🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.83K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
مائک سے نماز پڑھانے کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں اگر مسجد بالکل چھوٹی جہاں پر امام صاحب کی آواز ۔ مقتدی تک پہنچ جائے کیا وہاں پر امام صاحب نماز مائک پر پڑھا سکتے ہیں یا نہیں؟ ۔ اور وہاں پر امام صاحب ۔ اندر والا مائک استعمال نہین کر رہے ہیں بلکہ باہر والا مائک استعمال کر رہے ہیں جس مائک کی آواز محلے میں جا رہی ہے کیا اس مائک پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ ۔ کیون کہ یہ سوال میں اس لئے کیا ہے بعض علماء فرماتے ہیں قرآن پڑھنا سنت ہے اور سننا واجب ہے کیوں کہ ہمارے گاؤں اور محلے میں کچھ لوگ اپنے اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں ۔ لہٰذا قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
مستفتی حافظ علی محمد ۔ کشمیری
https://masailworld.com/mic-se-namaz-padhane-ka-hukm
الجواب بعون الملک الوھاب
مائک سے نماز پڑھنے کا مسئلہ مختلف فیہ ہے،شرعی کونسل بریلی شریف کے زیر اہتمام منعقد ٢٠٠٤ ء کے سیمینار میں مندرجہ ذیل فیصلہ کیا گیا :
١- لاؤڈاسپیکر کی آواز متکلم کی عین آواز نہیں ہے ، اس لئے محض لاؤڈا سپیکر سے مسموع آواز پر اقتداء ہم احناف کے نزدیک صحیح نہیں، بالفرض
یہ آواز ماہیت کے اعتبار سے متکلم کی آواز بھی ہو تو بھی حکماًیہ اصل آواز نہیں لہٰذا اب بھی محض اس آواز پر اقتداء درست نہیں ہو گی ۔
۲۔ جہاں کہیں نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر لوگ جبر کریں وہاں مکبّرین کا بھی انتظام کیا جائے اور مقتدیوں کو مسئلہ کی صورت سے آگاہ کرتے ہو ئے ہدایت کی جائے کہ وہ لاؤڈاسپیکر کی آواز پر اقتداء نہ کرکے مکبّرین کی آواز پر اقتداء کریں ۔
۳۔ اسی طرح مکبّرین کو بھی ہدایت کی جائے کہ وہ بھی لاؤد اسپیکر کی آواز پر اقتداء نہ کریں۔
۴۔ کہیں مکبّر مقرر کر نے کی بھی صورت نہ بنے تو امام مسئلہ بتادے وہ اس بنا پر امامت سے مستعفی نہ ہو۔
مورخہ ١٧/رجب المرجب ١٤٢٥ھ مطابق ٣/ستمبر ٢٠٠٤۔
فتاوی بحر العلوم میں ہے : ہندوستان میں علماے اہل سنت کی بڑی جماعت لاؤڈ اسپیکر پر اقتدا کو ناجائز کہتی ہے، اور تھوڑی تعداد میں علماء کرام
اس کو جائز کہنے والے ہیں، ہم یہی جواب دیتے ہیں کہ احتیاط اسی میں ہے کہ اسپیکر پر اقتداء نہ کی جائے ۔
(ج اول ص٤٣٤)
اسی میں ہے :
میرے استاد حضور حافظ ملت لکھا کرتے تھے، اس مسئلہ میں احتیاط یہی ہے کہ لاؤڈ اسپیکر نماز میں نہ استعمال کیا جائے، وجہ یہ تھی کہ اگر بغیر لاؤڈ اسپیکر کے نماز پڑھی جاتی ہے، تو دونوں فریق اس کو جائز ہی کہیں گے، کوئی ناجائز نہیں کہے گا،جب کہ ایک بڑا گروہ لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھنے کی صورت میں عدم جواز کا فتویٰ دے گا،تو کام وہ کیا جائے کہ جس کے جواز میں کسی کا اختلاف نہ ہو مگر ہمارے عوام اس مسئلہ میں علما سے زیادہ بےباک واقع ہوئے ہیں، لاؤڈ اسپیکر نماز کے لیے کوئی ضروری نہیں مگر اس کے لیے ضد پر آگئے، اور بس چلا تو لاؤڈ اسپیکر پر نماز نہ پڑھانے والے امام کو ہٹا کر دوسرے کو لاتے، خواہ وہ دیوبندی ہو یا دوسرے مذہب کا ہی کیوں نہ ہو، اور بس نہ چلا تو وہاں نماز پڑھنا ہی چھوڑ دیا اور دوسری مسجد میں چلے گئے خواہ وہاں دیوبندی یا کوئی دوسرابد مذہب ہی امام کیوں نہ ہو اور اس سلسلے میں دنگا، فساد اور لڑائی جھگڑےسے بھی باز نہیں رہتے، میرا مشورہ فریقین کو یہ ہے کہ فتنہ فساد سے بچا جائے ۔
(ج اول ص٤٣٤)
مذکورہ صورت میں جب کہ مسجد چھوٹی ہے اور امام کی آواز مقتدیوں تک پہنچ جاتی ہے تو بلا ضرورت مائک سے نماز پڑھانے سے احتراز ہمارے اکابر علماء کی تصریحات کی روشنی میں بے حد ضروری ہے۔پھر اگر آواز اتنی بلند ہو جو باعثِ تکلیف ہو تو احتیاط فی العبادة کے علاوہ ایک اور وجہ سے احتراز کرنے کا حکم ہوگا کہ نماز کے اندر اتنی بلند آواز سے قرآن پاک پڑھنا منع ہے جو دوسروں کے لیے باعث تکلیف ہو۔
صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "حاجت سے زیادہ اس قدر بلند آواز سے پڑھنا کہ اپنے یا دوسرے کے لیے باعثِ تکلیف ہو، مکروہ ہے”
(بہار شریعت حصہ سوم ص ۵۴٨ دعوت اسلامی ایپ)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــہ : مفتی کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی
٢٢ربیع الثانی ١٤٤٣ھ/ ٢٨نومبر ٢٠٢١ء
الجواب صحیح
مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

https://masailworld.com/mic-se-namaz-padhane-ka-hukm
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھنا کیسا؟ سوال 208

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎۔
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھنا کیسا ہے تفصیلی جواب سے نوازیں مہربانی ہوگی ـ
المستفتی۔ محمد رجب علی فیضی اترولوی
https://www.masaileshariya.com/2019/05/Post208.html?m=1
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک العزیز الوھاب

لاؤڈ اسپیکر پر نماز کے جواز وعدم جواز سے پہلے لاؤڈاسپیکر کی حقیقت معلوم کرنی ہوگی چنانچہ حاشیہ فتاوی امجدیہ میں ہے کہ۔ لاؤڈ اسپیکر کی ساخت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر متکلم کی آواز کے مثل دوسری آواز پیدا کرتا تو نمازیوں کو جو آواز سنائی دے رہی ہے وہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز ہے اور اگر اسے صحیح نہ مانا جائے تو بھی کم از کم اتنا ضرور ہے کہ ہارن سے نکلنے والی آواز میں خارج کا مکمل عمل و دخل ہے

(جلد اول صفحہ ١٩٠)

اور فیض الرسول میں ہے، بعض علماء کے نزدیک شرعی خرابی یہ ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز امام کی آواز نہیں ہوتی بلکہ امام کی آواز مشین میں پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے اور اسی کے مثل دوسری آواز پیدا ہوکر سنائی پڑتی ہے جو لاؤڈ اسپیکر کی آواز ہوتی ہے

( ج ١ص ٣٥٨)

اس مختصر سی گفتگو سے معلوم ہوا کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز بعینہ متکلم کی آواز نہیں ہوتی بلکہ یہ صدائے باز گشت ہے جس کے بارے فقہا کا فرمان ہے کہ

لانھامحاکاة ولیس بقراة (غنیہ طحطاوی علی المراقی بحوالہ امجدیہ جلد اول صفحہ نمبر ١٩٠)لهذا لاؤڈ اسپیکر کی اقتدا صحیح نہیں

اکابر علمائے اہلسنت کا موقف یہی ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز بعینہ متکلم کی آواز نہیں ہے چنانچہ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ

آلہ مکبر الصوت سے خطبہ سننے میں کوئی حرج نہیں مگر اسکی آواز پر رکوع سجود کرنا مفسد نماز ہے (فتاوی امجدیہ جلد اول صفحہ ١٩٠)

حضرت علامہ ومولانا محمد حشمت علی خان صاحب لکھنوی ثم پیلی بھیتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ لاؤڈ اسپیکر سے جو مسموع ہوتی ہے وہ اصل متکلم کی صورت نہیں ہوتی بلکہ صدا ہے اور حضرت سیدناالمفتی الاعظم مولانا الشاہ محمد مصطفی رضا خان صاحب دام ظلہم العالی نے بھی بمبئی میں بماہ محرم الحرام ١٣٧٥ھ اپنی تحقیق یہی ظاہر فرمائی اور اس وقت وہاں جو دوسرے اکابر علمائے اہلسنت مثلا حضرت مخدومی مولانا سید آل مصطفی میاں صاحب مارہروی و حضرت معظمی مولانا السید محمد المحدث الاعظم کچھوچھوی دامت برکاتہم القدسیہ و مجاہد ملت مولانا محمود علی خاں صاحب نصرہم المولی تعالی تشریف فرما تھے سب نے اس کی تصدیق فرمائی جس کی کھلی ہوئی روشن دلیل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایسی جگہ ہو جہاں سے اصل متکلم کی آواز بھی سنتا ہو اور لاؤڈ اسپیکر کے کسی ہارن کا منھ اس کی طرف ہو تو وہ اصل متکلم کی آواز کو اور ہارن سے نکلی ہوئی صدا کو علیحدہ علیحدہ متمائز و متمائز طور پر سنے گا جیساکہ ہارن کا مشاہدہ ہے جب یہ صدا ہے تو صدا ہی کے سب احکام اس پر مرتب ہوں گے جس طرح صدا کی اقتدا بحکم شریعت مطہرہ صحیح نہیں اسی طرح لاؤڈ اسپیکر سے سنی ہوئی آواز کی اقتدا بھی باطل ہے اور نماز میں اس آلہ کا استعمال شرعا حرام و ناجائز ہے اور موجب بطلان نماز مصلیان ہے۔

تحقیق الاکابر لاتباع الاصاغر صفحہ ٣٠،٣١بحوالہ فتاوی برکاتیہ ص٢٨٧)

جو لوگ صرف لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر رکوع سجود کریں گے ان کی نماز نہ ہوگی یہی فتوی حضور مفتی اعظم ہند دامت برکاتہم القدسیہ اور بہت سے اکابر اہلسنت کا ہے اور بعض لوگوں کے نزدیک اگرچہ نماز ہو جائے گی لیکن چونکہ معاملہ نماز جیسی اہم عبادت کے جائز اور ناجائز ہونے کا ہے اسلئے تاوقتیکہ محققین فن یہ ثابت نہ کر دیں کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز بعینہ متکلم کی آواز ہے احتیاطا نماز کے ناجائز ہونے ہی کا حکم کیا جائے گا

( فتاوی فیض جلد اول صفحہ ٣٨٥)

(اور تفصیل کے لئے دیکھیں فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ ٣٥٨ تا ٣٦٨)

فتاوی بریلی شریف میں ہے

کسی نماز کے لئے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ہرگز ہرگز نہ چاہئے اور جو مقتدی محض لاؤڈ اسپیکر کی آواز سن کر رکوع و سجود کریں گے ان کی نماز ہی نہ ہوگی اور جو مقتدی خاص امام کی آواز سن کر رکوع و سجود کریں گے ان کی نماز ہو جائے گی یہی ہمارے اکابر علمائے اہلسنت کا فتوی ہے سرکار مفتی اعظم ہند نور اللہ مرقدہ و حضور محدث اعظم ہند حضور مجاہد ملت وغیرہ کا تاحین حیات اسی پر عمل بھی رہا (فتاوی بریلی شریف، ص: ٩١)

بدر العلماء حضرت علامہ ومولانا مفتی بدر الدین احمد صدیقی علیہ الرحمة والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ نماز میں لاؤڈا سپیکر کا استعمال ممنوع ہے کیونکہ ایک صورت میں وہ رافع سنت ہے اور دوسری صورت میں اسراف ہے- یعنی جب نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے مکبرین کی تقرر کے بجائے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ہو تو وہ رافع سنت ہوگا،
2👍1
نماز میں لاؤڈا سپیکر کی ممنوعیت کے سلسلے میں حضور سرکارمفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ والرضوان کے متعدد فتاویٰ کتابوں میں طبع ہو کر عرصۂ دراز سے شائع ہو چکے ہیں اس وقت میرے سامنے تین کتابیں ہیں

" القول الازھر فی اقتداء بلاؤ ڈاسپیکر " مصنف حضرت شیر بیشۂ أہل سنت مولانا محمد حشمت علی خان علیہ الرحمہ " التفصیل الانور فی حکم لاؤڈ اسپیکر " مرتبہ محمد عمران پیلی بھیت *" صیانۃ الصلوٰۃ عن حیل البدعات"* مصنف مولانا برہان الحق جبل پوری علیہ الرحمہ خلیفۂ سرکار اعلی حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ *" القول الازھر " صفحہ ٢* میں سرکار مفتئ اعظم ہند مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خان علیہ الرحمہ کا ایک فتویٰ شامل کتاب کیاگیا ہے پھر اسی کتاب کے صفحۂ آخر میں سرکار ہی کا ایک دوسرا فتویٰ نقل کیا گیا ہے-

" التفصیل الانور" صفحہ ٤ میں سرکار ممدوح کا تیسرا فتویٰ اور صفحہ ٥ میں سرکار کا چوتھا فتویٰ شائع کیا گیا ہے *" صیانۃ الصلوٰۃ "* میں حضرت مولانا برہان الحق جبل پوری علیہ الرحمہ نے فتویٰ دیا ہے کہ نماز میں لاؤڈا سپیکر کا استعمال بدعت قبیحہ و شنیعہ ہے اور جن مقتدیوں نے محض لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر نماز ادا کی ان کی نماز فاسد ہے،

سرکار مفتئ اعظم ہند نے فاضل جبل پوری کے اس فتویٰ کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے دستخط اور مہر سے مزین کیا ہے ہم یہاں مستفتی کی تسکین خاطر کے لئے ذیل میں سرکار مفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ کا ایک فتویٰ نقل کرتے ہیں وھو ھذا :

نماز میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جائز نہیں، اگر میکرو فون میں امام آواز ڈالے گا بے اس کے وہ آواز نہ لے گا تو اس عمل سے نماز جاتی رہے گی، امام کی جائے گی تو مقتدیوں کی بھی جائے گی اور اگر ایسا لاؤڈ اسپیکر ہو کہ اس کے میکرو فون میں آواز ڈالی نہ جاتی ہو فرض کیجئے وہ خود لیتا ہو ، امام کے منھ کے سامنے نہ ہو ، قریب ایک طرف رکھا ہواہو ، امام اس میں آواز نہ ڈال رہاہو تو امام کی ہوجائے گی اور ان مقتدیوں کی بھی جو خود آواز سن کر اتباع امام کررہے ہیں، مگر دور دور کے مقتدی جن تک امام کی آواز پہونچ ہی نہیں سکتی وہ لاؤڈ اسپیکر ہی کی آواز کی اتباع کر رہے ہیں ان کی نماز نہیں ہوگی کہ لاؤڈ اسپیکر میں پہونچ کر امام کی آواز اس سے ٹکرا کر ختم ہو جاتی ہے جیسے گنبد میں بولنے ، کوئیں میں بولنے والے کی آواز ختم ہو جاتی ہے، پانی اور گنبد کے اس ٹکراؤ سے اور آواز پیدا ہوتی ہے ویسے ہی لاؤڈ اسپیکر میں پیدا ہوتی ہے، کئی بار ہم نے خود محسوس کیا ہے، مقرر جو بولتا ہے ویسے ہی لاؤڈ اسپیکر سے اسی طرح سے ہے جیسے گنبد اور کوئیں سے۔

(فتاوی بدر العلماء، ١٣٤/١٣٥)

(1) لاؤڈ اسپیکر کی آواز متکلم کی عین آواز نہیں ہے، اس لئے محض لاؤڈ اسپیکر سے مسموع آواز پر اقتدا ہم احناف کے نزدیک صحیح نہیں، بالفرض یہ آواز ماہیت کے اعتبار سے متکلم کی آواز بھی ہو تو بھی حکما یہ اصل آواز، لہذا اب بھی محض اس آواز پر اقتدا درست نہیں ہوگی۔

(2) جہاں کہیں نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر لوگ جبر کریں وہاں مکبرین کا بھی انتظام کیا جائے اور مقتدیوں کو مسئلہ کی صورت سے آگاہ کرتے ہوئے ہدایت کی جائے کہ وہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر اقتدا نہ کرکے مکبرین کی آواز پر اقتدا کریں۔

(3) اسی طرح مکبرین کو بھی ہدایت کی جائے کہ وہ بھی لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر اقتدا نہ کریں۔

(4) کہیں مکبر مقرر کرنے کی بھی صورت نہ بنے تو امام مسئلہ بتادے وہ اس بنا پر امامت سے مستعفی نہ ہو۔

(فیصلہ جات شرعی کونسل بریلی شریف صفحہ ٣٨)

واللہ تعالی اعلم بالصواب

کتبہ:
محمد مدثر جاوید رضوی
مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج ضلع۔ کشن گنج بہار

الجواب صحیح والمجیب نجیح
خلیفہ حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ ومولانا الشاہ مفتی سید شمس الحق برکاتی مصباحی صاحب قبلہ دامت برکاتہم القدسیہ
https://www.masaileshariya.com/2019/05/Post208.html?m=1
👍31
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍21
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-09-1443 ᴴ | 28-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-09-1443 ᴴ | 29-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-09-1443 ᴴ | 29-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-09-1443 ᴴ | 29-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
جمعۃ الوداع مبارک ہو
27 رمضان المبارک : یوم ولادت حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
2👍1