🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
مفتی عنایت احمد کاکوروی﷫ کی علمی صلاحیتوں اور لیاقتوں کی بنیاد پر اُن کو 1273ھ میں آگرہ کا صدر الصدور بنایا گیا ۔ آپ ابھی بریلی سے آگرہ جانے کی تیاریوں میں مصروف ہی تھے کہ 1857ء کی جنگ کا آغاز ہوگیا اور آپ نے آگرہ جانا ترک کردیا اور بریلی و رام پور میں جنگِ آزادی کے لیے متحرک و فعال ہوگئے ۔

لوگوں کے اندر جذبۂ حریت کو بیدار کیا۔  مفتی عنایت احمد کاکوروی﷫ اپنے بریلی میں قیام کے دوران ’’جلسۂ تائیدِ دینِ متین‘‘ کے نام سے ایک تبلیغی و اصلاحی انجمن کی بنیاد ڈالی تھی۔ جس کے تحت آپ نے دینی لٹریچر کی نشرواشاعت کی۔اس انجمن کو بر صغیر کے مسلمانوں کا پہلا اصلاحی ادارہ کہا جاتا ہے۔

اس انجمن سے شائع ہونے والی کتب زیادہ تر مفتی عنایت احمد کاکوروی﷫کی تالیف کردہ ہوتی تھیں ۔ یہ کتابیں اصلاحی اور تبلیغی موضوعات پر تھیں۔ جب ہندوستان میں پہلی جنگِ آزادی کی روح بیدار ہونا شروع ہوئی تو اس وقت انگریزوں کے خلاف علَمِ جہاد بلند کرنے اور مجاہدین کے لیے مالی امداد و اعانت پر ایک اہم فتویٰ بریلی میں جاری ہوا تو اس پر مفتی عنایت احمد کاکوروی ﷫ نے اپنے دستخط ثبت کیے اور عوام و خواص میں روحِ آزادی پھونکنے میں عملی کردار ادا کیا۔

انگریزوں نے جب انقلاب 1857ء کو ناکام بنانے کے بعد علمائےکرام اور قائدینِ انقلاب کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنا شروع کیاتو اس دوران بریلی کے اسی اہم فتویٰ کی بنیاد پر مفتی عنایت احمد کاکوروی کے خلاف بھی مقدمہ چلایا گیا دکھاوے کی خاطر معمولی سی سطحی عدالتی کارروائی کے بعد آپ کو سزائے کالا پانی کے طور پر جزیرۂ انڈیمان بھیج دیا گیا۔ جہاں آپ نے چار سال تک قید و بندکی سخت مشقتیں جھیلیں۔

انگریزوں کی طرف سے دیگر علماء و قائدین کی طرح آپ پر بھی طرح طرح سے مصائب کے پہاڑ توڑے گئے۔حالتِ اسیری میں ابھی دوسال ہوئے تھے کہ ایک انگریز نے آپ سے مشہورِ زمانہ کتاب ’’تقویم البلدان‘‘کے ترجمہ کی خواہش ظاہر کی جسے آپ نے قبول فرماکر دوسال میں مکمل کردیا۔ اس اہم علمی کام سے متاثر ہوکر اُسی انگریز نے آپ کی رہائی کی راہیں ہموار کیں اور آپ 1277ھ/1860ء میں جزیرۂ انڈمان سے آزاد ہوکر ہندوستان واپس آئے۔

جزیرۂ انڈمان میں سزاے کالا پانی کے دوران مفتی عنایت احمد کاکوروی کی طرح قائدِ تحریکِ آزادی علامہ فضل حق خیرآبادی بھی محبوس تھے ۔ ان دوعظیم المرتبت علماے کرام کی موجودگی سے انڈمان کا قید خانہ بھی علم و فضل اور دین و دانش کا ایک مرکز بن گیا۔ ہمارے ان مقتدر اسلافِ کرام نے بہ حالتِ اسیری دین و ادب کی خوب خوب خدمت انجام دی۔

تصنیف و تالیف اور تحقیق و تفحص کاسلسلۂ خیر جاری رکھا جس کے نتیجے میں کئی اہم کتب و رسائل منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئے۔ جزیرۂ انڈمان میں مفتی عنایت احمد کوروی اور علامہ فضل حق خیر آبادی کی تاریخی و علمی خدمات کے بارے میں مولانا عبد الشاہد شیروانی رقم طراز ہیں:

علامہ فضل حق جزیرۂ انڈمان پہنچے۔ مفتی عنایت احمد کاکوروی، مفتی مظہر کریم دریا بادی اور دوسرے مجاہدین علما وہاں پہنچ چکے تھے۔ ان علما کی برکت سے یہ جزیرہ دارالعلوم بن گیا تھا۔ ان حضرات نے تصنیف و تالیف کا سلسلہ وہاں بھی قائم رکھا۔ خرابیِ آب و ہوا، تکالیف شاقہ و جدائی احباب و اعزہ کے باوجود علمی مشاغل جاری رہے۔

مفتی صاحب (مفتی عنایت احمد کاکوروی) نے ’’علم الصیغہ ‘‘ جیسی صَرف کی مفید کتاب جو آج تک داخلِ نصاب ہے وہیں لکھی ۔’’تواریخِ حبیبِ الٰہ‘‘ بھی تالیف کی۔ ان دونوں کتابوں کے دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ ان حضرات کے سینے علم کے سفینے بن گئے تھے۔ تاریخی یادداشت ، ترتیبِ واقعات ، قواعدِ فنون ،ضوابطِ علوم سبھی حیرت انگیز کرشمے دکھا رہے ہیں ‘‘۔قرآن مجید بھی وہیں پر حفظ کیا۔ (باغیِ ہندوستان ص:225)

سفرِ حج و زیارت کے دوران حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی ﷫ اپنی ایک اہم ترین بے نقطہ کتاب’’ لوامع العلوم و اسرارالعلوم ‘‘ کا مسودہ ساتھ لے کر گئے تھے ۔ راستے میں نہایت عالمانہ و محققانہ انداز میں بڑی عرق ریزی اور جانفشانی اس کو مرتب فرمارہے تھے۔

افسوس ! کہ جہاز ٹکرانے سے یہ نہایت اہم ذخیرۂ علوم و فنون غرقِ سمندر ہو گیا اور دنیا ایک بڑے خزانے سے محروم رہ گئی۔ اس میں چالیس علوم کا خلاصہ لکھنا پیشِ نظر تھا۔ ہر علم کا نام بھی بے نقطہ تھا۔ مثلاً علوم التفسیر کانام علم کلام اللہ۔ علم حدیث کا نام علم کلام الرسول۔ علم فقہ کا نام علم الاحکام ۔ وغیرہ۔ حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی ﷫علم و فضل اور زہد و تقویٰ کے پیکر باعمل عالمِ دین تھے۔

آپ نے اپنی زندگی کا لمحہ لمحہ دینِ متین کی خدمت اور تعلیم و تعلم میں بسر فرمائی۔ علوم و فنون کے جامع اور ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع المطالعہ اور ژرف نگاہ محقق و مصنف تھے۔ قوم و ملت کا درد اور انقلابِ امت کا جذبۂ خیر آپ کے سینے میں موجزن تھا۔ آپ کی اصلاحی و تبلیغی تڑپ بھی نمایاں تھی۔ جس کے لیے آپ ہمہ دم ہمہ تن عملی کوششوں میں مصروف رہا کرتے تھے۔
3
آپ جہاں بھی رہے عوام و خواص کی توجہ کا مرکز رہے اور دینی و علمی کاموں میں نہایت فعال اور متحرک رہے۔ اسی طرح آپ نے متنازعہ ترین کتاب تقویۃ الایمان کا مختلف طریقوں سے رد کیا۔ (الحق المبین:9)

تاریخِ وصال:
آپ علیہ الرحمہ نے 1279ھ کو بذریعہ بحری جہاز حج کا سفر کیا۔ جہاز جدہ پہنچ کر پہاڑی سے ٹکرا کر ڈوب گیا۔ مفتی صاحب بحالتِ نماز احرام باندھے ہوئے 17/شوال 1279ھ مطابق 7/اپریل 1663ء کو غریقِ بحرِ رحمت ہوئے۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت۔ چند ممتاز علمائے انقلاب۔ باغی ہندوستان۔

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-inayat-ahmed-kakorwi
Copyright © Zia-e-Taiba
3👍2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-10-1443 ᴴ | 08-05-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-10-1443 ᴴ | 09-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
07-10-1443 ᴴ | 09-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1
2👍1