🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-10-1443 ᴴ | 16-05-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-10-1443 ᴴ | 17-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
15-10-1443 ᴴ | 17-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث سجستانی رحمۃ اللہ علیہ
ولادت۲۰۲ھ وفات: ۲۷۵ھ
اسم گرامی:
سلیمان، کنیت ابو داؤد۔
سلسلۂ نسب یہ ہے:
سلیمان بن اشعث بن اسحاق بن بشیر بن شداد بن عمر ازدی سجستانی
آپ کی ولادت:
سجستان کے اندر ۲۰۲ھ میں ہوئی۔ ارباب سیرو تاریخ نے سجستان کے محل و وقوع میں اختلاف کیا ہے۔ بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ سجستان بصرہ کے قریب ایک قریہ ہے جہاں ابو داؤد پیدا ہوئے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ سجستان ایک شہر کا نام ہے۔ قندھار کے قریب سندھ و ہرات کے درمیان واقع ہے۔
شاہ عبد العزیز صاحب لکھتے ہیں: ابن خلکان نے جو یہ لکھا ہے کہ ‘‘نسبۃ الٰی سجستان اوسجستانۃ قریۃ من قری البصرۃ’’ (ان کی نسبت سجستان یا سجستانہ کی طرف ہے جو بصرہ کا ایک قریہ ہے) اس نسبت کی تحقیق میں ان سے غلطی سرزد ہوئی ہے حالانکہ ان کو تاریخ دانی اور تصحیح انساب و نسب میں کمال حاصل ہے چناں چہ شیخ تاج الدین سبکی ان کی یہ عبارت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ ‘‘وھذا وھم والصواب انہ یسنۃ الی الاقلیم المعروف المتاقم لبلاد الھند’’ یہ ان کا وہم ہے صحیح یہ ہے کہ یہ نسبت اس اقلیم کی طرف ہے جو ہند کے پہلو میں واقع ہے یعنی یہ سیستان کی طرف نسبت ہے جو سندھ و ہرات کے مابین مشہور ملک ہے اور قندھار کے متصل واقع ہے اور چشت جو بزرگان چشتیہ کا وطن ہے وہ بھی اس ملک میں واقع ہے۔ پہلے زمانہ میں بست اس ملک کا پایۂ تخت تھا عرب لوگ اس ملک کی نسبت میں کبھی سنجری بھی کہہ دہتے ہیں۔ (بستان المحدثین، ۸۱، ۱۸)
تحصیل علم:
امام ابو داؤد نے خوش قسمتی سے تاریخ اسلام کا وہ عہد زریں پایا تھا جو حدیث کی ترقی و عروج کا زمانہ تھا ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے دوردراز بلاد اسلامی کا سفر کیا اور اسلامی ممالک کے مشہور شیوخ حدیث سے علم حاصل کیا اور اس ضمن میں بغداد، مصر، شام، حجاز، عراق میں کافی دنوں تک قیام پذیر رہے۔ ابن خلکان تحریر کرتے ہیں: ‘‘طوف البلاد وکتب عن العراقین والخراسیین والشامیین والمصریین والجزریین’’ انہوں نے شہروں کا گشت لگایا عراقی، خراسانی، شامی، مصری اور جزری محدثین سے حدیثیں قلم بند کیں۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۳۸۲
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی لکھتے ہیں: مصر، شام، حجاز عراق، خراسان اور جزیرہ وغیرہا میں خصوصیت کے ساتھ کثرت سے گشت کرکے علم حدیث حاصل کیا۔ حفظ حدیث، اتقان روایت، عبادت و تقویٰ اور صلاح و احتیاط میں بلند درجہ رکھتے تھے۔ (بستان المحدثین، ص۱۸۱)
امام صاحب نے اپنے عہد کےبے شمار محدثین سے سماع کیاان کے شیوخ کے بارے میں حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں ‘‘شیوخہ فی السنن وغیرہا نحو من ثلاث مأۃ نفس’’ سنن وغیرہ میں ان کے شیوخ کی تعداد ۳۰۰ کے قریب ہے۔ (تہذیب التہذیب، ج۴، ص۱۵۱)
کچھ اہم شیوخ حسب ذیل ہیں:
ابو سلمہ تبوذکی، ابو الولید طیالسی، محمد بن کثیر عبدی، مسلم بن ابراہیم، ابو عمر حوضی، ابو توبہ حلبی، سلیمان بن عبدالرحمٰن دمشقی، سعید بن سلیمان واسطی، صفوان بن صالح دمشقی، ابو جعفر نفیلی، احمد، علی، یحییٰ، اسحاق، قطن بن نسیر، عبداللہ بن رجاء، احمد بن یونس، ضریر۔ (تہذیب، ج۴، ص۱۴۹، تذکرہ، ج۲، ص۱۵۲)
ابو داوؤد کے شوق علم کا یہ حال تھا کہ وہ ایک آستین کشادہ اور دوسری تنگ رکھتے تھے پوچھا گیا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ جواب دیا کشادہ آستین کتابیں رکھنے کے لیے ہے اور دوسری آستین استعمال میں نہیں آتی اس لیے تنگ ہے۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۵۳)
فضل و کمال:
امام ابو ادؤد اپنے زمانہ میں علم حدیث کے عظیم ستون تھے کثرت حدیث اور علوم حدیث کی معرفت میں ان کا پایہ بہت بلند تھا۔ انہیں اپنے اقران و معاصرین پر برتری حاصل تھی چناں چہ آپ کے معاصرین اور بعد میں آنے والے علماء و محدثین نے علم حدیث میں آپ کے کمال کا اعتراف کیا ہے نیز آپ کے زہدو تقویٰ، عبادت و ریاضت عفت و پاکدامنی کی ستائش و تحسین کی ہے۔ ذیل میں ائمہ حدیث اور بعض ارباب تذکرہ کے اقوال درج کیے جاتے ہیں۔ ابن خلکان: ‘‘احد حفاظ الحدیث وعلمہ وعللہ وکان فی الدرجۃ العالیہ من النسک والصلاح’’ وہ حافظ حدیث تھے اور حدیث و علل کے جاننے والے اور عبادت و تقویٰ میں بلند درجہ پر فائز تھے۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۳۸۲) ابوبکر خلال: ‘‘ابو داؤد الا مام المقدم فی زمانہ رجل لم یسبقہ الٰی معرفتہ بتخریج العلوم ونصرہ بمواضعہ احد فی زمانہ رجل ورع مقدم’’ ابو داؤد امام اور اپنے زمانہ میں مقدم تھے کوئی ان سے علوم کی تخریج کی معرفت اور اس کے مقام پر اس کی مدد میں سبقت نہ لے گیا۔ وہ اپنے زمانہ میں یکتا اور ورع و تقویٰ میں سب سے آگے تھے۔ (تہذیب التہذیب، ج۴، ص۱۵۱)
احمد بن محمد یاسین ہروی: ‘‘کان احد حفاظ الاسلام للحدیث وعلمہ و عللہ وسندہ فی اعلیٰ درجۃ من النسک والعفاف والصلاح والورع’’ وہ حافظ حدیث تھے اور سند حدیث اور اس کی علل میں ماہر تھے اور عبادت و پاکدامنی، صلاح اور تقویٰ میں اعلیٰ درجہ پر فائز تھے۔ (ایضاً)
ولادت۲۰۲ھ وفات: ۲۷۵ھ
اسم گرامی:
سلیمان، کنیت ابو داؤد۔
سلسلۂ نسب یہ ہے:
سلیمان بن اشعث بن اسحاق بن بشیر بن شداد بن عمر ازدی سجستانی
آپ کی ولادت:
سجستان کے اندر ۲۰۲ھ میں ہوئی۔ ارباب سیرو تاریخ نے سجستان کے محل و وقوع میں اختلاف کیا ہے۔ بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ سجستان بصرہ کے قریب ایک قریہ ہے جہاں ابو داؤد پیدا ہوئے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ سجستان ایک شہر کا نام ہے۔ قندھار کے قریب سندھ و ہرات کے درمیان واقع ہے۔
شاہ عبد العزیز صاحب لکھتے ہیں: ابن خلکان نے جو یہ لکھا ہے کہ ‘‘نسبۃ الٰی سجستان اوسجستانۃ قریۃ من قری البصرۃ’’ (ان کی نسبت سجستان یا سجستانہ کی طرف ہے جو بصرہ کا ایک قریہ ہے) اس نسبت کی تحقیق میں ان سے غلطی سرزد ہوئی ہے حالانکہ ان کو تاریخ دانی اور تصحیح انساب و نسب میں کمال حاصل ہے چناں چہ شیخ تاج الدین سبکی ان کی یہ عبارت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ ‘‘وھذا وھم والصواب انہ یسنۃ الی الاقلیم المعروف المتاقم لبلاد الھند’’ یہ ان کا وہم ہے صحیح یہ ہے کہ یہ نسبت اس اقلیم کی طرف ہے جو ہند کے پہلو میں واقع ہے یعنی یہ سیستان کی طرف نسبت ہے جو سندھ و ہرات کے مابین مشہور ملک ہے اور قندھار کے متصل واقع ہے اور چشت جو بزرگان چشتیہ کا وطن ہے وہ بھی اس ملک میں واقع ہے۔ پہلے زمانہ میں بست اس ملک کا پایۂ تخت تھا عرب لوگ اس ملک کی نسبت میں کبھی سنجری بھی کہہ دہتے ہیں۔ (بستان المحدثین، ۸۱، ۱۸)
تحصیل علم:
امام ابو داؤد نے خوش قسمتی سے تاریخ اسلام کا وہ عہد زریں پایا تھا جو حدیث کی ترقی و عروج کا زمانہ تھا ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے دوردراز بلاد اسلامی کا سفر کیا اور اسلامی ممالک کے مشہور شیوخ حدیث سے علم حاصل کیا اور اس ضمن میں بغداد، مصر، شام، حجاز، عراق میں کافی دنوں تک قیام پذیر رہے۔ ابن خلکان تحریر کرتے ہیں: ‘‘طوف البلاد وکتب عن العراقین والخراسیین والشامیین والمصریین والجزریین’’ انہوں نے شہروں کا گشت لگایا عراقی، خراسانی، شامی، مصری اور جزری محدثین سے حدیثیں قلم بند کیں۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۳۸۲
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی لکھتے ہیں: مصر، شام، حجاز عراق، خراسان اور جزیرہ وغیرہا میں خصوصیت کے ساتھ کثرت سے گشت کرکے علم حدیث حاصل کیا۔ حفظ حدیث، اتقان روایت، عبادت و تقویٰ اور صلاح و احتیاط میں بلند درجہ رکھتے تھے۔ (بستان المحدثین، ص۱۸۱)
امام صاحب نے اپنے عہد کےبے شمار محدثین سے سماع کیاان کے شیوخ کے بارے میں حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں ‘‘شیوخہ فی السنن وغیرہا نحو من ثلاث مأۃ نفس’’ سنن وغیرہ میں ان کے شیوخ کی تعداد ۳۰۰ کے قریب ہے۔ (تہذیب التہذیب، ج۴، ص۱۵۱)
کچھ اہم شیوخ حسب ذیل ہیں:
ابو سلمہ تبوذکی، ابو الولید طیالسی، محمد بن کثیر عبدی، مسلم بن ابراہیم، ابو عمر حوضی، ابو توبہ حلبی، سلیمان بن عبدالرحمٰن دمشقی، سعید بن سلیمان واسطی، صفوان بن صالح دمشقی، ابو جعفر نفیلی، احمد، علی، یحییٰ، اسحاق، قطن بن نسیر، عبداللہ بن رجاء، احمد بن یونس، ضریر۔ (تہذیب، ج۴، ص۱۴۹، تذکرہ، ج۲، ص۱۵۲)
ابو داوؤد کے شوق علم کا یہ حال تھا کہ وہ ایک آستین کشادہ اور دوسری تنگ رکھتے تھے پوچھا گیا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ جواب دیا کشادہ آستین کتابیں رکھنے کے لیے ہے اور دوسری آستین استعمال میں نہیں آتی اس لیے تنگ ہے۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۵۳)
فضل و کمال:
امام ابو ادؤد اپنے زمانہ میں علم حدیث کے عظیم ستون تھے کثرت حدیث اور علوم حدیث کی معرفت میں ان کا پایہ بہت بلند تھا۔ انہیں اپنے اقران و معاصرین پر برتری حاصل تھی چناں چہ آپ کے معاصرین اور بعد میں آنے والے علماء و محدثین نے علم حدیث میں آپ کے کمال کا اعتراف کیا ہے نیز آپ کے زہدو تقویٰ، عبادت و ریاضت عفت و پاکدامنی کی ستائش و تحسین کی ہے۔ ذیل میں ائمہ حدیث اور بعض ارباب تذکرہ کے اقوال درج کیے جاتے ہیں۔ ابن خلکان: ‘‘احد حفاظ الحدیث وعلمہ وعللہ وکان فی الدرجۃ العالیہ من النسک والصلاح’’ وہ حافظ حدیث تھے اور حدیث و علل کے جاننے والے اور عبادت و تقویٰ میں بلند درجہ پر فائز تھے۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۳۸۲) ابوبکر خلال: ‘‘ابو داؤد الا مام المقدم فی زمانہ رجل لم یسبقہ الٰی معرفتہ بتخریج العلوم ونصرہ بمواضعہ احد فی زمانہ رجل ورع مقدم’’ ابو داؤد امام اور اپنے زمانہ میں مقدم تھے کوئی ان سے علوم کی تخریج کی معرفت اور اس کے مقام پر اس کی مدد میں سبقت نہ لے گیا۔ وہ اپنے زمانہ میں یکتا اور ورع و تقویٰ میں سب سے آگے تھے۔ (تہذیب التہذیب، ج۴، ص۱۵۱)
احمد بن محمد یاسین ہروی: ‘‘کان احد حفاظ الاسلام للحدیث وعلمہ و عللہ وسندہ فی اعلیٰ درجۃ من النسک والعفاف والصلاح والورع’’ وہ حافظ حدیث تھے اور سند حدیث اور اس کی علل میں ماہر تھے اور عبادت و پاکدامنی، صلاح اور تقویٰ میں اعلیٰ درجہ پر فائز تھے۔ (ایضاً)
❤1👍1
محمد بن اسحاق صغانی و ابراہیم حربی: ‘‘الین لابی داؤد الحدیث کما الین لداؤد علیہ السلام الحدید’’ ابوداؤد کے لیے علم حدیث کو اس طرح سہل کردیا گیا تھا جیسے حضرت داؤد علیہ السلام کے لیے لوہا ملائم کردیا گیا تھا۔ (ایضاً)
موسیٰ بن بارون: ‘‘خلق ابو داؤد فی الدنیا للحدیث وفی الآخرۃ للجنۃ’’ اللہ تعالیٰ نے ابو داؤد کو دنیا میں خدمت حدیث کے لیے اور آخرت میں جنت کے لیے پیدا کیا تھا۔ (ایضاً)
ابو حاتم بن حبان: ‘‘کان احد الائمۃ الدنیا فقھا وعلما وحفظا ونسکا وورعا و اتقاناً جمع وصنف وذب عن السنن’’ ابو داؤد علم حدیث، علم فقہ، علم و حفظ عبادت و تقویٰ پاکدامنی و خوف خدا میں دنیا والوں کے امام تھے۔ حدیثیں جمع کیں، کتابیں لکھیں اور اس کو آمیزش سے پاک کیا۔ (ایضاً)
حاکم: ‘‘ابو داؤد امام اھل الحدیث فی عصرہ بلا مدافعۃ’’ ابو داؤد اپنے زمانہ میں تمام محدثین کے بلا اختلاف امام تھے۔ (ایضاً)
موسیٰ بن ہارون: ‘‘مارایت اافضل منہ’’ میں نے ان سے افضل شخص نہیں دیکھا۔ (ایضاٍ، ص۱۵۲)
مسلمہ بن قاسم:‘‘کان ثقۃ زاھداً عارفا بالحدیث امام عصرہ فی ذلک’’ ابو داؤد، ثقہ ، زاہد، حدیث کے جاننے والے اور علم حدیث میں اپنے زمانے کے امام تھے۔ (ایضاً)
حافظ ذہبی: الامام الثبت سید الحفاظ آپ پختہ کار امام اور حفاظ حدیث کے سردار ہیں۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۵۲)
حلقۂ درس: امام ابو داؤد نے جس طرح علم حدیث کی تحصیل میں کاوش و محنت کی اسی طرح احادیث کی اشاعت میں پورے اخلاص کے ساتھ کو شش کرتے رہے اس کام کے لیے انہوں نے حلقۂ درس قائم کیا جس میں طالبان علم نبوت بڑے ذوق شوق کے ساتھ شرکت کرتے اور اپنے دامن کو مالامال کرلیتے امام صاحب کا حلقۂ درس کافی وسیع تھا تلامذہ کی تعداد بے شمار ہے۔ چند اہم تلامذہ یہ ہیں: ابو علی محمد بن احمد عمرلؤوی، ابو طیب احمد بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن اشنانی، ابو عمر و احمد بن علی بن حسن بصری، ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد اعرابی، ابو بکر محمد بن عبدالرزاق بن داسہ، ابو الحسن علی بن حسن بن عبدانصاری، ابو عیسیٰ، اسحاق بن موسیٰ بن سعید رملی، راقہ، ابو اسماہ محمد بن عبدالملک بن یزید رواس، ابو عبداللہ محمد بن احمد بن یعقوب بصری، ابوبکر احمد بن سلیمان نجار، ابو عبیدہ محمد بن علی بن عثمان آجری، اسماعییل بن محمد مطفار، ابو عبدالرحمٰن نسائی، ابو عیسیٰ ترمذی، حرب بن اسماعیل کرمانی، زکریا ساجی، ابوبکر احمد بن محمد بن ہارون الخلال حنبلی، عبداللہ بن احمد بن موسیٰ عبدان رہوازی، ابو بشر محمد بن احمد دولابی، ابو عوانہ یعقوب بن اسحاق اسفرائنی، ابوبکر بن ابی داؤد، ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی دینار، ابراہیم حمید بن ابراہیم بن یونس عاقولی، ابو حامد احمد بن جعفر اصفہانی، احمد بن معلیٰ بن یزید، دمشقی، احمد بن محمد بن یاسین ہروی، حسن بن صاحب الشاشی، حسین بن ادریس انصاری، عبداللہ بن محمد بن عبدالکریم رازی، علی بن عبدالصمد، محمد بن مخلددوری، محمد بن جعفر بن متفاض الفریابی، ابوبکر محمد بن یحییٰ صولی۔ (تہذیب، ج۴، ص۱۵)
تصانیف اور سنن ابی داؤد: ابو داؤد صرف حدیث کے ہی مام نہ تھے بلکہ فقہ و اجتہاد اور تفسیر و کلام میں بھی کامل مہارت رکھتے تھے مختلف علوم و فنون پر متعدد تصانیف ان کی تبحر علمی اور جامعیت وکمال کابین ثبوت ہیں ان مصنفات میں کتاب السنن، کتاب المراسل، کتاب المسائل، کتاب الردعلی القدریہ، الناسخ والمنسوخ، کتاب التفرد، کتاب فضائل الانصار، مسند مالک بن انس،کتاب الزہد، دلائل النبوت، کتاب الدعاء، کتاب بدءالوحی، اخبار الخوارج، کتاب شریعۃ التفسیر، فضائل الاعمال، کتاب التفسیر، کتاب نظمالقرآن، کتاب فضائل القرآن، کتاب البعث والنشور، کتاب شریعۃ المقارئ
ان تمام تصانیف میں جوکتاب شہرت و قبولیت دوام حاصل کرسکی وہ سنن ابی داؤد ہے اس کتاب کی وجہ تایف کے بارے میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں: ‘‘کان ھھتم جمع الاحادیث اللتی استدل بھا الفقھاء دارت فیھم وبنی علیھا الاحکام علماء الامصار فصنف سننہ وجمع فیھا الصحاح والحسن واللین والصالح للعمل قال ابوداؤد ماذکرت فی کتابی حدیثاً اجمع علی ترکہ وما کان منھا ضعیفا صرح بضعفہ وما کان فیہ علۃ بینھما بوجہ یعرفہ الخائض فی ھذا الشان وترجم علی کل حدیث بما قداستنبط منہ عالم وذھب الیہ ذاھب والذلک صرح الغزالی وغیرہ بان کتابہ کاف للمجتھد’’ ان کی غرض یہ تھی کہ ان احادیث کو جمع کیا جائے ہ اجن سے فقہاء نے استدلال کیا ہے اور ان میں مروج ہوئی ہیں علماء امصارنے ان پر احکام کو مبنی کیا ہے چناں چہ انہوں نے اپنی سنن تصنف کی اور اس میں صحاح، حسن، لین اور قابل عمل احادیث کو جمع کردیا۔ ابو داؤد فرماتے ہیں میں نے اپنی کتاب میں کوئی حدیث ایسی نہیں لکھی جس کے ترک پر سب کا اتفاق ہے اور جو ضعیف تھی اس کے ضعف پر صراحت کردی اور جس میں کسی طرح کی کوئی علت تھی اسے اسی طرح بیان کردیا کہ جس کو علم حدیث میں غور کرنے والا خوب سمجھتا ہے اور ہر وہ حدیث جس سے کسی عالم نے کوئی مسئلہ استنباط
موسیٰ بن بارون: ‘‘خلق ابو داؤد فی الدنیا للحدیث وفی الآخرۃ للجنۃ’’ اللہ تعالیٰ نے ابو داؤد کو دنیا میں خدمت حدیث کے لیے اور آخرت میں جنت کے لیے پیدا کیا تھا۔ (ایضاً)
ابو حاتم بن حبان: ‘‘کان احد الائمۃ الدنیا فقھا وعلما وحفظا ونسکا وورعا و اتقاناً جمع وصنف وذب عن السنن’’ ابو داؤد علم حدیث، علم فقہ، علم و حفظ عبادت و تقویٰ پاکدامنی و خوف خدا میں دنیا والوں کے امام تھے۔ حدیثیں جمع کیں، کتابیں لکھیں اور اس کو آمیزش سے پاک کیا۔ (ایضاً)
حاکم: ‘‘ابو داؤد امام اھل الحدیث فی عصرہ بلا مدافعۃ’’ ابو داؤد اپنے زمانہ میں تمام محدثین کے بلا اختلاف امام تھے۔ (ایضاً)
موسیٰ بن ہارون: ‘‘مارایت اافضل منہ’’ میں نے ان سے افضل شخص نہیں دیکھا۔ (ایضاٍ، ص۱۵۲)
مسلمہ بن قاسم:‘‘کان ثقۃ زاھداً عارفا بالحدیث امام عصرہ فی ذلک’’ ابو داؤد، ثقہ ، زاہد، حدیث کے جاننے والے اور علم حدیث میں اپنے زمانے کے امام تھے۔ (ایضاً)
حافظ ذہبی: الامام الثبت سید الحفاظ آپ پختہ کار امام اور حفاظ حدیث کے سردار ہیں۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۵۲)
حلقۂ درس: امام ابو داؤد نے جس طرح علم حدیث کی تحصیل میں کاوش و محنت کی اسی طرح احادیث کی اشاعت میں پورے اخلاص کے ساتھ کو شش کرتے رہے اس کام کے لیے انہوں نے حلقۂ درس قائم کیا جس میں طالبان علم نبوت بڑے ذوق شوق کے ساتھ شرکت کرتے اور اپنے دامن کو مالامال کرلیتے امام صاحب کا حلقۂ درس کافی وسیع تھا تلامذہ کی تعداد بے شمار ہے۔ چند اہم تلامذہ یہ ہیں: ابو علی محمد بن احمد عمرلؤوی، ابو طیب احمد بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن اشنانی، ابو عمر و احمد بن علی بن حسن بصری، ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد اعرابی، ابو بکر محمد بن عبدالرزاق بن داسہ، ابو الحسن علی بن حسن بن عبدانصاری، ابو عیسیٰ، اسحاق بن موسیٰ بن سعید رملی، راقہ، ابو اسماہ محمد بن عبدالملک بن یزید رواس، ابو عبداللہ محمد بن احمد بن یعقوب بصری، ابوبکر احمد بن سلیمان نجار، ابو عبیدہ محمد بن علی بن عثمان آجری، اسماعییل بن محمد مطفار، ابو عبدالرحمٰن نسائی، ابو عیسیٰ ترمذی، حرب بن اسماعیل کرمانی، زکریا ساجی، ابوبکر احمد بن محمد بن ہارون الخلال حنبلی، عبداللہ بن احمد بن موسیٰ عبدان رہوازی، ابو بشر محمد بن احمد دولابی، ابو عوانہ یعقوب بن اسحاق اسفرائنی، ابوبکر بن ابی داؤد، ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی دینار، ابراہیم حمید بن ابراہیم بن یونس عاقولی، ابو حامد احمد بن جعفر اصفہانی، احمد بن معلیٰ بن یزید، دمشقی، احمد بن محمد بن یاسین ہروی، حسن بن صاحب الشاشی، حسین بن ادریس انصاری، عبداللہ بن محمد بن عبدالکریم رازی، علی بن عبدالصمد، محمد بن مخلددوری، محمد بن جعفر بن متفاض الفریابی، ابوبکر محمد بن یحییٰ صولی۔ (تہذیب، ج۴، ص۱۵)
تصانیف اور سنن ابی داؤد: ابو داؤد صرف حدیث کے ہی مام نہ تھے بلکہ فقہ و اجتہاد اور تفسیر و کلام میں بھی کامل مہارت رکھتے تھے مختلف علوم و فنون پر متعدد تصانیف ان کی تبحر علمی اور جامعیت وکمال کابین ثبوت ہیں ان مصنفات میں کتاب السنن، کتاب المراسل، کتاب المسائل، کتاب الردعلی القدریہ، الناسخ والمنسوخ، کتاب التفرد، کتاب فضائل الانصار، مسند مالک بن انس،کتاب الزہد، دلائل النبوت، کتاب الدعاء، کتاب بدءالوحی، اخبار الخوارج، کتاب شریعۃ التفسیر، فضائل الاعمال، کتاب التفسیر، کتاب نظمالقرآن، کتاب فضائل القرآن، کتاب البعث والنشور، کتاب شریعۃ المقارئ
ان تمام تصانیف میں جوکتاب شہرت و قبولیت دوام حاصل کرسکی وہ سنن ابی داؤد ہے اس کتاب کی وجہ تایف کے بارے میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں: ‘‘کان ھھتم جمع الاحادیث اللتی استدل بھا الفقھاء دارت فیھم وبنی علیھا الاحکام علماء الامصار فصنف سننہ وجمع فیھا الصحاح والحسن واللین والصالح للعمل قال ابوداؤد ماذکرت فی کتابی حدیثاً اجمع علی ترکہ وما کان منھا ضعیفا صرح بضعفہ وما کان فیہ علۃ بینھما بوجہ یعرفہ الخائض فی ھذا الشان وترجم علی کل حدیث بما قداستنبط منہ عالم وذھب الیہ ذاھب والذلک صرح الغزالی وغیرہ بان کتابہ کاف للمجتھد’’ ان کی غرض یہ تھی کہ ان احادیث کو جمع کیا جائے ہ اجن سے فقہاء نے استدلال کیا ہے اور ان میں مروج ہوئی ہیں علماء امصارنے ان پر احکام کو مبنی کیا ہے چناں چہ انہوں نے اپنی سنن تصنف کی اور اس میں صحاح، حسن، لین اور قابل عمل احادیث کو جمع کردیا۔ ابو داؤد فرماتے ہیں میں نے اپنی کتاب میں کوئی حدیث ایسی نہیں لکھی جس کے ترک پر سب کا اتفاق ہے اور جو ضعیف تھی اس کے ضعف پر صراحت کردی اور جس میں کسی طرح کی کوئی علت تھی اسے اسی طرح بیان کردیا کہ جس کو علم حدیث میں غور کرنے والا خوب سمجھتا ہے اور ہر وہ حدیث جس سے کسی عالم نے کوئی مسئلہ استنباط
❤1👍1