Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
Forwarded from 🌹آپ کے مسائل اور ان کا حل🌹 (✰ابواسید عبیدرضامدنی✰)
*استفتاء نمبر 347:*
کیا زکوٰۃ کے پیسوں سے مدرسہ، مسجد یا امام کی رہائش گاہ بنائی جا سکتی ہے ؟
سائل : نصیر احمد گجرات
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
زکوٰۃ کے پیسوں سے مدرسہ، مسجد اور امام مسجد کی رہائش گاہ کو تعمیر کرنا جائز نہیں ہے اور نہ اس طرح زکوٰۃ ادا ہوگی کیونکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے زکوٰۃ کے حقدار (شرعی فقیر) کو اس کا مالک بنانا شرط ہے تو اگر زکوٰۃ کے پیسے مذکورہ چیزوں کی تعمیرات پر خرچ کیے جائیں گے تو ادائیگی زکوٰۃ کی شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔
البتہ اگر مدرسہ، مسجد اور امام مسجد کی رہائش گاہ کی تعمیر کی بہت زیادہ ضرورت ہو اور لوگ اس کی تعمیر میں دلچسپی نہ لے رہے ہوں یا لوگوں کے پاس انہیں تعمیر کرنے کے اتنے وسائل ہی نہ ہوں تو ضرورتاً زکوٰۃ کے پیسوں کا حیلہ کر کے انہیں مدرسہ، مسجد اور امام مسجد کی رہائش گاہ کی تعمیرات پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔
حیلہ یوں ہوگا کہ پہلے زکوٰۃ کے حقدار کو زکوٰۃ کے پیسے دیدیے جائیں پھر وہ قبضہ کرنے کے بعد اپنی رضا و خوشی سے وہ پیسے مدرسہ، مسجد اور امام مسجد کی رہائش گاہ کی تعمیر کے لئے دیدے۔
چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے:
*"ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد و كذا القناطر و السقايات و إصلاح الطرقات و كري الأنهار و الحج و الجهاد و كل ما لا تمليك فيه"*
یعنی اور جائز نہیں ہے کہ زکوٰۃ (کے پیسے) سے مسجد، پُل، سقایہ، بنوانا، سڑکیں درست کروانا، نہریں کھدوانا، حج اور جہاد میں خرچ کرنا اور اس اس جگہ خرچ کرنا جہاں تملیک نہ پائی جاتی ہو۔
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف، جلد 1، صفحہ 188، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
مجمع الانھر میں ہے :
*"و لاتدفع الزکاۃ لبناء مسجد لان التملیک شرط فیھا و لم یوجد"*
یعنی مسجد کی تعمیر کے لئے زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی کیونکہ زکوٰۃ (کی ادائیگی) میں تملیک شرط ہے اور وہ (یہاں) نہیں پائی جارہی۔
*(مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر، جلد 1، صفحہ 328، دارالکتب العلمیہ بیروت)*
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"پھر دینے میں تملیک شرط ہے، جہاں یہ نہیں جیسے محتاجوں کو بطورِ اباحت اپنے دستر خوان پر بٹھا کر کھلا دینا یا میّت کے کفن دفن میں لگانا یا مسجد، کنواں، خانقاہ، مدرسہ، پُل، سرائے وغیرہ بنوانا ان سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔"
*(فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 110، رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
صدرالشریعہ مفتی محمد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"زکاۃ کا روپیہ مُردہ کی تجہیز و تکفین (کفن و دفن) یا مسجد کی تعمیر میں نہیں صرف کر سکتے کہ تملیک فقیر نہیں پائی گئی اور ان امور میں صرف کرنا چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ فقیر کو مالک کر دیں اور وہ صرف کرے اور ثواب دونوں کو ہوگا بلکہ حدیث میں آیا، ’’اگر سو ہاتھوں میں صدقہ گزرا تو سب کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا دینے والے کے لیے اور اس کے اجر میں کچھ کمی نہ ہوگی۔‘‘
*(بہارشریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 890، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
24/03/2021
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحیح والمجیب مصیب۔
*مفتی و حکیم محمد عارف محمود خان معطر قادری، مرکزی دارالافتاء اہلسنت میانوالی۔*
کیا زکوٰۃ کے پیسوں سے مدرسہ، مسجد یا امام کی رہائش گاہ بنائی جا سکتی ہے ؟
سائل : نصیر احمد گجرات
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
زکوٰۃ کے پیسوں سے مدرسہ، مسجد اور امام مسجد کی رہائش گاہ کو تعمیر کرنا جائز نہیں ہے اور نہ اس طرح زکوٰۃ ادا ہوگی کیونکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے زکوٰۃ کے حقدار (شرعی فقیر) کو اس کا مالک بنانا شرط ہے تو اگر زکوٰۃ کے پیسے مذکورہ چیزوں کی تعمیرات پر خرچ کیے جائیں گے تو ادائیگی زکوٰۃ کی شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔
البتہ اگر مدرسہ، مسجد اور امام مسجد کی رہائش گاہ کی تعمیر کی بہت زیادہ ضرورت ہو اور لوگ اس کی تعمیر میں دلچسپی نہ لے رہے ہوں یا لوگوں کے پاس انہیں تعمیر کرنے کے اتنے وسائل ہی نہ ہوں تو ضرورتاً زکوٰۃ کے پیسوں کا حیلہ کر کے انہیں مدرسہ، مسجد اور امام مسجد کی رہائش گاہ کی تعمیرات پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔
حیلہ یوں ہوگا کہ پہلے زکوٰۃ کے حقدار کو زکوٰۃ کے پیسے دیدیے جائیں پھر وہ قبضہ کرنے کے بعد اپنی رضا و خوشی سے وہ پیسے مدرسہ، مسجد اور امام مسجد کی رہائش گاہ کی تعمیر کے لئے دیدے۔
چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے:
*"ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد و كذا القناطر و السقايات و إصلاح الطرقات و كري الأنهار و الحج و الجهاد و كل ما لا تمليك فيه"*
یعنی اور جائز نہیں ہے کہ زکوٰۃ (کے پیسے) سے مسجد، پُل، سقایہ، بنوانا، سڑکیں درست کروانا، نہریں کھدوانا، حج اور جہاد میں خرچ کرنا اور اس اس جگہ خرچ کرنا جہاں تملیک نہ پائی جاتی ہو۔
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف، جلد 1، صفحہ 188، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
مجمع الانھر میں ہے :
*"و لاتدفع الزکاۃ لبناء مسجد لان التملیک شرط فیھا و لم یوجد"*
یعنی مسجد کی تعمیر کے لئے زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی کیونکہ زکوٰۃ (کی ادائیگی) میں تملیک شرط ہے اور وہ (یہاں) نہیں پائی جارہی۔
*(مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر، جلد 1، صفحہ 328، دارالکتب العلمیہ بیروت)*
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"پھر دینے میں تملیک شرط ہے، جہاں یہ نہیں جیسے محتاجوں کو بطورِ اباحت اپنے دستر خوان پر بٹھا کر کھلا دینا یا میّت کے کفن دفن میں لگانا یا مسجد، کنواں، خانقاہ، مدرسہ، پُل، سرائے وغیرہ بنوانا ان سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔"
*(فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 110، رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
صدرالشریعہ مفتی محمد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"زکاۃ کا روپیہ مُردہ کی تجہیز و تکفین (کفن و دفن) یا مسجد کی تعمیر میں نہیں صرف کر سکتے کہ تملیک فقیر نہیں پائی گئی اور ان امور میں صرف کرنا چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ فقیر کو مالک کر دیں اور وہ صرف کرے اور ثواب دونوں کو ہوگا بلکہ حدیث میں آیا، ’’اگر سو ہاتھوں میں صدقہ گزرا تو سب کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا دینے والے کے لیے اور اس کے اجر میں کچھ کمی نہ ہوگی۔‘‘
*(بہارشریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 890، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
24/03/2021
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحیح والمجیب مصیب۔
*مفتی و حکیم محمد عارف محمود خان معطر قادری، مرکزی دارالافتاء اہلسنت میانوالی۔*
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
Forwarded from ✰محمد التمش انصاری مصباحی✰
💥زکوٰۃ کی رقم سے مسجد میں سامان لگانا کیسا ہے💥
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں زکوٰۃ کی رقم سے مسجد میں موٹر لگا سکتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ کوئی رقم موجود نہ ہو مدلل جواب عنایت فرمائیں حوالہ کے ساتھ فقط والسلام
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب: نہیں لگا سکتے، کیونکہ زکوٰۃ کے مصارف فقرا و مساکین ہیں۔ قرآن کریم میں ہے: ﺇِﻧَّﻤَﺎ ﺍﻟﺼَّﺪَﻗَﺎﺕُ ﻟِﻠْﻔُﻘَﺮَﺍﺀِ ﻭَﺍﻟْﻤَﺴَﺎﻛِﻴﻦِ ﻭَﺍﻟْﻌَﺎﻣِﻠِﻴﻦَ ﻋَﻠَﻴْﻬَﺎ ﻭَﺍﻟْﻤُﺆَﻟَّﻔَﺔِ ﻗُﻠُﻮﺑُﻬُﻢْ ﻭَﻓِﻲ ﺍﻟﺮِّﻗَﺎﺏِ ﻭَﺍﻟْﻐَﺎﺭِﻣِﻴﻦَ ﻭَﻓِﻲ ﺳَﺒِﻴﻞِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺍﺑْﻦِ ﺍﻟﺴَّﺒِﻴﻞِ ۖ ﻓَﺮِﻳﻀَﺔً ﻣِﻦَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ۗ ﻭَﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠِﻴﻢٌ ﺣَﻜِﻴﻢٌ (60 ﺍﻟﺘﻮﺑﺔ) ترجمہ: ﺯﮐﻮٰۃ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﺍﻭﺭ ﻧﺮﮮ ﻧﺎﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﺗﺤﺼﯿﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻻﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺳﻼﻡ ﺳﮯ ﺍﻟﻔﺖ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﺩﻧﯿﮟ ﭼﮭﮍﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺿﺪﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮐﻮ، ﯾﮧ ﭨﮭﮩﺮﺍﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﻢ ﻭ ﺣﮑﻤﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ (کنز الایمان) لہذا زکوٰۃ کی رقم صرف انھیں لوگوں پر صرف کی جائے گی۔ رہا مسجد کا معاملہ تو اس میں چندہ آ جاتا ہے اور زیادہ دشواری بھی نہیں ہوتی ہے اس لئے مسجد میں جو بھی سامان لگانا ہے لوگوں سے اس کے لئے چندہ کیا جائے زکوٰۃ کی رقم کو ہرگز مسجد میں استعمال نہ کرے کہ یہ جائز نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد التمش الانصاری المصباحی
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں زکوٰۃ کی رقم سے مسجد میں موٹر لگا سکتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ کوئی رقم موجود نہ ہو مدلل جواب عنایت فرمائیں حوالہ کے ساتھ فقط والسلام
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب: نہیں لگا سکتے، کیونکہ زکوٰۃ کے مصارف فقرا و مساکین ہیں۔ قرآن کریم میں ہے: ﺇِﻧَّﻤَﺎ ﺍﻟﺼَّﺪَﻗَﺎﺕُ ﻟِﻠْﻔُﻘَﺮَﺍﺀِ ﻭَﺍﻟْﻤَﺴَﺎﻛِﻴﻦِ ﻭَﺍﻟْﻌَﺎﻣِﻠِﻴﻦَ ﻋَﻠَﻴْﻬَﺎ ﻭَﺍﻟْﻤُﺆَﻟَّﻔَﺔِ ﻗُﻠُﻮﺑُﻬُﻢْ ﻭَﻓِﻲ ﺍﻟﺮِّﻗَﺎﺏِ ﻭَﺍﻟْﻐَﺎﺭِﻣِﻴﻦَ ﻭَﻓِﻲ ﺳَﺒِﻴﻞِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺍﺑْﻦِ ﺍﻟﺴَّﺒِﻴﻞِ ۖ ﻓَﺮِﻳﻀَﺔً ﻣِﻦَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ۗ ﻭَﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠِﻴﻢٌ ﺣَﻜِﻴﻢٌ (60 ﺍﻟﺘﻮﺑﺔ) ترجمہ: ﺯﮐﻮٰۃ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﺍﻭﺭ ﻧﺮﮮ ﻧﺎﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﺗﺤﺼﯿﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻻﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺳﻼﻡ ﺳﮯ ﺍﻟﻔﺖ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﺩﻧﯿﮟ ﭼﮭﮍﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺿﺪﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮐﻮ، ﯾﮧ ﭨﮭﮩﺮﺍﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﻢ ﻭ ﺣﮑﻤﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ (کنز الایمان) لہذا زکوٰۃ کی رقم صرف انھیں لوگوں پر صرف کی جائے گی۔ رہا مسجد کا معاملہ تو اس میں چندہ آ جاتا ہے اور زیادہ دشواری بھی نہیں ہوتی ہے اس لئے مسجد میں جو بھی سامان لگانا ہے لوگوں سے اس کے لئے چندہ کیا جائے زکوٰۃ کی رقم کو ہرگز مسجد میں استعمال نہ کرے کہ یہ جائز نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد التمش الانصاری المصباحی
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
#فیضان_زکوۃ_و_صدقات صدقہ
زکوٰۃ صدقات عطیات = قِسط ❶
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے
صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا ...
صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا
تمہارے اسلام کا پورا ہونا یہ ہے
کہ تم اپنے مالوں کی زکٰوۃ ادَاکرو
اللہ نے ... مالوں میں زکوٰۃ فرض
ستر دروازے بری موت کے دفع
صدقہ ستر قسم کے بلاؤں کو...
رمضان کے جمعہ میں 100 روپیہ
صدقہ کریںگے تو 14000 کےبرابر
جمعہ کے دن صدقہ کا دُگنا ثواب
زکوٰۃ صدقات عطیات = قِسط ❶
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے
صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا ...
صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا
تمہارے اسلام کا پورا ہونا یہ ہے
کہ تم اپنے مالوں کی زکٰوۃ ادَاکرو
اللہ نے ... مالوں میں زکوٰۃ فرض
ستر دروازے بری موت کے دفع
صدقہ ستر قسم کے بلاؤں کو...
رمضان کے جمعہ میں 100 روپیہ
صدقہ کریںگے تو 14000 کےبرابر
جمعہ کے دن صدقہ کا دُگنا ثواب
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_زکوۃ_و_صدقات صدقہ زکوٰۃ صدقات عطیات = قِسط ❶ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا ... صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا تمہارے اسلام کا پورا ہونا یہ ہے کہ تم اپنے مالوں کی زکٰوۃ ادَاکرو اللہ…
#فیضان_زکوۃ_و_صدقات صدقہ
زکوٰۃ صدقات عطیات = قِسط ❷
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پیسوں کی زکوۃ نکالنے کا طریقہ
روپیوں کی زکوٰۃ نکالنے کا طریقہ
ہر چیز کی ایک زكوٰة ہوتی ہے ...
سب سے افضل صدقہ ... پانی ہے
پانی کا ثواب... 🤲 سعد کی ماں
پہنے ہوئے زیور کی زکوٰۃ ...
صدقات و خیرات کے فضائل
کوئی صدقہ قبول کرنے والا نہیں
شرائط زکوٰۃ | دارالافتاء اہلسنت
زکوٰۃ کس کو دی جائے // //
زکوٰۃ صدقات عطیات = قِسط ❷
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پیسوں کی زکوۃ نکالنے کا طریقہ
روپیوں کی زکوٰۃ نکالنے کا طریقہ
ہر چیز کی ایک زكوٰة ہوتی ہے ...
سب سے افضل صدقہ ... پانی ہے
پانی کا ثواب... 🤲 سعد کی ماں
پہنے ہوئے زیور کی زکوٰۃ ...
صدقات و خیرات کے فضائل
کوئی صدقہ قبول کرنے والا نہیں
شرائط زکوٰۃ | دارالافتاء اہلسنت
زکوٰۃ کس کو دی جائے // //
❤1👍1