<i>Mʏ Tᴇʟᴇɢʀᴀᴍ Lɪʙʀᴀʀʏ Lɪɴᴋs</i>
➻═══════════➻
❶ @Aalaa_Hazrat_Library
❷ @Maslake_Aalaa_Hazrat
❸ @Ahlesunnat_HindiBooks
➻═══════════➻
❶ @FaizaneAlaHazrat
❷ @Kutube_Fataawaa
❸ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🅲ᴀɴᴛᴀᴄᴛ 🆄s ➨ @TTSRB
➻═══════════➻
➻═══════════➻
❶ @Aalaa_Hazrat_Library
❷ @Maslake_Aalaa_Hazrat
❸ @Ahlesunnat_HindiBooks
➻═══════════➻
❶ @FaizaneAlaHazrat
❷ @Kutube_Fataawaa
❸ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🅲ᴀɴᴛᴀᴄᴛ 🆄s ➨ @TTSRB
➻═══════════➻
❗️کتاب کا اصلی نام جاننا
بھی ایک دلچسپ مشغلہ ہے 🌹🌹
ناشرین کتب اس نازکی کا خیال رکھیں❗️
✨✨✨✨
ایک کتاب جب متعدد ناموں سے شائع ہوتی ہے تو پھر بعد والوں کے لیے اس کا اصلی نام جاننا ایک معمہ بن کر رہ جاتا ہے، فہرست سازی کے وقت کون سا نام رکھا جائے، مصنف کی سیرت لکھتے وقت ان میں سے کون سا نام لکھا جائے یہ دشوار مرحلہ ہوتا ہے.
اس لیے ناشرین خواہ ایک ملک کے ہوں یا متعدد ممالک کے انھیں اس بات کا لازمی خیال رکھنا چاہیے کہ اس کتاب کا اصلی نام اس کے مؤلف/مرتب/اور مصنف نے کیا رکھا ہے. مصنف نے اگر کسی کتاب کا نام کچھ رکھا ہے تو پھر اس کے پیچھے کبھی کبھی ایک لمبی داستان بھی ہوسکتی ہے جسے وہی اچھی طرح سمجھ سکتا، اگرچہ دوسروں کو وہ نام اچھا نہ لگے. اور اس نام کے زیر وبم ناشرین پر واضح نہ ہوں.
*بچوں کے نام رکھنے سے زیادہ پر لطف کام*
تصنیف و تالیف کا ذوق رکھنے والے افراد اچھی طرح جانتے ہیں کہ سالوں کی عرق ریزی کے بعد جب کتاب کا نام تجویز کرنے کا مرحلہ ہوتا ہے تو اس پر صاحب کتاب خود کتنی دلچسپی مظاہرہ کرتا ہے، کبھی تاریخی نام نکالنا چاہتا ہے، کبھی اپنے دوستوں کی رائے جاننا چاہتا ہے، کبھی اپنے اساتذہ سے سوال کرتا ہے. اور پھر ان کی طرف سے حاصل ہونے والے ناموں میں سے ایک مناسب نام کا انتخاب کرکے اپنی کتاب کا سر نامہ بنادیتا ہے.
سچ پوچھیں تو اس دورانیہ میں صاحب کتاب کو اس سے بھی کہیں زیادہ لطف ملتا ہے جتنا کہ والدین کو اپنے بچوں کا نام رکھنے میں.
*کتاب کے نام میں اختصار کا مطلب اصل کتاب کا نام اڑا دینا نہیں*
البتہ کبھی بھی علاقائی اثرات/ یا علمی ماحول /یا تبدیلی زمانہ کی وجہ سے نام ذرا مشکل لگنے لگتا ہے ہے تو پھر ذمہ دار علمائے کرام اس کا ایک مناسب آسان نام تجویز کرتے ہیں، ظاہر ہے کہ یہ کام آسانی کی خاطر ہوا ہے، اور اس سے مصنف کی دل آزاری نہ ہونے کا ظن غالب ہوتا ہے.
مگر یہاں پر اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ آپ مختصر سا نام جو بھی دیں، مصنف کے ذریعے تجویز شدہ اصل نام کا ذکر ساتھ میں ضرور کریں ، تاکہ اول نظر میں ذی علم افراد اس کے اصل نام سے مطلع ہوسکیں.
ورنہ بسااوقات ناموں میں اختصار جہاں آسانی کا سبب بنتا ہے، وہیں بعد میں ذی علم افراد کے لیے الجھنوں کا سامان بن کر رہ جاتا ہے.
*اعلی حضرت کی اردو کتابوں کے نام میں اختلافات*
اعلی حضرت *امام احمد رضا* محقق بریلوی چودھویں صدی ہجری کے کثیر التصانیف بزرگ گزرے ہیں، ان کی کتابوں کے نام عموماً عربی زبان میں اور تاریخی ہونے کے ساتھ ساتھ خالص مسجع و مقفیٰ انداز میں ہوتے ہیں، نام پڑھ کر یہ اندازہ لگالینا کہ کتاب کس فن میں لکھی گئی ہے؛ مبتدیوں کے لیے آسان نہیں. اب اردو داں طبقہ کے لیے موضوع کے حساب سے ایک آسان مختصر سانام اردو میں تجویز کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی،
یہ بات مجھے بار بار کھٹکتی ہے کہ یہاں پر ایسا انتشار کہ کبھی کبھی *تصانیف امام احمد رضا* کی تعداد بتانے والا چکراجائے، کبھی ایک ہی کتاب کو دوشمار کر جائے. کم از کم نہیں ہونا چاہیے ــــــ ذی شعور افراد اچھی طرح جانتے ہوں گے اعلی حضرت امام احمد رضا محقق بریلوی کی کتابی ناموں میں جو مختصر نام رکھنے پر اختلاف ہوا وہ نظر انداز کیے جانے کے لائق نہیں. کہ وہی کتاب پاک وہند میں بلکہ ایک ہی ملک میں متعدد ناموں سے چھپ رہی ہے. گوکہ یہ ظاہری طور پر کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں، مگر فنی اعتبار سے جو اس میں نظر ہے وہ فن کار خوب محسوس کررہے ہیں.
اعلی حضرت امام کی شخصیت ایک عالمی شخصیت ہے، ان کی کتابوں میں اس طرح کے ناموں کے اختلافات کو دور کرکے متفقہ طور پر مختصراً ایک رسالے کا ایک ہی نام تجویز ہونا چاہیے. یہاں پر یہ بھی زیر غور ہونا چاہیے کہ رسائل رضویہ کے ناموں کے ساتھ بعینہ لفظی ترجمہ کرنے کا فائدہ مختصراً ایک اصطلاحی نام تجویز کرنے سے افضل ہے یا نہیں؟
*شرح معانی الآثار کا اصل نام*
اردو کی طرح عربی بلکہ ہرزبان زبان میں نام رکھنے کا کچھ ایسا رواج کہ نام سے ہی کتاب کے موضوع کی طرف اشارہ ہوسکے. کہ وہ کس موضوع پر لکھی گئی ہے.
چناں چہ فقہ کے حنفی مکتب فکر میں امام ابو جعفر طحاوی(متوفی 321ھ) اور ان کی کتاب *شرح معانی الآثار* کا نام و مقام بڑا نمایاں ہے.
یہ کتاب *شرح معانی الآثار* یا فقط *معانی الآثار* کے نام سے معروف ومشہور ہے، اب اس کا اصلی نام کیا ہے. یہ بہت کم لوگوں کو پتہ ہے. کیوں کہ نہ تو اس کا پورا نام کہیں شائع ہوتا ہے اور نہ ہی اساتذہ بوقت تدریس بتاتے ہیں. نتیجتاً اصل نام پردہء خفا میں چلاگیا، حالانکہ اس کا اصل نام ذکر کردیا جائے تو پھر یہ بتانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوگی کہ یہ کتاب کس فن میں لکھی گئی.
چنانچہ خود امام طحاوی نے اسی کتاب کے *كتاب الحجة،باب في فتح النبي ﷺ مكة عتوة* ص :189/2طبع ہند کے تحت اس کا اصل نام :
*شرح معانی الآثار المختلفة المروية عن رسول اﷲﷺ فی الأحکام* ذکر کیا.
بقیہ نیچے ⬇⬇⬇
بھی ایک دلچسپ مشغلہ ہے 🌹🌹
ناشرین کتب اس نازکی کا خیال رکھیں❗️
✨✨✨✨
ایک کتاب جب متعدد ناموں سے شائع ہوتی ہے تو پھر بعد والوں کے لیے اس کا اصلی نام جاننا ایک معمہ بن کر رہ جاتا ہے، فہرست سازی کے وقت کون سا نام رکھا جائے، مصنف کی سیرت لکھتے وقت ان میں سے کون سا نام لکھا جائے یہ دشوار مرحلہ ہوتا ہے.
اس لیے ناشرین خواہ ایک ملک کے ہوں یا متعدد ممالک کے انھیں اس بات کا لازمی خیال رکھنا چاہیے کہ اس کتاب کا اصلی نام اس کے مؤلف/مرتب/اور مصنف نے کیا رکھا ہے. مصنف نے اگر کسی کتاب کا نام کچھ رکھا ہے تو پھر اس کے پیچھے کبھی کبھی ایک لمبی داستان بھی ہوسکتی ہے جسے وہی اچھی طرح سمجھ سکتا، اگرچہ دوسروں کو وہ نام اچھا نہ لگے. اور اس نام کے زیر وبم ناشرین پر واضح نہ ہوں.
*بچوں کے نام رکھنے سے زیادہ پر لطف کام*
تصنیف و تالیف کا ذوق رکھنے والے افراد اچھی طرح جانتے ہیں کہ سالوں کی عرق ریزی کے بعد جب کتاب کا نام تجویز کرنے کا مرحلہ ہوتا ہے تو اس پر صاحب کتاب خود کتنی دلچسپی مظاہرہ کرتا ہے، کبھی تاریخی نام نکالنا چاہتا ہے، کبھی اپنے دوستوں کی رائے جاننا چاہتا ہے، کبھی اپنے اساتذہ سے سوال کرتا ہے. اور پھر ان کی طرف سے حاصل ہونے والے ناموں میں سے ایک مناسب نام کا انتخاب کرکے اپنی کتاب کا سر نامہ بنادیتا ہے.
سچ پوچھیں تو اس دورانیہ میں صاحب کتاب کو اس سے بھی کہیں زیادہ لطف ملتا ہے جتنا کہ والدین کو اپنے بچوں کا نام رکھنے میں.
*کتاب کے نام میں اختصار کا مطلب اصل کتاب کا نام اڑا دینا نہیں*
البتہ کبھی بھی علاقائی اثرات/ یا علمی ماحول /یا تبدیلی زمانہ کی وجہ سے نام ذرا مشکل لگنے لگتا ہے ہے تو پھر ذمہ دار علمائے کرام اس کا ایک مناسب آسان نام تجویز کرتے ہیں، ظاہر ہے کہ یہ کام آسانی کی خاطر ہوا ہے، اور اس سے مصنف کی دل آزاری نہ ہونے کا ظن غالب ہوتا ہے.
مگر یہاں پر اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ آپ مختصر سا نام جو بھی دیں، مصنف کے ذریعے تجویز شدہ اصل نام کا ذکر ساتھ میں ضرور کریں ، تاکہ اول نظر میں ذی علم افراد اس کے اصل نام سے مطلع ہوسکیں.
ورنہ بسااوقات ناموں میں اختصار جہاں آسانی کا سبب بنتا ہے، وہیں بعد میں ذی علم افراد کے لیے الجھنوں کا سامان بن کر رہ جاتا ہے.
*اعلی حضرت کی اردو کتابوں کے نام میں اختلافات*
اعلی حضرت *امام احمد رضا* محقق بریلوی چودھویں صدی ہجری کے کثیر التصانیف بزرگ گزرے ہیں، ان کی کتابوں کے نام عموماً عربی زبان میں اور تاریخی ہونے کے ساتھ ساتھ خالص مسجع و مقفیٰ انداز میں ہوتے ہیں، نام پڑھ کر یہ اندازہ لگالینا کہ کتاب کس فن میں لکھی گئی ہے؛ مبتدیوں کے لیے آسان نہیں. اب اردو داں طبقہ کے لیے موضوع کے حساب سے ایک آسان مختصر سانام اردو میں تجویز کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی،
یہ بات مجھے بار بار کھٹکتی ہے کہ یہاں پر ایسا انتشار کہ کبھی کبھی *تصانیف امام احمد رضا* کی تعداد بتانے والا چکراجائے، کبھی ایک ہی کتاب کو دوشمار کر جائے. کم از کم نہیں ہونا چاہیے ــــــ ذی شعور افراد اچھی طرح جانتے ہوں گے اعلی حضرت امام احمد رضا محقق بریلوی کی کتابی ناموں میں جو مختصر نام رکھنے پر اختلاف ہوا وہ نظر انداز کیے جانے کے لائق نہیں. کہ وہی کتاب پاک وہند میں بلکہ ایک ہی ملک میں متعدد ناموں سے چھپ رہی ہے. گوکہ یہ ظاہری طور پر کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں، مگر فنی اعتبار سے جو اس میں نظر ہے وہ فن کار خوب محسوس کررہے ہیں.
اعلی حضرت امام کی شخصیت ایک عالمی شخصیت ہے، ان کی کتابوں میں اس طرح کے ناموں کے اختلافات کو دور کرکے متفقہ طور پر مختصراً ایک رسالے کا ایک ہی نام تجویز ہونا چاہیے. یہاں پر یہ بھی زیر غور ہونا چاہیے کہ رسائل رضویہ کے ناموں کے ساتھ بعینہ لفظی ترجمہ کرنے کا فائدہ مختصراً ایک اصطلاحی نام تجویز کرنے سے افضل ہے یا نہیں؟
*شرح معانی الآثار کا اصل نام*
اردو کی طرح عربی بلکہ ہرزبان زبان میں نام رکھنے کا کچھ ایسا رواج کہ نام سے ہی کتاب کے موضوع کی طرف اشارہ ہوسکے. کہ وہ کس موضوع پر لکھی گئی ہے.
چناں چہ فقہ کے حنفی مکتب فکر میں امام ابو جعفر طحاوی(متوفی 321ھ) اور ان کی کتاب *شرح معانی الآثار* کا نام و مقام بڑا نمایاں ہے.
یہ کتاب *شرح معانی الآثار* یا فقط *معانی الآثار* کے نام سے معروف ومشہور ہے، اب اس کا اصلی نام کیا ہے. یہ بہت کم لوگوں کو پتہ ہے. کیوں کہ نہ تو اس کا پورا نام کہیں شائع ہوتا ہے اور نہ ہی اساتذہ بوقت تدریس بتاتے ہیں. نتیجتاً اصل نام پردہء خفا میں چلاگیا، حالانکہ اس کا اصل نام ذکر کردیا جائے تو پھر یہ بتانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوگی کہ یہ کتاب کس فن میں لکھی گئی.
چنانچہ خود امام طحاوی نے اسی کتاب کے *كتاب الحجة،باب في فتح النبي ﷺ مكة عتوة* ص :189/2طبع ہند کے تحت اس کا اصل نام :
*شرح معانی الآثار المختلفة المروية عن رسول اﷲﷺ فی الأحکام* ذکر کیا.
بقیہ نیچے ⬇⬇⬇
عرفی نام میں تو محض شرح حدیث کی طرف اشارہ ملتا ہے مگر اس کا اصلی پورا نام خود ہی کتاب کی خصوصیات کا پتہ دے رہا ہے کہ یہ کتاب کیوں اور کس موضوع پر لکھی گئی.
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس دور میں کتاب کا اصل نام جاننا محققین کے دلچسپ مشاغل میں شامل ہوتا جارہا ہے، اور وہ اصل نام کی تحقیق و چھان بین میں لگے ہوئے ہیں، تو پھر اصل نام اڑا کر بلاوجہ خود ہی ناشرین کا کوئی نیا نام تجویز کردینا کیسا مضحکہ خیز کام ہے. خاص کر یہ بات اس وقت اور بھی سنگینی اختیار کر جاتی ہے جب کہ اس سے مصنف ومرتب کی دلآزاری کا اندیشہ ہو.
کارہا دادیم حاصل شد فراغ
مـاعلیـنا یـاأخی إلا الـبـلاغ
✍️فیضان سرور مصباحی
12/نومبر 2018ء
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledege
➻═════════════➻
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس دور میں کتاب کا اصل نام جاننا محققین کے دلچسپ مشاغل میں شامل ہوتا جارہا ہے، اور وہ اصل نام کی تحقیق و چھان بین میں لگے ہوئے ہیں، تو پھر اصل نام اڑا کر بلاوجہ خود ہی ناشرین کا کوئی نیا نام تجویز کردینا کیسا مضحکہ خیز کام ہے. خاص کر یہ بات اس وقت اور بھی سنگینی اختیار کر جاتی ہے جب کہ اس سے مصنف ومرتب کی دلآزاری کا اندیشہ ہو.
کارہا دادیم حاصل شد فراغ
مـاعلیـنا یـاأخی إلا الـبـلاغ
✍️فیضان سرور مصباحی
12/نومبر 2018ء
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledege
➻═════════════➻
جشن عید میلاد النبی ﷺ کے بارے میں
اہل سنت و جماعت کا اصولی موقف ❗️
اہل سنت کے نزدیک جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا ایک مندوب، مستحب اور مستحسن عمل ہے. قرون اولی میں اصولی طور پر میلاد و فضائل کا تذکرہ ناقابل تردید دلائل سے ثابت ہے، یہ ان کے نزدیک نہ فرض ہے نہ واجب اور نہ ہی مروجہ طرز پر سنت البتہ یہ مستحب و مستحسن ہے. ان کے نزدیک اسے فرض و واجب قرار دینا بھی بدعت ہے اور حرام قرار دینا بھی بدعت ہے.
مستحب و مستحسن وہ عمل ہوتا ہے جس کو علماء و مشائخ نے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہو. جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہ جس نے کسی اچھے کام کا آغاز کیا تو اس کو اس کا اپنا بھی اجر ملے گا اور دیگر عمل کرنے والوں کا بھی اجر ملے گا.
معلوم ہوا کہ کسی بھی مستحسن کام کی بنیاد رکھنے پر شریعت کوئی پابندی عائد نہیں کرتی.
مستحسن کام کے لیے بنیادی ضابطہ یہ ہے کہ اس کی بنیاد شریعت میں لازمی ہونی چاہیے، ورنہ وہ مستحسن نہیں سمجھا جائے گا.
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا میلاد النبی یعنی عظمت و فضائل مصطفی اور واقعات پیدائش کا تذکرہ قرآن و سنت اور قرون اولی میں موجود ہے یا نہیں، تو ہر مسلمان جانتا ہے کہ سو فیصد موجود ہے.. جیسا کہ ذیل کے چند حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے..
حضورہرپیرکواپنےمیلادکی خوشی میں روزہ رکھتےتھے(بخاری)صحابہ کرام نےمسجدنبوی میں میلادکاتذکرہ کیاتوحضورنےاس پراللہ کےخوش ہونےکامژدہ سنایا(مسلم)ترمذی میں میلادالنبی کاباب موجودہے.حضورنےصحابہ کی محفل میں اپنانسب ومیلادبیان کیا(ترمذی)ابولہب کافرنےحضورکی ولادت پرلونڈی آزادکی تواس پراسےقبرمیں پانی پلاکر کچھ راحت دی جاتی ہے(بخاری)حضرت عائشہ کےپاس حضورپاک اورحضرت ابوبکرنےاپنےمیلادکاتذکرہ کیا(طبرانی)حضرت حسان نےمنبرپرحضورکےسامنےواجمل منک لم تلدالنساءکےاشعارسنا کر آپ کامیلادبیان کیا_حضرت ابن عباس نےاپنےنعتیہ قصیدہ میں میلادمصطفی بیان کیا_تمام کتب سیرت میں حضورکی پیدائش کےجملہ واقعات صحابہ سےمروی ہیں جووہ ایک دوسرے کوبیان کیا کرتےتھے.
اب رہ گیا یہ سوال کہ مروجہ طرز یعنی ربیع الاول بالخصوص بارہ تاریخ کو جھنڈوں، جلوسوں، نعروں اور چراغاں وغیرہ کی صورت میں میلاد منانا کس حد تک درست ہے؟ تو اس سلسلے میں اہل سنت کا اصولی موقف یہ ہے کہ جب میلاد و فضائل کے تذکرے قرآن و سنت اور قرون اولی سے ثابت ہیں اور شرعا مستحب کے درجے میں ہیں تو مستحبات میں ایسے امور کا اضافہ جنہیں شریعت نے ممنوع قرار نہ دیا ہو، قطعاً حرام نہیں ہے،(یہ اضافہ فرائض و واجبات میں حرام ہے) ہاں ایسے کسی ایک بھی کام کا اضافہ جسے شریعت نے حرام قرار دیا ہو، بالکل ناجائز ہو گا اور اس کام سے رکنا فرض ہو گا. پس اہل سنت کے نزدیک ذکر میلاد کے مستحسن عمل میں تاریخ کی تخصیص، جلوس نکالنا، صدقہ کرنا، نعرے لگانا وغیرہ امور ایسے ہیں جن سے شریعت نے منع نہیں کیا، لہٰذا کسی کے ازخود انہیں حرام کہہ دینے سے یہ حرام نہ ہوں گے، ہاں شریعت میں نام بہ نام ان کی حرمت ثابت کر دی جائے تو ضرور حرام ہوں گے.
اس سلسلے میں یہ دلیل قطعاً ناکافی ہے کہ اس طرز سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے میلاد نہیں منایا تو اس لیے حرام ہے ، اہل سنت کے نزدیک ایسی چیزیں قرون اولی میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے حرام نہیں ہوتیں بلکہ شرعی ممانعت سے حرام ہوتی ہیں.
اگر صرف نئی طرز کی وجہ سے میلاد کے مروج انداز کو حرام قرار دے دیا جائے تو پھر سیرت النبی کے نام پر ہونے والے وہ تمام جلسے بھی حرام ہوں گے جن میں بہرصورت نت نئی طرزیں داخل ہو چکی ہیں. مثلاً سیرت کے جلسوں کے اشتہارات چھاپ کر تداعی کرنا، تلاوت و نعت سے آغاز کرنا، تاریخ اور جگہ کی تخصیص کرنا وغیرہ.. کیونکہ اس طرز پر سیرت النبی کی محفلیں بھی قرون اولی میں نہیں دکھائی جا سکتیں.
اگر سیرت النبی کی یہ طرز جائز ہے تو پھر میلاد کی بھی جائز ہی ہونی چاہیے، اور اگر میلاد کی یہ طرز حرام ہے تو پھر سیرت کی بھی حرام ہی ہونی چاہیے.
مستحب امور میں اضافے کی مثال ایسے ہی ہے جیسے حضور کے زمانے میں مسجدیں تو موجود تھیں مگر مروجہ طرز کی نقش و نگار والی،میناروں، محرابوں،موٹروں،صفوں، پنکھوں اور ٹوٹیوں وغیرہ والی مسجدیں نہیں تھیں تو کیا پھر مروجہ طرز کی مسجدیں بھی ناجائز ہوں گی؟
اگر میلاد کو نیکی سمجھ کر سر انجام دینا دین میں اضافہ ہے تو مسجد میں نیکی قرار دے کر پنکھے لگوانا کیوں دین میں اضافہ نہیں ہے.
باقی رہا اتنے چرچے اور خرچے کے ساتھ دھوم دھام سے میلاد کا مقصد کیا ہے؟ تو اہل سنت کے نزدیک نئی نسلوں کو رسول اللہ کی عظمتوں اور شانوں سے آگاہ کرنا اور ان کے دلوں میں رسول اللہ کی محبت پیدا کرنا ایک اہم ترین امر ہے، اسی کے پیش نظر یہ سب کچھ کیا جاتا ہے اور یہ معمول کوئی آج کل شروع نہیں ہوا بلکہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے.
بقیہ نیچے ⬇⬇⬇
اہل سنت و جماعت کا اصولی موقف ❗️
اہل سنت کے نزدیک جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا ایک مندوب، مستحب اور مستحسن عمل ہے. قرون اولی میں اصولی طور پر میلاد و فضائل کا تذکرہ ناقابل تردید دلائل سے ثابت ہے، یہ ان کے نزدیک نہ فرض ہے نہ واجب اور نہ ہی مروجہ طرز پر سنت البتہ یہ مستحب و مستحسن ہے. ان کے نزدیک اسے فرض و واجب قرار دینا بھی بدعت ہے اور حرام قرار دینا بھی بدعت ہے.
مستحب و مستحسن وہ عمل ہوتا ہے جس کو علماء و مشائخ نے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہو. جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہ جس نے کسی اچھے کام کا آغاز کیا تو اس کو اس کا اپنا بھی اجر ملے گا اور دیگر عمل کرنے والوں کا بھی اجر ملے گا.
معلوم ہوا کہ کسی بھی مستحسن کام کی بنیاد رکھنے پر شریعت کوئی پابندی عائد نہیں کرتی.
مستحسن کام کے لیے بنیادی ضابطہ یہ ہے کہ اس کی بنیاد شریعت میں لازمی ہونی چاہیے، ورنہ وہ مستحسن نہیں سمجھا جائے گا.
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا میلاد النبی یعنی عظمت و فضائل مصطفی اور واقعات پیدائش کا تذکرہ قرآن و سنت اور قرون اولی میں موجود ہے یا نہیں، تو ہر مسلمان جانتا ہے کہ سو فیصد موجود ہے.. جیسا کہ ذیل کے چند حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے..
حضورہرپیرکواپنےمیلادکی خوشی میں روزہ رکھتےتھے(بخاری)صحابہ کرام نےمسجدنبوی میں میلادکاتذکرہ کیاتوحضورنےاس پراللہ کےخوش ہونےکامژدہ سنایا(مسلم)ترمذی میں میلادالنبی کاباب موجودہے.حضورنےصحابہ کی محفل میں اپنانسب ومیلادبیان کیا(ترمذی)ابولہب کافرنےحضورکی ولادت پرلونڈی آزادکی تواس پراسےقبرمیں پانی پلاکر کچھ راحت دی جاتی ہے(بخاری)حضرت عائشہ کےپاس حضورپاک اورحضرت ابوبکرنےاپنےمیلادکاتذکرہ کیا(طبرانی)حضرت حسان نےمنبرپرحضورکےسامنےواجمل منک لم تلدالنساءکےاشعارسنا کر آپ کامیلادبیان کیا_حضرت ابن عباس نےاپنےنعتیہ قصیدہ میں میلادمصطفی بیان کیا_تمام کتب سیرت میں حضورکی پیدائش کےجملہ واقعات صحابہ سےمروی ہیں جووہ ایک دوسرے کوبیان کیا کرتےتھے.
اب رہ گیا یہ سوال کہ مروجہ طرز یعنی ربیع الاول بالخصوص بارہ تاریخ کو جھنڈوں، جلوسوں، نعروں اور چراغاں وغیرہ کی صورت میں میلاد منانا کس حد تک درست ہے؟ تو اس سلسلے میں اہل سنت کا اصولی موقف یہ ہے کہ جب میلاد و فضائل کے تذکرے قرآن و سنت اور قرون اولی سے ثابت ہیں اور شرعا مستحب کے درجے میں ہیں تو مستحبات میں ایسے امور کا اضافہ جنہیں شریعت نے ممنوع قرار نہ دیا ہو، قطعاً حرام نہیں ہے،(یہ اضافہ فرائض و واجبات میں حرام ہے) ہاں ایسے کسی ایک بھی کام کا اضافہ جسے شریعت نے حرام قرار دیا ہو، بالکل ناجائز ہو گا اور اس کام سے رکنا فرض ہو گا. پس اہل سنت کے نزدیک ذکر میلاد کے مستحسن عمل میں تاریخ کی تخصیص، جلوس نکالنا، صدقہ کرنا، نعرے لگانا وغیرہ امور ایسے ہیں جن سے شریعت نے منع نہیں کیا، لہٰذا کسی کے ازخود انہیں حرام کہہ دینے سے یہ حرام نہ ہوں گے، ہاں شریعت میں نام بہ نام ان کی حرمت ثابت کر دی جائے تو ضرور حرام ہوں گے.
اس سلسلے میں یہ دلیل قطعاً ناکافی ہے کہ اس طرز سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے میلاد نہیں منایا تو اس لیے حرام ہے ، اہل سنت کے نزدیک ایسی چیزیں قرون اولی میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے حرام نہیں ہوتیں بلکہ شرعی ممانعت سے حرام ہوتی ہیں.
اگر صرف نئی طرز کی وجہ سے میلاد کے مروج انداز کو حرام قرار دے دیا جائے تو پھر سیرت النبی کے نام پر ہونے والے وہ تمام جلسے بھی حرام ہوں گے جن میں بہرصورت نت نئی طرزیں داخل ہو چکی ہیں. مثلاً سیرت کے جلسوں کے اشتہارات چھاپ کر تداعی کرنا، تلاوت و نعت سے آغاز کرنا، تاریخ اور جگہ کی تخصیص کرنا وغیرہ.. کیونکہ اس طرز پر سیرت النبی کی محفلیں بھی قرون اولی میں نہیں دکھائی جا سکتیں.
اگر سیرت النبی کی یہ طرز جائز ہے تو پھر میلاد کی بھی جائز ہی ہونی چاہیے، اور اگر میلاد کی یہ طرز حرام ہے تو پھر سیرت کی بھی حرام ہی ہونی چاہیے.
مستحب امور میں اضافے کی مثال ایسے ہی ہے جیسے حضور کے زمانے میں مسجدیں تو موجود تھیں مگر مروجہ طرز کی نقش و نگار والی،میناروں، محرابوں،موٹروں،صفوں، پنکھوں اور ٹوٹیوں وغیرہ والی مسجدیں نہیں تھیں تو کیا پھر مروجہ طرز کی مسجدیں بھی ناجائز ہوں گی؟
اگر میلاد کو نیکی سمجھ کر سر انجام دینا دین میں اضافہ ہے تو مسجد میں نیکی قرار دے کر پنکھے لگوانا کیوں دین میں اضافہ نہیں ہے.
باقی رہا اتنے چرچے اور خرچے کے ساتھ دھوم دھام سے میلاد کا مقصد کیا ہے؟ تو اہل سنت کے نزدیک نئی نسلوں کو رسول اللہ کی عظمتوں اور شانوں سے آگاہ کرنا اور ان کے دلوں میں رسول اللہ کی محبت پیدا کرنا ایک اہم ترین امر ہے، اسی کے پیش نظر یہ سب کچھ کیا جاتا ہے اور یہ معمول کوئی آج کل شروع نہیں ہوا بلکہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے.
بقیہ نیچے ⬇⬇⬇
نوٹ... یہ تو تھا ہمارا اصولی موقف ، باقی رہ گئے مزید اعتراضات کے طومار اور ان کے جوابات، تو ان کے حوالے سے ہزاروں کتابیں موجود ہیں، اس مختصر تحریر میں ان کی گنجائش نہیں ہے.
✍ پروفیسر عون محمد سعیدی
مصطفوی بہاولپور 13-11-2018
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledege
➻═════════════➻
✍ پروفیسر عون محمد سعیدی
مصطفوی بہاولپور 13-11-2018
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledege
➻═════════════➻
❗️ بدعت ہی بدعت ❗️
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
صلوٰۃ و سلام میلاد النبی ﷺ اور جلوس محمدی ﷺ کو بدعت کہنے والو❗️
کیا صِرف یہی بدعت ہے ؟
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
69 / بدعتیں جو بدمذہب وہابی دیوبندی بهی کرتے چلے آ رہے ہیں - مگر وہ ان کے خلاف ڪُچھ نہیں بولتے❗️اُنہیں دُڪھ تب ہوتا ہے جب ڪوئی امتی اپنے نبی ڪریم ﷺ کا ذڪر ڪرنے لگتا ہے❗️
➻════════════➻
شائع ڪردہ : نوری مرڪز مدرسہ گلشن حسین روڈ نمبر 13A جواہر نگر جمشید پور جهارکهنڈ ہندوستان +919939140917
➻════════════➻
المرتب : فیض احمد رضوی جهارکهنڈ
➻════════════➻
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
صلوٰۃ و سلام میلاد النبی ﷺ اور جلوس محمدی ﷺ کو بدعت کہنے والو❗️
کیا صِرف یہی بدعت ہے ؟
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
69 / بدعتیں جو بدمذہب وہابی دیوبندی بهی کرتے چلے آ رہے ہیں - مگر وہ ان کے خلاف ڪُچھ نہیں بولتے❗️اُنہیں دُڪھ تب ہوتا ہے جب ڪوئی امتی اپنے نبی ڪریم ﷺ کا ذڪر ڪرنے لگتا ہے❗️
➻════════════➻
شائع ڪردہ : نوری مرڪز مدرسہ گلشن حسین روڈ نمبر 13A جواہر نگر جمشید پور جهارکهنڈ ہندوستان +919939140917
➻════════════➻
المرتب : فیض احمد رضوی جهارکهنڈ
➻════════════➻
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
🌹 دنیا بهر کے تمام سُنّی مسلمانوں کو
جشن عید میلاد النبی ﷺ مبارک ہو 🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
★ وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾
☆ Kanzul Iman Translation ⤵️
◆ اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت
سارے جہان کے لئے (ف۱۸۹) [ انبیاء ²¹ ]
◆ और हमने तुम्हें न भेजा मगर रहमत
सारे जहान के लिये। (फ़189) [ सू. ²¹]
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
بَلَغَ الۡعُلیٰ بِكَمَالِهٖ = كَشَفَ الدُّجىٰ بِجَمَالِهٖ
حَسُنَتۡ جَمِیۡعُ خِصَالِهٖ = صَلُّوۡا عَلَیۡهِ وَاٰلِهٖ
➻════════════➻
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
جشن عید میلاد النبی ﷺ مبارک ہو 🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
★ وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾
☆ Kanzul Iman Translation ⤵️
◆ اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت
سارے جہان کے لئے (ف۱۸۹) [ انبیاء ²¹ ]
◆ और हमने तुम्हें न भेजा मगर रहमत
सारे जहान के लिये। (फ़189) [ सू. ²¹]
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
بَلَغَ الۡعُلیٰ بِكَمَالِهٖ = كَشَفَ الدُّجىٰ بِجَمَالِهٖ
حَسُنَتۡ جَمِیۡعُ خِصَالِهٖ = صَلُّوۡا عَلَیۡهِ وَاٰلِهٖ
➻════════════➻
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
آخر ربیع النور کہنے پر اعتراض کیوں ؟
🌹 جشن عید میلاد النبی ﷺ زندہ باد
➻════════════➻
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
🌹 جشن عید میلاد النبی ﷺ زندہ باد
➻════════════➻
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
🌹 جشن عید میلاد النبی ﷺ زندہ باد
گنبد خضریٰ بغداد اجمیر مارہرہ بریلی !
➻════════════➻
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
گنبد خضریٰ بغداد اجمیر مارہرہ بریلی !
➻════════════➻
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
🌹 دنیا بهر کے تمام سُنّی مسلمانوں کو
جشن عید میلاد النبی ﷺ مبارک ہو 🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
تمام سُنّی صحیح العقیدہ مُسَلمان بهائِیُوں
سے گُــذارِش ہے کِـہ آقا ﷺ کی وِلادت کی
خوشِیاں منائیں مگر یہ خیال بهی رکهیں !
➻════════════➻
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
جشن عید میلاد النبی ﷺ مبارک ہو 🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
تمام سُنّی صحیح العقیدہ مُسَلمان بهائِیُوں
سے گُــذارِش ہے کِـہ آقا ﷺ کی وِلادت کی
خوشِیاں منائیں مگر یہ خیال بهی رکهیں !
➻════════════➻
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
حضور ﷺ کی شان میں کِتنے صحابۂ
کرام علیہم الرضوان نے نعتیں کہیں ؟
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضور ﷺ کی تعریف و توصیف میں²⁰⁰
سے زیادہ صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے
نعتیہ اشعار کہے ہیں — حضرت امام ابن
سید الناس علیہ الرحمہ نے نبی ﷺ کی
شان میں نعت کہنے والے 200 سے زیاده
صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ناموں
اور ان کے اشعار پر ایک مستقل کتاب
لکھی ہے — جس کا نام منح المدح ہے !!
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
منح المدح او شعراء الصحابۃ ممن مدح
الرسول ﷺ اورثاہ ✍ لابن سید الناس
تقدیم و تحقیق : عفت وصال حمزہ !
➻════════════➻
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
کرام علیہم الرضوان نے نعتیں کہیں ؟
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضور ﷺ کی تعریف و توصیف میں²⁰⁰
سے زیادہ صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے
نعتیہ اشعار کہے ہیں — حضرت امام ابن
سید الناس علیہ الرحمہ نے نبی ﷺ کی
شان میں نعت کہنے والے 200 سے زیاده
صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ناموں
اور ان کے اشعار پر ایک مستقل کتاب
لکھی ہے — جس کا نام منح المدح ہے !!
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
منح المدح او شعراء الصحابۃ ممن مدح
الرسول ﷺ اورثاہ ✍ لابن سید الناس
تقدیم و تحقیق : عفت وصال حمزہ !
➻════════════➻
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
کیا حضرات صحابۂ کرام
علیہم الرضوان نے میلاد منایا ؟
➻════════════➻
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
علیہم الرضوان نے میلاد منایا ؟
➻════════════➻
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
میلاد النبی ﷺ اور امام احمد رضا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Mumbai Urdu News Daily
21 November 2018 WED.
www.mumbaiurdunews.com
➻═══════════➻
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Mumbai Urdu News Daily
21 November 2018 WED.
www.mumbaiurdunews.com
➻═══════════➻
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
عورتوں کو کانچ یعنی شیشہ اور
پلاسٹک کی چوڑیاں پہننا کیسا ہے ؟
اور اسے پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍مفتی معراج احمد مصباحیصاحب
➻═══════════➻
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
پلاسٹک کی چوڑیاں پہننا کیسا ہے ؟
اور اسے پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍مفتی معراج احمد مصباحیصاحب
➻═══════════➻
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
عید میلاد پر وہابیہ کے اعتراض کا جواب❗️
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1337 ھ میں یعنی آج سے تقریبا 103 سال پہلے میلاد شریف کے متعلق وہابیہ نے ایک اشتہار چھاپہ جس میں شکوک وشبہات کا اظہار کیا گیا
اور ان شکوک وشبہات کا جواب دینے والے کو 100 روپے انعام دینے کا اعلان بھی کیا،،
اس اشتہار کا جواب اس صدی کے مجدد حامی سنت ماحی بدعت پیر طرقت رہبر شریعت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمتہ الرحمن نے دیا - اور فرمایا اگر وہابیت اس جواب کا جواب دیدے - تو 200 روپے انعام وصول کرے ❗️
وہ سوال و جواب ہدیہ قارئیں کیا جاتا ہے
خود بھی استفادہ کریں اور آگے
شیئر کر کے دوسروں کو بھی موقع دیں
فتاوی رضویہ شریف سے ملاحظہ فرمائیں،
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#مسئلہ 97
از امرتسر کٹرہ پرجہ مرسلہ غلام محمد
دکاندار 27 ربیع الاول شریف 1337 ھ
ثبوت مولود شریف پر سو ¹⁰⁰ روپیہ انعام
آج کل جس رسم کا رواج ہے ہمارے علم میں یہ بے ثبوت بات ہے اس کے ثبوت دینے پر انجمن ہذا ( انجمن اہل حدیث امرتسر ) کی طرف سے یکم ربیع الاول کو ایک اشتہار انعامی 10 روپیہ شائع ہوچکا ہے مگر میاں فیروزالدین صاحب سوداگر آنریری مجسٹریٹ فرماتے ہیں کہ یہ انعام کم ہے اس مسئلہ کا فیصلہ ہونا ضروری ہے اس لئے میاں صاحب موصوف مروجہ مولود (میلاد) کا ثبوت قرآن یا حدیث یا فقہ میں سے دینے والے کو یک صد (100) روپیہ انعام دینے کا اعلان کرنے کی ہم کو اجازت دیتے ہیں،
امید ہے حامیان مولود شریف ضرور توجہ کرکے انعام مرقومہ کے علاوہ ثواب دارین بھی حاصل کریں گے،
نوٹ❗️واضح رہے کہ ایچ پیچ کا کام نہیں،
صرف حوالہ کتاب مع عبارت شائع کر دینا کافی ہے جس میں لکھا ہو کہ ربیع الاول کے مہینہ میں مجلس مولود کیا کرو - مجلس مولود کرنا ثواب ہے❗️
ہماری طرف سے اجازت ہے کہ امامان دین میں سے کسی ایک امام کا قول دکھا دیں جو کسی مستند کتاب میں ہو،
اگر اتنا بھی ثبوت نہیں تو پھر ایسی بے ثبوت بات کو چھوڑنے میں ذرا دیر نہ کریں
ورنہ خدا کے سامنے جواب دہی ہوگی ۔
والسلام خاکسار محمد ابراہیم شال مرچنٹ نائب سیکریٹری انجمن اہل حدیث امرتسر ¹³دسمبر،
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
الجواب :
وہابیہ کو دو سو (200) روپے انعام
حامدا و مصلیا و مسلما .................
(1) اللہ تعالی فرماتا ہے
وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ
(پارہ 30 سورہ والضحی ایت 11)
اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو،
#اگر وہابیہ ثبوت دے دیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت نعمت نہیں یا مجلس میلاد مبارک اس نعمت کا چرچا نہیں تو 40 روپے انعام،
(2) اللہ تعالی فرماتا ہے
وَذَكِّرْهُم بِأَيَّامِ اللہ
(پارہ سورہ ابرہیم ایت 5 )
انھیں اللہ کے دن یاد دلاو ،
#اگر وہابیہ ثبوت دے دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی ولادت کا دن اللہ کے عظمت والے دنوں میں نہیں یا مجلس میلاد اس دن کا یاد دلانا نہیں تو 40 ورپے انعام
(3)اللہ تعالی فرماتا ہے
قُلْ بِفَضْلِ ٱللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِۦ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُواْ
(پارہ سورہ یونس ایت 58)
تم فرمادو کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت ہی پر لازم ہے کہ خوشیاں مناو۔
#اگر وہابیہ ثبوت دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہیں یا مجلس میلاد اس فضل و رحمت کی خوشی نہیں تو 40 ورپے انعام ۔
(4) اللہ تعالی فرماتا ہے
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا
(پارہ سورہ الحشر ایت 7 )
جو رسول تمہیں دے وہ لو اور جس سے وہ منع کریں اس سے باز رہو
#اگر وہابیہ ثبوت دیں کہ قرآن مجید یا حدیث شریف میں کہیں مجلس میلاد مبارک کو منع فرمایا تو 40 روپے انعام
،،،،#ضروری اطلاع، ،،،،
واضح رہے کہ ایچ پیچ کا کام نہیں
صرف وہ آیت یا مع حوالہ کتاب و صحیح اسناد حدیث شائع کر دینا کافی ہے جس میں لکھا ہو کہ ربیع الاول کے مہینے میں مجلس میلاد نہ کیا کرو یا مجلس میلاد کرنا عذاب ہے
بلکہ ہماری طرف سے اجازت ہے❗️
کہ چاروں اماموں یا صحاح ستہ کے چھ⁶ مصنفوں میں سے کسی ایک امام کا قول مذکور دکھا دیں جو کسی مستند کتاب میں ہو،
اگر منع کا اتنا ثبوت بھی نہیں تو پھر ایسے بے ثبوت منع کو چھوڑنے میں ذرا دیر نہ کریں
ورنہ خدا کے سامنے جواب دہی ہوگی ۔
(5) اہلحدیث کی کانفرنس
اور اس میں سیکریٹری وغیرہ مقرر کرنااور بننا
اور اس کے بڑے سالانہ جلسے
اور انکی ہیئت کذائی
اور اہلحدیث کا اخبار چھاپنا
اور اس کی پیشگی قیمت (ایڈوانس) لینا
اور رد آئمہ میں کتابیں چھاپنا
اور ہیئت مروجہ (موجودہ صورت) پر مدرسے بنانا
اور ان میں تنخواہ دار مدرسین رکھنا
سہ ماہی
ششماہی
سالانہ امتحان ہونا،
ان میں پاس کے نمبر ٹھہرانا
کسی مسئلہ کا ثبوت مانگنے پر اشتہار چھاپنا
اس پر درس کا نصاب معین کرنا انعام ٹھہرانا
بقیہ نیچے ⬇⬇⬇
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1337 ھ میں یعنی آج سے تقریبا 103 سال پہلے میلاد شریف کے متعلق وہابیہ نے ایک اشتہار چھاپہ جس میں شکوک وشبہات کا اظہار کیا گیا
اور ان شکوک وشبہات کا جواب دینے والے کو 100 روپے انعام دینے کا اعلان بھی کیا،،
اس اشتہار کا جواب اس صدی کے مجدد حامی سنت ماحی بدعت پیر طرقت رہبر شریعت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمتہ الرحمن نے دیا - اور فرمایا اگر وہابیت اس جواب کا جواب دیدے - تو 200 روپے انعام وصول کرے ❗️
وہ سوال و جواب ہدیہ قارئیں کیا جاتا ہے
خود بھی استفادہ کریں اور آگے
شیئر کر کے دوسروں کو بھی موقع دیں
فتاوی رضویہ شریف سے ملاحظہ فرمائیں،
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#مسئلہ 97
از امرتسر کٹرہ پرجہ مرسلہ غلام محمد
دکاندار 27 ربیع الاول شریف 1337 ھ
ثبوت مولود شریف پر سو ¹⁰⁰ روپیہ انعام
آج کل جس رسم کا رواج ہے ہمارے علم میں یہ بے ثبوت بات ہے اس کے ثبوت دینے پر انجمن ہذا ( انجمن اہل حدیث امرتسر ) کی طرف سے یکم ربیع الاول کو ایک اشتہار انعامی 10 روپیہ شائع ہوچکا ہے مگر میاں فیروزالدین صاحب سوداگر آنریری مجسٹریٹ فرماتے ہیں کہ یہ انعام کم ہے اس مسئلہ کا فیصلہ ہونا ضروری ہے اس لئے میاں صاحب موصوف مروجہ مولود (میلاد) کا ثبوت قرآن یا حدیث یا فقہ میں سے دینے والے کو یک صد (100) روپیہ انعام دینے کا اعلان کرنے کی ہم کو اجازت دیتے ہیں،
امید ہے حامیان مولود شریف ضرور توجہ کرکے انعام مرقومہ کے علاوہ ثواب دارین بھی حاصل کریں گے،
نوٹ❗️واضح رہے کہ ایچ پیچ کا کام نہیں،
صرف حوالہ کتاب مع عبارت شائع کر دینا کافی ہے جس میں لکھا ہو کہ ربیع الاول کے مہینہ میں مجلس مولود کیا کرو - مجلس مولود کرنا ثواب ہے❗️
ہماری طرف سے اجازت ہے کہ امامان دین میں سے کسی ایک امام کا قول دکھا دیں جو کسی مستند کتاب میں ہو،
اگر اتنا بھی ثبوت نہیں تو پھر ایسی بے ثبوت بات کو چھوڑنے میں ذرا دیر نہ کریں
ورنہ خدا کے سامنے جواب دہی ہوگی ۔
والسلام خاکسار محمد ابراہیم شال مرچنٹ نائب سیکریٹری انجمن اہل حدیث امرتسر ¹³دسمبر،
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
الجواب :
وہابیہ کو دو سو (200) روپے انعام
حامدا و مصلیا و مسلما .................
(1) اللہ تعالی فرماتا ہے
وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ
(پارہ 30 سورہ والضحی ایت 11)
اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو،
#اگر وہابیہ ثبوت دے دیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت نعمت نہیں یا مجلس میلاد مبارک اس نعمت کا چرچا نہیں تو 40 روپے انعام،
(2) اللہ تعالی فرماتا ہے
وَذَكِّرْهُم بِأَيَّامِ اللہ
(پارہ سورہ ابرہیم ایت 5 )
انھیں اللہ کے دن یاد دلاو ،
#اگر وہابیہ ثبوت دے دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی ولادت کا دن اللہ کے عظمت والے دنوں میں نہیں یا مجلس میلاد اس دن کا یاد دلانا نہیں تو 40 ورپے انعام
(3)اللہ تعالی فرماتا ہے
قُلْ بِفَضْلِ ٱللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِۦ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُواْ
(پارہ سورہ یونس ایت 58)
تم فرمادو کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت ہی پر لازم ہے کہ خوشیاں مناو۔
#اگر وہابیہ ثبوت دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہیں یا مجلس میلاد اس فضل و رحمت کی خوشی نہیں تو 40 ورپے انعام ۔
(4) اللہ تعالی فرماتا ہے
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا
(پارہ سورہ الحشر ایت 7 )
جو رسول تمہیں دے وہ لو اور جس سے وہ منع کریں اس سے باز رہو
#اگر وہابیہ ثبوت دیں کہ قرآن مجید یا حدیث شریف میں کہیں مجلس میلاد مبارک کو منع فرمایا تو 40 روپے انعام
،،،،#ضروری اطلاع، ،،،،
واضح رہے کہ ایچ پیچ کا کام نہیں
صرف وہ آیت یا مع حوالہ کتاب و صحیح اسناد حدیث شائع کر دینا کافی ہے جس میں لکھا ہو کہ ربیع الاول کے مہینے میں مجلس میلاد نہ کیا کرو یا مجلس میلاد کرنا عذاب ہے
بلکہ ہماری طرف سے اجازت ہے❗️
کہ چاروں اماموں یا صحاح ستہ کے چھ⁶ مصنفوں میں سے کسی ایک امام کا قول مذکور دکھا دیں جو کسی مستند کتاب میں ہو،
اگر منع کا اتنا ثبوت بھی نہیں تو پھر ایسے بے ثبوت منع کو چھوڑنے میں ذرا دیر نہ کریں
ورنہ خدا کے سامنے جواب دہی ہوگی ۔
(5) اہلحدیث کی کانفرنس
اور اس میں سیکریٹری وغیرہ مقرر کرنااور بننا
اور اس کے بڑے سالانہ جلسے
اور انکی ہیئت کذائی
اور اہلحدیث کا اخبار چھاپنا
اور اس کی پیشگی قیمت (ایڈوانس) لینا
اور رد آئمہ میں کتابیں چھاپنا
اور ہیئت مروجہ (موجودہ صورت) پر مدرسے بنانا
اور ان میں تنخواہ دار مدرسین رکھنا
سہ ماہی
ششماہی
سالانہ امتحان ہونا،
ان میں پاس کے نمبر ٹھہرانا
کسی مسئلہ کا ثبوت مانگنے پر اشتہار چھاپنا
اس پر درس کا نصاب معین کرنا انعام ٹھہرانا
بقیہ نیچے ⬇⬇⬇
❤1
ان سب باتوں کا اگر وہابیہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ ، تابعین ، یا چار امام یا چھ⁶ مصنف صحاح سے ثبوت دے دیں تو 40 ورپیہ انعام ۔
اور ثبوت نہ دے سکیں تو پھر ایسی بے ثبوت باتوں کے چھوڑنے میں ذرا دیر نہ کریں ورنہ خدا کے سامنے جواب دہی ہوگی والسلام علی من اتبع الہدیٰ (اور سلامتی اسے جو ہدایت کی پیروی کرے۔ت)
( فتاویٰ رضویہ مسئلہ نمبر 97 جلد 29
صفحہ 246 تا 248 رضا فاؤنڈیشن لاہور )
جی معزز قارئین
آپ نے ملاحظہ فرمایا امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالی نے جیسا منہ ویسا تھپڑ مار کر جواب دیا ،،،
آپ کے ارد گرد بھی ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جن کا علم
بچوں یا پاگلو یا کتوں یا سب جانوروں جیسا ہو جن کو دیوار کے پیچھے کی خبر نہ بلکہ اپنا بھی پتہ نہ ہو وہ ایسے جاہلانہ سوالات کرتے نظر آئیں تو رضوی تھپڑ لگا دینا
اور آخر میں عرض کرتا چلوں کہ :
قائد اہلسنت کنزالعلماء ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی صاحب دامت برکاتہم العالیہ خلیفہ مجاز آستانہ عالیہ بریلی شریف فرماتے ہیں کہ :
امام اہل سنت سرکارِ اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ الرحمن نے جو کچھ لکھا اس کا کسی کو جواب دینے کی ہمت نہیں ہوئی،،
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledege
➻═════════════➻
اور ثبوت نہ دے سکیں تو پھر ایسی بے ثبوت باتوں کے چھوڑنے میں ذرا دیر نہ کریں ورنہ خدا کے سامنے جواب دہی ہوگی والسلام علی من اتبع الہدیٰ (اور سلامتی اسے جو ہدایت کی پیروی کرے۔ت)
( فتاویٰ رضویہ مسئلہ نمبر 97 جلد 29
صفحہ 246 تا 248 رضا فاؤنڈیشن لاہور )
جی معزز قارئین
آپ نے ملاحظہ فرمایا امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالی نے جیسا منہ ویسا تھپڑ مار کر جواب دیا ،،،
آپ کے ارد گرد بھی ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جن کا علم
بچوں یا پاگلو یا کتوں یا سب جانوروں جیسا ہو جن کو دیوار کے پیچھے کی خبر نہ بلکہ اپنا بھی پتہ نہ ہو وہ ایسے جاہلانہ سوالات کرتے نظر آئیں تو رضوی تھپڑ لگا دینا
اور آخر میں عرض کرتا چلوں کہ :
قائد اہلسنت کنزالعلماء ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی صاحب دامت برکاتہم العالیہ خلیفہ مجاز آستانہ عالیہ بریلی شریف فرماتے ہیں کہ :
امام اہل سنت سرکارِ اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ الرحمن نے جو کچھ لکھا اس کا کسی کو جواب دینے کی ہمت نہیں ہوئی،،
➻═════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledege
➻═════════════➻
فتنہ رافضیت و تفضیلیت کا
مُنہ توڑ اور مدلل جواب ⬇️
https://youtu.be/SaDzjE5LNKc
جاہلِ ہِند کامران چشتی رافضی
کے ہذیان و بکواس کا جائزہ⬆️
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اِس پیغام کو ایک بار ضرور سُنیں
اور تمام مسلمانوں تک شـیئر کریں
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❗️ اہل سنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہﷺ کی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🎤 حضرت مولانا حسن نوری گونڈوی
صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ ! ہِند
➻════════════➻
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
مُنہ توڑ اور مدلل جواب ⬇️
https://youtu.be/SaDzjE5LNKc
جاہلِ ہِند کامران چشتی رافضی
کے ہذیان و بکواس کا جائزہ⬆️
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اِس پیغام کو ایک بار ضرور سُنیں
اور تمام مسلمانوں تک شـیئر کریں
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❗️ اہل سنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہﷺ کی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🎤 حضرت مولانا حسن نوری گونڈوی
صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ ! ہِند
➻════════════➻
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
YouTube
|| *کامران چشتی کے جھوٹ کا پردہ فاش*
حسن نوری گونڈوی ||
حسن نوری گونڈوی ||
|| *کامران چشتی کے جھوٹ کا پردہ فاش* حسن نوری گونڈوی ||
|| Kamran Rafzi k Jhoot ka Parda Faash ||
|| Maximum share kare ||
|| Kamran Rafzi k Jhoot ka Parda Faash ||
|| Maximum share kare ||