🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت بہاول شیر قلندر قادری رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:
اسم گرامی: سید بہاء الدین گیلانی۔لقب:بہاول شیر قلندر حجروی۔

سلسلہ نسب اس طرح ہے:
سید بہاول شاہ بن سید محمود بن سید علاؤالدین المشہور زین العابدین بن سید مسیح الدین(۱) بن سید صدرالدین بن سید ظہیر الدین بن سید شمس الدین بن مؤمن بن سید مشتاق بن سید علی بن سید صالح بن سید قطب الدین بن سید عبدالرزاق بن محبوبِ سبحانی حضرت غوث الاعظم سید شیخ عبدالقادرجیلانی علیہم الرحمۃ والرضوان۔(حدیقۃ الاولیاء:34/تذکرۂ مقیمی:20/انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام:107)۔

آپ کےوالد ماجد اور پھوپھی تبلیغِ اسلام کی غرض سےہندوستان میں قصبہ بدایوں میں وارد ہوئے تھے۔آپ کےوالد گرامی اپنےوقت کےجید عالم وعارف تھے۔عبادت وریاضت زہدوتقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔آج بھی ان کامزار بدایوں میں مرجعِ خلائق ہے۔(انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام:107)

(۱)صرف تذکرۂ مقیمی میں سید مسیح الدین کی جگہ سید فتح اللہ آیا ہے،ہوسکتاہے کہ یہ لقب ہو۔(تونسوی ؔ غفرلہ) تاریخِ ولادت: مؤرخ اہل سنت مفتی غلام سرور لاہوری﷫ نےحدیقۃ الاولیاء میں تحریر فرمایا ہے: کہ آپ کی عمر مبارک دوسو پچاس برس ہوئی،اور وصال 973ھ میں ہوا،تو اس لحاظ سےتاریخِ ولادت 723ھ، مطابق 1323ء بنتی ہے۔

آپ کی پیدائش بغداد معلیٰ میں ہوئی۔ کم سنی میں میں والد کےہمراہ ہندوستان ورود ہوا تھا۔(حدیقۃ الاولیاء:35)

تحصیلِ علم:
تعلیم و تربیت اپنے پدر بزرگوار سے پائی تھی۔ اِن کی وفات کے بعد پھوپھی نے جو اپنے وقت کی زاہدہ و عابدہ خاتون تھیں۔ انھوں نے اپنے سایۂ عاطفت میں لے لیا۔ تعلیم وتربیت پرخصوصی توجہ دی اوراس ذمہ داری کواحسن انداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔اس وقت کےعلوم مروجہ کی تعلیم کی تکمیل فرمائی۔(حدیقۃ الاولیاء:35)

بیعت وخلافت:
آپ سلسلہ عالیہ قادریہ میں شیخ عبدالجلال صحرائی﷫ کےخلیفہ تھے۔آپ کاسلسلہ طریقت صرف نوواسطوں سےحضرت شہنشاہ بغداد ﷫سےمتصل ہوتاہے۔

سیرت وخصائص:
غوث الوقت،قطب الاقطاب،رئیس الابدال،صاحبِ نسبتِ غوثیہ،مردِ قلندر، حضرت سید بہاء الدین گیلانی المعروف بہاول شیر قلندر﷫۔آپ﷫علم و فضل،زہدو تقدس،عبادت و مجاہدہ اور خوارق و کرامت میں مشائخ قادریہ میں درجۂ بلند رکھتے تھے۔ جذب و سکر اور ذوق و شوق کا طبیعت پر بے حد غلبہ تھا۔ آپ نے بڑی طویل عمر پائی تھی۔ کہا جاتا ہے مشائخ قادریہ میں سے آج تک کسی نے اتنی بڑی عمر نہیں پائی۔ روایت ہے ایک سو برس کی عمر میں آپ کی داڑھی نکلی تھی۔ تین مرتبہ بارہ بارہ سال کی خلوت میں بیٹھے تھے۔ ایک دفعہ حالتِ استغراق و جذب و سکر میں اتنا طویل عرصہ ایک غار میں بیٹھے کہ جس پتھر کے ساتھ پشت تکیہ گاہ تھی جب وہاں سے اٹھے تو پشت کا کچھ چمڑہ اس پتھر کے ساتھ لگا رہ گیا ۔

یہ بھی روایت ہےکہ ایک دفعہ آپ خلوت سے اٹھ کر اس مقام پر آبیٹھے جہاں اب قصبہ حجرہ آباد ہے۔ اُس وقت یہاں دریا بہتا تھا۔ دریا کے کنارے پر آپ نے حجرہ و خانقاہ تعمیر کیا اور سکونت پذیر ہوگئے۔ زمیندارانِ قوم دھُول جن کی ملکیت میں وہ زمین تھی آپ کو وہاں سے اُٹھ جانے کے لیے کہا۔ حضرت نے وہاں سے کچھ دُور جاکر قیام کرلیا۔ وہاں بھی یہی معاملہ پیش آیا۔ اس دفعہ آپ جلال میں آگئے اور دریا کو حکم دیا کہ یہاں سے ہٹ جائے اور ہمارے رہنے کے لیے جگہ خالی کردے۔ دریا فی الفور وہاں سے دُور تک ہٹ گیا اور ایک بلند ٹیلہ دریا سے نکل آیا جس پر آپ نے قیام فر مالیا۔ آپ کا یہ تصرف دیکھ کر وہاں کے تمام زمیندار حلقۂ ارادت میں داخل ہوگئے۔

ایک دفعہ آپ حضرت شیخ داؤد چونی وال﷫ شیر گڑھی کی ملاقات کے لیے آئے۔ مگر شیخ داؤد آپ کے رعب و ہیبت سے اتنے مرعوب ہوئے کہ گھر سے باہر نہ نکلے۔ آپ نے کچھ عرصہ انتظار کرنے کے بعد فرمایا: ’’مرغی انڈوں پر بیٹھی ہوئی ہے۔ باہر نہیں آتی تو کوئی مضائقہ نہیں‘‘۔ یہ کہہ کر واپس چلے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ آپ ہی کے ارشاد کا اثر تھا کہ شیخ داؤد﷫ بڑے کثیر اولاد ہوئے۔ جس ہئیت میں آپ ﷫ شیخ، داؤد﷫ سے ملنے آئے تھے وُہ یہ تھی کہ شیر پر سوار تھے اور ہاتھ میں کوڑے کی بجائے سانپ تھا۔ آپ کےبڑے صاحبزادے اور خلیفےکانام سید محمد نور شاہ گیلانی تھا۔یہ بھی اپنے وقت کےخدارسیدہ بزرگ تھے۔جب سید بہاول شیر قلندر﷫ کاوصال ہوا توسید نور محمد حاضر نہ تھے۔ان کی غیر موجودگی میں ہی دفنائےگئے۔جب واپس آئے تو دیدار والد کےلئے سخت بےتاب ہوئے،اور چاہا کہ قبر کھدواکر باپ کاچہرہ دیکھ لوں ۔اس ارادےسےقبر پر خیمہ نصب کردیا۔سب کونکال دیا۔تنہائی میں اپنے ہاتھ سےقبر کو کھودا اور زیارت کی۔اس وقت ناگہاں ایک معمار(مستری)جوحضرت کےمریدوں میں سےتھا بےاختیار اندر آگیا۔چونکہ بلااجازت اندر آیا تھا اس لئے بنائی سلب ہوگئی۔
👍1
چندسال بعد جب سید نور محمد کاارادہ ہوا کہ والدگرامی کی قبر پرایک گنبد بنائیں تو اس معمار نے عرض کیا اگر میں بینا ہوجاؤں،توحضرت قلندرکامقبرہ میں اپنےہاتھوں سےتعمیر کروں گا۔فرمایا: دن بھرجب توکام کرتارہےگا توبینا رہےگااور جب کام سےاٹھےگا تواندھا ہوجائےگا۔چنانچہ جب تک مقبرہ تیار ہوتا رہا ایسا ہی ہوتا رہا۔دن کوبینائی ہوتی اور رات کوختم ہوجاتی۔مقبرہ مکمل ہونے کےبعد دن میں بھی کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔(حدیقۃ الاولیاء:39)

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 18 / شوال المکرم 973ھ مطابق مئی/1566ء کو بعہدِ جلال الدین محمد اکبر بادشاہ ہوا۔ مزار شریف حجرہ شاہ مقیم تحصیل دیپال پور ضلع اوکاڑا میں زیارت گاہِ خلق ہے۔

ماخذ و مراجع:
حدیقۃ الاولیاء۔ تذکرہ اولیاء۔ خزینۃ الاصفیاء۔ تذکرہ مقیمی۔

Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-bahauddin-gilani
Copyright © Zia-e-Taiba
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت امیر خسرو چشتی دہلوی  رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:
اسمِ گرامی: ابوالحسن۔ لقب: ترک اللہ، یمین الدین تخلص: امیر خسرو۔ دہلی کی نسبت سے "دہلوی" کہلائے۔

والد کاا سمِ گرامی: امیر سیف الدین لاچین اور نانا کا نام عماد الملک ہے۔ آپ کے والدِ بزرگوار "بلخ" کے سرداروں میں سے تھے۔ ہندوستان میں ہجرت کرکے آئے اور شاہی دربار سے منسلک ہوگئے۔ حضرت امیر خسرو کے والد اور نانا اپنے وقت کے عظیم بزرگ تھے۔

تاریخِ ولادت:
آپ 653ھ بمطابق1255ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم سے لیکر تمام علوم کی تحصیل وتکمیل اپنے نانا عماد الملک سے کی، جوکہ ایک زبردست عالم اور بے نظیر بزرگ تھے، اور خواجہ نظام الدین اولیاء کے مرید تھے۔ انہوں نے اپنے نواسے کی تربیت میں کوئی کسر باقی نہ رکھی۔ امیر خسرو علیہ الرحمہ نے بہت جلد تمام علوم میں کمال حاصل کیا، اور اپنے وقت کے فضلاء میں شمار ہونے لگے۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے مرید اور خلیفہ تھے۔

سیرت و خصائص:
معدنِ صدق و صفاء، کان عشق و وفاء، فنافی الشیخ، سلطان الشعراء، برہان الفضلاء، طوطیِ ہند، وادیِ خطابت و سخن کے فردِ وحید حضرت خواجہ ابوالحسن امیر خسرو ، محبوبِ حضرت محبوب الہٰی رحمۃ اللہ علیہ۔

آپ سلطان الشعراء برہان الفضلا وادی خطابت و سخن کے عالم فرید و وحید نوع انسانی کے دونوں جہان میں منتخب اور بے پایاں تھے۔ مضمون نگاری اور معنی پہنانے کے لیے شعر گوئی اور تمام اقسام سخن میں آپ کو وہ کمال حاصل تھا جو متقدمین و متأخرین شعراء میں سے کسی کو بھی نصیب نہیں ہوا، انہوں نے اپنے اشعار کو اپنے پیر کے فرمان و ارشاد کے مطابق اصفہانی طرز اور نہج پر کہا ہے، لیکن اس کے باوجود آپ صاحب علم و فضل تھے ۔

آپ تصوف کے اوصاف اور درویشوں کے احوال سے متصف تھے۔ اگرچہ آپ کے تعلقات ملوک سے تھے اور امراء اور ملوک سے خوش طبعی اور بطور ظرافت میل جول تھا، لیکن  قلبی طور پر ان تمام کی طرف میلان نہ تھا اس کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ آپ کے اشعار اور کلام میں جو برکات ہیں وہ تمام تر مشائخ ہی کا فیض معلوم ہوتاہے کیونکہ فساق و فجار کے قلوب برکات سے محروم ہوتے ہیں اور ان کے کلام کو قبولیت اور تاثیر قلبی میسر نہیں ہوتی۔

امیر خسرو علیہ الرحمہ ہر شب کو تہجد میں قرآن کریم کے سات پارے ختم کیا کرتے تھے۔ ایک دن شیخ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے آپ سے دریافت کیا اے ترک! تمہاری مشغولیات کا کیا حال ہے؟ عرض کیا یاسیدی! رات کے آخری حصہ میں اکثر و بیشتر آہ و بکا اور گریہ و زاری کا غلبہ رہتا ہے۔ شیخ نے فرمایا !الحمدللہ کچھ اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔

آپ کو شیخ  نظام الدین اولیاء سے بے انتہا عقیدت اور محبت تھی اور شیخ بھی آپ پر نہایت درجہ شفیق اور عنایت کنندہ تھے ۔ شیخ کی خدمت اور حضور میں اور کسی کو اتنی رازداری اور قربت حاصل نہ تھی جتنی امیر خسرو کو تھی۔ صاحب سیر الاولیاء آپ کے بارے میں  فرماتے ہیں: کہ ایک مرتبہ شیخ نظام الدین اولیاء نے  امیر خسرو کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا! کہ میں تمام دنیا سے تنگ آجاتا ہوں مگر تم سے تنگ نہیں ہوتا۔

ایک مرتبہ شیخ نے آپ سے اللہ کو درمیان میں رکھ کر یہ وعدہ فرمایا تھا کہ جب جنت میں جائیں گے تو تجھے بھی ان شاء اللہ عزوجل ساتھ لیکر جائیں گے۔

خلیفۂ اعلیٰ حضرت سید سلیمان شرف بہاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: کہ خسرو علیہ الرحمہ کو جو جامعیت مبدأ فیاض سے عطا ہوئی ہے اس طرح کی بخششیں صفحاتِ تاریخ میں بہت کم اور نایاب  و نادر ہیں۔ خصوصاً سر زمینِ ہند کے لئے تو ان کی ذات ایک بے مثل مایۂ ناز و فخر ہے۔ مختلف پہلؤوں سےان کی ذات باکمالوں کی صف میں صدرنشیں پائی جاتی ہے۔ "اگر صوفی کی حیثت سے دیکھو تو فانی فی اللہ، ندیم کی حیثیت سے دیکھو تو ارسطوءِ زمانہ، عالم کی حیثیت سے دیکھو تو متبحّر علامہ، موسیقی کی حیثیت سے دیکھو تو امام المجتہد، مؤرخ کی حیثیت سے دیکھو تو بے نظیر محقق، شاعر کی حیثیت سے دیکھو تو ملک الشعراء۔ ان کے ہر کمال کا دامن نہایت وسیع ہےاور اپنےطبیان میں نہایت طوالت پذیر!

سچ ہے:؏:
لیس علی اللہ بمستنکر ۔ان یجمع العالم فی واحد (مقدمہ مثنوی ہشت بہشت،ص:61)

وصال:
آپ کا وصال 18 / شوال المکرم 725 ھ بمطابق / اکتوبر 1325ء کو ہوا۔ آپ کا مزار حضرت محبوب الہٰی کے پہلو (دہلی، انڈیا) میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
مقدمہ مثنوی ہشت بہشت۔ اخبار الاخیار۔ سیر الاولیاء

Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ameer-khusro-chishti
Copyright © Zia-e-Taiba
👍21
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
ملک الشعراء، طوطیٔ ہند، حضرت ابو الحسن یمین الدین محمود عرف امیر خسرو دہلوی چشتی نظامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 651ھ یا 653ھ کو اتر پردیش یا دہلی میں ہوئی۔ آپ عربی و فارسی کے مشہور اور قادر العلوم صوفی شاعر، عالم دین، ادیب و خطیب، محبوب مرشد اور مشہور ترین شخصیت کے مالک ہیں۔ آپ نے تقریباً پانچ لاکھ اشعار تحریر فرمائے۔ 18 شوال 725ھ کو دہلی میں وصال فرمایا، مزار شریف خانقاہ نظامیہ خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہی کے قرب میں مرجع خاص و عام ہے۔ (گلدستۂ اولیاء)

King of Poets, Nightingale of India, Shaykh Abul Hasan Ameer Khusrow Dehlavi Chishti Nizami (Alayhir Rahmah) was born in 651 or 653 AH, in Uttar Pradesh or Delhi. He was an acclaimed and seasoned Sufi poet, erudite scholar, eloquent orator, beloved of his Shaykh, and one of the most famous Awliya of India. He contributed over 500,000 stanzas, spanning multiple languages, to the corpus of metaphysical and mystical poetry. He passed away on the 18th of Shawwal, 725 AH, and was laid to rest near the mausoleum of Khwajah Nizamuddin Awliya Mehboob-e-Ilahi in Delhi. [Guldasta-e-Awliya]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0w9wYkLgr4A4dWsgsH1tWPc1ikjvRX41J4GQLumktSKzsfCaTeLP6CrnNMv2X2VSPl&id=100050689590519
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-10-1443 ᴴ | 19-05-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-10-1443 ᴴ | 20-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1