🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-10-1443 ᴴ | 16-05-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-10-1443 ᴴ | 17-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
15-10-1443 ᴴ | 17-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث سجستانی رحمۃ اللہ علیہ
ولادت۲۰۲ھ وفات: ۲۷۵ھ
اسم گرامی:
سلیمان، کنیت ابو داؤد۔
سلسلۂ نسب یہ ہے:
سلیمان بن اشعث بن اسحاق بن بشیر بن شداد بن عمر ازدی سجستانی
آپ کی ولادت:
سجستان کے اندر ۲۰۲ھ میں ہوئی۔ ارباب سیرو تاریخ نے سجستان کے محل و وقوع میں اختلاف کیا ہے۔ بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ سجستان بصرہ کے قریب ایک قریہ ہے جہاں ابو داؤد پیدا ہوئے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ سجستان ایک شہر کا نام ہے۔ قندھار کے قریب سندھ و ہرات کے درمیان واقع ہے۔
شاہ عبد العزیز صاحب لکھتے ہیں: ابن خلکان نے جو یہ لکھا ہے کہ ‘‘نسبۃ الٰی سجستان اوسجستانۃ قریۃ من قری البصرۃ’’ (ان کی نسبت سجستان یا سجستانہ کی طرف ہے جو بصرہ کا ایک قریہ ہے) اس نسبت کی تحقیق میں ان سے غلطی سرزد ہوئی ہے حالانکہ ان کو تاریخ دانی اور تصحیح انساب و نسب میں کمال حاصل ہے چناں چہ شیخ تاج الدین سبکی ان کی یہ عبارت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ ‘‘وھذا وھم والصواب انہ یسنۃ الی الاقلیم المعروف المتاقم لبلاد الھند’’ یہ ان کا وہم ہے صحیح یہ ہے کہ یہ نسبت اس اقلیم کی طرف ہے جو ہند کے پہلو میں واقع ہے یعنی یہ سیستان کی طرف نسبت ہے جو سندھ و ہرات کے مابین مشہور ملک ہے اور قندھار کے متصل واقع ہے اور چشت جو بزرگان چشتیہ کا وطن ہے وہ بھی اس ملک میں واقع ہے۔ پہلے زمانہ میں بست اس ملک کا پایۂ تخت تھا عرب لوگ اس ملک کی نسبت میں کبھی سنجری بھی کہہ دہتے ہیں۔ (بستان المحدثین، ۸۱، ۱۸)
تحصیل علم:
امام ابو داؤد نے خوش قسمتی سے تاریخ اسلام کا وہ عہد زریں پایا تھا جو حدیث کی ترقی و عروج کا زمانہ تھا ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے دوردراز بلاد اسلامی کا سفر کیا اور اسلامی ممالک کے مشہور شیوخ حدیث سے علم حاصل کیا اور اس ضمن میں بغداد، مصر، شام، حجاز، عراق میں کافی دنوں تک قیام پذیر رہے۔ ابن خلکان تحریر کرتے ہیں: ‘‘طوف البلاد وکتب عن العراقین والخراسیین والشامیین والمصریین والجزریین’’ انہوں نے شہروں کا گشت لگایا عراقی، خراسانی، شامی، مصری اور جزری محدثین سے حدیثیں قلم بند کیں۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۳۸۲
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی لکھتے ہیں: مصر، شام، حجاز عراق، خراسان اور جزیرہ وغیرہا میں خصوصیت کے ساتھ کثرت سے گشت کرکے علم حدیث حاصل کیا۔ حفظ حدیث، اتقان روایت، عبادت و تقویٰ اور صلاح و احتیاط میں بلند درجہ رکھتے تھے۔ (بستان المحدثین، ص۱۸۱)
امام صاحب نے اپنے عہد کےبے شمار محدثین سے سماع کیاان کے شیوخ کے بارے میں حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں ‘‘شیوخہ فی السنن وغیرہا نحو من ثلاث مأۃ نفس’’ سنن وغیرہ میں ان کے شیوخ کی تعداد ۳۰۰ کے قریب ہے۔ (تہذیب التہذیب، ج۴، ص۱۵۱)
کچھ اہم شیوخ حسب ذیل ہیں:
ابو سلمہ تبوذکی، ابو الولید طیالسی، محمد بن کثیر عبدی، مسلم بن ابراہیم، ابو عمر حوضی، ابو توبہ حلبی، سلیمان بن عبدالرحمٰن دمشقی، سعید بن سلیمان واسطی، صفوان بن صالح دمشقی، ابو جعفر نفیلی، احمد، علی، یحییٰ، اسحاق، قطن بن نسیر، عبداللہ بن رجاء، احمد بن یونس، ضریر۔ (تہذیب، ج۴، ص۱۴۹، تذکرہ، ج۲، ص۱۵۲)
ابو داوؤد کے شوق علم کا یہ حال تھا کہ وہ ایک آستین کشادہ اور دوسری تنگ رکھتے تھے پوچھا گیا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ جواب دیا کشادہ آستین کتابیں رکھنے کے لیے ہے اور دوسری آستین استعمال میں نہیں آتی اس لیے تنگ ہے۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۵۳)
فضل و کمال:
امام ابو ادؤد اپنے زمانہ میں علم حدیث کے عظیم ستون تھے کثرت حدیث اور علوم حدیث کی معرفت میں ان کا پایہ بہت بلند تھا۔ انہیں اپنے اقران و معاصرین پر برتری حاصل تھی چناں چہ آپ کے معاصرین اور بعد میں آنے والے علماء و محدثین نے علم حدیث میں آپ کے کمال کا اعتراف کیا ہے نیز آپ کے زہدو تقویٰ، عبادت و ریاضت عفت و پاکدامنی کی ستائش و تحسین کی ہے۔ ذیل میں ائمہ حدیث اور بعض ارباب تذکرہ کے اقوال درج کیے جاتے ہیں۔ ابن خلکان: ‘‘احد حفاظ الحدیث وعلمہ وعللہ وکان فی الدرجۃ العالیہ من النسک والصلاح’’ وہ حافظ حدیث تھے اور حدیث و علل کے جاننے والے اور عبادت و تقویٰ میں بلند درجہ پر فائز تھے۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۳۸۲) ابوبکر خلال: ‘‘ابو داؤد الا مام المقدم فی زمانہ رجل لم یسبقہ الٰی معرفتہ بتخریج العلوم ونصرہ بمواضعہ احد فی زمانہ رجل ورع مقدم’’ ابو داؤد امام اور اپنے زمانہ میں مقدم تھے کوئی ان سے علوم کی تخریج کی معرفت اور اس کے مقام پر اس کی مدد میں سبقت نہ لے گیا۔ وہ اپنے زمانہ میں یکتا اور ورع و تقویٰ میں سب سے آگے تھے۔ (تہذیب التہذیب، ج۴، ص۱۵۱)
احمد بن محمد یاسین ہروی: ‘‘کان احد حفاظ الاسلام للحدیث وعلمہ و عللہ وسندہ فی اعلیٰ درجۃ من النسک والعفاف والصلاح والورع’’ وہ حافظ حدیث تھے اور سند حدیث اور اس کی علل میں ماہر تھے اور عبادت و پاکدامنی، صلاح اور تقویٰ میں اعلیٰ درجہ پر فائز تھے۔ (ایضاً)
ولادت۲۰۲ھ وفات: ۲۷۵ھ
اسم گرامی:
سلیمان، کنیت ابو داؤد۔
سلسلۂ نسب یہ ہے:
سلیمان بن اشعث بن اسحاق بن بشیر بن شداد بن عمر ازدی سجستانی
آپ کی ولادت:
سجستان کے اندر ۲۰۲ھ میں ہوئی۔ ارباب سیرو تاریخ نے سجستان کے محل و وقوع میں اختلاف کیا ہے۔ بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ سجستان بصرہ کے قریب ایک قریہ ہے جہاں ابو داؤد پیدا ہوئے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ سجستان ایک شہر کا نام ہے۔ قندھار کے قریب سندھ و ہرات کے درمیان واقع ہے۔
شاہ عبد العزیز صاحب لکھتے ہیں: ابن خلکان نے جو یہ لکھا ہے کہ ‘‘نسبۃ الٰی سجستان اوسجستانۃ قریۃ من قری البصرۃ’’ (ان کی نسبت سجستان یا سجستانہ کی طرف ہے جو بصرہ کا ایک قریہ ہے) اس نسبت کی تحقیق میں ان سے غلطی سرزد ہوئی ہے حالانکہ ان کو تاریخ دانی اور تصحیح انساب و نسب میں کمال حاصل ہے چناں چہ شیخ تاج الدین سبکی ان کی یہ عبارت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ ‘‘وھذا وھم والصواب انہ یسنۃ الی الاقلیم المعروف المتاقم لبلاد الھند’’ یہ ان کا وہم ہے صحیح یہ ہے کہ یہ نسبت اس اقلیم کی طرف ہے جو ہند کے پہلو میں واقع ہے یعنی یہ سیستان کی طرف نسبت ہے جو سندھ و ہرات کے مابین مشہور ملک ہے اور قندھار کے متصل واقع ہے اور چشت جو بزرگان چشتیہ کا وطن ہے وہ بھی اس ملک میں واقع ہے۔ پہلے زمانہ میں بست اس ملک کا پایۂ تخت تھا عرب لوگ اس ملک کی نسبت میں کبھی سنجری بھی کہہ دہتے ہیں۔ (بستان المحدثین، ۸۱، ۱۸)
تحصیل علم:
امام ابو داؤد نے خوش قسمتی سے تاریخ اسلام کا وہ عہد زریں پایا تھا جو حدیث کی ترقی و عروج کا زمانہ تھا ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے دوردراز بلاد اسلامی کا سفر کیا اور اسلامی ممالک کے مشہور شیوخ حدیث سے علم حاصل کیا اور اس ضمن میں بغداد، مصر، شام، حجاز، عراق میں کافی دنوں تک قیام پذیر رہے۔ ابن خلکان تحریر کرتے ہیں: ‘‘طوف البلاد وکتب عن العراقین والخراسیین والشامیین والمصریین والجزریین’’ انہوں نے شہروں کا گشت لگایا عراقی، خراسانی، شامی، مصری اور جزری محدثین سے حدیثیں قلم بند کیں۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۳۸۲
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی لکھتے ہیں: مصر، شام، حجاز عراق، خراسان اور جزیرہ وغیرہا میں خصوصیت کے ساتھ کثرت سے گشت کرکے علم حدیث حاصل کیا۔ حفظ حدیث، اتقان روایت، عبادت و تقویٰ اور صلاح و احتیاط میں بلند درجہ رکھتے تھے۔ (بستان المحدثین، ص۱۸۱)
امام صاحب نے اپنے عہد کےبے شمار محدثین سے سماع کیاان کے شیوخ کے بارے میں حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں ‘‘شیوخہ فی السنن وغیرہا نحو من ثلاث مأۃ نفس’’ سنن وغیرہ میں ان کے شیوخ کی تعداد ۳۰۰ کے قریب ہے۔ (تہذیب التہذیب، ج۴، ص۱۵۱)
کچھ اہم شیوخ حسب ذیل ہیں:
ابو سلمہ تبوذکی، ابو الولید طیالسی، محمد بن کثیر عبدی، مسلم بن ابراہیم، ابو عمر حوضی، ابو توبہ حلبی، سلیمان بن عبدالرحمٰن دمشقی، سعید بن سلیمان واسطی، صفوان بن صالح دمشقی، ابو جعفر نفیلی، احمد، علی، یحییٰ، اسحاق، قطن بن نسیر، عبداللہ بن رجاء، احمد بن یونس، ضریر۔ (تہذیب، ج۴، ص۱۴۹، تذکرہ، ج۲، ص۱۵۲)
ابو داوؤد کے شوق علم کا یہ حال تھا کہ وہ ایک آستین کشادہ اور دوسری تنگ رکھتے تھے پوچھا گیا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ جواب دیا کشادہ آستین کتابیں رکھنے کے لیے ہے اور دوسری آستین استعمال میں نہیں آتی اس لیے تنگ ہے۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۵۳)
فضل و کمال:
امام ابو ادؤد اپنے زمانہ میں علم حدیث کے عظیم ستون تھے کثرت حدیث اور علوم حدیث کی معرفت میں ان کا پایہ بہت بلند تھا۔ انہیں اپنے اقران و معاصرین پر برتری حاصل تھی چناں چہ آپ کے معاصرین اور بعد میں آنے والے علماء و محدثین نے علم حدیث میں آپ کے کمال کا اعتراف کیا ہے نیز آپ کے زہدو تقویٰ، عبادت و ریاضت عفت و پاکدامنی کی ستائش و تحسین کی ہے۔ ذیل میں ائمہ حدیث اور بعض ارباب تذکرہ کے اقوال درج کیے جاتے ہیں۔ ابن خلکان: ‘‘احد حفاظ الحدیث وعلمہ وعللہ وکان فی الدرجۃ العالیہ من النسک والصلاح’’ وہ حافظ حدیث تھے اور حدیث و علل کے جاننے والے اور عبادت و تقویٰ میں بلند درجہ پر فائز تھے۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۳۸۲) ابوبکر خلال: ‘‘ابو داؤد الا مام المقدم فی زمانہ رجل لم یسبقہ الٰی معرفتہ بتخریج العلوم ونصرہ بمواضعہ احد فی زمانہ رجل ورع مقدم’’ ابو داؤد امام اور اپنے زمانہ میں مقدم تھے کوئی ان سے علوم کی تخریج کی معرفت اور اس کے مقام پر اس کی مدد میں سبقت نہ لے گیا۔ وہ اپنے زمانہ میں یکتا اور ورع و تقویٰ میں سب سے آگے تھے۔ (تہذیب التہذیب، ج۴، ص۱۵۱)
احمد بن محمد یاسین ہروی: ‘‘کان احد حفاظ الاسلام للحدیث وعلمہ و عللہ وسندہ فی اعلیٰ درجۃ من النسک والعفاف والصلاح والورع’’ وہ حافظ حدیث تھے اور سند حدیث اور اس کی علل میں ماہر تھے اور عبادت و پاکدامنی، صلاح اور تقویٰ میں اعلیٰ درجہ پر فائز تھے۔ (ایضاً)
❤1👍1