🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯
-----------------------------------------------------------
📚کیا ثعلبہ نام کے دوشخص تھے ایک صحابی تھے دوسرا منافق تھا؟📚


السلام علیکم ورحمۃﷲ وبرکاتہ
کیافرماتے ہیں علماءدین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ثعلبہ کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ وہ صحابی تھے دولت کی وجہ سے نمازیں بھی ترک کیں اور زکوۃ دینے سے بھی انکار کیا تو کیایہ واقعہ درست ہے
کیونکہ صحابہ رضی الله عنہم اجمعین تو وہ ہیں جو میرے سرکارﷺ پہ اپنی جانوں کو نچھاور کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے تو کیا یہ ممکن ہے
سائل: محمد ریاض گریڈیہ جھارکھنڈ۔

______♻️_______

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
یہ واقعہ صحیح ہے کہ حضور سرور کائنات صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ایک شخص جس کا نام "ثعلبہ بن ابی حاطب" ہے نہایت غریب وتنگدست تھا ظاہری طور پر ایمان لایا اور اندرونی طور پر کافرہی تھا شریعت میں ایسی خصلت والے کو منافق کہتے ہیں
تو ثعلبہ بن ابی حاطب پکا منافق تھا اللّٰہ پاک نے جب اسے مال و دولت سے نوازا تو یہ اپنی منافقت میں اور چوکھا ہوگیا جب اللّٰہ پاک نے زکوۃ دینے کا حکم نازل فرمایا تو اس نے
اپنے مال کی زکوٰۃ دینے سے صاف انکار کردیا تھا
بعد میں اپنی منافقت کو چھپانے کے لئے مال زکوٰۃ لے کر حضور سرور کائنات صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو سرکار دوعالم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کی زکوٰۃ کو مردود قرار فرمادیا
کیونکہ------------------!!!
ثعلبہ بن ابی حاطب نے حکم خداوندی کو ٹیکس کہا تھا
"ثعلبہ بن ابی حاطب" کے بابت حضرت شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی صاحب علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ
قرآن مجید کے سیاق اور تفاسیر سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ( ثعلبہ بن ابی حاطب ) منافق تھا سورہ توبہ کی آیت کریمہ
"ومنهم من عهد الله لئن اٰتٰنا من فضله لنصدقن"
(📗 سورہ توبہ آیت 75 پارہ 10)
اوران میں کوئی وہ ہیں جنھوں نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر ہمیں فضل سے دے گا تو ہم ضرور خیرات کریں گے
اسی کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ اس کے قبل منافقین کا تذکرہ ہے آیت کریمہ میں

"منهم کی ضمیر مجرور متصل کا مرجع" او پر مذکور منافقین ہیں اس سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ منافق تھا خازن میں ہے: " "(ومنهم) من المنافقين (من عهد الله)"حلف الله یعنی ثعلبہ بن ابی حاطب بن ابی بلتعہ
اسی طرح اصابہ میں حضرت علامہ ابن حجر مکی عسقلانی کے کلام سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ منافق تھا

پہلے یہ لکھا "ذکرہ ابن اسحاق فیمن بنی مسجدا ضرارا"
ابن اسحاق نے ذکر کیا یہ ان لوگوں میں سے تھا جنھوں نے مسجد ضرار بنائی تھی اور محقق ہے کہ مسجد ضرار بنانے والے منافق تھےکچھ لوگوں نے یہ کہا تھا ثعلبہ بن حاطب بن عمر و بن عبید ہیں اسے رد کرتے ہوۓ فرماتے ہیں کہ یہ بدر میں شہید ہوئے تھےاور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو بدر اور حدیبیہ میں شریک ہوگا وہ جہنم میں نہیں جائے گا اور اللہ تعالی نے بدر والوں سے فرمایا: "اعملوا ماشئتم فقد غفرت لكم"
یعنی جو چاہو کرو میں نے تم کو بخش دیا
اس کے بعد علامہ ابن حجر نے فرمایا "فمن يكون بهذه المثابة كيف يعقبه الله نفاقا في قلبه وينزل فيه مانزل" جس کا یہ حال ہو کیسے اس کے دل میں بعد میں اللہ تعالی نفاق پیدا فرمائے گا اور اس کے بارے میں وہ نازل فرمائے گا جو نازل فرمایا
ان تصریحات سے ظاہر ہو گیا کہ ثعلبہ مذکورمنافق تھا صحابی نہیں تھا
(📚فتاویٰ شارح بخاری جلد دوم صفحہ 41/42/43)
اسی طرح سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تحریرفرماتے ہیں کہ یہ شخص جس کے باب میں یہ آیت اتری ثعلبہ ابن ابی حاطب ہے اگرچہ یہ بھی قوم اَوس سے تھا اور بعض نے اس کانام بھی ثعلبہ ابن حاطب کہا مگروہ (ثعلبہ ابن حاطب بن عمروبن عبید)بدری خود زمانۂ اقدس حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں جنگ اُحد میں شہیدہوئے اور یہ(ثعلبہ ابن ابی حاطب) منافق زمانۂ خلافت امیرالمومنین عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں مرا
(📘فتاویٰ رضویہ، فوائد تفسیریہ وعلوم قرآن، جلد ٢٦ صفحہ ٤٥٣ )
    
واضح رہے کہ
عہد رسالت میں ثعلبہ نام کے دوشخص تھے ایک تو یہی ثعلبہ بن ابی حاطب جو کہ منافق تھا اپنے مال کی زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا تھا اور آخر میں اپنے سر پر خاک ڈال ڈال کر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر خلافت عثمانی میں مرا
دوسرے حضرت ثعلبہ ابن حاطب بن عمروبن عبید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ہیں جوکہ بدری مخلص صحابی ہیں
آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ جنگ احد میں شہید ہوئے

واعظین مقررین وغیرہ کو چاہئیے کہ بیان واقعہ کے وقت خلاصہ کرکے بیان کیا کریں تاکہ لوگ کسی قسم کے تذبذب اور غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔
🔹واللہ اعلم و رسولہ🔹
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:
2👍1
حضرت علامہ مولانا ابوالاحسان محمد مشتاق احمد قادری رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی مہاراشٹر۔

الجواب صحیح والمجیب نجیح : حضرت مفتی جابرالقادری رضوی صاحب قبلہ جمشید پور جھارکھنڈ۔
الجواب صحیح والمجیب نجیح: حضرت علامہ مولانا مفتی اسرار احمد نوری صاحب قبلہ کالا ڈھونگی نینی تال اتراکھنڈ۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
-----------------------------------------------------------
*📚میت کی طرف سے زکات ادا کرنا کیسا؟ تفصیل و حکم!📚*


●(استفتاء) السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ
بعدہ عرض ہے کہ زید جو کہ مالک نصاب ہے مگر اس نے دو سال سے زکوٰۃ ادا نہیں کیا ہے اب وہ انتقال کر گیا ہےتو کیا اس کے وارثین پر اس مال پر دو سال کا زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے یا نہیں، حوالہ کے ساتھ جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں.
*سائل:* مسیم الدین قادری اتر دیناجپور بنگال۔


*وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
*الـــجــــــــــوابـــــــ :۔ ⇩*
● مرحوم زید کا مال اب اس کے وارثوں کاہے، زید کی زکاۃ اداکرنا وارثین پر لازم وضروری نہیں. البتہ اگر زید نے زکات ادا کردینے کی وصیت کی تھی تو اس کے مال کے تیسرے حصے سے زکات کی ادائیگی کی جائے گی. اور اگر اس کے ورثہ اس پر راضی ہوں کہ کل مال سے زید کی زکات ادا کردیں تو کرسکتےہیں ،اور ایسا کرنا بہت بہتر ہے. ایسا ہی فتاوی بحر العلوم ل، ج:٢،ص:١٤٤_١٤٥ناشر شبیربرادرز_ پر مذکور ہے.
____
درمختار میں ہے:*"(ﻭﻟﻮ ﻣﺎﺕ ﻭﻋﻠﻴﻪ ﺻﻠﻮاﺕ ﻓﺎﺋﺘﺔ ﻭﺃﻭﺻﻰ ﺑﺎﻟﻜﻔﺎﺭﺓ ﻳﻌﻄﻰ ﻟﻜﻞ....ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻳﻌﻄﻲ (ﻣﻦ ﺛﻠﺚ ﻣﺎﻟﻪ) ﻭﻟﻮ ﻟﻢ ﻳﺘﺮﻙ ﻣﺎﻻ ﻳﺴﺘﻘﺮﺽ ﻭاﺭﺛﻪ ﻧﺼﻒ ﺻﺎﻉ ﻣﺜﻼ ﻭﻳﺪﻓﻌﻪ ﻟﻔﻘﻴﺮ ﺛﻢ ﻳﺪﻓﻌﻪ اﻟﻔﻘﻴﺮ ﻟﻠﻮاﺭﺙ ﺛﻢ ﻭﺛﻢ ﺣﺘﻰ ﻳﺘﻢ."*
ردالمحتار میں ہے:*"ﻗﻮﻟﻪ( ﻳﻌﻄﻰ) : ﺑﺎﻟﺒﻨﺎء ﻟﻠﻤﺠﻬﻮﻝ: ﺃﻱ ﻳﻌﻄﻲ ﻋﻨﻪ ﻭﻟﻴﻪ: ﺃﻱ ﻣﻦ ﻟﻪ ﻭﻻﻳﺔ اﻟﺘﺼﺮﻑ ﻓﻲ ﻣﺎﻟﻪ ﺑﻮﺻﺎﻳﺔ ﺃﻭ ﻭﺭاﺛﺔ ﻓﻴﻠﺰﻣﻪ ﺫﻟﻚ ﻣﻦ اﻟﺜﻠﺚ ﺇﻥ ﺃﻭﺻﻰ، ﻭﺇﻻ ﻓﻼ ﻳﻠﺰﻡ اﻟﻮﻟﻲ ﺫﻟﻚ ﻷﻧﻬﺎ ﻋﺒﺎﺩﺓ ﻓﻼ ﺑﺪ ﻓﻴﻬﺎ ﻣﻦ اﻻﺧﺘﻴﺎﺭ...إلخ"*(الدرالمختار مع ردالمحتار،کتاب الصلاۃ،باب قضاء الفوائت،ص:٧٢٨،موبائل ایپ سائز)


*✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــــبه:*
*عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیا*
*📲
+263780498811*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
-----------------------------------------------------------
*📚صدقہ نفلی کے روپیے کہاں کہاں خرچ کر سکتے ہیں؟📚*


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے ہمارے گاؤں کے سبھی نوجوانوں نے مل کر ایک فاونڈیشن بنایا ہے اس کا نام " فیضانِ آل رسول فاونڈیشن " رکھا ہے
اس میں جن لوگوں سے جتنا ہوتا ہے اپنے جان اور مال کا صدقہ نفلی نکالتے ہیں. ہمارا مقصد یہ ہے کہ اس فاونڈیشن سے غریب۔،یتیم، بیوہ عورت، مجبور ، لاچار ،غریب بیٹی کی شادی اور اس کی پڑھائی کرانا، اس فاونڈیشن کے بارے میں کبھی کبھی علمائے کرام کے ذریعے صدقہ کی فضیلت بتاتے ہیں اور میلادِ مصطفیٰ ﷺ بھی کرواتے ہیں
کیا یہ سب کام صدقہ نفلی کے روپیے سے کر سکتے ہیں ؟
صدقہ نفلی کے روپیے کہاں کہاں خرچ کر سکتے ہیں؟
علمائے کرام جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں
*سائل : محمد اظہرالدین عظیمی کھگڑیا الولی پھول توڑا بہار*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب :*
مذکورہ چیزیں جو آپ نے ذکر کی ہیں اگر وہ چندہ واقعی نفلی صدقات کا ہے تو مذکورہ بالا کاموں میں خرچ کر سکتے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : *"وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِۙ-وَ السَّآىٕلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَۚ-"*
ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دے۔
*(📕سورۂ بقرہ آیت ۱۷۷)*

نفلی جو کچھ بھی دیا جاتا ہے اس کا دارومدار دینے والے کے اوپر ہوتا وہ جن جن کاموں کی اجازت دے رہے ہیں ان سب میں استعمال کر سکتے ہیں۔ان کے علاوہ میں استعمال کرنا جائز نہیں۔ اگر دئے گئے روپئے مقصد کے علاوہ کے خرچ کرے گا تو گنہگار ہوگا اور اس حوالے سے سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ جو نوجوان نفلی چندہ دے رہے ہیں وہ اس طور پر دیں۔ آپ اس سے ہر جائز کام کر سکتے ہیں پھر لینے والے آزمائش میں مبتلا نہیں ہونگے ۔ اور وہ کھل کر نیک کام کر سکتا ہے۔ لیکن اس میں بھی اس بات کا خیال رکھے کہ اسے نیک کاموں ہی میں خرچ کرے نہ کہ اس رقم سے ذاتی کام کرے ورنہ امانت میں خیانت کا مرتکب ہونے کے سبب گنہگار ہوگا۔

ہاں! صدقاتِ واجبہ مثلاً زکوٰۃ و صدقۂ یا عشر یا پھر نذر شرعی معین کی رقوم صرف اور صرف مصارفِ زکوٰۃ پر ہی بطورِ تملیک خرچ کرنا لازم ہے! کیوں کہ ان کی ادا میں تملیکِ فقیر شرعی شرط ہے!

*اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:* چندہ کا روپیہ چندہ دینے والوں کا مِلک رہتاہے جس کام کے لئے وہ دیں جب اُس میں صَرف نہ ہو تو فرض ہے کہ انہیں کو واپس دیاجائے یا کسی دوسرے کام کے لئے وہ اجازت دیں اُن میں جو نہ رہا ہو ان کے وارثوں کو دیاجائے یا ان کے عاقل بالغ جس کام میں اجازت دیں، ہاں جو اُن میں نہ رہا اور اُن کے وارث بھی نہ رہے یا پتانہیں چلتا یا معلوم نہیں ہوسکتا کہ کس کس سے لیاتھا، کیا کیا تھا، وہ مثل مالِ لقطہ ہے، مصارفِ خیر مثل مسجد اور مدرسہ اہل سنت ومطبع اہل سنت وغیرہ میں صَرف ہوسکتاہے،
*(📓فتاوی رضویہ شریف ج ۲۳ ص ۵۶۶ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)*

*واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*✍🏻کتبہ:*
*محمد اشفاق عطاری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی نیپال۔*

*الجواب صحیح والمجیب نجیح : خلیفۂ حضور تاج الشریعہ حضرت مفتی سید شمس الحق برکاتی مصباحی صاحب قبلہ۔*
* الجواب صحیح والمجیب نجیح : حضرت علامہ مولانا مفتی محمد جابر القادری رضوی صاحب قبلہ جمشید پور۔*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
-----------------------------------------------------------
*📚فلاحی اداروں کا زکوٰۃ وصول کرنا، جمع شدہ مال زکوٰۃ سال گزرنے کے بعد بھی جمع رکھنا شرعاً کیسا ہے؟📚*


*السلامُ عليكم ورحمة الله وبركاته*
کیا فرماتےہیں مفتیان اسلام اس مسئلہ میـں
گاؤں میں بیت المال قائم ہے

بیت المال قائم کرنے کا مقصد غریب اور بیوہ کی مدد کرنا ہے کسی کا ماہانہ خرچ تو کسی کا علاج کرایا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ
اس کے لئے ہر سال کمیٹی زکوٰۃ وصول کرتی ہے
تو کمیٹی کے ممبران کون کون ہو سکتے ہیں؟
اور جو ہر سال زکوٰۃ کا پیسہ وصولہ جاتا ہے کیا اس کو ایک سال کے دوران ختم کرنا ضروری ہے
مثلاً پچھلے رمضان میں 5 لاکھ چندہ ہوا تو کیا رمضان سے پہلے پہلے 5 لاکھ جو چندہ ہوا تھا اس کو پورا خرچ کرنا ضروری ہے یا اس کو آئندہ سال کے لئے بھی استعمال کر سکتے ہیں؟ مدلل جواب عطا فرمائیں نوازش ہوگی
*المستفتی : محمد عثمان رضا ممبئی*


*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب:*
*ادائیگی زکوٰۃ میں بنیادی شرط " تملیک فقیر " یعنی فقیر کو مال زکوٰۃ کا مالک بنا دینا ہے ،*

چنانچہ امام شمس الدین محمد تمرتاشی حنفی متوفی۱۰۰۴ھ فرماتے ہیں
*🖋️" ھی تملیک جزء مال عینہ الشارع من مسلم فقیر "*

*(📕تنویرالابصار ، کتاب الزکوۃ، ص۳۶ ، مطبوعۃ:مطبعۃالترقی مصر ، الطبعۃالاولی:۱۳۳۲ھ)*
یعنی، شارع کی طرف متعین کردہ مال کے حصے کا مسلمان فقیر کو مالک بنادینے کا نام زکوٰۃ ہے ،

*اسی لئے جن امور میں تملیک فقیر نہیں پائی جاتی ان میں زکوٰۃ صرف بھی نہیں ہوسکتی ،*

امام تمرتاشی فرماتےہیں
*🖋️" لا الی بناء مسجد و کفن میت وقضاء دینہ "*

*(📘ایضا ص۴۲)*

یعنی، تعمیرمسجد ، کفن میت اور ادائیگی قرض میت میں زکوٰۃ صرف نہیں کی جاسکتی،

*البتہ جہاں ضرورت ہو کہ بے اس کے کام چل نہ سکے تو بعد حیلہ شرعی صرف کرنے کی اجازت ہے*

چنانچہ علامہ علاؤالدین محمد بن علی حصکفی حنفی متوفی ۱۰۸۸ھ فرماتے ہیں
*🖋️" و حیلۃالتکفین بھا التصدق علی الفقیر ثم ھو یکفن فیکون الثواب لھما و کذا فی تعمیر المسجد "*

*(📗درالمختار ، کتاب الزکوۃ ، باب المصرف ، ص۱۲۸ ، دارالکتب العلمیۃ بیروت ، الطبعۃالاولی:۱۴۲۳ھ)*
یعنی، کفن دینے کا حیلہ یہ ہےکہ مال زکوٰۃ فقیر کو صدقہ کردے پھر وہ کفن دے ، ثواب دونوں کو ملےگا ، یہی حکم تعمیرمسجد میں بھی ہے ،

دوسری جگہ فرماتےہیں
*🖋️" وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء "*

*(📙ایضا ص۱۳۷)*
یعنی،ہم نے پہلے بیان کیاکہ حیلہ یہ ہےکہ مال زکوٰۃ فقیرکوصدقہ کردے پھر اسے ان چیزوں میں خرچ کرنےکوکہے ،

*فی زمانہ جو فلاحی ادارے ، تنظیمیں اور تحریکیں مال زکوٰۃ وصول کرتی ہیں ان میں سے اکثر شرعی تقاضوں پر پوری نہیں اترتیں ، ان کے ممبران نہ پابند شرع ہوتے ہیں نہ متدین ، نہ امانتدار ، نہ صاحب علم ۔*
*اگر کہیں ہوں بھی تو وہ حیلہ شرعی کے بعد مال زکوٰۃ اسکولوں ، کالجوں ، اسپتالوں اور دنیوی تعلیم گاہوں میں زیرتعلیم طلبہ و طالبات ، لڑکیوں کی شادی وغیرہ پر خرچ کرتے ہیں ، جس کی شرعاً اجازت نہیں ہے*

فیصلہ جات شرعی کونسل میں ہے

*🖋️" دینی اور دنیوی تعلیم گاہوں اور لڑکیوں کی شادی بیاہ کیلئے فلاحی تنظیموں کا زکوۃ وصول کرنا اور اس کو مذکورہ فنڈ میں صرف کرنے کے لئے حیلہ شرعیہ کر نامنع ہے کہ اس میں ایجاب زکوۃ کی حکمتوں کا یکسر ابطال ہے ۔ اگر کوئی انفرادی طور پر مال زکوۃ محتاج بچیوں کی شادی و بیاہ پر بعد حیلہ شرعیہ خرچ کرے تو اس کی اجازت ہے۔ یا وہ مال زکوۃ مز کی خود مستحق بچیوں کو دیدے۔"*

*(📔فیصلہ جات شرعی کونسل ، ص۳۱۰ ، مطبوعہ: جامعۃالرضا بریلی شریف ، طبع:۱۴۳۶ھ)*

*یہ تو بعد حیلہ شرعی کا حکم تھا ، اگر حیلہ شرعی کے بنا ہی اس طرح خرچ کرتےہوں تو اگر خالص مستحقین پر مالک بنا کر خرچ کریں تو فبھا ورنہ دیکھا یہ جاتا ہے کہ کمیٹی والے بیمار غریب کی فیس وغیرہ غریب کو بنا مالک بنائے اسپتال والوں کے پاس جمع کردیتےہیں ، ایسی صورت میں تملیک فقیر مفقود ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی ، یونہی بلا حیلہ شرعی شادی بیاہ یا دیگر سماجی و رفاہی کاموں خرچ سے بھی ادائیگی زکوٰۃ نہیں ہوگی ،*
*یہ ادارے ، تنظیمیں اور تحریکیں کئی مفاسد کا پلندہ ہوتی ہیں ، فلہذا مسلمان پر لازم ہےکہ از خود مال زکوٰۃ مستحقین تک پہونچائیں اور ان تنظیموں پر اعتماد نہ کریں ،*
1👍1
*صورت مسئولہ میں گاؤں والوں کا بیت المال قائم کرکے مال زکوٰۃ وصول کرنے کا مقصد اگر واقعی مستحقین تک زکوٰۃ کی رقم انہیں پہونچا کر مالک بنانا ہے تو بڑی اچھی بات ہے ، ورنہ اگر خرچ بلا تملیک فقیر ہوتو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی اور بعد حیلہ شرعی شادی بیاہ ، اسکول و کالج وغیرہ کی تعلیم پر صرف ہوتو ابطال حکمت زکوٰۃ کی بنا پر ممنوع ہے ، اور اگر مقصود فقراء تک پہونچا کر مالک بنانا ہی ہے مگر بلاوجہ عذر و مصلحت شرعی کے بغیر بیت المال میں جمع کر رکھاہے تو بھی درست نہیں کہ محض بیت المال کے آفس میں رقم جمع کردینے سے آدمی برئ الذمہ نہیں ہوتا ،*

چنانچہ علامہ علاؤالدین حصکفی فرماتےہیں

*🖋️" ولایخرج عن العھدۃ بالعزل ، بل بالاداء للفقیر "*

*(📕الدرالمختار ، کتاب الزکوۃ، ص۱۲۷)*
یعنی ، مال زکوٰۃ صرف الگ دینے سے عہدہ برآ نہیں ہوگا بلکہ فقیر کو ادا کرنے سے ہوگا ،

*اور اگر مستحقین تک پہونچانے میں سال دو سال تک کی تاخیر ہوجائے تو پھر گناہگار بھی ہونگے ۔*

علامہ ابن عابدین شامی فرماتےہیں

*🖋️" المراد أن لا يؤخر إلى العام القابل لما في البدائع عن المنتقى بـ «النون، إذا لم يؤد حتى مضى حولان فقد أساء وأثم "*

*(📗ردالمحتار ، کتاب الزکوۃ ، ۳/۱۹۲)*
یعنی تاخیر سے مراد یہ ہےکہ آنے والے سال تک مؤخر نہ کرے جیساکہ بدائع میں منتقے سے منقول ہے ، کہ جب ادا نہیں کیا یہانتک کہ دو س گزر گئے تو برا کیا اور گناہگار ہوا ،

*البتہ اگر حیلہ شرعی کے بعد جمع کر رکھاہے تو گناہگار ہونے کی کوئی وجہ نہیں ، کماھو ظاھر*

*یہاں کوئی مدارس اسلامیہ پر عدم اعتماد کا خیال نہ کرے اسلئے کہ مدارس کے مھتمم غریب طلبہ کے وکیل ہوتے ہیں کیونکہ جب مدارس کے طلبہ نے ان کے اہتمام کو تسلیم کرلیا تو گویا یہ کہہ دیا کہ آپ ہمارے لئے مالداروں سے زکوٰۃ وصول کرکے ہماری ضروریات میں صرف کریں ، لہذا زکوٰۃ کی رقم مہتمم کے پاس یا مدرسے کے دفتر میں جمع ہوتے ہی زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا ہوجائےگی ،*

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ھ فرماتے ہیں

*🖋️" قوله (إذا وكله الفقراء) لأنه كلما قبض شيئاً ملكوه وصار خالطا مالهم بعضهم ببعض، ووقع زكاة عن الدافع "*

*(📙ردالمحتار ، کتاب الزکوۃ ، تحت شرط صحۃ اداء ، ۳/۱۸۸ ، دارعالم الکتب ریاض ، طبعۃخاصۃ:۱۴۲۳ھ)*
یعنی،شارح کاقول کہ مگر جبکہ فقراء نے اسے وکیل بنایا ہو: اسلئےکہ جب وہ وکیل کسی چیز پر قبضہ کرےگا فقراء مالک ہوجائیں گے اور خلط انہی کے بعض مال کا بعض مال کےساتھ ہوگا اور زکوۃ دینے والے کی طرف سے ادا ہوجائےگی ،

*جبکہ فلاحی اداروں ، تنظیموں کے اراکین فقراء کے وکیل نہیں ہوتے بلکہ زکوٰۃ ادا کرنے والوں کے وکیل ہوتے ہیں ، وکیل کے ہاتھ میں آتے ہی مؤکل برئ الذمہ نہیں ہوتا جب تک کہ وکیل مستحق تک نہ پہونچا دے جیساکہ ابھی درمختار کے حوالے سے گزرا ۔*

*ھذا ماظھرلی والعلم الحقیقی عندربی*
*واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب*


*✍🏻کتبــــــــــه:*
*محمد شکیل اختر قادری برکاتی، شیخ الحدیث مدرسۃالبنات مسلک اعلی حضرت، ہبلی کرناٹک الہند۔*

*الجواب صحیح: محمد شبیر احمد صدیقی، قاضی شرع احمدآباد،گجرات۔*
*الجواب صحیح: عطا محمد مشاہدی، دارالافتاء دارالعلوم حشمت الرضا پیلی بھیت شریف یوپی۔*
*الجواب صحیح والمجیب نجیح: محمدشرف الدین رضوی، شیخ الحدیث دارالعلوم حبیبیہ قادریہ فیلخانہ ہوڑہ کلکتہ۔*
*الجواب صحیح: محمدصادق رضا، شاہی جامع مسجد پٹنہ بہار۔*
*الجواب صواب والمجیب مثاب واللہ تعالٰی اعلم: شمیم القادری نعیمی خادم مسجد کنزالایمان ومدرس دارالعلوم صمدیہ محمدیہ داونگیرے کرناٹک۔*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
Forwarded from 🌹آپ کے مسائل اور ان کا حل🌹 (✰ابواسید عبیدرضامدنی✰)
*استفتاء نمبر 347:*
کیا زکوٰۃ کے پیسوں سے مدرسہ، مسجد یا امام کی رہائش گاہ بنائی جا سکتی ہے ؟
سائل : نصیر احمد گجرات
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
زکوٰۃ کے پیسوں سے مدرسہ، مسجد اور امام مسجد کی رہائش گاہ کو تعمیر کرنا جائز نہیں ہے اور نہ اس طرح زکوٰۃ ادا ہوگی کیونکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے زکوٰۃ کے حقدار (شرعی فقیر) کو اس کا مالک بنانا شرط ہے تو اگر زکوٰۃ کے پیسے مذکورہ چیزوں کی تعمیرات پر خرچ کیے جائیں گے تو ادائیگی زکوٰۃ کی شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔
البتہ اگر مدرسہ، مسجد اور امام مسجد کی رہائش گاہ کی تعمیر کی بہت زیادہ ضرورت ہو اور لوگ اس کی تعمیر میں دلچسپی نہ لے رہے ہوں یا لوگوں کے پاس انہیں تعمیر کرنے کے اتنے وسائل ہی نہ ہوں تو ضرورتاً زکوٰۃ کے پیسوں کا حیلہ کر کے انہیں مدرسہ، مسجد اور امام مسجد کی رہائش گاہ کی تعمیرات پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔
حیلہ یوں ہوگا کہ پہلے زکوٰۃ کے حقدار کو زکوٰۃ کے پیسے دیدیے جائیں پھر وہ قبضہ کرنے کے بعد اپنی رضا و خوشی سے وہ پیسے مدرسہ، مسجد اور امام مسجد کی رہائش گاہ کی تعمیر کے لئے دیدے۔
چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے:
*"ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد و كذا القناطر و السقايات و إصلاح الطرقات و كري الأنهار و الحج و الجهاد و كل ما لا تمليك فيه"*
یعنی اور جائز نہیں ہے کہ زکوٰۃ (کے پیسے) سے مسجد، پُل، سقایہ، بنوانا، سڑکیں درست کروانا، نہریں کھدوانا، حج اور جہاد میں خرچ کرنا اور اس اس جگہ خرچ کرنا جہاں تملیک نہ پائی جاتی ہو۔
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف، جلد 1، صفحہ 188، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
مجمع الانھر میں ہے :
*"و لاتدفع الزکاۃ لبناء مسجد لان التملیک شرط فیھا و لم یوجد"*
یعنی مسجد کی تعمیر کے لئے زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی کیونکہ زکوٰۃ (کی ادائیگی) میں تملیک شرط ہے اور وہ (یہاں) نہیں پائی جارہی۔
*(مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر، جلد 1، صفحہ 328، دارالکتب العلمیہ بیروت)*
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"پھر دینے میں تملیک شرط ہے، جہاں یہ نہیں جیسے محتاجوں کو بطورِ اباحت اپنے دستر خوان پر بٹھا کر کھلا دینا یا میّت کے کفن دفن میں لگانا یا مسجد، کنواں، خانقاہ، مدرسہ، پُل، سرائے وغیرہ بنوانا ان سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔"
*(فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 110، رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
صدرالشریعہ مفتی محمد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"زکاۃ کا روپیہ مُردہ کی تجہیز و تکفین (کفن و دفن) یا مسجد کی تعمیر میں نہیں صرف کر سکتے کہ تملیک فقیر نہیں پائی گئی اور ان امور میں صرف کرنا چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ فقیر کو مالک کر دیں اور وہ صرف کرے اور ثواب دونوں کو ہوگا بلکہ حدیث میں آیا، ’’اگر سو ہاتھوں میں صدقہ گزرا تو سب کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا دینے والے کے لیے اور اس کے اجر میں کچھ کمی نہ ہوگی۔‘‘
*(بہارشریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 890، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
24/03/2021
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحیح والمجیب مصیب۔
*مفتی و حکیم محمد عارف محمود خان معطر قادری، مرکزی دارالافتاء اہلسنت میانوالی۔*
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
Forwarded from ✰محمد التمش انصاری مصباحی✰
💥زکوٰۃ کی رقم سے مسجد میں سامان لگانا کیسا ہے💥


کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں زکوٰۃ کی رقم سے مسجد میں موٹر لگا سکتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ کوئی رقم موجود نہ ہو مدلل جواب عنایت فرمائیں حوالہ کے ساتھ فقط والسلام



بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب: نہیں لگا سکتے، کیونکہ زکوٰۃ کے مصارف فقرا و مساکین ہیں۔ قرآن کریم میں ہے: ﺇِﻧَّﻤَﺎ ﺍﻟﺼَّﺪَﻗَﺎﺕُ ﻟِﻠْﻔُﻘَﺮَﺍﺀِ ﻭَﺍﻟْﻤَﺴَﺎﻛِﻴﻦِ ﻭَﺍﻟْﻌَﺎﻣِﻠِﻴﻦَ ﻋَﻠَﻴْﻬَﺎ ﻭَﺍﻟْﻤُﺆَﻟَّﻔَﺔِ ﻗُﻠُﻮﺑُﻬُﻢْ ﻭَﻓِﻲ ﺍﻟﺮِّﻗَﺎﺏِ ﻭَﺍﻟْﻐَﺎﺭِﻣِﻴﻦَ ﻭَﻓِﻲ ﺳَﺒِﻴﻞِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺍﺑْﻦِ ﺍﻟﺴَّﺒِﻴﻞِ ۖ ﻓَﺮِﻳﻀَﺔً ﻣِﻦَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ۗ ﻭَﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠِﻴﻢٌ ﺣَﻜِﻴﻢٌ (60 ﺍﻟﺘﻮﺑﺔ) ترجمہ: ﺯﮐﻮٰۃ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﺍﻭﺭ ﻧﺮﮮ ﻧﺎﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﺗﺤﺼﯿﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻻﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺳﻼﻡ ﺳﮯ ﺍﻟﻔﺖ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﺩﻧﯿﮟ ﭼﮭﮍﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺿﺪﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮐﻮ، ﯾﮧ ﭨﮭﮩﺮﺍﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﻢ ﻭ ﺣﮑﻤﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ (کنز الایمان) لہذا زکوٰۃ کی رقم صرف انھیں لوگوں پر صرف کی جائے گی۔ رہا مسجد کا معاملہ تو اس میں چندہ آ جاتا ہے اور زیادہ دشواری بھی نہیں ہوتی ہے اس لئے مسجد میں جو بھی سامان لگانا ہے لوگوں سے اس کے لئے چندہ کیا جائے زکوٰۃ کی رقم کو ہرگز مسجد میں استعمال نہ کرے کہ یہ جائز نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ محمد التمش الانصاری المصباحی
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
#فیضان_زکوۃ_و_صدقات صدقہ
زکوٰۃ صدقات عطیات = قِسط ❶
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے
صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا ...
صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا
تمہارے اسلام کا پورا ہونا یہ ہے
کہ تم اپنے مالوں کی زکٰوۃ ادَاکرو
اللہ نے ... مالوں میں زکوٰۃ فرض
ستر دروازے بری موت کے دفع
صدقہ ستر قسم کے بلاؤں کو...
رمضان کے جمعہ میں 100 روپیہ
صدقہ کریں‌گے تو 14000 کےبرابر
جمعہ کے دن صدقہ کا دُگنا ثواب
1👍1