🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
*صورت مسئولہ میں گاؤں والوں کا بیت المال قائم کرکے مال زکوٰۃ وصول کرنے کا مقصد اگر واقعی مستحقین تک زکوٰۃ کی رقم انہیں پہونچا کر مالک بنانا ہے تو بڑی اچھی بات ہے ، ورنہ اگر خرچ بلا تملیک فقیر ہوتو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی اور بعد حیلہ شرعی شادی بیاہ ، اسکول و کالج وغیرہ کی تعلیم پر صرف ہوتو ابطال حکمت زکوٰۃ کی بنا پر ممنوع ہے ، اور اگر مقصود فقراء تک پہونچا کر مالک بنانا ہی ہے مگر بلاوجہ عذر و مصلحت شرعی کے بغیر بیت المال میں جمع کر رکھاہے تو بھی درست نہیں کہ محض بیت المال کے آفس میں رقم جمع کردینے سے آدمی برئ الذمہ نہیں ہوتا ،*

چنانچہ علامہ علاؤالدین حصکفی فرماتےہیں

*🖋️" ولایخرج عن العھدۃ بالعزل ، بل بالاداء للفقیر "*

*(📕الدرالمختار ، کتاب الزکوۃ، ص۱۲۷)*
یعنی ، مال زکوٰۃ صرف الگ دینے سے عہدہ برآ نہیں ہوگا بلکہ فقیر کو ادا کرنے سے ہوگا ،

*اور اگر مستحقین تک پہونچانے میں سال دو سال تک کی تاخیر ہوجائے تو پھر گناہگار بھی ہونگے ۔*

علامہ ابن عابدین شامی فرماتےہیں

*🖋️" المراد أن لا يؤخر إلى العام القابل لما في البدائع عن المنتقى بـ «النون، إذا لم يؤد حتى مضى حولان فقد أساء وأثم "*

*(📗ردالمحتار ، کتاب الزکوۃ ، ۳/۱۹۲)*
یعنی تاخیر سے مراد یہ ہےکہ آنے والے سال تک مؤخر نہ کرے جیساکہ بدائع میں منتقے سے منقول ہے ، کہ جب ادا نہیں کیا یہانتک کہ دو س گزر گئے تو برا کیا اور گناہگار ہوا ،

*البتہ اگر حیلہ شرعی کے بعد جمع کر رکھاہے تو گناہگار ہونے کی کوئی وجہ نہیں ، کماھو ظاھر*

*یہاں کوئی مدارس اسلامیہ پر عدم اعتماد کا خیال نہ کرے اسلئے کہ مدارس کے مھتمم غریب طلبہ کے وکیل ہوتے ہیں کیونکہ جب مدارس کے طلبہ نے ان کے اہتمام کو تسلیم کرلیا تو گویا یہ کہہ دیا کہ آپ ہمارے لئے مالداروں سے زکوٰۃ وصول کرکے ہماری ضروریات میں صرف کریں ، لہذا زکوٰۃ کی رقم مہتمم کے پاس یا مدرسے کے دفتر میں جمع ہوتے ہی زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا ہوجائےگی ،*

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ھ فرماتے ہیں

*🖋️" قوله (إذا وكله الفقراء) لأنه كلما قبض شيئاً ملكوه وصار خالطا مالهم بعضهم ببعض، ووقع زكاة عن الدافع "*

*(📙ردالمحتار ، کتاب الزکوۃ ، تحت شرط صحۃ اداء ، ۳/۱۸۸ ، دارعالم الکتب ریاض ، طبعۃخاصۃ:۱۴۲۳ھ)*
یعنی،شارح کاقول کہ مگر جبکہ فقراء نے اسے وکیل بنایا ہو: اسلئےکہ جب وہ وکیل کسی چیز پر قبضہ کرےگا فقراء مالک ہوجائیں گے اور خلط انہی کے بعض مال کا بعض مال کےساتھ ہوگا اور زکوۃ دینے والے کی طرف سے ادا ہوجائےگی ،

*جبکہ فلاحی اداروں ، تنظیموں کے اراکین فقراء کے وکیل نہیں ہوتے بلکہ زکوٰۃ ادا کرنے والوں کے وکیل ہوتے ہیں ، وکیل کے ہاتھ میں آتے ہی مؤکل برئ الذمہ نہیں ہوتا جب تک کہ وکیل مستحق تک نہ پہونچا دے جیساکہ ابھی درمختار کے حوالے سے گزرا ۔*

*ھذا ماظھرلی والعلم الحقیقی عندربی*
*واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب*


*✍🏻کتبــــــــــه:*
*محمد شکیل اختر قادری برکاتی، شیخ الحدیث مدرسۃالبنات مسلک اعلی حضرت، ہبلی کرناٹک الہند۔*

*الجواب صحیح: محمد شبیر احمد صدیقی، قاضی شرع احمدآباد،گجرات۔*
*الجواب صحیح: عطا محمد مشاہدی، دارالافتاء دارالعلوم حشمت الرضا پیلی بھیت شریف یوپی۔*
*الجواب صحیح والمجیب نجیح: محمدشرف الدین رضوی، شیخ الحدیث دارالعلوم حبیبیہ قادریہ فیلخانہ ہوڑہ کلکتہ۔*
*الجواب صحیح: محمدصادق رضا، شاہی جامع مسجد پٹنہ بہار۔*
*الجواب صواب والمجیب مثاب واللہ تعالٰی اعلم: شمیم القادری نعیمی خادم مسجد کنزالایمان ومدرس دارالعلوم صمدیہ محمدیہ داونگیرے کرناٹک۔*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
Forwarded from 🌹آپ کے مسائل اور ان کا حل🌹 (✰ابواسید عبیدرضامدنی✰)
*استفتاء نمبر 347:*
کیا زکوٰۃ کے پیسوں سے مدرسہ، مسجد یا امام کی رہائش گاہ بنائی جا سکتی ہے ؟
سائل : نصیر احمد گجرات
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
زکوٰۃ کے پیسوں سے مدرسہ، مسجد اور امام مسجد کی رہائش گاہ کو تعمیر کرنا جائز نہیں ہے اور نہ اس طرح زکوٰۃ ادا ہوگی کیونکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے زکوٰۃ کے حقدار (شرعی فقیر) کو اس کا مالک بنانا شرط ہے تو اگر زکوٰۃ کے پیسے مذکورہ چیزوں کی تعمیرات پر خرچ کیے جائیں گے تو ادائیگی زکوٰۃ کی شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔
البتہ اگر مدرسہ، مسجد اور امام مسجد کی رہائش گاہ کی تعمیر کی بہت زیادہ ضرورت ہو اور لوگ اس کی تعمیر میں دلچسپی نہ لے رہے ہوں یا لوگوں کے پاس انہیں تعمیر کرنے کے اتنے وسائل ہی نہ ہوں تو ضرورتاً زکوٰۃ کے پیسوں کا حیلہ کر کے انہیں مدرسہ، مسجد اور امام مسجد کی رہائش گاہ کی تعمیرات پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔
حیلہ یوں ہوگا کہ پہلے زکوٰۃ کے حقدار کو زکوٰۃ کے پیسے دیدیے جائیں پھر وہ قبضہ کرنے کے بعد اپنی رضا و خوشی سے وہ پیسے مدرسہ، مسجد اور امام مسجد کی رہائش گاہ کی تعمیر کے لئے دیدے۔
چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے:
*"ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد و كذا القناطر و السقايات و إصلاح الطرقات و كري الأنهار و الحج و الجهاد و كل ما لا تمليك فيه"*
یعنی اور جائز نہیں ہے کہ زکوٰۃ (کے پیسے) سے مسجد، پُل، سقایہ، بنوانا، سڑکیں درست کروانا، نہریں کھدوانا، حج اور جہاد میں خرچ کرنا اور اس اس جگہ خرچ کرنا جہاں تملیک نہ پائی جاتی ہو۔
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف، جلد 1، صفحہ 188، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
مجمع الانھر میں ہے :
*"و لاتدفع الزکاۃ لبناء مسجد لان التملیک شرط فیھا و لم یوجد"*
یعنی مسجد کی تعمیر کے لئے زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی کیونکہ زکوٰۃ (کی ادائیگی) میں تملیک شرط ہے اور وہ (یہاں) نہیں پائی جارہی۔
*(مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر، جلد 1، صفحہ 328، دارالکتب العلمیہ بیروت)*
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"پھر دینے میں تملیک شرط ہے، جہاں یہ نہیں جیسے محتاجوں کو بطورِ اباحت اپنے دستر خوان پر بٹھا کر کھلا دینا یا میّت کے کفن دفن میں لگانا یا مسجد، کنواں، خانقاہ، مدرسہ، پُل، سرائے وغیرہ بنوانا ان سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔"
*(فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 110، رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
صدرالشریعہ مفتی محمد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"زکاۃ کا روپیہ مُردہ کی تجہیز و تکفین (کفن و دفن) یا مسجد کی تعمیر میں نہیں صرف کر سکتے کہ تملیک فقیر نہیں پائی گئی اور ان امور میں صرف کرنا چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ فقیر کو مالک کر دیں اور وہ صرف کرے اور ثواب دونوں کو ہوگا بلکہ حدیث میں آیا، ’’اگر سو ہاتھوں میں صدقہ گزرا تو سب کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا دینے والے کے لیے اور اس کے اجر میں کچھ کمی نہ ہوگی۔‘‘
*(بہارشریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 890، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
24/03/2021
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحیح والمجیب مصیب۔
*مفتی و حکیم محمد عارف محمود خان معطر قادری، مرکزی دارالافتاء اہلسنت میانوالی۔*
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
Forwarded from ✰محمد التمش انصاری مصباحی✰
💥زکوٰۃ کی رقم سے مسجد میں سامان لگانا کیسا ہے💥


کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں زکوٰۃ کی رقم سے مسجد میں موٹر لگا سکتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ کوئی رقم موجود نہ ہو مدلل جواب عنایت فرمائیں حوالہ کے ساتھ فقط والسلام



بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب: نہیں لگا سکتے، کیونکہ زکوٰۃ کے مصارف فقرا و مساکین ہیں۔ قرآن کریم میں ہے: ﺇِﻧَّﻤَﺎ ﺍﻟﺼَّﺪَﻗَﺎﺕُ ﻟِﻠْﻔُﻘَﺮَﺍﺀِ ﻭَﺍﻟْﻤَﺴَﺎﻛِﻴﻦِ ﻭَﺍﻟْﻌَﺎﻣِﻠِﻴﻦَ ﻋَﻠَﻴْﻬَﺎ ﻭَﺍﻟْﻤُﺆَﻟَّﻔَﺔِ ﻗُﻠُﻮﺑُﻬُﻢْ ﻭَﻓِﻲ ﺍﻟﺮِّﻗَﺎﺏِ ﻭَﺍﻟْﻐَﺎﺭِﻣِﻴﻦَ ﻭَﻓِﻲ ﺳَﺒِﻴﻞِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺍﺑْﻦِ ﺍﻟﺴَّﺒِﻴﻞِ ۖ ﻓَﺮِﻳﻀَﺔً ﻣِﻦَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ۗ ﻭَﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠِﻴﻢٌ ﺣَﻜِﻴﻢٌ (60 ﺍﻟﺘﻮﺑﺔ) ترجمہ: ﺯﮐﻮٰۃ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﺍﻭﺭ ﻧﺮﮮ ﻧﺎﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﺗﺤﺼﯿﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻻﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺳﻼﻡ ﺳﮯ ﺍﻟﻔﺖ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﺩﻧﯿﮟ ﭼﮭﮍﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺿﺪﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮐﻮ، ﯾﮧ ﭨﮭﮩﺮﺍﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﻢ ﻭ ﺣﮑﻤﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ (کنز الایمان) لہذا زکوٰۃ کی رقم صرف انھیں لوگوں پر صرف کی جائے گی۔ رہا مسجد کا معاملہ تو اس میں چندہ آ جاتا ہے اور زیادہ دشواری بھی نہیں ہوتی ہے اس لئے مسجد میں جو بھی سامان لگانا ہے لوگوں سے اس کے لئے چندہ کیا جائے زکوٰۃ کی رقم کو ہرگز مسجد میں استعمال نہ کرے کہ یہ جائز نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد التمش الانصاری المصباحی
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
#فیضان_زکوۃ_و_صدقات صدقہ
زکوٰۃ صدقات عطیات = قِسط ❶
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے
صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا ...
صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا
تمہارے اسلام کا پورا ہونا یہ ہے
کہ تم اپنے مالوں کی زکٰوۃ ادَاکرو
اللہ نے ... مالوں میں زکوٰۃ فرض
ستر دروازے بری موت کے دفع
صدقہ ستر قسم کے بلاؤں کو...
رمضان کے جمعہ میں 100 روپیہ
صدقہ کریں‌گے تو 14000 کےبرابر
جمعہ کے دن صدقہ کا دُگنا ثواب
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_زکوۃ_و_صدقات صدقہ زکوٰۃ صدقات عطیات = قِسط ❶ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا ... صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا تمہارے اسلام کا پورا ہونا یہ ہے کہ تم اپنے مالوں کی زکٰوۃ ادَاکرو اللہ…
#فیضان_زکوۃ_و_صدقات صدقہ
زکوٰۃ صدقات عطیات = قِسط ❷
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پیسوں کی زکوۃ نکالنے کا طریقہ
روپیوں کی زکوٰۃ نکالنے کا طریقہ
ہر چیز کی ایک زكوٰة ہوتی ہے ...
سب سے افضل صدقہ ... پانی ہے
پانی کا ثواب... 🤲 سعد کی ماں
پہنے ہوئے زیور کی زکوٰۃ ...
صدقات و خیرات کے فضائل
کوئی صدقہ قبول کرنے والا نہیں
شرائط زکوٰۃ | دارالافتاء اہلسنت
زکوٰۃ کس کو دی جائے // //
1👍1