احادیث میں احتساب کے لفظ کا استعمال کثرت سے ہوا ہے ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ہر عمل کا مدار ایمان پر ہے اور اعمال کا ثواب نیت پر موقوف ہے لیکن نیت مرتبہ علم کا ہے اور احتساب علم العلم کا مرتبہ ہے یعنی احتساب کی نیت سے بھی اوپر ایک درجہ ہے اور مراد اس سے نیت کا استحضار اور نیت کی زیادتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس لفظ کا استعمال شارع نے ذھول و مشقت کے مواقع پر کیا ہے ۔ مثلا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا جس کا بچہ مرجائے تو اس کو چاہئے کہ صبرکرے اور احتساب کرے۔ اب دیکھئے بچہ کا مرجانا آفت سماوی ہے ۔ اس میں انسان کے اختیار کو کچھ دخل نہیں ہے اور یہ کہ اس مصیبت کے وقت آدمی کو وہم بھی نہیں ہوتا کہ مجھے ثواب مل سکتا ہے تو یہ ذھول کی جگہ تھی ۔ اس لئے شارع نے فرمایا کہ اگرچہ یہ آفت سماوی ہے لیکن خلوص نیت کے ساتھ اگر کوئی اس مصیبت پر صبر کرے تو اس کا ثواب مل جائے گا ۔
شب قدر ملنے کی وجہ
امام مالک رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جب پہلی امتوں کے لوگوں کی عمروں پر توجہ فرمائی تو آپ کو اپنی اُمّت کے لوگوں کی عمریں کم معلوم ہوئیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے یہ خیال فرمایا کہ جب گزشتہ لوگوں کے مقابلے میں ان کی عمریں کم ہیں تو ان کی نیکیاں بھی کم رہیں گی ۔ اس پر ﷲ تعالیٰ نے آپ کو شب قدر عطا فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ (موطا امام مالک صفحہ نمبر 260،چشتی)
حضرت مجاہد رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے بنی اسرائیل کے ایک نیک شخص کا ذکر فرمایا جس نے ایک ہزار ماہ تک راہ خدا کے لئے ہتھیار اٹھائے رکھے ۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کو اس پر تعجب ہوا تو ﷲ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور ایک رات یعنی شب قدر کی عبادت کو اس مجاہد کی ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر قرار دیا ۔ (سنن الکبریٰ، بیہقی جلد 4، ص 306، تفسیر ابن جریر،چشتی)
حضرت انس بن مالک رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا ۔ جب شب قدر ہوتی ہے ، جبرئیل امین علیہ السلام ملائکہ کی جماعت میں اترتے ہیں اور ہر قیام و قعود کرنے والے بندے پر جو خدا تعالیٰ کے ذکر و عبادت میں مشغول ہو (اس کے لئے) دعا کرتے ہیں ۔ (بیہقی)
جس شخص نے ایمان اور اخلاص کے ساتھ ثواب کے حصول کی غرض سے شب قدر میں قیام کیا (عبادت کی) تو اس کے سارے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔ (بخاری شریف و مسلم شریف)
شب قدر کو کن راتوں میں تلاش کریں ؟
حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا فرمان ہے کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔ (بخاری، مشکوٰۃ،چشتی)
حضرت عبادہ بن صامت رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ۔ شب قدر رمضان کے آخری عشرے کی طاقت راتوں یعنی 21، 23، 25، 27 اور 29 کی رات میں ہے۔ جو شخص ثواب کی نیت سے ان رات میں عبادت کرتا ہے ﷲ تعالیٰ اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیتا ہے ۔ اسی رات کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ یہ رات کھلی ہوئی اور چمکدار ہوتی ہے ۔ صاف و شفاف گویا انوار کی کثرت کے باعث چاند کھلا ہوا ہے۔ یہ زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈی بلکہ معتدل اس رات میں صبح تک آسمان کے ستارے شیاطین کو نہیں مارتے جاتے ۔ اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعد صبح کو سورج بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے ۔ بالکل ہموار ٹکیہ کی طرح جیسا کہ چودھویں کا چاند کیونکہ شیطان کے لئے یہ روا نہیں کہ وہ اس دن سورج کے ساتھ نکلے ۔ (مسند احمد، جلد 5ص 324، مجمع الزوائد،چشتی)
شب قدر کو پوشیدہ رکھنے میں حکمتیں
لوگ اکثر یہ سوال پوچھتے ہیں کہ شب قدر کو پوشیدہ رکھنے میں کیا حکمتیں ہیں ؟
جواب یہ ہے کہ اصل حکمتیں تو ﷲ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہی بہتر جانتے ہیں ۔ یہ وہ جواب ہے جو صحابہ کرام علیہم الرضوان بارگاہ نبوی میں اس وقت دیا کرتے جب انہیں کسی سوال کے جواب کا قطعی علم نہ ہوتا۔ وہ فرماتے ﷲ و رسولہ اعلم ۔ (بخاری، مسلم، مشکوٰۃ، کتاب الایمان)
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے روحانی فیوض و برکات سے اکتساب فیض کرتے ہوئے علمائے کرام نے شب قدر کے پوشیدہ ہونے کی بعض حکمتیں بیان فرمائی ہیں جو درج ذیل ہیں :
(1) اگر شب قدر کو ظاہر کردیا جاتا تو کوتاہ ہمت لوگ اسی رات کی عبادت پر اکتفا کرلیتے اور دیگر راتوں میں عبادات کا اہتمام نہ کرتے اب لوگ آخری عشرے کی پانچ راتوں میں عبادت کی سعادت حاصل کرلیتے ہیں ۔
(2) شب قدر ظاہر کردینے کی صورت میں اگر کسی سے یہ شب چھوٹ جاتی تو اسے بہت زیادہ حزن و ملال ہوتا اور دیگر راتوں میں وہ دلجمعی سے عبادت نہ کرپاتا ۔ اب رمضان کی پانچ طاق راتوں میں سے دو تین راتیں اکثر لوگوں کو نصیب ہو ہی جاتی ہیں ۔
شب قدر ملنے کی وجہ
امام مالک رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جب پہلی امتوں کے لوگوں کی عمروں پر توجہ فرمائی تو آپ کو اپنی اُمّت کے لوگوں کی عمریں کم معلوم ہوئیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے یہ خیال فرمایا کہ جب گزشتہ لوگوں کے مقابلے میں ان کی عمریں کم ہیں تو ان کی نیکیاں بھی کم رہیں گی ۔ اس پر ﷲ تعالیٰ نے آپ کو شب قدر عطا فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ (موطا امام مالک صفحہ نمبر 260،چشتی)
حضرت مجاہد رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے بنی اسرائیل کے ایک نیک شخص کا ذکر فرمایا جس نے ایک ہزار ماہ تک راہ خدا کے لئے ہتھیار اٹھائے رکھے ۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کو اس پر تعجب ہوا تو ﷲ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور ایک رات یعنی شب قدر کی عبادت کو اس مجاہد کی ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر قرار دیا ۔ (سنن الکبریٰ، بیہقی جلد 4، ص 306، تفسیر ابن جریر،چشتی)
حضرت انس بن مالک رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا ۔ جب شب قدر ہوتی ہے ، جبرئیل امین علیہ السلام ملائکہ کی جماعت میں اترتے ہیں اور ہر قیام و قعود کرنے والے بندے پر جو خدا تعالیٰ کے ذکر و عبادت میں مشغول ہو (اس کے لئے) دعا کرتے ہیں ۔ (بیہقی)
جس شخص نے ایمان اور اخلاص کے ساتھ ثواب کے حصول کی غرض سے شب قدر میں قیام کیا (عبادت کی) تو اس کے سارے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔ (بخاری شریف و مسلم شریف)
شب قدر کو کن راتوں میں تلاش کریں ؟
حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا فرمان ہے کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔ (بخاری، مشکوٰۃ،چشتی)
حضرت عبادہ بن صامت رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ۔ شب قدر رمضان کے آخری عشرے کی طاقت راتوں یعنی 21، 23، 25، 27 اور 29 کی رات میں ہے۔ جو شخص ثواب کی نیت سے ان رات میں عبادت کرتا ہے ﷲ تعالیٰ اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیتا ہے ۔ اسی رات کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ یہ رات کھلی ہوئی اور چمکدار ہوتی ہے ۔ صاف و شفاف گویا انوار کی کثرت کے باعث چاند کھلا ہوا ہے۔ یہ زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈی بلکہ معتدل اس رات میں صبح تک آسمان کے ستارے شیاطین کو نہیں مارتے جاتے ۔ اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعد صبح کو سورج بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے ۔ بالکل ہموار ٹکیہ کی طرح جیسا کہ چودھویں کا چاند کیونکہ شیطان کے لئے یہ روا نہیں کہ وہ اس دن سورج کے ساتھ نکلے ۔ (مسند احمد، جلد 5ص 324، مجمع الزوائد،چشتی)
شب قدر کو پوشیدہ رکھنے میں حکمتیں
لوگ اکثر یہ سوال پوچھتے ہیں کہ شب قدر کو پوشیدہ رکھنے میں کیا حکمتیں ہیں ؟
جواب یہ ہے کہ اصل حکمتیں تو ﷲ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہی بہتر جانتے ہیں ۔ یہ وہ جواب ہے جو صحابہ کرام علیہم الرضوان بارگاہ نبوی میں اس وقت دیا کرتے جب انہیں کسی سوال کے جواب کا قطعی علم نہ ہوتا۔ وہ فرماتے ﷲ و رسولہ اعلم ۔ (بخاری، مسلم، مشکوٰۃ، کتاب الایمان)
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے روحانی فیوض و برکات سے اکتساب فیض کرتے ہوئے علمائے کرام نے شب قدر کے پوشیدہ ہونے کی بعض حکمتیں بیان فرمائی ہیں جو درج ذیل ہیں :
(1) اگر شب قدر کو ظاہر کردیا جاتا تو کوتاہ ہمت لوگ اسی رات کی عبادت پر اکتفا کرلیتے اور دیگر راتوں میں عبادات کا اہتمام نہ کرتے اب لوگ آخری عشرے کی پانچ راتوں میں عبادت کی سعادت حاصل کرلیتے ہیں ۔
(2) شب قدر ظاہر کردینے کی صورت میں اگر کسی سے یہ شب چھوٹ جاتی تو اسے بہت زیادہ حزن و ملال ہوتا اور دیگر راتوں میں وہ دلجمعی سے عبادت نہ کرپاتا ۔ اب رمضان کی پانچ طاق راتوں میں سے دو تین راتیں اکثر لوگوں کو نصیب ہو ہی جاتی ہیں ۔
❤1👍1
(3) اگر شب قدر کو ظاہر کردیا جاتا تو جس طرح اس رات میں عبادت کا ثواب ہزار ماہ کی عبادت سے زیادہ ہے ، اسی طرح اس رات میں گناہ بھی ہزار درجہ زیادہ ہوتا ۔ لہذا ﷲ تعالیٰ نے اس رات کو پوشیدہ رکھا تاکہ اس شب میں عبادت کریں وہ ہزار ماہ کی عبادت سے زیادہ اجروثواب پائیں اور اپنی جہالت وہ کم نصیبی سے اس شب میں بھی گناہ سے باز نہ آئیں تو انہیں شب قدر کی توہین کرنے کا گناہ نہ ہو ۔
(4) جیسا کہ نزول ملائکہ کی حکمتوں میں ذکر کیا گیا ہے کہ ﷲ تعالیٰ فرشتوں کی عظمت بتانے کے لئے زمین پر نازل فرماتا ہے اور اپنے عبادت گزار بندوں پر فخر کرتا ہے ۔ شب قدر ظاہر نہ کرنے کی صورت میں فکر کرنے کا زیادہ موقع ہے کہ اے ملائکہ دیکھو! میرے بندے معلوم نہ ہونے کے باوجود محض احتمال کی بناء پر عبادت و اطاعت میں اتنی محنت و سعی کررہے ہیں ۔ اگر انہیں بتادیا جاتا کہ یہی شب قدر ہے تو ان کی عبادت و نیازمندی کا کیا حال ہوتا ۔
(5) شب قدر کا پوشیدہ رکھنا اسی طرح سمجھ لیجئے جیسے موت کا وقت نہ بتانا ۔ کیونکہ اگر موت کا وقت بتا دیا جاتا تو لوگ ساری عمر نفسانی خواہشات کی پیروی میں گناہ کرتے اور موت سے عین پہلے توبہ کرلیتے ۔ اس لئے موت کا وقت پوشیدہ رکھا گیا تاکہ انسان ہر لمحہ موت کا خوف کرے اور ہر وقت گناہوں سے دور اور نیکی میں مصروف رہے ۔ اسی طرح آخری عشرے کی ہر طاقت رات میں بندوں کو یہی سوچ کر عبادت کرنی چاہئے کہ شاید یہی شب قدر ہو ۔ اسی طرح شب قدر کی جستجو میں برکت والی پانچ راتیں عبادت الٰہی میں گزارنے کی سعادت نصیب ہوتی ہے ۔
ﷲ تعالیٰ نے بے شمار حکمتوں اور مصلحتوں کی باعث بہت سی اہم چیزوں کو پوشیدہ رکھا ہے ۔ امام رازی علیہ الرحمہ تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ :
(1) ﷲ تعالیٰ نے اپنی رضا کو عبادت و اطاعت میں پوشیدہ رکھا ہے تاکہ لوگ تمام امور میں ﷲ تعالیٰ کی اطاعت کریں ۔
(2) اس نے اپنے غصہ کو گناہوں میں مخفی (پوشیدہ) رکھا ہے تاکہ لوگ ہر قسم کے گناہوں سے بچیں ۔
(3) اپنے اولیاء کو مومنوں میں پوشیدہ رکھا ہے تاکہ لوگ سب ایمان والوں کی تعظیم کریں ۔
(4) دعا کی قبولیت کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ ﷲ تعالیٰ کے ہر نام مبارکہ کی تعظیم کریں ۔
(5) اسم اعظم کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ ﷲ تعالیٰ کے ہر نام مبارک کی تعظیم کریں ۔
(6) صلوٰۃ الوسطیٰ (درمیانی نماز) کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ سب نمازوں کی حفاظت کریں ۔
(7) موت کے وقت کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ ہر وقت اللہ عزّ و جل سے ڈرتے رہیں ۔
(8) توبہ کی قبولیت کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ جس طرح ممکن ہو ، توبہ کرتے رہیں ۔
(9) ایسے ہی شب قدر کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ رمضان کی تمام راتوں کی تعظیم کریں ۔
ﷲ تعالیٰ کا کروڑ ہا کروڑ احسان ہے کہ رب کریم جل جلالہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صدقے وطفیل ہمیں شب قدر جیسی نعمت سے نوازا ہے ۔ ہمیں اس رات کی قدر کرنی چاہئے اور اپنے رب کے حضور سچی توبہ کرنی چاہئے تاکہ ہمیں بھی مغفرت کا پروانہ نصیب ہو ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2021/05/blog-post_55.html?m=1
(4) جیسا کہ نزول ملائکہ کی حکمتوں میں ذکر کیا گیا ہے کہ ﷲ تعالیٰ فرشتوں کی عظمت بتانے کے لئے زمین پر نازل فرماتا ہے اور اپنے عبادت گزار بندوں پر فخر کرتا ہے ۔ شب قدر ظاہر نہ کرنے کی صورت میں فکر کرنے کا زیادہ موقع ہے کہ اے ملائکہ دیکھو! میرے بندے معلوم نہ ہونے کے باوجود محض احتمال کی بناء پر عبادت و اطاعت میں اتنی محنت و سعی کررہے ہیں ۔ اگر انہیں بتادیا جاتا کہ یہی شب قدر ہے تو ان کی عبادت و نیازمندی کا کیا حال ہوتا ۔
(5) شب قدر کا پوشیدہ رکھنا اسی طرح سمجھ لیجئے جیسے موت کا وقت نہ بتانا ۔ کیونکہ اگر موت کا وقت بتا دیا جاتا تو لوگ ساری عمر نفسانی خواہشات کی پیروی میں گناہ کرتے اور موت سے عین پہلے توبہ کرلیتے ۔ اس لئے موت کا وقت پوشیدہ رکھا گیا تاکہ انسان ہر لمحہ موت کا خوف کرے اور ہر وقت گناہوں سے دور اور نیکی میں مصروف رہے ۔ اسی طرح آخری عشرے کی ہر طاقت رات میں بندوں کو یہی سوچ کر عبادت کرنی چاہئے کہ شاید یہی شب قدر ہو ۔ اسی طرح شب قدر کی جستجو میں برکت والی پانچ راتیں عبادت الٰہی میں گزارنے کی سعادت نصیب ہوتی ہے ۔
ﷲ تعالیٰ نے بے شمار حکمتوں اور مصلحتوں کی باعث بہت سی اہم چیزوں کو پوشیدہ رکھا ہے ۔ امام رازی علیہ الرحمہ تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ :
(1) ﷲ تعالیٰ نے اپنی رضا کو عبادت و اطاعت میں پوشیدہ رکھا ہے تاکہ لوگ تمام امور میں ﷲ تعالیٰ کی اطاعت کریں ۔
(2) اس نے اپنے غصہ کو گناہوں میں مخفی (پوشیدہ) رکھا ہے تاکہ لوگ ہر قسم کے گناہوں سے بچیں ۔
(3) اپنے اولیاء کو مومنوں میں پوشیدہ رکھا ہے تاکہ لوگ سب ایمان والوں کی تعظیم کریں ۔
(4) دعا کی قبولیت کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ ﷲ تعالیٰ کے ہر نام مبارکہ کی تعظیم کریں ۔
(5) اسم اعظم کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ ﷲ تعالیٰ کے ہر نام مبارک کی تعظیم کریں ۔
(6) صلوٰۃ الوسطیٰ (درمیانی نماز) کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ سب نمازوں کی حفاظت کریں ۔
(7) موت کے وقت کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ ہر وقت اللہ عزّ و جل سے ڈرتے رہیں ۔
(8) توبہ کی قبولیت کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ جس طرح ممکن ہو ، توبہ کرتے رہیں ۔
(9) ایسے ہی شب قدر کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ رمضان کی تمام راتوں کی تعظیم کریں ۔
ﷲ تعالیٰ کا کروڑ ہا کروڑ احسان ہے کہ رب کریم جل جلالہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صدقے وطفیل ہمیں شب قدر جیسی نعمت سے نوازا ہے ۔ ہمیں اس رات کی قدر کرنی چاہئے اور اپنے رب کے حضور سچی توبہ کرنی چاہئے تاکہ ہمیں بھی مغفرت کا پروانہ نصیب ہو ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2021/05/blog-post_55.html?m=1
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
فضائلِ شبِ قدر ، قدر و منزلت والی رات
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2019/05/blog-post_94.html?m=1
محترم قارئین : رمضان المبارک کا آخری عشرہ نہایت عظیم الشان اور اہم ہے ۔ شب قدر، قدر و منزلت والی رات ہے۔ اس رات کی بے شمار برکات ہیں۔ قرآن و حدیث میں اس رات کے بے شمار فضائل و برکات موجود ہیں۔ شب قدر کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس کے متعلق قرآن کریم میں مکمل سورت نازل ہوئی ہے۔ رب تبارک و تعالیٰ اپنے کلام پاک میں فرماتا ہے ۔
ترجمہ : بے شک ہم نے اسے (قرآن کو) شب قدر میں اتارا اور تم نے کیا جانا کیا ہے شب قدر، شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر (ہے) اس میں فرشتے اور جبرئیل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لئے ۔ وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک ۔ (سورۂ قدر، پارہ 30)
حضرت ابو ہریرہ رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سیدعالم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے فرمایا : جس نے لیلۃ القدر میں ایمان واحتساب کے ساتھ قیام فرمایا ، اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ۔ (بخاری شریف)
قیام کے معنی
قیام کے معنی ایک تو قیام فی الصلوٰۃ کے ہیں یعنی لیلۃ القدر میں نماز پڑھنا یا قیام نیند کے قیام ہے ، یعنی لیلۃ القدر کو جاگ کر گزارنا ، خواہ نماز کے ساتھ یا اذکار کے ساتھ ۔ قیام سے مراد رات کا قیام ہے یا بعض کا ۔ اکثر شارحین نے اس سے بعض رات کے حصہ کا قیام مراد لیا ہے ۔
ایمان و احتساب کے معنی
احادیث میں احتساب کے لفظ کا استعمال کثرت سے ہوا ہے۔
یہ تو ظاہر ہے کہ ہر عمل کا مدار ایمان پر ہے اور اعمال کا ثواب نیت پر موقوف ہے لیکن نیت مرتبہ علم کا ہے اور احتساب علم العلم کا مرتبہ ہے یعنی احتساب کی نیت سے بھی اوپر ایک درجہ ہے اور مراد اس سے نیت کا استحضار اور نیت کی زیادتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس لفظ کا استعمال شارع نے ذھول و مشقت کے مواقع پر کیا ہے ۔ مثلا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے ارشاد فرمایا جس کا بچہ مرجائے تو اس کو چاہئے کہ صبرکرے اور احتساب کرے۔ اب دیکھئے بچہ کا مرجانا آفت سماوی ہے۔ اس میں انسان کے اختیار کو کچھ دخل نہیں ہے اور یہ کہ اس مصیبت کے وقت آدمی کو وہم بھی نہیں ہوتا کہ مجھے ثواب مل سکتا ہے تو یہ ذھول کی جگہ تھی ۔ اس لئے شارع نے فرمایا کہ اگرچہ یہ آفت سماوی ہے لیکن خلوص نیت کے ساتھ اگر کوئی اس مصیبت پر صبر کرے تو اس کا ثواب مل جائے گا ۔
شب قدر ملنے کی وجہ
امام مالک رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے جب پہلی امتوں کے لوگوں کی عمروں پر توجہ فرمائی تو آپ کو اپنی اُمّت کے لوگوں کی عمریں کم معلوم ہوئیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے یہ خیال فرمایا کہ جب گزشتہ لوگوں کے مقابلے میں ان کی عمریں کم ہیں تو ان کی نیکیاں بھی کم رہیں گی ۔ اس پر ﷲ تعالیٰ نے آپ کو شب قدر عطا فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ (موطا امام مالک ص 260،چشتی)
حضرت مجاہد رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے بنی اسرائیل کے ایک نیک شخص کا ذکر فرمایا جس نے ایک ہزار ماہ تک راہ خدا کے لئے ہتھیار اٹھائے رکھے ۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کو اس پر تعجب ہوا تو ﷲ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور ایک رات یعنی شب قدر کی عبادت کو اس مجاہد کی ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر قرار دیا ۔ (سنن الکبریٰ، بیہقی جلد 4، ص 306، تفسیر ابن جریر،چشتی)
شب قدر کی فضیلت احادیث کی روشنی میں
حضرت انس بن مالک رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے ارشاد فرمایا ۔ جب شب قدر ہوتی ہے ، جبرئیل امین علیہ السلام ملائکہ کی جماعت میں اترتے ہیں اور ہر قیام و قعود کرنے والے بندے پر جو خدا تعالیٰ کے ذکر و عبادت میں مشغول ہو (اس کے لئے) دعا کرتے ہیں ۔ (بیہقی)
جس شخص نے ایمان اور اخلاص کے ساتھ ثواب کے حصول کی غرض سے شب قدر میں قیام کیا (عبادت کی) تو اس کے سارے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔ (بخاری شریف و مسلم شریف)
شب قدر کو کن راتوں میں تلاش کریں ؟
حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کا فرمان ہے کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔ (بخاری، مشکوٰۃ،چشتی)
حضرت عبادہ بن صامت رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے فرمایا ۔ شب قدر رمضان کے آخری عشرے کی طاقت راتوں یعنی 21، 23، 25، 27 اور 29 کی رات میں ہے۔ جو شخص ثواب کی نیت سے ان رات میں عبادت کرتا ہے ﷲ تعالیٰ اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیتا ہے ۔ اسی رات کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ یہ رات کھلی ہوئی اور چمکدار ہوتی ہے ۔ صاف و شفاف گویا انوار کی کثرت کے باعث چاند کھلا ہوا ہے۔ یہ زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈی بلکہ معتدل اس رات میں صبح تک آسمان کے ستارے شیاطین کو نہیں مارتے جاتے ۔ اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعد صبح کو سورج بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے ۔
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2019/05/blog-post_94.html?m=1
محترم قارئین : رمضان المبارک کا آخری عشرہ نہایت عظیم الشان اور اہم ہے ۔ شب قدر، قدر و منزلت والی رات ہے۔ اس رات کی بے شمار برکات ہیں۔ قرآن و حدیث میں اس رات کے بے شمار فضائل و برکات موجود ہیں۔ شب قدر کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس کے متعلق قرآن کریم میں مکمل سورت نازل ہوئی ہے۔ رب تبارک و تعالیٰ اپنے کلام پاک میں فرماتا ہے ۔
ترجمہ : بے شک ہم نے اسے (قرآن کو) شب قدر میں اتارا اور تم نے کیا جانا کیا ہے شب قدر، شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر (ہے) اس میں فرشتے اور جبرئیل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لئے ۔ وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک ۔ (سورۂ قدر، پارہ 30)
حضرت ابو ہریرہ رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سیدعالم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے فرمایا : جس نے لیلۃ القدر میں ایمان واحتساب کے ساتھ قیام فرمایا ، اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ۔ (بخاری شریف)
قیام کے معنی
قیام کے معنی ایک تو قیام فی الصلوٰۃ کے ہیں یعنی لیلۃ القدر میں نماز پڑھنا یا قیام نیند کے قیام ہے ، یعنی لیلۃ القدر کو جاگ کر گزارنا ، خواہ نماز کے ساتھ یا اذکار کے ساتھ ۔ قیام سے مراد رات کا قیام ہے یا بعض کا ۔ اکثر شارحین نے اس سے بعض رات کے حصہ کا قیام مراد لیا ہے ۔
ایمان و احتساب کے معنی
احادیث میں احتساب کے لفظ کا استعمال کثرت سے ہوا ہے۔
یہ تو ظاہر ہے کہ ہر عمل کا مدار ایمان پر ہے اور اعمال کا ثواب نیت پر موقوف ہے لیکن نیت مرتبہ علم کا ہے اور احتساب علم العلم کا مرتبہ ہے یعنی احتساب کی نیت سے بھی اوپر ایک درجہ ہے اور مراد اس سے نیت کا استحضار اور نیت کی زیادتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس لفظ کا استعمال شارع نے ذھول و مشقت کے مواقع پر کیا ہے ۔ مثلا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے ارشاد فرمایا جس کا بچہ مرجائے تو اس کو چاہئے کہ صبرکرے اور احتساب کرے۔ اب دیکھئے بچہ کا مرجانا آفت سماوی ہے۔ اس میں انسان کے اختیار کو کچھ دخل نہیں ہے اور یہ کہ اس مصیبت کے وقت آدمی کو وہم بھی نہیں ہوتا کہ مجھے ثواب مل سکتا ہے تو یہ ذھول کی جگہ تھی ۔ اس لئے شارع نے فرمایا کہ اگرچہ یہ آفت سماوی ہے لیکن خلوص نیت کے ساتھ اگر کوئی اس مصیبت پر صبر کرے تو اس کا ثواب مل جائے گا ۔
شب قدر ملنے کی وجہ
امام مالک رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے جب پہلی امتوں کے لوگوں کی عمروں پر توجہ فرمائی تو آپ کو اپنی اُمّت کے لوگوں کی عمریں کم معلوم ہوئیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے یہ خیال فرمایا کہ جب گزشتہ لوگوں کے مقابلے میں ان کی عمریں کم ہیں تو ان کی نیکیاں بھی کم رہیں گی ۔ اس پر ﷲ تعالیٰ نے آپ کو شب قدر عطا فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ (موطا امام مالک ص 260،چشتی)
حضرت مجاہد رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے بنی اسرائیل کے ایک نیک شخص کا ذکر فرمایا جس نے ایک ہزار ماہ تک راہ خدا کے لئے ہتھیار اٹھائے رکھے ۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کو اس پر تعجب ہوا تو ﷲ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور ایک رات یعنی شب قدر کی عبادت کو اس مجاہد کی ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر قرار دیا ۔ (سنن الکبریٰ، بیہقی جلد 4، ص 306، تفسیر ابن جریر،چشتی)
شب قدر کی فضیلت احادیث کی روشنی میں
حضرت انس بن مالک رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے ارشاد فرمایا ۔ جب شب قدر ہوتی ہے ، جبرئیل امین علیہ السلام ملائکہ کی جماعت میں اترتے ہیں اور ہر قیام و قعود کرنے والے بندے پر جو خدا تعالیٰ کے ذکر و عبادت میں مشغول ہو (اس کے لئے) دعا کرتے ہیں ۔ (بیہقی)
جس شخص نے ایمان اور اخلاص کے ساتھ ثواب کے حصول کی غرض سے شب قدر میں قیام کیا (عبادت کی) تو اس کے سارے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔ (بخاری شریف و مسلم شریف)
شب قدر کو کن راتوں میں تلاش کریں ؟
حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کا فرمان ہے کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔ (بخاری، مشکوٰۃ،چشتی)
حضرت عبادہ بن صامت رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے فرمایا ۔ شب قدر رمضان کے آخری عشرے کی طاقت راتوں یعنی 21، 23، 25، 27 اور 29 کی رات میں ہے۔ جو شخص ثواب کی نیت سے ان رات میں عبادت کرتا ہے ﷲ تعالیٰ اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیتا ہے ۔ اسی رات کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ یہ رات کھلی ہوئی اور چمکدار ہوتی ہے ۔ صاف و شفاف گویا انوار کی کثرت کے باعث چاند کھلا ہوا ہے۔ یہ زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈی بلکہ معتدل اس رات میں صبح تک آسمان کے ستارے شیاطین کو نہیں مارتے جاتے ۔ اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعد صبح کو سورج بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے ۔
❤1👍1
بالکل ہموار ٹکیہ کی طرح جیسا کہ چودھویں کا چاند کیونکہ شیطان کے لئے یہ روا نہیں کہ وہ اس دن سورج کے ساتھ نکلے ۔ (مسند احمد، جلد 5ص 324، مجمع الزوائد)
شب قدر کو پوشیدہ رکھنے میں حکمتیں
لوگ اکثر یہ سوال پوچھتے ہیں کہ شب قدر کو پوشیدہ رکھنے میں کیا حکمتیں ہیں ؟
جواب یہ ہے کہ اصل حکمتیں تو ﷲ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم ہی بہتر جانتے ہیں ۔ یہ وہ جواب ہے جو صحابہ کرام علیہم الرضوان بارگاہ نبوی میں اس وقت دیا کرتے جب انہیں کسی سوال کے جواب کا قطعی علم نہ ہوتا۔ وہ فرماتے ﷲ و رسولہ اعلم ۔ (بخاری، مسلم، مشکوٰۃ، کتاب الایمان)
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کے روحانی فیوض و برکات سے اکتساب فیض کرتے ہوئے علمائے کرام نے شب قدر کے پوشیدہ ہونے کی بعض حکمتیں بیان فرمائی ہیں جو درج ذیل ہیں :
(1) اگر شب قدر کو ظاہر کردیا جاتا تو کوتاہ ہمت لوگ اسی رات کی عبادت پر اکتفا کرلیتے اور دیگر راتوں میں عبادات کا اہتمام نہ کرتے اب لوگ آخری عشرے کی پانچ راتوں میں عبادت کی سعادت حاصل کرلیتے ہیں ۔
(2) شب قدر ظاہر کردینے کی صورت میں اگر کسی سے یہ شب چھوٹ جاتی تو اسے بہت زیادہ حزن و ملال ہوتا اور دیگر راتوں میں وہ دلجمعی سے عبادت نہ کرپاتا ۔ اب رمضان کی پانچ طاق راتوں میں سے دو تین راتیں اکثر لوگوں کو نصیب ہو ہی جاتی ہیں ۔
(3) اگر شب قدر کو ظاہر کردیا جاتا تو جس طرح اس رات میں عبادت کا ثواب ہزار ماہ کی عبادت سے زیادہ ہے ، اسی طرح اس رات میں گناہ بھی ہزار درجہ زیادہ ہوتا ۔ لہذا ﷲ تعالیٰ نے اس رات کو پوشیدہ رکھا تاکہ اس شب میں عبادت کریں وہ ہزار ماہ کی عبادت سے زیادہ اجروثواب پائیں اور اپنی جہالت وہ کم نصیبی سے اس شب میں بھی گناہ سے باز نہ آئیں تو انہیں شب قدر کی توہین کرنے کا گناہ نہ ہو ۔
(4) جیسا کہ نزول ملائکہ کی حکمتوں میں ذکر کیا گیا ہے کہ ﷲ تعالیٰ فرشتوں کی عظمت بتانے کے لئے زمین پر نازل فرماتا ہے اور اپنے عبادت گزار بندوں پر فخر کرتا ہے ۔ شب قدر ظاہر نہ کرنے کی صورت میں فکر کرنے کا زیادہ موقع ہے کہ اے ملائکہ دیکھو! میرے بندے معلوم نہ ہونے کے باوجود محض احتمال کی بناء پر عبادت و اطاعت میں اتنی محنت و سعی کررہے ہیں ۔ اگر انہیں بتادیا جاتا کہ یہی شب قدر ہے تو ان کی عبادت و نیازمندی کا کیا حال ہوتا ۔
(5) شب قدر کا پوشیدہ رکھنا اسی طرح سمجھ لیجئے جیسے موت کا وقت نہ بتانا ۔ کیونکہ اگر موت کا وقت بتا دیا جاتا تو لوگ ساری عمر نفسانی خواہشات کی پیروی میں گناہ کرتے اور موت سے عین پہلے توبہ کرلیتے ۔ اس لئے موت کا وقت پوشیدہ رکھا گیا تاکہ انسان ہر لمحہ موت کا خوف کرے اور ہر وقت گناہوں سے دور اور نیکی میں مصروف رہے ۔ اسی طرح آخری عشرے کی ہر طاقت رات میں بندوں کو یہی سوچ کر عبادت کرنی چاہئے کہ شاید یہی شب قدر ہو ۔ اسی طرح شب قدر کی جستجو میں برکت والی پانچ راتیں عبادت الٰہی میں گزارنے کی سعادت نصیب ہوتی ہے ۔
ﷲ تعالیٰ نے بے شمار حکمتوں اور مصلحتوں کی باعث بہت سی اہم چیزوں کو پوشیدہ رکھا ہے ۔ امام رازی علیہ الرحمہ تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ :
(1) ﷲ تعالیٰ نے اپنی رضا کو عبادت و اطاعت میں پوشیدہ رکھا ہے تاکہ لوگ تمام امور میں ﷲ تعالیٰ کی اطاعت کریں ۔
(2) اس نے اپنے غصہ کو گناہوں میں مخفی (پوشیدہ) رکھا ہے تاکہ لوگ ہر قسم کے گناہوں سے بچیں ۔
(3) اپنے اولیاء کو مومنوں میں پوشیدہ رکھا ہے تاکہ لوگ سب ایمان والوں کی تعظیم کریں ۔
(4) دعا کی قبولیت کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ ﷲ تعالیٰ کے ہر نام مبارکہ کی تعظیم کریں ۔
(5) اسم اعظم کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ ﷲ تعالیٰ کے ہر نام مبارک کی تعظیم کریں ۔
(6) صلوٰۃ الوسطیٰ (درمیانی نماز) کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ سب نمازوں کی حفاظت کریں ۔
(7) موت کے وقت کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ ہر وقت اللہ عزّ و جل سے ڈرتے رہیں ۔
(8) توبہ کی قبولیت کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ جس طرح ممکن ہو ، توبہ کرتے رہیں ۔
(9) ایسے ہی شب قدر کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ رمضان کی تمام راتوں کی تعظیم کریں ۔
ﷲ تعالیٰ کا کروڑ ہا کروڑ احسان ہے کہ رب کریم جل جلالہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کے صدقے وطفیل ہمیں شب قدر جیسی نعمت سے نوازا ہے ۔ ہمیں اس رات کی قدر کرنی چاہئے اور اپنے رب کے حضور سچی توبہ کرنی چاہئے تاکہ ہمیں بھی مغفرت کا پروانہ نصیب ہو ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2019/05/blog-post_94.html?m=1
شب قدر کو پوشیدہ رکھنے میں حکمتیں
لوگ اکثر یہ سوال پوچھتے ہیں کہ شب قدر کو پوشیدہ رکھنے میں کیا حکمتیں ہیں ؟
جواب یہ ہے کہ اصل حکمتیں تو ﷲ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم ہی بہتر جانتے ہیں ۔ یہ وہ جواب ہے جو صحابہ کرام علیہم الرضوان بارگاہ نبوی میں اس وقت دیا کرتے جب انہیں کسی سوال کے جواب کا قطعی علم نہ ہوتا۔ وہ فرماتے ﷲ و رسولہ اعلم ۔ (بخاری، مسلم، مشکوٰۃ، کتاب الایمان)
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کے روحانی فیوض و برکات سے اکتساب فیض کرتے ہوئے علمائے کرام نے شب قدر کے پوشیدہ ہونے کی بعض حکمتیں بیان فرمائی ہیں جو درج ذیل ہیں :
(1) اگر شب قدر کو ظاہر کردیا جاتا تو کوتاہ ہمت لوگ اسی رات کی عبادت پر اکتفا کرلیتے اور دیگر راتوں میں عبادات کا اہتمام نہ کرتے اب لوگ آخری عشرے کی پانچ راتوں میں عبادت کی سعادت حاصل کرلیتے ہیں ۔
(2) شب قدر ظاہر کردینے کی صورت میں اگر کسی سے یہ شب چھوٹ جاتی تو اسے بہت زیادہ حزن و ملال ہوتا اور دیگر راتوں میں وہ دلجمعی سے عبادت نہ کرپاتا ۔ اب رمضان کی پانچ طاق راتوں میں سے دو تین راتیں اکثر لوگوں کو نصیب ہو ہی جاتی ہیں ۔
(3) اگر شب قدر کو ظاہر کردیا جاتا تو جس طرح اس رات میں عبادت کا ثواب ہزار ماہ کی عبادت سے زیادہ ہے ، اسی طرح اس رات میں گناہ بھی ہزار درجہ زیادہ ہوتا ۔ لہذا ﷲ تعالیٰ نے اس رات کو پوشیدہ رکھا تاکہ اس شب میں عبادت کریں وہ ہزار ماہ کی عبادت سے زیادہ اجروثواب پائیں اور اپنی جہالت وہ کم نصیبی سے اس شب میں بھی گناہ سے باز نہ آئیں تو انہیں شب قدر کی توہین کرنے کا گناہ نہ ہو ۔
(4) جیسا کہ نزول ملائکہ کی حکمتوں میں ذکر کیا گیا ہے کہ ﷲ تعالیٰ فرشتوں کی عظمت بتانے کے لئے زمین پر نازل فرماتا ہے اور اپنے عبادت گزار بندوں پر فخر کرتا ہے ۔ شب قدر ظاہر نہ کرنے کی صورت میں فکر کرنے کا زیادہ موقع ہے کہ اے ملائکہ دیکھو! میرے بندے معلوم نہ ہونے کے باوجود محض احتمال کی بناء پر عبادت و اطاعت میں اتنی محنت و سعی کررہے ہیں ۔ اگر انہیں بتادیا جاتا کہ یہی شب قدر ہے تو ان کی عبادت و نیازمندی کا کیا حال ہوتا ۔
(5) شب قدر کا پوشیدہ رکھنا اسی طرح سمجھ لیجئے جیسے موت کا وقت نہ بتانا ۔ کیونکہ اگر موت کا وقت بتا دیا جاتا تو لوگ ساری عمر نفسانی خواہشات کی پیروی میں گناہ کرتے اور موت سے عین پہلے توبہ کرلیتے ۔ اس لئے موت کا وقت پوشیدہ رکھا گیا تاکہ انسان ہر لمحہ موت کا خوف کرے اور ہر وقت گناہوں سے دور اور نیکی میں مصروف رہے ۔ اسی طرح آخری عشرے کی ہر طاقت رات میں بندوں کو یہی سوچ کر عبادت کرنی چاہئے کہ شاید یہی شب قدر ہو ۔ اسی طرح شب قدر کی جستجو میں برکت والی پانچ راتیں عبادت الٰہی میں گزارنے کی سعادت نصیب ہوتی ہے ۔
ﷲ تعالیٰ نے بے شمار حکمتوں اور مصلحتوں کی باعث بہت سی اہم چیزوں کو پوشیدہ رکھا ہے ۔ امام رازی علیہ الرحمہ تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ :
(1) ﷲ تعالیٰ نے اپنی رضا کو عبادت و اطاعت میں پوشیدہ رکھا ہے تاکہ لوگ تمام امور میں ﷲ تعالیٰ کی اطاعت کریں ۔
(2) اس نے اپنے غصہ کو گناہوں میں مخفی (پوشیدہ) رکھا ہے تاکہ لوگ ہر قسم کے گناہوں سے بچیں ۔
(3) اپنے اولیاء کو مومنوں میں پوشیدہ رکھا ہے تاکہ لوگ سب ایمان والوں کی تعظیم کریں ۔
(4) دعا کی قبولیت کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ ﷲ تعالیٰ کے ہر نام مبارکہ کی تعظیم کریں ۔
(5) اسم اعظم کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ ﷲ تعالیٰ کے ہر نام مبارک کی تعظیم کریں ۔
(6) صلوٰۃ الوسطیٰ (درمیانی نماز) کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ سب نمازوں کی حفاظت کریں ۔
(7) موت کے وقت کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ ہر وقت اللہ عزّ و جل سے ڈرتے رہیں ۔
(8) توبہ کی قبولیت کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ جس طرح ممکن ہو ، توبہ کرتے رہیں ۔
(9) ایسے ہی شب قدر کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ رمضان کی تمام راتوں کی تعظیم کریں ۔
ﷲ تعالیٰ کا کروڑ ہا کروڑ احسان ہے کہ رب کریم جل جلالہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کے صدقے وطفیل ہمیں شب قدر جیسی نعمت سے نوازا ہے ۔ ہمیں اس رات کی قدر کرنی چاہئے اور اپنے رب کے حضور سچی توبہ کرنی چاہئے تاکہ ہمیں بھی مغفرت کا پروانہ نصیب ہو ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2019/05/blog-post_94.html?m=1
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
فضائلِ شبِ قدر
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/04/blog-post_25.html?m=1
محترم قارئینِ کام : رمضان المبارک کا آخری عشرہ نہایت عظیم الشان اور اہم ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں لیلۃ القدر کی فضیلت کے بیان میںپوری سورت نازل فرمائی۔ ارشاد ہوتا ہے : إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِِo وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِِo لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍٍo تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍٍo سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ۔ (سورۃ القدر، 97 : 1. 5)
ترجمہ : بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہےo اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہےo اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیںo یہ (رات) طلوعِ فجر تک (سراسر) سلامتی ہے ۔
لیلۃ القدر کی فضیلت میں کتبِ حدیث بہت سی روایات مذکور ہیں۔ ذیل میں چند ایک احادیث کا تذکرہ کیا جاتا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ يْمَانًا وَّاحْتِسَاباً غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ۔
ترجمہ : جو شخص لیلۃ القدر میں حالتِ ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کرتا ہے، اُس کے سابقہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ۔ (بخاری، الصحيح، کتاب صلاة التراويح، باب فضل ليلة القدر، 2 : 709، رقم : 1910)
مندرجہ بالا ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جہاں لیلۃ القدر کی ساعتوں میں ذکر و فکر اور طاعت و عبادت کی تلقین کی گئی ہے وہاں اس بات کی طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے کہ عبادت سے محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہو، دکھاوا اور ریا کاری نہ ہو پھر یہ کہ آئندہ برائی نہ کرنے کا عہد کرے۔ اس شان سے عبادت کرنے والے بندے کے لئے یہ رات مژدۂ مغفرت بن کر آتی ہے۔ لیکن وہ شخص محروم رہ جاتا ہے جو اس رات کو پائے مگر عبادت نہ کرسکے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک کی آمد پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ ماہ جو تم پر آیا ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا، گویا وہ ساری خیر سے محروم رہا۔ اور اس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو واقعتاً محروم ہو ۔ (ابن ماجه، السنن، کتاب الصيام، باب ما جاء فی فضل شهر رمضان، 2 : 309، رقم : 1644،چشتی)
ایسے شخص کی محرومی میں واقعتا کیا شک ہو سکتا ہے جو اتنی بڑی نعمت کو غفلت کی وجہ سے گنوا دے۔ جب انسان معمولی معمولی باتوں کے لئے کتنی راتیں جاگ کر گزار لیتا ہے تو اَسّی (80) سال کی عبادت سے افضل بابرکت رات کے لئے جاگنا کوئی زیادہ مشکل کام تو نہیں ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : شب قدر کو جبرائیل امین فرشتوں کے جھرمٹ میں زمین پر اتر آتے ہیں۔ وہ ہر اُس شخص کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں جو کھڑے بیٹھے (کسی حال میں) اللہ کو یاد کر رہا ہو ۔ (بيهقی، شعب الإيمان، 3 : 343، رقم : 3717،چشتی)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان ایام میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات کو یوں بیان کرتی ہیں : كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ ، إذا دخل العشرُ ، أحيا الليلَ وأيقظ أهلَه وجدَّ وشدَّ المِئزَرَ .( صحيح البخاري: 2024 صحيح مسلم: 1174)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رمضان کے آخری عشرہ میں داخل ہوتے تو عبادت وریاضت کے لیے اپنی کمر مضبوط کرلیتے، شب بیداری کرتے اور اپنے گھروالوں کو کو بیدار کیا کرتے تھے ۔
آخر کیوں ؟ اس لیے کہ اسی عشرے کے طاق راتوں کی ایک رات شب قدر ہوتی ہے جس کی عبادت وریاضت ہزار مہینے یعنی 83 سال چار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے۔ اسی رات میں قرآن کریم کا نزول ہوا، اس رات میں فرشتے اور روح الأمین نازل ہوتے ہیں۔ اور اس رات میں پورے سال واقع ہونے والے واقعات کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
یہ رات فضائل کی ہے برکات کی شب ہے ، یہ رات فرشتوں کی ملاقات کی شب ہے ، یہ رات ریاضت کی مناجات کی شب ہے ، یہ رات فقط لطف و عنایات کی شب ہے ، اس رات کے لمحے میں تقدیس ہے شامل ، یہ رات اگر مل جائے تو ہے زیست کا حاصل ۔
اب سوال یہ ہے کہ اس رات کو شب قدر یا لیلتہ القدر کیوں کہتے ہیں؟ تو اس کی بابت مفسرین کرام کے درمیان اختلاف ہے کیوں کہ عربی زبان میں قدر کے بہت سارے معانی ہوتے ہیں۔
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/04/blog-post_25.html?m=1
محترم قارئینِ کام : رمضان المبارک کا آخری عشرہ نہایت عظیم الشان اور اہم ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں لیلۃ القدر کی فضیلت کے بیان میںپوری سورت نازل فرمائی۔ ارشاد ہوتا ہے : إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِِo وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِِo لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍٍo تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍٍo سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ۔ (سورۃ القدر، 97 : 1. 5)
ترجمہ : بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہےo اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہےo اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیںo یہ (رات) طلوعِ فجر تک (سراسر) سلامتی ہے ۔
لیلۃ القدر کی فضیلت میں کتبِ حدیث بہت سی روایات مذکور ہیں۔ ذیل میں چند ایک احادیث کا تذکرہ کیا جاتا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ يْمَانًا وَّاحْتِسَاباً غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ۔
ترجمہ : جو شخص لیلۃ القدر میں حالتِ ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کرتا ہے، اُس کے سابقہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ۔ (بخاری، الصحيح، کتاب صلاة التراويح، باب فضل ليلة القدر، 2 : 709، رقم : 1910)
مندرجہ بالا ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جہاں لیلۃ القدر کی ساعتوں میں ذکر و فکر اور طاعت و عبادت کی تلقین کی گئی ہے وہاں اس بات کی طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے کہ عبادت سے محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہو، دکھاوا اور ریا کاری نہ ہو پھر یہ کہ آئندہ برائی نہ کرنے کا عہد کرے۔ اس شان سے عبادت کرنے والے بندے کے لئے یہ رات مژدۂ مغفرت بن کر آتی ہے۔ لیکن وہ شخص محروم رہ جاتا ہے جو اس رات کو پائے مگر عبادت نہ کرسکے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک کی آمد پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ ماہ جو تم پر آیا ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا، گویا وہ ساری خیر سے محروم رہا۔ اور اس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو واقعتاً محروم ہو ۔ (ابن ماجه، السنن، کتاب الصيام، باب ما جاء فی فضل شهر رمضان، 2 : 309، رقم : 1644،چشتی)
ایسے شخص کی محرومی میں واقعتا کیا شک ہو سکتا ہے جو اتنی بڑی نعمت کو غفلت کی وجہ سے گنوا دے۔ جب انسان معمولی معمولی باتوں کے لئے کتنی راتیں جاگ کر گزار لیتا ہے تو اَسّی (80) سال کی عبادت سے افضل بابرکت رات کے لئے جاگنا کوئی زیادہ مشکل کام تو نہیں ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : شب قدر کو جبرائیل امین فرشتوں کے جھرمٹ میں زمین پر اتر آتے ہیں۔ وہ ہر اُس شخص کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں جو کھڑے بیٹھے (کسی حال میں) اللہ کو یاد کر رہا ہو ۔ (بيهقی، شعب الإيمان، 3 : 343، رقم : 3717،چشتی)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان ایام میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات کو یوں بیان کرتی ہیں : كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ ، إذا دخل العشرُ ، أحيا الليلَ وأيقظ أهلَه وجدَّ وشدَّ المِئزَرَ .( صحيح البخاري: 2024 صحيح مسلم: 1174)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رمضان کے آخری عشرہ میں داخل ہوتے تو عبادت وریاضت کے لیے اپنی کمر مضبوط کرلیتے، شب بیداری کرتے اور اپنے گھروالوں کو کو بیدار کیا کرتے تھے ۔
آخر کیوں ؟ اس لیے کہ اسی عشرے کے طاق راتوں کی ایک رات شب قدر ہوتی ہے جس کی عبادت وریاضت ہزار مہینے یعنی 83 سال چار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے۔ اسی رات میں قرآن کریم کا نزول ہوا، اس رات میں فرشتے اور روح الأمین نازل ہوتے ہیں۔ اور اس رات میں پورے سال واقع ہونے والے واقعات کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
یہ رات فضائل کی ہے برکات کی شب ہے ، یہ رات فرشتوں کی ملاقات کی شب ہے ، یہ رات ریاضت کی مناجات کی شب ہے ، یہ رات فقط لطف و عنایات کی شب ہے ، اس رات کے لمحے میں تقدیس ہے شامل ، یہ رات اگر مل جائے تو ہے زیست کا حاصل ۔
اب سوال یہ ہے کہ اس رات کو شب قدر یا لیلتہ القدر کیوں کہتے ہیں؟ تو اس کی بابت مفسرین کرام کے درمیان اختلاف ہے کیوں کہ عربی زبان میں قدر کے بہت سارے معانی ہوتے ہیں۔
❤1👍1
کچھ لوگوں نے کہا کہ قدر کا معانی تعظیم کے ہیں اس لیے اس رات کو شب قدر کہتے ہیں، ارشاد باری تعالی ہے : مَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ (سورہ الحج 74) ان لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ پہچانی جیسا کہ اس کے پہچاننے کا حق ہے بعض لوگوں نے کہا: قدر کا معنی اندازہ وفیصلہ کرنے کے ہیں،اور چوں کہ اس رات سال بھر کے واقعات کے فیصلے کیے جاتے ہیں،اس لیے اس رات کو شب قدرکہتے ہیں۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے: فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ ( سورہ الدخان 4) یہ وہ رات ہے جس میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ ہوتا ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ قدر کے معنی تنگی کے ہیں اور چوں کہ اس رات اتنی کثرت سے زمین پر فرشتے اُترتے ہیں کہ زمین تنگ ہو جاتی ہے،اللہ تعالی کا فرمان ہے: وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ ( سورہ طلاق 7) اور جس کا رزق تنگ کر دیا گیا ہو۔
جبکہ دوسرے لوگوں کا کہنا ہےکہ قدر کے معنی قدرو منزلت کے ہیں، چونکہ اس رات میں جو عبدت کی جاتی ہے اللہ تعالی کے ہاں اس کی بڑی قدر ہے،اس پر بڑا ثواب ہے اس لیے اس کو شب قدر کہتے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔
اللہ تعالی نے اس رات کی اہمیت پر مشتمل ایک پوری سورہ نازل کردی ہے جسے ہم سورۃ القدر کے نام سے جانتے ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے : إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ﴿١﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ﴿٢﴾ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ﴿٣﴾ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ ﴿٤﴾ سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ ﴿٥﴾
ترجمہ : ہم نے اِس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے (1) اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ (2) شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے(3) فرشتے اور روح اُس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں (4) وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوع فجر تک۔
اور دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے، إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ﴿٣﴾ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ (سورہ الدخان 2-4) کہ ہم نے اِسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، کیونکہ ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے (3) یہ وہ رات ہے جس میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ ہوتا ہے ۔
اس رات کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا : ومَن قامَ ليلةَ القدرِ إيمانًا واحتِسابًا غُفِرَ لَهُ ما تقدَّمَ من ذنبِهِ (صحیح البخاری: 2014 صحیح مسلم: 760،چشتی)
یعنی جو شخص شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور اللہ تعالی سے اجروثواب کی نیت سے عبادت میں مشغول رہا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو گئے ۔
بڑا بد قسمت ہے وہ شخص جو اس رات کے فیضان سے محروم رہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا تھا : إنَّ هذا الشَّهرَ قد حضركموفيه ليلةٌ خيرٌ من ألفِ شهرٍ من حُرِمها فقد حُرم الخيرَ كلَّه ولا يُحرمُ خيرَها إلَّا محرومٌ (صحيح ابن ماجه: 1341)
یعنی تمہارے اوپر ایک ایسا مہینہ آیا ہے جس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے، جو شخص اس رات سے محروم ہوگیا وہ سارے خیر سے محروم ہوگیا اور اس کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہتا ہے جو واقعی محروم ہو ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ شب قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاشیں، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے : أن رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم قال:تَحَرَّوْا ليلة القدرِ في الوِتْرِ، منالعشرِ الأواخرِ من رمضانَ ) صحيح البخاری: 2017،چشتی)
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔
گویا کہ شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی ایک رات میں ہوتی ہے، البتہ اس رات کی تعین کے تعلق سے حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ علیہ نے فتح الباری میں اور علامہ شوکانی رحمہ اللہ علیہ نے نیل الأوطار میں چالیس سے زائد اقوال نقل کیا ہے، ویسے اس سلسلے میں ٹھوس بات یہ کہی جا سکتی ہےکہ اللہ تعالی نے اپنی حکمت بالغہ اور رحمت کاملہ سے اس رات کو آخری عشرہ کی کسی طاق رات میں پوشیدہ رکھا ہے تاکہ امت مسلمہ کے افراد اس کی تلاش و جستجو میں لگے رہیں ۔
شیخ محمد بن العثیمین لکھتے ہیں : شب قدر تمام سالوں میں کسی خاص رات کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ وہ منتقل ہوتی رہتی ہے، مثال کے طور پر کسی سال ستائس کی رات میں ہوتی ہے تو کبھی کسی دوسرے سال میں پچیسویں رات کو ہوتی ہے ۔
اس لیے احتیاط کا تقاضا ہے کہ کسی رات کی تخصیص کیے بغیر رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش وجستجو کا اہتمام کیا جائے تاکہ کثرت سے انعامات خداوندی کے مستحق بن سکیں، اور اخفاء وپوشیدگی کا مقصد بھی پورا ہو جائے ۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے: فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ ( سورہ الدخان 4) یہ وہ رات ہے جس میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ ہوتا ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ قدر کے معنی تنگی کے ہیں اور چوں کہ اس رات اتنی کثرت سے زمین پر فرشتے اُترتے ہیں کہ زمین تنگ ہو جاتی ہے،اللہ تعالی کا فرمان ہے: وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ ( سورہ طلاق 7) اور جس کا رزق تنگ کر دیا گیا ہو۔
جبکہ دوسرے لوگوں کا کہنا ہےکہ قدر کے معنی قدرو منزلت کے ہیں، چونکہ اس رات میں جو عبدت کی جاتی ہے اللہ تعالی کے ہاں اس کی بڑی قدر ہے،اس پر بڑا ثواب ہے اس لیے اس کو شب قدر کہتے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔
اللہ تعالی نے اس رات کی اہمیت پر مشتمل ایک پوری سورہ نازل کردی ہے جسے ہم سورۃ القدر کے نام سے جانتے ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے : إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ﴿١﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ﴿٢﴾ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ﴿٣﴾ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ ﴿٤﴾ سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ ﴿٥﴾
ترجمہ : ہم نے اِس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے (1) اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ (2) شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے(3) فرشتے اور روح اُس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں (4) وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوع فجر تک۔
اور دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے، إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ﴿٣﴾ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ (سورہ الدخان 2-4) کہ ہم نے اِسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، کیونکہ ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے (3) یہ وہ رات ہے جس میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ ہوتا ہے ۔
اس رات کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا : ومَن قامَ ليلةَ القدرِ إيمانًا واحتِسابًا غُفِرَ لَهُ ما تقدَّمَ من ذنبِهِ (صحیح البخاری: 2014 صحیح مسلم: 760،چشتی)
یعنی جو شخص شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور اللہ تعالی سے اجروثواب کی نیت سے عبادت میں مشغول رہا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو گئے ۔
بڑا بد قسمت ہے وہ شخص جو اس رات کے فیضان سے محروم رہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا تھا : إنَّ هذا الشَّهرَ قد حضركموفيه ليلةٌ خيرٌ من ألفِ شهرٍ من حُرِمها فقد حُرم الخيرَ كلَّه ولا يُحرمُ خيرَها إلَّا محرومٌ (صحيح ابن ماجه: 1341)
یعنی تمہارے اوپر ایک ایسا مہینہ آیا ہے جس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے، جو شخص اس رات سے محروم ہوگیا وہ سارے خیر سے محروم ہوگیا اور اس کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہتا ہے جو واقعی محروم ہو ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ شب قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاشیں، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے : أن رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم قال:تَحَرَّوْا ليلة القدرِ في الوِتْرِ، منالعشرِ الأواخرِ من رمضانَ ) صحيح البخاری: 2017،چشتی)
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔
گویا کہ شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی ایک رات میں ہوتی ہے، البتہ اس رات کی تعین کے تعلق سے حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ علیہ نے فتح الباری میں اور علامہ شوکانی رحمہ اللہ علیہ نے نیل الأوطار میں چالیس سے زائد اقوال نقل کیا ہے، ویسے اس سلسلے میں ٹھوس بات یہ کہی جا سکتی ہےکہ اللہ تعالی نے اپنی حکمت بالغہ اور رحمت کاملہ سے اس رات کو آخری عشرہ کی کسی طاق رات میں پوشیدہ رکھا ہے تاکہ امت مسلمہ کے افراد اس کی تلاش و جستجو میں لگے رہیں ۔
شیخ محمد بن العثیمین لکھتے ہیں : شب قدر تمام سالوں میں کسی خاص رات کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ وہ منتقل ہوتی رہتی ہے، مثال کے طور پر کسی سال ستائس کی رات میں ہوتی ہے تو کبھی کسی دوسرے سال میں پچیسویں رات کو ہوتی ہے ۔
اس لیے احتیاط کا تقاضا ہے کہ کسی رات کی تخصیص کیے بغیر رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش وجستجو کا اہتمام کیا جائے تاکہ کثرت سے انعامات خداوندی کے مستحق بن سکیں، اور اخفاء وپوشیدگی کا مقصد بھی پورا ہو جائے ۔
👍2❤1
البتہ بعض احادیث میں مبارکہ میں شب قدر کی کچھ علامتیں بیان کی گئی ہیں جن کو دیکھ کر ہم شب قدر کی پہچان کر سکتے ہیں ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے جسے امام مسلم نے روایت کیا ہے : أن تطلعَ الشمسُ في صبيحةِ يومِها بيضاءَ لا شُعاعَ لها ۔ (صحيح مسلم: 762)
یعنی شب قدر کے بعد کی صبح جب سورج طلوع ہوگا وہ سفید ہوگا اور اس میں روشنی نہیں ہوگی ۔
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ليلةُ القدْرِ ليلةٌ سمِحَةٌ ، طَلِقَةٌ ، لا حارَّةٌ ولا بارِدَةٌ ، تُصبِحُ الشمسُ صبيحتَها ضَعيفةً حمْراءَ ۔ (صحيح الجامع: 5475)
یعنی اس کی رات صاف پر سکون سردی وگرمی سے خالی ہوتی ہے، اور اس کی صبح سورج دھیمی روشنی والا سرخ رنگ کا نکلتا ہے ۔
بہر کیف ان عظیم راتوں میں بکثرت نماز، تلاوت قرآن، ذکرو فکر اور توبہ واستغفار کا اہتمام کرنا چاہئے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی اس دعا کا کثرت سے ورد کرنا چاہئے، کیوں کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اے اللہ کے رسول جب ہم اس رات کو پائیں تو کیا پڑھیں ؟ تو آپ نے یہ دعا پڑھنے کی تلقین کی تھی : اللَّهمَّ إنَّكَ عفوٌّ تحبُّ العفوَ فاعفُ عنِّي ۔
ترجمہ : اے میرے اللہ تو بڑا معاف کرنے والا ہے تو عفو درگزر کو پسند کرتا ہے اس لیے مجھے معاف فرمادے ۔ (سنن الترمذي: 3513،چشتی)
لیکن ہائے افسوس : جب ہم اس تعلق سے مسلمان کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے، کہ اکثر لوگ اس رات کی اہمیت سے باکل بے خبر ہیں، عام راتوں کی طرف ان راتوں کو بھی گزار دیتے ہیں، طرفہ تماشہ یہ کہ کچھ لوگ ان مبارک راتوں میں اللہ کی نافرمانی اور کفر وعصیان کے کاموں میں لگے رہتے ہیں ۔
کچھ لوگ ان راتوں میں جاگتے بھی ہیں تو ان کا جاگنا بطور فنکشن ہوتا ہے، مساجد میں روشنی کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے لیکن دل کا چراغ بجھا ہوتا ہے، لوگوں کا ہجوم، گرم گرم چائے، مٹھائیوں کا دور، لاؤڈ اسپیکر پر قرآن خوانی اور نعتیہ کلام کے پروگرام ضرور ہوتے ہیں لیکن دل لذت آشنائی سے خالی ہوتا ہے ۔
ضرورت ہے کہ ہم شب قدر کی عظمت ورفعت کو دل کی گہرائی سے جانیں، اس رات کی عبادت ہزار مہینے یعنی 83 سال چار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے، اس اہم نکتے کو اپنے ذہن ودماغ میں بٹھائیں اور آج ہی سے کمرکس لیں کہ عشرہ اواخراوربالخصوص اس کی طاق راتوں 21/23/25/ 27/ 29 میں سستی و کسلمندی کو بالکل قریب نہ ہونے دیں گے، اس تعلق سے اللہ تعالی سے دعا کریں کہ وہ ہم سب اس کی توفیق بخشے ۔
ان ایام سے فائدہ اٹھانے اور اپنے اندر جمعیت باطنی پیدا کرنے کا سب سے آسان طریقہ اعتکاف ہے کیوں کہ اس میں انسان اپنی دنیاوی مشغولیات سے الگ ہوکر صرف اللہ تعالی کی رضا جوئی اور اس کے تقرب کے حصول میں لگ جاتا ہے ، یہی وہ بنیادی مقصد تھا جس کی خاطر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عشرہ اواخر میں ہرسال دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے اور انتقال کے سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا ۔
اس سے پہلے شب قدر ہمیں یہ پیغام دے رہی ہے کہ ہم آپسی عداوت وچبقلش، بغض و حسد، جھگڑا لڑائی اور نزاع سے بالکل دوری اختیار کرلیں، کیوں کہ یہ چیزیں خیرو بھلائی کے روکنے کا باعث ہیں ۔
صحیح بخاری میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں : خرج النبي صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يُخبرنا بليلةِ القدرِ، فتلاحَى رجلانِ من المسلمينَ، فقال : ( خرجت لأخبركم بليلةِ القدرِ، فتلاحَى فُلانٌ وفُلانٌ فرفعت (صحيح البخاری: 2023،چشتی)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تاکہ ہمیں شب قدر کے بارے میں بتائیں اس بیچ دو آدمی باہم جھگڑنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نکلا تھا تاکہ تمہیں شب قدر کی بابت بتاؤں لیکن فلاں فلاں باہم جھگڑ نے لگے اس لیے اس کی تعیین اُٹھا لی گئی ۔
ذرا غور کریں کہ لعن طعن ، گالم گلوچ اور عداوت و دشمنی کیسا ناسور ہے کہ اس کے باعث شب قدر کی تعیین اٹھا لی گئی اس لیے عشرہ اواخر ہمیں اپنے معاشرتی معاملات کی بھی سدھار کر لینی چاہیے ۔ الغرض شب قدر نہایت عظیم اور مہتم بالشان رات ہے اس میں کی جانے والی دعائیں اللہ تعالی رد نہیں فرماتے ، اس لیے ہم عشرہ اواخر اور اس کی طاق راتوں کو عبادت و ریاضت ، ذکر و فکر ، تلاوت قرآن ، اور شب بیداری سے آباد کریں اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرماۓ ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/04/blog-post_25.html?m=1
یعنی شب قدر کے بعد کی صبح جب سورج طلوع ہوگا وہ سفید ہوگا اور اس میں روشنی نہیں ہوگی ۔
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ليلةُ القدْرِ ليلةٌ سمِحَةٌ ، طَلِقَةٌ ، لا حارَّةٌ ولا بارِدَةٌ ، تُصبِحُ الشمسُ صبيحتَها ضَعيفةً حمْراءَ ۔ (صحيح الجامع: 5475)
یعنی اس کی رات صاف پر سکون سردی وگرمی سے خالی ہوتی ہے، اور اس کی صبح سورج دھیمی روشنی والا سرخ رنگ کا نکلتا ہے ۔
بہر کیف ان عظیم راتوں میں بکثرت نماز، تلاوت قرآن، ذکرو فکر اور توبہ واستغفار کا اہتمام کرنا چاہئے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی اس دعا کا کثرت سے ورد کرنا چاہئے، کیوں کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اے اللہ کے رسول جب ہم اس رات کو پائیں تو کیا پڑھیں ؟ تو آپ نے یہ دعا پڑھنے کی تلقین کی تھی : اللَّهمَّ إنَّكَ عفوٌّ تحبُّ العفوَ فاعفُ عنِّي ۔
ترجمہ : اے میرے اللہ تو بڑا معاف کرنے والا ہے تو عفو درگزر کو پسند کرتا ہے اس لیے مجھے معاف فرمادے ۔ (سنن الترمذي: 3513،چشتی)
لیکن ہائے افسوس : جب ہم اس تعلق سے مسلمان کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے، کہ اکثر لوگ اس رات کی اہمیت سے باکل بے خبر ہیں، عام راتوں کی طرف ان راتوں کو بھی گزار دیتے ہیں، طرفہ تماشہ یہ کہ کچھ لوگ ان مبارک راتوں میں اللہ کی نافرمانی اور کفر وعصیان کے کاموں میں لگے رہتے ہیں ۔
کچھ لوگ ان راتوں میں جاگتے بھی ہیں تو ان کا جاگنا بطور فنکشن ہوتا ہے، مساجد میں روشنی کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے لیکن دل کا چراغ بجھا ہوتا ہے، لوگوں کا ہجوم، گرم گرم چائے، مٹھائیوں کا دور، لاؤڈ اسپیکر پر قرآن خوانی اور نعتیہ کلام کے پروگرام ضرور ہوتے ہیں لیکن دل لذت آشنائی سے خالی ہوتا ہے ۔
ضرورت ہے کہ ہم شب قدر کی عظمت ورفعت کو دل کی گہرائی سے جانیں، اس رات کی عبادت ہزار مہینے یعنی 83 سال چار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے، اس اہم نکتے کو اپنے ذہن ودماغ میں بٹھائیں اور آج ہی سے کمرکس لیں کہ عشرہ اواخراوربالخصوص اس کی طاق راتوں 21/23/25/ 27/ 29 میں سستی و کسلمندی کو بالکل قریب نہ ہونے دیں گے، اس تعلق سے اللہ تعالی سے دعا کریں کہ وہ ہم سب اس کی توفیق بخشے ۔
ان ایام سے فائدہ اٹھانے اور اپنے اندر جمعیت باطنی پیدا کرنے کا سب سے آسان طریقہ اعتکاف ہے کیوں کہ اس میں انسان اپنی دنیاوی مشغولیات سے الگ ہوکر صرف اللہ تعالی کی رضا جوئی اور اس کے تقرب کے حصول میں لگ جاتا ہے ، یہی وہ بنیادی مقصد تھا جس کی خاطر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عشرہ اواخر میں ہرسال دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے اور انتقال کے سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا ۔
اس سے پہلے شب قدر ہمیں یہ پیغام دے رہی ہے کہ ہم آپسی عداوت وچبقلش، بغض و حسد، جھگڑا لڑائی اور نزاع سے بالکل دوری اختیار کرلیں، کیوں کہ یہ چیزیں خیرو بھلائی کے روکنے کا باعث ہیں ۔
صحیح بخاری میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں : خرج النبي صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يُخبرنا بليلةِ القدرِ، فتلاحَى رجلانِ من المسلمينَ، فقال : ( خرجت لأخبركم بليلةِ القدرِ، فتلاحَى فُلانٌ وفُلانٌ فرفعت (صحيح البخاری: 2023،چشتی)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تاکہ ہمیں شب قدر کے بارے میں بتائیں اس بیچ دو آدمی باہم جھگڑنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نکلا تھا تاکہ تمہیں شب قدر کی بابت بتاؤں لیکن فلاں فلاں باہم جھگڑ نے لگے اس لیے اس کی تعیین اُٹھا لی گئی ۔
ذرا غور کریں کہ لعن طعن ، گالم گلوچ اور عداوت و دشمنی کیسا ناسور ہے کہ اس کے باعث شب قدر کی تعیین اٹھا لی گئی اس لیے عشرہ اواخر ہمیں اپنے معاشرتی معاملات کی بھی سدھار کر لینی چاہیے ۔ الغرض شب قدر نہایت عظیم اور مہتم بالشان رات ہے اس میں کی جانے والی دعائیں اللہ تعالی رد نہیں فرماتے ، اس لیے ہم عشرہ اواخر اور اس کی طاق راتوں کو عبادت و ریاضت ، ذکر و فکر ، تلاوت قرآن ، اور شب بیداری سے آباد کریں اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرماۓ ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/04/blog-post_25.html?m=1
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
فیضِ شبِ قدر
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2021/05/blog-post_4.html?m=1
محترم قارئینِ کرام : شب کا معنی رات ، قدر کا معنی قدرو منزلت ، اندازہ ، فیصلہ کرنا اور تنگی ہے ۔ اس میں سال بھر کے لئے فیصلے کئے جاتے ہیں اسی لئے اسی لیلۃ الحکم بھی کہتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس رات اتنی کثرت سے زمین پر فرشتے اترتے ہیں کہ زمین تنگ ہوجاتی ہے اسی لئے اسے شب قدر یعنی تنگی کی رات۔ قدر و منزلت مالی رات ا س لئے کہلاتی ہے کیونکہ جو بھی خوش بخت مومن اس رات کو عبادت کرتا ہے اللہ عزوجل کے ہاں اس کی قدرومنزلت بڑھ جاتی ہے ۔
سميت بها للعظمة والشرف، لان العمل فيه يکون ذا قدر عندالله ۔ (تفسير مظهری، حضرت علامه قاضی محمد ثناء الله عثمانی مجددی پانی پتی)
ترجمہ : اس رات کو شرف و عظمت والی شب اس لئے کہتے ہیں کیونکہ اس رات کو کیا جانے والا ہر عمل خیر اللہ تعالیٰ کے ہاں قدرو منزلت والا ہوجاتا ہے ۔
اسی طرح علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس رات کو لیلۃ القدر کہنے کی وجہ یوں بیان کی ہے ۔ سميت بذالک لانه انزل فيها کتابا ذا قدر علی رسول ذي قدر علی امة ذات قدر ۔ (تفسير قرطبی، حضرت امام ابو عبدالله محمد بن احمد بن ابوبکر قرطبی)
ترجمہ : اسے شب قدر اس لئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ایک بڑی قدرو منزلت والی کتاب، بڑی قدر و منزلت والے رسول پر اور بڑی قدرو منزلت والی امت پر نازل فرمائی ۔
نزول قرآن کی رات
قرآن مجید میں ارشاد ہوا : انا انزلناه فی ليلة القدر ۔ (القدر،97:1)
ترجمہ : ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے ۔
قرآن مجید ایک ہی مرتبہ نازل نہیں ہوا بلکہ اس کا نزول 23 برس پر محیط ہے۔ سب سے پہلے قرآن حکیم کا نزول شب قدر ماہ رمضان میں سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیات سے ہوا ۔
شب قدر کی فضیلت
شب قدر وہ عظیم رات ہے جو نزول قرآن کی رات ہے اور یہی وہ رات ہے جس کی فضیلت میں رب العالمین نے پوری ایک سورت نازل کر دی ہے. جس کا مقام ایک ہزار مہینوں (تراسی سال چار مہینے) سے بہتر ہے : اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ.{1} وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ {2} لَيْلَةُ الْقَدْرِ ڏ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ {3} تَنَزَّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ {4} سَلٰمٌ هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ {5}
ترجمہ : یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا ۔ تو کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے ؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ اس (میں ہر کام) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل ) اترتے ہیں ۔ یہ رات سراسرسلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے) ۔ (القدر:5-1)
اس آيت کا شان نزول امام سيوطى نے نقل كيا کيا ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے ذکر فرمايا ايک مرد کا جو بنى اسرائيل کى قوم ميں سے تھا اور جس نے ہزار مہينے اللہ تعالى کے راستے يعنى جہاد ميں ہتھيار لگائے تھے پس تعجب کيا مسلمانوں نے اس بات سے اور افسوس کيا کہ ہم کو يہ نعمت کسى طرح ميسر ہو سکتى ہے سو نازل فرمائيں اللہ تعالى نے يہ آيتيں انا انزلناہ فى ليلة القدر وما ادرک ماليلة القدر ليلة القدر خير من الف شہر ۔ يعنى يہ شب قدر بہتر ہے ان ہزار مہينوں سے جن ميں اس مرد نے اللہ تعالى کے راستہ ميں ہتھيار لگائے تھے يعنى جہاد کيا تھا ۔ اور دوسرى روايت ميں ہے کہ بنى اسرائيل ميں ايک مرد تھا جو رات کو عبادت کرتا تھا صبح تک پھر جہاد کرتا تھا يعنى لڑتا تھا دشمن دين سے دن ميں شام تک سو عمل کيا اس نے ہزار مہينے يہى عمل کہ رات و عبادت کرتا تھا اور دن کو جہاد کرتا تھا پس نازل فرمائى اللہ تعالى نے آیة ليلة القدر خير من الف شہر۔ يعنى ان ہزار مہينوں سے جن ميں اس مرد نے عبادت و جہاد کيا تھا يہ رات بہتر ہے آھ اے بھائيو اور بہنو اس مبارک رات کى قدر کرو کہ تھوڑى سى محنت ميں کس قدر ثواب ميسر ہوتا ہے اور اس رات ميں خاص طور پر دعا قبول ہوتى ہے اگر تمام رات نہ جاگ سکو بابرکت هقدر بھى ہو سکے جاگو يہ نہ کرو کہ پست ہمتى سے بالکل ہى محروم رہو ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی ترغیب دلانے کے لئے اپنے اقوال و افعال سے اس بابرکت رات کی فضیلت کو واضح فرمایا تاکہ قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے سند بن جائے ۔
چنانچہ آئمہ و محدثین صحاح ستہ نے اپنی اپنی کتب میں لیلۃ القدر کی فضیلت پر باقاعدہ ابواب اور فصول قائم فرمائے ہیں ۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چند اصحاب کو شب قدر خواب میں (رمضان کی) سات آخری تاریخوں میں دکھائی گئی تھی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اری رؤياکم قد تواطأت فی السبع الاواخر، فمن کان متحريها فليتحرها فی السبع الاواخر.(صحيح بخاری، کتاب فضل ليلة القدر، رقم الحديث:1911،چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2021/05/blog-post_4.html?m=1
محترم قارئینِ کرام : شب کا معنی رات ، قدر کا معنی قدرو منزلت ، اندازہ ، فیصلہ کرنا اور تنگی ہے ۔ اس میں سال بھر کے لئے فیصلے کئے جاتے ہیں اسی لئے اسی لیلۃ الحکم بھی کہتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس رات اتنی کثرت سے زمین پر فرشتے اترتے ہیں کہ زمین تنگ ہوجاتی ہے اسی لئے اسے شب قدر یعنی تنگی کی رات۔ قدر و منزلت مالی رات ا س لئے کہلاتی ہے کیونکہ جو بھی خوش بخت مومن اس رات کو عبادت کرتا ہے اللہ عزوجل کے ہاں اس کی قدرومنزلت بڑھ جاتی ہے ۔
سميت بها للعظمة والشرف، لان العمل فيه يکون ذا قدر عندالله ۔ (تفسير مظهری، حضرت علامه قاضی محمد ثناء الله عثمانی مجددی پانی پتی)
ترجمہ : اس رات کو شرف و عظمت والی شب اس لئے کہتے ہیں کیونکہ اس رات کو کیا جانے والا ہر عمل خیر اللہ تعالیٰ کے ہاں قدرو منزلت والا ہوجاتا ہے ۔
اسی طرح علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس رات کو لیلۃ القدر کہنے کی وجہ یوں بیان کی ہے ۔ سميت بذالک لانه انزل فيها کتابا ذا قدر علی رسول ذي قدر علی امة ذات قدر ۔ (تفسير قرطبی، حضرت امام ابو عبدالله محمد بن احمد بن ابوبکر قرطبی)
ترجمہ : اسے شب قدر اس لئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ایک بڑی قدرو منزلت والی کتاب، بڑی قدر و منزلت والے رسول پر اور بڑی قدرو منزلت والی امت پر نازل فرمائی ۔
نزول قرآن کی رات
قرآن مجید میں ارشاد ہوا : انا انزلناه فی ليلة القدر ۔ (القدر،97:1)
ترجمہ : ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے ۔
قرآن مجید ایک ہی مرتبہ نازل نہیں ہوا بلکہ اس کا نزول 23 برس پر محیط ہے۔ سب سے پہلے قرآن حکیم کا نزول شب قدر ماہ رمضان میں سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیات سے ہوا ۔
شب قدر کی فضیلت
شب قدر وہ عظیم رات ہے جو نزول قرآن کی رات ہے اور یہی وہ رات ہے جس کی فضیلت میں رب العالمین نے پوری ایک سورت نازل کر دی ہے. جس کا مقام ایک ہزار مہینوں (تراسی سال چار مہینے) سے بہتر ہے : اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ.{1} وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ {2} لَيْلَةُ الْقَدْرِ ڏ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ {3} تَنَزَّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ {4} سَلٰمٌ هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ {5}
ترجمہ : یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا ۔ تو کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے ؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ اس (میں ہر کام) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل ) اترتے ہیں ۔ یہ رات سراسرسلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے) ۔ (القدر:5-1)
اس آيت کا شان نزول امام سيوطى نے نقل كيا کيا ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے ذکر فرمايا ايک مرد کا جو بنى اسرائيل کى قوم ميں سے تھا اور جس نے ہزار مہينے اللہ تعالى کے راستے يعنى جہاد ميں ہتھيار لگائے تھے پس تعجب کيا مسلمانوں نے اس بات سے اور افسوس کيا کہ ہم کو يہ نعمت کسى طرح ميسر ہو سکتى ہے سو نازل فرمائيں اللہ تعالى نے يہ آيتيں انا انزلناہ فى ليلة القدر وما ادرک ماليلة القدر ليلة القدر خير من الف شہر ۔ يعنى يہ شب قدر بہتر ہے ان ہزار مہينوں سے جن ميں اس مرد نے اللہ تعالى کے راستہ ميں ہتھيار لگائے تھے يعنى جہاد کيا تھا ۔ اور دوسرى روايت ميں ہے کہ بنى اسرائيل ميں ايک مرد تھا جو رات کو عبادت کرتا تھا صبح تک پھر جہاد کرتا تھا يعنى لڑتا تھا دشمن دين سے دن ميں شام تک سو عمل کيا اس نے ہزار مہينے يہى عمل کہ رات و عبادت کرتا تھا اور دن کو جہاد کرتا تھا پس نازل فرمائى اللہ تعالى نے آیة ليلة القدر خير من الف شہر۔ يعنى ان ہزار مہينوں سے جن ميں اس مرد نے عبادت و جہاد کيا تھا يہ رات بہتر ہے آھ اے بھائيو اور بہنو اس مبارک رات کى قدر کرو کہ تھوڑى سى محنت ميں کس قدر ثواب ميسر ہوتا ہے اور اس رات ميں خاص طور پر دعا قبول ہوتى ہے اگر تمام رات نہ جاگ سکو بابرکت هقدر بھى ہو سکے جاگو يہ نہ کرو کہ پست ہمتى سے بالکل ہى محروم رہو ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی ترغیب دلانے کے لئے اپنے اقوال و افعال سے اس بابرکت رات کی فضیلت کو واضح فرمایا تاکہ قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے سند بن جائے ۔
چنانچہ آئمہ و محدثین صحاح ستہ نے اپنی اپنی کتب میں لیلۃ القدر کی فضیلت پر باقاعدہ ابواب اور فصول قائم فرمائے ہیں ۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چند اصحاب کو شب قدر خواب میں (رمضان کی) سات آخری تاریخوں میں دکھائی گئی تھی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اری رؤياکم قد تواطأت فی السبع الاواخر، فمن کان متحريها فليتحرها فی السبع الاواخر.(صحيح بخاری، کتاب فضل ليلة القدر، رقم الحديث:1911،چشتی)
❤1👍1
ترجمہ : میں دیکھ رہا ہوں کہ تم سب کے خواب سات آخری تاریخوں پر متفق ہوگئے ہیں۔ اس لئے جسے اس کی تلاش ہو وہ اسی ہفتہ کی آخری (طاق) راتوں میں تلاش کرے ۔
اسی طرح ایک روایت جو کہ حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ رمضان کے دوسرے عشرے میں اعتکاف میں بیٹھے پھر بیس تاریخ کی صبح کو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اعتکاف سے نکلے اور ہمیں خطبہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : انی اريت ليلة القدر ثم انسيتها او نسيتها فالتمسوها فی العشر الاواخر فی الوتر وانی رايت انی اسجد فی ماء وطين فمن کان اعتکف مع رسول فليرجع ۔ (صحيح بخاری، کتاب فضل ليلة القدر، رقم الحديث:1912)
ترجمہ : مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی لیکن بھلادی گئی یا میں خود بھول گیا۔ اس لئے تم اسے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے (خواب میں) کہ گویا میں کیچڑ میں سجدہ کررہا ہوں ۔ اس لئے جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ پھر لوٹ آئے اور اعتکاف میں بیٹھے ۔
خیر ہم نے پھر اعتکاف کیا اس وقت آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہیں تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے بادل آیا اور بارش اتنی ہوئی کہ مسجد کی چھت سے پانی ٹپکنے لگا جو کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی۔ پھر نماز کی تکبیر ہوئی تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیچڑ میں سجدہ کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ کیچڑ کا نشان میں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیشانی پر دیکھا۔
شب قدر کو تلاش کرو ۔
شریعت نے شبِ قدر کی تعیین نہیں فرمائی بلکہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں اسے رکھ دیا گیا۔ اس کی حکمتیں تو اللہ رب العزت ہی بہتر جانتا ہے ۔ تاہم علماء کرام نے اپنی بصیرت سے اس کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بیان فرمائی ہے کہ زیادہ عبادت کرسکے ۔ اگر اس کی تعیین فرمادی جاتی تو امت مسلمہ کا ہر فرد صرف اسی متعین شدہ ایک ہی رات شب بیداری کرتا اور عبادت کرتا۔ تاہم اس کی تعیین نہ ہونے سے مفاد یہ ہے کہ لوگ کم از کم اسے پانے کے لئے پانچ طاق راتیں جاگیں گے اور اپنے خدا کے حضور استغفار کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکار مدینہ، سرور قلب و سینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بہت سی احادیث مبارکہ میں اسے تلاش کرنے کا حکم دیا ہے ۔
حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں پورا ایک باب قائم فرمایا ہے: ’’باب تحری ليلة القدر فی الوتر من العشر الاواخر‘‘ یعنی عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر کو تلاش کرنے کا باب۔ چنانچہ اس سلسلہ میں صدیقہ کائنات حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : تحرواليلة القدر فی الوتر من العشر الآواخر ۔ (متفق عليه. صحيح البخاری، رقم الحديث:1913، صحيح المسلم، رقم الحديث: 1165،چشتی)
ترجمہ : شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔
اسی طرح ایک روایت حضرت ابوسعید خدری سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اسے اکیسویں ، تئیسویں اور پچیسویں رات میں ڈھونڈو۔ (راوی کہتا ہے) میں عرض گزار ہوا کہ اے حضرت ابو سعید! (رضی اللہ عنہ) آپ اس شمار کو ہم سے بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: ہاں، میں نے نویں، ساتویں اور پانچویں کہا ہے یعنی جب اکیسویں رات گزر جائے تو اس کے ساتھ والی نویں ہے اور جب تیئسویں گزر جائے تو اس کے ساتھ والی ساتویں ہے اور جب پچیسویں گزر جائے تو اس کے ساتھ والی پانچویں ہے ۔ (سنن ابوداؤد، باب فی لیلۃ القدر، رقم الحدیث:1369)
شب قدر اور معمول مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم
اگر روایات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم شب قدر کا خاص اہتمام فرماتے اور عبادت کرتے ۔ چنانچہ موضوع کی مناسبت سے چند روایات حوالہ قرطاس کی جاتی ہیں ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : جب رمضان کے (آخری عشرہ) کے دس دن باقی رہ جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنا کمر بند کس لیتے اور اپنے اہل خانہ سے الگ ہوکر (عبادت و ریاضت) میں مشغول ہو جاتے ۔ (مسند احمد بن حنبل، رقم الحدیث:24422)
حضرت علی المرتضیٰ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں گھر والوں کو (عبادت کے لئے) جگاتے ۔ (جامع ترمذی، باب ماجاء فی لیلۃ القدر، رقم الحدیث:774)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں (عبادت کی) جس قدر کوشش فرماتے اتنی دوسرے دنوں میں نہ فرماتے‘‘۔ (جامع ترمذی، باب ماجاء فی لیلۃ القدر، رقم الحدیث775،چشتی)
اسی طرح ایک روایت جو کہ حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ رمضان کے دوسرے عشرے میں اعتکاف میں بیٹھے پھر بیس تاریخ کی صبح کو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اعتکاف سے نکلے اور ہمیں خطبہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : انی اريت ليلة القدر ثم انسيتها او نسيتها فالتمسوها فی العشر الاواخر فی الوتر وانی رايت انی اسجد فی ماء وطين فمن کان اعتکف مع رسول فليرجع ۔ (صحيح بخاری، کتاب فضل ليلة القدر، رقم الحديث:1912)
ترجمہ : مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی لیکن بھلادی گئی یا میں خود بھول گیا۔ اس لئے تم اسے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے (خواب میں) کہ گویا میں کیچڑ میں سجدہ کررہا ہوں ۔ اس لئے جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ پھر لوٹ آئے اور اعتکاف میں بیٹھے ۔
خیر ہم نے پھر اعتکاف کیا اس وقت آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہیں تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے بادل آیا اور بارش اتنی ہوئی کہ مسجد کی چھت سے پانی ٹپکنے لگا جو کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی۔ پھر نماز کی تکبیر ہوئی تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیچڑ میں سجدہ کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ کیچڑ کا نشان میں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیشانی پر دیکھا۔
شب قدر کو تلاش کرو ۔
شریعت نے شبِ قدر کی تعیین نہیں فرمائی بلکہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں اسے رکھ دیا گیا۔ اس کی حکمتیں تو اللہ رب العزت ہی بہتر جانتا ہے ۔ تاہم علماء کرام نے اپنی بصیرت سے اس کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بیان فرمائی ہے کہ زیادہ عبادت کرسکے ۔ اگر اس کی تعیین فرمادی جاتی تو امت مسلمہ کا ہر فرد صرف اسی متعین شدہ ایک ہی رات شب بیداری کرتا اور عبادت کرتا۔ تاہم اس کی تعیین نہ ہونے سے مفاد یہ ہے کہ لوگ کم از کم اسے پانے کے لئے پانچ طاق راتیں جاگیں گے اور اپنے خدا کے حضور استغفار کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکار مدینہ، سرور قلب و سینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بہت سی احادیث مبارکہ میں اسے تلاش کرنے کا حکم دیا ہے ۔
حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں پورا ایک باب قائم فرمایا ہے: ’’باب تحری ليلة القدر فی الوتر من العشر الاواخر‘‘ یعنی عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر کو تلاش کرنے کا باب۔ چنانچہ اس سلسلہ میں صدیقہ کائنات حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : تحرواليلة القدر فی الوتر من العشر الآواخر ۔ (متفق عليه. صحيح البخاری، رقم الحديث:1913، صحيح المسلم، رقم الحديث: 1165،چشتی)
ترجمہ : شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔
اسی طرح ایک روایت حضرت ابوسعید خدری سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اسے اکیسویں ، تئیسویں اور پچیسویں رات میں ڈھونڈو۔ (راوی کہتا ہے) میں عرض گزار ہوا کہ اے حضرت ابو سعید! (رضی اللہ عنہ) آپ اس شمار کو ہم سے بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: ہاں، میں نے نویں، ساتویں اور پانچویں کہا ہے یعنی جب اکیسویں رات گزر جائے تو اس کے ساتھ والی نویں ہے اور جب تیئسویں گزر جائے تو اس کے ساتھ والی ساتویں ہے اور جب پچیسویں گزر جائے تو اس کے ساتھ والی پانچویں ہے ۔ (سنن ابوداؤد، باب فی لیلۃ القدر، رقم الحدیث:1369)
شب قدر اور معمول مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم
اگر روایات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم شب قدر کا خاص اہتمام فرماتے اور عبادت کرتے ۔ چنانچہ موضوع کی مناسبت سے چند روایات حوالہ قرطاس کی جاتی ہیں ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : جب رمضان کے (آخری عشرہ) کے دس دن باقی رہ جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنا کمر بند کس لیتے اور اپنے اہل خانہ سے الگ ہوکر (عبادت و ریاضت) میں مشغول ہو جاتے ۔ (مسند احمد بن حنبل، رقم الحدیث:24422)
حضرت علی المرتضیٰ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں گھر والوں کو (عبادت کے لئے) جگاتے ۔ (جامع ترمذی، باب ماجاء فی لیلۃ القدر، رقم الحدیث:774)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں (عبادت کی) جس قدر کوشش فرماتے اتنی دوسرے دنوں میں نہ فرماتے‘‘۔ (جامع ترمذی، باب ماجاء فی لیلۃ القدر، رقم الحدیث775،چشتی)
❤1👍1
شب قدر کے وظائف
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عرض کیا: شب قدر کا کیا وظیفہ ہونا چاہئے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان الفاظ میں تلقین فرمائی ۔
اللهم انک عفو تحب العفو فاعف عنی ۔
ترجمہ : اے اللہ! بے شک تو معاف فرمانے والا ہے اور تو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے ۔ پس مجھے (بھی) معاف فرمادے ۔
علاوہ ازیں علماء کرام نے اور بھی مختلف اوراد و وظائف تحریر فرمائے ہیں ۔ جن میں سے چند حسب ذیل ہیں :
بارہ (12) رکعت نماز تین سلام سے پڑھیں ۔ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ القدر ایک مرتبہ اور سورہ الاخلاص سات بار پڑھیں اور سلام کے بعد سات سو مرتبہ استغفار پڑھیں ۔ استغفرالله ربی من کل ذنب واتوب اليه ۔
دو (2) رکعت نماز نفل پڑھیں ۔ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورۃ القدر تین تین مرتبہ اور سورہ اخلاص پانچ پانچ مرتبہ پڑھیں۔ بعد از سلام سورۃ اخلاص 7 مرتبہ پڑھیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں ۔
چار (4) رکعت نماز دو سلام (یعنی دو دو رکعتیں) سے پڑھنی ہیں ۔ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ التکاثر ایک ایک بار اور سورہ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھنی ہے ۔ قبر سے چھٹکارا ہوگا ۔ ان شاء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک کی آمد پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ ماہ جو تم پر آیا ہے ، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے ۔ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا، گویا وہ ساری خیر سے محروم رہا ۔ اور اس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو واقعتاً محروم ہو ۔ (سنن ابن ماجه)
شب قدر کا نام شب قدر اس لیے پڑا کہ یہ قدر یعنی مقام ومرتبے سے بنا ہوا ہے . کہتے ہیں فلاں عظیم القدر ہے یعنی مرتبے والا ہے .
یا یہ قدر یعنی تقدیر سے بنا ہے کیونکہ اس میں اس سال ہونے والی تمام چیزوں کی تقدیر لکھی جاتی ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے سب کچھ لکھا جاتا ہے. یہ اللہ تعالٰی کی حکمت، اس کی مضبوط کاریگری اور تخلیق کا بیان ہے .
کہتے ہیں کہ یہ نام اس لیے پڑا کہ اس رات میں عبادت کا بہت عظیم مرتبہ ہے . نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا فرمان ہے : قال رسول الله صلي الله عليه واله وسلم من قام ليلة القدر إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ۔
ترجمة : جو شب قدر میں ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ قیام کرے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں . (متفق علیہ)
ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ فِيهَا ؟ قَالَ: قُولِي: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي ۔
ترجمة : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : ”پڑھو «اللهم إنك عفو كريم تحب العفو فاعف عني» ” اے اللہ تو عفو و درگزر کرنے والا مہربان ہے ، اور عفو و درگزر کرنے کو تو پسند کرتا ہے ، اس لیے تو ہمیں معاف و درگزر کر دے ۔ (سنن الترمذي ، چشتی)
راجح بات یہ ہے کہ یہ رات رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوتی ہے اور ہر سال منتقل ہوتی رہتی ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : ﻓﺎﻟﺘﻤﺴﻮﻫﺎ ﻓﻲ اﻟﻌﺸﺮ اﻷﻭاﺧﺮ ﻓﻲ اﻟﻮﺗﺮ ۔
ترجمة : اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔ (صحیح بخاری )
شب قدر کی علامات
اس رات کے بعد صبح کو سورج میں تپش نہیں ہوتی. حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ﻭﺃﻣﺎﺭﺗﻬﺎ ﺃﻥ ﺗﻄﻠﻊ اﻟﺸﻤﺲ ﻓﻲ ﺻﺒﻴﺤﺔ ﻳﻮﻣﻬﺎ ﺑﻴﻀﺎء ﻻ ﺷﻌﺎﻉ ﻟﻬﺎ ۔
ترجمة : اس رات کی نشانی یہ ہے کہ سورج اس کی صبح بالکل سفید طلوع ہوتا ہے اس میں کوئی تپش نہیں ہوتی ۔ (صحیح مسلم)
اس رات موسم بالکل معتدل رہتا ہے نہ بہت سرد نہ بہت گرم . نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : ليلة القدر ليلة سمحة طلقة لا حارة ولا باردة تصبح الشمس صبيحتها ضعيفة حمراء ۔
ترجمة : شب قدر وہ رات ہے جو بالکل نرمی اور سادگی والی رات ہوتی ہے نہ گرم نہ ٹھنڈی، سورج اس کی صبح کو ہلکا سرخ ہوتا ہے ۔ (صحیح الجامع،چشتی)
اس رات چاند کسی تھالی کے ٹکڑے کی مانند طلوع ہوتا ہے. اللہ کے نبی صل اللہ علیہ و سلم صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں : أَيُّکُمْ يَذْکُرُ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ وَهُوَ مِثْلُ شِقِّ جَفْنَةٍ ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عرض کیا: شب قدر کا کیا وظیفہ ہونا چاہئے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان الفاظ میں تلقین فرمائی ۔
اللهم انک عفو تحب العفو فاعف عنی ۔
ترجمہ : اے اللہ! بے شک تو معاف فرمانے والا ہے اور تو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے ۔ پس مجھے (بھی) معاف فرمادے ۔
علاوہ ازیں علماء کرام نے اور بھی مختلف اوراد و وظائف تحریر فرمائے ہیں ۔ جن میں سے چند حسب ذیل ہیں :
بارہ (12) رکعت نماز تین سلام سے پڑھیں ۔ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ القدر ایک مرتبہ اور سورہ الاخلاص سات بار پڑھیں اور سلام کے بعد سات سو مرتبہ استغفار پڑھیں ۔ استغفرالله ربی من کل ذنب واتوب اليه ۔
دو (2) رکعت نماز نفل پڑھیں ۔ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورۃ القدر تین تین مرتبہ اور سورہ اخلاص پانچ پانچ مرتبہ پڑھیں۔ بعد از سلام سورۃ اخلاص 7 مرتبہ پڑھیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں ۔
چار (4) رکعت نماز دو سلام (یعنی دو دو رکعتیں) سے پڑھنی ہیں ۔ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ التکاثر ایک ایک بار اور سورہ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھنی ہے ۔ قبر سے چھٹکارا ہوگا ۔ ان شاء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک کی آمد پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ ماہ جو تم پر آیا ہے ، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے ۔ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا، گویا وہ ساری خیر سے محروم رہا ۔ اور اس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو واقعتاً محروم ہو ۔ (سنن ابن ماجه)
شب قدر کا نام شب قدر اس لیے پڑا کہ یہ قدر یعنی مقام ومرتبے سے بنا ہوا ہے . کہتے ہیں فلاں عظیم القدر ہے یعنی مرتبے والا ہے .
یا یہ قدر یعنی تقدیر سے بنا ہے کیونکہ اس میں اس سال ہونے والی تمام چیزوں کی تقدیر لکھی جاتی ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے سب کچھ لکھا جاتا ہے. یہ اللہ تعالٰی کی حکمت، اس کی مضبوط کاریگری اور تخلیق کا بیان ہے .
کہتے ہیں کہ یہ نام اس لیے پڑا کہ اس رات میں عبادت کا بہت عظیم مرتبہ ہے . نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا فرمان ہے : قال رسول الله صلي الله عليه واله وسلم من قام ليلة القدر إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ۔
ترجمة : جو شب قدر میں ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ قیام کرے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں . (متفق علیہ)
ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ فِيهَا ؟ قَالَ: قُولِي: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي ۔
ترجمة : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : ”پڑھو «اللهم إنك عفو كريم تحب العفو فاعف عني» ” اے اللہ تو عفو و درگزر کرنے والا مہربان ہے ، اور عفو و درگزر کرنے کو تو پسند کرتا ہے ، اس لیے تو ہمیں معاف و درگزر کر دے ۔ (سنن الترمذي ، چشتی)
راجح بات یہ ہے کہ یہ رات رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوتی ہے اور ہر سال منتقل ہوتی رہتی ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : ﻓﺎﻟﺘﻤﺴﻮﻫﺎ ﻓﻲ اﻟﻌﺸﺮ اﻷﻭاﺧﺮ ﻓﻲ اﻟﻮﺗﺮ ۔
ترجمة : اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔ (صحیح بخاری )
شب قدر کی علامات
اس رات کے بعد صبح کو سورج میں تپش نہیں ہوتی. حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ﻭﺃﻣﺎﺭﺗﻬﺎ ﺃﻥ ﺗﻄﻠﻊ اﻟﺸﻤﺲ ﻓﻲ ﺻﺒﻴﺤﺔ ﻳﻮﻣﻬﺎ ﺑﻴﻀﺎء ﻻ ﺷﻌﺎﻉ ﻟﻬﺎ ۔
ترجمة : اس رات کی نشانی یہ ہے کہ سورج اس کی صبح بالکل سفید طلوع ہوتا ہے اس میں کوئی تپش نہیں ہوتی ۔ (صحیح مسلم)
اس رات موسم بالکل معتدل رہتا ہے نہ بہت سرد نہ بہت گرم . نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : ليلة القدر ليلة سمحة طلقة لا حارة ولا باردة تصبح الشمس صبيحتها ضعيفة حمراء ۔
ترجمة : شب قدر وہ رات ہے جو بالکل نرمی اور سادگی والی رات ہوتی ہے نہ گرم نہ ٹھنڈی، سورج اس کی صبح کو ہلکا سرخ ہوتا ہے ۔ (صحیح الجامع،چشتی)
اس رات چاند کسی تھالی کے ٹکڑے کی مانند طلوع ہوتا ہے. اللہ کے نبی صل اللہ علیہ و سلم صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں : أَيُّکُمْ يَذْکُرُ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ وَهُوَ مِثْلُ شِقِّ جَفْنَةٍ ۔
❤2👍1
ترجمة : تم میں سے کسی کو یاد ہے کہ جس وقت چاند طلوع ہوا (وہ کیسا تھا) لیلةالقدر وہ رات ہے کہ جس میں چاند طشت کے ایک ٹکڑے کی طرح طلوع ہوتا ہے ۔ (صحیح مسلم )
صحیح احادیث سے صرف یہی علامات ثابت ہیں باقی عوام میں اس رات کے تعلق سے جو بہت ساری باتیں رائج ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ہے .
امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : الدعاء في الليلة أحب إلي من الصلاة”،وإذا كان يقرأ وهو يدعو ويرغب إلى الله في الدعاء والمسألة لعله يوافق ۔
ترجمة : اس رات میرے نزدیک دعا نماز سے زیادہ محبوب ہے. جب کہ وہ قرآن پڑھتے ہوئے دعا کرتا ہو اور اللہ کی طرف دعا اور سوال کرنے میں رغبت رکھتا ہو تو شاید اس رات کا اجر پا لے ۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ويُستحب أن يُكثر فيها من الدعوات بمهمات المسلمين، فهذا شعار الصالحين، وعباد الله المؤمنين الموحدين ۔ (شرح مسلم)
ترجمة : مستحب یہ ہے کہ اس رات مسلمانوں کے اہم امور کے تعلق سے زیاد سے زیادہ دعا کریں . یہی صالحین اور اللہ کے مومن موحد بندوں کا شعار ہے .
رجب المرجب ، شعبان المعظم ، رمضان المبارک اور اس ميں تین راتں بابرکت ہيں اس لے شب معراج ، شب برات ، ليلة القدر اس لے اس مہینوں میں برکت ہيں ۔
دعا : اے اللہ ہم سب کو شب قدر کی اس عظیم نعمت کا فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرماء آمین . اللهم تقبل منا ومنكم ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2021/05/blog-post_4.html?m=1
صحیح احادیث سے صرف یہی علامات ثابت ہیں باقی عوام میں اس رات کے تعلق سے جو بہت ساری باتیں رائج ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ہے .
امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : الدعاء في الليلة أحب إلي من الصلاة”،وإذا كان يقرأ وهو يدعو ويرغب إلى الله في الدعاء والمسألة لعله يوافق ۔
ترجمة : اس رات میرے نزدیک دعا نماز سے زیادہ محبوب ہے. جب کہ وہ قرآن پڑھتے ہوئے دعا کرتا ہو اور اللہ کی طرف دعا اور سوال کرنے میں رغبت رکھتا ہو تو شاید اس رات کا اجر پا لے ۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ويُستحب أن يُكثر فيها من الدعوات بمهمات المسلمين، فهذا شعار الصالحين، وعباد الله المؤمنين الموحدين ۔ (شرح مسلم)
ترجمة : مستحب یہ ہے کہ اس رات مسلمانوں کے اہم امور کے تعلق سے زیاد سے زیادہ دعا کریں . یہی صالحین اور اللہ کے مومن موحد بندوں کا شعار ہے .
رجب المرجب ، شعبان المعظم ، رمضان المبارک اور اس ميں تین راتں بابرکت ہيں اس لے شب معراج ، شب برات ، ليلة القدر اس لے اس مہینوں میں برکت ہيں ۔
دعا : اے اللہ ہم سب کو شب قدر کی اس عظیم نعمت کا فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرماء آمین . اللهم تقبل منا ومنكم ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2021/05/blog-post_4.html?m=1
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍2
❤1👍1
مائکرو فونک نماز
قدیم و جدید فقہا کی نظر میں
https://daruliftabareilly.com/737-2
عنوان:مائکرو فونک نماز قدیم و جدید فقہا کی نظر میں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں؟
(۱)
لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
(۲)
لاڈ اسپیکر پر نماز تراویح کا کیا حکم ہے؟
(۳)
دعوت اسلامی کے کچھ افراد کا کہنا ہے کہ ۹۸؍فیصد نماز لاؤڈ اسپیکر پر ہو رہی ہے ۲؍فیصد بغیر لاؤڈ اسپیکر اور یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ہم عوام الناس میں سے ۲۰؍لوگوں کے اس بات پر دستخط کر واکے دے دیں کہ امام صاحب لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھائیں ان نمازوں کے قیامت کے دن ہم ذمہ دار ہوں گے، آپ اس سے بری الذمہ رہیں گے اور یہ بھی کہنا کہ بریلی شریف سے ناجائز اور باقی جگہ سے جائز ہی کا فتوی ہے، کچھ لوگ مفتی سید افضل حسین مونگیری کا نام اس حوالے سے پیش کرتے ہیں، ایسے حالات میں ہم کو مطلع کیا جائے کیا واقعی بریلی شریف کے علاوہ دیگر جگہوں کے مفتیان کرام نے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو نماز میں جائز قرار دیا ہے اور ان حالات کے پیش نظر ہمارے لیے شریعت کا کیا حکم ہے جو حکم شرعی ہو وہ تفصیل و حوالجات کے ساتھ قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔
مستفتیین:اراکین کمیٹی مسجد قریشیان،تارین جلال نگر شاہ جہان پور (یو۔پی)
https://daruliftabareilly.com/737-2
باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی
الجواب: (۱،۲)نماز دین کا ایک اہم ستون ہے میدان محشر میں سب سے پہلے نماز کے بارے میں ہی باز پرس ہوگی، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نماز کے متعلق ارشاد فرمایا:[’’عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول:ان أول ما یحاسب بہ العبد یوم القیامۃ من عملہ صلاتہ فان صلحت فقد أفلح و أنجح و ان فسدت فقد خاب و خسر‘‘]۔(سنن الترمذی، باب ما جاء أول ما یحاسب بہ العبد یوم القیامۃ الصلاۃ، ج:۱، ص:۵۳۵، دار الغرب الاسلامی، بیروت)
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :سب سے پہلے قیامت کے دن بندہ سے اس کے عمل میں سے نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر یہ درست ہوئی تو کامیاب و با مراد ہوا اور اگر یہ بگڑی تو خائب و خاسر(ناکام و نا مراد) ہوا۔
اللہ رب العزت نے نماز کے بارے میں ارشاد فرمایا:{وَأَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِی}(القرآن، طٰہٰ:۲۰، آیت۱۴)
ترجمہ: اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔(کنز الایمان)
{قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُون۔الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خٰشعُون۔وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ}(القرآن، المؤمنون:۲۳، آیت:۱،۲،۳)
ترجمہ: بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے،جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں، اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے۔(کنز الایمان)
تفسیر کبیر میں {عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُون}کے تحت ہے:’’أنہ یدخل فیہ کل ما کان حراما أو مکروہا أو کان مباحا لکن لا یکون بالمرء الیہ ضرورۃ و حاجۃ‘‘۔(التفسیر الکبیر، ج:۲۳، ص:۲۶۱، دار احیاء التراث العربی، بیروت،)
ترجمہ: لغو میں ہر وہ چیز داخل ہے جو حرام یا مکروہ ہو یا مباح ہو لیکن انسان کو اس کی نہ ضرورت ہو نہ حاجت۔
اس سے معلوم ہوا کہ لاؤڈ اسپیکر کا نماز میں داخل کرنا یہ ’’لغو‘‘ ہے اور اس آیت کریمہ {وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ}میں مومنوں کی جو شان بیان کی گئی ہے اس کے خلاف ہے۔
حدیث شریف میں ہے:[’’و صلوا کما رأیتمونی أصلی۔‘‘](صحیح البخاری، باب رحمۃ الناس و البہائم، ج:۹، ص:۸، رقم الحدیث:۶۰۰۸، دار طوق النجاۃ، بیروت،۱۴۲۲ھ)
ترجمہ: تم جیسے مجھ کو نماز پڑھتا ہوا دیکھو ویسے ہی پڑھو۔
اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز جیسی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت ہے ویسی ہی پڑھی جائے گی اس میں لاؤڈ اسپیکر وغیرہ کسی بھی چیز کو داخل نہیں کیا جائے گا۔
نماز کی حالت میں اصل یہ ہے کہ تمام مقتدی امام کی تکبیر پر رکوع و سجود کریں امام کے علاوہ کسی اور کو نماز میں بلا ضرورت شرعی کسی بھی طرح کی آواز بلند کرنے کی اجازت نہیںیہاں تک کہ امام کے پیچھے مقتدی کا بلا ضرورت بلند آواز سے تکبیر کہنا بھی مکروہ ہے جیسا کہ حضرت امام طحطاوی قدس سرہ(م۱۲۳۱ھ) تحریر فرماتے ہیں:’’واعلم أن التکبیر عند عدم الحاجۃ الیہ بأن یبلغہم صوت الامام مکروہ و فی السیرۃ الحلبیۃ اتفق الأئمۃ علیٰ أن التبلیغ فی ہذہ الحالۃ بدعۃ منکرۃ أی مکروہۃ‘‘۔(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص:۲۶۲، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔
ترجمہ: معلوم ہو کہ بغیر ضرورت مکبر کی تکبیر یعنی اگر امام کی آواز مقتدیوں تک پہنچ رہی ہو مکروہ ہے۔ ’’السیرۃ الحلبیۃ‘‘ میں ہے چاروں اماموں کا کہنا ہے کہ اس حالت میں تکبیر بدعت سیئہ ہے۔
قدیم و جدید فقہا کی نظر میں
https://daruliftabareilly.com/737-2
عنوان:مائکرو فونک نماز قدیم و جدید فقہا کی نظر میں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں؟
(۱)
لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
(۲)
لاڈ اسپیکر پر نماز تراویح کا کیا حکم ہے؟
(۳)
دعوت اسلامی کے کچھ افراد کا کہنا ہے کہ ۹۸؍فیصد نماز لاؤڈ اسپیکر پر ہو رہی ہے ۲؍فیصد بغیر لاؤڈ اسپیکر اور یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ہم عوام الناس میں سے ۲۰؍لوگوں کے اس بات پر دستخط کر واکے دے دیں کہ امام صاحب لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھائیں ان نمازوں کے قیامت کے دن ہم ذمہ دار ہوں گے، آپ اس سے بری الذمہ رہیں گے اور یہ بھی کہنا کہ بریلی شریف سے ناجائز اور باقی جگہ سے جائز ہی کا فتوی ہے، کچھ لوگ مفتی سید افضل حسین مونگیری کا نام اس حوالے سے پیش کرتے ہیں، ایسے حالات میں ہم کو مطلع کیا جائے کیا واقعی بریلی شریف کے علاوہ دیگر جگہوں کے مفتیان کرام نے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو نماز میں جائز قرار دیا ہے اور ان حالات کے پیش نظر ہمارے لیے شریعت کا کیا حکم ہے جو حکم شرعی ہو وہ تفصیل و حوالجات کے ساتھ قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔
مستفتیین:اراکین کمیٹی مسجد قریشیان،تارین جلال نگر شاہ جہان پور (یو۔پی)
https://daruliftabareilly.com/737-2
باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی
الجواب: (۱،۲)نماز دین کا ایک اہم ستون ہے میدان محشر میں سب سے پہلے نماز کے بارے میں ہی باز پرس ہوگی، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نماز کے متعلق ارشاد فرمایا:[’’عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول:ان أول ما یحاسب بہ العبد یوم القیامۃ من عملہ صلاتہ فان صلحت فقد أفلح و أنجح و ان فسدت فقد خاب و خسر‘‘]۔(سنن الترمذی، باب ما جاء أول ما یحاسب بہ العبد یوم القیامۃ الصلاۃ، ج:۱، ص:۵۳۵، دار الغرب الاسلامی، بیروت)
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :سب سے پہلے قیامت کے دن بندہ سے اس کے عمل میں سے نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر یہ درست ہوئی تو کامیاب و با مراد ہوا اور اگر یہ بگڑی تو خائب و خاسر(ناکام و نا مراد) ہوا۔
اللہ رب العزت نے نماز کے بارے میں ارشاد فرمایا:{وَأَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِی}(القرآن، طٰہٰ:۲۰، آیت۱۴)
ترجمہ: اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔(کنز الایمان)
{قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُون۔الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خٰشعُون۔وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ}(القرآن، المؤمنون:۲۳، آیت:۱،۲،۳)
ترجمہ: بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے،جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں، اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے۔(کنز الایمان)
تفسیر کبیر میں {عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُون}کے تحت ہے:’’أنہ یدخل فیہ کل ما کان حراما أو مکروہا أو کان مباحا لکن لا یکون بالمرء الیہ ضرورۃ و حاجۃ‘‘۔(التفسیر الکبیر، ج:۲۳، ص:۲۶۱، دار احیاء التراث العربی، بیروت،)
ترجمہ: لغو میں ہر وہ چیز داخل ہے جو حرام یا مکروہ ہو یا مباح ہو لیکن انسان کو اس کی نہ ضرورت ہو نہ حاجت۔
اس سے معلوم ہوا کہ لاؤڈ اسپیکر کا نماز میں داخل کرنا یہ ’’لغو‘‘ ہے اور اس آیت کریمہ {وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ}میں مومنوں کی جو شان بیان کی گئی ہے اس کے خلاف ہے۔
حدیث شریف میں ہے:[’’و صلوا کما رأیتمونی أصلی۔‘‘](صحیح البخاری، باب رحمۃ الناس و البہائم، ج:۹، ص:۸، رقم الحدیث:۶۰۰۸، دار طوق النجاۃ، بیروت،۱۴۲۲ھ)
ترجمہ: تم جیسے مجھ کو نماز پڑھتا ہوا دیکھو ویسے ہی پڑھو۔
اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز جیسی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت ہے ویسی ہی پڑھی جائے گی اس میں لاؤڈ اسپیکر وغیرہ کسی بھی چیز کو داخل نہیں کیا جائے گا۔
نماز کی حالت میں اصل یہ ہے کہ تمام مقتدی امام کی تکبیر پر رکوع و سجود کریں امام کے علاوہ کسی اور کو نماز میں بلا ضرورت شرعی کسی بھی طرح کی آواز بلند کرنے کی اجازت نہیںیہاں تک کہ امام کے پیچھے مقتدی کا بلا ضرورت بلند آواز سے تکبیر کہنا بھی مکروہ ہے جیسا کہ حضرت امام طحطاوی قدس سرہ(م۱۲۳۱ھ) تحریر فرماتے ہیں:’’واعلم أن التکبیر عند عدم الحاجۃ الیہ بأن یبلغہم صوت الامام مکروہ و فی السیرۃ الحلبیۃ اتفق الأئمۃ علیٰ أن التبلیغ فی ہذہ الحالۃ بدعۃ منکرۃ أی مکروہۃ‘‘۔(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص:۲۶۲، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔
ترجمہ: معلوم ہو کہ بغیر ضرورت مکبر کی تکبیر یعنی اگر امام کی آواز مقتدیوں تک پہنچ رہی ہو مکروہ ہے۔ ’’السیرۃ الحلبیۃ‘‘ میں ہے چاروں اماموں کا کہنا ہے کہ اس حالت میں تکبیر بدعت سیئہ ہے۔
❤2👍1