🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_زکوۃ_و_صدقات صدقہ
زکوٰۃ صدقات عطیات = قِسط ⓱
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت مولانا مفتی سید کفایت
علی کافی شہید رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا مفتی سید کفایت علی کافیؔ۔ تلخص: کافی۔ لقب: مجاہد جنگ آزادی، بطل حریت، شہید اسلام، عاشقِ خیر الانام۔

آپ کا نسبی تعلق:
نگینہ، ضلع بجنور، یو پی انڈیا‘‘ کے معزز خاندان سادات سے ہے۔

مولد و مسکن:
آپ کی پیدائش آپ کی ابتدائی زندگی سے متعلق معلومات بہت کم ہے، آپ ضلع بجنور (یوپی) کے سادات گھرانے میں پیدا ہوئے اور مراد آباد کو اپنا مسکن بنالیا تھا۔

تحصیلِ علم:
علمائے بدایوں و بریلی کے اکابر علماء سے علم حاصل کیا حضرت شاہ غلام علی نقشبندی دہلوی کے خلیفہ اعظم اور شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کے شاگرد رشید حضرت شاہ ابو سعید مجددی سے علم حدیث کی تکمیل فرمائی۔ مولانا كافی پر اپنے استاذ و مربی حضرت شاه ابو سعيد مجددی كی شخصیت كا گہرا اثر تھا۔ اسی وجہ سے آپ كو علمِ حديث اور تصوف سے بے حد شغف تھا، اور رسولِ ﷺ كي سيرت مبارکہ سے عشق كی حد تك لگاؤ تھا۔ علمِ طب مولوی رحمن علی مصنف تذكره علمائے هند كے والد مولانا حكيم شير علی قادری سے حاصل كيا۔ فن شاعری شیخ مہدی علی خان ذکیؔ مراد آبادی سے فن شاعری سیکھ کر طب وشاعری میں کمال حاصل کیا۔

ذکی مراد آبادی کے چار تلامذہ مشہور ہوئے۔صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی کے والد مولانا معین الدین نزہتؔ، مولانا سید کفایت علی کافی ؔ مراد آبادی، مولوی محمد حسین تمناؔ، مولوی شبیر علی تنہا۔

بیعت و خلافت:
غالباً آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں اپنے استاذ محترم حضرت شاہ ابو سعید مجددی علیہ الرحمہ کے مرید تھے، کیونکہ آپ کی سیرت پر ان کا گہرا اثر تھا۔ بسیار کوشش کے باوجود مجھے ان کے سلسلہ طریقت کا علم نہیں ہو سکا، یہ میں نے ظن غالب سے تحریر کردیا ہے۔ واللہ اعلم با الصواب۔ اگر کسی کےعلم میں ہوتو ضرور مطلع کرے۔ (فقیر تونسویؔ غفرلہ)

سیرت و خصائص:
بطلِ حریت، امام المجاہدین، رئیس العاشقین، سند المتقین، سید العلماء الکاملین، شہید الاسلام، فخر الاسلام، عاشقِ خیر الانام، مجاہدِ جنگِ آزادی حضرت علامہ مولانا مفتی سید کفایت علی کافیؔ رحمۃ اللہ علیہ۔

آپ علیہ الرحمہ تمام علوم نقلیہ و عقلیہ کے فاضل، فن شاعری کے ماہر، علم طب میں یگانۂ روزگار تھے۔ آپ اپنے وقت کے جید عالم دین، باکمال مرشد، بے مثل زاہدِ وقت اور بلند پایہ عاشق رسول ﷺ تھے۔

آپ کی حیات کا لمحہ لمحہ سنت رسول ﷺ کا آئینہ دار اور محبت رسول ﷺ کا پر تو تھا۔ اس  لئے آپ کے کلام تصنع اور بناوٹ سے پاک ہے۔

آپ کے قول و فعل کی یکسانیت اور فکر و نظر کی طہارت کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ خود مجدد دین ملت امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے آپ کے عشق رسول ﷺ کی حرارت کو محسوس کرتے ہوئے آپ کی بارگاہ میں یوں خراج عقیدت پیش کیا۔

پرواز میں جب حدیث شہ میں آؤں
تا عرش پرواز فکر رساں میں جاؤں
مضمون کی بندش تو میسر ہے رضا
کافیؔ  کا دردِ   دل کہاں  سے  لاؤں

علمِ حدیث سے آپ کو بے پناہ شغف و انہماک تھا۔ عشق رسول ﷺ کے جذبات سے ہمہ وقت آپ کا دل لبریز رہتا تھا، اور اشعار کی صورت میں وہ دل سے زبان پر آ جایا کرتا تھا۔

یہی وجہ ہےکہ مولانا  کافی علیہ الرحمہ نے نعتیہ اشعار بہت کہے ہیں۔ اسی جذبہ مسعود اور وصف محمود سے متأثر ہو کر عاشق رسول امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ نے آپ کو’’سلطان نعت گویاں‘‘ قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے: ؏:

مہکا ہے مری بوئے دہن سے عالم
یاں نغمۂ شیریں نہیں تلخی سے بہم
کافیؔ سلطانِ نعت گویاں ہیں رضاؔ
ان شاء اللہ میں وزیر اعظم

یہ تمام حقیقتیں اپنی جگہ مگر حضرت  مولانا کافی علیہ الرحمہ کےنام کو جس چیز نے امر بنایا وہ ہے ان کا جذبۂ  آزادی۔مولانا کافی نے جس وقت آنکھیں کھولیں وہ انگریزوں کے جبرو استداد کے عروج کا دور تھا۔ انگریز پورے ہندوستان میں اپنی مکاری کا جال پھیلا چکے تھے اور رفتہ رفتہ اپنا خونی شکنجہ کسنے کی پوری تیاری کر چکے تھے۔ ہندوستان کی دھرتی پر مقامی افراد افلاس و تنگدستی پر مجبور تھے اور بیرونی غاصب عیش وعشرت میں مسرور۔ دیسی نوابوں، رئیسوں، اور خاندانی لوگوں کی عزتیں خاک میں ملائی جارہی تھیں، اور بدیسی غارت گروں کی عظمتوں کا پھریرا لہرایا جا رہا تھا۔ ایسے پر آشوب  اور مہیب دور میں حضرت مولانا کافی علیہ الرحمہ نے جب اپنے گردو پیش پر نظر ڈالی تو آپ کی شخصیت  اور مذہبی غیرت نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ پھر اس  کے بعد آپ نے انگریزوں کے ناپاک وجود سے اس دھرتی کو آزاد کرانے کا عزم مصمم کرلیا۔

مولانا سید کفایت علی کافیؔ جنرل بخت خاں روہیلہ کی فوج میں کمانڈر ہو کر دہلی آئے۔ بریلی، الٰہ آباد اور مرادآباد میں انگریز سے معرکہ آرائی رہی۔ بعض علاقوں کو انگریز سے بازیاب کرانے کے بعد جب اسلامی سلطنت کا قیام عمل میں آیا تو آپ ’’صدرِ شریعت‘‘ اور ’’امیر شریعت‘‘ بنائے گئے۔ امداد صابری لکھتے ہیں: ’’انگریز مراد آباد سے بھاگ کر میرٹھ اور نینی تال چلے گئے،
1👍1
نواب مجو خاں حاکم مرادآباد مقرر ہوگئے۔ عباس علی خاں بن اسعد علی خاں ہندی توپ خانہ کے افسر معین ہوئے اور مولوی کفایت علی صاحب صدرِ شریعت بنائے گئے، انھوں نے عوام میں جہادی روح پھونک دی۔ شہر میں ہر جمعہ کو بعد نماز انگریزوں کے خلاف وعظ فرماتے جس کا بے حد اثر ہوتا تھا۔

جنگِ آزادی میں خدمات:
مرادآباد میں شورش کے ایام میں مولانا کافیؔ حالات کی رپورٹ بذریعہ خط جنرل بخت خاں کو بھیجتے رہے۔ آپ نے فتاویٰ جہاد کی نقلیں مختلف مقامات پر بھیجیں۔ مولانا وہاج الدین مرادآبادی (وفات 1858ء) بھی حریت پسند اور قائدینِ جہادِ آزادی1857ء میں تھے، آپ اور مولانا کافیؔ نے مل جُل کر مرادآباد میں ماحول سازی کی اور لوگوں کو جہاد کے لیے آمادہ کیا۔ انگریزی مظالم کے خلاف آواز بلند کی اور رائے عامہ ہم وار کی۔ آنولہ ضلع بریلی میں حکیم سعیداللہ قادری کے یہاں قیام پزیر رہ کر اطراف میں حریت کی صدا بلند کرتے رہے۔یہاں سے بریلی گئے اور خان بہادر خاں نبیرۂ حافظ الملک حافظ رحمت خاں روہیلہ سے ملاقات کی، ان سے جہاد کے عنوان پر تبادلۂ خیال کیا۔واضح ہو کہ روہیلہ پٹھانوں کا یہ قبیلہ بڑا جری و بہادر تھا، اعلیٰ حضرت محدث بریلوی کا بڑھیچ قبیلہ اوپر جا کر روہیلوں سے جا ملتا ہے۔ مولانا کافیؔ بریلی سے مرادآباد آئے اور تگ ودو میں لگے رہے۔

مقدمہ و شہادت:
26 اپریل 1858ء کو جنرل مونس گورہ فوج لے کر مراد آباد پر حملہ آور ہوا۔ مجاہدین جاں نثاری سے لڑے۔ نواب مجو خاں آخری وقت تک ایک مکان کی چھت پر بندوق چلاتے نظر آئے۔ آخر کار جامِ شہادت نوش کیا۔ سقوطِ مرادآباد کے ساتھ ہی تمام انقلابی راہنما منتشر ہو گئے۔ جو انگریز حکومت کے ہاتھ آئے وہ تختۂ دار پر چڑھا دیے گئے یا حبسِ دوام بہ عبور دریائے شور کالا پانی کی سزا سے ہم کنار ہوئے۔

مولانا کفایت علی کافیؔ کو غدار ملک و ملت، انگریز پٹھو فخر الدین کلال کی مخبری سے انگریز نے گرفتار کر لیا۔ سزاؤں کا اذیت ناک مرحلہ شروع ہوا۔ جسم پر گرم گرم استری پھیری گئی۔ زخموں پرنمک مرچ چھڑکی گئی۔ اسلام سے بر گشتہ کرنے کے لیے انگریزوں نے ہر حربہ استعمال کیا۔ جب اس مردِ مجاہد سے انگریز مایوس ہو چکا تو بر سرِ عام چوک مراد آباد میں اس عاشقِ رسول کو تختۂ دار پر لٹکا دیا۔ 4 /مئی 1858ء کو مقدمہ کی پیشی ہوئی اور جلد ہی پھانسی کی سزا سنائی گئی۔

مسٹرجان انگلسن مجسٹریٹ کمیشن مرادآباد نے فیصلہ سنایا۔ 6 مئی 1858ء مقدمہ کی پوری کارروائی صرف دو دن میں پوری کردی گئی۔4 مئی کو پیشی ہوئی، اور 6 مئی کو پھانسی کا حکم دے دیا گیا۔ اور اسی وقت پھانسی دے دی گئی۔ جب پھانسی کا حکم سنایا گیا مولانا کافیؔ بہت ہی مسرور و وارفتہ تھے۔ قتل گاہ کو جاتے ہوئے زبان پر یہ اشعار جاری تھے۔ ؔ

کوئی گل باقی رہے گا نَے چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہ کا دینِ حَسَنْ رہ جائے گا

ہم صفیرو! باغ میں ہے کوئی دَم کا چہچہا
بلبلیں اُڑ جائیں گی، سوٗنا چمن رہ جائے گا

اطلس و کم خواب کی پوشاک پر نازاں نہ ہو
اس تنِ بے جان پر خاکی کفن رہ جائے گا

جو پڑھے گا صاحبِ لولاک کے اوپر درود
آگ سے محفوظ اس کا، تن بدن رہ جائے گا

سب فنا ہو جائیں گے کافیؔ ولیکن حشر تک
نعتِ حضرت کا زبانوں پر سخن رہ جائے گا

اس جنگ آزادی کی ناکامی
کے دو بہت پرانے اسباب تھے:

اول: کوئی مرکز نہیں تھا، جو تمام معاملات کو کنٹرول میں رکھتا۔ اسی طرح کوئی ایسی ملک گیر تنظیم بھی نہیں تھی جس میں اتحاد و یگانگت کی فضاء اور حالات پر گہری نظر ہوتی۔

دوم: غدار بہت زیادہ تھے۔ میر جعفر، میر صادق کا کردار ادا کرنے والے خبیث الفطرت، لالچی طبیعت کے افراد بہت زیادہ تھے۔ آج بھی امت کے زوال میں ایسے لوگوں کا کردار ہے۔

تاریخِ شہادت:
آپ  کی شہادت بروز جمعرات 22/ رمضان المبارک 1274ھ، مطابق 6/مئی 1858ء کو ہوئی۔

مدفن: مولانا کافی شہید علیہ الرحمہ کو مراد آباد جیل کے سامنے مجمع عام کے روبرو پھانسی دی گئی اور وہیں کسی مقام پر رات کی تاریکی میں دفن کر دیا گیا۔ دفن کے سلسلے میں عوام کے درمیاں مختلف راویات گردش کرتی ہیں۔

صحیح روایت:
مولانا سید ظفر الدین احمد بن مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی کی ہے وہ بیان کرتے ہیں: کہ ایک سڑک اس مقام سے نکالی جا رہی تھی اور مولانا کافی شہید کی قبر کا نشان نمایاں نہیں تھا۔ مزدور کام کر رہے تھے کہ مولانا کی قبر کھل گئی اور مزدور کا پھاؤڑا مولانا کافی کی پنڈلی پر لگا۔ جسم اطہر ویسا ہی تھا جیسا شہادت کے وقت تھا۔ بزرگ لوگوں نے چہرہ مبارک دیکھ کر شناخت کر لیا، اور کثیر تعداد میں لوگ زیارت کرنے کے لئے جوق در جوق آنے لگے۔ مزدوروں نے انجینئر سے بیان کیا اور وہ خود دیکھنے آیا، وہ میت صحیح سلامت دیکھ کر مرعوب ہو گیا اور احتراماً عوام کو ہٹا کر قبر پر دوبارہ تختے لگوا کر بالکل ٹھیک کر دیا اور وہیں سے سڑک کا رخ تبدیل کر دیا۔ جس کی وجہ سے سڑک میں آج بھی ٹیڑھا پن موجود ہے۔ (چند ممتاز علمائے انقلاب:98)
1👍1
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت۔ چند ممتاز علمائے انقلاب۔ علماء ہند کا شاندار ماضی۔

Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-kifayat-ali-kafi-shaheed
Copyright © Zia-e-Taiba
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
شہنشاہِ سخن حضرت مولانا محمد حسن رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* محمد حسن رضا خان۔ *لقب:* شہنشاہِ سخن، استاذِ زمن، تاجدارِ فکر و فن ـ

*سلسلہ نسب اس طرح ہے:*
محمد حسن رضا خان بن مولانا  مفتی نقی علی خان، بن مولانا رضا علی خان۔ (علیہم الرحمۃ )

*تاریخِ ولادت:*
آپ 4 ربیع الاول 1276ھ بمطابق 19 اکتوبر 1859ء کو حضرت مولانا نقی علی خان کے گھر پیدا ہوئے ۔

*تحصیلِ علم:*
ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والدِ گرامی مولانا مفتی نقی علی خان علیہ الرحمہ اور برادرِ اکبر شیخ الاسلام والمسلمین الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ  کے زیرِ سایہ ہوئی۔ فنِ شاعری میں برادرِ اکبر اور مرزا داغ دہلوی سے استفادہ فرمایا۔

*بیعت و خلافت:*
سراج العارفین سید ابو الحسین احمد نوری قادری برکاتی کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے  اور سند خلافت سے شرف یاب ہوئے۔

*سیرت و خصائص:*
ماہرِ علم و فن، شہنشاہِ سخن، استاذِ زمن، سخنورِ خوش بیاں، ناظمِ شیریں زباں مولانا محمد حسن رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ

علم و فن اور شعر و سخن کی  کہکشاؤں میں آپ کے نام کی وہی حیثیت ہے جو ستاروں کے جھرمٹ میں ماہِ تمام کی۔

سیرت و تذکرہ نگاری میں ان کے زبان و بیان کی جامعیت کا کوئی ہم پلہ نظر نہیں آتا۔

رد ِّباطل او ر احقاقِ حق میں آپ کی مہارت اور صلابت و پختگی اپنی نظیر آپ ہے۔ *اگر مختصر سے جملے میں* مولانا کو "نظم و نثر کا بے تاج بادشاہ" کہدیا جائے تو یقیناً کوئی مبالغہ آمیزی نہ ہوگی۔

مولانا حسن رضا بریلوی علیہ الرحمہ کا مجموعہ نعتیہ کلام ، شاعری کی بہت ساری خوبیوں اور خصوصیات سے سجا اور تمام تر فنّی محاسن سے مزین اور آراستہ ہے ۔

موضوعات کا تنوع، فکر کی ہمہ گیری، محبتِ رسول ﷺ کے پاکیزہ جذبات کی فراوانی کے اثرات جابجا ملتے ہیں۔ آپ کے کلام میں اندازِ بیان کی ندرت بھی ہے اور فکر و تخیل کی بلندی بھی، معنی آفرینی بھی ہے، تصوّفانہ ہم آہنگی بھی، استعارہ سازی بھی ہے، پیکر تراشی بھی، طرزِ ادا کا بانکپن بھی ہے، جدت طرازی بھی، کلاسیکیت کا عنصر بھی ہے، رنگِ تغزل کی آمیزش بھی، ایجاز و اختصار اور ترکیب سازی بھی ہے۔ استعاریٰ سازی، تشبیہات، اقتباسات، فصاحت و بلاغت، حُسنِ تعلیل و حُسنِ تشبیب، حُسنِ طلب و حُسنِ تضاد، لف و نشر مرتب و لف و نشر غیر مرتب، تجانیس، تلمیحات، تلمیعات، اشتقاق، مراعاۃ النظیر وغیرہ صنعتوں کی جلوہ گری بھی عربی اور فارسی کا گہرا رچاؤ بھی۔ الغرض آپ کا پورا کلام خود آگہی، کائنات آگہی اور خدا آگہی کے آفاقی تصور سے ہم کنار ہے۔  مگر کیا کہا جائے اردو ادب کے اُن مؤرخین و ناقدین اور شعرا کے تذکرہ نگاروں کو جنھوں نے گروہی عصبیت اور جانبداریت کے تنگ حصار میں مقید و محبوس ہو کر اردو کے اس عظیم شاعر کے ذکرِ خیر سے اپنی کتابوں کو یکسر خالی رکھا ۔

آپ کا ذکرِ خیر اپنی کتابوں میں نہ کرکے اردو ادب کے ساتھ بڑی بد دیانتی اور سنگین ادبی خیانت و جُرم کا ارتکاب کیا ہےـ *فااشتکی الی الله و الیه ترجع الامور ۔*

*وصال:*
22/ رمضان المبارک 1326ھ بمطابق 1908 کو 50 سال 6 ماہ  کی عمر میں وصال ہوا۔

Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-maulana-hasan-raza-khan-barelvi
Copyright © Zia-e-Taiba
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-09-1443 ᴴ | 23-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-09-1443 ᴴ | 24-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1