نابالغ بچے پر روزہ رکھنا فرض نہیں ہے ، لیکن جب وہ دس سال کا ہوجائے تو والدین اسے روزے کا پابند بنائیں گے ، جیسے دس سال کے بچے کو نماز کا پابند بنایا جاتا ہے ۔
البتہ اگر وہ روزہ رکھ کے توڑ دے تو اس پر روزے کی قضا نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔ لیکن اگر اس نے نماز توڑی تو اعادے کا حکم دیا جائے گا ۔
( ملخصاً: ردالمحتار علی الدرالمختار شرح تنویر الابصار ، کتاب الصوم ، باب مایفسد الصوم ومالایفسدہ ، ج3 ، ص385 ، ط دارالکتب العلمیۃ بیروت ۔ و دیگر کتب فقہ )
✍️ لقمان شاہد
8-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0ZWu5ZHGqERL8RGNvupfZQ78hav58LkZ723bEPHjK2Tw9QcrCkaFpGhaGNERkGyQxl&id=100008105947430
البتہ اگر وہ روزہ رکھ کے توڑ دے تو اس پر روزے کی قضا نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔ لیکن اگر اس نے نماز توڑی تو اعادے کا حکم دیا جائے گا ۔
( ملخصاً: ردالمحتار علی الدرالمختار شرح تنویر الابصار ، کتاب الصوم ، باب مایفسد الصوم ومالایفسدہ ، ج3 ، ص385 ، ط دارالکتب العلمیۃ بیروت ۔ و دیگر کتب فقہ )
✍️ لقمان شاہد
8-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0ZWu5ZHGqERL8RGNvupfZQ78hav58LkZ723bEPHjK2Tw9QcrCkaFpGhaGNERkGyQxl&id=100008105947430
❤1👍1
عاشق مدینہ مولانا عابد حسین مدنی رحمہ اللہ بائیس سال مدینہ منورہ میں رہے ، یہ حرمِ نبوی کے خادمین میں سے تھے ، مسجدِ اقدس کی لائیٹیں آن کیا کرتے تھے ۔
ان کا عشق رسول دائمی تھا ، ادب مدینہ کو ہمیشہ ملحوظ رکھتے تھے ۔
بعض علما جو انھیں ملتے رہے ، وہ کہتےہیں:
انھیں ہمیشہ بارگاہِ اقدس کا ویسا ہی مودب پایا ، جیسے پہلے دن تھے -
آپ مدینہ منورہ میں بائیس سال تک چارپائی پر نہیں سوئے ، نیچے چٹائی پر سوتے تھے ۔۔۔۔۔۔ کہتے تھے یہ سرکارِ مدینہ کا شہر ہے ۔ 😢
بن لادن کپمنی نے بہت دفعہ آفر کی کہ ہم آپ کی تنخواہ بڑھا دیتے ہیں آپ مدینہ چھوڑ کر فلاں جگہ چلے جائیں ، لیکن آپ کہتے میں نے مدینہ شریف نہیں چھوڑنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ حتی کہ ایک سال بغیر ڈیوٹی اورمشاہرے کے انتظار کرتے رہے لیکن مدینہ پاک نہیں چھوڑا ۔ ؎
انوکھی وضع ہے ، سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں !
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02RBkaZTRihKUzpvZFYrtm9saShcRCFySVGjoiJ4wHqC8jAEvKnifZ36u6w58K2EF8l&id=100008105947430
ان کا عشق رسول دائمی تھا ، ادب مدینہ کو ہمیشہ ملحوظ رکھتے تھے ۔
بعض علما جو انھیں ملتے رہے ، وہ کہتےہیں:
انھیں ہمیشہ بارگاہِ اقدس کا ویسا ہی مودب پایا ، جیسے پہلے دن تھے -
آپ مدینہ منورہ میں بائیس سال تک چارپائی پر نہیں سوئے ، نیچے چٹائی پر سوتے تھے ۔۔۔۔۔۔ کہتے تھے یہ سرکارِ مدینہ کا شہر ہے ۔ 😢
بن لادن کپمنی نے بہت دفعہ آفر کی کہ ہم آپ کی تنخواہ بڑھا دیتے ہیں آپ مدینہ چھوڑ کر فلاں جگہ چلے جائیں ، لیکن آپ کہتے میں نے مدینہ شریف نہیں چھوڑنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ حتی کہ ایک سال بغیر ڈیوٹی اورمشاہرے کے انتظار کرتے رہے لیکن مدینہ پاک نہیں چھوڑا ۔ ؎
انوکھی وضع ہے ، سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں !
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02RBkaZTRihKUzpvZFYrtm9saShcRCFySVGjoiJ4wHqC8jAEvKnifZ36u6w58K2EF8l&id=100008105947430
❤2👍1
حضرت مولانا ابوالنور محمد بشیر رحمہ اللہ سچے عاشق رسول تھے ، آپ کی تحریریں اور تقریریں بڑی ایمان افروز ہیں ۔
آپ جب دوسری مرتبہ سفرِ حرمین پر روانہ ہوئے تو ایک ڈائری پر اپنا مبارک سفر نامہ لکھتے رہے ، اور اس کا نام رکھا " مسافر مدینہ محمد بشیر کی ڈائری " ۔
یہ سفر نامہ عشق و محبت کی ایک داستان ہے ، مدینے شریف جانے والوں کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔؎
دِل ہے وہ دِل جو تری یاد سے مَعمور رہا
سر ہے وہ سر جو ترے قدموں پہ قربان گیا
جان و دل ہوش و خِرَد سب تو مَدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رضاؔ سارا تو سامان گیا 😢
✍️لقمان شاہد
9-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02PGo3dYchUGBSMtKif1v9ZfuU8qr8Nq8nSs7CDbGkBp5xWqpmzk8Cz5tZaaMQNgsbl&id=100008105947430
آپ جب دوسری مرتبہ سفرِ حرمین پر روانہ ہوئے تو ایک ڈائری پر اپنا مبارک سفر نامہ لکھتے رہے ، اور اس کا نام رکھا " مسافر مدینہ محمد بشیر کی ڈائری " ۔
یہ سفر نامہ عشق و محبت کی ایک داستان ہے ، مدینے شریف جانے والوں کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔؎
دِل ہے وہ دِل جو تری یاد سے مَعمور رہا
سر ہے وہ سر جو ترے قدموں پہ قربان گیا
جان و دل ہوش و خِرَد سب تو مَدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رضاؔ سارا تو سامان گیا 😢
✍️لقمان شاہد
9-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02PGo3dYchUGBSMtKif1v9ZfuU8qr8Nq8nSs7CDbGkBp5xWqpmzk8Cz5tZaaMQNgsbl&id=100008105947430
❤1👍1
جس چیز کا علم نہ ہو اسے کے پیچھے پڑنے سے منع فرمایا گیا ہے ، اللہ پاک کا ارشاد ہے:
لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ ۔
اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں ۔
موجودہ پاکستانی سیاست کے متعلق خواہ مخواہ کی قیاس آرائیوں سے پرہیز کریں ، ماہ رمضان میں غیبتوں اور تہمتوں سے محفوظ رہیں گے ۔
عوام ملک و ملت کے لیے دعاے خیر کریں اور خواص پاکستانی سیاست کو سمجھ کر ، اس کی باگ ڈور سنبھالنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔۔۔۔ جب تک ملکی نظام خوف خدا رکھنے والے مدبر ، عقل مند اور محب وطن لوگ نہیں سنبھالیں گے نظام تبدیل نہیں ہوگا ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02q31PASu9RXY5g4fWpvzrwsC31ffy3BKtngoXcuX73bZzNkMZNviyqujqbZeZuDBol&id=100008105947430
لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ ۔
اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں ۔
موجودہ پاکستانی سیاست کے متعلق خواہ مخواہ کی قیاس آرائیوں سے پرہیز کریں ، ماہ رمضان میں غیبتوں اور تہمتوں سے محفوظ رہیں گے ۔
عوام ملک و ملت کے لیے دعاے خیر کریں اور خواص پاکستانی سیاست کو سمجھ کر ، اس کی باگ ڈور سنبھالنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔۔۔۔ جب تک ملکی نظام خوف خدا رکھنے والے مدبر ، عقل مند اور محب وطن لوگ نہیں سنبھالیں گے نظام تبدیل نہیں ہوگا ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02q31PASu9RXY5g4fWpvzrwsC31ffy3BKtngoXcuX73bZzNkMZNviyqujqbZeZuDBol&id=100008105947430
❤1👍1
اللہ پاک مدینہ طیبہ لے جائے تو وہاں کے در و دیوار چومیں ۔۔۔۔۔۔ وہاں کی خاک پاک کا سرمہ بنالیں ۔
قَیس بِن مُلَوَّح ( مجنون ) نے کیا ہی خوب کہا ؎
أَمُرُّ عَلى الدِّيَارِ دِيَارِ لَيْلىٰ
أُقَبِّلُ ذَا الجِدَارَ وَ ذَا الجِدَارَا
وَماحُبُّ الدِّيَارِ شَغَفْنَ قَلْبِي
وَلٰكِنْ حُبُّ مَنْ سَكَنَ الدِيَارَا 😢
(مفہوم: میں لیلیٰ کے شہر سے گزرتے ہوئے کبھی اِس دیوار کو چُومتا ہوں ، کبھی اُس دیوار کو ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ایسا کرنے پر اِس شہر کی محبّت آمادہ نہیں کرتی ، بلکہ جو اِس شہر میں رہتا ہے 😢 اُس کی محبّت کہتی ہے کہ میں اِس کے در و دیوار چُوموں )
جَمِیلتؔ دَر فراقَت ہَست بِسمِل
بَر اُو کُن لُطف آقائے مدینہ !
خاکِ راہِ حجاز
✍️لقمان شاہد
13-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0yJzAdADhCU5bm9icpcrW8RtTmv8zWVNKx8qjeKvjT6EsvGz7qeEkHiFi47cPZ5AGl&id=100008105947430
قَیس بِن مُلَوَّح ( مجنون ) نے کیا ہی خوب کہا ؎
أَمُرُّ عَلى الدِّيَارِ دِيَارِ لَيْلىٰ
أُقَبِّلُ ذَا الجِدَارَ وَ ذَا الجِدَارَا
وَماحُبُّ الدِّيَارِ شَغَفْنَ قَلْبِي
وَلٰكِنْ حُبُّ مَنْ سَكَنَ الدِيَارَا 😢
(مفہوم: میں لیلیٰ کے شہر سے گزرتے ہوئے کبھی اِس دیوار کو چُومتا ہوں ، کبھی اُس دیوار کو ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ایسا کرنے پر اِس شہر کی محبّت آمادہ نہیں کرتی ، بلکہ جو اِس شہر میں رہتا ہے 😢 اُس کی محبّت کہتی ہے کہ میں اِس کے در و دیوار چُوموں )
جَمِیلتؔ دَر فراقَت ہَست بِسمِل
بَر اُو کُن لُطف آقائے مدینہ !
خاکِ راہِ حجاز
✍️لقمان شاہد
13-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0yJzAdADhCU5bm9icpcrW8RtTmv8zWVNKx8qjeKvjT6EsvGz7qeEkHiFi47cPZ5AGl&id=100008105947430
❤1👍1
ان چھ الفاظ میں انسان کی زندگی کا خلاصہ کردیا گیا ۔
یہ مٹی سے بنا ، مٹی پر رہا ، اور مٹی ( قبر ) تک جائے گا ۔
پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کا حساب ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو یہ ثواب پائے گا یا عذاب میں مبتلا ہو جائے گا ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0KQG245nEB6tK9NUweqrFXgWzqdTGQDrLyqhAzdRidmPKoAvbzG5Y8XoXtHWhbHtel&id=100008105947430
یہ مٹی سے بنا ، مٹی پر رہا ، اور مٹی ( قبر ) تک جائے گا ۔
پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کا حساب ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو یہ ثواب پائے گا یا عذاب میں مبتلا ہو جائے گا ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0KQG245nEB6tK9NUweqrFXgWzqdTGQDrLyqhAzdRidmPKoAvbzG5Y8XoXtHWhbHtel&id=100008105947430
❤1👍1
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں:
سارے شہر تلوار سے فتح کیے گئے ، اور شہرِ مدینہ قرآن سے فتح ہوا ۔
اے شہر مدینہ تیرے کیا کہنے ، تیرے جیسا رتبہ روئے زمین کے کسی شہر کو حاصل نہیں !!
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02JwwRL1zP1JovoodfV9QLwcw4Cjqd7iVdg8bnknDjSkCYGQbX1E42ePfcZomsTY7gl&id=100008105947430
سارے شہر تلوار سے فتح کیے گئے ، اور شہرِ مدینہ قرآن سے فتح ہوا ۔
اے شہر مدینہ تیرے کیا کہنے ، تیرے جیسا رتبہ روئے زمین کے کسی شہر کو حاصل نہیں !!
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02JwwRL1zP1JovoodfV9QLwcw4Cjqd7iVdg8bnknDjSkCYGQbX1E42ePfcZomsTY7gl&id=100008105947430
❤1👍1
واللہ ، وہ سن لیں گے ! 🥀
اُنْدُلُس کے ایک شخص کا بیٹا ( رُومیوں کا ) قیدی بن گیا ، تو یہ اپنے شہر سے نکلا تا کہ ( مدینے شریف جاکر ) رسول پاک ﷺ کی بارگاہ میں بیٹے کا معاملہ پیش کرے ۔
راستے میں اِس کی ایک جاننے والے سے ملاقات ہوئی ، تو اُس نے سوال کیا:
کہاں جارہے ہو ؟
کہنے لگا: رسول اللہ ﷺ کی طرف جارہا ہوں ، آپ سے شفاعت کی التجا کرنی ہے ، کیوں کہ میرے بیٹے کو رومیوں نے گرفتارکرلیا ہے اور اس کی رہائی کے لیے تین سو دینار مقرر کیے ہیں ، جو میں ادا نہیں کرسکتا ۔
اُس نے کہا: ( خدا کے بندے ! ) رسول پاک ﷺ کی شفاعت تو ہر جگہ نفع دیتی ہے ( تو یہیں سے کیوں عرض نہیں کرلیتا ، کیا اس کے لیے مدینہ پاک ہی جانا ضروری ہے ) ۔
( چوں کہ اِس کی اپنی ایک محبت تھی ، یہ نہ مانا اور اپنی منزل کی طرف چل پڑا ) یہ جب مدینہ پاک پہنچا تو بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو کر اپنی حاجت بیان کی اور ( بارگاہ الہی میں دعا کے لیے ) آپ کا وسیلہ پیش کیا ۔
اِسے خواب میں نبی پاک ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور آپ نے فرمایا:
اپنے شہر واپس چلا جا !
یہ جب اپنے شہر واپس آیا تو اِس نے دیکھا کہ اللہ تعالی نے اِس کے بیٹے کو رہائی عطا فرمادی ہے ۔
اِس نے بیٹے سےحال پوچھا تو وہ کہنے لگا:
( والد بزرگ وار ! ) فلاں رات اللہ تعالی نے مجھے اور میرے ساتھ بہت سارے قیدیوں کو رہائی عطا فرمادی ۔
( باپ نے جب غور کیا تو اِسے معلوم ہوا کہ ) یہ وہی رات تھی جس رات یہ اپنے بیٹے کے لیے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تھا ۔
( انظر: مصباح الظلام فی المستغیثین بخیر الانام علیہ الصلاۃ والسلام فی الیقظۃ والمنام ، ص106 ، 107، دارالکتب العلمیۃ بیروت )
مدینے پاک کی طرف کیا جانے والا سفر کبھی رائیگاں نہیں جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بس صدقِ نیت ، غیر متزلزل یقین اور خلوص و محبت کا ساتھ ہونا چاہیے ۔
خاکِ راہِ حجاز
✍️ لقمان شاہد
19-4-2022ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid035SuF9fe9AX6HCcuiw6W4WGxCgiZf5vGHBmEDtwx6zLdxPbyY1QNZseYRyZ5AP1AXl&id=100008105947430
اُنْدُلُس کے ایک شخص کا بیٹا ( رُومیوں کا ) قیدی بن گیا ، تو یہ اپنے شہر سے نکلا تا کہ ( مدینے شریف جاکر ) رسول پاک ﷺ کی بارگاہ میں بیٹے کا معاملہ پیش کرے ۔
راستے میں اِس کی ایک جاننے والے سے ملاقات ہوئی ، تو اُس نے سوال کیا:
کہاں جارہے ہو ؟
کہنے لگا: رسول اللہ ﷺ کی طرف جارہا ہوں ، آپ سے شفاعت کی التجا کرنی ہے ، کیوں کہ میرے بیٹے کو رومیوں نے گرفتارکرلیا ہے اور اس کی رہائی کے لیے تین سو دینار مقرر کیے ہیں ، جو میں ادا نہیں کرسکتا ۔
اُس نے کہا: ( خدا کے بندے ! ) رسول پاک ﷺ کی شفاعت تو ہر جگہ نفع دیتی ہے ( تو یہیں سے کیوں عرض نہیں کرلیتا ، کیا اس کے لیے مدینہ پاک ہی جانا ضروری ہے ) ۔
( چوں کہ اِس کی اپنی ایک محبت تھی ، یہ نہ مانا اور اپنی منزل کی طرف چل پڑا ) یہ جب مدینہ پاک پہنچا تو بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو کر اپنی حاجت بیان کی اور ( بارگاہ الہی میں دعا کے لیے ) آپ کا وسیلہ پیش کیا ۔
اِسے خواب میں نبی پاک ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور آپ نے فرمایا:
اپنے شہر واپس چلا جا !
یہ جب اپنے شہر واپس آیا تو اِس نے دیکھا کہ اللہ تعالی نے اِس کے بیٹے کو رہائی عطا فرمادی ہے ۔
اِس نے بیٹے سےحال پوچھا تو وہ کہنے لگا:
( والد بزرگ وار ! ) فلاں رات اللہ تعالی نے مجھے اور میرے ساتھ بہت سارے قیدیوں کو رہائی عطا فرمادی ۔
( باپ نے جب غور کیا تو اِسے معلوم ہوا کہ ) یہ وہی رات تھی جس رات یہ اپنے بیٹے کے لیے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تھا ۔
( انظر: مصباح الظلام فی المستغیثین بخیر الانام علیہ الصلاۃ والسلام فی الیقظۃ والمنام ، ص106 ، 107، دارالکتب العلمیۃ بیروت )
مدینے پاک کی طرف کیا جانے والا سفر کبھی رائیگاں نہیں جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بس صدقِ نیت ، غیر متزلزل یقین اور خلوص و محبت کا ساتھ ہونا چاہیے ۔
خاکِ راہِ حجاز
✍️ لقمان شاہد
19-4-2022ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid035SuF9fe9AX6HCcuiw6W4WGxCgiZf5vGHBmEDtwx6zLdxPbyY1QNZseYRyZ5AP1AXl&id=100008105947430
❤1👍1
سُخن شناس حُسنِ کلام میں مرزا غالب کی مثالیں دیتے ہیں ، جب کہ حیدر علی آتش بھی غالب سے کچھ کم نہیں ۔
اہلِ ذوق آتش کی ایک غزل کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں اور حسنِ بیان کے ساتھ ایک ہی غزل میں مضارع ، متقارب ، متدارک اور بسیط کا لطف اٹھائیں ؎
بوسہ دِیے سے حُسن میں ہوگی کمی نہ یار
ہوتا نہیں زکوٰۃ سے نُقصان مال کا
روزِ سیاہ ہِجر میں میرے جلے چراغ
پروانوں کو نصیب ہوا دن وصال کا
شانہ بَنیں گے بعدِ فنا اپنے اُستخواں
عُقدہ کھلے گا گیسووں کے بال بال کا
کِس کس بَشَر کو لائی ہے دنیا فریب میں
کیا کیا جواں مُرید ہے اُس پیرِ زال کا
اے دل ! قضا نہ آئے ، اُدھر ٹِکٹکی نہ باندھ
گولی کا سامنا ہے یہ نظارہ خال کا
رونے کے بدلے حال پر اپنے ہنسا کیے
پردہ ہوا نہ فاش ہمارے ملال کا
آتشؔ لحد سے اٹھوں گا کہتا یہ روزِ حشر
مشتاق ہوں میں یار کے حسن و جمال کا
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02NpUWNhj1jcmQL6QPfNJnQy4QPRnXdU7itX4QPBAx58fKL8z8PZnfUUxeMLx9c5Htl&id=100008105947430
اہلِ ذوق آتش کی ایک غزل کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں اور حسنِ بیان کے ساتھ ایک ہی غزل میں مضارع ، متقارب ، متدارک اور بسیط کا لطف اٹھائیں ؎
بوسہ دِیے سے حُسن میں ہوگی کمی نہ یار
ہوتا نہیں زکوٰۃ سے نُقصان مال کا
روزِ سیاہ ہِجر میں میرے جلے چراغ
پروانوں کو نصیب ہوا دن وصال کا
شانہ بَنیں گے بعدِ فنا اپنے اُستخواں
عُقدہ کھلے گا گیسووں کے بال بال کا
کِس کس بَشَر کو لائی ہے دنیا فریب میں
کیا کیا جواں مُرید ہے اُس پیرِ زال کا
اے دل ! قضا نہ آئے ، اُدھر ٹِکٹکی نہ باندھ
گولی کا سامنا ہے یہ نظارہ خال کا
رونے کے بدلے حال پر اپنے ہنسا کیے
پردہ ہوا نہ فاش ہمارے ملال کا
آتشؔ لحد سے اٹھوں گا کہتا یہ روزِ حشر
مشتاق ہوں میں یار کے حسن و جمال کا
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02NpUWNhj1jcmQL6QPfNJnQy4QPRnXdU7itX4QPBAx58fKL8z8PZnfUUxeMLx9c5Htl&id=100008105947430
❤1👍1
Forwarded from ✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰
تحیۃ وسلامآ
وارثان علم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ ایک حاملہ متعلمہ ( طالبہ ) جو شوھر کے انتقال کی عدت میں ہے اسی مدت میں اس کے بورڈ کا امتحان ہونے والا ہے اب وہ کیا کرے ؟
المستفتی : محمد سالک حسین مصباحی برکاتی دار العلوم مخدومیہ مفتی اعظم چوک اوشیوارہ برج جوگیشوری مغ ممبئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* معتدہ عورت گھر سے باہر باپردہ بورڈ کا امتحان دینے کے لئے جا سکتی ہے لیکن دن میں اور رات کے کچھ حصہ میں باہر جا سکتی ہے بشرطیکہ رات اکثر حصہ اپنے مکان میں گزارے جیسا کہ مجمع الانھر میں ہے کہ " معتدة الموت تخرج نهارا و بعض الليل قدر ما تستكمل به حوائجها " اھ ( مجمع الانھر ج 1 ص 472 ) اور الشرح الکبیر للمغنی میں ہے کہ " للمعتدة الخروج فى حوائجها نهارا سواء كانت مطلقة او متوفى عنها " اھ ( الشرح الکبیر للمغنی ج 9 ص 176 ) اور تفسیر کبیر میں ہے کہ " اما الامتناع عن الخروج من المنزل فواجب عند الضرورة و الحاجة " اھ ( تفسیر کبیر ج 2 ص 468 ) اور البحر الرائق میں ہے کہ " ( قوله : و معتدة الموت تخرج يوماً و بعض الليل ) لتكتسب لأجل قيام المعيشة لأنه لا نفقة لها حتى لو كان عندها كفايتها صارت كالمطلقة فلا يحل لها أن تخرج لزيارة و لا لغيرها ليلاً و لا نهاراً. و الحاصل : أن مدار الحل كون خروجها بسبب قيام شغل المعيشة ، فيتقدر بقدره ، فمتى انقضت حاجتها لايحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها كذا فی فتح القدير " اھ ( البحر الرائق ج 4 ص 166 : دار المعرفة بیروت ) اور اسی میں ہے کہ " لا تخرج المعتدۃ عن طلاق او موت الا لضرورۃ لان المطلقة تخرج للضروری بحسبھا لیلا کان او نھارا و المعتدۃ عن موت کذلك فاین الفرق فالظاهر من کلامھم جواز خروج المعتدۃ عن وفاۃ نھارا و لو کانت قادرۃ علی النفقة و لھذا استدل اصحابنا بحدیث فریعة بنت ابی سعید الخدری رضی الله عنه ان زوجھا لما قتل أتت النبیا فاستاذنته بالانتقال الی بنی خدرۃ فقال لھا امکثی فی بیتك حتی یبلغ الکتاب اجله فدل علی حکمین اباحة الخروج بالنھار و حرمة الانتقال حیث لم ینکر خروجھا و منعھا من الانتقال " اھ ( البحر الرائق ج 4 ص 153 ) اور فتاوی رضویہ میں ہے کہ " عورت عدت وفات میں بضرورت باہر اس طور پر جا سکتی ہے کہ رات کا اکثر حصہ شوہر کے مکان پر گزارے " اھ ( فتاوی رضویہ قدیم ج 5 ص 849 ) اور امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت قدس سرہ ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں کہ " عورت کو گھر سے باہر جانے کے لئے یعنی مکان و غیر مکان میں جانا بشرائط مذکورہ جائز ہونے کی ، نو صورتیں ہیں :- ان کے سوا تین صورتیں اور بھی ہیں ، شاہدہ ، طالبہ ، مطلوبہ ۔ طالبہ : جب اس کا کسی پر حق آتا ہو اور بے جائے دعوٰی نہیں ہوسکتا " اھ ( فتاوی رضویہ ج 22 ص 226 : رضا فاؤنڈیشن لاہور )
مذکورہ تصریحات سے معلوم ہوا کہ معتدہ پردے کے ساتھ بورڈ کا امتحان دینے جا سکتی ہے کیونکہ بورڈ کا امتحان دینا ایک قسم حاجت و ضرورت سے ہے اور ضرورت و حاجت کے وقت معتدہ باپردہ گھر سے باہر دن میں جا سکتی ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
الجواب صحیح والمجیب مصیب واللہ اعلم بالصواب محمد اختر رضا خان مصباحی مجددی خادم التدریس و الافتاء دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ویسٹ ممبئی 400102 موبائل نمبر 9773497935
وارثان علم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ ایک حاملہ متعلمہ ( طالبہ ) جو شوھر کے انتقال کی عدت میں ہے اسی مدت میں اس کے بورڈ کا امتحان ہونے والا ہے اب وہ کیا کرے ؟
المستفتی : محمد سالک حسین مصباحی برکاتی دار العلوم مخدومیہ مفتی اعظم چوک اوشیوارہ برج جوگیشوری مغ ممبئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* معتدہ عورت گھر سے باہر باپردہ بورڈ کا امتحان دینے کے لئے جا سکتی ہے لیکن دن میں اور رات کے کچھ حصہ میں باہر جا سکتی ہے بشرطیکہ رات اکثر حصہ اپنے مکان میں گزارے جیسا کہ مجمع الانھر میں ہے کہ " معتدة الموت تخرج نهارا و بعض الليل قدر ما تستكمل به حوائجها " اھ ( مجمع الانھر ج 1 ص 472 ) اور الشرح الکبیر للمغنی میں ہے کہ " للمعتدة الخروج فى حوائجها نهارا سواء كانت مطلقة او متوفى عنها " اھ ( الشرح الکبیر للمغنی ج 9 ص 176 ) اور تفسیر کبیر میں ہے کہ " اما الامتناع عن الخروج من المنزل فواجب عند الضرورة و الحاجة " اھ ( تفسیر کبیر ج 2 ص 468 ) اور البحر الرائق میں ہے کہ " ( قوله : و معتدة الموت تخرج يوماً و بعض الليل ) لتكتسب لأجل قيام المعيشة لأنه لا نفقة لها حتى لو كان عندها كفايتها صارت كالمطلقة فلا يحل لها أن تخرج لزيارة و لا لغيرها ليلاً و لا نهاراً. و الحاصل : أن مدار الحل كون خروجها بسبب قيام شغل المعيشة ، فيتقدر بقدره ، فمتى انقضت حاجتها لايحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها كذا فی فتح القدير " اھ ( البحر الرائق ج 4 ص 166 : دار المعرفة بیروت ) اور اسی میں ہے کہ " لا تخرج المعتدۃ عن طلاق او موت الا لضرورۃ لان المطلقة تخرج للضروری بحسبھا لیلا کان او نھارا و المعتدۃ عن موت کذلك فاین الفرق فالظاهر من کلامھم جواز خروج المعتدۃ عن وفاۃ نھارا و لو کانت قادرۃ علی النفقة و لھذا استدل اصحابنا بحدیث فریعة بنت ابی سعید الخدری رضی الله عنه ان زوجھا لما قتل أتت النبیا فاستاذنته بالانتقال الی بنی خدرۃ فقال لھا امکثی فی بیتك حتی یبلغ الکتاب اجله فدل علی حکمین اباحة الخروج بالنھار و حرمة الانتقال حیث لم ینکر خروجھا و منعھا من الانتقال " اھ ( البحر الرائق ج 4 ص 153 ) اور فتاوی رضویہ میں ہے کہ " عورت عدت وفات میں بضرورت باہر اس طور پر جا سکتی ہے کہ رات کا اکثر حصہ شوہر کے مکان پر گزارے " اھ ( فتاوی رضویہ قدیم ج 5 ص 849 ) اور امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت قدس سرہ ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں کہ " عورت کو گھر سے باہر جانے کے لئے یعنی مکان و غیر مکان میں جانا بشرائط مذکورہ جائز ہونے کی ، نو صورتیں ہیں :- ان کے سوا تین صورتیں اور بھی ہیں ، شاہدہ ، طالبہ ، مطلوبہ ۔ طالبہ : جب اس کا کسی پر حق آتا ہو اور بے جائے دعوٰی نہیں ہوسکتا " اھ ( فتاوی رضویہ ج 22 ص 226 : رضا فاؤنڈیشن لاہور )
مذکورہ تصریحات سے معلوم ہوا کہ معتدہ پردے کے ساتھ بورڈ کا امتحان دینے جا سکتی ہے کیونکہ بورڈ کا امتحان دینا ایک قسم حاجت و ضرورت سے ہے اور ضرورت و حاجت کے وقت معتدہ باپردہ گھر سے باہر دن میں جا سکتی ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
الجواب صحیح والمجیب مصیب واللہ اعلم بالصواب محمد اختر رضا خان مصباحی مجددی خادم التدریس و الافتاء دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ویسٹ ممبئی 400102 موبائل نمبر 9773497935
❤3👍1