🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-10-1443 ᴴ | 01-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-10-1443 ᴴ | 01-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
*🔹عورتوں سے سرکاری نوکری کروانا کیسا ہے🔹*

السلام علیکم
کیا فرماتے ہیں علماے اہل سنت اس مسلہ میں کہ عورتوں سے سرکاری نوکری کروانا کیسا ہے
اور اگر کوٸ عالم دین اپنی بیوی سے اسکول میں نوکری کرواے تو انکے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں مدلل و مفصل جواب عنایت فرمایں
طالب دعا محمد نوشاد علی قادری خورشیدی شیوہر
ا________🔹💙🔹_______
*وعلکیم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ*
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*الجواب بعون الملک الوہاب؛*
صورت مسؤلہ میں عورت کو نوکری کرنے کیلئے پانچ شرطوں کی پابندی ضروری ہے ان میں ایک بھی شرط مفقود ہو تو غیر محرم کے ساتھ نوکری کرنا حرام و گناہ ہے وہ شرطیں فتاوی رضویہ کے الفاظ میں یہ ہیں؛؛

(۱) کپڑے باریک نہ ہوں جن سے سر کے نال یا کلائی وغیرہ ستر کا کوئی حصہ چمکے؛؛
(۲) کپڑے تنگ و چست نہ ہوں جو بدن کی ہیئات ظاہر کریں؛؛
(۳) بالوں یا گلے یا پیٹ یا کلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہوتا ہو؛؛
(۴) کبھی غیر محرم کے ساتھ خفیف دیر کیلئے بھی تنہائی نہ ہوتی ہو؛؛
(۵) اس کے وہاں رہنے یا باہر آنے جانے میں کوئی مظنۂ فتنہ نہ ہو؛؛

پانچوں شرطیں اگر جمع ہیں تو کوئی حرج نہیں؛؛ اور ان میں ایک بھی کم ہے تو حرام ہے؛؛ پھر اگر عالم صاحب اس پر راضی ہے یا بقدر قدرت بند و بست نہیں کرتا تو ضرور اس پر بھی الزام ہے؛
*(قال اللہ تعالی؛؛ ولا تزروازۃ وزراخری ھ۱)*
*(📚فتاوی رضویہ شريف*
*جلد نہم نصف آخر ص 252)*

لھذا ساڑی بلاؤز یا باریک بے پردہ کپڑے پہنکر غیر محارم کے ساتھ ڈیوٹی کرنا سخت حرام و گناہ ہے؛
صورت مستفسرہ میں عرض یہ ھیکہ فی زمانہ مذکورہ بالا پانچ شرطوں پر عورت کو پابند ہونا مشکل امر ہے لھذا عالم صاحب پر لازم ہے کہ بقدر قدرت روکیں ورنہ خود بھی گنہگار ہونگے؛؛ اور اس عالم کی اقتداء میں نماز پڑھنی مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی ؛؛ واللہ اعلم بالصواب
*(📚فتاوی مرکز تربیت افتاء*
*جلد دوم ص 450/449)*
ا________((💙))__________
*کتبـــــہ؛*
ابوالصدف محمد صادق رضا
خطیب وامام شاھی جامع مسجد پٹنہ بہار الھند؛*🔹**بتاریخ؛1/10/ 2018)*
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰ فیضان سرور مصباحی ✰)
ٹخنے کے نیچے کپڑا لٹکانے کا مسئلہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
سوال یہ ہے کہ کیا ٹخنوں کے نیچے لنگی یا پاجاما ھو تو کیا نماز ھوگی یا نہیں حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔
سائل : عبد السلام
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب : اگر بطور تکبر یا بطور فیشن نیچے ہے تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے ورنہ مکروہ تنزیہی اور یہ بھی تب جب کہ کپڑا پاشنہ یعنی ایڑی کی جانب نیچے ہو لیکن اگر پیچھے ٹخنوں سے اوپر ہو مگر آگے انگلیوں کی طرف نیچے پیر پر ہو تو کوئی کراہت نہیں ۔

مجدد ملت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان حنفی متوفی ١٣٤٠ھ علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں :
ازار کا گٹوں سے نیچے رکھنا اگر برائے تکبر ہو حرام ہے اور اس صورت میں نماز مکروہ تحریمی ورنہ صرف مکروہ تنزیہی، اور نماز میں بھی اس کی غایت اولی (فتاوی رضویہ، ج٧، ص٣٨٨، مسئلہ ١٠١٩)
نیز فرماتے ہیں :
بالجملہ اسبال اگر براہ عجب و تکبر ہے حرام ورنہ مکروہ اور خلاف اولٰی، نہ حرام مستحق وعید، اور یہ بھی اسی صورت میں ہے کہ پائچے جانب پاشنہ نیچے ہوں، اور اگر اس طرف کعبین سے بلند ہیں گو پنجہ کی جانب پشت پا پر ہوں ہر گز کچھ مضائقہ نہیں۔ اس طرح کا لٹکانا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بلکہ خود حضور سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت ہے (ایضاً، ج٢٢، ص١٦٧، مسئلہ ٢٨)

شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی حنفی متوفی ١٤٢١ھ علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں :
ٹخنے سے نیچے اگر پائجامہ یا تہبند تکبراً ہے تو حرام وگناہ ہے اور اس کا مرتکب فاسق معلن ، اس سے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے جس کا دہرانا واجب ہے۔
اور اگر بطور فیشن ہے تو بھی یہی حکم ہے کہ یہ فساق کی وضع ہےاور فساق کی وضع اختیار کرنا حرام۔ اور آج کل ٹخنے سے نیچے پائجامہ رکھنے والے اسی قسم کے ہیں خواہ وہ عالم کہلائیں یا حافظ یا امام۔ اللہ تعالی مسلمانوں کی حفاظت فرمائے ۔اور اگر یہ صورت ہے کہ وہ پائجامہ یا تہبند باندھتا ہے ٹخنوں کے اوپر ، لیکن پھر وہ از خود سرک کر بلا قصد واختیار نیچے ہو جاتا ہے تو معاف ہے (فتاوی جامعہ اشرفیہ، ج٥، ص٧٠١) واللہ تعالٰی اعلم.
کتبہ :
عزیز مصباحی
١٠ ؍ شعبان ۱۴۴۳ھ
👍21
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-10-1443 ᴴ | 01-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-11-1443 ᴴ | 02-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-11-1443 ᴴ | 02-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-11-1443 ᴴ | 02-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1