Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
عبادت و ریاضت: خواجہ عثمان ہارنی علیہ الرحمہ صاحب ِریاضتو مجاہدہ تھے۔ قرآن مجید کے حافظ تھے۔ روزانہ ایک قرآن شریف کی تلاوت کرتے۔سترسال کی مدت تک کسی وقت نفس کو پیٹ بھر کھانا پانی نہ دیا۔ رات کو نہ سوئے، تین چار روز کے بعد روزہ رکھتے، کبھی کبھی چار پانچ ہی لقمے پر اکتفا کر لیتے۔
حضرت میر عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ ان کا تذکرہ یوں فرماتے ہیں:
"خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے دس سال تک خود کو کھانا نہ دیا۔ آپ سات روز کے بعد ایک گھونٹ پانی پیتے، اور عرض کرتے:
خدایا! ہمیں نفس کے ظلم سے بچا، نفس مجھ پر غالب آنا چاہتا ہے۔ مجھ سے پانی مانگتا ہے تو میں ایک گھونٹ منہ بھر دیتا ہوں۔
خواجہ عثمان ہارونی سماع میں بہت روتے کبھی کبھی زرد پڑ جاتے۔ آنکھوں کا پانی خشک ہو جاتا، جسم مبارک میں خون نہ رہتا۔ ایک زوردار نعرہ لگاتے اور آپ پر وجد طاری ہو جاتا۔
جب خواجہ عثمان ہارونی نماز ادا کر لیتے تو غیب سے آواز آتی کہ ہم نے تمھاری نماز پسند کی۔ مانگو کیا مانگتے ہو؟
خواجہ صاحب عرض کرتے: خدایا! میں تجھے چاہتا ہوں۔ آواز آتی کہ عثمان! میں نے جمال لا زوال تمھارے نصیب کیا، کچھ اور مانگو کیا مانگتے ہو؟ عرض کرتے : الٰہی! مصطفیٰ کریمﷺ کی امت کے گناہ گاروں کو بخش دے۔
آواز آتی کہ امت محمدﷺ کے تیس ہزار گناہ گار تمھاری وجہ سے بخش دیے، آپ کو پانچوں وقت یہ بشارت ملتی تھی۔ (اہل سنت کی آواز:204)
حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللّٰه علیہ نے طویل سفر کے بعد مکۃ لمکرمہ جاکر معتکف ہوگئے۔ آپ نےحق تعالیٰ سے آخری عمر میں دو خصوصی دعائیں مانگی تھیں۔ ایک یہ کہ میری قبر مکۃ المعظمہ میں ہو اور اس کا نشان باقی رہے تاکہ لوگ فاتحہ کا ایصال ثواب کرتے رہیں۔ کیونکہ کثرت کی وجہ سے وہاں قبروں کا نشان نہیں رکھتے تھے۔ دوسری دعا آپ نے یہ مانگی تھی کہ میرے روحانی فرزند معین الدین نے مدت دراز تک مقام تجرید و تفرید میں بندہ کی خدمت کی ہے اسے وہ ولایت عطا فرما کہ کسی اور کو اس قسم کی ولایت عطا نہ ہوئی ہو۔ ہاتف نے آواز دی کہ تمھاری قبر مکہ میں ہوگی اور اس کا نشان کوئی نہ مٹا سکےگا، اور معین الدین کو ہندوستان کی وہ ولایت عطا ہوگی کہ جو آج تک ہم نے کسی کو نہیں دی۔لیکن انہیں چاہئے کہ پہلے مدینۃ المنورہ جائیں اور محمدﷺ کی اجازت سے ہند کی ولایت میں جاکر تصرف کریں۔
پس حضرت خواجہ عثمان رحمۃ اللّٰه علیہ نے اجابتِ دعا پر سجدۂ شکر ادا کیا۔ (ایضا:204 بحوالہ مرآۃ الاسرار:561)
آپ سراپا فضل و کرامت تھے۔ جس پہ ایک نگاہ ڈالتے بس ایک ہی نگاہ میں اس کا باطن سنوار کر ولایت کے مقام پر فائز کر دیتے۔ کتنے کفار آپ کے دست اقدس پر مشرف بااسلام ہوئے۔بےشمار فجار و فساق تائب ہوئے۔بہت سے ولایت کے مناصب علیا پر فائز ہوئے۔ ایک مقام پر آپ تشریف لےگئے وہاں مجوسی تھے۔ وہ آگ کی پوجا کر رہے تھے۔ آپ نے انہیں دعوت توحید دی۔ انہوں نے انکارکیا۔ آپ ان کا ایک چھوٹا بچہ لےکر آگ میں داخل ہوگئے آگ نے کچھ نہیں کہا بلکہ وہ گلزار ہوگئی۔ بہت دیر تک آگ میں رہے۔ جب باہر تشریف لائے تو سارے مجوسی مسلمان ہوگئے۔ آپ کی سب سے بڑی کرامت سلطان الہند عطائے رسول حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللّٰه علیہ کی ذات گرامی ہے۔
اسی طرح شیخ الاسلام حضرت شیخ نجم الدین صغریٰ رحمہ اللّٰه، ایسے نفوس قدسیہ جن کی تبلیغ سے لاکھوں غیر مسلم مشرف بااسلام ہوئے۔
آپ کے ملفوظات ’’انیس الارواح‘‘ کے نام سے حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللّٰه علیہ نے جمع فرمائے ہیں۔ اسی طرح اللہ جل شانہ نے آپ کو ذوق شاعری بھی عطا فرمایا تھا۔
؏: نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
مگر نازم بایں ذوق کہ پیشِ یار می رقصم
آپ کا مشہورِ زمانہ کلام ہے۔
تاریخِ وصال: آپ کا وصال 5/شوال المکرم 617ھ مطابق 3/دسمبر 1220ء کو مکۃ المکرمہ میں ہوا۔ آپ کی قبر انور شریف حسین کے محل کے احاطے میں واقع ہے۔ قبر آج تک محفوظ ہے، اور اس کے گرد لکڑی کا چبوترہ ہے۔ یہ آپ کی دعا کا اثر ہے کہ نجدی و وہابی حکومت بھی آپ کی قبر کا نشان نہ مٹا سکی۔
(انسائیکلو پیڈیا اولیاء کرام جلد نمبر 6۔)
ماخذ و مراجع: سبع سنابل شریف۔ اہل سنت کی آواز مارہرہ مطہرہ2008ء۔ بہار چشت۔انسائیکلو پیدیا اولیاء کرام۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
حضرت میر عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ ان کا تذکرہ یوں فرماتے ہیں:
"خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے دس سال تک خود کو کھانا نہ دیا۔ آپ سات روز کے بعد ایک گھونٹ پانی پیتے، اور عرض کرتے:
خدایا! ہمیں نفس کے ظلم سے بچا، نفس مجھ پر غالب آنا چاہتا ہے۔ مجھ سے پانی مانگتا ہے تو میں ایک گھونٹ منہ بھر دیتا ہوں۔
خواجہ عثمان ہارونی سماع میں بہت روتے کبھی کبھی زرد پڑ جاتے۔ آنکھوں کا پانی خشک ہو جاتا، جسم مبارک میں خون نہ رہتا۔ ایک زوردار نعرہ لگاتے اور آپ پر وجد طاری ہو جاتا۔
جب خواجہ عثمان ہارونی نماز ادا کر لیتے تو غیب سے آواز آتی کہ ہم نے تمھاری نماز پسند کی۔ مانگو کیا مانگتے ہو؟
خواجہ صاحب عرض کرتے: خدایا! میں تجھے چاہتا ہوں۔ آواز آتی کہ عثمان! میں نے جمال لا زوال تمھارے نصیب کیا، کچھ اور مانگو کیا مانگتے ہو؟ عرض کرتے : الٰہی! مصطفیٰ کریمﷺ کی امت کے گناہ گاروں کو بخش دے۔
آواز آتی کہ امت محمدﷺ کے تیس ہزار گناہ گار تمھاری وجہ سے بخش دیے، آپ کو پانچوں وقت یہ بشارت ملتی تھی۔ (اہل سنت کی آواز:204)
حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللّٰه علیہ نے طویل سفر کے بعد مکۃ لمکرمہ جاکر معتکف ہوگئے۔ آپ نےحق تعالیٰ سے آخری عمر میں دو خصوصی دعائیں مانگی تھیں۔ ایک یہ کہ میری قبر مکۃ المعظمہ میں ہو اور اس کا نشان باقی رہے تاکہ لوگ فاتحہ کا ایصال ثواب کرتے رہیں۔ کیونکہ کثرت کی وجہ سے وہاں قبروں کا نشان نہیں رکھتے تھے۔ دوسری دعا آپ نے یہ مانگی تھی کہ میرے روحانی فرزند معین الدین نے مدت دراز تک مقام تجرید و تفرید میں بندہ کی خدمت کی ہے اسے وہ ولایت عطا فرما کہ کسی اور کو اس قسم کی ولایت عطا نہ ہوئی ہو۔ ہاتف نے آواز دی کہ تمھاری قبر مکہ میں ہوگی اور اس کا نشان کوئی نہ مٹا سکےگا، اور معین الدین کو ہندوستان کی وہ ولایت عطا ہوگی کہ جو آج تک ہم نے کسی کو نہیں دی۔لیکن انہیں چاہئے کہ پہلے مدینۃ المنورہ جائیں اور محمدﷺ کی اجازت سے ہند کی ولایت میں جاکر تصرف کریں۔
پس حضرت خواجہ عثمان رحمۃ اللّٰه علیہ نے اجابتِ دعا پر سجدۂ شکر ادا کیا۔ (ایضا:204 بحوالہ مرآۃ الاسرار:561)
آپ سراپا فضل و کرامت تھے۔ جس پہ ایک نگاہ ڈالتے بس ایک ہی نگاہ میں اس کا باطن سنوار کر ولایت کے مقام پر فائز کر دیتے۔ کتنے کفار آپ کے دست اقدس پر مشرف بااسلام ہوئے۔بےشمار فجار و فساق تائب ہوئے۔بہت سے ولایت کے مناصب علیا پر فائز ہوئے۔ ایک مقام پر آپ تشریف لےگئے وہاں مجوسی تھے۔ وہ آگ کی پوجا کر رہے تھے۔ آپ نے انہیں دعوت توحید دی۔ انہوں نے انکارکیا۔ آپ ان کا ایک چھوٹا بچہ لےکر آگ میں داخل ہوگئے آگ نے کچھ نہیں کہا بلکہ وہ گلزار ہوگئی۔ بہت دیر تک آگ میں رہے۔ جب باہر تشریف لائے تو سارے مجوسی مسلمان ہوگئے۔ آپ کی سب سے بڑی کرامت سلطان الہند عطائے رسول حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللّٰه علیہ کی ذات گرامی ہے۔
اسی طرح شیخ الاسلام حضرت شیخ نجم الدین صغریٰ رحمہ اللّٰه، ایسے نفوس قدسیہ جن کی تبلیغ سے لاکھوں غیر مسلم مشرف بااسلام ہوئے۔
آپ کے ملفوظات ’’انیس الارواح‘‘ کے نام سے حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللّٰه علیہ نے جمع فرمائے ہیں۔ اسی طرح اللہ جل شانہ نے آپ کو ذوق شاعری بھی عطا فرمایا تھا۔
؏: نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
مگر نازم بایں ذوق کہ پیشِ یار می رقصم
آپ کا مشہورِ زمانہ کلام ہے۔
تاریخِ وصال: آپ کا وصال 5/شوال المکرم 617ھ مطابق 3/دسمبر 1220ء کو مکۃ المکرمہ میں ہوا۔ آپ کی قبر انور شریف حسین کے محل کے احاطے میں واقع ہے۔ قبر آج تک محفوظ ہے، اور اس کے گرد لکڑی کا چبوترہ ہے۔ یہ آپ کی دعا کا اثر ہے کہ نجدی و وہابی حکومت بھی آپ کی قبر کا نشان نہ مٹا سکی۔
(انسائیکلو پیڈیا اولیاء کرام جلد نمبر 6۔)
ماخذ و مراجع: سبع سنابل شریف۔ اہل سنت کی آواز مارہرہ مطہرہ2008ء۔ بہار چشت۔انسائیکلو پیدیا اولیاء کرام۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤2👍1
مشہور صوفی بُزرگ حضرتِ سیّدُنا شیخ ابو محمد مُصْلِحُ الدِّین سَعدی شیرازی علیہ رحمۃ اللہ الکافی بہت بڑےشاعر اور ادیب تھے۔
ولادت:
آپ کی ولادت ایران کے شہر شیراز میں 589 ہجری کو ہوئی۔
سعدی کہنے کی وجہ:
سعدی آپ کا تَخَلُّص ہے۔ آپ کے والد عبداللہ بادشاہ”سعدزنگی“کے ملازم تھے۔ والد کے انتقال پر سعد زنگی نےآپرحمۃ اللہ تعالی علیہ کی پرورش اور تعلیم و تربیَت کا ذمّہ لیا۔بادشاہ کےنام کی نسبت سےآپ نے اپنا تَخَلُّص سعدی تجویز کیا۔(حیاتِ سعدی، ص20ملخصاً،حکایاتِ سعدی، ص11)
تحصیلِ علم:
شیخ سعدی علیہ رحمۃ اللہ القَوی نےوطن میں جاری جنگ کی وجہ سے وطن چھوڑ کربغداد کارخ کیا اور وہاں ”مدرسہ نظامیہ“ میں داخلہ لےکر تحصیلِ علم میں مصروف ہو گئے۔ تقریباً 30 سال کی عمر تک علم حاصل کرتےرہے۔ (حیاتِ سعدی، ص23،25،32 ماخوذاً)
عبادت و ریاضت:
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:بچپن سے ہی مجھے عبادت و رِیاضت کا بڑا شوق تھا اور میں تہجد کی نَماز اور تلاوتِ قراٰن کا بڑا حریص تھا۔
بیعت:
آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ حضرتِ سیّدُناشیخ شہابُ الدّین عمر سہروردی علیہ رحمۃ اللہ القویسے بیعت تھے۔راہِ سلوک کی مَنازِل انہی کی راہنمائی میں طےکیں۔(حیات سعدی، ص25ماخوذاً)
سیر و سِیاحَت:
آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی سیاحت تقریباً 30 برس جاری رہی حتی کہ ابنِ بَطُّوطہ کے بعدآپ کو سب سے بڑا مشرقی سَیّاح کہا گیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے جن مَمالک کا سفر فرمایا ان میں شام، فلسطین، مصر، افریقہ اور ہندوستان بھی شامل ہیں۔ (حیات سعدی، ص35ماخوذاً)
تَصانیف:
آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی تصانیف میں ’’گلستان‘‘
ل اور ’’بوستان‘‘ مشہورہیں۔فارسی زَبان میں کوئی کتاب ان سے زیادہ مقبولِ خاص و عام نہ ہوئی۔
اللہ و رسول کی بارگاہ میں مقبولیت ایک بُزرگ نے خواب دیکھاکہ فرشتوں کے ہاتھوں میں نور کے طَباق ہیں۔ پوچھا:یہ کس کیلئے ہیں؟ فرشتوں نے کہا: یہ سعدی شیرازی کیلئے تحفہ ہے کیونکہ اس کاایک شعر بارگاہِ حق تعالیٰ میں مقبول ہوا ہے:
برگِ درختانِ سبز در نظرِ ہوشیار ہرورقے دفتریست معرفتِ کردگار
(یعنی صاحبِ نظر کی نگاہ میں سبزدرختوں کےپتّوں میں سے ہر ایک پتّا خالقِ کائنات کی مَعرِفت کا ایک دفتر ہے)
جب وہ بُزرگ نیند سے بیدار ہوئے تو اسی وقت شیخ سعدی کےمکان پر خوشخبری دینے گئے۔کیا دیکھتے ہیں کہ شیخ سعدی چراغ جلاکر یہی شعر پڑھ رہے تھے۔(مراٰۃ الاسرار مترجَم ، ص731 ملخصاً)ایک بار کسی نے آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کوسخت سُست (یعنی بُرا بھلا)کہاتو رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس کے خواب میں تشریف لائے اورناراضی کا اظہار فرمایا، وہ شخص بیدار ہوتے ہی شیخ سعدی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی خدمت میں حاضر ہوا اور مُعافی مانگ کر آپ کو راضی کرلیا۔(ایضاً، ص731)
دوفرامین:
(1)نعمت کی قَدْر اس کے زائل ہونے کے بعد معلوم ہوتی ہے۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،ص142)
(2) بُرائی کا بُرا بدلہ دینا تو بہت آسان ہے لیکن اگر تم جوان مرد ہو تو بُرائی کرنے والے کے ساتھ بھلائی کرو۔(عجائب القران،ص103)
وصال:
آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے شبِ جمعہ شوّالُ المکرّم 691 ہجری کو (102سال کی عمر میں) شیرازہی میں وِصال فرمایا اور یہیں آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا مزار مبارک ہے۔ (مراٰۃ الاسرار مترجَم، ص:732 مفہوماً۔حکایات ِسعدی، ص12)
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/tazkira-e-saliheen/tazkirah-sheikh-saadi-shirazi
٭…ماہنامہ فیضانِ مدینہ،باب المدینہ کراچی
ولادت:
آپ کی ولادت ایران کے شہر شیراز میں 589 ہجری کو ہوئی۔
سعدی کہنے کی وجہ:
سعدی آپ کا تَخَلُّص ہے۔ آپ کے والد عبداللہ بادشاہ”سعدزنگی“کے ملازم تھے۔ والد کے انتقال پر سعد زنگی نےآپرحمۃ اللہ تعالی علیہ کی پرورش اور تعلیم و تربیَت کا ذمّہ لیا۔بادشاہ کےنام کی نسبت سےآپ نے اپنا تَخَلُّص سعدی تجویز کیا۔(حیاتِ سعدی، ص20ملخصاً،حکایاتِ سعدی، ص11)
تحصیلِ علم:
شیخ سعدی علیہ رحمۃ اللہ القَوی نےوطن میں جاری جنگ کی وجہ سے وطن چھوڑ کربغداد کارخ کیا اور وہاں ”مدرسہ نظامیہ“ میں داخلہ لےکر تحصیلِ علم میں مصروف ہو گئے۔ تقریباً 30 سال کی عمر تک علم حاصل کرتےرہے۔ (حیاتِ سعدی، ص23،25،32 ماخوذاً)
عبادت و ریاضت:
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:بچپن سے ہی مجھے عبادت و رِیاضت کا بڑا شوق تھا اور میں تہجد کی نَماز اور تلاوتِ قراٰن کا بڑا حریص تھا۔
بیعت:
آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ حضرتِ سیّدُناشیخ شہابُ الدّین عمر سہروردی علیہ رحمۃ اللہ القویسے بیعت تھے۔راہِ سلوک کی مَنازِل انہی کی راہنمائی میں طےکیں۔(حیات سعدی، ص25ماخوذاً)
سیر و سِیاحَت:
آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی سیاحت تقریباً 30 برس جاری رہی حتی کہ ابنِ بَطُّوطہ کے بعدآپ کو سب سے بڑا مشرقی سَیّاح کہا گیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے جن مَمالک کا سفر فرمایا ان میں شام، فلسطین، مصر، افریقہ اور ہندوستان بھی شامل ہیں۔ (حیات سعدی، ص35ماخوذاً)
تَصانیف:
آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی تصانیف میں ’’گلستان‘‘
ل اور ’’بوستان‘‘ مشہورہیں۔فارسی زَبان میں کوئی کتاب ان سے زیادہ مقبولِ خاص و عام نہ ہوئی۔
اللہ و رسول کی بارگاہ میں مقبولیت ایک بُزرگ نے خواب دیکھاکہ فرشتوں کے ہاتھوں میں نور کے طَباق ہیں۔ پوچھا:یہ کس کیلئے ہیں؟ فرشتوں نے کہا: یہ سعدی شیرازی کیلئے تحفہ ہے کیونکہ اس کاایک شعر بارگاہِ حق تعالیٰ میں مقبول ہوا ہے:
برگِ درختانِ سبز در نظرِ ہوشیار ہرورقے دفتریست معرفتِ کردگار
(یعنی صاحبِ نظر کی نگاہ میں سبزدرختوں کےپتّوں میں سے ہر ایک پتّا خالقِ کائنات کی مَعرِفت کا ایک دفتر ہے)
جب وہ بُزرگ نیند سے بیدار ہوئے تو اسی وقت شیخ سعدی کےمکان پر خوشخبری دینے گئے۔کیا دیکھتے ہیں کہ شیخ سعدی چراغ جلاکر یہی شعر پڑھ رہے تھے۔(مراٰۃ الاسرار مترجَم ، ص731 ملخصاً)ایک بار کسی نے آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کوسخت سُست (یعنی بُرا بھلا)کہاتو رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس کے خواب میں تشریف لائے اورناراضی کا اظہار فرمایا، وہ شخص بیدار ہوتے ہی شیخ سعدی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی خدمت میں حاضر ہوا اور مُعافی مانگ کر آپ کو راضی کرلیا۔(ایضاً، ص731)
دوفرامین:
(1)نعمت کی قَدْر اس کے زائل ہونے کے بعد معلوم ہوتی ہے۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،ص142)
(2) بُرائی کا بُرا بدلہ دینا تو بہت آسان ہے لیکن اگر تم جوان مرد ہو تو بُرائی کرنے والے کے ساتھ بھلائی کرو۔(عجائب القران،ص103)
وصال:
آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے شبِ جمعہ شوّالُ المکرّم 691 ہجری کو (102سال کی عمر میں) شیرازہی میں وِصال فرمایا اور یہیں آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا مزار مبارک ہے۔ (مراٰۃ الاسرار مترجَم، ص:732 مفہوماً۔حکایات ِسعدی، ص12)
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/tazkira-e-saliheen/tazkirah-sheikh-saadi-shirazi
٭…ماہنامہ فیضانِ مدینہ،باب المدینہ کراچی
❤2👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-10-1443 ᴴ | 06-05-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-10-1443 ᴴ | 07-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
05-10-1443 ᴴ | 07-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍1