Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍2❤1
تاج العلماء سید اولاد رسول محمدمیاں قادری برکاتی رحمۃ اللہ علیہ
نوٹ: حضرت تاج العلماء علیہ الرحمہ نے‘‘ تاریخ خاندانِ برکات “ میں جو اپنی سوانحِ حیات خود تحریر فرمائی ہے۔ اسی کو بطورِ تبرک من و عن نقل کرتاہوں۔ ان کےالفاظ میں جو خیرِ کثیر ہے، وہ اس عاصی کے پاس کہاں؟ (فقیر تونسوی غفرلہ)
حضرت تاج العلماء فرماتے ہیں: "فقیر کی ولادت تئیس 23/ رمضان المبارک 1309 ھ میں اپنے حضرت جد امجد قدس سرہٗ کے دولت خانہ واقع محلہ تا مسین گنج ضِلع سیتا پور میں ہوئی۔
اولاد رسول فخر العالم محمد پر عقیقہ کیا گیا بعد کو محمد کے ساتھ بوجہ مطابق نام پاک حضور صاحب لولاک ﷺ بنظرِ تعظیم لفظ "میاں" کا اضافہ ہو کر " محمد میاں" نام زیادہ متعارف ہوا ،اور فقیر بھی اپنا یہی نام اکثر استعمال کرتا ہے۔ اور چونکہ فقیر کے برادر معظم کا نام فقیر عالم تھا۔ لہٰذا بعض بزرگ اس کی مطابقت وزن سے فقیر کو محمد عالم کہتے تھے۔
درسیات مروجہ مختصر فارسی اپنے حضرت والد ماجد دامت برکاتہم العالیہ اور منشی فرزند حسن صاحب ساکن قصبہ پانی ضلع ہردوئی اور مولوی میاں جی رحمت اللہ صاحب مارہروی سے پڑھیں۔ اور انہیں تینوں اور اپنے برادر معظم سید شاہ غلام الدین فقیر عالم مرحوم سے مشق خط کی اور درسیات مروجہ درس نظامی عربی فقہ و اصول فقہ و نحو و صرف و معانی و بیان و منطق و فلسفہ و عقائد و کلام تفسیر و حدیث وغیرہ اپنے حضرت والد ماجد قبلہ و کعبہ دامت برکاتہم العالیہ و مولوی سید حیدر شاہ صاحب پشاوری و مولوی غلام رحمانی صاحب ولایتی و حافظ امیر اللہ صاحب بریلوی و مولانا عبد المقتدر صاحب بدایونی سے پڑھیں اور بعض دیگر سے بھی چند اسباق پڑھے۔ ان درسیات کا غالب حصہ مولوی حیدر شاہ صاحب پشاوری سے پڑھا۔
درسیات کی آخری کتب پڑھانے کے بعد ان کا ارادہ حسب دستور زمانہ سند تکمیل دینے کا تھا مگر بعض وجوہ کی بنا پر وہ اپنے وطن چلے گئے۔ اور پھر ان سے سند تحریری کی نوبت نہ آئی۔
علم حدیث وغیرہ کی سند فقیر کو اپنے خاندانی تسلسل، اپنے حضرت والد ماجد قبلہ و حضرت نانا صاحب قبلہ سید شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں صاحب سے بحمدہ تعالیٰ حاصل ہے۔
قرآن مجید فقیر نے اپنے حضرت والد ماجد قبلہ اور برادر معظمہ سید شاہ غلام محی الدین فقیر عالم و ہمشیرہ معظم اہلیہ سید مہدی حسن صاحب اور جناب استاد مکرم حافظ عبد الکریم صاحب ملک پوری مرحوم سے حفظ کیا اور حافظ امیر اللہ صاحب بریلوی اور بعض دیگر سے بھی چند سبق پڑھے اور کچھ دور کیا ہے۔
اور فقیر کو اگرچہ حضرت امام اہل سنت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریولی قدس سرہٗ سے تلمذ رسمی حاصل نہیں مگر فقیر ان کو اپنے اکثر اساتذہ سے بہتر و برتر اپنا استاد جانتا ہے۔ ان کی تقریرات و تحریرات سے فقیر کو بہت کثیر فوائد دینی و عملی حاصل ہوئے۔ اور چونکہ تقریر و تحریر میں ان کا طریقہ بے لوث اور مواخذات صوری و معنوی شرعی و عرفی سے منزہ و مبراثابت و محقق ہوا لہذا فقیر بھی تا بہ وسعت ان کے طریقہ کا اتباع کرنا پسند کرتا ہے۔ اللھم و فقنا لما تحب و ترضٰی۔ آمین یا رب العالمین۔
بیعت طریقہ عالیہ قادریہ برکاتیہ میں اور اس سلسلہ و نیز دیگر سلاسل عالیہ نقشبندیہ ابو العلائیہ و چشتیہ نظامیہ و سہروردیہ جددیہ قدیمہ میں اجازت و خلافت اور بعض دیگر سلاسل و جملہ اور ادو اذکار و اشغال و اعمال و وظائف و احادیث شریفہ و قرآن مجید و مصافحات وغیرہ برکات کی اجازت اپنے حضرت والد ماجد قبلہ و کعبہ و دامت برکاتہم العالیہ حضرت سید شاہ محمد اسمٰعیل حسن صاحب اور اپنے نانا صاحب زبدۃ الواصلین حضرت سید شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں صاحب قدس سرہٗ سے حاصل ہے۔ (تاریخ خاندان برکات:65)
تاریخِ وصال: 24/جمادی الآخر 1375ھ، مطابق 7/فروری 1956 بعد نماز عشاء 8/بج کر 48 منٹ پر آپ نے وصال فرمایا
مارہرہ مطہرہ میں مرقد مبارک ہے۔ تعلیمات حضرت تاج العلماء رحمۃ اللہ علیہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ کا سچا پکا مطیع و فرماں بردار محب و محبوب بندہ پہلے بنا کر اس طرح اپنی فریاد سنی جانے کے لائق اپنے آپ کو ٹھہرا کر اپنی فریاد فریا درس حقیقی رب عزت تبارک و تعالیٰ اور اس کی عطا سے اور اس کے حکم سے اس کے محبوب اپنے آقا محمد مصطفٰی ﷺ ہی کے دربار میں ہم پیش کریں۔ یاد رکھئے! ہم غرباء مسلمین کی حقیقی پائدار کامل اکمل داد رسی اور اعداء و دشمنان دین کی مکمل و مستقل قطعی سر کوبی وہیں سے اور صرف وہیں سے ہوگی۔
یہ دنیا عالم اسباب ہے۔ حقیقی بھروسہ تو اللہ و رسول جل و علا و علیہ الصلوۃ و السلام پر رکھیے ظاہری اسبابی لحاظ سے خود اپنے قوت بازو اور قوت عمل پر بھروسہ کیجیے ہرگز ہرگز کسی بے دین و بد دین فرد اور جمعیۃ کی طرف دست التجا نہ پھیلائیے ان میں سے کسی کو بھی خواہ وہ وہابیہ کی جمعیۃ العلماء ہو یا لیگ و کانگریس سوشلسٹ و کمیونسٹ و مہا سبھا وغیرہ اسی قماش کی دوسری جمعیتیں اور انجمنیں اور ان کے اہلکاران و کار کنان کو ہرگز ہرگز اپنا مخلص چارہ گر اور بے لوث
نوٹ: حضرت تاج العلماء علیہ الرحمہ نے‘‘ تاریخ خاندانِ برکات “ میں جو اپنی سوانحِ حیات خود تحریر فرمائی ہے۔ اسی کو بطورِ تبرک من و عن نقل کرتاہوں۔ ان کےالفاظ میں جو خیرِ کثیر ہے، وہ اس عاصی کے پاس کہاں؟ (فقیر تونسوی غفرلہ)
حضرت تاج العلماء فرماتے ہیں: "فقیر کی ولادت تئیس 23/ رمضان المبارک 1309 ھ میں اپنے حضرت جد امجد قدس سرہٗ کے دولت خانہ واقع محلہ تا مسین گنج ضِلع سیتا پور میں ہوئی۔
اولاد رسول فخر العالم محمد پر عقیقہ کیا گیا بعد کو محمد کے ساتھ بوجہ مطابق نام پاک حضور صاحب لولاک ﷺ بنظرِ تعظیم لفظ "میاں" کا اضافہ ہو کر " محمد میاں" نام زیادہ متعارف ہوا ،اور فقیر بھی اپنا یہی نام اکثر استعمال کرتا ہے۔ اور چونکہ فقیر کے برادر معظم کا نام فقیر عالم تھا۔ لہٰذا بعض بزرگ اس کی مطابقت وزن سے فقیر کو محمد عالم کہتے تھے۔
درسیات مروجہ مختصر فارسی اپنے حضرت والد ماجد دامت برکاتہم العالیہ اور منشی فرزند حسن صاحب ساکن قصبہ پانی ضلع ہردوئی اور مولوی میاں جی رحمت اللہ صاحب مارہروی سے پڑھیں۔ اور انہیں تینوں اور اپنے برادر معظم سید شاہ غلام الدین فقیر عالم مرحوم سے مشق خط کی اور درسیات مروجہ درس نظامی عربی فقہ و اصول فقہ و نحو و صرف و معانی و بیان و منطق و فلسفہ و عقائد و کلام تفسیر و حدیث وغیرہ اپنے حضرت والد ماجد قبلہ و کعبہ دامت برکاتہم العالیہ و مولوی سید حیدر شاہ صاحب پشاوری و مولوی غلام رحمانی صاحب ولایتی و حافظ امیر اللہ صاحب بریلوی و مولانا عبد المقتدر صاحب بدایونی سے پڑھیں اور بعض دیگر سے بھی چند اسباق پڑھے۔ ان درسیات کا غالب حصہ مولوی حیدر شاہ صاحب پشاوری سے پڑھا۔
درسیات کی آخری کتب پڑھانے کے بعد ان کا ارادہ حسب دستور زمانہ سند تکمیل دینے کا تھا مگر بعض وجوہ کی بنا پر وہ اپنے وطن چلے گئے۔ اور پھر ان سے سند تحریری کی نوبت نہ آئی۔
علم حدیث وغیرہ کی سند فقیر کو اپنے خاندانی تسلسل، اپنے حضرت والد ماجد قبلہ و حضرت نانا صاحب قبلہ سید شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں صاحب سے بحمدہ تعالیٰ حاصل ہے۔
قرآن مجید فقیر نے اپنے حضرت والد ماجد قبلہ اور برادر معظمہ سید شاہ غلام محی الدین فقیر عالم و ہمشیرہ معظم اہلیہ سید مہدی حسن صاحب اور جناب استاد مکرم حافظ عبد الکریم صاحب ملک پوری مرحوم سے حفظ کیا اور حافظ امیر اللہ صاحب بریلوی اور بعض دیگر سے بھی چند سبق پڑھے اور کچھ دور کیا ہے۔
اور فقیر کو اگرچہ حضرت امام اہل سنت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریولی قدس سرہٗ سے تلمذ رسمی حاصل نہیں مگر فقیر ان کو اپنے اکثر اساتذہ سے بہتر و برتر اپنا استاد جانتا ہے۔ ان کی تقریرات و تحریرات سے فقیر کو بہت کثیر فوائد دینی و عملی حاصل ہوئے۔ اور چونکہ تقریر و تحریر میں ان کا طریقہ بے لوث اور مواخذات صوری و معنوی شرعی و عرفی سے منزہ و مبراثابت و محقق ہوا لہذا فقیر بھی تا بہ وسعت ان کے طریقہ کا اتباع کرنا پسند کرتا ہے۔ اللھم و فقنا لما تحب و ترضٰی۔ آمین یا رب العالمین۔
بیعت طریقہ عالیہ قادریہ برکاتیہ میں اور اس سلسلہ و نیز دیگر سلاسل عالیہ نقشبندیہ ابو العلائیہ و چشتیہ نظامیہ و سہروردیہ جددیہ قدیمہ میں اجازت و خلافت اور بعض دیگر سلاسل و جملہ اور ادو اذکار و اشغال و اعمال و وظائف و احادیث شریفہ و قرآن مجید و مصافحات وغیرہ برکات کی اجازت اپنے حضرت والد ماجد قبلہ و کعبہ و دامت برکاتہم العالیہ حضرت سید شاہ محمد اسمٰعیل حسن صاحب اور اپنے نانا صاحب زبدۃ الواصلین حضرت سید شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں صاحب قدس سرہٗ سے حاصل ہے۔ (تاریخ خاندان برکات:65)
تاریخِ وصال: 24/جمادی الآخر 1375ھ، مطابق 7/فروری 1956 بعد نماز عشاء 8/بج کر 48 منٹ پر آپ نے وصال فرمایا
مارہرہ مطہرہ میں مرقد مبارک ہے۔ تعلیمات حضرت تاج العلماء رحمۃ اللہ علیہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ کا سچا پکا مطیع و فرماں بردار محب و محبوب بندہ پہلے بنا کر اس طرح اپنی فریاد سنی جانے کے لائق اپنے آپ کو ٹھہرا کر اپنی فریاد فریا درس حقیقی رب عزت تبارک و تعالیٰ اور اس کی عطا سے اور اس کے حکم سے اس کے محبوب اپنے آقا محمد مصطفٰی ﷺ ہی کے دربار میں ہم پیش کریں۔ یاد رکھئے! ہم غرباء مسلمین کی حقیقی پائدار کامل اکمل داد رسی اور اعداء و دشمنان دین کی مکمل و مستقل قطعی سر کوبی وہیں سے اور صرف وہیں سے ہوگی۔
یہ دنیا عالم اسباب ہے۔ حقیقی بھروسہ تو اللہ و رسول جل و علا و علیہ الصلوۃ و السلام پر رکھیے ظاہری اسبابی لحاظ سے خود اپنے قوت بازو اور قوت عمل پر بھروسہ کیجیے ہرگز ہرگز کسی بے دین و بد دین فرد اور جمعیۃ کی طرف دست التجا نہ پھیلائیے ان میں سے کسی کو بھی خواہ وہ وہابیہ کی جمعیۃ العلماء ہو یا لیگ و کانگریس سوشلسٹ و کمیونسٹ و مہا سبھا وغیرہ اسی قماش کی دوسری جمعیتیں اور انجمنیں اور ان کے اہلکاران و کار کنان کو ہرگز ہرگز اپنا مخلص چارہ گر اور بے لوث
❤1👍1
ہمدرد ہرگز نہ جانیے۔
لیڈری چالوں سے بہت ہوشیار رہئے۔ تجربہ نے خوب ظاہر کر دیا ہے کہ لیڈری چالوں میں وقتی اظہار جوش و خروش، شور و غوغا، اشتعال بے سود بلکہ مضر تو بہت ہوتا ہے مگر ٹھوس اور پائیدار مفید نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔ بلکہ اور غریب مسلمان کمزور سے کمزور تر ہوجاتے ہیں۔
اہل سنت باہمی اتحاد اور تنظیم کریں ایک دوسرے کے دُکھ درد و رنج و راحت کے شریک حال بنیں۔
بری رسمیں اور محرمات اور کھیل کود لغویات میں اپنے اوقات اور اموال کو ضائع کرنے سے بچا کر اپنی معیشت اور دنیوی مالی حالت درست کریں، سینیما قطعاً دیکھنا چھوڑ دیں۔(فی زمانہ فلمیں، ڈرامے، غیر شرعی پروگرامز، انٹرنیٹ و موبائل کا بے جا استعمال)۔ کاہلی اور بے عملی کو چھوڑدیں۔
شریعت مطہرہ کو اپنا دستور العمل زندگی ظاہری و باطنی قولی و عملی بنائیں۔ طاعت و عبادت کے بعد جو اوقات بچیں وہ جائز تجارت مفید زراعت کار آمد اور سود مند صنعت و حرفت غرض اُن اُمور میں صرف کریں جن سے دنیا سنبھلے اور دین کو بھی اُس سے قوت ملے۔ صبر و قناعت اور تقویٰ سے گزر اوقات کرنا اور انہیں سے اعداء و مخالفین کا مقابلہ کرنا سیکھیں۔
بقدر ضرورت علم دین ضرور حاصل کریں تو ان شاء اللہ العزیز الکریم و بفضل رسولہ العظیمﷺ بیڑا پار رہے اور یہی اغیار و کفار و اشرار جو آج ہماری بد عملی اور بے عملی سے ہمارے جان و مال عزت و ناموس ہی پر نہیں بلکہ ہمارے مقدس دین اسلام اور پیارے مذہب اہل سنت اور ہمارے معظمان دین کی مقدس بارگاہوں اور رفیع شانوں میں گستاخ خیرہ سردار دردیدہ دہن ہیں کل ہمارا لوہا مانیں گے اور ہمارے سامنے سپر انداختہ ہوں گے۔
لیڈران قوم کے خود ساختہ پروگرام تو آجکل کے مدعیان اسلام نے بہت آزما لیے اور اُن کے سخت مضر اور مہلک نتیجے بھی آنکھوں کے سامنے ہیں۔ فقیر کے برادران دین و طریقت اب اس شرعی دینی اسلامی سہل و مختصر بے شورو شردستوار العمل پر بھی عمل کر کے دیکھیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ وہ اس ارشاد رحمانی کے جلوے اپنی آنکھوں دیکھ لیں گے۔ کہ ؛من یطع اللہ و رسولہ فقد فاز فوزاً عظیماً۔ جس نے اللہ و رسول جل و علا و علیہ الصلاوۃ السلام کا کہنا مانا بیشک وہ عظیم کامیابی کو پہنچا۔ (اہل سنت کی آواز، 2010: ص250)
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-aulad-e-rasool-muhammad-mian-maharvi
Copyright © Zia-e-Taiba
لیڈری چالوں سے بہت ہوشیار رہئے۔ تجربہ نے خوب ظاہر کر دیا ہے کہ لیڈری چالوں میں وقتی اظہار جوش و خروش، شور و غوغا، اشتعال بے سود بلکہ مضر تو بہت ہوتا ہے مگر ٹھوس اور پائیدار مفید نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔ بلکہ اور غریب مسلمان کمزور سے کمزور تر ہوجاتے ہیں۔
اہل سنت باہمی اتحاد اور تنظیم کریں ایک دوسرے کے دُکھ درد و رنج و راحت کے شریک حال بنیں۔
بری رسمیں اور محرمات اور کھیل کود لغویات میں اپنے اوقات اور اموال کو ضائع کرنے سے بچا کر اپنی معیشت اور دنیوی مالی حالت درست کریں، سینیما قطعاً دیکھنا چھوڑ دیں۔(فی زمانہ فلمیں، ڈرامے، غیر شرعی پروگرامز، انٹرنیٹ و موبائل کا بے جا استعمال)۔ کاہلی اور بے عملی کو چھوڑدیں۔
شریعت مطہرہ کو اپنا دستور العمل زندگی ظاہری و باطنی قولی و عملی بنائیں۔ طاعت و عبادت کے بعد جو اوقات بچیں وہ جائز تجارت مفید زراعت کار آمد اور سود مند صنعت و حرفت غرض اُن اُمور میں صرف کریں جن سے دنیا سنبھلے اور دین کو بھی اُس سے قوت ملے۔ صبر و قناعت اور تقویٰ سے گزر اوقات کرنا اور انہیں سے اعداء و مخالفین کا مقابلہ کرنا سیکھیں۔
بقدر ضرورت علم دین ضرور حاصل کریں تو ان شاء اللہ العزیز الکریم و بفضل رسولہ العظیمﷺ بیڑا پار رہے اور یہی اغیار و کفار و اشرار جو آج ہماری بد عملی اور بے عملی سے ہمارے جان و مال عزت و ناموس ہی پر نہیں بلکہ ہمارے مقدس دین اسلام اور پیارے مذہب اہل سنت اور ہمارے معظمان دین کی مقدس بارگاہوں اور رفیع شانوں میں گستاخ خیرہ سردار دردیدہ دہن ہیں کل ہمارا لوہا مانیں گے اور ہمارے سامنے سپر انداختہ ہوں گے۔
لیڈران قوم کے خود ساختہ پروگرام تو آجکل کے مدعیان اسلام نے بہت آزما لیے اور اُن کے سخت مضر اور مہلک نتیجے بھی آنکھوں کے سامنے ہیں۔ فقیر کے برادران دین و طریقت اب اس شرعی دینی اسلامی سہل و مختصر بے شورو شردستوار العمل پر بھی عمل کر کے دیکھیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ وہ اس ارشاد رحمانی کے جلوے اپنی آنکھوں دیکھ لیں گے۔ کہ ؛من یطع اللہ و رسولہ فقد فاز فوزاً عظیماً۔ جس نے اللہ و رسول جل و علا و علیہ الصلاوۃ السلام کا کہنا مانا بیشک وہ عظیم کامیابی کو پہنچا۔ (اہل سنت کی آواز، 2010: ص250)
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-aulad-e-rasool-muhammad-mian-maharvi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1👍1