوئی ۔۔۔۔ یہ حرمِ الہی سے تجھے شیطان دور کرنا چاہتا ہے ۔
پھر آپ نے مکہ پاک زادھا اللہ شرفا کے اس طرح خصائص و فضائل بیان کیے کہ سبحان اللہ !
یہ رسالہ بار بار پڑھنے والا ہے ، ان شاءاللہ آج میرا ہم سفر بھی یہی رسالہ ہوگا ۔
علماے کرام متن سے استفادہ کریں ، اور دیگر احباب کے لیے اس کا اردو ترجمہ جو حضرت مولانا محمد راشد مدنی حفظہ اللہ نے کیا ہے وہ مفید رہے گا ، ماشاءاللہ خوب صورت ترجمہ ہے ۔
خاک راہ حجاز
✍️ لقمان شاہد
24-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02n9VG5VZywGoJyXbcoPwf1ePkv4gsPnwaCTWqLfyfDPifptmbokZpKrCA5VMyETxAl&id=100008105947430
آپ جب مکہ مکرمہ میں حاضرہونا چاہیں تو امام حسن بصری تابعی رحمہ اللہ کا یہ رسالہ ضرور پڑھ لیں ۔
یہ ایک خط ہے جو آپ نے اپنے بہت ہی پیارے دوست حضرت عبدالرحمان بن انس رحمہ اللہ کو لکھا تھا ۔
حضرت عبدالرحمان مکہ پاک میں رہتے تھے ، انھوں نے مکہ شریف چھوڑنے کا ارادہ کیا تو امام حسن بصری نے انھیں لکھا کہ:
اے بھائی ! اللہ تیری عمر دراز کرے ، مجھے خبر ملی ہے کہ تُو امن کی جگہ حرم الہی سے یمن کی طرف جانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔
اللہ کی قسم ! مجھے یہ بہت برا لگا ہے ، اور میں بڑا غمگین ہوا ہوں ؛ مجھے تیرے اس فیصلے سے بڑی وحشت ہوئی ۔۔۔۔ یہ حرمِ الہی سے تجھے شیطان دور کرنا چاہتا ہے ۔
پھر آپ نے مکہ پاک زادھا اللہ شرفا کے اس طرح خصائص و فضائل بیان کیے کہ سبحان اللہ !
یہ رسالہ بار بار پڑھنے والا ہے ، ان شاءاللہ آج میرا ہم سفر بھی یہی رسالہ ہوگا ۔
علماے کرام متن سے استفادہ کریں ، اور دیگر احباب کے لیے اس کا اردو ترجمہ جو حضرت مولانا محمد راشد مدنی حفظہ اللہ نے کیا ہے وہ مفید رہے گا ، ماشاءاللہ خوب صورت ترجمہ ہے ۔
خاک راہ حجاز
✍️ لقمان شاہد
24-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02n9VG5VZywGoJyXbcoPwf1ePkv4gsPnwaCTWqLfyfDPifptmbokZpKrCA5VMyETxAl&id=100008105947430
❤1👍1
مکہ معظمہ وہ پیارا شہر ہے جسے اللہ کریم ﷻ نے کثیر انبیا کا جاے سکونت اور سید الانبیا کا جاے ولادت بنایا ۔
اللہ کے حبیب اس شہر کی گلیوں میں چلتے پھرتے رہے ، آپ ﷺ کی حیاتِ ظاہری کے اکثر ماہ و سال اِسی شہر میں گزرے ۔
اکثر ائمہ و علما ( بشمول ائمہ ثلاثہ: امام اعظم ، امام شافعی و امام احمد رضی اللہ عن جمیعھم ) کے نزدیک مکہ معظمہ سب شہروں سے افضل ہے حتی کہ مدینہ پاک سے بھی افضل ہے ۔
امام احمد رضا حنفی نوراللہ مرقدہ فرماتےہیں:
تُربت اطہر یعنی وہ زمین کہ ( رسول اللہ ﷺ کے ) جسمِ انور سے متصل ہے ، کعبہ معظمہ ۔۔۔۔۔۔ بلکہ عرش سے بھی افضل ہے ۔
باقی مزار شریف کا بالائی حصہ ( یعنی گنبد خضرا شریف فضیلت کے اعتبار سے ) اس میں داخل نہیں ۔
کعبہ معظمہ مدینہ طیبہ سے افضل ہے !
ہاں اس میں اختلاف ہے کہ:
مدینہ طیبہ سوائے موضع تُربتِ اَطہر ، اور مکہ معظمہ سوائے کعبہ مکرمہ ، ان دونوں میں کون افضل ہے ؟
اکثر جانب ثانی ہیں ( کہ مکہ پاک ہی افضل ہے ) اور اپنا مسلک اول ( کہ مدینہ طیبہ افضل ہے ) اور یہی مذہب فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے ، طبرانی کی حدیث میں تصریح ہے کہ:
المدینۃ افضل من مکۃ ۔
مدینہ پاک ، مکہ شریف سے افضل ہے ۔
( فتاوی رضویہ شریف )
اللہ پاک ہمیں حرمین طیبین میں جہاں بھی رکھے ، ایمان و محبت کی سلامتی کے ساتھ رکھے ، اور ہمیشہ اِن کا احترام کرتے رہنے کی توفیق بخشے !
✍️لقمان شاہد
25-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid058g5JCqDctpU9AFsr4Crx4Vdv4ncJ4syYABY9SNmF2UiVV113mpVzCWC7uKn98DCl&id=100008105947430
اللہ کے حبیب اس شہر کی گلیوں میں چلتے پھرتے رہے ، آپ ﷺ کی حیاتِ ظاہری کے اکثر ماہ و سال اِسی شہر میں گزرے ۔
اکثر ائمہ و علما ( بشمول ائمہ ثلاثہ: امام اعظم ، امام شافعی و امام احمد رضی اللہ عن جمیعھم ) کے نزدیک مکہ معظمہ سب شہروں سے افضل ہے حتی کہ مدینہ پاک سے بھی افضل ہے ۔
امام احمد رضا حنفی نوراللہ مرقدہ فرماتےہیں:
تُربت اطہر یعنی وہ زمین کہ ( رسول اللہ ﷺ کے ) جسمِ انور سے متصل ہے ، کعبہ معظمہ ۔۔۔۔۔۔ بلکہ عرش سے بھی افضل ہے ۔
باقی مزار شریف کا بالائی حصہ ( یعنی گنبد خضرا شریف فضیلت کے اعتبار سے ) اس میں داخل نہیں ۔
کعبہ معظمہ مدینہ طیبہ سے افضل ہے !
ہاں اس میں اختلاف ہے کہ:
مدینہ طیبہ سوائے موضع تُربتِ اَطہر ، اور مکہ معظمہ سوائے کعبہ مکرمہ ، ان دونوں میں کون افضل ہے ؟
اکثر جانب ثانی ہیں ( کہ مکہ پاک ہی افضل ہے ) اور اپنا مسلک اول ( کہ مدینہ طیبہ افضل ہے ) اور یہی مذہب فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے ، طبرانی کی حدیث میں تصریح ہے کہ:
المدینۃ افضل من مکۃ ۔
مدینہ پاک ، مکہ شریف سے افضل ہے ۔
( فتاوی رضویہ شریف )
اللہ پاک ہمیں حرمین طیبین میں جہاں بھی رکھے ، ایمان و محبت کی سلامتی کے ساتھ رکھے ، اور ہمیشہ اِن کا احترام کرتے رہنے کی توفیق بخشے !
✍️لقمان شاہد
25-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid058g5JCqDctpU9AFsr4Crx4Vdv4ncJ4syYABY9SNmF2UiVV113mpVzCWC7uKn98DCl&id=100008105947430
❤1👍1