🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-09-1443 ᴴ | 25-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-09-1443 ᴴ | 26-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-09-1443 ᴴ | 26-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-09-1443 ᴴ | 26-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤3👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯سراج الہند شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شاہ عبدالعزیز۔
لقب: سراج الہند۔
تاریخی نام: غلام حلیم۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے: شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اللہ بن شاہ عبدالرحیم بن شاہ وجیہ الدین شہید۔ (علیہم الرحمہ)
آپ کا سلسلہ نسب 34 واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔
تاریخِ ولادت: 25 رمضان المبارک 1159ھ بمطابق 10 اکتوبر 1746ء بروز جمعۃ المبارک بوقتِ سحر، دہلی میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے گھر پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم: جمیع علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل و تکمیل اپنے والدِ ماجد اور انکے خلفاء سے ہوئی۔ ان میں سے باالخصوص شیخ اجل شاہ محمد عاشق پھلتی اور مولانا محمد امین سے استفادہ کیا۔ بچپن میں قرآنِ مجید حفظ کر لیا تھا، اور پندرہ سال کی عمر میں جمیع علوم سے فراغت حاصل کرلی تھی۔
ختمِ قرآن میں رسول اللّٰه ﷺ کی آمد: ختمِ قرآن کے بعد جب آپ نے پہلی مرتبہ تراویح میں قرآن میں سنایا۔ تراویح کی نماز مکمل ہوئی تو ایک شخص عربی لباس میں تشریف لائے اور فرمایا:
رسول اللہﷺ کہاں تشریف فرماہیں؟
جو لوگ وہاں موجود تھے سب دوڑتے ہوئے آئے اور اس شخص کو گھیر لیا اور پوچھا حضرت آپ کیا فرما رہے ہیں اور آپ کا نام کیا ہے؟
انہوں نے فرمایا! میرا نام ابوہریرہ ہے۔ جنابِ سید المرسلینﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ عبدالعزیز دہلوی کا قرآن ِمجید سننے چلیں گے اور پھر مجھے کسی کام کیلئے بھیج دیا اس لئے مجھے دیر ہوگئی۔ یہ فرمایا اور تشریف لے گئے۔
(کمالتِ عزیزی ص:19)
بیعت و خلافت: اپنے والدِ گرامی حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ سے بیعت و خلافت حاصل تھی۔ سترہ سال کی عمر میں والد کے جانشین مقرر ہوئے۔ شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد ان کے سوئم میں حضرت مولانا شاہ محمد فخرالدین دہلوی چشتی علیہ الرحمہ نے آپ کی دستار بندی کی اور بطور بزرگانہ ارشاد فرمایا:
"آپ کے والد سے بعض مقامات پر جو تسامحات واقع ہوئے ہیں انکو مٹانے کی کوشش کیجئے گا۔" (تذکرہ علمائے اہل سنت ص:140)
سیرت و خصائص: خطۂ ہند میں استاذ الاساتذہ، بقیۃ السلف، حجۃ الخلف، خاتم المفسرین و المحدثین، جامع علومِ نقلیہ و عقلیہ، مرجع الفریقین، مجمع الطریقین، حبرِ شریعت، بحرِ طریقت، حضرت شیخ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللّٰه علیہ۔
آپ داراز قد، لاغر جسم، گندمی رنگ، وجیہ شکل، خوبصورت سنت کے مطابق گول داڑھی، اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔آپ ظاہری اور باطنی علوم کے جامع، علم و عمل کے پیکر اور زہد و تقویٰ کے سچے نمونہ تھے۔آپ نرم طبیعت، خوش اخلاق، اور ہر چیز میں ستھرا مذاق رکھتے تھے۔ اپنے وقت کے علماء و مشائخ آپ ہی کی طرف رجوع کرتے تھے۔ تمام علوم متداولہ اور غیر متداولہ کے علاوہ بہت سے فنون عقلیہ و نقلیہ میں کامل دستگاہ رکھتے تھے۔ حافظہ آپ کا بہت قوی تھا۔ ہزاروں احادیث اور عربی اشعار ازبر تھے۔ تعبیر الرؤیا میں بڑا ملکہ تھا۔ آپ کا وعظ بڑا پر مغز اور پر اثر ہوتا تھا۔ فقہ و حدیث اور علم تفسیر میں یکتائے زمانہ تھے۔ سب لوگ کیا موافق اور کیا مخالف آپ کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔ تفسیر عزیزی کے نام سے ان کی تفسیر کا کچھ حصہ آج موجود ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ اہل تشیع کے رد میں تحفہ اثناعشریہ ایسی کتاب لکھی کہ آج تک شیعہ علماء اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ تمام عمر درس و تدریس اور دینی خدمات میں گزاری۔ خصوصاً حدیث کا فیض ہندوستان میں عام کیا۔ ہندوستان کے اکثر محدثین کا سلسلہ اسناد آپ تک اور آپ کے ذریعے شاہ ولی اللہ تک پہنچتا ہے۔ کوئی علم اور فن ایسا نہ تھا جس میں آپ کو ملکہ حاصل نہ ہو۔
مولانا ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
حضرت مولانا شاہ عبد العزیز صاحب ۱۱۵۹ھ تا ۱۲۳۹ھ میں اس لیے کہ مجدد کی صفات ان میں پائی جاتی ہیں۔ اس لیے کہ آپ بارہویں صدی کے آخر میں صاحب علم و فضل و زہد و تقویٰ مشہور دیار و اطراف تھے۔ اور تیرہویں صدی کے آغاز میں ان کا طوطی ہندوستان میں بولتا تھا اور ساری عمر دینی خدمت درس و تدریس افتاء تصنیف وعظ و سند، حمایت دین اور رد مفسدین میں صرف اوقات فرماتے رہے۔ (مجدد اعظم ص:42)
رسول اللّٰهﷺ حاضر و ناظر ہیں: شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی "ویکون الرسول علیکم شہیدا" کے تحت تفسیر عزیزی میں فرماتے ہیں:
ترجمہ: یعنی رسول تم پر گواہ ہیں۔ کیونکہ حضورﷺ نورِ نبوت سے ہر دین دار کے اس رتبہ پر مطلع ہیں، کہ جس تک وہ پہنچا ہوا ہے۔ اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کے ایمان کی حقیقت کیا ہے، اور اس حجاب سے بھی واقف ہیں کی جو اس کے ترقیِ درجات میں رکاوٹ ہے۔ سو حضورﷺ تمہارے گناہوں اور تمہارے ایمان کے درجات کو، اور تمہارے نیک اور بد اعمال کو اور تمہاتے خلوص و نفاق کو جانتے اور پہنچانتے ہیں۔ اسی
-----------------------------------------------------------
🕯سراج الہند شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شاہ عبدالعزیز۔
لقب: سراج الہند۔
تاریخی نام: غلام حلیم۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے: شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اللہ بن شاہ عبدالرحیم بن شاہ وجیہ الدین شہید۔ (علیہم الرحمہ)
آپ کا سلسلہ نسب 34 واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔
تاریخِ ولادت: 25 رمضان المبارک 1159ھ بمطابق 10 اکتوبر 1746ء بروز جمعۃ المبارک بوقتِ سحر، دہلی میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے گھر پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم: جمیع علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل و تکمیل اپنے والدِ ماجد اور انکے خلفاء سے ہوئی۔ ان میں سے باالخصوص شیخ اجل شاہ محمد عاشق پھلتی اور مولانا محمد امین سے استفادہ کیا۔ بچپن میں قرآنِ مجید حفظ کر لیا تھا، اور پندرہ سال کی عمر میں جمیع علوم سے فراغت حاصل کرلی تھی۔
ختمِ قرآن میں رسول اللّٰه ﷺ کی آمد: ختمِ قرآن کے بعد جب آپ نے پہلی مرتبہ تراویح میں قرآن میں سنایا۔ تراویح کی نماز مکمل ہوئی تو ایک شخص عربی لباس میں تشریف لائے اور فرمایا:
رسول اللہﷺ کہاں تشریف فرماہیں؟
جو لوگ وہاں موجود تھے سب دوڑتے ہوئے آئے اور اس شخص کو گھیر لیا اور پوچھا حضرت آپ کیا فرما رہے ہیں اور آپ کا نام کیا ہے؟
انہوں نے فرمایا! میرا نام ابوہریرہ ہے۔ جنابِ سید المرسلینﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ عبدالعزیز دہلوی کا قرآن ِمجید سننے چلیں گے اور پھر مجھے کسی کام کیلئے بھیج دیا اس لئے مجھے دیر ہوگئی۔ یہ فرمایا اور تشریف لے گئے۔
(کمالتِ عزیزی ص:19)
بیعت و خلافت: اپنے والدِ گرامی حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ سے بیعت و خلافت حاصل تھی۔ سترہ سال کی عمر میں والد کے جانشین مقرر ہوئے۔ شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد ان کے سوئم میں حضرت مولانا شاہ محمد فخرالدین دہلوی چشتی علیہ الرحمہ نے آپ کی دستار بندی کی اور بطور بزرگانہ ارشاد فرمایا:
"آپ کے والد سے بعض مقامات پر جو تسامحات واقع ہوئے ہیں انکو مٹانے کی کوشش کیجئے گا۔" (تذکرہ علمائے اہل سنت ص:140)
سیرت و خصائص: خطۂ ہند میں استاذ الاساتذہ، بقیۃ السلف، حجۃ الخلف، خاتم المفسرین و المحدثین، جامع علومِ نقلیہ و عقلیہ، مرجع الفریقین، مجمع الطریقین، حبرِ شریعت، بحرِ طریقت، حضرت شیخ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللّٰه علیہ۔
آپ داراز قد، لاغر جسم، گندمی رنگ، وجیہ شکل، خوبصورت سنت کے مطابق گول داڑھی، اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔آپ ظاہری اور باطنی علوم کے جامع، علم و عمل کے پیکر اور زہد و تقویٰ کے سچے نمونہ تھے۔آپ نرم طبیعت، خوش اخلاق، اور ہر چیز میں ستھرا مذاق رکھتے تھے۔ اپنے وقت کے علماء و مشائخ آپ ہی کی طرف رجوع کرتے تھے۔ تمام علوم متداولہ اور غیر متداولہ کے علاوہ بہت سے فنون عقلیہ و نقلیہ میں کامل دستگاہ رکھتے تھے۔ حافظہ آپ کا بہت قوی تھا۔ ہزاروں احادیث اور عربی اشعار ازبر تھے۔ تعبیر الرؤیا میں بڑا ملکہ تھا۔ آپ کا وعظ بڑا پر مغز اور پر اثر ہوتا تھا۔ فقہ و حدیث اور علم تفسیر میں یکتائے زمانہ تھے۔ سب لوگ کیا موافق اور کیا مخالف آپ کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔ تفسیر عزیزی کے نام سے ان کی تفسیر کا کچھ حصہ آج موجود ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ اہل تشیع کے رد میں تحفہ اثناعشریہ ایسی کتاب لکھی کہ آج تک شیعہ علماء اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ تمام عمر درس و تدریس اور دینی خدمات میں گزاری۔ خصوصاً حدیث کا فیض ہندوستان میں عام کیا۔ ہندوستان کے اکثر محدثین کا سلسلہ اسناد آپ تک اور آپ کے ذریعے شاہ ولی اللہ تک پہنچتا ہے۔ کوئی علم اور فن ایسا نہ تھا جس میں آپ کو ملکہ حاصل نہ ہو۔
مولانا ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
حضرت مولانا شاہ عبد العزیز صاحب ۱۱۵۹ھ تا ۱۲۳۹ھ میں اس لیے کہ مجدد کی صفات ان میں پائی جاتی ہیں۔ اس لیے کہ آپ بارہویں صدی کے آخر میں صاحب علم و فضل و زہد و تقویٰ مشہور دیار و اطراف تھے۔ اور تیرہویں صدی کے آغاز میں ان کا طوطی ہندوستان میں بولتا تھا اور ساری عمر دینی خدمت درس و تدریس افتاء تصنیف وعظ و سند، حمایت دین اور رد مفسدین میں صرف اوقات فرماتے رہے۔ (مجدد اعظم ص:42)
رسول اللّٰهﷺ حاضر و ناظر ہیں: شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی "ویکون الرسول علیکم شہیدا" کے تحت تفسیر عزیزی میں فرماتے ہیں:
ترجمہ: یعنی رسول تم پر گواہ ہیں۔ کیونکہ حضورﷺ نورِ نبوت سے ہر دین دار کے اس رتبہ پر مطلع ہیں، کہ جس تک وہ پہنچا ہوا ہے۔ اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کے ایمان کی حقیقت کیا ہے، اور اس حجاب سے بھی واقف ہیں کی جو اس کے ترقیِ درجات میں رکاوٹ ہے۔ سو حضورﷺ تمہارے گناہوں اور تمہارے ایمان کے درجات کو، اور تمہارے نیک اور بد اعمال کو اور تمہاتے خلوص و نفاق کو جانتے اور پہنچانتے ہیں۔ اسی
❤1👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
لئے حضورﷺ کی شہادت دنیا و آخرت میں بحکمِ شرع امت کے حق میں مقبول اور واجب العمل ہیں۔ (تفسیرِ عزیزی،پارہ 2)
نوٹ: حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی تصنیفات میں اسلام دشمن قوتیں، روافض، خوارج، غیر مقلدین نے بہت تحریفات کردی ہیں، اور تحریفات کا سلسلہ قبلہ شاہ صاحب کی زندگی میں ہی شروع ہوگیا تھا۔ جیساکہ بہت سی کتب میں اس بات کو علماء حق بیان کر دیا ہے۔
(شاہ ولی اللہ اور ان کا خاندان)
وصال: اسی سال کی عمر میں 9/شوال المکرم 1239ھ بمطابق 5 جون 1823ء بروز ہفتہ کو وصال فرمایا۔ آپ کا مزار دہلی میں مرجعِ خاص و عام ہے۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نوٹ: حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی تصنیفات میں اسلام دشمن قوتیں، روافض، خوارج، غیر مقلدین نے بہت تحریفات کردی ہیں، اور تحریفات کا سلسلہ قبلہ شاہ صاحب کی زندگی میں ہی شروع ہوگیا تھا۔ جیساکہ بہت سی کتب میں اس بات کو علماء حق بیان کر دیا ہے۔
(شاہ ولی اللہ اور ان کا خاندان)
وصال: اسی سال کی عمر میں 9/شوال المکرم 1239ھ بمطابق 5 جون 1823ء بروز ہفتہ کو وصال فرمایا۔ آپ کا مزار دہلی میں مرجعِ خاص و عام ہے۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯غزالیِ زماں رازی دوراں سید احمد سعید شاہ کاظمی رحمۃ اللہ علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* سید احمد سعید شاہ کاظمی۔
*کنیت:* ابوالنجم۔
*لقب:* غزالیِ زماں، رازی دوراں، امام اہل سنت۔
*سلسلۂ نسب اس طرح ہے:* غزالیِ زماں سید احمد سعید شاہ کاظمی بن حضرت سید مختار احمد کاظمی بن حافظ سید یوسف علی شاہ چشتی قادری بن مولانا سید وصی نقشبندی مجددی قادری بن محمد مولانا سید شاہ صبغت اللہ نقشبندی مجددی چشتی صابری بن مولانا سید شاہ سیف اللہ چشتی قادری بن مولانا سید میرمحمد اشرف دہلوی ثم امروہی۔الیٰ آخرہ۔ علیہم الرحمہ۔
آپ کا سلسلہ نسب 44 واسطوں سے سرورعالم ﷺ تک پہنچتا ہے۔
*(حیاتِ غزالیِ زماں:33)*
آپ حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللّٰه عنہ کی اولاد سے ہیں۔ اس لئے’’کاظمی‘‘ کہلاتے ہیں۔
*غزالیِ زماں، رازی ِدوراں کی وجہ تسمیہ:* محدث اعظم، وحید العصر، قدوۃ العلماء حضرت سید محمد محدث کچھوچھوی رحمۃ اللّٰه علیہ نےعلماء کرام کی مجلس جس میں کثیر علماء کرام و دانشوران کی تعداد، اور عوام کا ایک جم غفیر موجودتھا، میں ’’غزالیِ زماں، رازیِ دوراں‘‘ کا خطاب عطاء فرمایا۔ علماء کرام اور عوام نے فلگ شگاف نعروں کے ساتھ حضرت محدث کچھوچھوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے قول کی تصدیق کی، اس وقت سے آج تک یہ القاب حضرت علامہ کاظمی رحمۃ اللّٰه علیہ کا عرف قرار پائے ہیں۔
*(حیاتِ غزالیِ زماں:86)*
*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 4؍ربیع الثانی 1331ھ،مطابق 13؍مارچ 1913ء ،بوقت صبح چار بجے، محلہ کٹکوئی شہر امروہہ، ضلع مراد آباد (انڈیا) میں ہوئی۔ (اب امروہہ ایک مستقل ضلع بن چکا ہے۔ (انسائیکلوپیڈیا)۔
*تحصیلِ علم:* آپ ایک علمی خاندان کے روشن چراغ ہیں۔ آپ کا خاندان علم و فضل، زہد و تقویٰ میں پورے ہندوستان میں معروف تھا۔ بچپن میں والد گرامی کا سایۂ عاطفت سر سے اٹھ گیا۔ تمام تر تعلیم وتربیت اپنے برادر بزرگ، محدث جلیل حضرت علامہ مولانا سید محمد خلیل محدث امروہوی علیہ الرحمہ سے حاصل کی۔ وہ مدرسہ بحرالعلوم شاہ جہاں پور میں مدرس تھے، اور حضرت علامہ کاظمی کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ امام اہل سنت نے 16سال کی عمر میں 1348ھ مطابق 1929ء میں مدرسہ محمدیہ حنفیہ امروہہ سے سند فراغ حاصل کی۔ شیخ المشائخ، ہم شکل غوث الاعظم حضرت شاہ علی حسین اشرفی رحمۃ اللّٰه علیہ نے دستار فضیلت باندھی، اس تقریبِ سعید میں حضرت صدرالافاضل حضرت مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللّٰه علیہ، مناظر اسلام حضرت مولانا نثاراحمد کانپوری بن علامۂ زماں مولانا احمد حسن کانپوری رحمہ اللّٰه ودیگر جید علماء شریک تھے۔جنہوں نے آپ کو خصوصی دعاؤں سے نوازا۔
*بیعت و خلافت:* اپنے برادر بزرگ، محدثِ شہیر، عالمِ کبیر، استاذ العلماء الراسخین حضرت مولانا سید محمد خلیل چشتی صابری محدث امروہوی رحمۃ اللّٰه علیہ کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں بیعت ہوئے، اور خلافت سے مشرف کیے گئے۔
*شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتیِ اعظم ہند کی شفقت:* غزالیِ زماں رازیِ دوراں رحمہ اللّٰه کو اعلیٰ حضرت مجدد اسلام مولانا الشاہ امام احمد رضا خاں قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ذات گرامی سے بڑی گہری عقیدت ومحبت تھی۔ بلکہ آپ مسلکِ اعلیٰ حضرت کے عظیم مبلغ و داعی تھے۔ قیام ِ پاکستان سے قبل اعلیٰ حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے اعراس میں شریک ہوتے تھے۔ایک مرتبہ اپنے مرشد و استاذِ محترم حضرت مولانا سید خلیل احمد محدث امروہوی رحمۃ اللّٰه علیہ کے ہمراہ عرسِ اعلیٰ حضرت میں شریک ہوئے اور عرس کی تقریب میں ہزاروں علماء و مشائخ تشریف فرما تھے اور وقفہ وقفہ سے تقاریر کر رہے تھے۔ شہزادۂ اعلیٰ حضرت مولانا مصطفیٰ رضا خاں رحمۃ اللّٰه علیہ اپنے کاشانۂ اقدس کے باہر رضوی دارالافتاء میں رونق افروز تھے۔ علامہ کاظمی صاحب کے خطاب کی باری آئی تو آپ نے اعلیٰ حضرت کے تجدیدی کارناموں پر فصیح و بلیغ انداز میں بیان فرمایا، دارالافتاء میں بیان کی آواز پہنچ رہی تھی، شہزادۂ اعلیٰ حضرت، اظہار ِ مسرت فرما رہے تھے۔ جامعیت و قوت استدلال کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’امروہہ کے چھوٹے شاہ صاحب تقریر کر رہے ہیں۔ ماشاء اللہ خوب فصاحت و بلاغت ہے۔ بہت اچھا مطالعہ ہے، اللہ تعالیٰ برکت دے‘‘۔
حضرت مفتیِ اعظہم ہند رحمۃ اللّٰه علیہ نے نہ صرف آپ کو سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کی اجازت عطاء فرمائی بلکہ سندِ حدیث بھی عطاء فرمائی۔ *(حیاتِ غزالی زماں:142)*
*سیرت و خصائص:* قدوۃ السالکین، سندالمحدثین، رئیس المفسرین، امام المدرسین، استاذالعلماء، مرجع الفضلاء، سید الاتقیاء، رئیس الفقہاء، ضیغم اسلام، متکلم اسلام، امام المنقولات والمعقولات، مجمع البحرین، قطبِ دوراں، غزالیِ زماں، رازیِ دوراں، امام اہل سنت شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا سید احمد سعید شاہ کاظمی رحمۃ اللّٰه علیہ۔
-----------------------------------------------------------
*🕯غزالیِ زماں رازی دوراں سید احمد سعید شاہ کاظمی رحمۃ اللہ علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* سید احمد سعید شاہ کاظمی۔
*کنیت:* ابوالنجم۔
*لقب:* غزالیِ زماں، رازی دوراں، امام اہل سنت۔
*سلسلۂ نسب اس طرح ہے:* غزالیِ زماں سید احمد سعید شاہ کاظمی بن حضرت سید مختار احمد کاظمی بن حافظ سید یوسف علی شاہ چشتی قادری بن مولانا سید وصی نقشبندی مجددی قادری بن محمد مولانا سید شاہ صبغت اللہ نقشبندی مجددی چشتی صابری بن مولانا سید شاہ سیف اللہ چشتی قادری بن مولانا سید میرمحمد اشرف دہلوی ثم امروہی۔الیٰ آخرہ۔ علیہم الرحمہ۔
آپ کا سلسلہ نسب 44 واسطوں سے سرورعالم ﷺ تک پہنچتا ہے۔
*(حیاتِ غزالیِ زماں:33)*
آپ حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللّٰه عنہ کی اولاد سے ہیں۔ اس لئے’’کاظمی‘‘ کہلاتے ہیں۔
*غزالیِ زماں، رازی ِدوراں کی وجہ تسمیہ:* محدث اعظم، وحید العصر، قدوۃ العلماء حضرت سید محمد محدث کچھوچھوی رحمۃ اللّٰه علیہ نےعلماء کرام کی مجلس جس میں کثیر علماء کرام و دانشوران کی تعداد، اور عوام کا ایک جم غفیر موجودتھا، میں ’’غزالیِ زماں، رازیِ دوراں‘‘ کا خطاب عطاء فرمایا۔ علماء کرام اور عوام نے فلگ شگاف نعروں کے ساتھ حضرت محدث کچھوچھوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے قول کی تصدیق کی، اس وقت سے آج تک یہ القاب حضرت علامہ کاظمی رحمۃ اللّٰه علیہ کا عرف قرار پائے ہیں۔
*(حیاتِ غزالیِ زماں:86)*
*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 4؍ربیع الثانی 1331ھ،مطابق 13؍مارچ 1913ء ،بوقت صبح چار بجے، محلہ کٹکوئی شہر امروہہ، ضلع مراد آباد (انڈیا) میں ہوئی۔ (اب امروہہ ایک مستقل ضلع بن چکا ہے۔ (انسائیکلوپیڈیا)۔
*تحصیلِ علم:* آپ ایک علمی خاندان کے روشن چراغ ہیں۔ آپ کا خاندان علم و فضل، زہد و تقویٰ میں پورے ہندوستان میں معروف تھا۔ بچپن میں والد گرامی کا سایۂ عاطفت سر سے اٹھ گیا۔ تمام تر تعلیم وتربیت اپنے برادر بزرگ، محدث جلیل حضرت علامہ مولانا سید محمد خلیل محدث امروہوی علیہ الرحمہ سے حاصل کی۔ وہ مدرسہ بحرالعلوم شاہ جہاں پور میں مدرس تھے، اور حضرت علامہ کاظمی کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ امام اہل سنت نے 16سال کی عمر میں 1348ھ مطابق 1929ء میں مدرسہ محمدیہ حنفیہ امروہہ سے سند فراغ حاصل کی۔ شیخ المشائخ، ہم شکل غوث الاعظم حضرت شاہ علی حسین اشرفی رحمۃ اللّٰه علیہ نے دستار فضیلت باندھی، اس تقریبِ سعید میں حضرت صدرالافاضل حضرت مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللّٰه علیہ، مناظر اسلام حضرت مولانا نثاراحمد کانپوری بن علامۂ زماں مولانا احمد حسن کانپوری رحمہ اللّٰه ودیگر جید علماء شریک تھے۔جنہوں نے آپ کو خصوصی دعاؤں سے نوازا۔
*بیعت و خلافت:* اپنے برادر بزرگ، محدثِ شہیر، عالمِ کبیر، استاذ العلماء الراسخین حضرت مولانا سید محمد خلیل چشتی صابری محدث امروہوی رحمۃ اللّٰه علیہ کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں بیعت ہوئے، اور خلافت سے مشرف کیے گئے۔
*شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتیِ اعظم ہند کی شفقت:* غزالیِ زماں رازیِ دوراں رحمہ اللّٰه کو اعلیٰ حضرت مجدد اسلام مولانا الشاہ امام احمد رضا خاں قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ذات گرامی سے بڑی گہری عقیدت ومحبت تھی۔ بلکہ آپ مسلکِ اعلیٰ حضرت کے عظیم مبلغ و داعی تھے۔ قیام ِ پاکستان سے قبل اعلیٰ حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے اعراس میں شریک ہوتے تھے۔ایک مرتبہ اپنے مرشد و استاذِ محترم حضرت مولانا سید خلیل احمد محدث امروہوی رحمۃ اللّٰه علیہ کے ہمراہ عرسِ اعلیٰ حضرت میں شریک ہوئے اور عرس کی تقریب میں ہزاروں علماء و مشائخ تشریف فرما تھے اور وقفہ وقفہ سے تقاریر کر رہے تھے۔ شہزادۂ اعلیٰ حضرت مولانا مصطفیٰ رضا خاں رحمۃ اللّٰه علیہ اپنے کاشانۂ اقدس کے باہر رضوی دارالافتاء میں رونق افروز تھے۔ علامہ کاظمی صاحب کے خطاب کی باری آئی تو آپ نے اعلیٰ حضرت کے تجدیدی کارناموں پر فصیح و بلیغ انداز میں بیان فرمایا، دارالافتاء میں بیان کی آواز پہنچ رہی تھی، شہزادۂ اعلیٰ حضرت، اظہار ِ مسرت فرما رہے تھے۔ جامعیت و قوت استدلال کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’امروہہ کے چھوٹے شاہ صاحب تقریر کر رہے ہیں۔ ماشاء اللہ خوب فصاحت و بلاغت ہے۔ بہت اچھا مطالعہ ہے، اللہ تعالیٰ برکت دے‘‘۔
حضرت مفتیِ اعظہم ہند رحمۃ اللّٰه علیہ نے نہ صرف آپ کو سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کی اجازت عطاء فرمائی بلکہ سندِ حدیث بھی عطاء فرمائی۔ *(حیاتِ غزالی زماں:142)*
*سیرت و خصائص:* قدوۃ السالکین، سندالمحدثین، رئیس المفسرین، امام المدرسین، استاذالعلماء، مرجع الفضلاء، سید الاتقیاء، رئیس الفقہاء، ضیغم اسلام، متکلم اسلام، امام المنقولات والمعقولات، مجمع البحرین، قطبِ دوراں، غزالیِ زماں، رازیِ دوراں، امام اہل سنت شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا سید احمد سعید شاہ کاظمی رحمۃ اللّٰه علیہ۔
❤1👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
حضرت غزالیِ زماں رازیِ دوراں بالعموم تمام علوم اور بالخصوص تفسیر و حدیث کے مسند نشیں، محراب و منبر کی زینت، خانقاہ و درویشی کا جمال، رشد و ہدایت کا صوفیانہ اندازِ دل نشیں، لاینحل سوالات کی عقدہ کشائی، قرآن و حدیث کی روشنی میں اہل اسلام کی راہ نمائی، اور دین اسلام کی سر بلندی کے لئے سوز و گداز کی مجسم کیفیت والی عظیم شخصیت تھے۔ آپ جامع کمالات علمیہ و عملیہ تھے۔ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، اسلامی علوم و فنون کے یکتائے روزگار ماہر، اور اسرارِ معرفت کا دبستان تھے۔
عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ تدریس، تصنیف، خطابت، اور مقام فقر و معرفت، یہ اوصاف کسی ایک شخصیت میں جمع نہیں ہوتے۔ کوئی اگر عظیم خطیب ہوتا ہے تو اس درجے کا مصنف نہیں ہوتا، اور اگر میدان تصنیف میں بام عروج کو پہنچ جائے، تو تدریس میں اس بلند مقام کا حامل نہیں ہوتا۔ لیکن حضرت غزالی زماں،رازی دوراں رحمۃ اللّٰه علیہ کی شخصیت اس عمومی قاعدے سے مستثنیٰ تھی، آپ بیک وقت بہترین مدرس و محدث، بلند پایہ مصنف، جاد و بیاں خطیب، اور صاحبِ کمال شیخِ طریقت تھے۔یہی سبب تھا کہ مخالفین نے آپ کا راستہ روکنے کی بارہا کوششیں کیں، یہاں تک کہ آپ پر قاتلانہ حملے کیے، مگر آپ کے پائے استقلال میں جنبش نہ آئی، اور آپ کا ہر قدم منزل کی طرف آگے ہی بڑھتا رہا اور ایک وہ وقت آیا کہ آپ ’’اہل سنت و جماعت‘‘ کی آبرو اور پہچان بن گئے۔
*غزالیِ زماں، اور علامہ اقبال:* جن دنوں آپ جامعہ نعمانیہ لاہور میں مدرس تھے، زندہ دلان ِلاہور نے موچی دروازے کے باغ میں ’’عید میلاد النبیﷺ‘‘ کے سلسلے میں ایک عظیم الشان جلسے کا اہتمام کیا۔مفکر اسلام شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کرسی ِ صدارت میں بیٹھے ہوئے محویت کے عالم میں علامہ کاظمی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا خطاب لاجواب سن رہے تھے۔ آپ نے صرف نبی مکرم ﷺ کےاسم گرامی’’محمدﷺ‘‘ کی عظمت میں ایک گھنٹہ تقریر فرمائی۔ تقریر کے بعد علامہ اقبال نے آپ کوسینے سے لگایا اور کہا:
؏: ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں ہے۔
اور پھر مسکرا کر تھپکی دیتے ہوئے اور فرمایا:
’’برخوردار! لگتا ہے بہت نام پیدا کروگے‘‘۔
*(نور نور چہرے:16/حیاتِ غزالی زماں:40)*
*تاریخِ وصال:* بروز بدھ،25؍ رمضان المبارک 1406ھ،مطابق 4؍جون 1986ء کو افطاری کے بعد واصل بااللہ ہوئے۔ شاہی عیدگاہ ملتان میں مزار پر انورا مرجعِ خلائق ہے۔
*ماخذ و مراجع:* تعارف علماء اہل سنت۔ نور نور چہرے۔ حیات غزالیِ زماں۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ تدریس، تصنیف، خطابت، اور مقام فقر و معرفت، یہ اوصاف کسی ایک شخصیت میں جمع نہیں ہوتے۔ کوئی اگر عظیم خطیب ہوتا ہے تو اس درجے کا مصنف نہیں ہوتا، اور اگر میدان تصنیف میں بام عروج کو پہنچ جائے، تو تدریس میں اس بلند مقام کا حامل نہیں ہوتا۔ لیکن حضرت غزالی زماں،رازی دوراں رحمۃ اللّٰه علیہ کی شخصیت اس عمومی قاعدے سے مستثنیٰ تھی، آپ بیک وقت بہترین مدرس و محدث، بلند پایہ مصنف، جاد و بیاں خطیب، اور صاحبِ کمال شیخِ طریقت تھے۔یہی سبب تھا کہ مخالفین نے آپ کا راستہ روکنے کی بارہا کوششیں کیں، یہاں تک کہ آپ پر قاتلانہ حملے کیے، مگر آپ کے پائے استقلال میں جنبش نہ آئی، اور آپ کا ہر قدم منزل کی طرف آگے ہی بڑھتا رہا اور ایک وہ وقت آیا کہ آپ ’’اہل سنت و جماعت‘‘ کی آبرو اور پہچان بن گئے۔
*غزالیِ زماں، اور علامہ اقبال:* جن دنوں آپ جامعہ نعمانیہ لاہور میں مدرس تھے، زندہ دلان ِلاہور نے موچی دروازے کے باغ میں ’’عید میلاد النبیﷺ‘‘ کے سلسلے میں ایک عظیم الشان جلسے کا اہتمام کیا۔مفکر اسلام شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کرسی ِ صدارت میں بیٹھے ہوئے محویت کے عالم میں علامہ کاظمی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا خطاب لاجواب سن رہے تھے۔ آپ نے صرف نبی مکرم ﷺ کےاسم گرامی’’محمدﷺ‘‘ کی عظمت میں ایک گھنٹہ تقریر فرمائی۔ تقریر کے بعد علامہ اقبال نے آپ کوسینے سے لگایا اور کہا:
؏: ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں ہے۔
اور پھر مسکرا کر تھپکی دیتے ہوئے اور فرمایا:
’’برخوردار! لگتا ہے بہت نام پیدا کروگے‘‘۔
*(نور نور چہرے:16/حیاتِ غزالی زماں:40)*
*تاریخِ وصال:* بروز بدھ،25؍ رمضان المبارک 1406ھ،مطابق 4؍جون 1986ء کو افطاری کے بعد واصل بااللہ ہوئے۔ شاہی عیدگاہ ملتان میں مزار پر انورا مرجعِ خلائق ہے۔
*ماخذ و مراجع:* تعارف علماء اہل سنت۔ نور نور چہرے۔ حیات غزالیِ زماں۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤2👍1