Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-10-1443 ᴴ | 18-05-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-10-1443 ᴴ | 18-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
Forwarded from ✩ ندیم ابن علیم المصبور العینی ✩
(مسئلہ) پیٹ کے بل لیٹنے میں کفار اور لوطیوں کی مشابہت ہے تو کیا مکروہ تحریمی نہیں ہوگا؟ اس میں مردوں اور عورتوں کا حکم یکساں ہونا چاہئے، جب تک شارحین وغیرہ عورتوں کا استثنا نہ کریں۔ (۲) یہ کہنا: مردوں کا چند دفعہ ایسے لیٹنا مکروہ تنزیہی ہے اور اسے عادت بنا لینا مکروہ تحریمی ہے، کیا کتب فقہ میں کوئی ایسا جزئیہ یا نظیر ہے کہ کوئی کام فی نفسہ مکروہ تنزیہی ہو اور عادت بنانے پر مکروہ تحریمی ہو جائے؟ (۳) عورت کا حالت جماع میں بستر پر یا شوہر پر اس طرح لیٹنا، حاجت کی وجہ سے کیسے درست ہوسکتا ہے؟
(جواب) آپ کا یا شارحین کا یہ کہنا کہ کفار اور لوطیوں کا طریقہ ہے، متحقق نہیں۔ منہ کے بل جہنمیوں کو گھسیٹ کر جہنم میں ڈالا جائے گا، اس کا مجھے علم ہے، لیکن اس وجہ سے پیٹ کے بل سونے کو براہ راست مکروہ تحریمی یا پیٹ کے بل نہ سونے کو واجب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ احادیث بھی اس بارے میں حسن کے درجے میں ہیں یعنی کراہت دلیل ظنی سے ثابت ہے جس کی دلالت بھی ظنی ہے۔ یہ بات عجب ہے کہ عورتوں کو بھی جہنم میں پیٹ کے بل ڈالا جائے بلکہ ان کے لیے ضرور مردوں سے الگ طریقہ ہوگا۔ قرآن مجید میں ہے: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ (سورۃ البقرۃ، ٢٢٣) تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں، تو آؤ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ عورت جب بستر پر یا شوہر پر پیٹ کے بل لیٹی ہو تب بھی اس کے فرج میں جماع جائز ہے اس لیے کہ اللہ عزوجل نے اسے مقید نہیں فرمایا اور تفاسیر میں ہے کہ یہودی عورت کی پیٹھ کی طرف سے جماع کرنے کے بارے میں کہتے تھے کہ اس طرح جماع سے بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے جبکہ بعض مسلمان یوں ہی جماع کرتے تھے یعنی اس ہیئت میں کہ عورتوں کی پیٹھ اوپر ہو اور پیٹ نیچے کی جانب، تو اللہ عزوجل نے جواز کے لیے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس دلیل سے عورتوں کا استثناء ممکن ہے کہ یہ دلیل قطعی ہے جس کی دلالت ظنی ہے، یعنی یہ پچھلی سے قوی ہے۔ اور ابو غنیم سعید بن حدیر تابعی کی ایک طویل خبر میں حواء علیہا السلام کے بارے میں ہے: وأقبل آدم من مكانه الذي كان يطوف به من الجنة فوجدها منكبة على وجهها حزينة. (العظمة لأبى الشیخ الأصبهانى، ص: ١٥٧٤؛ وراوہ ابن المنذر أيضا، در المنثور، ٣٤٣/٦) یعنی جب آدم علیہ السلام اس مکان سے واپس ہوئے جس کا وہ جنت میں کیا طواف کرتے تھے تو حوا کو غمزدہ حالت میں اوندھے منہ پڑے دیکھا۔ خیال رہے کہ عورتوں کا اس طرح لیٹنا لوطیوں کی مشابہت نہیں قرار دی جاسکتی ہے۔ (٢) پیٹ کے بل نہ لیٹنا سنت مؤکدہ ہے اور سنت کا چند بار ترک اساءت اور عادت مکروہ تحریمی ہوتی ہے۔ قال الإمام رحمة الله عليه: سنت مؤکدہ کے ایک آدھ بار ترک سے اگرچہ گناہ نہ ہو، عتاب ہی کا استحقاق ہو مگر بارہا ترک سے بلاشبہ گناہگار ہوتا ہے۔ کما في رد المحتار وغیرہ من الأسفار. (فتاوی رضویہ، ٥٩٥/١.٢، خلاصہ تبیان الوضوء) اس کی نظیر کتب فقہ میں بہت جگہ ہے۔ منیہ میں ہے: لا یترك رفع الیدین ولو اعتاد یأثم یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھوں کو اٹھانا ترک نہ کرے اگر ترک کی عادت کرے تو گنہگار ہوگا۔ (منیة المصلی، ص۲۷۸) اس کی شرح غنیہ میں ہے: لو تركه بعض الأحيان من غير اعتياد فلا يأثم، وهذا مطرد في جميع السنن المؤكدة. یعنی اگر بغیر عادت کے بعض دفعہ ترک کرے تو گناہگار نہ ہوگا اور یہ حکم جمیع سنن مؤکدہ کے لیے ہے۔ (حلبي الكبير، ١٧/٢) مزید مثالیں امام اہل سنت کے رسالہ ”برکات السماء“ میں دیکھیں۔ (٣) اس کا جواب پیچھے گزرا۔ والله تعالى أعلم
(جواب) آپ کا یا شارحین کا یہ کہنا کہ کفار اور لوطیوں کا طریقہ ہے، متحقق نہیں۔ منہ کے بل جہنمیوں کو گھسیٹ کر جہنم میں ڈالا جائے گا، اس کا مجھے علم ہے، لیکن اس وجہ سے پیٹ کے بل سونے کو براہ راست مکروہ تحریمی یا پیٹ کے بل نہ سونے کو واجب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ احادیث بھی اس بارے میں حسن کے درجے میں ہیں یعنی کراہت دلیل ظنی سے ثابت ہے جس کی دلالت بھی ظنی ہے۔ یہ بات عجب ہے کہ عورتوں کو بھی جہنم میں پیٹ کے بل ڈالا جائے بلکہ ان کے لیے ضرور مردوں سے الگ طریقہ ہوگا۔ قرآن مجید میں ہے: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ (سورۃ البقرۃ، ٢٢٣) تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں، تو آؤ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ عورت جب بستر پر یا شوہر پر پیٹ کے بل لیٹی ہو تب بھی اس کے فرج میں جماع جائز ہے اس لیے کہ اللہ عزوجل نے اسے مقید نہیں فرمایا اور تفاسیر میں ہے کہ یہودی عورت کی پیٹھ کی طرف سے جماع کرنے کے بارے میں کہتے تھے کہ اس طرح جماع سے بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے جبکہ بعض مسلمان یوں ہی جماع کرتے تھے یعنی اس ہیئت میں کہ عورتوں کی پیٹھ اوپر ہو اور پیٹ نیچے کی جانب، تو اللہ عزوجل نے جواز کے لیے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس دلیل سے عورتوں کا استثناء ممکن ہے کہ یہ دلیل قطعی ہے جس کی دلالت ظنی ہے، یعنی یہ پچھلی سے قوی ہے۔ اور ابو غنیم سعید بن حدیر تابعی کی ایک طویل خبر میں حواء علیہا السلام کے بارے میں ہے: وأقبل آدم من مكانه الذي كان يطوف به من الجنة فوجدها منكبة على وجهها حزينة. (العظمة لأبى الشیخ الأصبهانى، ص: ١٥٧٤؛ وراوہ ابن المنذر أيضا، در المنثور، ٣٤٣/٦) یعنی جب آدم علیہ السلام اس مکان سے واپس ہوئے جس کا وہ جنت میں کیا طواف کرتے تھے تو حوا کو غمزدہ حالت میں اوندھے منہ پڑے دیکھا۔ خیال رہے کہ عورتوں کا اس طرح لیٹنا لوطیوں کی مشابہت نہیں قرار دی جاسکتی ہے۔ (٢) پیٹ کے بل نہ لیٹنا سنت مؤکدہ ہے اور سنت کا چند بار ترک اساءت اور عادت مکروہ تحریمی ہوتی ہے۔ قال الإمام رحمة الله عليه: سنت مؤکدہ کے ایک آدھ بار ترک سے اگرچہ گناہ نہ ہو، عتاب ہی کا استحقاق ہو مگر بارہا ترک سے بلاشبہ گناہگار ہوتا ہے۔ کما في رد المحتار وغیرہ من الأسفار. (فتاوی رضویہ، ٥٩٥/١.٢، خلاصہ تبیان الوضوء) اس کی نظیر کتب فقہ میں بہت جگہ ہے۔ منیہ میں ہے: لا یترك رفع الیدین ولو اعتاد یأثم یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھوں کو اٹھانا ترک نہ کرے اگر ترک کی عادت کرے تو گنہگار ہوگا۔ (منیة المصلی، ص۲۷۸) اس کی شرح غنیہ میں ہے: لو تركه بعض الأحيان من غير اعتياد فلا يأثم، وهذا مطرد في جميع السنن المؤكدة. یعنی اگر بغیر عادت کے بعض دفعہ ترک کرے تو گناہگار نہ ہوگا اور یہ حکم جمیع سنن مؤکدہ کے لیے ہے۔ (حلبي الكبير، ١٧/٢) مزید مثالیں امام اہل سنت کے رسالہ ”برکات السماء“ میں دیکھیں۔ (٣) اس کا جواب پیچھے گزرا۔ والله تعالى أعلم
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-10-1443 ᴴ | 18-05-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-10-1443 ᴴ | 19-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1