ایک یہ کہ اس میں قرأت قدر ضرورت سے زیادہ اونچی آواز سے ہوتی ہے اور یہ مکروہ ہے۔
(۲)
دوسرے یہ کہ لاؤڈ اسپیکر میں یہ بھی شبہ ہے کہ جو آواز یونٹ سے نکلتی ہے وہ امام کی اپنی آواز نہیں بلکہ صدائے باز گشت ہے جیسے گنبد یا جنگل کی آواز اگر یہ ہے تو اس پر نماز کی حرکتیں کرنا زیادہ برا ہے۔
(۳)
یہ کہ اس میں سنت کا ترک ہے یعنی سنت یہ ہے کہ نماز میں مکبر کھڑے کیے جائیں اور لاؤڈاسپیکر میں اس کو بند کرکے آلہ استعمال کرتا ہے اور جو شیٔ رافع سنت ہو بدعت سیئہ ہے‘‘۔(فتاوی نعیمیہ، ص:۱۸۵، بحوالہ فتاوی برکات مصطفیٰ، ص:۲۳۸، انجمن برکات مصطفیٰ، ممبئی،۲۰۱۳ء)
مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی وقارالدین قادری رضوی قدس سرہ(م۱۴۱۳ھ) تحریر فرماتے ہیں:’’ہمارے نزدیک مائک کی آواز نئی آواز ہے اور ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈر کی آوازیں بھی نئی ہوتی ہیں لہذا ان سے آیت سجدہ سننے سے سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوگا اور ان سے نشر ہونے والی اذان کا جواب بھی دینا ضروری نہیں ہے اور مائک پر نماز بھی جائز نہیں ہے‘‘۔(وقار الفتاوی، ج:۲، ص:۱۱۳، بزم وقارالدین، کراچی،۱۹۹۸ء)
بانی اشرفیہ جلالۃ العلم، حافظ ملت حضرت علامہ مفتی محمدعبد العزیزمحدث مرادآبادی قدس سرہ(م۱۳۹۶ھ) ایک فتوی تحریر فرماتے ہیں اس کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:’’احتیاط اسی میں ہے کہ نماز میں ہرگز لاؤڈاسپیکر استعمال نہ کیا جائے‘‘۔( فتاوی برکات مصطفیٰ، ص:۲۳۳، انجمن برکات مصطفیٰ، ممبئی،۲۰۱۳ء)
اس فتوی پر بحرالعلوم حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی، حضرت علامہ مفتی حافظ عبد الرؤف بلیاوی،پاسبان ملت حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی علیہم الرحمہ کی تصدیقات موجود ہیں۔
دوسری جگہ یوں ہے:’’مجھے اس کی تحقیق نہیں احتیاط احترازمیں ہے‘‘۔
مزیدفرماتے ہیں:حدیث شریف میں سرکاردوعالم ﷺنے ارشادفرمایاایسی چیزکوچھوڑدوجس میںشک وشبہہ ہواوراسے اختیارکروجس میںکوئی شبہہ نہیں لہٰذامیری رائے میںیہی صورت زیادہ مناسب ہے کہ لائوڈاسپیکرنمازمیں استعمال ہی نہ کیاجائے کہ نمازمیںکسی قسم کاجھگڑااورشبہہ ہو۔(مقدمہ فتاوی شارح بخاری، ج:۱، ص:۳۳، دائرۃ البرکات گھوسی، مئو،۲۰۱۱ء)
فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین امجدی قدس سرہ (۱۴۲۲ھ)تحریر فرماتے ہیں:’’نماز پنج وقتہ ہویا جمعہ، تراویح اور عیدین وغیرہ کسی میں بھی لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جائز نہیں‘‘۔(فتاوی برکاتیہ ، ص:۲۸۴،شبیر برادرز، لاہور،۱۴۱۹ھ)
ایسی صورت میں مسجد کے اراکین کو چاہیے کہ وہ نماز کے لیے اسپیکر لگواکر ایک بری بدعت ایجاد کرکے، مکبرین کی سنت کو ختم کرکے اپنی اور دوسروں کی نمازیں برباد کرنے کا سامان تیار نہ کریں بلکہ اپنی اور دوسرے مسلمان بھائیوں کی نمازوں کی حفاظت کریں اگر تمام مقتدیوں تک امام کی آواز نہ پہنچتی ہو تو اس کے لیے مکبرین کا تقرر کریں کیوں کہ ضرورت کی صورت میں ایسا کرنا بھی سنت ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم
(۳)
(القرآن،ہود:۱۱، آیت:۸۸){إِنْ أُرِیْدُ إِلاَّ الإِصْلاَحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِیْقِیْ إِلاَّ بِاللّہِ عَلَیْْہِ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْْہِ أُنِیْب}
ترجمہ: میں تو جہاں تک بنے سنوارنا ہی چاہتا ہوں اور میری توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں۔(کنز الایمان)۔
دعوت اسلامی کے افراد کا یہ کہنا کہ ۹۸؍فیصد نماز لاؤڈ اسپیکر پر ہو رہی ہے ۲؍فیصد بغیر لاؤڈ اسپیکریہ کوئی دلیل شرعی نہیں اس کو دلیل شرعی سمجھنا یہ جہالت و نادانی بلکہ فتنہ و فساد پھیلانے والی بات ہے ان مبلغین کو یہ اچھی طرح جاننا چاہیے کہ فتنہ و فساد کوقتل سے زیادہ سخت تر بتایا گیا ہے ، قوم بزرگوں کے طریقے پر نماز ادا کرہی ہے ان کو ان کے اسی شرعی حال پر رہنے دیجیے کسی ڈجیٹل فساد کو ان کی نمازوں میں مت داخل کیجیے ورنہ خوب اچھی طرح جان لیجیے {إِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ }بیشک تمہارے رب کی پکڑ بہت سخت ہے ۔
اسلام کے احکام فیصد سے ثابت نہیں ہوتے ہیں بلکہ اس کے ثبوت کے لیے دلیل شرعی کی ضرورت ہوتی ہے اور نماز بھی اسلام کا ایک اہم رکن ہے اس کا حکم بھی فیصد سے ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ شریعت مطہرہ کے حکم ہی سے ثابت ہو گا۔
جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ ’’ہم عوام الناس میں سے ۲۰؍لوگوں کے اس بات پر دستخط کر واکے دے دیں کہ امام صاحب لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھائیں ان نمازوں کے قیامت کے دن ہم ذمہ دار ہوں گے، آپ اس سے بری الذمہ رہیں گے‘‘ یہ قول بھی جہالت و نا دانی پر مبنی ہے، ایسا بولنے والوں کو عذاب الٰہی سے ڈرنا چاہیے، اور ایسی دریدہ دہنی سے پرہیز کرنا چاہیے، کوئی احکام شرعی کی خلاف ورزی کرنے میں کسی کا ذمہ دار نہیں ہو سکتا بلکہ ہر ایک کو قیامت کے دن اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:{وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلٰی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُون}۔(القرآن، الأنعام:۶،
(۲)
دوسرے یہ کہ لاؤڈ اسپیکر میں یہ بھی شبہ ہے کہ جو آواز یونٹ سے نکلتی ہے وہ امام کی اپنی آواز نہیں بلکہ صدائے باز گشت ہے جیسے گنبد یا جنگل کی آواز اگر یہ ہے تو اس پر نماز کی حرکتیں کرنا زیادہ برا ہے۔
(۳)
یہ کہ اس میں سنت کا ترک ہے یعنی سنت یہ ہے کہ نماز میں مکبر کھڑے کیے جائیں اور لاؤڈاسپیکر میں اس کو بند کرکے آلہ استعمال کرتا ہے اور جو شیٔ رافع سنت ہو بدعت سیئہ ہے‘‘۔(فتاوی نعیمیہ، ص:۱۸۵، بحوالہ فتاوی برکات مصطفیٰ، ص:۲۳۸، انجمن برکات مصطفیٰ، ممبئی،۲۰۱۳ء)
مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی وقارالدین قادری رضوی قدس سرہ(م۱۴۱۳ھ) تحریر فرماتے ہیں:’’ہمارے نزدیک مائک کی آواز نئی آواز ہے اور ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈر کی آوازیں بھی نئی ہوتی ہیں لہذا ان سے آیت سجدہ سننے سے سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوگا اور ان سے نشر ہونے والی اذان کا جواب بھی دینا ضروری نہیں ہے اور مائک پر نماز بھی جائز نہیں ہے‘‘۔(وقار الفتاوی، ج:۲، ص:۱۱۳، بزم وقارالدین، کراچی،۱۹۹۸ء)
بانی اشرفیہ جلالۃ العلم، حافظ ملت حضرت علامہ مفتی محمدعبد العزیزمحدث مرادآبادی قدس سرہ(م۱۳۹۶ھ) ایک فتوی تحریر فرماتے ہیں اس کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:’’احتیاط اسی میں ہے کہ نماز میں ہرگز لاؤڈاسپیکر استعمال نہ کیا جائے‘‘۔( فتاوی برکات مصطفیٰ، ص:۲۳۳، انجمن برکات مصطفیٰ، ممبئی،۲۰۱۳ء)
اس فتوی پر بحرالعلوم حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی، حضرت علامہ مفتی حافظ عبد الرؤف بلیاوی،پاسبان ملت حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی علیہم الرحمہ کی تصدیقات موجود ہیں۔
دوسری جگہ یوں ہے:’’مجھے اس کی تحقیق نہیں احتیاط احترازمیں ہے‘‘۔
مزیدفرماتے ہیں:حدیث شریف میں سرکاردوعالم ﷺنے ارشادفرمایاایسی چیزکوچھوڑدوجس میںشک وشبہہ ہواوراسے اختیارکروجس میںکوئی شبہہ نہیں لہٰذامیری رائے میںیہی صورت زیادہ مناسب ہے کہ لائوڈاسپیکرنمازمیں استعمال ہی نہ کیاجائے کہ نمازمیںکسی قسم کاجھگڑااورشبہہ ہو۔(مقدمہ فتاوی شارح بخاری، ج:۱، ص:۳۳، دائرۃ البرکات گھوسی، مئو،۲۰۱۱ء)
فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین امجدی قدس سرہ (۱۴۲۲ھ)تحریر فرماتے ہیں:’’نماز پنج وقتہ ہویا جمعہ، تراویح اور عیدین وغیرہ کسی میں بھی لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جائز نہیں‘‘۔(فتاوی برکاتیہ ، ص:۲۸۴،شبیر برادرز، لاہور،۱۴۱۹ھ)
ایسی صورت میں مسجد کے اراکین کو چاہیے کہ وہ نماز کے لیے اسپیکر لگواکر ایک بری بدعت ایجاد کرکے، مکبرین کی سنت کو ختم کرکے اپنی اور دوسروں کی نمازیں برباد کرنے کا سامان تیار نہ کریں بلکہ اپنی اور دوسرے مسلمان بھائیوں کی نمازوں کی حفاظت کریں اگر تمام مقتدیوں تک امام کی آواز نہ پہنچتی ہو تو اس کے لیے مکبرین کا تقرر کریں کیوں کہ ضرورت کی صورت میں ایسا کرنا بھی سنت ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم
(۳)
(القرآن،ہود:۱۱، آیت:۸۸){إِنْ أُرِیْدُ إِلاَّ الإِصْلاَحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِیْقِیْ إِلاَّ بِاللّہِ عَلَیْْہِ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْْہِ أُنِیْب}
ترجمہ: میں تو جہاں تک بنے سنوارنا ہی چاہتا ہوں اور میری توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں۔(کنز الایمان)۔
دعوت اسلامی کے افراد کا یہ کہنا کہ ۹۸؍فیصد نماز لاؤڈ اسپیکر پر ہو رہی ہے ۲؍فیصد بغیر لاؤڈ اسپیکریہ کوئی دلیل شرعی نہیں اس کو دلیل شرعی سمجھنا یہ جہالت و نادانی بلکہ فتنہ و فساد پھیلانے والی بات ہے ان مبلغین کو یہ اچھی طرح جاننا چاہیے کہ فتنہ و فساد کوقتل سے زیادہ سخت تر بتایا گیا ہے ، قوم بزرگوں کے طریقے پر نماز ادا کرہی ہے ان کو ان کے اسی شرعی حال پر رہنے دیجیے کسی ڈجیٹل فساد کو ان کی نمازوں میں مت داخل کیجیے ورنہ خوب اچھی طرح جان لیجیے {إِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ }بیشک تمہارے رب کی پکڑ بہت سخت ہے ۔
اسلام کے احکام فیصد سے ثابت نہیں ہوتے ہیں بلکہ اس کے ثبوت کے لیے دلیل شرعی کی ضرورت ہوتی ہے اور نماز بھی اسلام کا ایک اہم رکن ہے اس کا حکم بھی فیصد سے ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ شریعت مطہرہ کے حکم ہی سے ثابت ہو گا۔
جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ ’’ہم عوام الناس میں سے ۲۰؍لوگوں کے اس بات پر دستخط کر واکے دے دیں کہ امام صاحب لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھائیں ان نمازوں کے قیامت کے دن ہم ذمہ دار ہوں گے، آپ اس سے بری الذمہ رہیں گے‘‘ یہ قول بھی جہالت و نا دانی پر مبنی ہے، ایسا بولنے والوں کو عذاب الٰہی سے ڈرنا چاہیے، اور ایسی دریدہ دہنی سے پرہیز کرنا چاہیے، کوئی احکام شرعی کی خلاف ورزی کرنے میں کسی کا ذمہ دار نہیں ہو سکتا بلکہ ہر ایک کو قیامت کے دن اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:{وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلٰی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُون}۔(القرآن، الأنعام:۶،
❤1👍1
ص:۱۶۴)
ترجمہ: اور جو کوئی کچھ کمائے وہ اسی کے ذمہ ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی، پھر تمہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے، وہ تمہیں بتا دے گا جس میں اختلاف کرتے تھے۔(کنزالایمان)
ہمارے اسلاف و اکابرین جس طرح نماز ادا کرتے تھے اس طرح نماز ادا کرنا چاہیے، دعوت اسلامی کے مبلغ ہوں یا کوئی دوسرے مسلمان جس کا ان کو علم نہ ہو اس معاملے میں ان کو نہیں پڑنا چاہیے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:{وَلاَ تَقْفُ مَا لَیْْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ أُولٰٓـئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُولاً}۔(القرآن، بنیٓ اسرآئیل،۱۷، آیت۳۶)
ترجمہ: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔(کنزالایمان)
جن لوگوں نے نماز میں لاؤڈاسپیکر کے استعمال کے متعلق یہ کہا ’’کہ بریلی شریف سے ناجائز اور باقی جگہ سے جائز ہی کا فتوی ہے‘‘ وہ لوگ بھی جھوٹے ہیں اور جھوٹ بول کر مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے والے ہیں میں نے پیچھے جن علما و مفتیان کرام کی عبارات نقل کی ہیں کیا وہ سب بریلی شریف کے ہیں؟
اب یہاں پر ان اکابر علمائے کرام کی ایک فہرست پیش کرتا ہوں جن کو آج کے زمانے کے تمام سنی علما کسی نہ کسی طرح مانتے ہیں یا بالواسطہ و بلا واسطہ ان کے شاگردوں کی صف میں آتے ہیں اور دعوت اسلامی والے بھی ان کی کتابوں کو بہت ہی آداب و القاب کے ساتھ شائع کرتے ہیں وہ سب کے سب بریلی شریف کے بھی نہیں ہیں ان کے ناموں کو ملاحظہ فرمائیں اور فیصلہ کریں:
٭تاج دار اہل سنت، مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مصطفیٰ رضا خاں قادری بریلوی قدس سرہ
٭صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی قدس سرہ
٭ صدر الافاضل فخر الاماثل حضرت علامہ سید نعیم الدین مرادآبادی قدس سرہ
٭ملک العلما حضرت علامہ مفتی ظفر الدین بہاری قدس سرہ
٭استاذ العلما حضرت علامہ مفتی وصی احمد محدث سورتی پیلی بھیتی قدس سرہ
٭رئیس المفکرین، محدث اعظم ہند حضرت علامہ سید محمد صاحب کچھوچھوی قدس سرہ
٭فاضل جلیل حضرت علامہ مفتی حسنین رضا خاں قادری بریلوی قدس سرہ
٭شیربیشۂ اہل سنت حضرت علامہ مفتی حشمت علی خاںلکھنوی ثم پیلی بھیتی قدس سرہ
٭شہزادۂ صاحب عرس قاسمی، تاج العلما حضرت علامہ سید محمد میاں قادری برکاتی مارہروی قدس سرہ
٭برہان ملت حضرت علامہ مفتی برہان الحق قادری قدس سرہ
٭مفسر اعظم ہند حضرت علامہ ابراہیم رضا خاں قادری قدس سرہ
٭علامہ محدث احسان علی مظفر پوری قدس سرہ شیخ الحدیث منظر اسلام بریلی شریف
٭حضرت علامہ مفتی رفاقت حسین کانپوری قدس سرہ
٭اجمل العلما حضرت علامہ مفتی اجمل حسین سنبھلی قدس سرہ
٭مفتی اعظم دہلی حضرت علامہ مفتی مظہر اللہ صاحب قدس سرہ
٭محبوب العلما حضرت علامہ مفتی محبوب علی خاں قادری قدس سرہ
٭امام اہل سنت، محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ ابوالفضل محمد سردار احمد قادری قدس سرہ
٭مفتی پاکستان استاذالعلماعلامہ ابو البرکات سید احمد قادری رضوی قدس سرہ
٭حضرت علامہ محمد خلیل کاظمی محدث امروہوی قدس سرہ
٭مجاہد اہل سنت حضرت علامہ عبد الحامد قادری بدایونی قدس سرہ
٭مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ محمد صاحب قدس سرہ پاکستان
٭حضرت علامہ مفتی محمد عمر نعیمی مرادآبادی قدس سرہ
٭حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خاں نعیمی قدس سرہ
٭حضرت علامہ مفتی اعجاز ولی قادری رضوی بریلوی قدس سرہ
٭مجاہد ملت حضرت علامہ مفتی حبیب الرحمن قادری قدس سرہ
٭صدر العلما حضرت علامہ سید غلام جیلانی میرٹھی قدس سرہ
٭یادگار سلف حضرت علامہ ضیاء الدین پیلی بھیتی قدس سرہ
٭سید العلما حضرت علامہ شاہ سید آل مصطفیٰ مارہروی قدس سرہ
٭حضرت علامہ مفتی ابوالطاہر محمد طیب صاحب داناپوری قدس سرہ
٭مصنف قانون شریعت، شمس العلما حضرت علامہ مفتی شمس الدین جونپوری قدس سرہ
٭حضرت علامہ مفتی قاضی فضل کریم صاحب مظفرپوری قدس سرہ
٭حضرت علامہ مفتی محمد رضوان الرحمن فاروقی صاحب قدس سرہ،اندور
٭حضرت علامہ مفتی وقار الدین صاحب قدس سرہ
٭تلمیذ حضور حجۃ الاسلام شیخ القرآن حضرت علامہ عبد الغفور ہزاروی قدس سرہ پاکستان
٭پاسبان ملت خطیب مشرق حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی قدس سرہ
٭حضرت علامہ مفتی ثناء اللہ اعظمی قدس سرہ
٭حضرت علامہ مفتی محمد باقر علی خاں قدس سرہ مدرسہ اہل سنت بنارس
٭خلیفۂ حضور حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی تقدس علی خاں قادری قدس سرہ پاکستان
٭بانی اشرفیہ جلالۃ العلم، حافظ ملت حضرت علامہ مفتی محمدعبد العزیزمحدث مرادآبادی قدس سرہ
٭بحر العلوم حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی مبارک پوری قدس سرہ
اکابر علما و مفتیان کرام میں سے صرف بعض حضرات کے اسمائے مبارکہ ذکر کیے گیے ہیں جو مسجد میں نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کو شریعت مطہرہ کے خلاف بتاتے تھے اور اسی پر فتاوی صادر فرمائے۔
ترجمہ: اور جو کوئی کچھ کمائے وہ اسی کے ذمہ ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی، پھر تمہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے، وہ تمہیں بتا دے گا جس میں اختلاف کرتے تھے۔(کنزالایمان)
ہمارے اسلاف و اکابرین جس طرح نماز ادا کرتے تھے اس طرح نماز ادا کرنا چاہیے، دعوت اسلامی کے مبلغ ہوں یا کوئی دوسرے مسلمان جس کا ان کو علم نہ ہو اس معاملے میں ان کو نہیں پڑنا چاہیے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:{وَلاَ تَقْفُ مَا لَیْْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ أُولٰٓـئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُولاً}۔(القرآن، بنیٓ اسرآئیل،۱۷، آیت۳۶)
ترجمہ: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔(کنزالایمان)
جن لوگوں نے نماز میں لاؤڈاسپیکر کے استعمال کے متعلق یہ کہا ’’کہ بریلی شریف سے ناجائز اور باقی جگہ سے جائز ہی کا فتوی ہے‘‘ وہ لوگ بھی جھوٹے ہیں اور جھوٹ بول کر مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے والے ہیں میں نے پیچھے جن علما و مفتیان کرام کی عبارات نقل کی ہیں کیا وہ سب بریلی شریف کے ہیں؟
اب یہاں پر ان اکابر علمائے کرام کی ایک فہرست پیش کرتا ہوں جن کو آج کے زمانے کے تمام سنی علما کسی نہ کسی طرح مانتے ہیں یا بالواسطہ و بلا واسطہ ان کے شاگردوں کی صف میں آتے ہیں اور دعوت اسلامی والے بھی ان کی کتابوں کو بہت ہی آداب و القاب کے ساتھ شائع کرتے ہیں وہ سب کے سب بریلی شریف کے بھی نہیں ہیں ان کے ناموں کو ملاحظہ فرمائیں اور فیصلہ کریں:
٭تاج دار اہل سنت، مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مصطفیٰ رضا خاں قادری بریلوی قدس سرہ
٭صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی قدس سرہ
٭ صدر الافاضل فخر الاماثل حضرت علامہ سید نعیم الدین مرادآبادی قدس سرہ
٭ملک العلما حضرت علامہ مفتی ظفر الدین بہاری قدس سرہ
٭استاذ العلما حضرت علامہ مفتی وصی احمد محدث سورتی پیلی بھیتی قدس سرہ
٭رئیس المفکرین، محدث اعظم ہند حضرت علامہ سید محمد صاحب کچھوچھوی قدس سرہ
٭فاضل جلیل حضرت علامہ مفتی حسنین رضا خاں قادری بریلوی قدس سرہ
٭شیربیشۂ اہل سنت حضرت علامہ مفتی حشمت علی خاںلکھنوی ثم پیلی بھیتی قدس سرہ
٭شہزادۂ صاحب عرس قاسمی، تاج العلما حضرت علامہ سید محمد میاں قادری برکاتی مارہروی قدس سرہ
٭برہان ملت حضرت علامہ مفتی برہان الحق قادری قدس سرہ
٭مفسر اعظم ہند حضرت علامہ ابراہیم رضا خاں قادری قدس سرہ
٭علامہ محدث احسان علی مظفر پوری قدس سرہ شیخ الحدیث منظر اسلام بریلی شریف
٭حضرت علامہ مفتی رفاقت حسین کانپوری قدس سرہ
٭اجمل العلما حضرت علامہ مفتی اجمل حسین سنبھلی قدس سرہ
٭مفتی اعظم دہلی حضرت علامہ مفتی مظہر اللہ صاحب قدس سرہ
٭محبوب العلما حضرت علامہ مفتی محبوب علی خاں قادری قدس سرہ
٭امام اہل سنت، محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ ابوالفضل محمد سردار احمد قادری قدس سرہ
٭مفتی پاکستان استاذالعلماعلامہ ابو البرکات سید احمد قادری رضوی قدس سرہ
٭حضرت علامہ محمد خلیل کاظمی محدث امروہوی قدس سرہ
٭مجاہد اہل سنت حضرت علامہ عبد الحامد قادری بدایونی قدس سرہ
٭مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ محمد صاحب قدس سرہ پاکستان
٭حضرت علامہ مفتی محمد عمر نعیمی مرادآبادی قدس سرہ
٭حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خاں نعیمی قدس سرہ
٭حضرت علامہ مفتی اعجاز ولی قادری رضوی بریلوی قدس سرہ
٭مجاہد ملت حضرت علامہ مفتی حبیب الرحمن قادری قدس سرہ
٭صدر العلما حضرت علامہ سید غلام جیلانی میرٹھی قدس سرہ
٭یادگار سلف حضرت علامہ ضیاء الدین پیلی بھیتی قدس سرہ
٭سید العلما حضرت علامہ شاہ سید آل مصطفیٰ مارہروی قدس سرہ
٭حضرت علامہ مفتی ابوالطاہر محمد طیب صاحب داناپوری قدس سرہ
٭مصنف قانون شریعت، شمس العلما حضرت علامہ مفتی شمس الدین جونپوری قدس سرہ
٭حضرت علامہ مفتی قاضی فضل کریم صاحب مظفرپوری قدس سرہ
٭حضرت علامہ مفتی محمد رضوان الرحمن فاروقی صاحب قدس سرہ،اندور
٭حضرت علامہ مفتی وقار الدین صاحب قدس سرہ
٭تلمیذ حضور حجۃ الاسلام شیخ القرآن حضرت علامہ عبد الغفور ہزاروی قدس سرہ پاکستان
٭پاسبان ملت خطیب مشرق حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی قدس سرہ
٭حضرت علامہ مفتی ثناء اللہ اعظمی قدس سرہ
٭حضرت علامہ مفتی محمد باقر علی خاں قدس سرہ مدرسہ اہل سنت بنارس
٭خلیفۂ حضور حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی تقدس علی خاں قادری قدس سرہ پاکستان
٭بانی اشرفیہ جلالۃ العلم، حافظ ملت حضرت علامہ مفتی محمدعبد العزیزمحدث مرادآبادی قدس سرہ
٭بحر العلوم حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی مبارک پوری قدس سرہ
اکابر علما و مفتیان کرام میں سے صرف بعض حضرات کے اسمائے مبارکہ ذکر کیے گیے ہیں جو مسجد میں نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کو شریعت مطہرہ کے خلاف بتاتے تھے اور اسی پر فتاوی صادر فرمائے۔
❤1👍1
شہزادۂ سید العلما حضرت علامہ سید آل رسول حسنین میاں قادری معروف بہ ’’نظمی میاں‘‘ مارہروی قدس سرہ لاؤڈ اسپیکر پرنماز کے رد میں لکھی ہوئی کتاب میں ’’انتساب‘‘ کی سرخی کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں:’’اپنے والد ماجد حضور سید العلما مولانا مولوی مفتی حکیم الحاج آلِ مصطفیٰ سید میاں علیہ الرحمہ کے نام جنہوں نے اپنی حیات ظاہری میں لاؤڈ اسپیکر پر نماز کے خلاف جہاد کیا اور وصال شریف کے تیسرے دن میرے خواب میں آکر حکم دیا کہ لاؤڈاسپیکر کے خلاف اس تحریک کو جاری رکھوں‘‘۔(قرآنی نماز بمقابلہ مائیکروفونی نماز، ص:۱)
اگر کوئی اور زیادہ تفصیل و تحقیق چاہتا ہو تو وہ مندرجہ ذیل لاؤڈاسپیکر کے رد پر لکھی ہوئی کتابوں کو ملاحظہ فرمائیے:صیانۃ الصلاۃ عن حیل البدعات برہان ملت، عبد الباقی محمد برہان الحق قادری رضوی سلامی جبل پوری قدس سرہ مفتی اعظم مدھیہ پردیش
القول الأزہر فی عدم اقتداء لاؤڈ اسپیکر
مظہر اعلیٰ حضرت شیر بیشۂ اہل سنت حضرت علامہ حشمت علی خاںقادری رضوی پیلی بھیتی قدس سرہ
قصد السبیل
حضرت علامہ مفتی محمد مظہر اللہ نقشبندی مجددی قادری چشتی دہلوی قدس سرہ
القول الأنور لعدم جواز الصلاۃ باقتداء لاؤڈ اسپیکر
مجاہد سنیت حضرت علامہ مفتی محمد محبوب علی خاں قادری برکاتی رضوی مجددی لکھنوی قدس سرہ
التفصیل الأنور فی حکم لاؤڈ اسپیکر
حافظ محمد عمران قادری رضوی مصطفوی پیلی بھیتی قدس سرہ
حکم مکبر الصوت
عمدۃ المحققین حضرت علامہ مفتی محمد حبیب اللہ نعیمی اشرفی بھاگلپوری قدس سرہ صدرالمدرسین، شیخ الحدیث و مہتمم جامعہ نعیمیہ مرادآباد
افادات بدر ملت
شیخ الاتقیا، بدر العلما حضرت علامہ مفتی بدر الدین قادری قدس سرہ
قرآنی نماز بمقابلہ مائیکروفونی نماز
شہزادۂ سید العلما حضرت علامہ سید آل رسول حسنین میاں قادری معروف بہ ’’نظمی میاں‘‘ مارہروی قدس سرہ
لاؤڈ اسپیکر پر نماز کا مسئلہ مع تحقیقات اکابر اہل سنت
حضرت علامہ مفتی محمد حسن علی رضوی میلسی
القول الاشرف لعدم الاقتداء بلاؤڈ اسپیکر
مفتی محمد اشرف رضا صدیقی قادری مصباحی قاضی شریعت ادارۂ شرعیہ مہاراشٹر ممبئی
’’تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ‘‘۱۰؍کتابوں کے نام جن میں لاؤڈاسپیکر کے متعلق تفصلی کلام کیا گیا ہے اور ان میں سے کسی بھی کتاب کے مصنف بریلی شریف کے نہیں ہیں۔
لاؤڈاسپیکر کے جواز کے معاملہ میں بحرالعلوم حضرت علامہ مفتی سید افضل حسین مونگیری قدس سرہ کے کسی جواز کے فتوے سے استدلال درست نہیں کیوں کہ انہوں نے اپنے جواز کے فتوی سے رجوع فرما لیا تھا جس کی تفصیل یوں ہے:’’بحرالعلوم مفتی سید افضل حسین صاحب مونگیری نے ایک عرصۂ دراز تک بریلی شریف میں مسند تدر
یس و افتا کو زینت بخشی اور پھر آخری ایام میں ہجرت کرکے پاکستان چلے گیے اور وہاں فیصل آباد میں مستقل سکونت اختیار فرمائی۔
آپ نے لاؤڈ اسپیکر کے مسئلہ میں حضور مفتی اعظم ہند کے فتوی سے اختلاف کیا اور جواز کا فتوی صادر کر دیا ، مگر ہندوستان کے دورے پر جب تشریف لائے تو انہوں نے مفتی مطیع الرحمن مضطرپورنوی کوگواہ بنا کر علی الاعلان اپنے فتوے سے رجوع کا اعلان کیا اور مفتی اعظم ہند کے فتوی کی تائید و تصدیق کی ، آپ کے قابل فخر شاگرد علامہ مفتی جہانگیر خاں صاحب رضوی نے بھی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر جواز کا فتوی دیا تھا مگر حال ہی میں انہوں نے اپنے فتوی سے رجوع کیا اور اپنا اعلان شائع فرمایاجس کو ناظرین کے لیے پیش کیا جارہا ہے:لاؤڈ اسپیکر پر نماز کے عدم جواز کے سلسلہ میں جماہیر مفتیان کرام و مشائخ اہل سنت کا اتفاق ہے صرف مفتی سید افضل حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اختلاف کیا تھا، میں بھی مفتی اعظم ہند قدس سرہ وغیرہ جماہیر مفتیان اہل سنت کے فتوی سے اتفاق کرتا ہوں اور اب تک جو میرا جواز کا فتوی تھا اس سے رجوع کرتا ہوں اور میں اعلان کرتا ہوں کہ لاؤڈاسپیکر پر نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے۔
أمر بکتبہ: محمد احمد المعروف جہانگیر خاں غفر لہ
یہ تحریر میرے سامنے لکھی گئی ہے اور اس پر حضرت علامہ مفتی جہانگیر خاں صاحب نے میرے روبرو دستخط فرمائے۔
فقیر محمد اختر رضا خاںازہری غفرلہ
میں بھی اس تحریر و دستخط کا چشم دید گواہ ہوں۔ صغیراحمدجوکھن پوری، ۳۰؍صفر المظفر۱۴۱۶ھ‘‘۔(فتاوی برکات مصطفیٰ، ص:۲۶۶، انجمن برکات مصطفیٰ، ممبئی،۲۰۱۳ء)
مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ نے جمہور علمائے اہل سنت اور مسلمہ اکابرین و اسلاف کرام کے خلاف نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے جواز کا حکم دیا ان کے اس حکم جواز کی اہمیت کیا ہے اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں لیکن پھر بھی شارح بخاری حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی جو تا حیات جامعہ اشرفیہ کے دارالافتا کے صدر رہے ان کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے:’’مسئلہ لاؤڈ اسپیکر میں عزیز گرامی وقار علامہ مفتی نظام الدین صاحب اپنی رائے میں منفرد(اکیلے) ہیں، ادارہ (جامعہ اشرفیہ) کا کوئی فرد اس سے متفق نہیں انہوں نے جو کچھ کہا اس کی ذمہ داری تنہا ان کے سر ہے‘‘۔( فتاوی برکات مصطفیٰ،
اگر کوئی اور زیادہ تفصیل و تحقیق چاہتا ہو تو وہ مندرجہ ذیل لاؤڈاسپیکر کے رد پر لکھی ہوئی کتابوں کو ملاحظہ فرمائیے:صیانۃ الصلاۃ عن حیل البدعات برہان ملت، عبد الباقی محمد برہان الحق قادری رضوی سلامی جبل پوری قدس سرہ مفتی اعظم مدھیہ پردیش
القول الأزہر فی عدم اقتداء لاؤڈ اسپیکر
مظہر اعلیٰ حضرت شیر بیشۂ اہل سنت حضرت علامہ حشمت علی خاںقادری رضوی پیلی بھیتی قدس سرہ
قصد السبیل
حضرت علامہ مفتی محمد مظہر اللہ نقشبندی مجددی قادری چشتی دہلوی قدس سرہ
القول الأنور لعدم جواز الصلاۃ باقتداء لاؤڈ اسپیکر
مجاہد سنیت حضرت علامہ مفتی محمد محبوب علی خاں قادری برکاتی رضوی مجددی لکھنوی قدس سرہ
التفصیل الأنور فی حکم لاؤڈ اسپیکر
حافظ محمد عمران قادری رضوی مصطفوی پیلی بھیتی قدس سرہ
حکم مکبر الصوت
عمدۃ المحققین حضرت علامہ مفتی محمد حبیب اللہ نعیمی اشرفی بھاگلپوری قدس سرہ صدرالمدرسین، شیخ الحدیث و مہتمم جامعہ نعیمیہ مرادآباد
افادات بدر ملت
شیخ الاتقیا، بدر العلما حضرت علامہ مفتی بدر الدین قادری قدس سرہ
قرآنی نماز بمقابلہ مائیکروفونی نماز
شہزادۂ سید العلما حضرت علامہ سید آل رسول حسنین میاں قادری معروف بہ ’’نظمی میاں‘‘ مارہروی قدس سرہ
لاؤڈ اسپیکر پر نماز کا مسئلہ مع تحقیقات اکابر اہل سنت
حضرت علامہ مفتی محمد حسن علی رضوی میلسی
القول الاشرف لعدم الاقتداء بلاؤڈ اسپیکر
مفتی محمد اشرف رضا صدیقی قادری مصباحی قاضی شریعت ادارۂ شرعیہ مہاراشٹر ممبئی
’’تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ‘‘۱۰؍کتابوں کے نام جن میں لاؤڈاسپیکر کے متعلق تفصلی کلام کیا گیا ہے اور ان میں سے کسی بھی کتاب کے مصنف بریلی شریف کے نہیں ہیں۔
لاؤڈاسپیکر کے جواز کے معاملہ میں بحرالعلوم حضرت علامہ مفتی سید افضل حسین مونگیری قدس سرہ کے کسی جواز کے فتوے سے استدلال درست نہیں کیوں کہ انہوں نے اپنے جواز کے فتوی سے رجوع فرما لیا تھا جس کی تفصیل یوں ہے:’’بحرالعلوم مفتی سید افضل حسین صاحب مونگیری نے ایک عرصۂ دراز تک بریلی شریف میں مسند تدر
یس و افتا کو زینت بخشی اور پھر آخری ایام میں ہجرت کرکے پاکستان چلے گیے اور وہاں فیصل آباد میں مستقل سکونت اختیار فرمائی۔
آپ نے لاؤڈ اسپیکر کے مسئلہ میں حضور مفتی اعظم ہند کے فتوی سے اختلاف کیا اور جواز کا فتوی صادر کر دیا ، مگر ہندوستان کے دورے پر جب تشریف لائے تو انہوں نے مفتی مطیع الرحمن مضطرپورنوی کوگواہ بنا کر علی الاعلان اپنے فتوے سے رجوع کا اعلان کیا اور مفتی اعظم ہند کے فتوی کی تائید و تصدیق کی ، آپ کے قابل فخر شاگرد علامہ مفتی جہانگیر خاں صاحب رضوی نے بھی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر جواز کا فتوی دیا تھا مگر حال ہی میں انہوں نے اپنے فتوی سے رجوع کیا اور اپنا اعلان شائع فرمایاجس کو ناظرین کے لیے پیش کیا جارہا ہے:لاؤڈ اسپیکر پر نماز کے عدم جواز کے سلسلہ میں جماہیر مفتیان کرام و مشائخ اہل سنت کا اتفاق ہے صرف مفتی سید افضل حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اختلاف کیا تھا، میں بھی مفتی اعظم ہند قدس سرہ وغیرہ جماہیر مفتیان اہل سنت کے فتوی سے اتفاق کرتا ہوں اور اب تک جو میرا جواز کا فتوی تھا اس سے رجوع کرتا ہوں اور میں اعلان کرتا ہوں کہ لاؤڈاسپیکر پر نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے۔
أمر بکتبہ: محمد احمد المعروف جہانگیر خاں غفر لہ
یہ تحریر میرے سامنے لکھی گئی ہے اور اس پر حضرت علامہ مفتی جہانگیر خاں صاحب نے میرے روبرو دستخط فرمائے۔
فقیر محمد اختر رضا خاںازہری غفرلہ
میں بھی اس تحریر و دستخط کا چشم دید گواہ ہوں۔ صغیراحمدجوکھن پوری، ۳۰؍صفر المظفر۱۴۱۶ھ‘‘۔(فتاوی برکات مصطفیٰ، ص:۲۶۶، انجمن برکات مصطفیٰ، ممبئی،۲۰۱۳ء)
مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ نے جمہور علمائے اہل سنت اور مسلمہ اکابرین و اسلاف کرام کے خلاف نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے جواز کا حکم دیا ان کے اس حکم جواز کی اہمیت کیا ہے اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں لیکن پھر بھی شارح بخاری حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی جو تا حیات جامعہ اشرفیہ کے دارالافتا کے صدر رہے ان کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے:’’مسئلہ لاؤڈ اسپیکر میں عزیز گرامی وقار علامہ مفتی نظام الدین صاحب اپنی رائے میں منفرد(اکیلے) ہیں، ادارہ (جامعہ اشرفیہ) کا کوئی فرد اس سے متفق نہیں انہوں نے جو کچھ کہا اس کی ذمہ داری تنہا ان کے سر ہے‘‘۔( فتاوی برکات مصطفیٰ،
👍2❤1
ص:۲۰۵، انجمن برکات مصطفیٰ، ممبئی،۲۰۱۳ء)
مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ کو بھی اپنی تحقیق میں احتیاط نظر نہیں آتی بلکہ وہ بھی اسی میں احتیاط بتاتے ہیں کہ اس کو نماز میں استعمال نہ کیا جائے انہوں نے جو خط شہزادۂ سید العلما حضرت علامہ سید آل رسول حسنین میاں قادری معروف بہ ’’نظمی میاں‘‘ مارہروی قدس سرہ کو لکھا ہے اس میں اس کا اعتراف بھی کیا ہے ملاحظہ فرمائیں:’’بلاشبہ حضرت نے اپنی اس کتاب میں اپنے بہت سے اکابر اہل سنت بلکہ سرخیل فقہا حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان کے موقف کی ترجمانی کی ہے اور دلائل کثیرہ سے اسے مبرہن فرمایا ہے اور وہی احتیاط کی راہ بھی ہے‘‘۔
دوسری جگہ لکھتے ہیں:’’حضرت(مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ)نے لائوڈاسپیکرپرنمازکے عدم جواز(ناجائز ہونے) کے کثیرفتاوی صادرکئے البتہ راقم کاموقف اس باب میںوہ ہے جوحضورحافظ ملت مولاناشاہ عبدالعزیزمحدث مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ کاہے۔‘‘(مقدمہ فتاوی شارح بخاری، ج:۱، ص:۳۵، دائرۃ البرکات گھوسی، مئو،۲۰۱۱ء)
اگر کچھ لوگ لاؤڈ اسپیکر کے جواز کے قائل ہوں بھی تب بھی بہت سی وجوہات کے سبب اس کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی اس کو فقہ کے کچھ قواعد کلیہ کی روشنی میں سمجھیے:(۱)
علما کی اکثریت عدم جواز کی قائل تو مغلوب (جواز کے قائلین) کا کوئی اعتبار نہیں ہوگابلکہ مغلوب مرجوح قرار پائے گا:’’لا عبرۃ فی المغلوب بمقابلۃ الغالب‘‘(شرح عقودرسم المفتی ۱۲۹)غالب کے مقابل مغلوب کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
’’المرجوح فی مقابلۃ الراجح بمنزلۃ العدم‘‘ (شرح عقودرسم المفتی ۱۸۷)راجح کے مقابل مرجوح عدم کے درجہ میں ہے۔
(۲)
جمہور علمائے اہل سنت نے دلائل سے لاؤڈ اسپیکر کے عدم جواز کو ثابت کیا ہے اور اس کے ممنوع ہونے پر دلیلیں پیش کی ہیں اگرچہ بعض نے اس کے خلاف روش کو اختیار کیا ہے لیکن جب مقتضی و مانع میں تعارض ہو تو ایسی صورت میں غلبہ مانع کو ہی ہوتا ہے :
’’ اذاتعارض المانع و المقتضی فانہ یقدم المانع‘‘۔(الأشباہ والنظائر ص:۳۱۸)جب مقتضی اورمانع جمع ہوجائیں تومانع مقدم ہوگا۔
لہذا اس قاعدے کے اعتبار سے بھی لاؤڈ اسپیکر کا استعمال حالت نماز میں نا جائز و حرام ہی ثابت ہو تاہے۔
(۳)
’’اذا تعارضت مفسدۃ ومصلحۃ قدم دفع المفسدۃ‘‘۔(الأشباہ والنظائر ص:۲۶۴)جب مفسد اور مصلحت مین تعارض ہو توفساد کو زائل کیا جائے گا۔
’’درء المفا سد أولیٰ من جلب المصالح‘‘(الأشباہ والنظائرص:۲۶۴)مفاسد کو دور کرنا منافع کے حصول سے بہترہے۔
یعنی جب مصلحت اورمفاسد میںتضادواقع ہو تومفاسدکودورکیاجائے گااگرچہ مصلحت کوترک کرنا پڑے،چونکہ مامورات ومصالح کی بہ نسبت شریعت مطہرہ کاحکم محرمات ومفاسداورممنوعات کودور کرنے میں زیادہ سخت اورمؤکدہے۔ حدیث شریف میںہے’’اذا أمرتکم بشیٍٔ فأتوا منہ ما استطعتم واذا نہیتکم عن شیٍٔ فاجتنبوہ‘‘(السنن الکبری للبیہقی المجلد الرابع ص:۴۲۶)یعنی جب میں تمہیں کسی چیزکا حکم دوںتوحتی المقدور اسے بجالاؤ اور جب کسی چیز سے منع کروںتواس سے مکمل طورپربچو۔
اس قاعدے سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ حالت نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے جواز کا حکم نہیں دیا جائے گا بلکہ اس سے بچا ہی جائے گا۔
(۴)
’’اذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام‘‘ (الأشباہ والنظائر ص:۳۰۱)جب حلال وحرام جمع ہوںتوغلبہ حرام کوہوگا۔
یہ قاعدہ اس حدیث’’دع مایریبک الی مالایربیک‘‘(سنن دارمی جلد دوم ص:۲۴۵، ۲۴۶)جس میں تم کو شک ہو اس کو چھوڑدوجس میں شک نہ ہو اسے کرو۔
یعنی جب کسی معاملہ میں حرمت وحلت دونوں قسم کی دلیلیںہوںاورکوئی مرجح نہ ہو تو ایسی صورت میں حرمت کو غلبہ ہوگا اور لاؤڈ اسپیکر کے حرام ہونے ہر بہت سے مرجح موجود ہیں لہذا اس میں بدرجۂ اتم حرمت کو غلبہ دے کر اس کے حرام ہونے کا حکم دیا جائے گا۔
(۵)
’’ما أبیح بالضرورۃ یتقدربقدرہا‘‘۔(الأشباہ والنظائر ص:۲۵۲)جوچیز کسی ضرورت کی وجہ سے جائز ہوتی ہے تووہ بقدرضرورت ہی جائز رہتی ہے۔
امام کے علاوہ مقتدی کو بلند آواز سے تکبیر کہنے کی اور مقتدیوں کو اس کی آواز پر رکوع و سجود کرنے کی اجازت ضرورت کے سبب ہے یعنی جب امام کی آواز تمام مقتدیوں کو نہ پہنچتی ہو تب ہے تو اس کا جواز بہ قدر ضرورت ہی ہوگا اور ضرورت مقتدی کے تکبیر کہنے سے پوری ہو سکتی ہے لہذا لاؤڈ اسپیکر کے لگانے کا حکم نہیں دیا جائے گا۔
(۶)
’’اذا اجتمع دلیلان أحد ہما یقتضی التحریم والاٰخرالاباحۃ قد م التحریم‘‘(الأشباہ والنظائر ص:۳۰۲)جب دو دلیلیں جمع ہوجائیںان میں سے ایک حرمت دوسری اباحت کی مقتضی ہو تودلیل حرمت کو مقدم کیا جائے گا۔
یہ قاعدہ اس اثر سے ماخوذ ہے کہ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملک یمین کے ذریعہ جمع بین الاختین کے متعلق سوال کیا گیا آپ نے فرمایاکہ ان دونوں کو ایک آیت نے حلال کیا ہے اور ایک آیت نے حرام کیا ہے تو اس میں حرمت ہم کو زیادہ پسند ہے۔ اس قاعدے کی رو سے بھی حالت نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے عدم جواز ہی کو غلبہ ہوگا۔
مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ کو بھی اپنی تحقیق میں احتیاط نظر نہیں آتی بلکہ وہ بھی اسی میں احتیاط بتاتے ہیں کہ اس کو نماز میں استعمال نہ کیا جائے انہوں نے جو خط شہزادۂ سید العلما حضرت علامہ سید آل رسول حسنین میاں قادری معروف بہ ’’نظمی میاں‘‘ مارہروی قدس سرہ کو لکھا ہے اس میں اس کا اعتراف بھی کیا ہے ملاحظہ فرمائیں:’’بلاشبہ حضرت نے اپنی اس کتاب میں اپنے بہت سے اکابر اہل سنت بلکہ سرخیل فقہا حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان کے موقف کی ترجمانی کی ہے اور دلائل کثیرہ سے اسے مبرہن فرمایا ہے اور وہی احتیاط کی راہ بھی ہے‘‘۔
دوسری جگہ لکھتے ہیں:’’حضرت(مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ)نے لائوڈاسپیکرپرنمازکے عدم جواز(ناجائز ہونے) کے کثیرفتاوی صادرکئے البتہ راقم کاموقف اس باب میںوہ ہے جوحضورحافظ ملت مولاناشاہ عبدالعزیزمحدث مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ کاہے۔‘‘(مقدمہ فتاوی شارح بخاری، ج:۱، ص:۳۵، دائرۃ البرکات گھوسی، مئو،۲۰۱۱ء)
اگر کچھ لوگ لاؤڈ اسپیکر کے جواز کے قائل ہوں بھی تب بھی بہت سی وجوہات کے سبب اس کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی اس کو فقہ کے کچھ قواعد کلیہ کی روشنی میں سمجھیے:(۱)
علما کی اکثریت عدم جواز کی قائل تو مغلوب (جواز کے قائلین) کا کوئی اعتبار نہیں ہوگابلکہ مغلوب مرجوح قرار پائے گا:’’لا عبرۃ فی المغلوب بمقابلۃ الغالب‘‘(شرح عقودرسم المفتی ۱۲۹)غالب کے مقابل مغلوب کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
’’المرجوح فی مقابلۃ الراجح بمنزلۃ العدم‘‘ (شرح عقودرسم المفتی ۱۸۷)راجح کے مقابل مرجوح عدم کے درجہ میں ہے۔
(۲)
جمہور علمائے اہل سنت نے دلائل سے لاؤڈ اسپیکر کے عدم جواز کو ثابت کیا ہے اور اس کے ممنوع ہونے پر دلیلیں پیش کی ہیں اگرچہ بعض نے اس کے خلاف روش کو اختیار کیا ہے لیکن جب مقتضی و مانع میں تعارض ہو تو ایسی صورت میں غلبہ مانع کو ہی ہوتا ہے :
’’ اذاتعارض المانع و المقتضی فانہ یقدم المانع‘‘۔(الأشباہ والنظائر ص:۳۱۸)جب مقتضی اورمانع جمع ہوجائیں تومانع مقدم ہوگا۔
لہذا اس قاعدے کے اعتبار سے بھی لاؤڈ اسپیکر کا استعمال حالت نماز میں نا جائز و حرام ہی ثابت ہو تاہے۔
(۳)
’’اذا تعارضت مفسدۃ ومصلحۃ قدم دفع المفسدۃ‘‘۔(الأشباہ والنظائر ص:۲۶۴)جب مفسد اور مصلحت مین تعارض ہو توفساد کو زائل کیا جائے گا۔
’’درء المفا سد أولیٰ من جلب المصالح‘‘(الأشباہ والنظائرص:۲۶۴)مفاسد کو دور کرنا منافع کے حصول سے بہترہے۔
یعنی جب مصلحت اورمفاسد میںتضادواقع ہو تومفاسدکودورکیاجائے گااگرچہ مصلحت کوترک کرنا پڑے،چونکہ مامورات ومصالح کی بہ نسبت شریعت مطہرہ کاحکم محرمات ومفاسداورممنوعات کودور کرنے میں زیادہ سخت اورمؤکدہے۔ حدیث شریف میںہے’’اذا أمرتکم بشیٍٔ فأتوا منہ ما استطعتم واذا نہیتکم عن شیٍٔ فاجتنبوہ‘‘(السنن الکبری للبیہقی المجلد الرابع ص:۴۲۶)یعنی جب میں تمہیں کسی چیزکا حکم دوںتوحتی المقدور اسے بجالاؤ اور جب کسی چیز سے منع کروںتواس سے مکمل طورپربچو۔
اس قاعدے سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ حالت نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے جواز کا حکم نہیں دیا جائے گا بلکہ اس سے بچا ہی جائے گا۔
(۴)
’’اذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام‘‘ (الأشباہ والنظائر ص:۳۰۱)جب حلال وحرام جمع ہوںتوغلبہ حرام کوہوگا۔
یہ قاعدہ اس حدیث’’دع مایریبک الی مالایربیک‘‘(سنن دارمی جلد دوم ص:۲۴۵، ۲۴۶)جس میں تم کو شک ہو اس کو چھوڑدوجس میں شک نہ ہو اسے کرو۔
یعنی جب کسی معاملہ میں حرمت وحلت دونوں قسم کی دلیلیںہوںاورکوئی مرجح نہ ہو تو ایسی صورت میں حرمت کو غلبہ ہوگا اور لاؤڈ اسپیکر کے حرام ہونے ہر بہت سے مرجح موجود ہیں لہذا اس میں بدرجۂ اتم حرمت کو غلبہ دے کر اس کے حرام ہونے کا حکم دیا جائے گا۔
(۵)
’’ما أبیح بالضرورۃ یتقدربقدرہا‘‘۔(الأشباہ والنظائر ص:۲۵۲)جوچیز کسی ضرورت کی وجہ سے جائز ہوتی ہے تووہ بقدرضرورت ہی جائز رہتی ہے۔
امام کے علاوہ مقتدی کو بلند آواز سے تکبیر کہنے کی اور مقتدیوں کو اس کی آواز پر رکوع و سجود کرنے کی اجازت ضرورت کے سبب ہے یعنی جب امام کی آواز تمام مقتدیوں کو نہ پہنچتی ہو تب ہے تو اس کا جواز بہ قدر ضرورت ہی ہوگا اور ضرورت مقتدی کے تکبیر کہنے سے پوری ہو سکتی ہے لہذا لاؤڈ اسپیکر کے لگانے کا حکم نہیں دیا جائے گا۔
(۶)
’’اذا اجتمع دلیلان أحد ہما یقتضی التحریم والاٰخرالاباحۃ قد م التحریم‘‘(الأشباہ والنظائر ص:۳۰۲)جب دو دلیلیں جمع ہوجائیںان میں سے ایک حرمت دوسری اباحت کی مقتضی ہو تودلیل حرمت کو مقدم کیا جائے گا۔
یہ قاعدہ اس اثر سے ماخوذ ہے کہ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملک یمین کے ذریعہ جمع بین الاختین کے متعلق سوال کیا گیا آپ نے فرمایاکہ ان دونوں کو ایک آیت نے حلال کیا ہے اور ایک آیت نے حرام کیا ہے تو اس میں حرمت ہم کو زیادہ پسند ہے۔ اس قاعدے کی رو سے بھی حالت نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے عدم جواز ہی کو غلبہ ہوگا۔
❤1👍1
لہذا آپ حضرات حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین و دیگر اسلاف و اولیائے کرام اور علمائے ذوی الاحترام رحمہم اللہ کی طرح بغیر لاؤڈاسپیکر کے ہی نماز ادا کیجیے اور اس بدعت کو خود سے اور خود کو اس بدعت سے دور رکھیے۔واللہ تعالیٰ اعلم
https://daruliftabareilly.com/737-2/
https://daruliftabareilly.com/737-2/
❤1👍1
مائک سے نماز پڑھانے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں اگر مسجد بالکل چھوٹی جہاں پر امام صاحب کی آواز ۔ مقتدی تک پہنچ جائے کیا وہاں پر امام صاحب نماز مائک پر پڑھا سکتے ہیں یا نہیں؟ ۔ اور وہاں پر امام صاحب ۔ اندر والا مائک استعمال نہین کر رہے ہیں بلکہ باہر والا مائک استعمال کر رہے ہیں جس مائک کی آواز محلے میں جا رہی ہے کیا اس مائک پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ ۔ کیون کہ یہ سوال میں اس لئے کیا ہے بعض علماء فرماتے ہیں قرآن پڑھنا سنت ہے اور سننا واجب ہے کیوں کہ ہمارے گاؤں اور محلے میں کچھ لوگ اپنے اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں ۔ لہٰذا قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
مستفتی حافظ علی محمد ۔ کشمیری
https://masailworld.com/mic-se-namaz-padhane-ka-hukm
الجواب بعون الملک الوھاب
مائک سے نماز پڑھنے کا مسئلہ مختلف فیہ ہے،شرعی کونسل بریلی شریف کے زیر اہتمام منعقد ٢٠٠٤ ء کے سیمینار میں مندرجہ ذیل فیصلہ کیا گیا :
١- لاؤڈاسپیکر کی آواز متکلم کی عین آواز نہیں ہے ، اس لئے محض لاؤڈا سپیکر سے مسموع آواز پر اقتداء ہم احناف کے نزدیک صحیح نہیں، بالفرض
یہ آواز ماہیت کے اعتبار سے متکلم کی آواز بھی ہو تو بھی حکماًیہ اصل آواز نہیں لہٰذا اب بھی محض اس آواز پر اقتداء درست نہیں ہو گی ۔
۲۔ جہاں کہیں نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر لوگ جبر کریں وہاں مکبّرین کا بھی انتظام کیا جائے اور مقتدیوں کو مسئلہ کی صورت سے آگاہ کرتے ہو ئے ہدایت کی جائے کہ وہ لاؤڈاسپیکر کی آواز پر اقتداء نہ کرکے مکبّرین کی آواز پر اقتداء کریں ۔
۳۔ اسی طرح مکبّرین کو بھی ہدایت کی جائے کہ وہ بھی لاؤد اسپیکر کی آواز پر اقتداء نہ کریں۔
۴۔ کہیں مکبّر مقرر کر نے کی بھی صورت نہ بنے تو امام مسئلہ بتادے وہ اس بنا پر امامت سے مستعفی نہ ہو۔
مورخہ ١٧/رجب المرجب ١٤٢٥ھ مطابق ٣/ستمبر ٢٠٠٤۔
فتاوی بحر العلوم میں ہے : ہندوستان میں علماے اہل سنت کی بڑی جماعت لاؤڈ اسپیکر پر اقتدا کو ناجائز کہتی ہے، اور تھوڑی تعداد میں علماء کرام
اس کو جائز کہنے والے ہیں، ہم یہی جواب دیتے ہیں کہ احتیاط اسی میں ہے کہ اسپیکر پر اقتداء نہ کی جائے ۔
(ج اول ص٤٣٤)
اسی میں ہے :
میرے استاد حضور حافظ ملت لکھا کرتے تھے، اس مسئلہ میں احتیاط یہی ہے کہ لاؤڈ اسپیکر نماز میں نہ استعمال کیا جائے، وجہ یہ تھی کہ اگر بغیر لاؤڈ اسپیکر کے نماز پڑھی جاتی ہے، تو دونوں فریق اس کو جائز ہی کہیں گے، کوئی ناجائز نہیں کہے گا،جب کہ ایک بڑا گروہ لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھنے کی صورت میں عدم جواز کا فتویٰ دے گا،تو کام وہ کیا جائے کہ جس کے جواز میں کسی کا اختلاف نہ ہو مگر ہمارے عوام اس مسئلہ میں علما سے زیادہ بےباک واقع ہوئے ہیں، لاؤڈ اسپیکر نماز کے لیے کوئی ضروری نہیں مگر اس کے لیے ضد پر آگئے، اور بس چلا تو لاؤڈ اسپیکر پر نماز نہ پڑھانے والے امام کو ہٹا کر دوسرے کو لاتے، خواہ وہ دیوبندی ہو یا دوسرے مذہب کا ہی کیوں نہ ہو، اور بس نہ چلا تو وہاں نماز پڑھنا ہی چھوڑ دیا اور دوسری مسجد میں چلے گئے خواہ وہاں دیوبندی یا کوئی دوسرابد مذہب ہی امام کیوں نہ ہو اور اس سلسلے میں دنگا، فساد اور لڑائی جھگڑےسے بھی باز نہیں رہتے، میرا مشورہ فریقین کو یہ ہے کہ فتنہ فساد سے بچا جائے ۔
(ج اول ص٤٣٤)
مذکورہ صورت میں جب کہ مسجد چھوٹی ہے اور امام کی آواز مقتدیوں تک پہنچ جاتی ہے تو بلا ضرورت مائک سے نماز پڑھانے سے احتراز ہمارے اکابر علماء کی تصریحات کی روشنی میں بے حد ضروری ہے۔پھر اگر آواز اتنی بلند ہو جو باعثِ تکلیف ہو تو احتیاط فی العبادة کے علاوہ ایک اور وجہ سے احتراز کرنے کا حکم ہوگا کہ نماز کے اندر اتنی بلند آواز سے قرآن پاک پڑھنا منع ہے جو دوسروں کے لیے باعث تکلیف ہو۔
صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "حاجت سے زیادہ اس قدر بلند آواز سے پڑھنا کہ اپنے یا دوسرے کے لیے باعثِ تکلیف ہو، مکروہ ہے”
(بہار شریعت حصہ سوم ص ۵۴٨ دعوت اسلامی ایپ)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــہ : مفتی کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی
٢٢ربیع الثانی ١٤٤٣ھ/ ٢٨نومبر ٢٠٢١ء
الجواب صحیح
مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
https://masailworld.com/mic-se-namaz-padhane-ka-hukm
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں اگر مسجد بالکل چھوٹی جہاں پر امام صاحب کی آواز ۔ مقتدی تک پہنچ جائے کیا وہاں پر امام صاحب نماز مائک پر پڑھا سکتے ہیں یا نہیں؟ ۔ اور وہاں پر امام صاحب ۔ اندر والا مائک استعمال نہین کر رہے ہیں بلکہ باہر والا مائک استعمال کر رہے ہیں جس مائک کی آواز محلے میں جا رہی ہے کیا اس مائک پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ ۔ کیون کہ یہ سوال میں اس لئے کیا ہے بعض علماء فرماتے ہیں قرآن پڑھنا سنت ہے اور سننا واجب ہے کیوں کہ ہمارے گاؤں اور محلے میں کچھ لوگ اپنے اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں ۔ لہٰذا قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
مستفتی حافظ علی محمد ۔ کشمیری
https://masailworld.com/mic-se-namaz-padhane-ka-hukm
الجواب بعون الملک الوھاب
مائک سے نماز پڑھنے کا مسئلہ مختلف فیہ ہے،شرعی کونسل بریلی شریف کے زیر اہتمام منعقد ٢٠٠٤ ء کے سیمینار میں مندرجہ ذیل فیصلہ کیا گیا :
١- لاؤڈاسپیکر کی آواز متکلم کی عین آواز نہیں ہے ، اس لئے محض لاؤڈا سپیکر سے مسموع آواز پر اقتداء ہم احناف کے نزدیک صحیح نہیں، بالفرض
یہ آواز ماہیت کے اعتبار سے متکلم کی آواز بھی ہو تو بھی حکماًیہ اصل آواز نہیں لہٰذا اب بھی محض اس آواز پر اقتداء درست نہیں ہو گی ۔
۲۔ جہاں کہیں نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر لوگ جبر کریں وہاں مکبّرین کا بھی انتظام کیا جائے اور مقتدیوں کو مسئلہ کی صورت سے آگاہ کرتے ہو ئے ہدایت کی جائے کہ وہ لاؤڈاسپیکر کی آواز پر اقتداء نہ کرکے مکبّرین کی آواز پر اقتداء کریں ۔
۳۔ اسی طرح مکبّرین کو بھی ہدایت کی جائے کہ وہ بھی لاؤد اسپیکر کی آواز پر اقتداء نہ کریں۔
۴۔ کہیں مکبّر مقرر کر نے کی بھی صورت نہ بنے تو امام مسئلہ بتادے وہ اس بنا پر امامت سے مستعفی نہ ہو۔
مورخہ ١٧/رجب المرجب ١٤٢٥ھ مطابق ٣/ستمبر ٢٠٠٤۔
فتاوی بحر العلوم میں ہے : ہندوستان میں علماے اہل سنت کی بڑی جماعت لاؤڈ اسپیکر پر اقتدا کو ناجائز کہتی ہے، اور تھوڑی تعداد میں علماء کرام
اس کو جائز کہنے والے ہیں، ہم یہی جواب دیتے ہیں کہ احتیاط اسی میں ہے کہ اسپیکر پر اقتداء نہ کی جائے ۔
(ج اول ص٤٣٤)
اسی میں ہے :
میرے استاد حضور حافظ ملت لکھا کرتے تھے، اس مسئلہ میں احتیاط یہی ہے کہ لاؤڈ اسپیکر نماز میں نہ استعمال کیا جائے، وجہ یہ تھی کہ اگر بغیر لاؤڈ اسپیکر کے نماز پڑھی جاتی ہے، تو دونوں فریق اس کو جائز ہی کہیں گے، کوئی ناجائز نہیں کہے گا،جب کہ ایک بڑا گروہ لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھنے کی صورت میں عدم جواز کا فتویٰ دے گا،تو کام وہ کیا جائے کہ جس کے جواز میں کسی کا اختلاف نہ ہو مگر ہمارے عوام اس مسئلہ میں علما سے زیادہ بےباک واقع ہوئے ہیں، لاؤڈ اسپیکر نماز کے لیے کوئی ضروری نہیں مگر اس کے لیے ضد پر آگئے، اور بس چلا تو لاؤڈ اسپیکر پر نماز نہ پڑھانے والے امام کو ہٹا کر دوسرے کو لاتے، خواہ وہ دیوبندی ہو یا دوسرے مذہب کا ہی کیوں نہ ہو، اور بس نہ چلا تو وہاں نماز پڑھنا ہی چھوڑ دیا اور دوسری مسجد میں چلے گئے خواہ وہاں دیوبندی یا کوئی دوسرابد مذہب ہی امام کیوں نہ ہو اور اس سلسلے میں دنگا، فساد اور لڑائی جھگڑےسے بھی باز نہیں رہتے، میرا مشورہ فریقین کو یہ ہے کہ فتنہ فساد سے بچا جائے ۔
(ج اول ص٤٣٤)
مذکورہ صورت میں جب کہ مسجد چھوٹی ہے اور امام کی آواز مقتدیوں تک پہنچ جاتی ہے تو بلا ضرورت مائک سے نماز پڑھانے سے احتراز ہمارے اکابر علماء کی تصریحات کی روشنی میں بے حد ضروری ہے۔پھر اگر آواز اتنی بلند ہو جو باعثِ تکلیف ہو تو احتیاط فی العبادة کے علاوہ ایک اور وجہ سے احتراز کرنے کا حکم ہوگا کہ نماز کے اندر اتنی بلند آواز سے قرآن پاک پڑھنا منع ہے جو دوسروں کے لیے باعث تکلیف ہو۔
صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "حاجت سے زیادہ اس قدر بلند آواز سے پڑھنا کہ اپنے یا دوسرے کے لیے باعثِ تکلیف ہو، مکروہ ہے”
(بہار شریعت حصہ سوم ص ۵۴٨ دعوت اسلامی ایپ)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــہ : مفتی کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی
٢٢ربیع الثانی ١٤٤٣ھ/ ٢٨نومبر ٢٠٢١ء
الجواب صحیح
مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
https://masailworld.com/mic-se-namaz-padhane-ka-hukm
❤1👍1
لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھنا کیسا؟ سوال 208
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھنا کیسا ہے تفصیلی جواب سے نوازیں مہربانی ہوگی ـ
المستفتی۔ محمد رجب علی فیضی اترولوی
https://www.masaileshariya.com/2019/05/Post208.html?m=1
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک العزیز الوھاب
لاؤڈ اسپیکر پر نماز کے جواز وعدم جواز سے پہلے لاؤڈاسپیکر کی حقیقت معلوم کرنی ہوگی چنانچہ حاشیہ فتاوی امجدیہ میں ہے کہ۔ لاؤڈ اسپیکر کی ساخت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر متکلم کی آواز کے مثل دوسری آواز پیدا کرتا تو نمازیوں کو جو آواز سنائی دے رہی ہے وہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز ہے اور اگر اسے صحیح نہ مانا جائے تو بھی کم از کم اتنا ضرور ہے کہ ہارن سے نکلنے والی آواز میں خارج کا مکمل عمل و دخل ہے
(جلد اول صفحہ ١٩٠)
اور فیض الرسول میں ہے، بعض علماء کے نزدیک شرعی خرابی یہ ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز امام کی آواز نہیں ہوتی بلکہ امام کی آواز مشین میں پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے اور اسی کے مثل دوسری آواز پیدا ہوکر سنائی پڑتی ہے جو لاؤڈ اسپیکر کی آواز ہوتی ہے
( ج ١ص ٣٥٨)
اس مختصر سی گفتگو سے معلوم ہوا کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز بعینہ متکلم کی آواز نہیں ہوتی بلکہ یہ صدائے باز گشت ہے جس کے بارے فقہا کا فرمان ہے کہ
لانھامحاکاة ولیس بقراة (غنیہ طحطاوی علی المراقی بحوالہ امجدیہ جلد اول صفحہ نمبر ١٩٠)لهذا لاؤڈ اسپیکر کی اقتدا صحیح نہیں
اکابر علمائے اہلسنت کا موقف یہی ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز بعینہ متکلم کی آواز نہیں ہے چنانچہ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ
آلہ مکبر الصوت سے خطبہ سننے میں کوئی حرج نہیں مگر اسکی آواز پر رکوع سجود کرنا مفسد نماز ہے (فتاوی امجدیہ جلد اول صفحہ ١٩٠)
حضرت علامہ ومولانا محمد حشمت علی خان صاحب لکھنوی ثم پیلی بھیتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ لاؤڈ اسپیکر سے جو مسموع ہوتی ہے وہ اصل متکلم کی صورت نہیں ہوتی بلکہ صدا ہے اور حضرت سیدناالمفتی الاعظم مولانا الشاہ محمد مصطفی رضا خان صاحب دام ظلہم العالی نے بھی بمبئی میں بماہ محرم الحرام ١٣٧٥ھ اپنی تحقیق یہی ظاہر فرمائی اور اس وقت وہاں جو دوسرے اکابر علمائے اہلسنت مثلا حضرت مخدومی مولانا سید آل مصطفی میاں صاحب مارہروی و حضرت معظمی مولانا السید محمد المحدث الاعظم کچھوچھوی دامت برکاتہم القدسیہ و مجاہد ملت مولانا محمود علی خاں صاحب نصرہم المولی تعالی تشریف فرما تھے سب نے اس کی تصدیق فرمائی جس کی کھلی ہوئی روشن دلیل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایسی جگہ ہو جہاں سے اصل متکلم کی آواز بھی سنتا ہو اور لاؤڈ اسپیکر کے کسی ہارن کا منھ اس کی طرف ہو تو وہ اصل متکلم کی آواز کو اور ہارن سے نکلی ہوئی صدا کو علیحدہ علیحدہ متمائز و متمائز طور پر سنے گا جیساکہ ہارن کا مشاہدہ ہے جب یہ صدا ہے تو صدا ہی کے سب احکام اس پر مرتب ہوں گے جس طرح صدا کی اقتدا بحکم شریعت مطہرہ صحیح نہیں اسی طرح لاؤڈ اسپیکر سے سنی ہوئی آواز کی اقتدا بھی باطل ہے اور نماز میں اس آلہ کا استعمال شرعا حرام و ناجائز ہے اور موجب بطلان نماز مصلیان ہے۔
تحقیق الاکابر لاتباع الاصاغر صفحہ ٣٠،٣١بحوالہ فتاوی برکاتیہ ص٢٨٧)
جو لوگ صرف لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر رکوع سجود کریں گے ان کی نماز نہ ہوگی یہی فتوی حضور مفتی اعظم ہند دامت برکاتہم القدسیہ اور بہت سے اکابر اہلسنت کا ہے اور بعض لوگوں کے نزدیک اگرچہ نماز ہو جائے گی لیکن چونکہ معاملہ نماز جیسی اہم عبادت کے جائز اور ناجائز ہونے کا ہے اسلئے تاوقتیکہ محققین فن یہ ثابت نہ کر دیں کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز بعینہ متکلم کی آواز ہے احتیاطا نماز کے ناجائز ہونے ہی کا حکم کیا جائے گا
( فتاوی فیض جلد اول صفحہ ٣٨٥)
(اور تفصیل کے لئے دیکھیں فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ ٣٥٨ تا ٣٦٨)
فتاوی بریلی شریف میں ہے
کسی نماز کے لئے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ہرگز ہرگز نہ چاہئے اور جو مقتدی محض لاؤڈ اسپیکر کی آواز سن کر رکوع و سجود کریں گے ان کی نماز ہی نہ ہوگی اور جو مقتدی خاص امام کی آواز سن کر رکوع و سجود کریں گے ان کی نماز ہو جائے گی یہی ہمارے اکابر علمائے اہلسنت کا فتوی ہے سرکار مفتی اعظم ہند نور اللہ مرقدہ و حضور محدث اعظم ہند حضور مجاہد ملت وغیرہ کا تاحین حیات اسی پر عمل بھی رہا (فتاوی بریلی شریف، ص: ٩١)
بدر العلماء حضرت علامہ ومولانا مفتی بدر الدین احمد صدیقی علیہ الرحمة والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ نماز میں لاؤڈا سپیکر کا استعمال ممنوع ہے کیونکہ ایک صورت میں وہ رافع سنت ہے اور دوسری صورت میں اسراف ہے- یعنی جب نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے مکبرین کی تقرر کے بجائے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ہو تو وہ رافع سنت ہوگا،
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھنا کیسا ہے تفصیلی جواب سے نوازیں مہربانی ہوگی ـ
المستفتی۔ محمد رجب علی فیضی اترولوی
https://www.masaileshariya.com/2019/05/Post208.html?m=1
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک العزیز الوھاب
لاؤڈ اسپیکر پر نماز کے جواز وعدم جواز سے پہلے لاؤڈاسپیکر کی حقیقت معلوم کرنی ہوگی چنانچہ حاشیہ فتاوی امجدیہ میں ہے کہ۔ لاؤڈ اسپیکر کی ساخت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر متکلم کی آواز کے مثل دوسری آواز پیدا کرتا تو نمازیوں کو جو آواز سنائی دے رہی ہے وہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز ہے اور اگر اسے صحیح نہ مانا جائے تو بھی کم از کم اتنا ضرور ہے کہ ہارن سے نکلنے والی آواز میں خارج کا مکمل عمل و دخل ہے
(جلد اول صفحہ ١٩٠)
اور فیض الرسول میں ہے، بعض علماء کے نزدیک شرعی خرابی یہ ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز امام کی آواز نہیں ہوتی بلکہ امام کی آواز مشین میں پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے اور اسی کے مثل دوسری آواز پیدا ہوکر سنائی پڑتی ہے جو لاؤڈ اسپیکر کی آواز ہوتی ہے
( ج ١ص ٣٥٨)
اس مختصر سی گفتگو سے معلوم ہوا کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز بعینہ متکلم کی آواز نہیں ہوتی بلکہ یہ صدائے باز گشت ہے جس کے بارے فقہا کا فرمان ہے کہ
لانھامحاکاة ولیس بقراة (غنیہ طحطاوی علی المراقی بحوالہ امجدیہ جلد اول صفحہ نمبر ١٩٠)لهذا لاؤڈ اسپیکر کی اقتدا صحیح نہیں
اکابر علمائے اہلسنت کا موقف یہی ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز بعینہ متکلم کی آواز نہیں ہے چنانچہ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ
آلہ مکبر الصوت سے خطبہ سننے میں کوئی حرج نہیں مگر اسکی آواز پر رکوع سجود کرنا مفسد نماز ہے (فتاوی امجدیہ جلد اول صفحہ ١٩٠)
حضرت علامہ ومولانا محمد حشمت علی خان صاحب لکھنوی ثم پیلی بھیتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ لاؤڈ اسپیکر سے جو مسموع ہوتی ہے وہ اصل متکلم کی صورت نہیں ہوتی بلکہ صدا ہے اور حضرت سیدناالمفتی الاعظم مولانا الشاہ محمد مصطفی رضا خان صاحب دام ظلہم العالی نے بھی بمبئی میں بماہ محرم الحرام ١٣٧٥ھ اپنی تحقیق یہی ظاہر فرمائی اور اس وقت وہاں جو دوسرے اکابر علمائے اہلسنت مثلا حضرت مخدومی مولانا سید آل مصطفی میاں صاحب مارہروی و حضرت معظمی مولانا السید محمد المحدث الاعظم کچھوچھوی دامت برکاتہم القدسیہ و مجاہد ملت مولانا محمود علی خاں صاحب نصرہم المولی تعالی تشریف فرما تھے سب نے اس کی تصدیق فرمائی جس کی کھلی ہوئی روشن دلیل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایسی جگہ ہو جہاں سے اصل متکلم کی آواز بھی سنتا ہو اور لاؤڈ اسپیکر کے کسی ہارن کا منھ اس کی طرف ہو تو وہ اصل متکلم کی آواز کو اور ہارن سے نکلی ہوئی صدا کو علیحدہ علیحدہ متمائز و متمائز طور پر سنے گا جیساکہ ہارن کا مشاہدہ ہے جب یہ صدا ہے تو صدا ہی کے سب احکام اس پر مرتب ہوں گے جس طرح صدا کی اقتدا بحکم شریعت مطہرہ صحیح نہیں اسی طرح لاؤڈ اسپیکر سے سنی ہوئی آواز کی اقتدا بھی باطل ہے اور نماز میں اس آلہ کا استعمال شرعا حرام و ناجائز ہے اور موجب بطلان نماز مصلیان ہے۔
تحقیق الاکابر لاتباع الاصاغر صفحہ ٣٠،٣١بحوالہ فتاوی برکاتیہ ص٢٨٧)
جو لوگ صرف لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر رکوع سجود کریں گے ان کی نماز نہ ہوگی یہی فتوی حضور مفتی اعظم ہند دامت برکاتہم القدسیہ اور بہت سے اکابر اہلسنت کا ہے اور بعض لوگوں کے نزدیک اگرچہ نماز ہو جائے گی لیکن چونکہ معاملہ نماز جیسی اہم عبادت کے جائز اور ناجائز ہونے کا ہے اسلئے تاوقتیکہ محققین فن یہ ثابت نہ کر دیں کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز بعینہ متکلم کی آواز ہے احتیاطا نماز کے ناجائز ہونے ہی کا حکم کیا جائے گا
( فتاوی فیض جلد اول صفحہ ٣٨٥)
(اور تفصیل کے لئے دیکھیں فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ ٣٥٨ تا ٣٦٨)
فتاوی بریلی شریف میں ہے
کسی نماز کے لئے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ہرگز ہرگز نہ چاہئے اور جو مقتدی محض لاؤڈ اسپیکر کی آواز سن کر رکوع و سجود کریں گے ان کی نماز ہی نہ ہوگی اور جو مقتدی خاص امام کی آواز سن کر رکوع و سجود کریں گے ان کی نماز ہو جائے گی یہی ہمارے اکابر علمائے اہلسنت کا فتوی ہے سرکار مفتی اعظم ہند نور اللہ مرقدہ و حضور محدث اعظم ہند حضور مجاہد ملت وغیرہ کا تاحین حیات اسی پر عمل بھی رہا (فتاوی بریلی شریف، ص: ٩١)
بدر العلماء حضرت علامہ ومولانا مفتی بدر الدین احمد صدیقی علیہ الرحمة والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ نماز میں لاؤڈا سپیکر کا استعمال ممنوع ہے کیونکہ ایک صورت میں وہ رافع سنت ہے اور دوسری صورت میں اسراف ہے- یعنی جب نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے مکبرین کی تقرر کے بجائے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ہو تو وہ رافع سنت ہوگا،
❤2👍1
نماز میں لاؤڈا سپیکر کی ممنوعیت کے سلسلے میں حضور سرکارمفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ والرضوان کے متعدد فتاویٰ کتابوں میں طبع ہو کر عرصۂ دراز سے شائع ہو چکے ہیں اس وقت میرے سامنے تین کتابیں ہیں
" القول الازھر فی اقتداء بلاؤ ڈاسپیکر " مصنف حضرت شیر بیشۂ أہل سنت مولانا محمد حشمت علی خان علیہ الرحمہ " التفصیل الانور فی حکم لاؤڈ اسپیکر " مرتبہ محمد عمران پیلی بھیت *" صیانۃ الصلوٰۃ عن حیل البدعات"* مصنف مولانا برہان الحق جبل پوری علیہ الرحمہ خلیفۂ سرکار اعلی حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ *" القول الازھر " صفحہ ٢* میں سرکار مفتئ اعظم ہند مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خان علیہ الرحمہ کا ایک فتویٰ شامل کتاب کیاگیا ہے پھر اسی کتاب کے صفحۂ آخر میں سرکار ہی کا ایک دوسرا فتویٰ نقل کیا گیا ہے-
" التفصیل الانور" صفحہ ٤ میں سرکار ممدوح کا تیسرا فتویٰ اور صفحہ ٥ میں سرکار کا چوتھا فتویٰ شائع کیا گیا ہے *" صیانۃ الصلوٰۃ "* میں حضرت مولانا برہان الحق جبل پوری علیہ الرحمہ نے فتویٰ دیا ہے کہ نماز میں لاؤڈا سپیکر کا استعمال بدعت قبیحہ و شنیعہ ہے اور جن مقتدیوں نے محض لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر نماز ادا کی ان کی نماز فاسد ہے،
سرکار مفتئ اعظم ہند نے فاضل جبل پوری کے اس فتویٰ کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے دستخط اور مہر سے مزین کیا ہے ہم یہاں مستفتی کی تسکین خاطر کے لئے ذیل میں سرکار مفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ کا ایک فتویٰ نقل کرتے ہیں وھو ھذا :
نماز میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جائز نہیں، اگر میکرو فون میں امام آواز ڈالے گا بے اس کے وہ آواز نہ لے گا تو اس عمل سے نماز جاتی رہے گی، امام کی جائے گی تو مقتدیوں کی بھی جائے گی اور اگر ایسا لاؤڈ اسپیکر ہو کہ اس کے میکرو فون میں آواز ڈالی نہ جاتی ہو فرض کیجئے وہ خود لیتا ہو ، امام کے منھ کے سامنے نہ ہو ، قریب ایک طرف رکھا ہواہو ، امام اس میں آواز نہ ڈال رہاہو تو امام کی ہوجائے گی اور ان مقتدیوں کی بھی جو خود آواز سن کر اتباع امام کررہے ہیں، مگر دور دور کے مقتدی جن تک امام کی آواز پہونچ ہی نہیں سکتی وہ لاؤڈ اسپیکر ہی کی آواز کی اتباع کر رہے ہیں ان کی نماز نہیں ہوگی کہ لاؤڈ اسپیکر میں پہونچ کر امام کی آواز اس سے ٹکرا کر ختم ہو جاتی ہے جیسے گنبد میں بولنے ، کوئیں میں بولنے والے کی آواز ختم ہو جاتی ہے، پانی اور گنبد کے اس ٹکراؤ سے اور آواز پیدا ہوتی ہے ویسے ہی لاؤڈ اسپیکر میں پیدا ہوتی ہے، کئی بار ہم نے خود محسوس کیا ہے، مقرر جو بولتا ہے ویسے ہی لاؤڈ اسپیکر سے اسی طرح سے ہے جیسے گنبد اور کوئیں سے۔
(فتاوی بدر العلماء، ١٣٤/١٣٥)
(1) لاؤڈ اسپیکر کی آواز متکلم کی عین آواز نہیں ہے، اس لئے محض لاؤڈ اسپیکر سے مسموع آواز پر اقتدا ہم احناف کے نزدیک صحیح نہیں، بالفرض یہ آواز ماہیت کے اعتبار سے متکلم کی آواز بھی ہو تو بھی حکما یہ اصل آواز، لہذا اب بھی محض اس آواز پر اقتدا درست نہیں ہوگی۔
(2) جہاں کہیں نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر لوگ جبر کریں وہاں مکبرین کا بھی انتظام کیا جائے اور مقتدیوں کو مسئلہ کی صورت سے آگاہ کرتے ہوئے ہدایت کی جائے کہ وہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر اقتدا نہ کرکے مکبرین کی آواز پر اقتدا کریں۔
(3) اسی طرح مکبرین کو بھی ہدایت کی جائے کہ وہ بھی لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر اقتدا نہ کریں۔
(4) کہیں مکبر مقرر کرنے کی بھی صورت نہ بنے تو امام مسئلہ بتادے وہ اس بنا پر امامت سے مستعفی نہ ہو۔
(فیصلہ جات شرعی کونسل بریلی شریف صفحہ ٣٨)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبہ:
محمد مدثر جاوید رضوی
مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج ضلع۔ کشن گنج بہار
الجواب صحیح والمجیب نجیح
خلیفہ حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ ومولانا الشاہ مفتی سید شمس الحق برکاتی مصباحی صاحب قبلہ دامت برکاتہم القدسیہ
https://www.masaileshariya.com/2019/05/Post208.html?m=1
" القول الازھر فی اقتداء بلاؤ ڈاسپیکر " مصنف حضرت شیر بیشۂ أہل سنت مولانا محمد حشمت علی خان علیہ الرحمہ " التفصیل الانور فی حکم لاؤڈ اسپیکر " مرتبہ محمد عمران پیلی بھیت *" صیانۃ الصلوٰۃ عن حیل البدعات"* مصنف مولانا برہان الحق جبل پوری علیہ الرحمہ خلیفۂ سرکار اعلی حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ *" القول الازھر " صفحہ ٢* میں سرکار مفتئ اعظم ہند مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خان علیہ الرحمہ کا ایک فتویٰ شامل کتاب کیاگیا ہے پھر اسی کتاب کے صفحۂ آخر میں سرکار ہی کا ایک دوسرا فتویٰ نقل کیا گیا ہے-
" التفصیل الانور" صفحہ ٤ میں سرکار ممدوح کا تیسرا فتویٰ اور صفحہ ٥ میں سرکار کا چوتھا فتویٰ شائع کیا گیا ہے *" صیانۃ الصلوٰۃ "* میں حضرت مولانا برہان الحق جبل پوری علیہ الرحمہ نے فتویٰ دیا ہے کہ نماز میں لاؤڈا سپیکر کا استعمال بدعت قبیحہ و شنیعہ ہے اور جن مقتدیوں نے محض لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر نماز ادا کی ان کی نماز فاسد ہے،
سرکار مفتئ اعظم ہند نے فاضل جبل پوری کے اس فتویٰ کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے دستخط اور مہر سے مزین کیا ہے ہم یہاں مستفتی کی تسکین خاطر کے لئے ذیل میں سرکار مفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ کا ایک فتویٰ نقل کرتے ہیں وھو ھذا :
نماز میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جائز نہیں، اگر میکرو فون میں امام آواز ڈالے گا بے اس کے وہ آواز نہ لے گا تو اس عمل سے نماز جاتی رہے گی، امام کی جائے گی تو مقتدیوں کی بھی جائے گی اور اگر ایسا لاؤڈ اسپیکر ہو کہ اس کے میکرو فون میں آواز ڈالی نہ جاتی ہو فرض کیجئے وہ خود لیتا ہو ، امام کے منھ کے سامنے نہ ہو ، قریب ایک طرف رکھا ہواہو ، امام اس میں آواز نہ ڈال رہاہو تو امام کی ہوجائے گی اور ان مقتدیوں کی بھی جو خود آواز سن کر اتباع امام کررہے ہیں، مگر دور دور کے مقتدی جن تک امام کی آواز پہونچ ہی نہیں سکتی وہ لاؤڈ اسپیکر ہی کی آواز کی اتباع کر رہے ہیں ان کی نماز نہیں ہوگی کہ لاؤڈ اسپیکر میں پہونچ کر امام کی آواز اس سے ٹکرا کر ختم ہو جاتی ہے جیسے گنبد میں بولنے ، کوئیں میں بولنے والے کی آواز ختم ہو جاتی ہے، پانی اور گنبد کے اس ٹکراؤ سے اور آواز پیدا ہوتی ہے ویسے ہی لاؤڈ اسپیکر میں پیدا ہوتی ہے، کئی بار ہم نے خود محسوس کیا ہے، مقرر جو بولتا ہے ویسے ہی لاؤڈ اسپیکر سے اسی طرح سے ہے جیسے گنبد اور کوئیں سے۔
(فتاوی بدر العلماء، ١٣٤/١٣٥)
(1) لاؤڈ اسپیکر کی آواز متکلم کی عین آواز نہیں ہے، اس لئے محض لاؤڈ اسپیکر سے مسموع آواز پر اقتدا ہم احناف کے نزدیک صحیح نہیں، بالفرض یہ آواز ماہیت کے اعتبار سے متکلم کی آواز بھی ہو تو بھی حکما یہ اصل آواز، لہذا اب بھی محض اس آواز پر اقتدا درست نہیں ہوگی۔
(2) جہاں کہیں نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر لوگ جبر کریں وہاں مکبرین کا بھی انتظام کیا جائے اور مقتدیوں کو مسئلہ کی صورت سے آگاہ کرتے ہوئے ہدایت کی جائے کہ وہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر اقتدا نہ کرکے مکبرین کی آواز پر اقتدا کریں۔
(3) اسی طرح مکبرین کو بھی ہدایت کی جائے کہ وہ بھی لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر اقتدا نہ کریں۔
(4) کہیں مکبر مقرر کرنے کی بھی صورت نہ بنے تو امام مسئلہ بتادے وہ اس بنا پر امامت سے مستعفی نہ ہو۔
(فیصلہ جات شرعی کونسل بریلی شریف صفحہ ٣٨)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبہ:
محمد مدثر جاوید رضوی
مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج ضلع۔ کشن گنج بہار
الجواب صحیح والمجیب نجیح
خلیفہ حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ ومولانا الشاہ مفتی سید شمس الحق برکاتی مصباحی صاحب قبلہ دامت برکاتہم القدسیہ
https://www.masaileshariya.com/2019/05/Post208.html?m=1
👍3❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-09-1443 ᴴ | 28-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-09-1443 ᴴ | 29-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1