🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.83K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from ✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰
السلام عليكم و رحمة الله و بركاته
۱۔ اعتکاف کی حالت میں مسجد میں کھینی، تمباکو وغیرہ کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟
۲۔ اگر کسی نے کھالیا تو اس پر کیا حکم عائد ہوگا؟
۳۔ جو تمباکو، کھینی کا عادی ہے اور اعتکاف میں بیٹھا ہے اور وہ تمباکو کھانا چاہے تو کیا طریقہ ہے ؟
برائے مہربانی مذکورہ تمام سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں ۔
المستفتی : کمال اختر خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
جواب ( 1 ۔ 2 ۔ 3 ) معتکف کھینی تمباکو پان بیڑی سگریٹ استعمال کرنے کے لئے فنائے مسجد میں نکل سکتا ہے لیکن معتکف کا مذکورہ اشیاء مسجد میں استعمال کرنا منع ہے کیونکہ مسجد کو گندگی سے بچانے اور صاف رکھنے کا حکم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ " وعَهدۡنَاۤ اِلٰۤی اِبۡرٰهمَ وَ اسۡمٰعِیۡلَ اَنۡ طَهرَا بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَ الۡعٰکِفِیۡنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ " اھ یعنی اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم اور اسماعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے " اھ ( پ 1 سورہ بقرہ آیت 125 ) اور اسی طرح ان کے استعمال سے مسجد کو بدبو سے بچانا بہت مشکل ہے اور مسجدوں کو بد بو سے بچانے کا حکم ہے رسول ﷲ صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ " جنبوا مساجدكم صبيانكم و مجانينكم و شراءكم و بيعكم و خصوماتكم و رفع اصواتكم و اقامة حدودكم و سل سيوفكم و اتخذوا على ابوابها المطاهر و جمروها فى الجمع " اھ یعنی بچوں ، پاگلوں ، خرید و فروخت لڑائی جھگڑوں چیخ و پکار ، قیام حدود ، تلواروں کے شور سے اپنی مساجد کو بچاؤ اور وضو خانہ و غسل خانہ و لیٹرین وغیرہ مسجد کے دروازے کے قریب بناؤ ( تاکہ ان کی وجہ سے مسجد میں بدبو نہ آئے اور مسجد کی صفائی و ستھرائی متاثر نہ ہو ) جمعہ کے دن مساجد کو خوشبودار کیا کرو " اھ ( سنن ابن ماجہ ص 54 : ما یکرہ فی المساجد ، مطبوعہ کراچی ) اور حضور صدر الشریعہ فرماتے ہیں کہ " فنائے مسجد جو جگہ مسجد سے باہر اس سے ملحق ضروریات مسجد کے لئے ہے مثلاً جوتا اتارنے کی جگہ اور غسل خانہ وغیرہ ان میں جانے سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا " اھ ( فتاوی امجدیہ ج 1 ص 399 )
لہذا مذکورہ باتوں سے ثابت ہوا کہ ان چیزوں کا مسجد میں کھانا جائز نہیں ہاں فنائے مسجد میں کھانے کے لیے نکل سکتے ہیں مگر حتی الامکان ان چیزوں کے کھانے سے پرہیز کریں اور خوب منھ صاف کرنے بعد ہی مسجد میں داخل ہوں کیونکہ ان کی بو جب تک باقی ہو مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں ملخصا اھ ( فتاوی فیض الرسول ج 1 ص 535 )

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
Forwarded from ✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰
السلام علیکم ورحمت اللہ تعالیٰ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس بارے میں کہ معتکف گرمی کی شدت کی وجہ سے مسجد کی چھت پر سونے کے لیے جا سکتا ہے یا نہیں. اور مسجد کے احاطے میں ٹہل سکتا ہے کہ نہیں ۔ بحوالہ کتب جواب عنایت فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں ۔
سائل : احمد کمال رضوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
جواب : بلاضرورت معتکف یا غیر معتکف کو مسجدکی چھت پر چڑھنا مکروہ ہے کیونکہ اسمیں بے ادبی ہے لہذا گرمی وغیرہ کی شدت کی وجہ سے بھی مسجد کی چھت پر سونے کے لئے نہیں جا سکتے کہ یہ عذر نہیں ہاں مسجد کی صحن وغیرہ میں جا سکتے ہیں فتاوی عالمگیری میں ہے کہ " الصعود علی سطح کل مسجد مکروہ و لھذا اذا اشتد الحر یکرہ ان یصلوا بالجماعة فوقه الا اذا ضاق المسجد فحینئذ لایکرہ الصعود علی سطحه للضرورۃ کذا فی الغرائب " اھ ( فتاوی عالمگیری ج 5 ص 322 : کتاب الکراھیة ، آداب المسجد ) اور رد المحتار میں ہے کہ " رایت القهستانی نقل عن المفید کراھة الصعود علی سطح المسجد " اھ و یلزمه کراھة الصلاۃ ایضا فوقه فلیتامل " اھ ( رد المحتار ج 2 ص 428 : مطلب فی احکام المسجد ، مطبوعہ زکریا )
ان دونوں فقہی عبارتوں سے واضح ہوا کہ مسجد کے چھت پر بلاضروت چڑھنا مکروہ ہے ہاں اگر ضرورت ہو تو معتکف مسجد کے اندر سے جا سکتا ہے اور شدت گرمی عذر نہیں ہے کہ اس کے باعث چڑھنا جائز ہو ۔ ھکذا فی الفتاوی الرضویۃ من الجزء الثامن علی 57 )
اور اعتکاف کے معاملے میں فنائے مسجد مسجد کے حکم میں ہے صدر الشریعہ ، بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ " فنائے مسجد جو جگہ مسجد سے باہر اس سے ملحق ضروریات مسجد کے لئے ہے مثلاً جوتا اتارنے کی جگہ ، غسل خانہ وغیرہ ان میں جانے سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا فنائے مسجد اس معاملے میں حکم مسجد میں ہے " اھ ( فتاوی امجدیہ ج 1 ص 399 : مکتبہ رضویہ کراچی )

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
Forwarded from SDQ...
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ معتکف آذان دے سکتا ہے؟
مدلل جواب عنایت فرمائیں
المستفتی : عسجد رضا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*جواب* معتکف اذان دے سکتا ہے اگرچہ اذان کے لیے اسے مسجد سے باہر ہی کیوں نا نکلنا پڑے ، اس سے اعتکاف نھیں ٹوٹے گا چاہے سنت اعتکاف ہو یا واجب۔
کما فی الدر المختار " وحرم علیہ ای علی المعتکف اعتکافا واجبا الخروج الا لحاجۃ الانسان طبعیۃ او شرعیۃ کعید واذان لو مؤذنا " اھ اس کے تحت علامہ شامی لکھتے ھیں " قولہ لو مؤذنا ھذا قول ضعیف والصحیح انہ لا فرق بین المؤذن و غیرہ کما فی البحر و الامداد " اھ (در مختار ج ۶ ص ۲۲۴ تا ۶۲۴)

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئ فون نمبر 7666456313
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-09-1443 ᴴ | 27-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-09-1443 ᴴ | 28-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-09-1443 ᴴ | 28-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-09-1443 ᴴ | 28-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1