🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.83K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
آپ صاحب علم و فضل، جامع شریعت و طریقت بزرگ تھے، زہد و تقویٰ، ریاضت، مجاہدات، ترک و تجرید، تحمل، بردباری میں یگانہ عصر تھے، جب تک آپ بہت کمزور و ضعیف نہ ہوگئے، آپ نےطے کے روزے نہیں چھوڑے، آپ کو پرانا سرکہ اور ٹھنڈی ترکاریاں بہت مرغوب تھیں، ٹھنڈے پانی سے روزانہ غسل فرماتے تھے، کیسی ہی سردی ہو، آپ کے لباس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی تھی، جاڑے کے موسم میں بھی باریک کرتا زیب تن فرماتے تھے، نماز اول وقت پڑھتے تھے۔ آپ کی نشست گاہ بالکل امیروں اور حاکموں کی طرح تھی۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو ان باتوں سے جو خلاف شریعت ہیں طاقت سے روکتے تھے، جب آپ محفل میں رونق افروز ہوتے تو ہر شخص پر نگاہ رکھتے، کسی کو ڈانٹتے، کسی کو نصیحت فرماتے اور کسی کو تعلیم و تلقین فرماتے۔ (اخبارا لاخیار:657/تذکرہ اولیائے پاک وہند:210)

تعلیم سے فراغت کےبعد 1525ء کو حج کےلئے تشریف لےگئے۔ مکہ معظمہ و مدینہ کے علاوہ بلاد اسلامیہ کی سیاحت فرماتے ہوئے، ہندوستان فتح پور سیکری تشریف لائے۔ یہاں خانقاہ تعمیر کرائی، کنوئیں کھدوائے، اور تلقین و ارشاد میں مصروف ہوگئے۔ حضرت سلیم چشتی رحمۃ اللّٰه علیہ نے 24 حج کیے تھے۔ جب آخری مرتبہ حج کےلیے تشریف لےگئے تو چار سال مکہ میں اور چار سال مدینہ منورہ میں گزارے۔ حج کے ایام مکے میں اور میلاد کے ایام مدینے میں گزارتے تھے۔ (چشتی خانقاہیں اور سربراہان برصغیر:134)

*سلاطین سے تعلقات:* علاوہ امراء کے سلاطین بھی آپ کے معتقد تھے۔ خواص خاں جو امرائے کبار میں تھا، آپ سے بہت عقیدت رکھتا تھا، کئی بادشاہ آپ کے معتقد تھے۔ شیرشاہ، سلیم شاہ (جہانگیر) اور اکبر آپ سے ارادت و عقیدت رکھتے تھے اور بہت خلوص، محبت اور عزت اور تعظیم و تکریم سے آپ سے پیش آتے تھے۔

*جہانگیر بادشاہ کی پیدائش آپ کی دعا کی بدولت ہوئی:* شہنشاہ اکبر کا کوئی لڑکا نہ تھا، آپ سے دعا کا طالب ہوا، آپ نے مراقبہ کیا اور شہنشاہ اکبر سے کہا: ’’افسوس کہ تیری تقدیر میں بیٹا نہیں ہے‘‘۔ شہنشاہ اکبر نے یہ سن کر آپ سے عرض کیا۔ چونکہ میری تقدیر میں بیٹا نہیں ہے، اسی لئے تو آپ سے عرض کیا ہے، آپ دعا کیجئے۔ (یعنی اگر تقدیر میں ہوتا تو ویسے ہی مل جاتا، آپ کی بارگاہ میں آنے کا کیا فائدہ؟)۔ آپ شہنشاہ اکبر کے اس جواب سے خوش ہوئے، تھوڑی دیر مراقبہ کیا اور پھر فرمایا۔ "اس ملک میں راجپوتوں کی حکومت بہت عرصہ تک رہےگی۔ اچھا کلاپنی بیگم کو میری بیوی کے پاس بھیج دینا"۔دوسرے دن جب بادشاہ کی بیگم آپ کے یہاں آئی تو آپ نے اپنی اہلیہ محترمہ کو رانی کی پشت سے پشت ملاکر بیٹھنے کا حکم دیا، جب آپ کی اہلیہ محترمہ رانی کی پشت سے پشت ملاکر بیٹھیں تو آپ نے اپنی چادر دونوں پر ڈال دی، پھر اپنی اہلیہ محترمہ سے فرمایا کہ اپنا ہونے والا فرزند رانی کو دےدو۔ جب بادشاہ بیگم کے لڑکا پیدا ہوا تو اس لڑکے کا نام آپ نے اپنے نام پر "سلیم" رکھا، شہزادہ سلیم آپ کو "شیخوبابا" کہا کرتا تھا، شہزادہ سلیم اپنے والد شہنشاہ اکبر کے انتقال کے بعد تخت و تاج کا مالک ہوا اور "جہاں گیر" کے لقب سے مشہور ہوا۔ اکبر نے شہر فتح پور آپ کی عقیدت میں تعمیر کرایا تھا۔ اس وقت اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی تھی۔ اِس وقت بھی اس کی اکثر تعمیرات اپنی خوبصورتی، اور فن تعمیر کا شاہکار ہونے کی وجہ سے عالمی ورثہ قرار دی جاچکی ہیں۔

ایک مرتبہ کا واقعہ ہےکہ آپ حجرے سے نماز کےلئے مسجد جارہے تھے، ایک فقیر کو دیکھا کہ سو رہا تھا، آپ نے اس کو جگایا اور اس سے فرمایا۔ "فقیروں کو کسی سے لڑنا نہیں چاہیے"۔ وہ فقیر یہ سن کر شرمندہ ہوا اور اقرار کیا کہ واقعی وہ خواب میں لڑ رہا تھا۔آپ نے فتح پور سیکری کے لوگوں سے شاہی عمارت تعمیر ہونے والی پندرہ سال قبل فرمایا تھاکہ لوگوں کو چاہیےکہ مکانات کشادہ بنالیں، ورنہ پھر جگہ نہیں ملے گی۔

*تاریخِ وصال:* آپ کا وصال 29/ رمضان المبارک 979ھ مطابق ماہ فروری 1572ء کو ہوا۔ آپ کا عالی شان مزار فتح پور سیکری میں مرجعِ خلائق ہے۔

*ماخذ و مراجع:* تذکرہ اولیائے پاک و ہند۔ اخبار الاخیار۔ چشتی خانقاہیں اور سربراہان بر صغیر۔

https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
-----------------------------------------------------------
*📚مرتد سے زکوۃ لینا کیسا؟📚*


السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہِ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مرتد سے زکوۃ لینا جائز ہے یا نہیں اور اس سے معاملات کرنا کیسا ہے حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں
*المستفتی : عبدالکریم مرادآبادی*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوہاب*
اولا یہ جان لیں زکوة و نماز روزہ حج وغیرہ یہ سارے امور دینیہ کی ادائیگی کا حکم اھل ایمان کو ہے نہ کہ بےایمان کافر و مشرک و مرتد کو!
یعنی نماز پڑھنے کاحکم ان کو دیاگیا جو صاحب ایمان ہیں اسی طرح روزہ و دیگر احکام شرع کا! مثلا کوئی کافر و مرتد نماز پڑھے اور پابندی کےساتھ پڑھے تو کیا اسکو نماز کہیں گے؟ ہرگز نہیں! اسی طرح دینی طور پر کوٸی کافر و مرتد اپنی رقم کو {زکوة} سمجھ کردے تو یہ ہرگز زکوة نہیں! بلکہ مالِ عام ہے یعنی یہ عام رقم ہے!

قرآن میں اللہ ارشاد فرماتا ہے ۔۔۔
*" لٰکِنَّ البِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓىٕكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَۚ-وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِۙ-وَ السَّآىٕلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِۚ-وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَۚ-وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْاۚ-وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ '*
اصلی نیک وہ ہے جو اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پرایمان لائے اور اللہ کی محبت میں عزیز مال رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اورمسافروں اور سائلوں کو اور (غلام لونڈیوں کی) گردنیں آزاد کرانے میں خرچ کرے اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دے
*(📕سورہ بقرہ ، آیت ١٧٧ )*
مذکورہ آیات کریمہ میں صاف صاف عیان ہے کہ پہلے اللہ پر ایمان لاۓ اور اسکے جملہ انبیاءکرام پر اور اسکے ملاٸکہ و یوم آخرت پر وغیرھم پھر نماز پڑھے و زکوة دے
یعنی اللہ نے نماز زکوة انہیں پر فرض کیۓ ہیں جو صاحب ایمان ہیں!
اب کافر و مرتد نہ اللہ کو مانتاہے نہ اسکےانبیاء کو نہ یوم آخرت کو اسلیۓ ان پر نہ زکوة ہےنہ دیگر احکام شرع!
یعنی مذکورہ آیات میں ایمان کی قید لگا کر سارے کفار و مشرکین و مرتدین خارج کردیۓ گۓ

اسی لیۓجمیع فقہاءکرام و علماءعظام نے زکوة واجب ہونےکے شراٸط میں اول شرط مسلمان ہونا قرار دی ہے

جیساکہ فتاویٰ ھندیہ میں ہے ۔۔۔
*" منھاالاسلام (ای المسلم) حتیٰ لاتجب علی الکافر کذافی البداٸع '*
*(📒المجلدالاول ، کتاب الزکوة ، ص ١٧١ مکتبہ زکریا )*

لہذا ثابت ہوا کہ کافر و مرتد کی زکوة درحقیقت زکوة نہیں لہذا کوٸی کافر و مرتد کسی کو وہ رقم دے تو لےسکتاہے بشرطیکہ وہ بطور احسان نہ دے اور نہ اس بات کا خدشہ کہ وہ کبھی طعن و تشنیع کرےگا! تب لو لے سکتاہے ورنہ نہیں !
*( 📒کتب عامہ)*

*واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*✍🏻کتبــــــــــــــــــــه:*
*حضرت مولانا عبید اللہ حنفی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس جامعہ عربیہ فیض الرسول وامام سنی رضا جامع مسجد قصبہ رچھا ضلع بریلی شریف۔*

*الجواب صحیح والمجیب نجیح : حضرت علامہ و مولانا مفتی وصی صاحب قبلہ مفتی شہر بھساول ساکن بہرائچ شریف یوپی۔*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-09-1443 ᴴ | 30-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-09-1443 ᴴ | 01-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-09-1443 ᴴ | 01-05-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-09-1443 ᴴ | 01-05-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1