🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_رمضان_المبارک 95
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #تراویح
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ضیاء طیبہ
نماز تراویح کی فضیلت
نماز تراویح کی اہمیت
دعائے تراویح | تراویح کی دعا
نماز تراویح سنت مؤکدہ ہے ...
تراویح کی نماز سنت مؤکدہ ہے
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #تراویح
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ضیاء طیبہ
نماز تراویح کی فضیلت
نماز تراویح کی اہمیت
دعائے تراویح | تراویح کی دعا
نماز تراویح سنت مؤکدہ ہے ...
تراویح کی نماز سنت مؤکدہ ہے
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت امام علی رضا رضی اللہ عنہ
نام و نسب:
اسم گرامی: امام علی بن امام موسیٰ کاظم۔ کنیت: ابوالحسن۔ القابات: صابر، ولی ،ذکی، ضامن ،مرتضیٰ اور سب سے مشہور لقب امام علی رضا ہے۔
آپ حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کے لختِ جگر اور آئمہ اہل بیت میں آٹھویں امام ہیں۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت امام علی رضا بن حضرت امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین )۔
آپ کی والدہ کےناموں میں اختلاف ہے۔مثلاً: نجمہ، ارویٰ، شمانہ، ام البنین، استقراء۔ اصح ’’نجمہ‘‘ہے۔
یہ حضرت حمیدہ والدہ محترمہ حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کی کنیز تھیں۔ (بارہ امام:166)
ولادت کی بشارت:
ایک رات حضرت حمیدہ نے سرکارِ دو عالم ﷺ کو خواب میں دیکھا تو آپ نے فرمایا: اپنی کنیزنجمہ کا نکاح اپنے بیٹے موسیٰ کاظم سے کردو۔ اللہ اس سے ایک ایسا بیٹا دے گا جو روئے زمین کے بہترین انسانوں میں سے ہوگا۔
آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ جب میں حاملہ ہوئی تو کبھی بھی اپنے شکمِ میں گرانی محسوس نہ کی اور جب میں سوجاتی تو اپنے شکم سے سبحان اللہ، سبحان اللہ کی آواز سنتی جس سے میرے دل میں خوف کا غلبہ طاری ہوجاتا لیکن جب میں بیدار ہوجاتی تو پھر کوئی آواز سننے میں نہ آتی تھی۔
(خزینۃ الاصفیاء:100/ اقتباس الانوار/بارہ امام166)۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 11/ربیع الاول 153ھ، مطابق 12/مارچ 770ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ خاندانِ نبوت کے چشم وچراغ اور ان کی علمی وروحانی وراثتوں کے مالک تھے۔ اپنے والد گرامی اور فقہاء و محدثینِ مدینہ منورہ (زادہا اللہ شرفا وتکریما) سے تمام علوم دینیہ کی تحصیل وتکمیل فرمائی۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت ہی ذہین وفطین اور اعلیٰ درجے کے عالم وفاضل تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو رب کریم نے فہمِ قرآن کی عظیم دولت سے ایسا نوازاتھا کہ آپ اکثرسوالات کے جوابات آیاتِ قرآنی سے دیا کرتےتھے۔آپ اپنے وقت کےعظیم محدث اورفقیہ تھے۔(جامع کرامات اولیاء:ج2،ص،312)
بیعت وخلافت:
آپ سلسلہ عالیہ قادریہ کےآٹھویں امام اور شیخِ طریقت ہیں۔ آپ اپنے والد گرمی حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ الرحمہ کے خلیفۂ اعظم اور اپنے وقت کےامامِ برحق تھے۔
شجرہ شریف میں اس طرح منظوم ہے:
؏:صِدقِ صادق کاتصدق صادق ُالاسلام کر ۔۔۔۔۔۔۔ ہے غَضَب راضی ہو کاظِم اور رضا کے واسطے
سیرت و خصائص:
امام الھدیٰ، منبعِ جودو سخا، جانشینِ مرتضیٰ، وارث علوم وکمالاتِ مصطفیٰ ﷺ، لختِ جگر سیدہ فاطمۃ الزہرا، جامع کمالاتِ علمیہ وروحانیہ، عارف اسرار و رموزِ قرآنیہ حضرت امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنھما۔
آپ رضی اللہ عنہ جامع کمالات اور عظیم اوصاف کے مالک تھے۔ اللہ جل شانہ نے آپ کو صوری ومعنوی خوبیوں سے بے حساب مالا مال کیا تھا۔ پہلی مرتبہ دیکھنے والا ہی محسوس کر لیتا تھا کہ یہ خاندان نبوت کا چشم وچراغ ہیں۔ جب کسی موضوع پر سخن فرماتےتوعلم کے دریا بہاتے،جب مامون کی مجلس میں ایک سوال کیا گیا،قاضیوں کی ایک جماعت جواب نہ دے سکی،جب آپ نےجواب ارشاد فرمایا توحاضرین وسامعین عش عش کر اٹھے، اور علماء کو آپ کےعلم وفضل اور تفقہ فی الدین کا علم الیقین ہوگیا،اور خلیفہ مأمون نے آپ کےعلمی کمالات دیکھ کر اپنی صاحبزادی کا اسی وقت آپ سے نکاح کردیا۔ (شریف التواریخ)
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضاخاں قادری علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں: امام ابن حجر مکی صواعق محرقہ میں نقل فرماتے ہیں : جب امام علی رضا رضی اﷲ تعالٰی عنہ نیشا پور میں تشریف لائے، چہرہ مبارک کے سامنے ایک پردہ تھا، حافظانِ حدیث امام ابوذرعہ رازی و امام محمد بن اسلم طوسی اوران کے ساتھ بیشمار طالبانِ علم وحدیث حاضرِ خدمتِ انور ہوئے اور گڑگڑا کر عرض کیا اپنا جمالِ مبارک ہمیں دکھائیےے اور اپنے آبائے کرام سے ایک حدیث ہمارے سامنے روایت فرمائیے، امام نے سواری روکی اور غلاموں کو حکم فرمایا پردہ ہٹالیں خلقِ خدا کی آنکھیں جمال مبارک کے دیدار سے ٹھنڈی ہوئیں۔ دو گیسو شانہ مبارک پر لٹک رہے تھے۔ پردہ ہٹتے ہی خلق خدا کی وہ حالت ہوئی کہ کوئی چلّاتاہے، کوئی روتا ہے، کوئی خاک پر لوٹتا ہے، کوئی سواری مقدس کا سُم چومتا ہے۔ اتنے میں علماء نے آواز دی :خاموش سب لوگ خاموش ہورہے۔ دونوں امام مذکور نے حضور سے کوئی حدیث روایت کرنے کو عرض کی حضور نے فرمایا: حدثنی ابوموسی الکاظم عن ابیہ جعفر الصادق عن ابیہ محمدن الباقرعن ابیہ زین العابدین عن ابیہ الحسین عن ابیہ علی ابن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنھم قال حدثنی حبیبی وقرۃ عینی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال حدثنی جبریل قال سمعت رب العزۃ یقول لا الٰہ الااﷲ حصنی فمن قال دخل حصنی امن من عذابی۔ یعنی امام علی رضا امام موسٰی کاظم وہ امام جعفر صادق وہ امام
نام و نسب:
اسم گرامی: امام علی بن امام موسیٰ کاظم۔ کنیت: ابوالحسن۔ القابات: صابر، ولی ،ذکی، ضامن ،مرتضیٰ اور سب سے مشہور لقب امام علی رضا ہے۔
آپ حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کے لختِ جگر اور آئمہ اہل بیت میں آٹھویں امام ہیں۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت امام علی رضا بن حضرت امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین )۔
آپ کی والدہ کےناموں میں اختلاف ہے۔مثلاً: نجمہ، ارویٰ، شمانہ، ام البنین، استقراء۔ اصح ’’نجمہ‘‘ہے۔
یہ حضرت حمیدہ والدہ محترمہ حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کی کنیز تھیں۔ (بارہ امام:166)
ولادت کی بشارت:
ایک رات حضرت حمیدہ نے سرکارِ دو عالم ﷺ کو خواب میں دیکھا تو آپ نے فرمایا: اپنی کنیزنجمہ کا نکاح اپنے بیٹے موسیٰ کاظم سے کردو۔ اللہ اس سے ایک ایسا بیٹا دے گا جو روئے زمین کے بہترین انسانوں میں سے ہوگا۔
آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ جب میں حاملہ ہوئی تو کبھی بھی اپنے شکمِ میں گرانی محسوس نہ کی اور جب میں سوجاتی تو اپنے شکم سے سبحان اللہ، سبحان اللہ کی آواز سنتی جس سے میرے دل میں خوف کا غلبہ طاری ہوجاتا لیکن جب میں بیدار ہوجاتی تو پھر کوئی آواز سننے میں نہ آتی تھی۔
(خزینۃ الاصفیاء:100/ اقتباس الانوار/بارہ امام166)۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 11/ربیع الاول 153ھ، مطابق 12/مارچ 770ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ خاندانِ نبوت کے چشم وچراغ اور ان کی علمی وروحانی وراثتوں کے مالک تھے۔ اپنے والد گرامی اور فقہاء و محدثینِ مدینہ منورہ (زادہا اللہ شرفا وتکریما) سے تمام علوم دینیہ کی تحصیل وتکمیل فرمائی۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت ہی ذہین وفطین اور اعلیٰ درجے کے عالم وفاضل تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو رب کریم نے فہمِ قرآن کی عظیم دولت سے ایسا نوازاتھا کہ آپ اکثرسوالات کے جوابات آیاتِ قرآنی سے دیا کرتےتھے۔آپ اپنے وقت کےعظیم محدث اورفقیہ تھے۔(جامع کرامات اولیاء:ج2،ص،312)
بیعت وخلافت:
آپ سلسلہ عالیہ قادریہ کےآٹھویں امام اور شیخِ طریقت ہیں۔ آپ اپنے والد گرمی حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ الرحمہ کے خلیفۂ اعظم اور اپنے وقت کےامامِ برحق تھے۔
شجرہ شریف میں اس طرح منظوم ہے:
؏:صِدقِ صادق کاتصدق صادق ُالاسلام کر ۔۔۔۔۔۔۔ ہے غَضَب راضی ہو کاظِم اور رضا کے واسطے
سیرت و خصائص:
امام الھدیٰ، منبعِ جودو سخا، جانشینِ مرتضیٰ، وارث علوم وکمالاتِ مصطفیٰ ﷺ، لختِ جگر سیدہ فاطمۃ الزہرا، جامع کمالاتِ علمیہ وروحانیہ، عارف اسرار و رموزِ قرآنیہ حضرت امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنھما۔
آپ رضی اللہ عنہ جامع کمالات اور عظیم اوصاف کے مالک تھے۔ اللہ جل شانہ نے آپ کو صوری ومعنوی خوبیوں سے بے حساب مالا مال کیا تھا۔ پہلی مرتبہ دیکھنے والا ہی محسوس کر لیتا تھا کہ یہ خاندان نبوت کا چشم وچراغ ہیں۔ جب کسی موضوع پر سخن فرماتےتوعلم کے دریا بہاتے،جب مامون کی مجلس میں ایک سوال کیا گیا،قاضیوں کی ایک جماعت جواب نہ دے سکی،جب آپ نےجواب ارشاد فرمایا توحاضرین وسامعین عش عش کر اٹھے، اور علماء کو آپ کےعلم وفضل اور تفقہ فی الدین کا علم الیقین ہوگیا،اور خلیفہ مأمون نے آپ کےعلمی کمالات دیکھ کر اپنی صاحبزادی کا اسی وقت آپ سے نکاح کردیا۔ (شریف التواریخ)
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضاخاں قادری علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں: امام ابن حجر مکی صواعق محرقہ میں نقل فرماتے ہیں : جب امام علی رضا رضی اﷲ تعالٰی عنہ نیشا پور میں تشریف لائے، چہرہ مبارک کے سامنے ایک پردہ تھا، حافظانِ حدیث امام ابوذرعہ رازی و امام محمد بن اسلم طوسی اوران کے ساتھ بیشمار طالبانِ علم وحدیث حاضرِ خدمتِ انور ہوئے اور گڑگڑا کر عرض کیا اپنا جمالِ مبارک ہمیں دکھائیےے اور اپنے آبائے کرام سے ایک حدیث ہمارے سامنے روایت فرمائیے، امام نے سواری روکی اور غلاموں کو حکم فرمایا پردہ ہٹالیں خلقِ خدا کی آنکھیں جمال مبارک کے دیدار سے ٹھنڈی ہوئیں۔ دو گیسو شانہ مبارک پر لٹک رہے تھے۔ پردہ ہٹتے ہی خلق خدا کی وہ حالت ہوئی کہ کوئی چلّاتاہے، کوئی روتا ہے، کوئی خاک پر لوٹتا ہے، کوئی سواری مقدس کا سُم چومتا ہے۔ اتنے میں علماء نے آواز دی :خاموش سب لوگ خاموش ہورہے۔ دونوں امام مذکور نے حضور سے کوئی حدیث روایت کرنے کو عرض کی حضور نے فرمایا: حدثنی ابوموسی الکاظم عن ابیہ جعفر الصادق عن ابیہ محمدن الباقرعن ابیہ زین العابدین عن ابیہ الحسین عن ابیہ علی ابن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنھم قال حدثنی حبیبی وقرۃ عینی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال حدثنی جبریل قال سمعت رب العزۃ یقول لا الٰہ الااﷲ حصنی فمن قال دخل حصنی امن من عذابی۔ یعنی امام علی رضا امام موسٰی کاظم وہ امام جعفر صادق وہ امام
❤1👍1
محمدباقر وہ امام زین العابدین وہ امام حسین وہ علی المرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت فرماتے ہیں کہ میرے پیارے میری آنکھوں کی ٹھنڈک رسول اﷲ ﷺ نے مجھ سے حدیث بیان فرمائی کہ ان سےجبریل نے عرض کی کہ میں نے اﷲ عزوجل کو فرماتے سنا کہ لا الٰہ الااﷲ میراقلعہ ہے تو جس نے اسے کہا وہ میرے قلعہ میں داخل ہوا، میرے عذاب سے امان میں رہا۔یہ حدیث روایت فرماکر حضور امام علی رضا رواں ہوئے اور پردہ چھوڑ دیا گیا، دواتوں والے جو ارشاد مبارک لکھ رہے تھے شمار کئے گئے ، بیس 20 ہزار سے زائد تھے۔ امام احمد بن حنبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا : لو قرأت ھذاالاسناد علی مجنون لبرئ من جننہ۔ یہ مبارک سند اگر مجنون پر پڑھوں تو ضرور اسے جنون سے شفا ہوجائے۔ ( الصواعق المحرقہ الفصل الثالث فی الاحادیث الواردۃ فی بعض اہل البیت مطبوعہ مکتبہ مجددیہ ملتان ص ۲۰۵)۔
اقول فی الواقع جب اسمائے اصحاب کہف قدست اسرارہم میں وُہ برکات ہیں، حالانکہ وُہ اولیائے عیسویین میں سے ہیں تو اولیاء محمدیین صلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین کا کیا کہنا، اُن کے اسمائے کرام کی برکت کیا شمار میں آسکے۔ (فتاویٰ رضویہ: ج9، کتاب الجنائز)۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہر ماہ اہتمام کے ساتھ تینروزے رکھا کرتے ۔اس قدر عاجزی پسند تھے کہ غلاموں کے ساتھ ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھاتے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی انفرادی کوشش نے بے شمار کفارکودامنِ اسلام سے وابستہ کیا ۔مشہور بزرگ حضرت سیدنا معروف کرخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی دعوتِ اسلام پر مسلمان ہوئے اور آسمان ولایت کے روشن ستارے بن کر چمکے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم لدنی ومکاشفات ومغیبات کا خاص علم عطاء فرمایا تھا۔آپ آئندہ کےرونما ہونے والے واقعات کوپہلے ہی دیکھ اور معلوم کرلیا کرتے تھے۔ اسی طرح جب مامون الرشید نےاپنے بعد آپ کو اپنا ولی عہد منتخب کیا،تو آپ نے اس کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے فرمایا:قبول العھدالذی کتبہ علی بن موسٰی رضی اللہ تعالٰی عنہما الی المامون انک قد عرفت من حقوقنا ما لم یعرفہ اباؤک فقلبت منک عھدک الا ان الجفروالجامعۃ یدلان علی انہ لایتم۔ یعنی مامون رشید نے جب حضرت امام علی رضا بن امام موسٰی کاظم رضی اللہ تعالٰی عنہما کو اپنے بعد و لیعہد کیا اور خلافت نامہ لکھ دیا امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کے قبول میں فرمان بنام مامون رشید تحریر فرمایا اس میں ارشاد فرماتے ہیں کہ تم نے ہمارے حق پہنچانے جو تمہارے باپ دادا نے نہ پہچانے اس لیے میں تمہاری ولی عہدی قبول کرتا ہوں۔ مگر جفر وجامعہ بتارہی ہیں کہ یہ کام پورا نہ ہوگا۔ ( چنانچہ ایسا ہی ہوا اور امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مامون رشید کی زندگی ہی میں شہادت پائی)۔(فتاویٰ رضویہ: ج29، کتاب الشتٰی)۔
تاریخِ وصال:
امام علی رضا رحمۃ رضی اللہ عنہ کو انگوروں میں زہر ملا کر دیا گیا جس سے آپ 21/ رمضان المبارک 203ھ کو شہادت سے سرفراز ہوئے۔ آپ کا مزار شریف مشہد مقدس (ایران) میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
بارہ امام۔ جامع کرامات اولیاء۔ خزینۃ الاصفیاء۔ اقتباس الانوار۔ شریف التواریخ۔ فتاویٰ رضویہ۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-ali-raza-bin-imam-musa-kazim
Copyright © Zia-e-Taiba
اقول فی الواقع جب اسمائے اصحاب کہف قدست اسرارہم میں وُہ برکات ہیں، حالانکہ وُہ اولیائے عیسویین میں سے ہیں تو اولیاء محمدیین صلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین کا کیا کہنا، اُن کے اسمائے کرام کی برکت کیا شمار میں آسکے۔ (فتاویٰ رضویہ: ج9، کتاب الجنائز)۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہر ماہ اہتمام کے ساتھ تینروزے رکھا کرتے ۔اس قدر عاجزی پسند تھے کہ غلاموں کے ساتھ ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھاتے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی انفرادی کوشش نے بے شمار کفارکودامنِ اسلام سے وابستہ کیا ۔مشہور بزرگ حضرت سیدنا معروف کرخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی دعوتِ اسلام پر مسلمان ہوئے اور آسمان ولایت کے روشن ستارے بن کر چمکے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم لدنی ومکاشفات ومغیبات کا خاص علم عطاء فرمایا تھا۔آپ آئندہ کےرونما ہونے والے واقعات کوپہلے ہی دیکھ اور معلوم کرلیا کرتے تھے۔ اسی طرح جب مامون الرشید نےاپنے بعد آپ کو اپنا ولی عہد منتخب کیا،تو آپ نے اس کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے فرمایا:قبول العھدالذی کتبہ علی بن موسٰی رضی اللہ تعالٰی عنہما الی المامون انک قد عرفت من حقوقنا ما لم یعرفہ اباؤک فقلبت منک عھدک الا ان الجفروالجامعۃ یدلان علی انہ لایتم۔ یعنی مامون رشید نے جب حضرت امام علی رضا بن امام موسٰی کاظم رضی اللہ تعالٰی عنہما کو اپنے بعد و لیعہد کیا اور خلافت نامہ لکھ دیا امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کے قبول میں فرمان بنام مامون رشید تحریر فرمایا اس میں ارشاد فرماتے ہیں کہ تم نے ہمارے حق پہنچانے جو تمہارے باپ دادا نے نہ پہچانے اس لیے میں تمہاری ولی عہدی قبول کرتا ہوں۔ مگر جفر وجامعہ بتارہی ہیں کہ یہ کام پورا نہ ہوگا۔ ( چنانچہ ایسا ہی ہوا اور امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مامون رشید کی زندگی ہی میں شہادت پائی)۔(فتاویٰ رضویہ: ج29، کتاب الشتٰی)۔
تاریخِ وصال:
امام علی رضا رحمۃ رضی اللہ عنہ کو انگوروں میں زہر ملا کر دیا گیا جس سے آپ 21/ رمضان المبارک 203ھ کو شہادت سے سرفراز ہوئے۔ آپ کا مزار شریف مشہد مقدس (ایران) میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
بارہ امام۔ جامع کرامات اولیاء۔ خزینۃ الاصفیاء۔ اقتباس الانوار۔ شریف التواریخ۔ فتاویٰ رضویہ۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-ali-raza-bin-imam-musa-kazim
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1👍1
حضرت علی کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم
نام و نسب:
اسمِ گرامی: والدنے آپ کا نام ’’علی‘‘ اور والدۂ ماجدہ نے’’حیدر‘‘ رکھا۔ کنیت: ابوالحسن اور ابو تراب ہے۔ القاب: امیر المؤمنین، امام المتقین، صاحب اللواء، اسداللہ (شیرِ خدا)، کرار، مرتضیٰ، اور مولا مشکل کشا مشہور القاب ہیں۔
والد کی طرف سے سلسلۂ نسب:
علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ۔
والدہ کی طرف سے سلسلۂ نسب:
فاطمہ بنتِ اسد بن ہاشم بن عبد المطلب الٰی آخرہٖ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 13؍ رجب المرجّب، بروز جمعۃ المبارک، عام الفیل کے 30 سال بعد، بمطابق 17 مارچ 599ء میں پیدا ہوئے۔
شیرِ خدا کی سب سے پہلی غذا:
آپ کی والدۂ ماجدہ سیّدہ فاطمہ بنتِ اسدرضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں: جب میرے لختِ جگر علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ پیدا ہوئے تو رسولِ اکر مﷺنے آپ کے منہ میں لعابِ دہن ڈالا اور اور اپنی ’’مَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی‘‘ والی زبانِ مبارک چوسنے کے لیے دی ،آپ حضورﷺ کی زبان چوستے ہوئے نیند کی آغوش میں چلے گئے اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ رسولِ اکرم ﷺکی زبانِ اقدس کو چوستے رہے اور غذا حاصل کرتے رہے۔(السیرۃ الحلبیۃ، ج1، ص282)
فضائل و مناقب:
امام احمد فرماتے ہیں کہ جتنی احادیث حضرت مولاعلی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں کسی اورصحابی کی فضیلت میں وارد نہیں ہوئی ہیں (تاریخ الخلفاء، ص:364)۔
آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ رسولِ اکرم ﷺ کے چچا زاد بھائی ہیں۔ بچپن سے ہی رحمتِ عالم ﷺ کے زیرِ تربیت رہے۔ اس بات پر اجماع ہے کہ بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے آپ ہی ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ دعوتِ اسلام کے ہر مرحلے اور آزمائش میں حضور ﷺ کے ساتھ رہے۔ 2ھ میں مدینۂ منوّرہ آنے کے بعد حضور ﷺ نے انھیں اپنی دامادی کا شرف بخشا۔
ہجرتِ مدینہ کے بعد غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تمام غزوات (بدر، اُحد، خندق، بنی قریظہ اور حنین، خیبر وغیرہ) میں کار ہائے نمایاں سر انجام دیے۔ علاوہ ازیں متعدد سرایا میں آپ کو کمانڈر بنا کر بھیجا گیا، جنھیں آپ نے کامیابی کے ساتھ انجام کو پہنچایا۔
حضور ﷺ کے وصال کے بعد ان کے غسل اور تجہیز و تکفین کی سعادت میں بھی آپ شریک تھے۔ غرض آغازِ بعثت سے لے کر زندگی کے آخری لمحات تک آپ حضور نبی اکرم ﷺ کے دست و بازو بنے رہے۔
حضرت صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دورِ خلافت میں آپ مجلسِ شوریٰ کے رکن تھے۔ حضرات شیخین کو آپ کے مفید مشوروں پر بڑا اعتماد تھا ـ اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بھی آپ آخر تک حمایت کرتے رہے۔
زبانِ نبوّت سے آپ کواَنَا مَدِیْنَۃُ الْعَلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُہَا کی سند ملی تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ قرآنِ مجید میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کے متعلق میں یہ نہ جانتا ہوں کہ وہ کس بارے میں اور کہاں اور کس کے متعلق نازل ہوئی۔
فقہ میں آپ کی ذاتِ گرامی صحابۂ کرام کا مرجع تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ خود مجتہد اور فقیہ تھے، لیکن آپ سے بھی استفادہ کرتے تھے حتیٰ کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اختلاف کے باوجود اکثر مواقع پر آپ کی طرف رجوع کرنا پڑتا تھا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ جن کے فتاوٰی اور مروی اسناد پر فقہِ حنفی کی بنیاد ہے، آپ کے فیض یافتہ تھے۔
تصوف کا سرچشمہ بھی آپ ہی کی ذاتِ گرامی ہے۔ صوفیا کے تمام بڑے سلاسل حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے واسطہ سے آپ تک پہنچتے ہیں۔ آپ شاعری کا بھی نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ ذوق رکھتے تھے۔
علمِ نحو کی بنیاد بھی آپ ہی نے رکھی۔ سب سے پہلے ابو لاسود دؤلی کو نحو کے اصول سکھائے تھے، جس نے بعد میں ان اصولوں کی روشنی میں نحو کے قواعد مرتّب کیے۔
آپ کی زندگی ہی میں آپ سے بغض رکھنے والے اور آپ کی تعریف میں غلو کرنے والے لوگ موجود تھے۔
مشہور صحابی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں منافقوں کو بغضِ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پہچان لیتا ہوں (ترمذی)۔
علم کے ساتھ عمل کا یہ حال تھا کہ حضرت زبیر بن سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ بنی ہاشم میں آپ سے بڑھ کے کوئی عبادت گزار نہ تھا۔
حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی تھیں کہ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ قائم اللیل اور صائم النہار تھےـ
مختصر سیرتِ مرتضوی:
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت ضرار رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں کچھ بیان کریں۔ اس کے جواب میں انہوں نے جو تقریر کی وہ سیرتِ مر تضوی پر ایک جامع تبصرہ ہے۔ انھوں نے کہا: ’’حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ بلند حوصلہ اور نہایت قوی تھے۔ فیصلہ کن بات کہتے تھے، عادلانہ فیصلے
نام و نسب:
اسمِ گرامی: والدنے آپ کا نام ’’علی‘‘ اور والدۂ ماجدہ نے’’حیدر‘‘ رکھا۔ کنیت: ابوالحسن اور ابو تراب ہے۔ القاب: امیر المؤمنین، امام المتقین، صاحب اللواء، اسداللہ (شیرِ خدا)، کرار، مرتضیٰ، اور مولا مشکل کشا مشہور القاب ہیں۔
والد کی طرف سے سلسلۂ نسب:
علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ۔
والدہ کی طرف سے سلسلۂ نسب:
فاطمہ بنتِ اسد بن ہاشم بن عبد المطلب الٰی آخرہٖ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 13؍ رجب المرجّب، بروز جمعۃ المبارک، عام الفیل کے 30 سال بعد، بمطابق 17 مارچ 599ء میں پیدا ہوئے۔
شیرِ خدا کی سب سے پہلی غذا:
آپ کی والدۂ ماجدہ سیّدہ فاطمہ بنتِ اسدرضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں: جب میرے لختِ جگر علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ پیدا ہوئے تو رسولِ اکر مﷺنے آپ کے منہ میں لعابِ دہن ڈالا اور اور اپنی ’’مَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی‘‘ والی زبانِ مبارک چوسنے کے لیے دی ،آپ حضورﷺ کی زبان چوستے ہوئے نیند کی آغوش میں چلے گئے اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ رسولِ اکرم ﷺکی زبانِ اقدس کو چوستے رہے اور غذا حاصل کرتے رہے۔(السیرۃ الحلبیۃ، ج1، ص282)
فضائل و مناقب:
امام احمد فرماتے ہیں کہ جتنی احادیث حضرت مولاعلی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں کسی اورصحابی کی فضیلت میں وارد نہیں ہوئی ہیں (تاریخ الخلفاء، ص:364)۔
آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ رسولِ اکرم ﷺ کے چچا زاد بھائی ہیں۔ بچپن سے ہی رحمتِ عالم ﷺ کے زیرِ تربیت رہے۔ اس بات پر اجماع ہے کہ بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے آپ ہی ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ دعوتِ اسلام کے ہر مرحلے اور آزمائش میں حضور ﷺ کے ساتھ رہے۔ 2ھ میں مدینۂ منوّرہ آنے کے بعد حضور ﷺ نے انھیں اپنی دامادی کا شرف بخشا۔
ہجرتِ مدینہ کے بعد غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تمام غزوات (بدر، اُحد، خندق، بنی قریظہ اور حنین، خیبر وغیرہ) میں کار ہائے نمایاں سر انجام دیے۔ علاوہ ازیں متعدد سرایا میں آپ کو کمانڈر بنا کر بھیجا گیا، جنھیں آپ نے کامیابی کے ساتھ انجام کو پہنچایا۔
حضور ﷺ کے وصال کے بعد ان کے غسل اور تجہیز و تکفین کی سعادت میں بھی آپ شریک تھے۔ غرض آغازِ بعثت سے لے کر زندگی کے آخری لمحات تک آپ حضور نبی اکرم ﷺ کے دست و بازو بنے رہے۔
حضرت صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دورِ خلافت میں آپ مجلسِ شوریٰ کے رکن تھے۔ حضرات شیخین کو آپ کے مفید مشوروں پر بڑا اعتماد تھا ـ اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بھی آپ آخر تک حمایت کرتے رہے۔
زبانِ نبوّت سے آپ کواَنَا مَدِیْنَۃُ الْعَلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُہَا کی سند ملی تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ قرآنِ مجید میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کے متعلق میں یہ نہ جانتا ہوں کہ وہ کس بارے میں اور کہاں اور کس کے متعلق نازل ہوئی۔
فقہ میں آپ کی ذاتِ گرامی صحابۂ کرام کا مرجع تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ خود مجتہد اور فقیہ تھے، لیکن آپ سے بھی استفادہ کرتے تھے حتیٰ کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اختلاف کے باوجود اکثر مواقع پر آپ کی طرف رجوع کرنا پڑتا تھا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ جن کے فتاوٰی اور مروی اسناد پر فقہِ حنفی کی بنیاد ہے، آپ کے فیض یافتہ تھے۔
تصوف کا سرچشمہ بھی آپ ہی کی ذاتِ گرامی ہے۔ صوفیا کے تمام بڑے سلاسل حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے واسطہ سے آپ تک پہنچتے ہیں۔ آپ شاعری کا بھی نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ ذوق رکھتے تھے۔
علمِ نحو کی بنیاد بھی آپ ہی نے رکھی۔ سب سے پہلے ابو لاسود دؤلی کو نحو کے اصول سکھائے تھے، جس نے بعد میں ان اصولوں کی روشنی میں نحو کے قواعد مرتّب کیے۔
آپ کی زندگی ہی میں آپ سے بغض رکھنے والے اور آپ کی تعریف میں غلو کرنے والے لوگ موجود تھے۔
مشہور صحابی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں منافقوں کو بغضِ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پہچان لیتا ہوں (ترمذی)۔
علم کے ساتھ عمل کا یہ حال تھا کہ حضرت زبیر بن سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ بنی ہاشم میں آپ سے بڑھ کے کوئی عبادت گزار نہ تھا۔
حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی تھیں کہ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ قائم اللیل اور صائم النہار تھےـ
مختصر سیرتِ مرتضوی:
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت ضرار رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں کچھ بیان کریں۔ اس کے جواب میں انہوں نے جو تقریر کی وہ سیرتِ مر تضوی پر ایک جامع تبصرہ ہے۔ انھوں نے کہا: ’’حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ بلند حوصلہ اور نہایت قوی تھے۔ فیصلہ کن بات کہتے تھے، عادلانہ فیصلے
👍2❤1
کرتے تھے۔ اُن کے ہرطسمت سے علم پھوٹتا اور حکمت ٹپکتی تھی۔ دنیا اور اس کی دل فربیوں سے و حشت کرتے تھے۔ رات کی تاریکی وو حشت سے محبّت کرتے تھے، عبرت پذیر اور بہت غور و فکر کرنے والے تھے۔ معمولی لباس اور جو کاکھانا پسند کرتے تھے۔ ہم میں ہم ہی لوگوں کی طرح رہتے تھے۔ دین داروں کی تعظیم کرتے تھے۔ غریبوں کو مقرب بناتے تھے۔ ان کے سامنے طاقتور باطل میں طمع نہیں کر سکتا تھا اور کمزور انصاف سے مایوس نہیں ہوتا تھا۔ بعض مواقع پر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ رات گزر رہی ہے، ستارے جھلملا رہے ہیں اور وہ اپنی داڑھی مٹھی میں دبائے ایک بے قرار اور غم رسیدہ انسان کی طرح اشک بار کہہ رہے ہیں: اے دنیا! کسی اور کو فریب دے تو مجھ سے لگاوٹ کر رہی ہے، میری مشتاق ہے۔ افسوس! افسوس! میں نے تجھے تین طلاقیں دیں۔ تیری عمر تھوڑی اور تیرا مقصد حقیر ہے۔ ہائے ہائے ،سفر طویل، راستہ و حشت ناک اور زادِ سفر تھوڑا ہے۔‘‘ دورانِ تقریر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی آنکھوں سے آنسو بارش کے قطروں کی طرح ٹپک رہے تھے،اور فرما رہے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اس سے بھی بڑھ کر شان کے مالک ہیں، اور پھر ان کو انعامات سے نوازا۔ صحابۂ کرام (رضوان اللہ تعالٰی عنہم اجمعین) کی آپس میں جو محبّت تھی مذکورہ واقعے سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ (عیون الحکایات:ص،25)
مولا علی کا پیغام، محبین کے نام:
امیر المؤمنین سیّدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ صل اللہ تعالٰی علیہ وسلم کےبعد سب سے بہتر وافضل ابوبکر اور عمرہیں۔‘‘ پھرفرمایا: ’’لایجتمع حبی وبغض ابی بکر وعمر فی قلب مؤمن۔‘‘ یعنی میری محبّت اور شیخین کریمین ابو بکر و عمر کا بغض کسی مؤمن کے دل میں جمع نہیں ہو سکتا۔ (المعجم الاوسط لطبرانی،ج،۳،حدیث:۳۹۲۰)
وصال:
آپ 4 سال 8 ماہ نو دن تک مسندِ خلافت پر رونق افروز رہے۔17 یا 19رمضان المبارک کو ایک بد بخت کے قاتلانہ حملے سے شدید زخمی ہو گئے اور بروزِ اتوار21؍ رمضان، 40ھ بمطابق 27؍ جنوری 661 ءکی رات جامِ شہادت نوش فرماگئے۔ (تاریخ الخلفاء، ص:۱۳۲)
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ali-ul-murtaza-biography
Copyright © Zia-e-Taiba
مولا علی کا پیغام، محبین کے نام:
امیر المؤمنین سیّدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ صل اللہ تعالٰی علیہ وسلم کےبعد سب سے بہتر وافضل ابوبکر اور عمرہیں۔‘‘ پھرفرمایا: ’’لایجتمع حبی وبغض ابی بکر وعمر فی قلب مؤمن۔‘‘ یعنی میری محبّت اور شیخین کریمین ابو بکر و عمر کا بغض کسی مؤمن کے دل میں جمع نہیں ہو سکتا۔ (المعجم الاوسط لطبرانی،ج،۳،حدیث:۳۹۲۰)
وصال:
آپ 4 سال 8 ماہ نو دن تک مسندِ خلافت پر رونق افروز رہے۔17 یا 19رمضان المبارک کو ایک بد بخت کے قاتلانہ حملے سے شدید زخمی ہو گئے اور بروزِ اتوار21؍ رمضان، 40ھ بمطابق 27؍ جنوری 661 ءکی رات جامِ شہادت نوش فرماگئے۔ (تاریخ الخلفاء، ص:۱۳۲)
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ali-ul-murtaza-biography
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1👍1
فہرستِ کتب مع لِنکس ↶
شان و عظمت حضرت علی
شیر خدا فاتح خیبر حیدر کرار
Fahriste Kutub & Links ↴
Hazrat Alee Shere Khuda
① خلافت حضرت ابو بکر صدیق
و حضرت علی مرتضیٰ شیر خدا
✍ امام احمد رضا خان بریلوی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8702
② نسب نامہ آل جعفر طیار
✍ سید مرتضیٰ حسینی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8704
③ شان صدیق اکبر بزبان فاتح خیبر
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8706
④ تذکرۃ الخواص مناقب علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8708
⑤ حضرت علی کے فیصلے عبد اللہ مدنی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8710
⑥ حضرت علی کے فیصلے مسعود
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8712
⑦ حضرت علی کے سَو واقعات
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8714
⑧ مولود کعبہ کون؟ از قاری لقمان
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8716
⑨ سفلی اعتراضات کا محاسبہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8719
⑩ سیرت پاک حضرت علی | محسن
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8721
⑪ اقوال علی انسائیکلوپیڈیا
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8723
⑫ تاریخ و سیرت حضرت علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8737
⑬ شرح دیوان علی فیضان حیدری
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8741
⑭ مناقب علی بن ابی طالب
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8743
⑮ مرتضیٰ مشکل کشا مولیٰ علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8746
⑯ افضلیت صدیق اکبر بزبان علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8748
⑰ مناقب الاسد الغالب | عربی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8750
⑱ صہرین عثمان و علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8752
⑲ مشکل کشا کون؟ ¹⁰سوال جواب
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8754
⑳ علی و معاویہ | غلام رسول قاسمی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8756
㉑ علی سے پوچھ کتنا عظیم ہے صدیق
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8758
㉒ واعظ الجمعہ خلیفۂ چہارم
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8760
㉓ شان علی بزبان نبی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8765
㉔ ضرب حیدری | غلام رسول قاسمی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8767
㉕ مناقب علی اردو | عقیل احمد
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8771
㉖ فرمان علی علی و معاویہ کی طرف سے شہید ہونے والے سب جنتی ہیں
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8773
㉗ خلیفۂ چہارم حضرت علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8776
㉘ اختلاف مولیٰ علی و امیر معاویہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8778
㉙ مرویات حضرت علی | ابراہیم
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8780
㉚ فضائل حضرت علی | فیض احمد
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8783?single
㉛ نکاح علی و فاطمہ | فیض احمد
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8785
㉜ سیرت علی | حسیب القادری
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8787
㉝ رہبر کامل اعنی نصائح حضرت علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8789
㉞ صحابۂ کبار علی کی نظر میں
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8791
㉟ شیر خدا کے روشن فیصلے
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8793
㊱ مولیٰ علی کا عشق رسول
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8796
㊲ فیضان مولیٰ علی مشکل کشا
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8800
㊳ حالات زندگی حضرت علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8803
㊴ کرامات شیر خدا
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8808
㊵ تنزیہ المکانۃ الحیدریہ ...
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8813
㊶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8815
㊷ غایۃ التحقیق ...
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8817
㊸ امامت صدیق و علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8819
㊹ خلافت سیدنا صدیق و علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8821
㊺ غایۃ التحقیق ...
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8823
㊻ تزک مرتضوی | علامہ حسن رضا
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8826
شان و عظمت حضرت علی
شیر خدا فاتح خیبر حیدر کرار
Fahriste Kutub & Links ↴
Hazrat Alee Shere Khuda
① خلافت حضرت ابو بکر صدیق
و حضرت علی مرتضیٰ شیر خدا
✍ امام احمد رضا خان بریلوی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8702
② نسب نامہ آل جعفر طیار
✍ سید مرتضیٰ حسینی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8704
③ شان صدیق اکبر بزبان فاتح خیبر
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8706
④ تذکرۃ الخواص مناقب علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8708
⑤ حضرت علی کے فیصلے عبد اللہ مدنی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8710
⑥ حضرت علی کے فیصلے مسعود
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8712
⑦ حضرت علی کے سَو واقعات
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8714
⑧ مولود کعبہ کون؟ از قاری لقمان
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8716
⑨ سفلی اعتراضات کا محاسبہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8719
⑩ سیرت پاک حضرت علی | محسن
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8721
⑪ اقوال علی انسائیکلوپیڈیا
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8723
⑫ تاریخ و سیرت حضرت علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8737
⑬ شرح دیوان علی فیضان حیدری
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8741
⑭ مناقب علی بن ابی طالب
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8743
⑮ مرتضیٰ مشکل کشا مولیٰ علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8746
⑯ افضلیت صدیق اکبر بزبان علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8748
⑰ مناقب الاسد الغالب | عربی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8750
⑱ صہرین عثمان و علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8752
⑲ مشکل کشا کون؟ ¹⁰سوال جواب
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8754
⑳ علی و معاویہ | غلام رسول قاسمی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8756
㉑ علی سے پوچھ کتنا عظیم ہے صدیق
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8758
㉒ واعظ الجمعہ خلیفۂ چہارم
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8760
㉓ شان علی بزبان نبی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8765
㉔ ضرب حیدری | غلام رسول قاسمی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8767
㉕ مناقب علی اردو | عقیل احمد
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8771
㉖ فرمان علی علی و معاویہ کی طرف سے شہید ہونے والے سب جنتی ہیں
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8773
㉗ خلیفۂ چہارم حضرت علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8776
㉘ اختلاف مولیٰ علی و امیر معاویہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8778
㉙ مرویات حضرت علی | ابراہیم
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8780
㉚ فضائل حضرت علی | فیض احمد
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8783?single
㉛ نکاح علی و فاطمہ | فیض احمد
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8785
㉜ سیرت علی | حسیب القادری
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8787
㉝ رہبر کامل اعنی نصائح حضرت علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8789
㉞ صحابۂ کبار علی کی نظر میں
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8791
㉟ شیر خدا کے روشن فیصلے
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8793
㊱ مولیٰ علی کا عشق رسول
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8796
㊲ فیضان مولیٰ علی مشکل کشا
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8800
㊳ حالات زندگی حضرت علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8803
㊴ کرامات شیر خدا
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8808
㊵ تنزیہ المکانۃ الحیدریہ ...
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8813
㊶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8815
㊷ غایۃ التحقیق ...
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8817
㊸ امامت صدیق و علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8819
㊹ خلافت سیدنا صدیق و علی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8821
㊺ غایۃ التحقیق ...
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8823
㊻ تزک مرتضوی | علامہ حسن رضا
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8826
❤1👍1
فیضان مولیٰ علی مُشکل کُشا ہِندی
❶ फ़ैज़़ाने मौला अ़ली मुश्किल कुशा
https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/4123
کرامات شیر خدا 📖 ہِندی
❷ करामाते शेरे ख़ुदा
https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/3677
کرامات شیر خدا 📖 گُجراتی
❸ કરામાતે શેરે ખ઼ુદા
https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/3328
کرامات شیر خدا 📖 اِنگلش
❹ Karamate Shere Khuda Eng
https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/2698
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Urdu Kitaabon Ki List & Link
اردو کتابوں کی لِسٹ اور لِنک
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8828
❶ फ़ैज़़ाने मौला अ़ली मुश्किल कुशा
https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/4123
کرامات شیر خدا 📖 ہِندی
❷ करामाते शेरे ख़ुदा
https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/3677
کرامات شیر خدا 📖 گُجراتی
❸ કરામાતે શેરે ખ઼ુદા
https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/3328
کرامات شیر خدا 📖 اِنگلش
❹ Karamate Shere Khuda Eng
https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/2698
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Urdu Kitaabon Ki List & Link
اردو کتابوں کی لِسٹ اور لِنک
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8828
❤1👍1