🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-10-1443 ᴴ | 16-05-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-10-1443 ᴴ | 16-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
Forwarded from ✩ ندیم ابن علیم المصبور العینی ✩
(مسئلہ) عوام میں یہ طریقہ رائج ہے کہ پہلے خطبے میں ادباً نیت باندھنے کی طرح ہاتھ باندھ لیتے ہیں اور دوسرے خطبے میں اپنا ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لیتے ہیں، یہ طریقہ درست ہے یا نہیں ہے؟
(جواب) اس طرح بیٹھنا بدعت حسنہ، جائز ہے۔ اس میں دو فائدے ہوتے ہیں کہ لوگوں کے بیٹھنے کی حالت دیکھ کر دیر سے آنے والوں کو معلوم ہوجاتا ہے کہ دوسرا خطبہ ہے اور حالت کی تبدیلی کے سبب سستی زائل ہوجاتی ہے۔ وہابیہ اسے بدعت کہتے ہیں جب کہ وہ جانتے نہیں کہ شرع میں بدعت کیا ہے! یاد رہے کہ لوگوں پر بلاوجہ یہ الزام دینا کہ وہ ان اعمال کو ضروری سمجھتے ہیں، گناہ ہے اور یہ کہنا کہ حضور ﷺ اور صحابہ کرام نے نہیں کیا تو بدعت ہے تو یہ بڑی جہالت ہے کیونکہ رسولوں پر یہ بتانا ضروری ہوتا ہے کہ کون سے اعمال برے ہیں۔ اچھے اعمال کی فہرست بہت طویل ہے کہ بتائی جاسکے، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اصل ہر چیز میں مباح ہے جب تک اس کی حرمت وکراہت پر واضح دلیل نہ آجائے۔ پس جب تک شرع سے کسی چیز اگرچہ وہ نئی (بدعت) ہو کی حرمت یا کراہت پر دلیل نہ ملے گی، ہم اسے نہ حرام کہہ سکتے ہیں نہ بدعت سیئہ۔ درر میں زبان سے نیت کرنے کے بارے میں ہے: ﻭاﻟﺘﻠﻔﻆ ﺑﻬﺎ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﻳﻌﻨﻲ ﻃﺮﻳﻖ ﺣﺴﻦ ﺃﺣﺒﻪ اﻟﻤﺸﺎﻳﺦ ﻻ ﺇﻧﻪ ﻣﻦ اﻟﺴﻨﺔ؛ ﻷﻧﻪ ﻟﻢ ﻳﺜﺒﺖ ﻋﻦ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﷺ ﻣﻦ ﻃﺮﻳﻖ ﺻﺤﻴﺢ ﻭﻻ ﺿﻌﻴﻒ ﻭﻻ ﻋﻦ ﺃﺣﺪ ﻣﻦ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ﻭاﻟﺘﺎﺑﻌﻴﻦ ﻭﻻ ﻋﻦ ﺃﺣﺪ ﻋﻦ اﻷﺋﻤﺔ اﻷﺭﺑﻌﺔ ﺑﻞ اﻟﻤﻨﻘﻮﻝ ﺃﻧﻪ ﷺ ﻛﺎﻥ ﺇﺫا ﻗﺎﻡ ﺇﻟﻰ اﻟﺼﻼﺓ ﻛﺒﺮ. ﻓﻬﺬﻩ ﺑﺪﻋﺔ ﺣﺴﻨﺔ ﻋﻨﺪ ﻗﺼﺪ ﺟﻤﻊ اﻟﻌﺰﻳﻤﺔ. (درر الأحكام، ٦٢/١) اور در مختار میں سلام بعد اذان کے بارے میں ہے: اﻟﺘﺴﻠﻴﻢ ﺑﻌﺪ اﻷﺫاﻥ ﺣﺪﺙ ﻓﻲ ﺭﺑﻴﻊ اﻵﺧﺮ ﺳﻨﺔ ﺳﺒﻌﻤﺎﺋﺔ ﻭﺇﺣﺪﻯ ﻭﺛﻤﺎﻧﻴﻦ ﻓﻲ ﻋﺸﺎء ﻟﻴﻠﺔ اﻻﺛﻨﻴﻦ، ﺛﻢ ﻳﻮﻡ اﻟﺠﻤﻌﺔ، ﺛﻢ ﺑﻌﺪ ﻋﺸﺮ ﺳﻨﻴﻦ ﺣﺪﺙ ﻓﻲ اﻟﻜﻞ ﺇﻻ اﻟﻤﻐﺮﺏ، ﺛﻢ ﻓﻴﻬﺎ ﻣﺮﺗﻴﻦ، ﻭﻫﻮ ﺑﺪﻋﺔ ﺣﺴﻨﺔ. (رد المحتار، ٥٧/٢) اور امام طحطاوی تثویب کے بارے میں فرماتے ہیں: قوله: "ﻓﻲ ﺟﻤﻴﻊ اﻷﻭﻗﺎﺕ" اﺳﺘﺤﺴﻨﻪ اﻟﻤﺘﺄﺧﺮﻭﻥ ﻭﻗﺪ ﺭﻭﻯ ﺃﺣﻤﺪ ﻓﻲ اﻟﺴﻨﻦ ﻭاﻟﺒﺰاﺭ ﻭﻏﻴﺮﻫﻤﺎ ﺑﺈﺳﻨﺎﺩ ﺣﺴﻦ ﻣﻮﻗﻮﻓﺎ ﻋﻠﻰ اﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﻣﺎ ﺭﺁﻩ اﻟﻤﺴﻠﻤﻮﻥ ﺣﺴﻨﺎ ﻓﻬﻮ ﻋﻨﺪ اﻟﻠﻪ ﺣﺴﻦ ﻭﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻓﻲ ﺯﻣﻨﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻭﻻ ﻓﻲ ﺯﻣﻦ ﺃﺻﺤﺎﺑﻪ. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص: ١٩٨) یہ تمام چیزیں اس صراحت کے ساتھ کہ زمانۂ رسول ﷺ واصحابہ میں نہ تھیں، مستحسن ہیں تو پھر خطبہ میں اس طرز پر بیٹھنا کیوں کر برا ہے؟
امام نعیمی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: بزرگانِ دین تو فرماتے ہیں کہ دو زانو بیٹھ کر خطبہ سنے پہلے خطبہ میں ہاتھ باندھے اور دوسرے میں زانوؤں پر ہاتھ رکھے تو إن شاء الله دورکعت کا ثواب ملے گا کیونکہ خطبہ فرض ظہر کے دو رکعتوں کے قائم مقام ہے۔ (مرآۃ المناجیح، ٣٣٨/٢) اس پر یہ ایک طاہری صاحب کہتے ہیں: ”مفتی احمد یار خان نعیمی کے اس قول کی کوئی شرعی حجت نہیں ہے۔“ عرض ہے کہ یہ قول امام نعیمی کا اپنا نہیں ہے بلکہ انہوں نے بزرگان دین کی طرف منسوب کیا ہے۔ عجب جہالت ہے کہ جب ایسے اقوال حجت نہیں تو پھر اسے فتوی میں نقل کرنے کا کیا مطلب؟ والله تعالی اعلم
3👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-10-1443 ᴴ | 16-05-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-10-1443 ᴴ | 17-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1