🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
کیا اور کسی اہل مذہب نے اس کو اختیار کیا اس پر عنوان لگا دیا یہی وجہ ہے کہ غزالی وغیرہ کی صراحت سے کہ ابو داؤد کی کتاب مجتہد کے لیے کافی ہے۔ (حجۃ اللہ البالغہ، ج۱، ص۳۶۵)

امام ابو داؤد نے اس کتاب میں پانچ لاکھ احادیث سےچار ہزار آٹھ سو احادیث کا انتخاب کیا ہے خود فرماتے ہیں ‘‘کتبت عن رسول اللہ ﷺ خمس ماۃ الف و جمعت فی کتابہ اربعۃ اٰلاف حدیث انتخبت منھا ماضمنتہ ھذا الکتاب، یعنی السنن جمعت فی کتابہ اربعۃ آلاف وثمان مائۃ حدیث ذکرت الصحیح وما یشبھہ ویقاربہ’’ خود فرماتے ہیں میں نے حضورﷺ کی پانچ لاکھ حدیثوں کو لکھا ان میں سے منتخب کرکے اپنی کتاب سنن میں چار ہزار آٹھ سو حدیثوں کو جمع کیا جو صحیح اور اس کے مشابہ و مقارن ہیں۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۳۸۳)

اس کتاب کی ترتیب و تدوین کے بعد ابو داؤد نے اسے امام احمد بن حنبل کی خدمت میں پیش کیا تو انہوں نے اس سنن کو بہت پسند فرمایا۔ (بستان المحدثین، ص۱۸۱)

سنن ابی داؤد سے قبل کتب احادیث میں مسانید اور جوامع کارواج عام تھا، جس میں سنن اور احکام قصص اور مواعظ اور آداب ہر طرح کی حدیثیں شامل ہوتی تھیں۔ امام ابو داؤد نے سب سے پہلے صرف سنن میں یہ کتاب تالیف کی امت مسلمہ کے اکابر نے اسے ہر زمانے میں عقیدت کی نظر سے دیکھا اور اعتبار کیا۔ یحییٰ بن یحییٰ زکریا ساجی: ‘‘ کتاب اللہ اصل الاسلام وسنن ابی داؤد عھد الاسلام’’ اسلام کی بنیاد قرآن کریم اور اس ستون سنن ابی داؤد ہے۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۵۴)

ابن القیم: ‘‘امام موصوف (ابو داؤد) نے ایسی کتاب لکھی ہے جو مسلمانوں کے درمیان ثابت ہوئی اور اخلاقی مسائل میں فیصلہ کن بن گئی’’۔ (محدثین عظام، ص

ابو سلمان خطابی: ‘‘قدجمع ابو داؤد فی کتابہ ھذا من الحدیث فی اصول العلم وامھات السنن واحکام الفقہ مالا نعلم متقدما ماسبقہ الیہ ولا متاخرا لحقہ فیہ وقد رزق القبول من کافۃ الناس’’۔ امام ابو داؤد نے اپنی اس سنن میں اصول امہات سنن اور احکام فقہ سے متعلق ایسی حدیثیں جمع کی ہیں کہ ہمارے علم میں نہ توکسی نے اس سے پہلے ایسا مرتب ذخیرہ جمع کیا اور نہ آج تک کوئی ان کے نقش قدم پر چل سکا۔ (معالم السنن، ج۱، ص۸) محمد بن مخلد: ‘‘ابو داؤد نے سنن مرتب کرنے کے بعد جب لوگوں کے سامنے اس کو بیان کیا تو محدثین نے اس کو مصحف کی طرح قابل اتباع سمجھا’’۔ ابو العلاء محن کا بیان ہے کہ انہوں نے خواب میں نبئ اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ‘‘من اراد یتمسک بالسنن فلیقرأ’’ سنن ابی داؤد، سنن کی ابتاع کی آرزو رکھنے والوں کو سنن ابی داؤد کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ (تذکرۃ المحدثین، ج۱، ص۲۹۴) ابن العربی: ‘‘دین کے مقدمات کا علم حاصل کرنے کے لیے کتاب اللہ اور سنن ابی داؤد کافی ہیں’’۔ (تذکرۃ الحفاظ، ج۱، ص۱۸۶) خصوصیات: ذیل میں سنن ابی داؤد کی کچھ اہم خصوصیات ذکر کی جاتی ہیں۔ ۱۔ اس کتابکی امتیازی حیثیت یہ ہے کہ اس کے اندر صرف احکام و مسائل سے متعلق روایات و اخبار جمع کیے گئے ہیں۔ امام ابو داؤد سے پہلے اس قسم کی حدیث کی کتابیں لکھنے کا رواج نہ تھا۔ امام نووی کا بیان ہے کہ اپنی اسی خصوصیت کی بناپر وہ ائمہ حدیث اور علماء آثار کی توجہات کا مرکز بن گئی اور گواس تخصیص کی بنا پر وہ احادیث کے بہت سے ابواب سے خالی ہے لیکن فقہی احادیث کا جتنا بڑا ذخیرہ اس کتاب میں موجود ہے وہ صحاح ستہ کی کسی اور کتاب میں نہیں۔ حافظ ابو جعفر بن زبیر غرناطی متوفیٰ ۷۰۸ھ نے صحاح ستہ کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے ‘‘ولا بی داؤد فی حصر احآدیث الاحکام و استیعابھا مالیس لغیرہ’’ اور فقہی حدیثوں کے حصرو استیعاب کے سلسلہ میں ابو داؤد کو جو خصوصیت حاصل ہے وہ دوسرے مصنفین کو نہیں۔ ۲۔ اس کتاب میں امام ابو داؤد نے اپنے علم کے مطابق زیادہ تر صحیح ترین روایات ذکر کی ہیں۔ ۳۔ اگر کوئی حدیث دو صحیح طریقوں سے مروی ہو اور ان میں سے ایک طریقہ کاراوی اسناد میں مقدم ہو (یعنی اس کی سند عالی ہو) اور دوسرے طریقہ کا راوی حفظ میں بڑھا ہوا ہو تو امام ابو داؤد ایسی صورت میں پہلے طریقہ کا ذکر کردیتے ہیں۔ ۴۔ بسااوقات ایک حدیث کو دو تین سندوں کے ساتھ ذکر کرتے ہیں بشرطیکہ بعض سے متن میں کچھ زیادتی ہو۔ ۵۔ جو حدیث بہت طویل ہوتی ہے اسے بتامہ ذکر کردینے سے یہ خوف ہوتا ہے کہ بعض سامعین اس کی غرض کو نہ سمجھ سکیں گے ایسی صورت میں امام ابو داؤد حدیث کا اختصار کردیتے ہیں۔ ۶۔ جن احادیث کی اسانید میں کوئی ضعیف ہویا اور کوئی علت خفیہ ہو اس کو امام ابو داؤد بیان کردیتے ہیں اور جس حدیث کی سند کے بارے میں امام ابو داؤد کوئی کلام نہیں کرتے وہ عام طور پر صالح للعمل ہوتی ہے۔ ۷۔ عام طور پر امام صاحب نے مشہور راویتیں ذکر کی ہیں شاذ اور غریب روایات اس کتاب میں بہت کم درج ہیں۔ متروک الحدیث سے روایت نہیں کی ہے۔ ۸۔ کسی حدیث میں اگر مرفوع یا مرفوع یا موقوف کا اختلاف ہوتو اس کا ذکر کردیتے ہیں۔ ۹۔ اگر کوئی حدیث معلل ہوتو علت خفیہ بیان کردیتے ہیں۔ ۱۰۔ جو
1👍1
روایات منکر یا ضعف ہوں تو اس کی تصریح کردیتے ہیں۔ ۱۱۔ بعض اوقات راویوں کے اسماء کنیٰ اور القاب کی وضاحت کرتے ہیں۔ ۱۲۔ اس کتاب میں تکرار سے حتی الامکان گریز کیا ہے۔ حافظ ابو عبداللہ محمد بن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ امام ابو داؤد نے اپنی اس کتاب میں احادیث درج کرنے کے لیے یہ شرط مقرر کی ہے وہ احادیث متصل السند اور صحیح ہوں اور وہ احادیث ایسے راویوں سے مروی ہوں جن کے ترک پر اجماع نہ ہوا ہو۔ اور علامہ خطابی لکھتے ہیں کہ ابو داؤد کی کتاب صحیح اور حسن دونوں قسم کی احادیث کی جامع ہے اور ان کی اس کتاب میں احادیث سقیمہ سے مقلوب اور مجہول روایات اصلاً نہیں ہیں۔ (مقدمۃ التعلیق الممجد، ص۴)

اخلاق و کردار: امام ابو داؤد علم و فن ممتاز ہونے کے ساتھ سیرت و کردار کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز تھے۔ زہدو تقویٰ، عبادت و ریاضت، جاہ و منصب سے اجتناب آپ کا شیوہ تھا۔ یٰسین ہروی فرماتے ہیں: ‘‘وہ بے مثال عالم و حافظ ہونے کے علاوہ عبادت و ریاضت، عفت و پاکدامنی خیر و صلاح ورع و تقویٰ میں بھی منفرد خصوصیات کے مالک تھے۔’’ (تہذیب التہذیب، ج۴، ص۱۵۱)

آداب شریعت کی پابندی اور سنت نبوی کے اتباع کا خاص اہتمام تھا ان کی امامت حدیث اور شان عبادت دیکھ کر موسیٰ بن ہارون نے کہا: ‘‘خلق ابو داؤد فی الدنیا للحدیث وفی الاخرۃ للجنۃ’’ امام ابو داؤد دنیا میں خدمت حدیث اور آخرت میں جنت کے لیے پید اکیے گئے ہیں۔ (ایضاً)

امام صاحب دنیا اور لذائذ دنیا سے بے پرواہ تھے امراء سلاطین کی ہر گز پرواہ نہ رکتے بلکہ ان کے نارو امطالبات کو ان کے رو برو رد کردیتے۔ ایک دن امیر ابو احمد موقف آپ کے پاس آیا اور کہا میں تین درخواستیں لے کر حاضر ہوا ہوں ایک تو یہ کہ آپ بصرہ میں مستقل قیام فرمائیں تاکہ مختلف مقامات کے طالبان حدیث آپ سے استفادہ کرسکیں۔ دوسرے میرے بچوں کو سنن کی تعلیم دیں تیسرے روایت اور درس حدیث کے حلقوں میں میرے بچوں کے لیے مخصوص نشست کا اہتمام فرمادیں۔ امام صاحب نے فرمایا کہ کہ پہلی دونوں باتیں مناسب ہیں لیکن تیسری بات ناممکن ہے علم کے معاملے میں تشریف ووضیع اعلیٰ و ادنیٰ سب برابر ہیں اس لیے کوئی امتیاز نہیں برتا جاسکتا چناں چہ امیر کے لڑکے عام لوگوں کی طرح حلقۂ درس میں شریک ہوکر سماع حدیث کرتے۔ (دیباچہ غایۃ المقصود)

وفات:
آپ کی وفات ۱۶؍شوال بروز جمعہ ۲۷۵ھ ۷۳ سال کی عمر میں ہوئی۔ عباس بن عبدالواحد نے نماز جنازہ پڑھائی۔

Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedi-abu-dawood-suleman-sajistan
Copyright © Zia-e-Taiba
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (✰ فیضان سرور مصباحی ✰)
*امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ کی شان*

حضرت امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث رحمہ اللہ کو الله تعالی نے بڑی شان و منزلت عطا فرمائی تھی یہاں تک علماء کرام فرماتے ہیں ابو داؤد کو دنیا میں حدیث کے لئے اور آخرت میں جنت کے لئے پیدا کیے گئے

اولیاء بغداد آپ کا بیحد احترام کرتے تھے حتی حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور فرمایا کہ آپ اپنی زبان نکالیے تاکہ میں اسے بوسہ دوں کیونکہ آپ اس زبان سے نبی اکرم رسول محتشم صلی ﷲ علیہ وسلم کی احادیث بیان کرتے ہیں

آپ کی کتاب "سنن ابی داؤد" کو الله تعالی نے وہ مقبولیت عامہ عطا فرمائی کہ صحاح ستہ میں اس کا شمار ہونے لگا اور جب آپ اس کو لکھ کر حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ نے بہت تعریف و تحسین فرمائی
ابن اعرابی رحمۃ اللہ علیہ نے سنن ابو داؤد کو دیکھ کر کہا کہ اگر کسی کے پاس قرآن مجید کے سوا کوئی دوسری کتاب نہ ہو اور اس کو سنن ابو داؤد مل جائے تو اسے یہ دونوں کتابیں کافی ہیں اس کو مزید کسی کتاب کی حاجت نہیں پڑے گی

حضرت ابراہیم حربی رحمۃ اللہ علیہ نے جب سنن ابی داؤد کا مطالعہ کیا تو فرمایا الله تعالی نے امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ کے لئے علم حدیث کو ایسے نرم کردیا تھا جیسے حضرت داؤد علیہ السلام پر لوہا کو نرم کردیا تھا

آپ کی ولادت 202ھ میں مقام بصرہ میں ہوئی اور 16شوال 275ھ کو بصرہ میں وصال ہوا۔

(اولیاء رجال الحدیث ملخصاً)

✍️ محمد ساجد مدنی
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-10-1443 ᴴ | 17-05-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-10-1443 ᴴ | 18-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-10-1443 ᴴ | 18-05-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-10-1443 ᴴ | 18-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1