روایات منکر یا ضعف ہوں تو اس کی تصریح کردیتے ہیں۔ ۱۱۔ بعض اوقات راویوں کے اسماء کنیٰ اور القاب کی وضاحت کرتے ہیں۔ ۱۲۔ اس کتاب میں تکرار سے حتی الامکان گریز کیا ہے۔ حافظ ابو عبداللہ محمد بن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ امام ابو داؤد نے اپنی اس کتاب میں احادیث درج کرنے کے لیے یہ شرط مقرر کی ہے وہ احادیث متصل السند اور صحیح ہوں اور وہ احادیث ایسے راویوں سے مروی ہوں جن کے ترک پر اجماع نہ ہوا ہو۔ اور علامہ خطابی لکھتے ہیں کہ ابو داؤد کی کتاب صحیح اور حسن دونوں قسم کی احادیث کی جامع ہے اور ان کی اس کتاب میں احادیث سقیمہ سے مقلوب اور مجہول روایات اصلاً نہیں ہیں۔ (مقدمۃ التعلیق الممجد، ص۴)
اخلاق و کردار: امام ابو داؤد علم و فن ممتاز ہونے کے ساتھ سیرت و کردار کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز تھے۔ زہدو تقویٰ، عبادت و ریاضت، جاہ و منصب سے اجتناب آپ کا شیوہ تھا۔ یٰسین ہروی فرماتے ہیں: ‘‘وہ بے مثال عالم و حافظ ہونے کے علاوہ عبادت و ریاضت، عفت و پاکدامنی خیر و صلاح ورع و تقویٰ میں بھی منفرد خصوصیات کے مالک تھے۔’’ (تہذیب التہذیب، ج۴، ص۱۵۱)
آداب شریعت کی پابندی اور سنت نبوی کے اتباع کا خاص اہتمام تھا ان کی امامت حدیث اور شان عبادت دیکھ کر موسیٰ بن ہارون نے کہا: ‘‘خلق ابو داؤد فی الدنیا للحدیث وفی الاخرۃ للجنۃ’’ امام ابو داؤد دنیا میں خدمت حدیث اور آخرت میں جنت کے لیے پید اکیے گئے ہیں۔ (ایضاً)
امام صاحب دنیا اور لذائذ دنیا سے بے پرواہ تھے امراء سلاطین کی ہر گز پرواہ نہ رکتے بلکہ ان کے نارو امطالبات کو ان کے رو برو رد کردیتے۔ ایک دن امیر ابو احمد موقف آپ کے پاس آیا اور کہا میں تین درخواستیں لے کر حاضر ہوا ہوں ایک تو یہ کہ آپ بصرہ میں مستقل قیام فرمائیں تاکہ مختلف مقامات کے طالبان حدیث آپ سے استفادہ کرسکیں۔ دوسرے میرے بچوں کو سنن کی تعلیم دیں تیسرے روایت اور درس حدیث کے حلقوں میں میرے بچوں کے لیے مخصوص نشست کا اہتمام فرمادیں۔ امام صاحب نے فرمایا کہ کہ پہلی دونوں باتیں مناسب ہیں لیکن تیسری بات ناممکن ہے علم کے معاملے میں تشریف ووضیع اعلیٰ و ادنیٰ سب برابر ہیں اس لیے کوئی امتیاز نہیں برتا جاسکتا چناں چہ امیر کے لڑکے عام لوگوں کی طرح حلقۂ درس میں شریک ہوکر سماع حدیث کرتے۔ (دیباچہ غایۃ المقصود)
وفات:
آپ کی وفات ۱۶؍شوال بروز جمعہ ۲۷۵ھ ۷۳ سال کی عمر میں ہوئی۔ عباس بن عبدالواحد نے نماز جنازہ پڑھائی۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedi-abu-dawood-suleman-sajistan
Copyright © Zia-e-Taiba
اخلاق و کردار: امام ابو داؤد علم و فن ممتاز ہونے کے ساتھ سیرت و کردار کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز تھے۔ زہدو تقویٰ، عبادت و ریاضت، جاہ و منصب سے اجتناب آپ کا شیوہ تھا۔ یٰسین ہروی فرماتے ہیں: ‘‘وہ بے مثال عالم و حافظ ہونے کے علاوہ عبادت و ریاضت، عفت و پاکدامنی خیر و صلاح ورع و تقویٰ میں بھی منفرد خصوصیات کے مالک تھے۔’’ (تہذیب التہذیب، ج۴، ص۱۵۱)
آداب شریعت کی پابندی اور سنت نبوی کے اتباع کا خاص اہتمام تھا ان کی امامت حدیث اور شان عبادت دیکھ کر موسیٰ بن ہارون نے کہا: ‘‘خلق ابو داؤد فی الدنیا للحدیث وفی الاخرۃ للجنۃ’’ امام ابو داؤد دنیا میں خدمت حدیث اور آخرت میں جنت کے لیے پید اکیے گئے ہیں۔ (ایضاً)
امام صاحب دنیا اور لذائذ دنیا سے بے پرواہ تھے امراء سلاطین کی ہر گز پرواہ نہ رکتے بلکہ ان کے نارو امطالبات کو ان کے رو برو رد کردیتے۔ ایک دن امیر ابو احمد موقف آپ کے پاس آیا اور کہا میں تین درخواستیں لے کر حاضر ہوا ہوں ایک تو یہ کہ آپ بصرہ میں مستقل قیام فرمائیں تاکہ مختلف مقامات کے طالبان حدیث آپ سے استفادہ کرسکیں۔ دوسرے میرے بچوں کو سنن کی تعلیم دیں تیسرے روایت اور درس حدیث کے حلقوں میں میرے بچوں کے لیے مخصوص نشست کا اہتمام فرمادیں۔ امام صاحب نے فرمایا کہ کہ پہلی دونوں باتیں مناسب ہیں لیکن تیسری بات ناممکن ہے علم کے معاملے میں تشریف ووضیع اعلیٰ و ادنیٰ سب برابر ہیں اس لیے کوئی امتیاز نہیں برتا جاسکتا چناں چہ امیر کے لڑکے عام لوگوں کی طرح حلقۂ درس میں شریک ہوکر سماع حدیث کرتے۔ (دیباچہ غایۃ المقصود)
وفات:
آپ کی وفات ۱۶؍شوال بروز جمعہ ۲۷۵ھ ۷۳ سال کی عمر میں ہوئی۔ عباس بن عبدالواحد نے نماز جنازہ پڑھائی۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedi-abu-dawood-suleman-sajistan
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1👍1
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (✰ فیضان سرور مصباحی ✰)
*امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ کی شان*
حضرت امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث رحمہ اللہ کو الله تعالی نے بڑی شان و منزلت عطا فرمائی تھی یہاں تک علماء کرام فرماتے ہیں ابو داؤد کو دنیا میں حدیث کے لئے اور آخرت میں جنت کے لئے پیدا کیے گئے
اولیاء بغداد آپ کا بیحد احترام کرتے تھے حتی حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور فرمایا کہ آپ اپنی زبان نکالیے تاکہ میں اسے بوسہ دوں کیونکہ آپ اس زبان سے نبی اکرم رسول محتشم صلی ﷲ علیہ وسلم کی احادیث بیان کرتے ہیں
آپ کی کتاب "سنن ابی داؤد" کو الله تعالی نے وہ مقبولیت عامہ عطا فرمائی کہ صحاح ستہ میں اس کا شمار ہونے لگا اور جب آپ اس کو لکھ کر حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ نے بہت تعریف و تحسین فرمائی
ابن اعرابی رحمۃ اللہ علیہ نے سنن ابو داؤد کو دیکھ کر کہا کہ اگر کسی کے پاس قرآن مجید کے سوا کوئی دوسری کتاب نہ ہو اور اس کو سنن ابو داؤد مل جائے تو اسے یہ دونوں کتابیں کافی ہیں اس کو مزید کسی کتاب کی حاجت نہیں پڑے گی
حضرت ابراہیم حربی رحمۃ اللہ علیہ نے جب سنن ابی داؤد کا مطالعہ کیا تو فرمایا الله تعالی نے امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ کے لئے علم حدیث کو ایسے نرم کردیا تھا جیسے حضرت داؤد علیہ السلام پر لوہا کو نرم کردیا تھا
آپ کی ولادت 202ھ میں مقام بصرہ میں ہوئی اور 16شوال 275ھ کو بصرہ میں وصال ہوا۔
(اولیاء رجال الحدیث ملخصاً)
✍️ محمد ساجد مدنی
حضرت امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث رحمہ اللہ کو الله تعالی نے بڑی شان و منزلت عطا فرمائی تھی یہاں تک علماء کرام فرماتے ہیں ابو داؤد کو دنیا میں حدیث کے لئے اور آخرت میں جنت کے لئے پیدا کیے گئے
اولیاء بغداد آپ کا بیحد احترام کرتے تھے حتی حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور فرمایا کہ آپ اپنی زبان نکالیے تاکہ میں اسے بوسہ دوں کیونکہ آپ اس زبان سے نبی اکرم رسول محتشم صلی ﷲ علیہ وسلم کی احادیث بیان کرتے ہیں
آپ کی کتاب "سنن ابی داؤد" کو الله تعالی نے وہ مقبولیت عامہ عطا فرمائی کہ صحاح ستہ میں اس کا شمار ہونے لگا اور جب آپ اس کو لکھ کر حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ نے بہت تعریف و تحسین فرمائی
ابن اعرابی رحمۃ اللہ علیہ نے سنن ابو داؤد کو دیکھ کر کہا کہ اگر کسی کے پاس قرآن مجید کے سوا کوئی دوسری کتاب نہ ہو اور اس کو سنن ابو داؤد مل جائے تو اسے یہ دونوں کتابیں کافی ہیں اس کو مزید کسی کتاب کی حاجت نہیں پڑے گی
حضرت ابراہیم حربی رحمۃ اللہ علیہ نے جب سنن ابی داؤد کا مطالعہ کیا تو فرمایا الله تعالی نے امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ کے لئے علم حدیث کو ایسے نرم کردیا تھا جیسے حضرت داؤد علیہ السلام پر لوہا کو نرم کردیا تھا
آپ کی ولادت 202ھ میں مقام بصرہ میں ہوئی اور 16شوال 275ھ کو بصرہ میں وصال ہوا۔
(اولیاء رجال الحدیث ملخصاً)
✍️ محمد ساجد مدنی
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-10-1443 ᴴ | 17-05-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-10-1443 ᴴ | 18-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-10-1443 ᴴ | 18-05-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-10-1443 ᴴ | 18-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1