🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-09-1443 ᴴ | 01-05-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-09-1443 ᴴ | 02-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-09-1443 ᴴ | 02-05-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-09-1443 ᴴ | 02-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
📜 فضائل و مسائل عیدین 📜
✍ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2021/05/blog-post_1.html?m=1
محترم قارئینِ کرام : نماز عیدین کا حکم ہجرتِ مدینہ کے پہلے سال دیا گیا ۔ الله تعالیٰ نے مسلمانوں کی خوشی اور فرحت کے لئے سال میں دو اہم دن مقرر کئے جن میں سے ایک عیدالاضحی اور دوسرا عیدالفطر کا دن ہے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب مدینہ تشریف لائے تو (دیکھا کہ) وہاں کے لوگ دو دن کھیل تماشے میں گزارتے تھے ۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دریافت فرمایا کہ یہ دن کیا ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہم ایام جاہلیت میں ان دو دنوں میں کھیل تماشے کیا کرتے تھے ۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : إِنَّ اللهَ قَدْ اَبْدَلَکُمْ بِهِمَا خَيُرًا مِنْهُمَا ؛ يَوْمَ الْاَضْحٰی وَ يَوْمَ الْفِطْرِ ۔
ترجمہ : الله تعالیٰ نے ان ایام کے بدلے میں تمہیں ان سے بہتر دو ایام: یوم الاضحی اور یوم الفطر عطا فرمائے ہیں ۔ (ابو داؤد ، السنن، کتاب الصلاة، باب صلاة العيدين، 1: 295، رقم: 1134،چشتی)
عید کہتے ہیں خوشی کے دن کو ، عیدین سے دو عید یعنی عید الفطر اور عید الاضحی مراد ہیں ۔
عید الفطر اس عید کا نام ہے جو ماہ رمضان المبارک کے اختتام پر غرہ شوال کو ہوتی ہے جس میں نماز کے علاوہ صدقہ فطر بھی دیا جاتا ہے ۔
عید الاضحی وہ عید ہے جو ماہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو ہوتی ہے جس میں نماز کے علاوہ قربانی بھی دی جاتی ہے ۔
فضاٸل عیدین
نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرما : جس نے عیدین کی رات (یعنی شبِ عیدالفطر اور شب عِیدُ الْاَضْحٰی) طلبِ ثواب کیلئے قیام کیا ،اُس دن اُس کا دِل نہیں مرے گا ، جس دن (لوگوں کے) دِل مرجائیں گے ۔ (سنن ابنِ ماجہ ج ۲ ص ۳۶۵ حدیث۱۷۸۲،چشتی)
حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے ، فرماتے ہیں : جو پانچ راتوں میں شبِ بیداری کرے اُس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے ۔ ذُو الْحِجّہ شریف کی آٹھویں ، نویں اور دسویں رات (اِس طرح تین راتیں تو یہ ہوئیں) اور چوتھی عِیدُ الفِطْر کی رات ، پانچویں شَعْبانُ الْمُعظَّم کی پندرھویں رات (یعنی شبِ بَرَاء ت ) ۔ (اَلتَّرْغِیْب وَ التَّرْھِیْب ج۲ ص۹۸ حدیث ۲)
حضرت عبدُ اللہ ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی ایک رِوایت میں یہ بھی ہے : جب عیدُ الْفِطْر کی مبارَک رات تشریف لاتی ہے تواِسے ’’لَیْلَۃُ الْجَائِزۃ‘‘ یعنی ’’اِنعام کی رات‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے معصوم فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتا ہے ، چنانچہ وہ فرشتے زمین پر تشریف لاکر سب گلیوں اور راہوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور اِس طرح ندا دیتے ہیں : اے اُمَّتِ مُحمّد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُس ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ کی طرف چلو!جو بہت زیادہ عطا کرنے والا اور بڑے سے بڑا گناہ معاف فرمانے والا ہے ۔ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں سے یوں مخاطب ہوتا ہے : اے میرے بندو!مانگو!کیا مانگتے ہو ؟ میری عزت وجلال کی قسم آج کے روزاِس (نماز عیدکے) اِجتماع میں اپنی آخرت کے بارے میں جو کچھ سوال کرو گے وہ پورا کروں گا اور جو کچھ دنیا کے بارے میں مانگو گے اُس میں تمہاری بھلائی کی طرف نظر فرماؤں گا (یعنی اِس معاملے میں وہ کروں گا جس میں تمہاری بہتر ی ہو) میری عزت کی قسم جب تک تم میرا لحاظ رکھو گے میں بھی تمہاری خطاؤں کی پردہ پوشی فرماتا رہوں گا ۔ میری عزت وجلال کی قسم میں تمہیں حد سے بڑھنے والوں (یعنی مجرموں ) کے ساتھ رُسوا نہ کروں گا ۔ بس اپنے گھروں کی طرف مغفرت یا فتہ لوٹ جاؤ ۔ تم نے مجھے راضی کردیا اورمیں بھی تم سے راضی ہوگیا ۔ (اَلتَّرْغِیْب وَ التَّرھِیْب ج ۲ ص ۶۰ حدیث۲۳،چشتی)
حضرت وَہب بن مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : جب بھی عید آتی ہے، شیطان چلا چلا کر روتا ہے ۔ اِس کی بدحواسی دیکھ کر تمام شیاطین اُس کے گرد جمع ہوکر پوچھتے ہیں : اے آق آپ کیوں غضب ناک اور اُداس ہیں ؟ وہ کہتا ہے: ہائے افسوس ! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آج کے دِن اُمّتِ مُحمّد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بخش دیا ہے، لہٰذا تم اِنہیں لذات اورنفسانی خواہشات میں مشغول کردو ۔ (مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب ص۳۰۸)
رمضان المُبارک کے اختتام پر آنے والی شب یعنی عید الفطر کی رات یہ ایک بابرکت رات ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے انعام ملنے والی رات ہے ، چنانچہ حدیث میں اس کو ”لیلۃ الجائزہ“ یعنی انعام ملنے والی رات کہا گیا ہے ، اِس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس رات میں بندوں کو پورے رمضان کی مشقتوں اور قربانیوں کا بہترین صلہ ملتا ہے ۔سُمِّيَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةُ لَيْلَةَ
✍ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2021/05/blog-post_1.html?m=1
محترم قارئینِ کرام : نماز عیدین کا حکم ہجرتِ مدینہ کے پہلے سال دیا گیا ۔ الله تعالیٰ نے مسلمانوں کی خوشی اور فرحت کے لئے سال میں دو اہم دن مقرر کئے جن میں سے ایک عیدالاضحی اور دوسرا عیدالفطر کا دن ہے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب مدینہ تشریف لائے تو (دیکھا کہ) وہاں کے لوگ دو دن کھیل تماشے میں گزارتے تھے ۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دریافت فرمایا کہ یہ دن کیا ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہم ایام جاہلیت میں ان دو دنوں میں کھیل تماشے کیا کرتے تھے ۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : إِنَّ اللهَ قَدْ اَبْدَلَکُمْ بِهِمَا خَيُرًا مِنْهُمَا ؛ يَوْمَ الْاَضْحٰی وَ يَوْمَ الْفِطْرِ ۔
ترجمہ : الله تعالیٰ نے ان ایام کے بدلے میں تمہیں ان سے بہتر دو ایام: یوم الاضحی اور یوم الفطر عطا فرمائے ہیں ۔ (ابو داؤد ، السنن، کتاب الصلاة، باب صلاة العيدين، 1: 295، رقم: 1134،چشتی)
عید کہتے ہیں خوشی کے دن کو ، عیدین سے دو عید یعنی عید الفطر اور عید الاضحی مراد ہیں ۔
عید الفطر اس عید کا نام ہے جو ماہ رمضان المبارک کے اختتام پر غرہ شوال کو ہوتی ہے جس میں نماز کے علاوہ صدقہ فطر بھی دیا جاتا ہے ۔
عید الاضحی وہ عید ہے جو ماہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو ہوتی ہے جس میں نماز کے علاوہ قربانی بھی دی جاتی ہے ۔
فضاٸل عیدین
نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرما : جس نے عیدین کی رات (یعنی شبِ عیدالفطر اور شب عِیدُ الْاَضْحٰی) طلبِ ثواب کیلئے قیام کیا ،اُس دن اُس کا دِل نہیں مرے گا ، جس دن (لوگوں کے) دِل مرجائیں گے ۔ (سنن ابنِ ماجہ ج ۲ ص ۳۶۵ حدیث۱۷۸۲،چشتی)
حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے ، فرماتے ہیں : جو پانچ راتوں میں شبِ بیداری کرے اُس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے ۔ ذُو الْحِجّہ شریف کی آٹھویں ، نویں اور دسویں رات (اِس طرح تین راتیں تو یہ ہوئیں) اور چوتھی عِیدُ الفِطْر کی رات ، پانچویں شَعْبانُ الْمُعظَّم کی پندرھویں رات (یعنی شبِ بَرَاء ت ) ۔ (اَلتَّرْغِیْب وَ التَّرْھِیْب ج۲ ص۹۸ حدیث ۲)
حضرت عبدُ اللہ ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی ایک رِوایت میں یہ بھی ہے : جب عیدُ الْفِطْر کی مبارَک رات تشریف لاتی ہے تواِسے ’’لَیْلَۃُ الْجَائِزۃ‘‘ یعنی ’’اِنعام کی رات‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے معصوم فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتا ہے ، چنانچہ وہ فرشتے زمین پر تشریف لاکر سب گلیوں اور راہوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور اِس طرح ندا دیتے ہیں : اے اُمَّتِ مُحمّد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُس ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ کی طرف چلو!جو بہت زیادہ عطا کرنے والا اور بڑے سے بڑا گناہ معاف فرمانے والا ہے ۔ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں سے یوں مخاطب ہوتا ہے : اے میرے بندو!مانگو!کیا مانگتے ہو ؟ میری عزت وجلال کی قسم آج کے روزاِس (نماز عیدکے) اِجتماع میں اپنی آخرت کے بارے میں جو کچھ سوال کرو گے وہ پورا کروں گا اور جو کچھ دنیا کے بارے میں مانگو گے اُس میں تمہاری بھلائی کی طرف نظر فرماؤں گا (یعنی اِس معاملے میں وہ کروں گا جس میں تمہاری بہتر ی ہو) میری عزت کی قسم جب تک تم میرا لحاظ رکھو گے میں بھی تمہاری خطاؤں کی پردہ پوشی فرماتا رہوں گا ۔ میری عزت وجلال کی قسم میں تمہیں حد سے بڑھنے والوں (یعنی مجرموں ) کے ساتھ رُسوا نہ کروں گا ۔ بس اپنے گھروں کی طرف مغفرت یا فتہ لوٹ جاؤ ۔ تم نے مجھے راضی کردیا اورمیں بھی تم سے راضی ہوگیا ۔ (اَلتَّرْغِیْب وَ التَّرھِیْب ج ۲ ص ۶۰ حدیث۲۳،چشتی)
حضرت وَہب بن مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : جب بھی عید آتی ہے، شیطان چلا چلا کر روتا ہے ۔ اِس کی بدحواسی دیکھ کر تمام شیاطین اُس کے گرد جمع ہوکر پوچھتے ہیں : اے آق آپ کیوں غضب ناک اور اُداس ہیں ؟ وہ کہتا ہے: ہائے افسوس ! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آج کے دِن اُمّتِ مُحمّد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بخش دیا ہے، لہٰذا تم اِنہیں لذات اورنفسانی خواہشات میں مشغول کردو ۔ (مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب ص۳۰۸)
رمضان المُبارک کے اختتام پر آنے والی شب یعنی عید الفطر کی رات یہ ایک بابرکت رات ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے انعام ملنے والی رات ہے ، چنانچہ حدیث میں اس کو ”لیلۃ الجائزہ“ یعنی انعام ملنے والی رات کہا گیا ہے ، اِس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس رات میں بندوں کو پورے رمضان کی مشقتوں اور قربانیوں کا بہترین صلہ ملتا ہے ۔سُمِّيَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةُ لَيْلَةَ
❤2👍1