🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🐾🐾 دیوبندی چڑیا گھر 🐾🐾

سگ مدینہ کہنے پر اعتراض کرنے والوں کے لئے غور کا مقام

1) اشرف علی تھانوی:
میں تو اپنے کو کتوں اور سوروں سے بھی بدتر سمجھتا ہوں اگر کسی کو یقین نہ ہو تو میں اس پر حلف اٹھا سکتا ہوں. (اشرف السوانح،جلد سوم چہارم، ص57)

2) یعقوب نانوتوی:
یہ شیخ زادہ کی قوم بڑی خبیث ہے پھر بےساختہ فرمایا کہ میں بھی خبیث ہوں. (ملفوظات حکیم الامت، جلد 6، ص 300)

3)مسیح الدیوبند:
فرمایا میں تو خنزیر سے بھی حقیر ہوں. (فیضان معرفت، جلد 1، ص 77)

4) حسین احمد ٹانڈوی:
میں اتنا بڑا پیٹ کا کتّا ہوں کہ دینی خدمات دنیا کے بدلہ میں کرتا ہوں (آداب الاختلاف، ص 174)

5) خلیل احمد انبیٹھوی:
میں اپنے آپ کو آپ (گنگوہی) کی روٹیوں پر پلنے والے کتے سے بھی بدتر سمجھتا ہوں. (اکابر کا مقام تواضع، ص168)

6) فضل علی قریشی:
میں تو اس در (خانقاہ موسی زئی) کا کتا ہوں مجھے جوتوں کے قریب بیٹھنا چاہیے. (اکابر کا مقام تواضع، ص 189)

7) عبدالعفور مدنی:
حضرت یہ لوگ مجھے پہچانتے ہیں اس لئے گدھا کہتے ہیں. (اکابر کا مقام تواضع، ص355)

8) قاسم نانوتوی:
امیدوں لاکھوں ہیں میری مگر بڑی ہے یہ
کہ ہو سگان مدینہ میں میرا نام شمار
جیوں تو ساتھ سگان حرم کے تیرے پھروں
مروں تو کھائیں مدینے کے مجھ کو مرغ ومار
(قصائد قاسمی، 5)

بانی فرقہ دیوبند کہتے ہیں یوں تو لاکھوں خواہشیں ہیں لیکن سب سے بڑی یہ خواہش ہے کہ میں گنتی مدینے کے کتوں میں ہو، کتوں کے ساتھ جیوں اور پھروں اور مر جاؤں تو مدینے کے مرغ اور چیونٹیاں مجھ کو کھا جائیں

تبصرہ : بانی دیوبند کی یہ خواہش تو پوری نہیں ہوئی البتہ انہوں نے عقیدہ ختم نبوت پر ڈاکہ ڈال کر خود کو جھنمی مرغ و مار کے حوالے کر دیا.

▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@Fmfoundation 🆔 @WahabiExposed
🆔 @RaddeWahabiyat 🆔 @Jawabat
@SharayiAdalatChannelFMfoundation
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
1
🌹 بَینک BANK کا منافع مباح ہے 🌹

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَ رَحْمَةُ اَللهِ و َبَرَكاتُهُ‎ ❗️
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام
مندرجہ مسئلہ ذیل کے بارے میں وہ یہ کہ

ایل آئی سی ( L I C ) یعنی جیون بیمہ اور بینک میں جو جمع فنڈ پر نفع ملتا ہے جیسا کہ کوٸی ایک لاکھ روپیہ جمع کرتا ہے تو اسے ایک سال کے بعد میں مثال کے طور پر پانچ ہزار روپیہ بینک نفع دیتی ہے اسی طرح ( LIC ) جنکے نام سے ہوتا ہے پانچ سال اور ایک سال یا پھر چھ ماہ چلاتا ہے اور اسکا انتقال ہوجاتا ہے تو اسکے گھر والوں کو پانچ سال کا پورا پیسہ ملتا ہے توکیا یہ لینا شریعت کے مطابق جاٸز ہے یا نہیں ؟ برائے کرم جواب عنایت فرمائیں ❗️
➻═════════════➻
الجواب ھو الموفق للحق و الصواب ❗️
ایل آئی سی اور کفّار بینک کا منافع شرعًا سود نہیں اس لیے اسکا لینا اور ہر جائز کام میں صرف کرنا درست ہے !

یاد رہے یہاں کے کافر حربی ہیں اور کافر حربی اور مسلم کے درمیان سود نہیں ہوتا انکا مال معصوم نہیں ہے !

البتہ کفّار سے بد عہدی یا وعدہ خلافی کا ارتکاب ہوتا ہو یا مسلم کی آبرو ریزی کا خطرہ ہو تو انکا بھی مال مباح نہیں !

حدیث شریف میں ہے :
لا ربا بین المسلم و الکافر الحربی

اسلئے أن سےحاصل شدہ رقم جائز و مباح ہے

ھذا ما ظهر لی والعلم عند اللہ

📝حضرت مفتی منظور احمد یارعلوی
دارالعلوم برکاتیہ گلشن نگر جوگیشوری
ممبئی الہند📱+919869391389 📱

الجواب صحیح
العبد الاثیم ابو الفیض سید
شمس الحق برکاتی مصباحی ❗️
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@Fmfoundation 🆔 @WahabiExposed
🆔 @RaddeWahabiyat 🆔 @Jawabat
@SharayiAdalatChannelFMfoundation
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
بَینک Bank سے لُون لینا کیسا ہے ؟
مفتیان کرام کی بارگاہِ میں عرض ہے کہ :
مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں بڑا کرم ہوگا
المستفتی : محمد مجسم القادری
➻═════════════➻
الجواب اولاً تو کافروں کی تین قسمیں ہیں 1 ذمی – 2 مستامن اور 3 حربی = ذمی وه کافر ہیں جو دارالاسلام میں رہتے ہوں اور بادشاهِ اسلام نے ان کی جان و مال کی حفاظت اپنے ذمے لیا ہو اور مستامن وه کافر ہیں کہ کچھ دنوں کے لیے امان لے کر دارالاسلام میں اگئے ہوں

اور ظاہر ہے کہ ہندوستان کے کفار نہ تو ذمی ہیں اور نا مستامن بلکہ وه تیسری قسم یعنی کافر حربی ہیں جیسا کہ رئیس الفقها حضرت ملا جیون رحمة الله علیہ تحریر فرماتے ہیں " ان هم الاحربى وما يعقلها الا العالمون " (تفسیرات احمدیه ص300 )

اور یہاں ہندوستان میں حکومت کافروں کی ہے ۔ اور مسلمان و کافر کے درمیان سود نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے "لا ربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب"

اور دار الحرب کی قید واقعی ہے نہ کہ احترازی لهذا یہاں کی حکومت کے بینکوں سے نفع لینا جائز ہے لیکن اس کو دینا جائز نہیں ہاں اگر تھوڑا نفع دینے میں اپنا نفع زیاده ہو تو جائز ہے ۔ جیسا کہ ردالمحتار میں ہے " الظاھر ان الاباحة یفید نیل المسلم الزیادة وقد الزم الاصحاب فی الدرس ان مرادھم من حل الربا و القمار ما اذا حصلت الزیادة للمسلم " (ردالمحتار، ج 4 ص 188)

لہذا بینک یا کسی کمپنی سے لون لیکر اپنا بِزنس چلانا اس وقت جائز ہے جبکہ اسکی ضرورت ہو یا اسکی حاجت ہو کہ بغیر اسکے کام نہیں چلے گا یا چلے گا لیکن بہت دشواری سے چلےگا اور یہ صورت حاجت شدیده کی ہے اور اس میں نفع مسلم بھی زیاده ہے تو جائز ہے ۔

حضور مفتئ اعظم ہند علیه الرحمه بھی بینک Bank سے لون لینے کی اجازت اس میں مسلمانوں کو نفع کثیر ہونے کی بنا پر دیتے تھے لیکن یہ اجازت مطلقاً نہیں ہے یہ اس طور پر مشروط ہے کہ جس کام کے لیے لون لے رہا ہے یہ اسکی شرعی ضرورت ہو کہ اسکے بغیر کوئی چارا نہ ہو یا ہو کہ کام تو چل جائےگا لیکن بہت مشقت سے چلےگا ۔
اور لیتے وقت اسے پُورا اعتماد ہو کہ مدت مقرره میں قِسطیں ادا کر دیگا تو جائز ہے۔ کہ اس میں بینک کا تھوڑا فائده ہے لیکن مسلمانوں کا نفع زیادہ ہے ۔

اسی طرح فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے کہ " گورنمنٹ کے بینک فاضل مال دینے کی شرط پر قرض لیا تو یہ اس شرط پر ہے کہ بینک کو جو زائد رقم سود دینی پڑتی ہے اس زائد رقم کے برابر یا اس سے زیاده نفع کا حصول یقینی طور پر معلوم ہو جب تو فاضل مال دینے کی شرط پر قرض لینا جائز ہے ورنہ ناجائز " (فتاوی مرکز تربیت افتاء ج 2 )

اور بہار شریعت میں ہے " کہ اگر اس طرح بھی قرض نہ مِل سکے تو صحیح شرعی مجبوری کی صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے " (بہار شریعت ح 11 )

اور الاشباه میں ہے "فى القنية و البغية يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح " ( الاشباه والنظائر ص92 )

اور سرکارِ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیه الرحمه تحریر فرماتے ہیں " سود دینے والا اگر حقیقةً صحیح شرعی مجبوری کے سبب دیتا ہے اس پر الزام نہیں در مختار میں ہے " یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح " اور اگر بلا مجبوری شرعی سود لیتا ہے مثلاً تجارت بڑھانے یا جائداد میں اضافہ کرنے یا محل اونچا بنوانے یا اولاد کی شادی میں بہت کچھ لگانے کے واسطے سودی قرض لیتا ہے تو وه بھی سود کھانے والے کے مثل ہے " (فتاوی رضویہ ج 3 ص 243 )

اور ایسا ہی فتاویٰ فیض الرسول ج² میں ہے

واللہ اعلم بالصواب کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ
برج جوگیشوری ممبئی +917666456313
شائع کردہ : ← ایف ایم FM فاؤنڈیشن
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@Fmfoundation 🆔 @WahabiExposed
🆔 @RaddeWahabiyat 🆔 @Jawabat
@SharayiAdalatChannelFMfoundation
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ
اور دھوبی کا جھوٹا واقعہ ‼️

بیان کیا جاتا ہے کہ حضور غوث پاک علیہ الرحمہ کا ایک دھوبی تھا، جب اس کا انتقال ہوا تو قبر میں فرشتوں نے اس سے سوال کیے جیسا کہ سب سے کرتے ہیں- اس نے ہر سوال کے جواب میں کہا کہ "میں غوث پاک کا دھوبی ہوں" اور اسے بخش دیا گیا-

اس روایت کے متعلق فقیہ ملت، حضرت علامہ مفتی محمد جلال الدین احمد امجدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ روایت بے اصل ہے- اس کا بیان کرنا درست نہیں لہذا جس نے اسے بیان کیا وہ اس سے رجوع کرے اور آئندہ اس روایت کے نہ بیان کرنے کا عہد کرے، اگر وہ ایسا نہ کرے تو کسی معتمد کتاب سے اس روایت کو ثابت کرے-

(انظر: فتاوی فقیہ ملت، کتاب الشتی، ج2، ص411، ط شبیر برادرز لاہور، س2005ء)

شارح بخاری، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ حکایت نہ مَیں نے کسی کتاب میں دیکھی ہے اور نہ کسی سے سنی ہے- احادیث میں تصریح ہے کہ اگر (مرنے والا) مومن ہوتا ہے تو قبر کے تینوں بنیادی سوالوں کا جواب دے دیتا ہے، منافق یا کافر ہوتا ہے تو یہ کہتا ہے کہ ہاے ہاے میں نہیں جانتا لہذا یہ روایت حدیث کے خلاف ہے مگر یہ بات حق ہے کہ حضرات اولیاے کرام، ائمۂ دین، بزرگان دین اپنے مریدین، معتقدین اور متعلقین کی قبروں میں نکیرین کے سوالات کے وقت تشریف لاتے ہیں اور جواب میں آسانی پیدا کرتے ہیں-

(ملخصاً و ملتقطاً: فتاوی شارح بخاری، کتاب العقائد، ج2، ص125، ط دائرۃ البرکات گھوسی، س1433ھ)

مفتی اعظم ہالینڈ، حضرت علامہ مفتی عبد الواجد قادری رحمہ اللہ مذکورہ روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ غالباً یہی واقعہ یا اس کے مثل "تفریح الخاطر" میں ہے لیکن اس کے بیان میں تحقیق ضروری ہے- یوں ہی مبہم طور پر بلا توضیح کے بیان کرنا خلاف احتیاط ہے جس سے بچنا ضروری ہے-

(انظر: فتاوی یورپ، کتاب الصلوٰۃ، ص220)

حضرت مولانا محمد اجمل عطاری صاحب اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فقیہ ملت کا قول بیان کرتے ہیں کہ روایت مذکورہ بے اصل ہے- اس کا بیان کرنا درست نہیں لہذا جس نے اسے بیان کیا وہ اس سے رجوع کرے.... الخ

(انظر: امام الاولیاء، ص70، ط مکتبہ اعلی حضرت لاہور، س1433ھ)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa عبد مصطفی
Channel @AbdeMustafaOfficial
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
کیا حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ
اور سرکار غریب نواز رضی اللہ عنہ
دونوں بزرگوں کی ملاقات ہُوئی ہے؟
➻════════════➻
چند غیر معتبر کتابوں میں اس طرح کے واقعات درج ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور غوث اعظم اور سرکار غریب نواز اجمیری علیہم الرحمہ کی ملاقات ہوئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں بزرگوں کی ملاقات ثابت نہیں - اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضور شارح بخاری، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :

اس پر سارے مؤرخین کا اتفاق ہے کہ سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وِصال 561ھ میں ہوا ہے، اس پر بھی قریب قریب اتفاق ہے کہ حضرت غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت 537ھ میں ہوئی اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ حضرت غریب نواز نے 15 سال کی عمر سے علمِ ظاہری کے حصول کے لیے سفر کیا - ایک مدت تک آپ سمرقند و بخارا میں عِلم حاصل کرتے رہے- علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد مرشد کی تلاش میں نکلے پھر بیس سال تک مرشد کی خدمت میں حاضر رہے- بیس سال کے بعد خلافت سے سرفراز فرمائے گئے پھر مدینۂ منورہ میں حاضر ہوئے اور سرکارِ اعظم ﷺ نے ہندوستان کی وِلایت عطا فرمائی-

اب حساب لگائیں کہ 15 سال کی عمر تک حضرت غریب نواز اپنے وطن میں رہے اور بیس سال تک علمِ ظاہر طلب فرماتے رہے تو یہ (15+20) 35 سال ہو گئے- 537ھ میں ولادت ہوئی، 35 سال تک علم ظاہر کی طلب میں رہے (537+35) یعنی 572ھ مِیں آپ نے عراق کا رخ کیا جب کہ سرکار غوث اعظم کا وِصال 561ھ میں ہو چکا تھا یعنی حضرت خواجہ اجمیری نے جب عراق کا رخ کیا اس سے 11 سال پہلے حضور غوث پاک کا وصال ہو چکا تھا پھر ملاقات کیسے ہوئی ؟

(ملخصاً و ملتقطاً : فتاویٰ شارح بخاری، ج2، ص128 تا 131، ط دائرۃ البرکات گھوسی، س1433ھ)

مذکورہ تفصیل سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ سرکار غوث اعظم اور سرکار غریب نواز اجمیری علیھم الرحمہ کی ملاقات ثابت نہیں -
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa عبد مصطفی
Channel @AbdeMustafaOfficial
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
تفریح الخاطر میں ایک جھوٹی روایت
➻════════════➻
مشہور کتاب تفریح الخاطر میں حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی نسبت سے یہ روایت داخل ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک خادم فوت ہو گیا- اس کی بیوی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آہ و زاری کرنے لگی- اس نے آپ سے اپنے شوہر کو زندہ کرنے کی التجا کی- آپ نے علمِ باطن سے دیکھا کہ ملک الموت اس دن قبض کی گئی تمام روحوں کو لے کر آسمان پر جا رہے ہیں- آپ نے اسے روکا اور کہا کہ میرے خادم کی روح واپس کر دو تو ملک الموت نے یہ کَہ کر منع کر دیا کہ میں نے یہ روحیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے قبض کی ہیں-

جب ملک الموت نے روح واپس نہیں کی تو آپ نے اس سے روحوں کی ٹوکری (جس میں اس دن قبض کی گئی تمام روحیں تھیں، وہ) چھین لی! اس سے ہوا یہ کہ جتنی روحیں تھیں وہ سب اپنے اپنے جسموں میں واپس چلی گئیں-
ملک الموت نے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کی : مولا تُو تو جانتا ہے جو تکرار آج میرے اور عبد القادر کے درمیان ہوئی، اس نے تمام ارواح چھین لیں-
اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے ملک الموت بے شک عبد القادر میرا محبوب ہے- تو نے اس کے خادم کی روح کو واپس کیوں نہیں کیا ؟ اگر ایک روح کو واپس کر دیتے تو اتنی روحیں اپنے ہاتھوں سے دے کر پریشان نہ ہوتے-

(ملخصاً : تفریح الخاطر فی مناقب الشیخ عبد القادر، المنقبۃ الثامنۃ، ص68، ط قادری رضوی کتب خانہ لاہور)

اسی روایت کے بارے میں امام اہل سنت، سرکارِ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا گیا، بس فرق اتنا ہے کہ یہاں خادم کی بیوی کا ذِکر ہے اور سوال میں خادم کے بیٹے کا- سوال میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جب ملک الموت نے روح واپس کرنے سے انکار کیا تو حضور غوث پاک نے انھیں ایک تھپّڑ مارا جس کی وجہ سے ملک الموت کی آنکھ باہر نکل گئی!

سرکارِ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ یہ روایت ابلیس کی گڑھی ہُوئی ہے اور اس کا پڑھنا اور سُننا دونوں حرام ! احمق، جاہل، بے ادب یہ سمجھتا ہے کہ (اس روایت کو بیان کر کے) حضرت غوث اعظم کی تعظیم کرتا ہے حالانکہ وہ حضور کی سخت توہین کر رہا ہے-

(انظر: فتاویٰ رضویہ، ج29، ص630، ط رضا فاؤنڈیشن لاہور، س1426ھ)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa عبد مصطفی
Channel @AbdeMustafaOfficial
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
1
¹² بارہ سال پہلے ڈوبی ہُوئی بارات !!
غوث الاعظم کی طرف منسوب واقعہ
➻════════════➻
چند کتابوں میں حضور غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک کرامت کا ذِکر ملتا ہے کہ آپ نے بارہ سال پہلے ڈوبی ہوئی بارات کو واپس نِکال دِیا- یہ روایت عوام و خواص میں بہت مشہور ہے لہذا مکمل واقعہ لکھنے کی ضرورت نہیں-

اس روایت پر گفتگو کرتے ہوئے خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ سید دیدار علی شاہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی کرامات درجۂ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں جیسا کہ امام یافعی نے لکھا ہے کہ "آپ کی کرامات متواتر یا تواتر کے قریب ہیں اور علماء کے اتفاق سے یہ امر معلوم ہے کہ آپ کی مانند کرامات کا ظہور آپ کے بغیر آفاق کے مشائخ میں سے کسی سے نہیں ہوا" مگر یہ بارات والی روایت کسی معتبر نے نہیں لکھی لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ اس درجے کے نہ تھے- اکثر میلاد خواں (مقررین) واقف نہ ہونے کی وجہ سے مہمل روایات اولیاء و انبیاء کی طرف منسوب کر دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ یہاں غلط ہے تو بھی ان کی تعریف پوری ہم نے کر دی- یہ ثواب کی توقع بھی کرتے ہیں، خیر خدا ان پر رحم کرے -

ہزاروں کرامات اولیاء اللہ علیہم الرحمہ سے اور اصحابِ رسول (صحابۂ کرام) علیہم الرضوان سے ظاہر نہ ہوئیں تو کیا جھوٹی روایت کَہ دینے سے ان کا رُتبہ بڑھ جائے گا ؟ ہرگز نہیں ؛ اصحابِ رسول تمام غوث و قطب و اولیاء سے افضل ہیں اور تحقیق سے ثابت ہے کہ اولیاء اللہ کی کرامات اکثر اصحاب سے زیادہ ہیں- بہر حال یہ روایت کسی معتبر نے نہیں لکھی ہے اور امکان عقلی سے کوئی امر یقینی نہیں ہو سکتی- ہاں جو شخص منکر کرامات غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ہے وہ خطاکار ہو گیا کیوں کہ تواتر سے ثابت ہے-

(ملخصاً : فتاویٰ دیداریہ، صفحہ45)

امام اہل سنت، سرکارِ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ سے جب اس روایت کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اگرچہ یہ روایت نظر سے کسی کتاب میں نہ گزری مگر زبان پر مشہور ہے اور اس میں کوئی امر خلاف شرع نہیں لہذا اس کا انکار نہ کیا جائے-

(انظر: فتاویٰ رضویہ، ج29، ص630، ط رضا فاؤنڈیشن لاہور، س1426ھ)

معلوم ہوا کہ اس روایت کا کوئی معتبر و مستند ماخذ موجود نہیں اور ایک پہلو یہ ہے کہ بہ قول امام اہل سنت اس روایت کا انکار بھی نہ کیا جائے لیکن پھر بھی ہَم کہتے ہیں کہ زیادہ مناسب یہی ہے کہ ایسی روایات کو بیان کرنے سے پرہیز کیا جائے- حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل بیان کرنے کے لیے دیگر صحیح روایات کو شامل بیان کیا جائے-
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa عبد مصطفی
Channel @AbdeMustafaOfficial
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
📖 دعائے گنج العرش مترجم 📖
مکمل دُعا صِرف ایک ہی صفحہ میں
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
کتاب : تذکرۂ علمائے ہندوستان
مولوی محمد حسین بَدایُونی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اِس کتاب سے متعلق معلومات
مفتی ذوالفقار خان نعیمی
ککرالوی دامت برکاتہم الـعَـالِـیَہ
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Ghaus E Aazam Part 01
سرکارِ غوث الاعظم کا نسب شریف !

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا نسب شریف :

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ والد ماجد کی نسبت سے حسنی ہیں سلسلۂ نسب یوں ہے سیّد محی الدین ابو محمد عبدالقادر بن سیّد ابو صالح موسیٰ جنگی دوست بن سیّد ابو عبداللہ بن سیّد یحیٰی بن سید محمد بن سیّد داؤد بن سیّد موسیٰ ثانی بن سیّد عبداللہ بن سیّد موسیٰ جون بن سیّد عبداللہ محض بن سیّد امام حسن مثنیٰ بن سیّد امام حسن بن سیّدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی والدہ ماجدہ کی نسبت سے حسینی سیّد ہیں۔

( حوالہ : بہجۃ الاسرار شریف ،
معدن الانوار ، ذکر نسبه ، ص۱۷۱)

سرکارِ غوثِ اعظم کے والد محترم :

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والد محترم حضرت ابو صالح سیّد موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تھے، آپ کا اسم گرامی ”سیّد موسیٰ“ کنیت ”ابوصالح“ اور لقب ”جنگی دوست“ تھا، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جیلان شریف کے اکابر مشائخ کرام رحمہم اللہ میں سے تھے۔

سرکارِ غوث الاعظم کے آباء و اجداد :

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا خاندان صالحین کا گھرانا تھا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نانا جان، دادا جان، والد ماجد، والدہ محترمہ، پھوپھی جان، بھائی اور صاحبزادگان سب متقی و پرہیزگار تھے، اسی وجہ سے لوگ آپ کے خاندان کو اشراف کا خاندان کہتے تھے۔

سید و عالی نسب در اولیاء است
نورِ چشم مصطفیٰ و مرتضیٰ است
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Join Channel @SirfUrduTahrir
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
Ghaus E Aazam Part 02 ⤵️

سرکارِ غوث الاعظم کے والد محترم
🌹 جنگی دوست لقب کی وجہ ‼️

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا لقب جنگی دوست اس لئے ہوا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خالصۃً اللہ عزوجل کی رضا کے لئے نفس کشی اور ریاضتِ شرعی میں یکتائے زمانہ تھے، نیکی کے کاموں کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے کے لئے مشہور تھے، اس معاملہ میں اپنی جان تک کی بھی پروا نہ کرتے تھے، چنانچہ

ایک دن آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جامع مسجد کو جا رہے تھے کہ خلیفۂ وقت کے چند ملازم شراب کے مٹکے نہایت ہی احتیاط سے سروں پر اٹھائے جا رہے تھے، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جب ان کی طرف دیکھا تو جلال میں آگئے اور ان مٹکوں کو توڑ دیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے رعب اور بزرگی کے سامنے کسی ملازم کو دم مارنے کی جرأت نہ ہوئی تو انہوں نے خلیفۂ وقت کے سامنے واقعہ کا اظہار کیا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلاف خلیفہ کو ابھارا، تو خلیفہ نے کہا : ”سیّد موسیٰ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کو فوراً میرے دربار میں پیش کرو۔‘‘ چنانچہ حضرت سیّد موسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دربار میں تشریف لے آئے خلیفہ اس وقت غیظ وغضب سے کرسی پر بیٹھا تھا، خلیفہ نے للکار کر کہا: ’’آپ کون تھے جنہوں نے میرے ملازمین کی محنت کو رائیگاں کردیا ؟“ حضرت سید موسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ”میں محتسب ہوں اور مَیں نے اپنا فرض منصبی ادا کیا ہے۔‘‘ خلیفہ نے کہا : ”آپ کس کے حکم سے محتسب مقرر کئے گئے ہیں؟” حضرت سید موسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے رعب دار لہجہ میں جواب دیا: “جس کے حکم سے تم حکومت کر رہے ہو۔”

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اس ارشاد پر خلیفہ پر ایسی رقّت طاری ہوئی کہ سر بزانو ہوگیا (یعنی گھٹنوں پرسر رکھ کر بیٹھ گیا) اور تھوڑی دیر کے بعد سر کو اٹھا کر عرض کیا: ’’حضور والا ! امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کے علاوہ مٹکوں کو توڑنے میں کیا حکمت ہے؟” حضرت سید موسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: “تمہارے حال پر شفقت کرتے ہوئے نیز تجھ کو دنیا اور آخرت کی رسوائی اور ذلت سے بچانے کی خاطر۔” خلیفہ پر آپ کی اس حکمت بھری گفتگو کا بہت اثر ہوا اور متاثر ہوکر آپ کی خدمت اقدس میں عرض گزارہوا: “عالیجاہ! آپ میری طرف سے بھی محتسب کے عہدہ پر مامور ہیں۔”

حضرت سید موسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے متوکلانہ انداز میں فرمایا: “جب میں حق تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوں تو پھر مجھے خلق کی طرف سے مامور ہونے کی کیا حاجت ہے۔” اُسی دن سے آپ “جنگی دوست” کے لقب سے مشہور ہوگئے۔

( سيرت غوث الثقلين ص۵۲)
➻════════════➻
سرکارِ غوث الاعظم کے نانا جان :

حضور سیدنا غوث الاعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نانا جان حضرت عبد اللہ صومعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جیلان شریف کے مشائخ میں سے تھے، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت زاہد اور پرہیز گار ہونے کے علاوہ صاحب فضل وکمال بھی تھے، بڑے بڑے مشائخ کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے شرف ملاقات حاصل کیا۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Join Channel : @SirfUrduTahrir
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
Ghaus E Aazam Part 03 ⤵️

سرکارِ غوث الاعظم کی پھوپھی
صاحبہ بھی مستجاب الدعوات تھیں

ایک دفعہ جیلان میں قحط سالی ہوگئی لوگوں نے نماز استسقاء پڑھی لیکن بارش نہ ہوئی تو لوگ آپ کی پھوپھی جان حضرت سیدہ اُم عائشہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا کے گھر آئے اور آپ سے بارش کے لئے دعا کی درخواست کی وہ اپنے گھر کے صحن کی طرف تشریف لائیں اور زمین پر جھاڑو دے کر دعا مانگی : “اے رب العالمین! میں نے تو جھاڑو دے دیا اور اب تو چِھڑکاؤ فرما دے۔” کچھ ہی دیر میں آسمان سے اس قدر بارش ہوئی جیسے مشک کا مُنھ کھول دیاجائے، لوگ اپنے گھروں کو ایسے حال میں لَوٹے کہ تمام کے تمام پانی سے تر تھے اور جیلان خوشحال ہوگیا۔‘‘

( حوالہ بہجة الاسرار شریف، ذکر نسبه
وصفته رحمة الله تعالیٰ عليه، ص۱۷۳ )
➻════════════➻
سرکارِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ
کی نیک سیرت بیویاں علیہما الرحمہ

حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی شہرہ آفاق تصنیف عوارف المعارف میں تحریر فرماتے ہیں:

“ایک شخص نے حضور سیدنا غوثُ الاعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا: ”یاسیدی! آپ نے نِکاح کیوں کیا؟” سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: “بے شک میں نکاح کرنا نہیں چاہتا تھا کہ اس سے میرے دوسرے کاموں میں خلل پیدا ہو جائے گا مگر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ ” عبدالقادر ! تم نکاح کر لو، اللہ عزوجل کے ہاں ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے۔” پھر جب یہ وقت آیا تو اللہ عزوجل نے مجھے چار بیویاں عطا فرمائیں، جن میں سے ہر ایک مجھ سے کامل محبت رکھتی ہے۔”

(عوارف المعارف، الباب الحادی و العشرون فی شرح حال المتجرد و المتاهل من الصوفية ۔۔۔ الخ، ص۱۰۱، ملخصاً)
➻════════════➻
حضور سیدی غوثِ اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بیویاں بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے روحانی کمالات سے فیض یاب تھیں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے صاحبزادے حضرت شیخ عبدالجبار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی والدہ ماجدہ کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ “جب بھی والدہ محترمہ کسی اندھیرے مکان میں تشریف لے جاتی تھیں تو وہاں چراغ کی طرح روشنی ہو جاتی تھیں۔ ایک موقع پر میرے والد محترم غوث پاک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی وہاں تشریف لے آئے، جیسے ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نظر اس روشنی پر پڑی تووہ روشنی فوراً غائب ہوگئی، تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ “یہ شیطان تھا جو تیری خدمت کرتا تھا اسی لئے میں نے اسے ختم کر دیا، اب میں اس روشنی کو رحمانی نور میں تبدیل کئے دیتا ہوں۔” اس کے بعد والدہ محترمہ جب بھی کسی تاریک مکان میں جاتی تھیں تو وہاں ایسا نور ہوتا جو چاند کی روشنی کی طرح معلوم ہوتا تھا۔”

( بہجة الاسرار و معدن الانوار،
ذکر فضل اصحابه ۔۔۔ الخ، ص۱۹۶)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Join Channel : @SirfUrduTahrir
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
1
Ghous E Aazam Part 04 ⤵️

محبت کیا ہے ؟ :

ایک دفعہ حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی قدس سرہ النورانی سے دریافت کیا گیا کہ ’’محبت کیا ہے؟‘‘ تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ’’محبت، محبوب کی طرف سے دل میں ایک تشویش ہوتی ہے پھر دنیا اس کے سامنے ایسی ہوتی ہے جیسے انگوٹھی کا حلقہ یا چھوٹا سا ہجوم، محبت ایک نشہ ہے جو ہوش ختم کر دیتا ہے، عاشق ایسے محوہیں کہ اپنے محبوب کے مشاہدہ کے سوا کسی چیز کا ان ہیں ہوش نہیں، وہ ایسے بیمار ہیں کہ اپنے مطلوب (یعنی محبوب) کو دیکھے بغیر تندرست نہیں ہوتے ،وہ اپنے خالق عزوجل کی محبت کے علاوہ کچھ نہیں چاہتے اور اُس کے ذکر کے سوا کسی چیز کی خواہش نہیں رکھتے۔‘‘

( بہجة الاسرار، ذکرشي من اجوبته
ممايدل علی قدم راسخ، ص۲۲۹ )
➻════════════➻
توکل کی حقیقت :

حضرت محبوب سبحانی قطب ربانی سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے توَکُّل کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ ’’دل اللہ عزوجل کی طرف لگا رہے اور اس کے غیر سے الگ رہے۔‘‘ نیز ارشاد فرمایا کہ ’’توکل یہ ہے کہ جن چیزوں پر قدرت حاصل ہے ان کے پوشیدہ راز کو معرفت کی آنکھ سے جھانکنا اور’’مذہب معرفت‘‘ میں دل کے یقین کی حقیقت کا نام اعتقاد ہے کیوں کہ وہ لازمی امور ہیں ان میں کوئی اعتراض کرنے والانقص نہیں نکال سکتا۔‘‘

(بهجة الاسرار، ذکرشي من اجوبته
ممايدل علي قدم راسخ … ص۲۳۲)
➻════════════➻
توکل اور اخلاص :

حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی حضور غوث پاک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے دریافت کیا گیا کہ ’’ توکل کیا ہے؟‘‘ تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:’’توکل کی حقیقت اخلاص کی حقیقت کی طرح ہے اور اخلاص کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی عمل، عوض یعنی بدلہ حاصل کرنے کے لئے نہ کرے اور ایسا ہی توکل ہے کہ اپنی ہمت کوجمع کرکے سکون سے اپنے رب عزوجل کی طرف نکل جائے۔‘‘

( المرجع السابق ، ص۲۳۳ )
➻════════════➻
دُنیا کو دل سے نکال دو :

حضور سیدنا غوث اعظم شیخ عبدالقادر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے دنیا کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ ’’دنیا کو اپنے دل سے مکمل طور پر نکال دے پھر وہ تجھے ضرر یعنی نقصان نہیں پہنچائے گی۔‘‘

( بہجة الاسرار ذکرشي من اجوبته
ممايدل علي قدم راسخ، ص۲۳۳ )
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Join Channel : @SirfUrduTahrir
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
1
Ghaus E Aazam Part 05 ⤵️

شکر کیا ہے ؟
سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے شکر کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ ’’شکر کی حقیقت یہ ہے کہ عاجزی کرتے ہوئے نعمت دینے والے کی نعمت کا اقرار ہو اوراسی طرح عاجزی کرتے ہوئے اللہ عزوجل کے احسان کو مانے اور یہ سمجھ لے کہ وہ شکر ادا کرنے سے عاجز ہے۔‘‘

(بہجة الاسرار، ذکرشي من اجوبته
ممايدل علي قدم راسخ ، ص۲۳۴ )
➻════════════➻
صبر کی حقیقت :
حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قطب ربانی غوث صمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے صبر کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ ’’صبر یہ ہے کہ بلا و مصیبت کے وقت اللہ عزوجل کے ساتھ حسن ادب رکھے اور اُس کے فیصلوں کے آگے سر تسلیم خم کر دے۔‘‘

(بهجة الاسرار، ذکرشي من اجوبته
ممايدل علي قدم راسخ، ص۲۳۴ )
➻════════════➻
صدق کیا ہے ؟ :
حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی قطب ربانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے صدق کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ

(۱)…اقوال میں صدق تو یہ ہے کہ دل کی موافقت قول کے ساتھ اپنے وقت میں ہو۔

(۲)…اعمال میں صدق یہ ہے کہ اعمال اس تصور کے ساتھ بجالائے کہ اللہ عزوجل اس کو دیکھ رہاہے اور خود کو بھول جائے ۔

( المرجع السابق صفحہ ۲۳۵ )
( تفريح الخاطر صفحہ ۱۸ )
➻════════════➻
وفا کیا ہے ؟ :
حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی قدس سرہ النورانی سے دریافت کیا گیا کہ وفا کیا ہے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ’’وفا یہ ہے کہ اللہ عزوجل کی حرام کردہ چیزوں میں اللہ عزوجل کے حقوق کی رعایت کرتے ہوئے نہ تو دل میں اِن کے وسوسوں پر دھیان دے اور نہ ہی ان پر نظر ڈالے اور اللہ عزوجل کی حدود کی اپنے قول اور فعل سے حفاظت کرے، اُس کی رضا والے کاموں کی طرف ظاہر و باطن سے پورے طور پر جلدی کی جائے۔‘‘

( بہجۃ الاسرار، ذکرشي من اجوبته
مما يدل علي قدم راسخ، ص۲۳۵ )
➻════════════➻
فرمانِ غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ ؛
میرے ہاتھ پر پانچ سَو سے زائد یہودیوں اور عیسائیوں نے اسلام قبول کیا اور ایک لاکھ سے زیادہ ڈاکو، چور، فساق و فجار، فسادی اور بدعتی لوگوں نے توبہ کی۔

( بہجةالاسرار شریف ص ۱۸٤ )
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Join Channel : @SirfUrduTahrir
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

خوشخبری خوشخبری خوشخبری

آپ سب کے دلعزيز گروپ فیضان اعلی حضرت لائبریری کا بُوٹ تعمیر ہوچکا ہے

آپ اس سے ضرور استفادہ کریں ؛
@faizanealahazrat_bot

آپ اس بُوٹ سے کتب کی فرمائش، گروپ کے متعلق اصلاحی پیغام، مشورہ، شامل کرنے کے لیے کتب اور گروپ سے عزیز و أقارب کو جوڑنے کے لیے پیغام یا کتب سے متعلق ضروری سوالات بھیج سکتے ہیں جو ان شاء اللهﷻ ایڈمن تک پہنچ جائیں گے.
https://t.me/faizanealahazrat_bot
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 pinned «🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹 خوشخبری خوشخبری خوشخبری آپ سب کے دلعزيز گروپ فیضان اعلی حضرت لائبریری کا بُوٹ تعمیر ہوچکا ہے آپ اس سے ضرور استفادہ کریں ؛ @faizanealahazrat_bot آپ اس بُوٹ سے کتب کی فرمائش، گروپ کے متعلق اصلاحی پیغام، مشورہ، شامل کرنے کے لیے کتب اور گروپ سے…»
میرا مرید جنت میں ‼️

حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے مریدین کے لیے جو بشارتیں ارشاد فرمائی ہیں کہ میرا مرید بغیر توبہ کئے نہ مرے گا اور میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں وغیرہ، اِن کو بیان کرتے ہوئے اعتدال کو ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے- ہمارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عوام الناس کے سامنے یہ یا اس طرح کی باتوں کو اس انداز میں پیش نہ کیا جائے جس سے وہ میدان عمل میں ہتھیار ڈال دیں اور اسی امید پر نیک کاموں کو ترک کر دیں کہ ہمارے لیے تو جنت کی بشارت رکھی ہوئی ہے- اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان بشارتوں کو چھپایا جائے اور صرف خوف پیدا کرنے کے لیے ایسا طرز اپنایا جائے کہ ایک عام آدمی یہ سمجھ بیٹھے کہ اب تو ہمارا کچھ ہو ہی نہیں سکتا اور جہنّم ہمارے لیے تیار ہے- مختصر یہ کہ خوف و امید کے درمیان رہا جائے-

امام فقیہ ابواللیث نصر سمرقندی حنفی علیہ الرحمہ اسی امر کی بابت لکھتے ہیں کہ واعظ (مقرر) خوف اور امید دونوں کو اپنا موضوع سخن بنائے- صرف خوف یا صرف امید کے موضوع پر بیان نہ کرے؛ کیوں کہ ایسا کرنا ممنوع ہے-

(انظر: بستان العارفین للسمرقندی، ص58)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa عبد مصطفی
Channel @AbdeMustafaOfficial
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
جا تجھے سات بیٹے ہُوں گے ‼️

حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی کرامت بتا کر یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک عورت آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا : یا حضرت مجھے بیٹا دو! آپ نے فرمایا کہ لوح محفوظ میں تیری قسمت میں بیٹا نہیں ہے-

عورت نے کہا : اگر لوح محفوظ میں ہوتا تو آپ کے پاس کیوں آتی ؟
آپ نے اللہ تعالی سے عرض کیا کہ یا خدا تو اس عورت کو ایک بیٹا دے دے، جواب آیا کہ لوح محفوظ میں نہیں- عرض کیا کہ دو بیٹے دے، حکم ہوا کہ جب ایک نہیں تو دو کہاں سے دُوں؟
عرض کیا کہ تین بیٹے دے، ارشاد ہوا کہ ایک بھی نہیں تو تین کہاں سے دوں، اس کی تقدیر میں بالکل نہیں!

جب وہ عورت نا امید ہو گئی تو غوث اعظم نے غصّے میں آکر اپنے دروازے کی خاک سے تعویذ بنا کر دے دی اور کہا کہ جا! تیرے سات لڑکے ہوں گے- وہ عورت خوش ہو کر چلی گئی اور اس کے سات لڑکے ہوئے-

اس روایت کے متعلق حضرت علامہ مفتی شاہ محمد اجمل قادری رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ کسی معتبر و مستند کتاب میں نظر سے نہ گزرا اور بہ ظاہر بے اصل اور لغو معلوم ہوتا ہے، ان سے احتراز کرنا چاہیے اور "بہجۃ الاسرار" سے حضرت کی کرامات بیان کرنی چاہِئِیں-

(ملخصاً: فتاویٰ اجملیہ، کتاب الخطر والاباحۃ، ج4، ص9، ط شبیر برادرز لاہور، س2005ء)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa عبد مصطفی
Channel @AbdeMustafaOfficial
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
غوث پاک کے ارشادات پر عمل کریں:

حضور پُر نور سیّد نا غوث اعظم مولائے اکرم حضرت شیخ محی الملّۃ والدّین ابو محمد عبد القادر جیلانی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنی کتاب مستطاب فتوح الغیب شریف میں کیا کیا جگر شگاف مثالیں ایسے شخص کے لیے ارشاد فرمائی ہیں

جو فرض چھوڑ کر نفل بجالائے۔
فرماتے ہیں : اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے کسی شخص کو بادشاہ اپنی خدمت کے لیے بلائے ، یہ وہاں تو حاضر نہ ہُوا اور اس کے غلام کی خِدمَتگاری میں موجود رہے۔

پھر حضرت امیر المومنین مولی المسلمین سید نا مولیٰ علی مرتضیٰ کرم ﷲ تعالیٰ وجہہ سے اس کی مثال نقل فرمائی کہ جناب ارشاد فرماتے ہیں :

ایسے شخص کا حال اس عورت کی طرح ہے جسے حمل رہا جب بچّہ ہونے کے دن قریب آئے اسقاط ہوگیا اب وہ نہ حاملہ ہے نہ بچّہ والی۔ یعنی جب پُورے دنوں پر اگر اسقاط ہو تو محنت تو پُوری اٹھائی اور نتیجہ خاک نہیں کہ اگر بچہ ہوتا تو ثمرہ خود موجود تھا حمل باقی رہتا تو آگے امید لگی تھی ، اب نہ حمل نہ بچّہ، نہ اُمید نہ ثمرہ اور تکلیف وہی جھیلی جو بچّہ والی کو ہوتی ہے۔

ایسے ہی اس نفل خیرات دینے والے کے پاس روپیہ تو اٹھا مگر جبکہ فرض چھوڑا یہ نفل بھی قبول نہ ہُوا تو خرچ کا خرچ ہوا اور حاصل کچھ نہیں۔

اسی کتاب مبارک میں حضور مولیٰ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہے کہ:
فان اشتغل بالسنن والنوافل قبل الفرائض لم یقبل منہ واھین۔ ۱؎

یعنی فرض چھوڑ کر سنّت و نفل میں مشغول ہوگا- یہ قبول نہ ہوں گے اور خوار کیا جائے گا۔ (۱؎ فتوح الغیب مع شرح عبدالحق الدہلوی المقالۃ الثامنۃوالا ربعون منشی نولکشور لکھنؤ ص ۲۷۳)

[ فتاوٰی رضویہ شریف جلد ١۰ ]
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Join Channel : @SirfUrduTahrir
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
ﺻﻠﻮٰۃ ﺍﻟﻐﻮﺛﯿﮧ ( نماز غوثیہ ) ﮐﺎ
ﻃﺮﯾﻘﮧ❗️ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺘﯿﮟ ‼️
➻═══════════➻
ﺣﻀﺮﺕِ ﺷﯿﺦ ﺍﺑﻮﺍﻟﻘﺎﺳﻢ ﻋﻤﺮ ﺍﻟﺒﺰﺍﺭ ﺭَحْمَۃُ ﺍﻟﻠﮧِ ﺗَﻌَﺎﻟٰﯽ ﻋَﻠَﯿْﮧِ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺷﯿﺦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻘﺎﺩﺭﺟﯿﻼﻧﯽ ﺭَحْمَۃُ ﺍﻟﻠﮧِ ﺗَﻌَﺎﻟٰﯽ ﻋَﻠَﯿْﮧِ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ

’’ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﺎﺭﮮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﮦ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﺟﺎﺗﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮑﺎﺭﮮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺟﺎﺗﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ۔ ‘‘

ﭘﮭﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ
’’ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭﮦٔ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﻮﺭﮦٔ ﺍﺧﻼﺹ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺑﺎﺭ ﭘﮍﮬﮯ ﭘﮭﺮ ﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺮﻭﺭِ ﮐﻮﻥ ﻭﻣﮑﺎﻥ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠﮧُ ﺗَﻌَﺎﻟٰﯽ ﻋَﻠَﯿْﮧِ ﻭَﺍٰﻟِﮧٖ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﭘﺮ ﺩُﺭُﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺍﻕ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻗﺪﻡ ﭼﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻋَﺰَّﻭَﺟَﻞَّ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ !
➻═══════════➻
حوالہ : بہجۃ الاسرار شریف ، ﺫﮐﺮ
ﻓﻀﻞ ﺍﺻﺤﺎﺑﮧ ﻭ بشراہم صفحہ۱۹۷
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
سَال بھر تک آفتُوں سے حفاظت !
إِنۡ شَاءَ الله تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَزَّوَجَلَّ

ماہ ربیع الآخر کی گیارہویں شب (یعنی بڑی رات) سرکارِ غوث اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہۡ کے ¹¹گیارہ نام (اول آخر ¹¹ بار درود شریف) پڑھ کر گیارہ کھجوروں پر دم کر کے اسی رات کھا لیجیے إِنۡ شَاءَ الله تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَزَّوَجَلَّ سارا سال مصیبتوں سے حفاظت ہوگی‼️

‼️ وہ گیارہ نام یہ ہیں ‼️
① سید محی الدین سلطان
② سید محی الدین قطب
③ محی الدین خواجہ
④ محی الدین مخدوم
⑤ محی الدین ولی
⑥ محی الدین بادشاہ
⑦ محی الدین شیخ
⑧ محی الدین مولانا
⑨ محی الدین غوث
⑩ محی الدین خلیل
محی الدین
[حوالہ : جنات کا باشاہ صَ¹⁸]
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻