Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
’’ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ ‘‘ میں وہ سب کچھ داخل ہے جو ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پہلےنہ جانتے تھے۔ اسی آیتِ کریمہ کے تحت تفسیر البحرالمحیط،ج 3،ص362 ، زاد المسیر فی علم التفسیر، جزثانی،ج 1،ص118، اور روح المعانی،ج3 ،ص 187 میں اس کی تصریح اور وضاحت ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
(3)اللہ ربّ العزّت ارشاد فرماتا ہے:(اَلرَّحْمٰنُۙ(۱) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ(۲) خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ(۳) عَلَّمَهُ الْبَیَانَ(۴)) ترجمۂ کنزالایمان: رحمٰن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا۔ انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا۔ مَاکَانَ وَمَا یَکُوْن کا بیان اُنہیں سکھایا۔(پ 27، الرحمٰن:1تا4)
اس آیت میں ’’انسان‘‘ اور’’بیان‘‘ کے مِصداق کے بارے میں مفسّرین کے مختلف قول ہیں،تفسیرِ خازن میں ایک قول اس طرح ہے: اَرَادَ بِالإنسانِ مُحَمَّدًا صلّى اللّٰهُ عَلَيه وَسَلَّم یہاں انسان سے مراد محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں عَلَّمَهُ الْبَيَان يَعني بَيَان مَا يَكُونُ وَمَا كَان لِأَنّه صلّى اللّٰه عَلَيهِ وَسَلَّم يُنبِئُ عَن خَبْرِ الأوَّلِينَ وَالآخِرِينَ وَعَن يَومِ الدِّين یعنی ”بیان“سے’’مَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ‘‘یعنی جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ آئندہ ہو گا، کا بیان مراد ہے کیونکہ نبِیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اَوّلین و آخِرین اور قیامت کے دن کی خبریں دیتے تھے۔( خازن، الرحمٰن، تحت الآیۃ:3-4،4/208)
امام حسین بن مسعود بَغَوی (سالِ وفات: 510ھ) نے تفسیر ِمعالمُ التنزیل،4/243 پر، امام عبدالرّحمٰن ابنِ جوزی (سالِ وفات:597ھ) نے تفسیر ِزاد المسیر،جز اوّل، 4/304 پر ،علامہ ثناء اللہ نقشبندی (سالِ وفات: 1225ھ) نے تفسیرِ مَظہری، 9/123 پر ، علامہ احمد صاوی(سالِ وفات: 1241ھ) نےتفسیرِ صاوی،6/2074 پر اسی آیت کے تحت ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے علمِ ما کان و ما یکون کا قول ذکر فرمایا ہے۔
(4) اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:(عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ(۲۷)) ترجَمۂ کنزالایمان: غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلّط نہیں کرتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے کہ ان کے آگے پیچھے پہرا مقرّر کر دیتا ہے۔ (پ 29، الجن:26-27)
(5) اللہ پاک فرماتا ہے:(وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ(۲۴)) ترجَمۂ کنزالایمان:اوریہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ (پ 30، التکویر:24)
اور کوئی غیب کیا تم سے نِہاں ہو بھلا جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں دُرُود
احادیثِ مبارَکہ کی روشنی میں رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب کا بیان اگلے قِسط میں ملاحظہ کیجئے۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلــم✍🏻 محــمد عــدنان چشــتی عطــاری مــدنی۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
(3)اللہ ربّ العزّت ارشاد فرماتا ہے:(اَلرَّحْمٰنُۙ(۱) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ(۲) خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ(۳) عَلَّمَهُ الْبَیَانَ(۴)) ترجمۂ کنزالایمان: رحمٰن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا۔ انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا۔ مَاکَانَ وَمَا یَکُوْن کا بیان اُنہیں سکھایا۔(پ 27، الرحمٰن:1تا4)
اس آیت میں ’’انسان‘‘ اور’’بیان‘‘ کے مِصداق کے بارے میں مفسّرین کے مختلف قول ہیں،تفسیرِ خازن میں ایک قول اس طرح ہے: اَرَادَ بِالإنسانِ مُحَمَّدًا صلّى اللّٰهُ عَلَيه وَسَلَّم یہاں انسان سے مراد محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں عَلَّمَهُ الْبَيَان يَعني بَيَان مَا يَكُونُ وَمَا كَان لِأَنّه صلّى اللّٰه عَلَيهِ وَسَلَّم يُنبِئُ عَن خَبْرِ الأوَّلِينَ وَالآخِرِينَ وَعَن يَومِ الدِّين یعنی ”بیان“سے’’مَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ‘‘یعنی جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ آئندہ ہو گا، کا بیان مراد ہے کیونکہ نبِیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اَوّلین و آخِرین اور قیامت کے دن کی خبریں دیتے تھے۔( خازن، الرحمٰن، تحت الآیۃ:3-4،4/208)
امام حسین بن مسعود بَغَوی (سالِ وفات: 510ھ) نے تفسیر ِمعالمُ التنزیل،4/243 پر، امام عبدالرّحمٰن ابنِ جوزی (سالِ وفات:597ھ) نے تفسیر ِزاد المسیر،جز اوّل، 4/304 پر ،علامہ ثناء اللہ نقشبندی (سالِ وفات: 1225ھ) نے تفسیرِ مَظہری، 9/123 پر ، علامہ احمد صاوی(سالِ وفات: 1241ھ) نےتفسیرِ صاوی،6/2074 پر اسی آیت کے تحت ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے علمِ ما کان و ما یکون کا قول ذکر فرمایا ہے۔
(4) اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:(عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ(۲۷)) ترجَمۂ کنزالایمان: غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلّط نہیں کرتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے کہ ان کے آگے پیچھے پہرا مقرّر کر دیتا ہے۔ (پ 29، الجن:26-27)
(5) اللہ پاک فرماتا ہے:(وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ(۲۴)) ترجَمۂ کنزالایمان:اوریہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ (پ 30، التکویر:24)
اور کوئی غیب کیا تم سے نِہاں ہو بھلا جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں دُرُود
احادیثِ مبارَکہ کی روشنی میں رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب کا بیان اگلے قِسط میں ملاحظہ کیجئے۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلــم✍🏻 محــمد عــدنان چشــتی عطــاری مــدنی۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1