🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-10-1443 ᴴ | 10-05-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-10-1443 ᴴ | 10-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
حضرت ابراہیم بن رسول اللہ ﷺ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت ابراہیم رضی الله عنه
سلسلۂ نسب اسطرح ہے:
حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ بن سید المرسلین خاتم النبین حضرت محمد ﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کالب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک ۔(رضی اللہ عنہم اجمعین)
یہ حضورِ اکرم ﷺ کی اولاد مبارکہ میں سب سے آخری فرزند ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 ذوالقعدہ 8ھ، مطابق 17 مارچ 630ء بروز بدھ، مدینہ منورہ کے قریب مقام عالیہ کے اندر حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے ۔ اس لیے مقام عالیہ کا دوسرا نام '' مشربۂ ابراہیم '' بھی ہے ۔
ان کی ولادت کی خبر حضورِ اکرم ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع رضی الله عنه نے مقام عالیہ سے مدینہ آ کر بارگاہِ اقدس ﷺ میں سنائی ۔ یہ خوش خبری سُن کر حضورِ اکرم ﷺ نے انعام کے طور پر حضرت ابو رافع رضی الله عنه کو ایک غلام عطا فرمایا ۔ اس کے بعد فوراً ہی حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور آپ ﷺ کو ’’ یا ابا ابراہیم ‘‘ کہہ کر پکارا ۔
حضور ﷺ بے حد خوش ہوئے اور ان کے عقیقہ میں دو مینڈھے آپ نے ذبح فرمائے اور ان کے سر کے بال کے وزن کے برابر چاندی خیرات فرمائی اور ان کے بالوں کو دفن کرادیا اور ’’ ابراہیم ‘‘ نام رکھا ۔
پھر ان کو دودھ پلانے کے لیے حضرت ام سیف رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد فرمایا ۔ ان کے شوہر حضرت ابو سیف رضی الله تعالیٰ عنه لوہار کا پیشہ کرتے تھے ۔
آپ ﷺ کو حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه سے بہت زیادہ محبت تھی اور کبھی کبھی آپ ان کو دیکھنے کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے ۔
چنانچہ حضرت انس رضی الله تعالیٰ عنه کا بیان ہے کہ ہم رسول ﷲ ﷺ کے ساتھ حضرت ابو سیف رضی الله تعالیٰ عنه کے مکان پر گئے تو یہ وہ وقت تھا کہ حضرت ابراہیم جان کنی کے عالم میں تھے ۔ یہ منظر دیکھ کر رحمتِ عالم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔
اس وقت عبد الرحمن بن عوف رضی الله تعالیٰ عنه نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! ﷺ کیا آپ بھی روتے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے عوف کے بیٹے! یہ میرا رونا ایک شفقت کا رونا ہے ۔
اس کے بعد پھر دوبارہ جب چشمان مبارک سے آنسو بہنے لگے تو آپ کی زبان مبارک پر یہ کلمات جاری ہو گئے:
کہ
’’ اِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ وَ الْقَلْبَ یَحْزَنُ وَلَا نَقُوْلُ اِلاَّ مَا یَرْضٰی رَبُّنَا وَاِنَّا بِفِرَاقِکَ یَا اِبْرَاہِیْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ ‘‘
آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمزدہ ہے مگر ہم وہی بات زبان سے نکالتے ہیں جس سے ہمارا رب خوش ہو جائے اور بلا شبہ اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے بہت زیادہ غمگین ہیں ۔
جس دن حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه کا انتقال ہوا اتفاق سے اسی دن سورج گرہن لگا ۔ عربوں کے دلوں میں زمانۂ جاہلیت کا یہ عقیدہ جما ہوا تھا کہ کسی بڑے آدمی کی موت سے چاند اور سورج میں گرہن لگتا ہے ۔ چنانچہ بعض لوگوں نے یہ خیال کیا کہ غالباً یہ سورج گرہن حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه کی وفات کی و جہ سے ہوا ہے ۔
حضورِ اقدس ﷺ نے اس موقع پر ایک خطبہ دیا جس میں جاہلیت کے اس عقیدہ کا رد فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:
کہ
’’ اِنَّ اْلشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اٰیَتَانِ مِنْ اٰیٰاتِ اﷲِ لَایَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ اَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہٖ فَاِذَا رَاَیْتُمُوْھَا فَادْعُوا اللہَ وَصَلُّوْا حَتّٰی یَنْجَلِیْ‘‘۔(بخاری جلد 1 ص145 باب الدعاء فی الکسوف) ـ
یقیناً چاند اور سورج ﷲ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ۔ کسی کے مرنے یا جینے سے ان دونوں میں گرہن نہیں لگتا جب تم لوگ گرہن دیکھو تو دعائیں مانگو اور نماز کسوف پڑھو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے ۔
حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ میرے فرزند ابراہیم نے دودھ پینے کی مدت پوری نہیں کی اور دنیا سے چلا گیا ۔ اس لیے ﷲ تعالیٰ نے اس کے لیے بہشت میں ایک دودھ پلانے والی کو مقرر فرما دیا ہے جو مدت رضاعت بھر اس کو دودھ پلاتی رہے گی ۔ (مدارج النبوۃ جلد: 2، ص: 254)
تاریخِ وصال:
جیسا کہ گزر چکا ہے کہ حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه کے وصال کے دن عرب میں سورج گرہن لگا ۔ جدید ریاضی حساب کے مطابق وہ دن 7 جنوری 632ء کو 8:30 لگا تھا ۔ اس حساب سے قمری تاریخ 9 شوال المکرم 10ھ ۔ تو بحسابِ شمسی ان کی عمر ایک سال 9 ماہ، 20 دن، اور بحساب قمری ایک سال، 10 ماہ، اور چھ دن ہوتی ہے ۔ ( اللہ و رسولہ اعلم باالصواب) ۔
روایت ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه کو جنت البقیع میں حضرت عثمان بن مظعون رضی الله تعالیٰ عنه کی قبر کے پاس دفن فرمایا اور اپنے دستِ مبارک سے ان کی قبر پر پانی کا چھڑکاؤ کیا ۔ (مدارج النبوۃ جلد: 2، ص: 453)
ماخذ و مراجع:
سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ۔ مدارج النبوت ۔ اسد الغابہ ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ibrahim-son-of-holy-prophet-muhammad
Copyright © Zia-e-Taiba
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت ابراہیم رضی الله عنه
سلسلۂ نسب اسطرح ہے:
حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ بن سید المرسلین خاتم النبین حضرت محمد ﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کالب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک ۔(رضی اللہ عنہم اجمعین)
یہ حضورِ اکرم ﷺ کی اولاد مبارکہ میں سب سے آخری فرزند ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 ذوالقعدہ 8ھ، مطابق 17 مارچ 630ء بروز بدھ، مدینہ منورہ کے قریب مقام عالیہ کے اندر حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے ۔ اس لیے مقام عالیہ کا دوسرا نام '' مشربۂ ابراہیم '' بھی ہے ۔
ان کی ولادت کی خبر حضورِ اکرم ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع رضی الله عنه نے مقام عالیہ سے مدینہ آ کر بارگاہِ اقدس ﷺ میں سنائی ۔ یہ خوش خبری سُن کر حضورِ اکرم ﷺ نے انعام کے طور پر حضرت ابو رافع رضی الله عنه کو ایک غلام عطا فرمایا ۔ اس کے بعد فوراً ہی حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور آپ ﷺ کو ’’ یا ابا ابراہیم ‘‘ کہہ کر پکارا ۔
حضور ﷺ بے حد خوش ہوئے اور ان کے عقیقہ میں دو مینڈھے آپ نے ذبح فرمائے اور ان کے سر کے بال کے وزن کے برابر چاندی خیرات فرمائی اور ان کے بالوں کو دفن کرادیا اور ’’ ابراہیم ‘‘ نام رکھا ۔
پھر ان کو دودھ پلانے کے لیے حضرت ام سیف رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد فرمایا ۔ ان کے شوہر حضرت ابو سیف رضی الله تعالیٰ عنه لوہار کا پیشہ کرتے تھے ۔
آپ ﷺ کو حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه سے بہت زیادہ محبت تھی اور کبھی کبھی آپ ان کو دیکھنے کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے ۔
چنانچہ حضرت انس رضی الله تعالیٰ عنه کا بیان ہے کہ ہم رسول ﷲ ﷺ کے ساتھ حضرت ابو سیف رضی الله تعالیٰ عنه کے مکان پر گئے تو یہ وہ وقت تھا کہ حضرت ابراہیم جان کنی کے عالم میں تھے ۔ یہ منظر دیکھ کر رحمتِ عالم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔
اس وقت عبد الرحمن بن عوف رضی الله تعالیٰ عنه نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! ﷺ کیا آپ بھی روتے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے عوف کے بیٹے! یہ میرا رونا ایک شفقت کا رونا ہے ۔
اس کے بعد پھر دوبارہ جب چشمان مبارک سے آنسو بہنے لگے تو آپ کی زبان مبارک پر یہ کلمات جاری ہو گئے:
کہ
’’ اِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ وَ الْقَلْبَ یَحْزَنُ وَلَا نَقُوْلُ اِلاَّ مَا یَرْضٰی رَبُّنَا وَاِنَّا بِفِرَاقِکَ یَا اِبْرَاہِیْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ ‘‘
آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمزدہ ہے مگر ہم وہی بات زبان سے نکالتے ہیں جس سے ہمارا رب خوش ہو جائے اور بلا شبہ اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے بہت زیادہ غمگین ہیں ۔
جس دن حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه کا انتقال ہوا اتفاق سے اسی دن سورج گرہن لگا ۔ عربوں کے دلوں میں زمانۂ جاہلیت کا یہ عقیدہ جما ہوا تھا کہ کسی بڑے آدمی کی موت سے چاند اور سورج میں گرہن لگتا ہے ۔ چنانچہ بعض لوگوں نے یہ خیال کیا کہ غالباً یہ سورج گرہن حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه کی وفات کی و جہ سے ہوا ہے ۔
حضورِ اقدس ﷺ نے اس موقع پر ایک خطبہ دیا جس میں جاہلیت کے اس عقیدہ کا رد فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:
کہ
’’ اِنَّ اْلشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اٰیَتَانِ مِنْ اٰیٰاتِ اﷲِ لَایَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ اَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہٖ فَاِذَا رَاَیْتُمُوْھَا فَادْعُوا اللہَ وَصَلُّوْا حَتّٰی یَنْجَلِیْ‘‘۔(بخاری جلد 1 ص145 باب الدعاء فی الکسوف) ـ
یقیناً چاند اور سورج ﷲ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ۔ کسی کے مرنے یا جینے سے ان دونوں میں گرہن نہیں لگتا جب تم لوگ گرہن دیکھو تو دعائیں مانگو اور نماز کسوف پڑھو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے ۔
حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ میرے فرزند ابراہیم نے دودھ پینے کی مدت پوری نہیں کی اور دنیا سے چلا گیا ۔ اس لیے ﷲ تعالیٰ نے اس کے لیے بہشت میں ایک دودھ پلانے والی کو مقرر فرما دیا ہے جو مدت رضاعت بھر اس کو دودھ پلاتی رہے گی ۔ (مدارج النبوۃ جلد: 2، ص: 254)
تاریخِ وصال:
جیسا کہ گزر چکا ہے کہ حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه کے وصال کے دن عرب میں سورج گرہن لگا ۔ جدید ریاضی حساب کے مطابق وہ دن 7 جنوری 632ء کو 8:30 لگا تھا ۔ اس حساب سے قمری تاریخ 9 شوال المکرم 10ھ ۔ تو بحسابِ شمسی ان کی عمر ایک سال 9 ماہ، 20 دن، اور بحساب قمری ایک سال، 10 ماہ، اور چھ دن ہوتی ہے ۔ ( اللہ و رسولہ اعلم باالصواب) ۔
روایت ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه کو جنت البقیع میں حضرت عثمان بن مظعون رضی الله تعالیٰ عنه کی قبر کے پاس دفن فرمایا اور اپنے دستِ مبارک سے ان کی قبر پر پانی کا چھڑکاؤ کیا ۔ (مدارج النبوۃ جلد: 2، ص: 453)
ماخذ و مراجع:
سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ۔ مدارج النبوت ۔ اسد الغابہ ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ibrahim-son-of-holy-prophet-muhammad
Copyright © Zia-e-Taiba
❤2👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-10-1443 ᴴ | 10-05-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-10-1443 ᴴ | 11-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1