تیس ہزار (30000) اوراق پر مشتمل تفسیر
ایک دن امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اپنے شاگردوں سے فرمایا کہ اگر میں قرآن کی تفسیر لکھوں تو تم پڑھو گے؟
شاگردوں نے کہا کہ کتنی بڑی تفسیر ہوگی؟
آپ نے فرمایا کہ تیس ہزار اوراق پر مشتمل ہوگی! شاگرد کہنے لگے: حضرت! اتنی لمبی تفسیر پڑھنے کے لیے اتنی لمبی عمر کہاں سے لائیں گے؟ چناں چہ پھر علامہ ابن جریر نے تین ہزار اوراق پر مشتمل تفسیر لکھی-
(متاع وقت اور کاروان علم، ص184 بہ حوالہ علم اور علما کی اہمیت، ص20، شیخ الحدیث والتفسیر مفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ، مکتبہ اہل سنت پاکستان)
@AbdeMustafa عبد مصطفی ✍
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
ایک دن امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اپنے شاگردوں سے فرمایا کہ اگر میں قرآن کی تفسیر لکھوں تو تم پڑھو گے؟
شاگردوں نے کہا کہ کتنی بڑی تفسیر ہوگی؟
آپ نے فرمایا کہ تیس ہزار اوراق پر مشتمل ہوگی! شاگرد کہنے لگے: حضرت! اتنی لمبی تفسیر پڑھنے کے لیے اتنی لمبی عمر کہاں سے لائیں گے؟ چناں چہ پھر علامہ ابن جریر نے تین ہزار اوراق پر مشتمل تفسیر لکھی-
(متاع وقت اور کاروان علم، ص184 بہ حوالہ علم اور علما کی اہمیت، ص20، شیخ الحدیث والتفسیر مفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ، مکتبہ اہل سنت پاکستان)
@AbdeMustafa عبد مصطفی ✍
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
800 جلدوں پر مشتمل کتاب
ہم اگر صحیح سے ایک کتاب لکھنا چاہیں تو سالوں کا وقت صرف مواد جمع کرنے میں گزر جاتا ہے لیکن کچھ ہستیاں ایسی بھی گزری ہیں جنھوں نے میدان تصنیف میں ایسی دھوم مچائی ہے کہ دنیا انھیں بھول نہیں سکتی-
چناں چہ علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ابوالوفاء بن عقیل اللہ کا وہ بندہ ہے جس نے 80 فنون کے بارے میں کتابیں لکھی ہیں اور ان کی ایک کتاب 800 جلدوں میں ہے! اور کہا جاتا ہے کہ دنیا میں لکھی جانے والی کتابوں میں یہ سب سے بڑی کتاب ہے-
(ملخصاً: علم اور علما کی اہمیت، ص20، شیخ الحدیث والتفسیر مفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ، مکتبہ اہل سنت پاکستان)
@AbdeMustafa عبد مصطفی ✍
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
ہم اگر صحیح سے ایک کتاب لکھنا چاہیں تو سالوں کا وقت صرف مواد جمع کرنے میں گزر جاتا ہے لیکن کچھ ہستیاں ایسی بھی گزری ہیں جنھوں نے میدان تصنیف میں ایسی دھوم مچائی ہے کہ دنیا انھیں بھول نہیں سکتی-
چناں چہ علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ابوالوفاء بن عقیل اللہ کا وہ بندہ ہے جس نے 80 فنون کے بارے میں کتابیں لکھی ہیں اور ان کی ایک کتاب 800 جلدوں میں ہے! اور کہا جاتا ہے کہ دنیا میں لکھی جانے والی کتابوں میں یہ سب سے بڑی کتاب ہے-
(ملخصاً: علم اور علما کی اہمیت، ص20، شیخ الحدیث والتفسیر مفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ، مکتبہ اہل سنت پاکستان)
@AbdeMustafa عبد مصطفی ✍
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
عورت کا جوڑا باندھنا کیسا ہے ؟
اور باندھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
Jᴏɪɴ @DaruliftaAhleSunnat
دارالافتاء اہلسنت (دعوتِ اسلامی)
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
اور باندھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
Jᴏɪɴ @DaruliftaAhleSunnat
دارالافتاء اہلسنت (دعوتِ اسلامی)
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
عورت کا جوڑا باندھنا کیسا ہے ؟
اور باندھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
Jᴏɪɴ @DaruliftaAhleSunnat
دارالافتاء اہلسنت (دعوتِ اسلامی)
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
اور باندھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
Jᴏɪɴ @DaruliftaAhleSunnat
دارالافتاء اہلسنت (دعوتِ اسلامی)
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
📚 اسے کہتے ہیں دین کی خدمت ‼️
امام شعرانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ حافظ ابن شاہین کی مسند فی الحدیث سولہ سو (1600) جلدوں پر مشتمل ہے!
اور لکھتے ہیں کہ انھوں نے جو قرآن کی تفسیر لکھی ہے وہ ایک ہزار (1000) جلدوں پر مشتمل ہے! اور اس کے علاوہ آپ کی تین سو تیس کتابیں ہیں!!!
[ 📖 انظر : ارشاد الحیاری 📖 ]
بیان کیا گیا ہے کہ شیخ عبدالغفار قوصی نے مذہب شافعی کے بیان میں ایک ہزار (1000) جلدیں تصنیف فرمائیں!
(ایضاً)
علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ابوالوفاء بن عقیل کی ایک کتاب آٹھ سو (800) جلدوں میں ہے اور آپ نے اسی (80) فنون پر کتابیں لکھی ہیں!
(علم اور علما کی اہمیت)
بیان کیا گیا ہے کہ شیخ ابو الحسن اشعری نے چھے سو (600) جلدوں کی ایک تفسیر لکھی ہے!
شیخ اکبر کی تفسیر سو (100)جلدوں میں ہے!
(ارشاد الحیاری)
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اپنے شاگردوں سے فرمایا تھا کہ میں اگر قرآن کی تفسیر لکھوں تو وہ تیس ہزار (30000) اوراق پر مشتمل ہوگی!
امام محمد رحمہ اللہ کی تالیفات ایک ہزار (1000) کے قریب ہیں!
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اپنی زندگی میں تین لاکھ اٹھاون ہزار (358000) اوراق لکھے!
علامہ باقلانی نے صرف معتزلہ کے رد میں ستر ہزار (70000) اوراق لکھے!
(علم اور علما کی اہمیت)
امام سیوطی رحمہ اللہ کی تصانیف کی تعداد پانچ سو (500) کے قریب ہے جن میں سے بہت سی کئی جلدوں پر مشتمل ہیں!
(ارشاد الحیاری)
امام غزالی رحمہ اللہ نے اٹھتر (78) کتابیں لکھیں جن میں سے صرف "یاقوت التاویل" چالیس (40) جلدوں میں ہے!
مشہور طبیب ابن سینا کی بھی کئی کتابیں ہیں جو کئی جلدوں پر مشتمل ہیں!
حافظ ابن حجر عسقلانی کی "فتح الباری" چودہ (14) جلدوں میں، "تھذیب التھذیب" بارہ (12) جلدوں میں اور "تغلیق التغلیق" پانچ (5) جلدوں میں ہے!
امام احمد رضا خان رحمہ اللہ کی تصانیف 1000 سے زیادہ ہیں!
(علم اور علما کی اہمیت)
اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کے صدقے ہمیں بهی
لِکهنے کی صلاحیت عطا فرمائے - آمین‼️
³⁰ ہزار اوراق پَر مشتمل تفسیر Click
آٹھ سَو جِلدوں پَر مشتمل کتاب Click
@AbdeMustafa عبد مصطفی ✍
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
امام شعرانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ حافظ ابن شاہین کی مسند فی الحدیث سولہ سو (1600) جلدوں پر مشتمل ہے!
اور لکھتے ہیں کہ انھوں نے جو قرآن کی تفسیر لکھی ہے وہ ایک ہزار (1000) جلدوں پر مشتمل ہے! اور اس کے علاوہ آپ کی تین سو تیس کتابیں ہیں!!!
[ 📖 انظر : ارشاد الحیاری 📖 ]
بیان کیا گیا ہے کہ شیخ عبدالغفار قوصی نے مذہب شافعی کے بیان میں ایک ہزار (1000) جلدیں تصنیف فرمائیں!
(ایضاً)
علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ابوالوفاء بن عقیل کی ایک کتاب آٹھ سو (800) جلدوں میں ہے اور آپ نے اسی (80) فنون پر کتابیں لکھی ہیں!
(علم اور علما کی اہمیت)
بیان کیا گیا ہے کہ شیخ ابو الحسن اشعری نے چھے سو (600) جلدوں کی ایک تفسیر لکھی ہے!
شیخ اکبر کی تفسیر سو (100)جلدوں میں ہے!
(ارشاد الحیاری)
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اپنے شاگردوں سے فرمایا تھا کہ میں اگر قرآن کی تفسیر لکھوں تو وہ تیس ہزار (30000) اوراق پر مشتمل ہوگی!
امام محمد رحمہ اللہ کی تالیفات ایک ہزار (1000) کے قریب ہیں!
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اپنی زندگی میں تین لاکھ اٹھاون ہزار (358000) اوراق لکھے!
علامہ باقلانی نے صرف معتزلہ کے رد میں ستر ہزار (70000) اوراق لکھے!
(علم اور علما کی اہمیت)
امام سیوطی رحمہ اللہ کی تصانیف کی تعداد پانچ سو (500) کے قریب ہے جن میں سے بہت سی کئی جلدوں پر مشتمل ہیں!
(ارشاد الحیاری)
امام غزالی رحمہ اللہ نے اٹھتر (78) کتابیں لکھیں جن میں سے صرف "یاقوت التاویل" چالیس (40) جلدوں میں ہے!
مشہور طبیب ابن سینا کی بھی کئی کتابیں ہیں جو کئی جلدوں پر مشتمل ہیں!
حافظ ابن حجر عسقلانی کی "فتح الباری" چودہ (14) جلدوں میں، "تھذیب التھذیب" بارہ (12) جلدوں میں اور "تغلیق التغلیق" پانچ (5) جلدوں میں ہے!
امام احمد رضا خان رحمہ اللہ کی تصانیف 1000 سے زیادہ ہیں!
(علم اور علما کی اہمیت)
اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کے صدقے ہمیں بهی
لِکهنے کی صلاحیت عطا فرمائے - آمین‼️
³⁰ ہزار اوراق پَر مشتمل تفسیر Click
آٹھ سَو جِلدوں پَر مشتمل کتاب Click
@AbdeMustafa عبد مصطفی ✍
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
تیس ہزار (30000) اوراق پر مشتمل تفسیر
ایک دن امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اپنے شاگردوں سے فرمایا کہ اگر میں قرآن کی تفسیر لکھوں تو تم پڑھو گے؟
شاگردوں نے کہا کہ کتنی بڑی تفسیر ہوگی؟
آپ نے فرمایا کہ تیس ہزار اوراق پر مشتمل ہوگی! شاگرد کہنے لگے: حضرت! اتنی…
ایک دن امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اپنے شاگردوں سے فرمایا کہ اگر میں قرآن کی تفسیر لکھوں تو تم پڑھو گے؟
شاگردوں نے کہا کہ کتنی بڑی تفسیر ہوگی؟
آپ نے فرمایا کہ تیس ہزار اوراق پر مشتمل ہوگی! شاگرد کہنے لگے: حضرت! اتنی…
🌷فہرست کتبِ فتاویٰ مع لِنکس
[ فیضان اعلی حضرت لائبریری ]
⚡️ فتاوی رضویہ
✨جلد: ١.١ ✨جلد: ١.٢ ✨جلد: ٢
✨جلد: ٣ ✨جلد: ٤ ✨جلد: ٥
✨جلد: ٦ ✨جلد: ٧ ✨جلد: ٨
✨جلد: ٩ ✨جلد: ١٠ ✨جلد12
✨جلد13 ✨جلد14 ✨جلد15
✨جلد16 ✨جلد17 ✨جلد18
✨جلد19 ✨جلد20 ✨جلد21
✨جلد22 ✨جلد23 ✨جلد24
✨جلد25 ✨جلد26 ✨جلد27
✨جلد28 ✨جلد29 ✨جلد: ٣٠
آپ رحمه الله کی دیگر فتاوی کتب
⚡️فتاوی افریقه ⚡️احکام شریعت ⚡️عرفان شریعت
⚡️ فتاوی مصطفویہ
✨جلد اول
⚡️ فتاوی مفتی اعظم
✨جلد اول ✨جلد دوم ✨جلد سوم ✨جلد چہارم ✨جلد پنجم ✨ جلد ششم ✨جلد ہفتم
⚡️ فتاوی حامدیہ
✨جلد اول
⚡️ فتاوی صدر الافاضل
✨جلد اول
⚡️ فتاوی فیض الرسول
✨جلد اول ✨جلد دوم ✨جلد سوم
⚡️ فتاوی فقیہ ملت
✨جلد اول ✨جلد دوم
⚡️ فتاوی امجدیہ
✨جلد اول ودوم ✨جلد سوم وچہارم
⚡️ فتاوی شارح بخاری
✨جلد اول ✨جلد دوم ✨جلد سوم
⚡️ فتاوی نعیمیہ
✨جلد اول
⚡️ وقار الفتاوی
✨جلد اول ✨جلد دوم ✨جلد سوم
⚡️ فتاوی برکات العلوم
✨جلد اول
⚡️ فتاوی برکاتیہ
✨جلد اول ✨جلد دوم
⚡️ فتاوی مرکز تربیت افتاء
✨جلد اول ✨جلد دوم
⚡️ فتاوی علیمیہ
✨جلد اول ✨جلد دوم
⚡️ فتاوی رضا دار الیتامی
✨️جلد اول
⚡️ فتاوی بدر العلماء
✨جلد اول
⚡️ فتاوی محدث اعظم پاکستان
✨جلد اول
⚡️ فتاوی اویسیہ
✨جلد اول
⚡️ فتاوی مفتی اعظم راجستھان
✨جلد اول
⚡️ فتاوی اجملیہ
✨جلد اول ✨جلد دوم ✨جلد سوم ✨جلد چہارم
⚡️ فتاوی حنفیہ
✨جلد اول
⚡️ فتاوی اکرمی
✨جلد اول
⚡️ فتاوی مشاہدی
✨جلد اول
⚡️ فتاویٰ خلیلیہ 📚
جِلد اوّل / جِلد دوم / جِلد سوم
[ فیضان اعلی حضرت لائبریری ]
⚡️ فتاوی رضویہ
✨جلد: ١.١ ✨جلد: ١.٢ ✨جلد: ٢
✨جلد: ٣ ✨جلد: ٤ ✨جلد: ٥
✨جلد: ٦ ✨جلد: ٧ ✨جلد: ٨
✨جلد: ٩ ✨جلد: ١٠ ✨جلد12
✨جلد13 ✨جلد14 ✨جلد15
✨جلد16 ✨جلد17 ✨جلد18
✨جلد19 ✨جلد20 ✨جلد21
✨جلد22 ✨جلد23 ✨جلد24
✨جلد25 ✨جلد26 ✨جلد27
✨جلد28 ✨جلد29 ✨جلد: ٣٠
آپ رحمه الله کی دیگر فتاوی کتب
⚡️فتاوی افریقه ⚡️احکام شریعت ⚡️عرفان شریعت
⚡️ فتاوی مصطفویہ
✨جلد اول
⚡️ فتاوی مفتی اعظم
✨جلد اول ✨جلد دوم ✨جلد سوم ✨جلد چہارم ✨جلد پنجم ✨ جلد ششم ✨جلد ہفتم
⚡️ فتاوی حامدیہ
✨جلد اول
⚡️ فتاوی صدر الافاضل
✨جلد اول
⚡️ فتاوی فیض الرسول
✨جلد اول ✨جلد دوم ✨جلد سوم
⚡️ فتاوی فقیہ ملت
✨جلد اول ✨جلد دوم
⚡️ فتاوی امجدیہ
✨جلد اول ودوم ✨جلد سوم وچہارم
⚡️ فتاوی شارح بخاری
✨جلد اول ✨جلد دوم ✨جلد سوم
⚡️ فتاوی نعیمیہ
✨جلد اول
⚡️ وقار الفتاوی
✨جلد اول ✨جلد دوم ✨جلد سوم
⚡️ فتاوی برکات العلوم
✨جلد اول
⚡️ فتاوی برکاتیہ
✨جلد اول ✨جلد دوم
⚡️ فتاوی مرکز تربیت افتاء
✨جلد اول ✨جلد دوم
⚡️ فتاوی علیمیہ
✨جلد اول ✨جلد دوم
⚡️ فتاوی رضا دار الیتامی
✨️جلد اول
⚡️ فتاوی بدر العلماء
✨جلد اول
⚡️ فتاوی محدث اعظم پاکستان
✨جلد اول
⚡️ فتاوی اویسیہ
✨جلد اول
⚡️ فتاوی مفتی اعظم راجستھان
✨جلد اول
⚡️ فتاوی اجملیہ
✨جلد اول ✨جلد دوم ✨جلد سوم ✨جلد چہارم
⚡️ فتاوی حنفیہ
✨جلد اول
⚡️ فتاوی اکرمی
✨جلد اول
⚡️ فتاوی مشاہدی
✨جلد اول
⚡️ فتاویٰ خلیلیہ 📚
جِلد اوّل / جِلد دوم / جِلد سوم
Telegram
کتب فتاویٰ 📚 لائبریری
علمائے اہلسنت کی لِکھی ہوئی pdf
فتاویٰ کی کتابیں 📚 چینل لِنک⬇️
🆔 @Kutube_Fataawaa
طالب دعا :
محمد جمال الدین خان
قادری رضوی عفی عنه
Contact Us Telegram 🆔 ↷
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
فتاویٰ کی کتابیں 📚 چینل لِنک⬇️
🆔 @Kutube_Fataawaa
طالب دعا :
محمد جمال الدین خان
قادری رضوی عفی عنه
Contact Us Telegram 🆔 ↷
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
पैग़म्बरे इस्लाम & ह़ुक़ूक़े इन्सानी का तह़फ़्फ़ुज़
2⃣ नूरे ईमान इस्लामिक ओर्गनाइज़ेशन मुम्बई
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
2⃣ नूरे ईमान इस्लामिक ओर्गनाइज़ेशन मुम्बई
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
پیغمبر اسلام اور حقوق انسانی کا تحفظ²
نور ایمان اسلامک آرگنائیزیشن کُرلا ممبئ
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
نور ایمان اسلامک آرگنائیزیشن کُرلا ممبئ
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
سوال : کیا شافعی مسلک
کی لڑکی سے نکاح جائز ہے ؟
جی ہاں حنفی مسلک کا لڑکا شافعی
مسلک کی لڑکی سے شادی کر سکتا ہے
➻═══════════➻
Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
🆔 @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
کی لڑکی سے نکاح جائز ہے ؟
جی ہاں حنفی مسلک کا لڑکا شافعی
مسلک کی لڑکی سے شادی کر سکتا ہے
➻═══════════➻
Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
🆔 @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
کفار سے محبت ‼️ کافروں سے محبت
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کہ کفر کو تو برا جانے مگر اہل اسلام کے مقابلے میں کفار کی مدد کرے - خواہ قرابت داری یا دنیوی لالچ یا کسی اور وجہ سے - سخت حرام ہے - بلکہ اس کا انجام کفر ہے -
[ تفسیر نعیمی جِـ3 صـ422 | کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب صـ431 ]
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کہ کفر کو تو برا جانے مگر اہل اسلام کے مقابلے میں کفار کی مدد کرے - خواہ قرابت داری یا دنیوی لالچ یا کسی اور وجہ سے - سخت حرام ہے - بلکہ اس کا انجام کفر ہے -
[ تفسیر نعیمی جِـ3 صـ422 | کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب صـ431 ]
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
⚡️ كتب فتاوی ⚡️
⚡️دار المصنفین چینل ⚡️
🌷 فتاوی رضویه مکمل
🌷 فتاوی افریقه
🌷 احکام شریعت
🌷 عرفان شریعت
🌷 فتاوی مصطفویه
🌷 فتاوی مفتی اعظم
🌷 فتاوی حامدیه
🌷 فتاوی صدر الافاضل
🌷 فتاوی فیض الرسول
🌷 فتاوی فقیہ ملت
🌷 فتاوی امجدیه
🌷 فتاوی شارح بخاری
🌷 فتاوی نعیمیه
🌷 وقار الفتاوی
🌷 فتاوی برکات العلوم
🌷 فتاوی برکاتیه
🌷 فتاوی مرکز تربیت افتاء
🌷 فتاوی علیمیه
🌷 فتاوی رضا دار الیتامی
🌷 فتاوی بدر العلماء
🌷 فتاوی محدث اعظم
🌷 فتاوی اویسیه
🌷 فتاوی مفتی اعظم پاکستان
🌷 فتاوی حنفیه
🌷 فتاوی اکرمی
🌷 فتاوی مشاہدی
🌷 فتاوی اجملیه
🌷 فتاوی خلیلیه
🌷 فتاوی ملک العلماء
🌷 فتاوی حشمتیه
🌷 فتاوی شرعیه
🌷 فتاوی بریلی شریف
🌷 فتاوی یورپ وبرطانیه
🌷 فتاوی بحر العلوم
🌷 فتاوی نوریه
🌷 حبیب الفتاوی
🌷 فتاوی مسعودی
🌷 فتاوی ارشادیه
🌷 فتاوی یار علویه
🌷 فتاوی نظامیه
🌷 فتاوی حج وعمرہ
🌷 فتاوی دیداریه
🌷 انوار الفتاوی
🌷 فتاوی مہریه
🌷 فتاوی مظہریه
🌷 تحقیق الفتاوی
🌷 فتاوی منصوریه
🌷 فتاوی جماعتیه
🌷 فتاوی خیریه
🌷 فتاوی قادریه
🌷 فتاوی حدیثیه
🌷 مصدقات تاج الشریعه
ضرور فاروڈ کریں
⚡️دار المصنفین چینل ⚡️
🌷 فتاوی رضویه مکمل
🌷 فتاوی افریقه
🌷 احکام شریعت
🌷 عرفان شریعت
🌷 فتاوی مصطفویه
🌷 فتاوی مفتی اعظم
🌷 فتاوی حامدیه
🌷 فتاوی صدر الافاضل
🌷 فتاوی فیض الرسول
🌷 فتاوی فقیہ ملت
🌷 فتاوی امجدیه
🌷 فتاوی شارح بخاری
🌷 فتاوی نعیمیه
🌷 وقار الفتاوی
🌷 فتاوی برکات العلوم
🌷 فتاوی برکاتیه
🌷 فتاوی مرکز تربیت افتاء
🌷 فتاوی علیمیه
🌷 فتاوی رضا دار الیتامی
🌷 فتاوی بدر العلماء
🌷 فتاوی محدث اعظم
🌷 فتاوی اویسیه
🌷 فتاوی مفتی اعظم پاکستان
🌷 فتاوی حنفیه
🌷 فتاوی اکرمی
🌷 فتاوی مشاہدی
🌷 فتاوی اجملیه
🌷 فتاوی خلیلیه
🌷 فتاوی ملک العلماء
🌷 فتاوی حشمتیه
🌷 فتاوی شرعیه
🌷 فتاوی بریلی شریف
🌷 فتاوی یورپ وبرطانیه
🌷 فتاوی بحر العلوم
🌷 فتاوی نوریه
🌷 حبیب الفتاوی
🌷 فتاوی مسعودی
🌷 فتاوی ارشادیه
🌷 فتاوی یار علویه
🌷 فتاوی نظامیه
🌷 فتاوی حج وعمرہ
🌷 فتاوی دیداریه
🌷 انوار الفتاوی
🌷 فتاوی مہریه
🌷 فتاوی مظہریه
🌷 تحقیق الفتاوی
🌷 فتاوی منصوریه
🌷 فتاوی جماعتیه
🌷 فتاوی خیریه
🌷 فتاوی قادریه
🌷 فتاوی حدیثیه
🌷 مصدقات تاج الشریعه
ضرور فاروڈ کریں
Telegram
✾ دار المصنفین | دینی کتب وتحاریر ✾
✾ فتاوی رضویہ ✾
مفتی: امام اہل سنت احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمہ اللہ
@musannifeen
مکمل تیس جلدیں
جلد: ١.١ | جلد ١.٢ | جلد: ٢ | جلد: ٣ | جلد: ٤ | جلد: ٥ | جلد: ٦ | جلد: ٧ | جلد: ٨ | جلد: ٩ | جلد: ١٠ | جلد: ١١ | جلد: ١٢ | جلد: ١٣ | جلد: ١٤ | جلد: ١٥ | جلد:…
مفتی: امام اہل سنت احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمہ اللہ
@musannifeen
مکمل تیس جلدیں
جلد: ١.١ | جلد ١.٢ | جلد: ٢ | جلد: ٣ | جلد: ٤ | جلد: ٥ | جلد: ٦ | جلد: ٧ | جلد: ٨ | جلد: ٩ | جلد: ١٠ | جلد: ١١ | جلد: ١٢ | جلد: ١٣ | جلد: ١٤ | جلد: ١٥ | جلد:…
🌹 اسلام میں منگنی کا حکم 🌹
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین حسب ذیل مسلہ میں کہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا منگنی اسلام میں داخل ہے کہ نہیں
علماء حضرات رہنمائی فرمائیں براے مہربانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✨✨✨✨✨
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب: منگنی اصل میں ایک معاہدہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ لڑکے یا لڑکی کے والدین یا ذمہ دار آپس میں یہ عہد کریں کہ میں آپ کے بیٹے یا بیٹی سے اپنے بیٹے یا بیٹی کا نکاح کروں گا۔ اسی کو اس زمانے میں منگنی کہتے ہیں۔ اگر منگنی اس حد تک ہو اور ہر طرح کے غیر شرعی امور سے پاک ہو تو جائز ہے۔
لیکن آج کل جو رواج ہو گیا ہے کہ کثیر تعداد میں لوگ رشتہ دیکھنے جاتے ہیں یا لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو انگوٹھی پہناتے ہیں یہ ناجائز ہےاور اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ سراسر مغربی تہذیب ہے جو بڑی تیزی کے ساتھ ہمارے اندر داخل ہوتی جا رہی ہے۔ اس لئے ہم پر لازم ہے کہ مغربی تہذیب کو چھوڑ کر شریعت مطہرہ کی پیروی کریں اور "اسوہ حسنہ" کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
📝 محمد التمش الانصاری المصباحی
۲۷/ ربیع النور شریف ۱۴۴۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین حسب ذیل مسلہ میں کہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا منگنی اسلام میں داخل ہے کہ نہیں
علماء حضرات رہنمائی فرمائیں براے مہربانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✨✨✨✨✨
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب: منگنی اصل میں ایک معاہدہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ لڑکے یا لڑکی کے والدین یا ذمہ دار آپس میں یہ عہد کریں کہ میں آپ کے بیٹے یا بیٹی سے اپنے بیٹے یا بیٹی کا نکاح کروں گا۔ اسی کو اس زمانے میں منگنی کہتے ہیں۔ اگر منگنی اس حد تک ہو اور ہر طرح کے غیر شرعی امور سے پاک ہو تو جائز ہے۔
لیکن آج کل جو رواج ہو گیا ہے کہ کثیر تعداد میں لوگ رشتہ دیکھنے جاتے ہیں یا لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو انگوٹھی پہناتے ہیں یہ ناجائز ہےاور اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ سراسر مغربی تہذیب ہے جو بڑی تیزی کے ساتھ ہمارے اندر داخل ہوتی جا رہی ہے۔ اس لئے ہم پر لازم ہے کہ مغربی تہذیب کو چھوڑ کر شریعت مطہرہ کی پیروی کریں اور "اسوہ حسنہ" کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
📝 محمد التمش الانصاری المصباحی
۲۷/ ربیع النور شریف ۱۴۴۰ھ
محترم علمائے اہلسنت❗️
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع
متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارے یہاں نماز کے بعد دُعا میں ‼
صدا سُنیوں پہ ہُو رحمت کی بارِش
وہابی پہ بِجلی گِرا تاج والے !!
❗️کُچھ صلح کلیت قِسم کے لوگ کہتے
ہیں کہ آپ لوگ بَد دُعا کیوں دیتے ہیں ؟
آپ کے نزدیک اگر وہ حق پر نہیں ہیں تو
آپ لوگ ان کے لئے ہدایت کی دُعا کیجِئے
کیا اللہ اور رسول ﷺ یا صحابہ نے ایسا
کیا، لہٰذا مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع
متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارے یہاں نماز کے بعد دُعا میں ‼
صدا سُنیوں پہ ہُو رحمت کی بارِش
وہابی پہ بِجلی گِرا تاج والے !!
❗️کُچھ صلح کلیت قِسم کے لوگ کہتے
ہیں کہ آپ لوگ بَد دُعا کیوں دیتے ہیں ؟
آپ کے نزدیک اگر وہ حق پر نہیں ہیں تو
آپ لوگ ان کے لئے ہدایت کی دُعا کیجِئے
کیا اللہ اور رسول ﷺ یا صحابہ نے ایسا
کیا، لہٰذا مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں
🐾🐾 دیوبندی چڑیا گھر 🐾🐾
سگ مدینہ کہنے پر اعتراض کرنے والوں کے لئے غور کا مقام
1) اشرف علی تھانوی:
میں تو اپنے کو کتوں اور سوروں سے بھی بدتر سمجھتا ہوں اگر کسی کو یقین نہ ہو تو میں اس پر حلف اٹھا سکتا ہوں. (اشرف السوانح،جلد سوم چہارم، ص57)
2) یعقوب نانوتوی:
یہ شیخ زادہ کی قوم بڑی خبیث ہے پھر بےساختہ فرمایا کہ میں بھی خبیث ہوں. (ملفوظات حکیم الامت، جلد 6، ص 300)
3)مسیح الدیوبند:
فرمایا میں تو خنزیر سے بھی حقیر ہوں. (فیضان معرفت، جلد 1، ص 77)
4) حسین احمد ٹانڈوی:
میں اتنا بڑا پیٹ کا کتّا ہوں کہ دینی خدمات دنیا کے بدلہ میں کرتا ہوں (آداب الاختلاف، ص 174)
5) خلیل احمد انبیٹھوی:
میں اپنے آپ کو آپ (گنگوہی) کی روٹیوں پر پلنے والے کتے سے بھی بدتر سمجھتا ہوں. (اکابر کا مقام تواضع، ص168)
6) فضل علی قریشی:
میں تو اس در (خانقاہ موسی زئی) کا کتا ہوں مجھے جوتوں کے قریب بیٹھنا چاہیے. (اکابر کا مقام تواضع، ص 189)
7) عبدالعفور مدنی:
حضرت یہ لوگ مجھے پہچانتے ہیں اس لئے گدھا کہتے ہیں. (اکابر کا مقام تواضع، ص355)
8) قاسم نانوتوی:
امیدوں لاکھوں ہیں میری مگر بڑی ہے یہ
کہ ہو سگان مدینہ میں میرا نام شمار
جیوں تو ساتھ سگان حرم کے تیرے پھروں
مروں تو کھائیں مدینے کے مجھ کو مرغ ومار
(قصائد قاسمی، 5)
بانی فرقہ دیوبند کہتے ہیں یوں تو لاکھوں خواہشیں ہیں لیکن سب سے بڑی یہ خواہش ہے کہ میں گنتی مدینے کے کتوں میں ہو، کتوں کے ساتھ جیوں اور پھروں اور مر جاؤں تو مدینے کے مرغ اور چیونٹیاں مجھ کو کھا جائیں
تبصرہ : بانی دیوبند کی یہ خواہش تو پوری نہیں ہوئی البتہ انہوں نے عقیدہ ختم نبوت پر ڈاکہ ڈال کر خود کو جھنمی مرغ و مار کے حوالے کر دیا.
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@Fmfoundation 🆔 @WahabiExposed
🆔 @RaddeWahabiyat 🆔 @Jawabat
@SharayiAdalatChannelFMfoundation
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
سگ مدینہ کہنے پر اعتراض کرنے والوں کے لئے غور کا مقام
1) اشرف علی تھانوی:
میں تو اپنے کو کتوں اور سوروں سے بھی بدتر سمجھتا ہوں اگر کسی کو یقین نہ ہو تو میں اس پر حلف اٹھا سکتا ہوں. (اشرف السوانح،جلد سوم چہارم، ص57)
2) یعقوب نانوتوی:
یہ شیخ زادہ کی قوم بڑی خبیث ہے پھر بےساختہ فرمایا کہ میں بھی خبیث ہوں. (ملفوظات حکیم الامت، جلد 6، ص 300)
3)مسیح الدیوبند:
فرمایا میں تو خنزیر سے بھی حقیر ہوں. (فیضان معرفت، جلد 1، ص 77)
4) حسین احمد ٹانڈوی:
میں اتنا بڑا پیٹ کا کتّا ہوں کہ دینی خدمات دنیا کے بدلہ میں کرتا ہوں (آداب الاختلاف، ص 174)
5) خلیل احمد انبیٹھوی:
میں اپنے آپ کو آپ (گنگوہی) کی روٹیوں پر پلنے والے کتے سے بھی بدتر سمجھتا ہوں. (اکابر کا مقام تواضع، ص168)
6) فضل علی قریشی:
میں تو اس در (خانقاہ موسی زئی) کا کتا ہوں مجھے جوتوں کے قریب بیٹھنا چاہیے. (اکابر کا مقام تواضع، ص 189)
7) عبدالعفور مدنی:
حضرت یہ لوگ مجھے پہچانتے ہیں اس لئے گدھا کہتے ہیں. (اکابر کا مقام تواضع، ص355)
8) قاسم نانوتوی:
امیدوں لاکھوں ہیں میری مگر بڑی ہے یہ
کہ ہو سگان مدینہ میں میرا نام شمار
جیوں تو ساتھ سگان حرم کے تیرے پھروں
مروں تو کھائیں مدینے کے مجھ کو مرغ ومار
(قصائد قاسمی، 5)
بانی فرقہ دیوبند کہتے ہیں یوں تو لاکھوں خواہشیں ہیں لیکن سب سے بڑی یہ خواہش ہے کہ میں گنتی مدینے کے کتوں میں ہو، کتوں کے ساتھ جیوں اور پھروں اور مر جاؤں تو مدینے کے مرغ اور چیونٹیاں مجھ کو کھا جائیں
تبصرہ : بانی دیوبند کی یہ خواہش تو پوری نہیں ہوئی البتہ انہوں نے عقیدہ ختم نبوت پر ڈاکہ ڈال کر خود کو جھنمی مرغ و مار کے حوالے کر دیا.
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@Fmfoundation 🆔 @WahabiExposed
🆔 @RaddeWahabiyat 🆔 @Jawabat
@SharayiAdalatChannelFMfoundation
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
❤1
🌹 بَینک BANK کا منافع مباح ہے 🌹
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَ رَحْمَةُ اَللهِ و َبَرَكاتُهُ ❗️
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام
مندرجہ مسئلہ ذیل کے بارے میں وہ یہ کہ
ایل آئی سی ( L I C ) یعنی جیون بیمہ اور بینک میں جو جمع فنڈ پر نفع ملتا ہے جیسا کہ کوٸی ایک لاکھ روپیہ جمع کرتا ہے تو اسے ایک سال کے بعد میں مثال کے طور پر پانچ ہزار روپیہ بینک نفع دیتی ہے اسی طرح ( LIC ) جنکے نام سے ہوتا ہے پانچ سال اور ایک سال یا پھر چھ ماہ چلاتا ہے اور اسکا انتقال ہوجاتا ہے تو اسکے گھر والوں کو پانچ سال کا پورا پیسہ ملتا ہے توکیا یہ لینا شریعت کے مطابق جاٸز ہے یا نہیں ؟ برائے کرم جواب عنایت فرمائیں ❗️
➻═════════════➻
الجواب ھو الموفق للحق و الصواب ❗️
ایل آئی سی اور کفّار بینک کا منافع شرعًا سود نہیں اس لیے اسکا لینا اور ہر جائز کام میں صرف کرنا درست ہے !
یاد رہے یہاں کے کافر حربی ہیں اور کافر حربی اور مسلم کے درمیان سود نہیں ہوتا انکا مال معصوم نہیں ہے !
البتہ کفّار سے بد عہدی یا وعدہ خلافی کا ارتکاب ہوتا ہو یا مسلم کی آبرو ریزی کا خطرہ ہو تو انکا بھی مال مباح نہیں !
حدیث شریف میں ہے :
لا ربا بین المسلم و الکافر الحربی
اسلئے أن سےحاصل شدہ رقم جائز و مباح ہے
ھذا ما ظهر لی والعلم عند اللہ
📝حضرت مفتی منظور احمد یارعلوی
دارالعلوم برکاتیہ گلشن نگر جوگیشوری
ممبئی الہند📱+919869391389 📱
الجواب صحیح
✍ العبد الاثیم ابو الفیض سید
شمس الحق برکاتی مصباحی ❗️
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@Fmfoundation 🆔 @WahabiExposed
🆔 @RaddeWahabiyat 🆔 @Jawabat
@SharayiAdalatChannelFMfoundation
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَ رَحْمَةُ اَللهِ و َبَرَكاتُهُ ❗️
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام
مندرجہ مسئلہ ذیل کے بارے میں وہ یہ کہ
ایل آئی سی ( L I C ) یعنی جیون بیمہ اور بینک میں جو جمع فنڈ پر نفع ملتا ہے جیسا کہ کوٸی ایک لاکھ روپیہ جمع کرتا ہے تو اسے ایک سال کے بعد میں مثال کے طور پر پانچ ہزار روپیہ بینک نفع دیتی ہے اسی طرح ( LIC ) جنکے نام سے ہوتا ہے پانچ سال اور ایک سال یا پھر چھ ماہ چلاتا ہے اور اسکا انتقال ہوجاتا ہے تو اسکے گھر والوں کو پانچ سال کا پورا پیسہ ملتا ہے توکیا یہ لینا شریعت کے مطابق جاٸز ہے یا نہیں ؟ برائے کرم جواب عنایت فرمائیں ❗️
➻═════════════➻
الجواب ھو الموفق للحق و الصواب ❗️
ایل آئی سی اور کفّار بینک کا منافع شرعًا سود نہیں اس لیے اسکا لینا اور ہر جائز کام میں صرف کرنا درست ہے !
یاد رہے یہاں کے کافر حربی ہیں اور کافر حربی اور مسلم کے درمیان سود نہیں ہوتا انکا مال معصوم نہیں ہے !
البتہ کفّار سے بد عہدی یا وعدہ خلافی کا ارتکاب ہوتا ہو یا مسلم کی آبرو ریزی کا خطرہ ہو تو انکا بھی مال مباح نہیں !
حدیث شریف میں ہے :
لا ربا بین المسلم و الکافر الحربی
اسلئے أن سےحاصل شدہ رقم جائز و مباح ہے
ھذا ما ظهر لی والعلم عند اللہ
📝حضرت مفتی منظور احمد یارعلوی
دارالعلوم برکاتیہ گلشن نگر جوگیشوری
ممبئی الہند📱+919869391389 📱
الجواب صحیح
✍ العبد الاثیم ابو الفیض سید
شمس الحق برکاتی مصباحی ❗️
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@Fmfoundation 🆔 @WahabiExposed
🆔 @RaddeWahabiyat 🆔 @Jawabat
@SharayiAdalatChannelFMfoundation
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
بَینک Bank سے لُون لینا کیسا ہے ؟
مفتیان کرام کی بارگاہِ میں عرض ہے کہ :
مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں بڑا کرم ہوگا
المستفتی : محمد مجسم القادری
➻═════════════➻
الجواب اولاً تو کافروں کی تین قسمیں ہیں 1 ذمی – 2 مستامن اور 3 حربی = ذمی وه کافر ہیں جو دارالاسلام میں رہتے ہوں اور بادشاهِ اسلام نے ان کی جان و مال کی حفاظت اپنے ذمے لیا ہو اور مستامن وه کافر ہیں کہ کچھ دنوں کے لیے امان لے کر دارالاسلام میں اگئے ہوں
اور ظاہر ہے کہ ہندوستان کے کفار نہ تو ذمی ہیں اور نا مستامن بلکہ وه تیسری قسم یعنی کافر حربی ہیں جیسا کہ رئیس الفقها حضرت ملا جیون رحمة الله علیہ تحریر فرماتے ہیں " ان هم الاحربى وما يعقلها الا العالمون " (تفسیرات احمدیه ص300 )
اور یہاں ہندوستان میں حکومت کافروں کی ہے ۔ اور مسلمان و کافر کے درمیان سود نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے "لا ربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب"
اور دار الحرب کی قید واقعی ہے نہ کہ احترازی لهذا یہاں کی حکومت کے بینکوں سے نفع لینا جائز ہے لیکن اس کو دینا جائز نہیں ہاں اگر تھوڑا نفع دینے میں اپنا نفع زیاده ہو تو جائز ہے ۔ جیسا کہ ردالمحتار میں ہے " الظاھر ان الاباحة یفید نیل المسلم الزیادة وقد الزم الاصحاب فی الدرس ان مرادھم من حل الربا و القمار ما اذا حصلت الزیادة للمسلم " (ردالمحتار، ج 4 ص 188)
لہذا بینک یا کسی کمپنی سے لون لیکر اپنا بِزنس چلانا اس وقت جائز ہے جبکہ اسکی ضرورت ہو یا اسکی حاجت ہو کہ بغیر اسکے کام نہیں چلے گا یا چلے گا لیکن بہت دشواری سے چلےگا اور یہ صورت حاجت شدیده کی ہے اور اس میں نفع مسلم بھی زیاده ہے تو جائز ہے ۔
حضور مفتئ اعظم ہند علیه الرحمه بھی بینک Bank سے لون لینے کی اجازت اس میں مسلمانوں کو نفع کثیر ہونے کی بنا پر دیتے تھے لیکن یہ اجازت مطلقاً نہیں ہے یہ اس طور پر مشروط ہے کہ جس کام کے لیے لون لے رہا ہے یہ اسکی شرعی ضرورت ہو کہ اسکے بغیر کوئی چارا نہ ہو یا ہو کہ کام تو چل جائےگا لیکن بہت مشقت سے چلےگا ۔
اور لیتے وقت اسے پُورا اعتماد ہو کہ مدت مقرره میں قِسطیں ادا کر دیگا تو جائز ہے۔ کہ اس میں بینک کا تھوڑا فائده ہے لیکن مسلمانوں کا نفع زیادہ ہے ۔
اسی طرح فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے کہ " گورنمنٹ کے بینک فاضل مال دینے کی شرط پر قرض لیا تو یہ اس شرط پر ہے کہ بینک کو جو زائد رقم سود دینی پڑتی ہے اس زائد رقم کے برابر یا اس سے زیاده نفع کا حصول یقینی طور پر معلوم ہو جب تو فاضل مال دینے کی شرط پر قرض لینا جائز ہے ورنہ ناجائز " (فتاوی مرکز تربیت افتاء ج 2 )
اور بہار شریعت میں ہے " کہ اگر اس طرح بھی قرض نہ مِل سکے تو صحیح شرعی مجبوری کی صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے " (بہار شریعت ح 11 )
اور الاشباه میں ہے "فى القنية و البغية يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح " ( الاشباه والنظائر ص92 )
اور سرکارِ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیه الرحمه تحریر فرماتے ہیں " سود دینے والا اگر حقیقةً صحیح شرعی مجبوری کے سبب دیتا ہے اس پر الزام نہیں در مختار میں ہے " یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح " اور اگر بلا مجبوری شرعی سود لیتا ہے مثلاً تجارت بڑھانے یا جائداد میں اضافہ کرنے یا محل اونچا بنوانے یا اولاد کی شادی میں بہت کچھ لگانے کے واسطے سودی قرض لیتا ہے تو وه بھی سود کھانے والے کے مثل ہے " (فتاوی رضویہ ج 3 ص 243 )
اور ایسا ہی فتاویٰ فیض الرسول ج² میں ہے
واللہ اعلم بالصواب ✍ کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ
برج جوگیشوری ممبئی +917666456313
شائع کردہ : ← ایف ایم FM فاؤنڈیشن
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@Fmfoundation 🆔 @WahabiExposed
🆔 @RaddeWahabiyat 🆔 @Jawabat
@SharayiAdalatChannelFMfoundation
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
مفتیان کرام کی بارگاہِ میں عرض ہے کہ :
مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں بڑا کرم ہوگا
المستفتی : محمد مجسم القادری
➻═════════════➻
الجواب اولاً تو کافروں کی تین قسمیں ہیں 1 ذمی – 2 مستامن اور 3 حربی = ذمی وه کافر ہیں جو دارالاسلام میں رہتے ہوں اور بادشاهِ اسلام نے ان کی جان و مال کی حفاظت اپنے ذمے لیا ہو اور مستامن وه کافر ہیں کہ کچھ دنوں کے لیے امان لے کر دارالاسلام میں اگئے ہوں
اور ظاہر ہے کہ ہندوستان کے کفار نہ تو ذمی ہیں اور نا مستامن بلکہ وه تیسری قسم یعنی کافر حربی ہیں جیسا کہ رئیس الفقها حضرت ملا جیون رحمة الله علیہ تحریر فرماتے ہیں " ان هم الاحربى وما يعقلها الا العالمون " (تفسیرات احمدیه ص300 )
اور یہاں ہندوستان میں حکومت کافروں کی ہے ۔ اور مسلمان و کافر کے درمیان سود نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے "لا ربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب"
اور دار الحرب کی قید واقعی ہے نہ کہ احترازی لهذا یہاں کی حکومت کے بینکوں سے نفع لینا جائز ہے لیکن اس کو دینا جائز نہیں ہاں اگر تھوڑا نفع دینے میں اپنا نفع زیاده ہو تو جائز ہے ۔ جیسا کہ ردالمحتار میں ہے " الظاھر ان الاباحة یفید نیل المسلم الزیادة وقد الزم الاصحاب فی الدرس ان مرادھم من حل الربا و القمار ما اذا حصلت الزیادة للمسلم " (ردالمحتار، ج 4 ص 188)
لہذا بینک یا کسی کمپنی سے لون لیکر اپنا بِزنس چلانا اس وقت جائز ہے جبکہ اسکی ضرورت ہو یا اسکی حاجت ہو کہ بغیر اسکے کام نہیں چلے گا یا چلے گا لیکن بہت دشواری سے چلےگا اور یہ صورت حاجت شدیده کی ہے اور اس میں نفع مسلم بھی زیاده ہے تو جائز ہے ۔
حضور مفتئ اعظم ہند علیه الرحمه بھی بینک Bank سے لون لینے کی اجازت اس میں مسلمانوں کو نفع کثیر ہونے کی بنا پر دیتے تھے لیکن یہ اجازت مطلقاً نہیں ہے یہ اس طور پر مشروط ہے کہ جس کام کے لیے لون لے رہا ہے یہ اسکی شرعی ضرورت ہو کہ اسکے بغیر کوئی چارا نہ ہو یا ہو کہ کام تو چل جائےگا لیکن بہت مشقت سے چلےگا ۔
اور لیتے وقت اسے پُورا اعتماد ہو کہ مدت مقرره میں قِسطیں ادا کر دیگا تو جائز ہے۔ کہ اس میں بینک کا تھوڑا فائده ہے لیکن مسلمانوں کا نفع زیادہ ہے ۔
اسی طرح فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے کہ " گورنمنٹ کے بینک فاضل مال دینے کی شرط پر قرض لیا تو یہ اس شرط پر ہے کہ بینک کو جو زائد رقم سود دینی پڑتی ہے اس زائد رقم کے برابر یا اس سے زیاده نفع کا حصول یقینی طور پر معلوم ہو جب تو فاضل مال دینے کی شرط پر قرض لینا جائز ہے ورنہ ناجائز " (فتاوی مرکز تربیت افتاء ج 2 )
اور بہار شریعت میں ہے " کہ اگر اس طرح بھی قرض نہ مِل سکے تو صحیح شرعی مجبوری کی صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے " (بہار شریعت ح 11 )
اور الاشباه میں ہے "فى القنية و البغية يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح " ( الاشباه والنظائر ص92 )
اور سرکارِ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیه الرحمه تحریر فرماتے ہیں " سود دینے والا اگر حقیقةً صحیح شرعی مجبوری کے سبب دیتا ہے اس پر الزام نہیں در مختار میں ہے " یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح " اور اگر بلا مجبوری شرعی سود لیتا ہے مثلاً تجارت بڑھانے یا جائداد میں اضافہ کرنے یا محل اونچا بنوانے یا اولاد کی شادی میں بہت کچھ لگانے کے واسطے سودی قرض لیتا ہے تو وه بھی سود کھانے والے کے مثل ہے " (فتاوی رضویہ ج 3 ص 243 )
اور ایسا ہی فتاویٰ فیض الرسول ج² میں ہے
واللہ اعلم بالصواب ✍ کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ
برج جوگیشوری ممبئی +917666456313
شائع کردہ : ← ایف ایم FM فاؤنڈیشن
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@Fmfoundation 🆔 @WahabiExposed
🆔 @RaddeWahabiyat 🆔 @Jawabat
@SharayiAdalatChannelFMfoundation
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═════════════➻
حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ
اور دھوبی کا جھوٹا واقعہ ‼️
بیان کیا جاتا ہے کہ حضور غوث پاک علیہ الرحمہ کا ایک دھوبی تھا، جب اس کا انتقال ہوا تو قبر میں فرشتوں نے اس سے سوال کیے جیسا کہ سب سے کرتے ہیں- اس نے ہر سوال کے جواب میں کہا کہ "میں غوث پاک کا دھوبی ہوں" اور اسے بخش دیا گیا-
اس روایت کے متعلق فقیہ ملت، حضرت علامہ مفتی محمد جلال الدین احمد امجدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ روایت بے اصل ہے- اس کا بیان کرنا درست نہیں لہذا جس نے اسے بیان کیا وہ اس سے رجوع کرے اور آئندہ اس روایت کے نہ بیان کرنے کا عہد کرے، اگر وہ ایسا نہ کرے تو کسی معتمد کتاب سے اس روایت کو ثابت کرے-
(انظر: فتاوی فقیہ ملت، کتاب الشتی، ج2، ص411، ط شبیر برادرز لاہور، س2005ء)
شارح بخاری، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ حکایت نہ مَیں نے کسی کتاب میں دیکھی ہے اور نہ کسی سے سنی ہے- احادیث میں تصریح ہے کہ اگر (مرنے والا) مومن ہوتا ہے تو قبر کے تینوں بنیادی سوالوں کا جواب دے دیتا ہے، منافق یا کافر ہوتا ہے تو یہ کہتا ہے کہ ہاے ہاے میں نہیں جانتا لہذا یہ روایت حدیث کے خلاف ہے مگر یہ بات حق ہے کہ حضرات اولیاے کرام، ائمۂ دین، بزرگان دین اپنے مریدین، معتقدین اور متعلقین کی قبروں میں نکیرین کے سوالات کے وقت تشریف لاتے ہیں اور جواب میں آسانی پیدا کرتے ہیں-
(ملخصاً و ملتقطاً: فتاوی شارح بخاری، کتاب العقائد، ج2، ص125، ط دائرۃ البرکات گھوسی، س1433ھ)
مفتی اعظم ہالینڈ، حضرت علامہ مفتی عبد الواجد قادری رحمہ اللہ مذکورہ روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ غالباً یہی واقعہ یا اس کے مثل "تفریح الخاطر" میں ہے لیکن اس کے بیان میں تحقیق ضروری ہے- یوں ہی مبہم طور پر بلا توضیح کے بیان کرنا خلاف احتیاط ہے جس سے بچنا ضروری ہے-
(انظر: فتاوی یورپ، کتاب الصلوٰۃ، ص220)
حضرت مولانا محمد اجمل عطاری صاحب اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فقیہ ملت کا قول بیان کرتے ہیں کہ روایت مذکورہ بے اصل ہے- اس کا بیان کرنا درست نہیں لہذا جس نے اسے بیان کیا وہ اس سے رجوع کرے.... الخ
(انظر: امام الاولیاء، ص70، ط مکتبہ اعلی حضرت لاہور، س1433ھ)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa عبد مصطفی ✍
Channel @AbdeMustafaOfficial
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
اور دھوبی کا جھوٹا واقعہ ‼️
بیان کیا جاتا ہے کہ حضور غوث پاک علیہ الرحمہ کا ایک دھوبی تھا، جب اس کا انتقال ہوا تو قبر میں فرشتوں نے اس سے سوال کیے جیسا کہ سب سے کرتے ہیں- اس نے ہر سوال کے جواب میں کہا کہ "میں غوث پاک کا دھوبی ہوں" اور اسے بخش دیا گیا-
اس روایت کے متعلق فقیہ ملت، حضرت علامہ مفتی محمد جلال الدین احمد امجدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ روایت بے اصل ہے- اس کا بیان کرنا درست نہیں لہذا جس نے اسے بیان کیا وہ اس سے رجوع کرے اور آئندہ اس روایت کے نہ بیان کرنے کا عہد کرے، اگر وہ ایسا نہ کرے تو کسی معتمد کتاب سے اس روایت کو ثابت کرے-
(انظر: فتاوی فقیہ ملت، کتاب الشتی، ج2، ص411، ط شبیر برادرز لاہور، س2005ء)
شارح بخاری، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ حکایت نہ مَیں نے کسی کتاب میں دیکھی ہے اور نہ کسی سے سنی ہے- احادیث میں تصریح ہے کہ اگر (مرنے والا) مومن ہوتا ہے تو قبر کے تینوں بنیادی سوالوں کا جواب دے دیتا ہے، منافق یا کافر ہوتا ہے تو یہ کہتا ہے کہ ہاے ہاے میں نہیں جانتا لہذا یہ روایت حدیث کے خلاف ہے مگر یہ بات حق ہے کہ حضرات اولیاے کرام، ائمۂ دین، بزرگان دین اپنے مریدین، معتقدین اور متعلقین کی قبروں میں نکیرین کے سوالات کے وقت تشریف لاتے ہیں اور جواب میں آسانی پیدا کرتے ہیں-
(ملخصاً و ملتقطاً: فتاوی شارح بخاری، کتاب العقائد، ج2، ص125، ط دائرۃ البرکات گھوسی، س1433ھ)
مفتی اعظم ہالینڈ، حضرت علامہ مفتی عبد الواجد قادری رحمہ اللہ مذکورہ روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ غالباً یہی واقعہ یا اس کے مثل "تفریح الخاطر" میں ہے لیکن اس کے بیان میں تحقیق ضروری ہے- یوں ہی مبہم طور پر بلا توضیح کے بیان کرنا خلاف احتیاط ہے جس سے بچنا ضروری ہے-
(انظر: فتاوی یورپ، کتاب الصلوٰۃ، ص220)
حضرت مولانا محمد اجمل عطاری صاحب اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فقیہ ملت کا قول بیان کرتے ہیں کہ روایت مذکورہ بے اصل ہے- اس کا بیان کرنا درست نہیں لہذا جس نے اسے بیان کیا وہ اس سے رجوع کرے.... الخ
(انظر: امام الاولیاء، ص70، ط مکتبہ اعلی حضرت لاہور، س1433ھ)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa عبد مصطفی ✍
Channel @AbdeMustafaOfficial
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
کیا حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ
اور سرکار غریب نواز رضی اللہ عنہ
دونوں بزرگوں کی ملاقات ہُوئی ہے؟
➻════════════➻
چند غیر معتبر کتابوں میں اس طرح کے واقعات درج ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور غوث اعظم اور سرکار غریب نواز اجمیری علیہم الرحمہ کی ملاقات ہوئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں بزرگوں کی ملاقات ثابت نہیں - اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضور شارح بخاری، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :
اس پر سارے مؤرخین کا اتفاق ہے کہ سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وِصال 561ھ میں ہوا ہے، اس پر بھی قریب قریب اتفاق ہے کہ حضرت غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت 537ھ میں ہوئی اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ حضرت غریب نواز نے 15 سال کی عمر سے علمِ ظاہری کے حصول کے لیے سفر کیا - ایک مدت تک آپ سمرقند و بخارا میں عِلم حاصل کرتے رہے- علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد مرشد کی تلاش میں نکلے پھر بیس سال تک مرشد کی خدمت میں حاضر رہے- بیس سال کے بعد خلافت سے سرفراز فرمائے گئے پھر مدینۂ منورہ میں حاضر ہوئے اور سرکارِ اعظم ﷺ نے ہندوستان کی وِلایت عطا فرمائی-
اب حساب لگائیں کہ 15 سال کی عمر تک حضرت غریب نواز اپنے وطن میں رہے اور بیس سال تک علمِ ظاہر طلب فرماتے رہے تو یہ (15+20) 35 سال ہو گئے- 537ھ میں ولادت ہوئی، 35 سال تک علم ظاہر کی طلب میں رہے (537+35) یعنی 572ھ مِیں آپ نے عراق کا رخ کیا جب کہ سرکار غوث اعظم کا وِصال 561ھ میں ہو چکا تھا یعنی حضرت خواجہ اجمیری نے جب عراق کا رخ کیا اس سے 11 سال پہلے حضور غوث پاک کا وصال ہو چکا تھا پھر ملاقات کیسے ہوئی ؟
(ملخصاً و ملتقطاً : فتاویٰ شارح بخاری، ج2، ص128 تا 131، ط دائرۃ البرکات گھوسی، س1433ھ)
مذکورہ تفصیل سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ سرکار غوث اعظم اور سرکار غریب نواز اجمیری علیھم الرحمہ کی ملاقات ثابت نہیں -
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa عبد مصطفی ✍
Channel @AbdeMustafaOfficial
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
اور سرکار غریب نواز رضی اللہ عنہ
دونوں بزرگوں کی ملاقات ہُوئی ہے؟
➻════════════➻
چند غیر معتبر کتابوں میں اس طرح کے واقعات درج ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور غوث اعظم اور سرکار غریب نواز اجمیری علیہم الرحمہ کی ملاقات ہوئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں بزرگوں کی ملاقات ثابت نہیں - اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضور شارح بخاری، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :
اس پر سارے مؤرخین کا اتفاق ہے کہ سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وِصال 561ھ میں ہوا ہے، اس پر بھی قریب قریب اتفاق ہے کہ حضرت غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت 537ھ میں ہوئی اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ حضرت غریب نواز نے 15 سال کی عمر سے علمِ ظاہری کے حصول کے لیے سفر کیا - ایک مدت تک آپ سمرقند و بخارا میں عِلم حاصل کرتے رہے- علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد مرشد کی تلاش میں نکلے پھر بیس سال تک مرشد کی خدمت میں حاضر رہے- بیس سال کے بعد خلافت سے سرفراز فرمائے گئے پھر مدینۂ منورہ میں حاضر ہوئے اور سرکارِ اعظم ﷺ نے ہندوستان کی وِلایت عطا فرمائی-
اب حساب لگائیں کہ 15 سال کی عمر تک حضرت غریب نواز اپنے وطن میں رہے اور بیس سال تک علمِ ظاہر طلب فرماتے رہے تو یہ (15+20) 35 سال ہو گئے- 537ھ میں ولادت ہوئی، 35 سال تک علم ظاہر کی طلب میں رہے (537+35) یعنی 572ھ مِیں آپ نے عراق کا رخ کیا جب کہ سرکار غوث اعظم کا وِصال 561ھ میں ہو چکا تھا یعنی حضرت خواجہ اجمیری نے جب عراق کا رخ کیا اس سے 11 سال پہلے حضور غوث پاک کا وصال ہو چکا تھا پھر ملاقات کیسے ہوئی ؟
(ملخصاً و ملتقطاً : فتاویٰ شارح بخاری، ج2، ص128 تا 131، ط دائرۃ البرکات گھوسی، س1433ھ)
مذکورہ تفصیل سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ سرکار غوث اعظم اور سرکار غریب نواز اجمیری علیھم الرحمہ کی ملاقات ثابت نہیں -
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa عبد مصطفی ✍
Channel @AbdeMustafaOfficial
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
تفریح الخاطر میں ایک جھوٹی روایت
➻════════════➻
مشہور کتاب تفریح الخاطر میں حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی نسبت سے یہ روایت داخل ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک خادم فوت ہو گیا- اس کی بیوی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آہ و زاری کرنے لگی- اس نے آپ سے اپنے شوہر کو زندہ کرنے کی التجا کی- آپ نے علمِ باطن سے دیکھا کہ ملک الموت اس دن قبض کی گئی تمام روحوں کو لے کر آسمان پر جا رہے ہیں- آپ نے اسے روکا اور کہا کہ میرے خادم کی روح واپس کر دو تو ملک الموت نے یہ کَہ کر منع کر دیا کہ میں نے یہ روحیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے قبض کی ہیں-
جب ملک الموت نے روح واپس نہیں کی تو آپ نے اس سے روحوں کی ٹوکری (جس میں اس دن قبض کی گئی تمام روحیں تھیں، وہ) چھین لی! اس سے ہوا یہ کہ جتنی روحیں تھیں وہ سب اپنے اپنے جسموں میں واپس چلی گئیں-
ملک الموت نے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کی : مولا تُو تو جانتا ہے جو تکرار آج میرے اور عبد القادر کے درمیان ہوئی، اس نے تمام ارواح چھین لیں-
اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے ملک الموت بے شک عبد القادر میرا محبوب ہے- تو نے اس کے خادم کی روح کو واپس کیوں نہیں کیا ؟ اگر ایک روح کو واپس کر دیتے تو اتنی روحیں اپنے ہاتھوں سے دے کر پریشان نہ ہوتے-
(ملخصاً : تفریح الخاطر فی مناقب الشیخ عبد القادر، المنقبۃ الثامنۃ، ص68، ط قادری رضوی کتب خانہ لاہور)
اسی روایت کے بارے میں امام اہل سنت، سرکارِ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا گیا، بس فرق اتنا ہے کہ یہاں خادم کی بیوی کا ذِکر ہے اور سوال میں خادم کے بیٹے کا- سوال میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جب ملک الموت نے روح واپس کرنے سے انکار کیا تو حضور غوث پاک نے انھیں ایک تھپّڑ مارا جس کی وجہ سے ملک الموت کی آنکھ باہر نکل گئی!
سرکارِ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ یہ روایت ابلیس کی گڑھی ہُوئی ہے اور اس کا پڑھنا اور سُننا دونوں حرام ! احمق، جاہل، بے ادب یہ سمجھتا ہے کہ (اس روایت کو بیان کر کے) حضرت غوث اعظم کی تعظیم کرتا ہے حالانکہ وہ حضور کی سخت توہین کر رہا ہے-
(انظر: فتاویٰ رضویہ، ج29، ص630، ط رضا فاؤنڈیشن لاہور، س1426ھ)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa عبد مصطفی ✍
Channel @AbdeMustafaOfficial
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
➻════════════➻
مشہور کتاب تفریح الخاطر میں حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی نسبت سے یہ روایت داخل ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک خادم فوت ہو گیا- اس کی بیوی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آہ و زاری کرنے لگی- اس نے آپ سے اپنے شوہر کو زندہ کرنے کی التجا کی- آپ نے علمِ باطن سے دیکھا کہ ملک الموت اس دن قبض کی گئی تمام روحوں کو لے کر آسمان پر جا رہے ہیں- آپ نے اسے روکا اور کہا کہ میرے خادم کی روح واپس کر دو تو ملک الموت نے یہ کَہ کر منع کر دیا کہ میں نے یہ روحیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے قبض کی ہیں-
جب ملک الموت نے روح واپس نہیں کی تو آپ نے اس سے روحوں کی ٹوکری (جس میں اس دن قبض کی گئی تمام روحیں تھیں، وہ) چھین لی! اس سے ہوا یہ کہ جتنی روحیں تھیں وہ سب اپنے اپنے جسموں میں واپس چلی گئیں-
ملک الموت نے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کی : مولا تُو تو جانتا ہے جو تکرار آج میرے اور عبد القادر کے درمیان ہوئی، اس نے تمام ارواح چھین لیں-
اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے ملک الموت بے شک عبد القادر میرا محبوب ہے- تو نے اس کے خادم کی روح کو واپس کیوں نہیں کیا ؟ اگر ایک روح کو واپس کر دیتے تو اتنی روحیں اپنے ہاتھوں سے دے کر پریشان نہ ہوتے-
(ملخصاً : تفریح الخاطر فی مناقب الشیخ عبد القادر، المنقبۃ الثامنۃ، ص68، ط قادری رضوی کتب خانہ لاہور)
اسی روایت کے بارے میں امام اہل سنت، سرکارِ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا گیا، بس فرق اتنا ہے کہ یہاں خادم کی بیوی کا ذِکر ہے اور سوال میں خادم کے بیٹے کا- سوال میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جب ملک الموت نے روح واپس کرنے سے انکار کیا تو حضور غوث پاک نے انھیں ایک تھپّڑ مارا جس کی وجہ سے ملک الموت کی آنکھ باہر نکل گئی!
سرکارِ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ یہ روایت ابلیس کی گڑھی ہُوئی ہے اور اس کا پڑھنا اور سُننا دونوں حرام ! احمق، جاہل، بے ادب یہ سمجھتا ہے کہ (اس روایت کو بیان کر کے) حضرت غوث اعظم کی تعظیم کرتا ہے حالانکہ وہ حضور کی سخت توہین کر رہا ہے-
(انظر: فتاویٰ رضویہ، ج29، ص630، ط رضا فاؤنڈیشن لاہور، س1426ھ)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa عبد مصطفی ✍
Channel @AbdeMustafaOfficial
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
❤1
¹² بارہ سال پہلے ڈوبی ہُوئی بارات !!
غوث الاعظم کی طرف منسوب واقعہ
➻════════════➻
چند کتابوں میں حضور غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک کرامت کا ذِکر ملتا ہے کہ آپ نے بارہ سال پہلے ڈوبی ہوئی بارات کو واپس نِکال دِیا- یہ روایت عوام و خواص میں بہت مشہور ہے لہذا مکمل واقعہ لکھنے کی ضرورت نہیں-
اس روایت پر گفتگو کرتے ہوئے خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ سید دیدار علی شاہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی کرامات درجۂ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں جیسا کہ امام یافعی نے لکھا ہے کہ "آپ کی کرامات متواتر یا تواتر کے قریب ہیں اور علماء کے اتفاق سے یہ امر معلوم ہے کہ آپ کی مانند کرامات کا ظہور آپ کے بغیر آفاق کے مشائخ میں سے کسی سے نہیں ہوا" مگر یہ بارات والی روایت کسی معتبر نے نہیں لکھی لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ اس درجے کے نہ تھے- اکثر میلاد خواں (مقررین) واقف نہ ہونے کی وجہ سے مہمل روایات اولیاء و انبیاء کی طرف منسوب کر دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ یہاں غلط ہے تو بھی ان کی تعریف پوری ہم نے کر دی- یہ ثواب کی توقع بھی کرتے ہیں، خیر خدا ان پر رحم کرے -
ہزاروں کرامات اولیاء اللہ علیہم الرحمہ سے اور اصحابِ رسول (صحابۂ کرام) علیہم الرضوان سے ظاہر نہ ہوئیں تو کیا جھوٹی روایت کَہ دینے سے ان کا رُتبہ بڑھ جائے گا ؟ ہرگز نہیں ؛ اصحابِ رسول تمام غوث و قطب و اولیاء سے افضل ہیں اور تحقیق سے ثابت ہے کہ اولیاء اللہ کی کرامات اکثر اصحاب سے زیادہ ہیں- بہر حال یہ روایت کسی معتبر نے نہیں لکھی ہے اور امکان عقلی سے کوئی امر یقینی نہیں ہو سکتی- ہاں جو شخص منکر کرامات غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ہے وہ خطاکار ہو گیا کیوں کہ تواتر سے ثابت ہے-
(ملخصاً : فتاویٰ دیداریہ، صفحہ45)
امام اہل سنت، سرکارِ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ سے جب اس روایت کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اگرچہ یہ روایت نظر سے کسی کتاب میں نہ گزری مگر زبان پر مشہور ہے اور اس میں کوئی امر خلاف شرع نہیں لہذا اس کا انکار نہ کیا جائے-
(انظر: فتاویٰ رضویہ، ج29، ص630، ط رضا فاؤنڈیشن لاہور، س1426ھ)
معلوم ہوا کہ اس روایت کا کوئی معتبر و مستند ماخذ موجود نہیں اور ایک پہلو یہ ہے کہ بہ قول امام اہل سنت اس روایت کا انکار بھی نہ کیا جائے لیکن پھر بھی ہَم کہتے ہیں کہ زیادہ مناسب یہی ہے کہ ایسی روایات کو بیان کرنے سے پرہیز کیا جائے- حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل بیان کرنے کے لیے دیگر صحیح روایات کو شامل بیان کیا جائے-
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa عبد مصطفی ✍
Channel @AbdeMustafaOfficial
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
غوث الاعظم کی طرف منسوب واقعہ
➻════════════➻
چند کتابوں میں حضور غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک کرامت کا ذِکر ملتا ہے کہ آپ نے بارہ سال پہلے ڈوبی ہوئی بارات کو واپس نِکال دِیا- یہ روایت عوام و خواص میں بہت مشہور ہے لہذا مکمل واقعہ لکھنے کی ضرورت نہیں-
اس روایت پر گفتگو کرتے ہوئے خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ سید دیدار علی شاہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی کرامات درجۂ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں جیسا کہ امام یافعی نے لکھا ہے کہ "آپ کی کرامات متواتر یا تواتر کے قریب ہیں اور علماء کے اتفاق سے یہ امر معلوم ہے کہ آپ کی مانند کرامات کا ظہور آپ کے بغیر آفاق کے مشائخ میں سے کسی سے نہیں ہوا" مگر یہ بارات والی روایت کسی معتبر نے نہیں لکھی لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ اس درجے کے نہ تھے- اکثر میلاد خواں (مقررین) واقف نہ ہونے کی وجہ سے مہمل روایات اولیاء و انبیاء کی طرف منسوب کر دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ یہاں غلط ہے تو بھی ان کی تعریف پوری ہم نے کر دی- یہ ثواب کی توقع بھی کرتے ہیں، خیر خدا ان پر رحم کرے -
ہزاروں کرامات اولیاء اللہ علیہم الرحمہ سے اور اصحابِ رسول (صحابۂ کرام) علیہم الرضوان سے ظاہر نہ ہوئیں تو کیا جھوٹی روایت کَہ دینے سے ان کا رُتبہ بڑھ جائے گا ؟ ہرگز نہیں ؛ اصحابِ رسول تمام غوث و قطب و اولیاء سے افضل ہیں اور تحقیق سے ثابت ہے کہ اولیاء اللہ کی کرامات اکثر اصحاب سے زیادہ ہیں- بہر حال یہ روایت کسی معتبر نے نہیں لکھی ہے اور امکان عقلی سے کوئی امر یقینی نہیں ہو سکتی- ہاں جو شخص منکر کرامات غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ہے وہ خطاکار ہو گیا کیوں کہ تواتر سے ثابت ہے-
(ملخصاً : فتاویٰ دیداریہ، صفحہ45)
امام اہل سنت، سرکارِ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ سے جب اس روایت کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اگرچہ یہ روایت نظر سے کسی کتاب میں نہ گزری مگر زبان پر مشہور ہے اور اس میں کوئی امر خلاف شرع نہیں لہذا اس کا انکار نہ کیا جائے-
(انظر: فتاویٰ رضویہ، ج29، ص630، ط رضا فاؤنڈیشن لاہور، س1426ھ)
معلوم ہوا کہ اس روایت کا کوئی معتبر و مستند ماخذ موجود نہیں اور ایک پہلو یہ ہے کہ بہ قول امام اہل سنت اس روایت کا انکار بھی نہ کیا جائے لیکن پھر بھی ہَم کہتے ہیں کہ زیادہ مناسب یہی ہے کہ ایسی روایات کو بیان کرنے سے پرہیز کیا جائے- حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل بیان کرنے کے لیے دیگر صحیح روایات کو شامل بیان کیا جائے-
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa عبد مصطفی ✍
Channel @AbdeMustafaOfficial
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
📖 دعائے گنج العرش مترجم 📖
مکمل دُعا صِرف ایک ہی صفحہ میں
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
مکمل دُعا صِرف ایک ہی صفحہ میں
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻