ایک بار امام احمد رضا علیہ السلام اپنے علاقہ زمینداری میں سکونت پذیر تھے۔درد قولنج کے سخت دورے ہو کرتے تھے۔ ایک دن تنہا تھے۔ فرماتے ہیں ظہر کے وقت درد شروع ہوا اسی حالت میں جس طرح بنا‘ وضو کیا۔ اب نماز کو کھڑا نہیں ہوا جاتا۔ رب عزوجل سے دعا کی۔ مولیٰ مضطر کی پکار سنتا ہے۔ میں نے سنتوں کی نیت باندھ دی درد بالکل نہ تھا۔ سلام پھیرا تو اسی شدت سے تھا۔ فوراً اٹھ کر فرضوں کی نیت باندھی درد جاتا رہا جب سلام پھیرا وہی حالت تھی بعد کی سنتیں پڑھیں درد موقوف اور سلام کے بعد پھر بدستور میں نے کہا اب عصر تک ہوتا رہ۔ پلنگ پر لیٹا کروٹیں لے رہا تھا کہ درد سے کسی پہلو قرارنہ تھا۔ خواہ یہ کہیے نماز میں درد یکسر اٹھا لیا جاتا تھا یا یہ کہیے کہ توجہ الیٰ اﷲ اور استغراق عبادت کے باعث درد کا احساس نہ ہوتا تھا۔ بہر صورت امام احمد رضا علیہ السلام کی مقبولیت بارگاہ اور ذوقِعرفانی کی دلیل کافی ہے۔
(امام احمد رضا اور تصوف)
سچ کہاہے کہنے والے نے ؎
’’ عشق سچا ہے تو سب لطف و کرم تیر ے ہیں ‘‘
(امام احمد رضا اور تصوف)
سچ کہاہے کہنے والے نے ؎
’’ عشق سچا ہے تو سب لطف و کرم تیر ے ہیں ‘‘
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اویس نام کے متعلق معلومات ‼
سوال : 1
اویس نام کا درست تَلَفُّظْ کیا ہے ؟
جواب :
اویس نام کادرست تلفظ یہ ہے :
اُوَیْسْ { کمافی کتب اللغة }
نوٹ : کچھ لوگ اسکو ”اَوَیْس“
پڑھتے ہیں جو کہ درست نہیں ‼
سوال : 2
اویس نام کا معنیٰ کیا ہے ؟
جواب :
اویس "اَوْسْ" کی تَصْغِیْر ہے اور اوس کا معنیٰ بھیڑیا اور عَطِیَّہْ آتا ہے اور بعض کتب میں اویس کا معنیٰ بھیڑیا بھی لکھا ہے،
جیساکہ لسان العرب میں ہے :
"اُوَیْسُ تَصْغِیْرُ اَوْسٍ وَھُوَ مِنْ اَسْمَاءِ الذِّئْبِ"
یعنی اویس "اوس" کی تصغیر ہے اور وہ (اوس) بھیڑیے کے اسماء میں سے ہے۔
{لسان العرب جلد اول صفحہ 55 دمشق}
المحیط فی اللغة میں ہے:
"اَلْاَوْسُ اَلْعَطَاءُ"
یعنی اوس (کا معنیٰ) عطیہ ہے ۔
{المحیط فی اللغة جلد 2 صفحہ 286
القاموس الوحید جلد¹ صفحہ¹⁴¹ دارالاشاعت}
اورالمنجدمیں ہے : "اُوَیْس : بھیڑیا"
{المنجد عربی اردو ص⁴⁰ خزینہ علم وادب لاہور}
سوال : 3
اویس نام رکھنا کیسا ہے ؟
جواب :
ایک مشھور تابعی کا نام بھی (حضرت) ”اویس“(قرنی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) ہیں جنکے فضائل کُتُبِ حدیث میں موجود ہیں
{کما فی الصحیح المسلم}
اور حضور ﷺ نے بھی اس نام کو بر قرار رکھا، لہذا معنیٰ عطیہ اور نسبتِ تابعی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا لحاظ کرتے ہوئے اویس نام رکھنا بالکل جائز ہے۔
واللہ اعلم ﷻ و رسوله اعلم ﷺ
فقط والسّلام ✍ عبید رضا مدنی
18/09/2018 Tuesday 📱 03068209672
سوال : 1
اویس نام کا درست تَلَفُّظْ کیا ہے ؟
جواب :
اویس نام کادرست تلفظ یہ ہے :
اُوَیْسْ { کمافی کتب اللغة }
نوٹ : کچھ لوگ اسکو ”اَوَیْس“
پڑھتے ہیں جو کہ درست نہیں ‼
سوال : 2
اویس نام کا معنیٰ کیا ہے ؟
جواب :
اویس "اَوْسْ" کی تَصْغِیْر ہے اور اوس کا معنیٰ بھیڑیا اور عَطِیَّہْ آتا ہے اور بعض کتب میں اویس کا معنیٰ بھیڑیا بھی لکھا ہے،
جیساکہ لسان العرب میں ہے :
"اُوَیْسُ تَصْغِیْرُ اَوْسٍ وَھُوَ مِنْ اَسْمَاءِ الذِّئْبِ"
یعنی اویس "اوس" کی تصغیر ہے اور وہ (اوس) بھیڑیے کے اسماء میں سے ہے۔
{لسان العرب جلد اول صفحہ 55 دمشق}
المحیط فی اللغة میں ہے:
"اَلْاَوْسُ اَلْعَطَاءُ"
یعنی اوس (کا معنیٰ) عطیہ ہے ۔
{المحیط فی اللغة جلد 2 صفحہ 286
القاموس الوحید جلد¹ صفحہ¹⁴¹ دارالاشاعت}
اورالمنجدمیں ہے : "اُوَیْس : بھیڑیا"
{المنجد عربی اردو ص⁴⁰ خزینہ علم وادب لاہور}
سوال : 3
اویس نام رکھنا کیسا ہے ؟
جواب :
ایک مشھور تابعی کا نام بھی (حضرت) ”اویس“(قرنی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) ہیں جنکے فضائل کُتُبِ حدیث میں موجود ہیں
{کما فی الصحیح المسلم}
اور حضور ﷺ نے بھی اس نام کو بر قرار رکھا، لہذا معنیٰ عطیہ اور نسبتِ تابعی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا لحاظ کرتے ہوئے اویس نام رکھنا بالکل جائز ہے۔
واللہ اعلم ﷻ و رسوله اعلم ﷺ
فقط والسّلام ✍ عبید رضا مدنی
18/09/2018 Tuesday 📱 03068209672
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
علامہ محمد علی نقشبندی اور ان کی تصانیف
ازقلم- محمد رضوان طاہر
محقق اسلام علامہ محمد علی نقش بندی کی ولادت موضع حاجی محمد، مضافات شہر لالہ موسی ،ضلع گجرات میں 1933ء میں ہوئی
آپ حافظ،محقق،محدث،مدرس،مصنف،متقی،عابد و زاہد اور سچے عاشق رسول ﷺ تھے تدریس کا ذوق آپ کی عادت ثانیہ تھی
آپ نے جن نامور اساتذہ سے اکتساب فیض کیا ان کے اسماء درج ذیل ہیں
1-محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد چشتی
2-شارح بخاری علامہ غلام رسول رضوی
3-خلیفہ اعلی حضرت مفتی غلام جان ہزاری
4-استاذ المحدثین سید ابو البرکات احمد شاہ قادری
5-علامہ مہر الدین صاحب
آپ کاحصول علم دین کا ذوق اعلی درجہ کا تھا مطالعہ کی مصروفیت میں کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ انہیں بالکل خبر نہ ہوتی عشاء کی اذان ہو رہی ہے یا فجر کی،علامہ غلام رسول رضوی فرماتے ہیں کہ محمد علی نے مجھ سے علم پڑھا بھی ہے اور مجھ سے علم چھینا بھی ہے
آپ کوبیعت کی سعادت حضرت پیر سید نورالحسن کیلیانوالہ اور اجازت وخلافت قطب مدینہ مولانا ضیاءالدین مدنی و ابوالبرکات سید احمد شاہ قادری سے حاصل تھی
1963ء میں آپ نےبلال گنج لاہور میں جامعہ رسولیہ شیرازیہ کی بنیاد رکھی جہاں تادم آخر تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے-
#ردشیعہ۔۔
۔ ردشیعہ میں آپ کی ذات مشہور تھی تدریس کے بعد یہی آپ کا خاص موضوع تھا عظمت اہل بیت و صحابہ کرام علیھم الرضوان کے تحفظ کے لیے آپ نے شیعوں سے متعدد مناظرے کرکے انہیں شکست فاش دی،تقریر میں ان کی خوب دھلائی کرتے اور ان کے رد میں کئی ضخیم کتب لکھیں،آپ کی لائبریری رافضیت کی کتب سے بھری پڑی ہے
آپ کی اولاد میں علامہ قاری محمد طیب نقش بندی صاحب نمایاں ہیں جو کہ اسعاف الحاجہ فی شرح سنن ابن ماجہ،شرح سنن ابو داؤد، شرح معجم الصغیر للطبرانی اور تفسیر برھان القرآن جیسی کتب لکھ کر اہلسنت کے تحریری سرمایہ میں اضافہ کر چکے ہیں
#تصانیف
علامہ محمد علی نقش بندی نےچھوٹی بڑی کل دس کتب لکھی ہیں جن میں شرح موطا امام محمد 3مجلدات، دشمنان امیر معاویہ کا علمی محاسبہ 2مجلدات، تحفہ جعفریہ 5مجلدات، عقائد جعفریہ 4مجلدات اور فقہ جعفریہ 4مجلدات شامل ہیں
علامہ محمد علی نقش بندی کی موخرالذکر 3 کتب کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے
#تحفہ #جعفریہ 5 مجلدات
اس کتاب میں آپ نے درج ذیل موضوعات کو شامل کیا ہے
شیعہ مذہب کیسے وجود میں آیا؟ مسئلہ خلافت و امامت، حضرت علی کی خلافت بلا فصل پر اہل تشیع کے دلائل کے جوابات، خلفاء راشدین کی خلافت کی صداقت پر دلائل، حضرت امیر معاویہ کے فضائل، باغ فدک کی تحقیقی بحث، جنگ جمل کا تاریخی پس منظر
#عقائدجعفریہ 4مجلدات
یہ کتاب درج ذیل موضوعات پر شامل ہے
اللہ رب العزت کی شان میں اہل تشیع کی گستاخیاں، انبیاء کرام کی شان میں اہل تشیع کی گستاخیاں، امہات المومنین اور خلفاء راشدین کی شان میں اہل تشیع کی گستاخیاں، حضرت علی، سیدہ فاطمہ اور حسنین کریمین کی شان میں اہل تشیع کی گستاخیاں، امام حسن کو زخمی کرنے والے شیعہ تھے،، قتل امام حسین کے ذمہ دار شیعہ تھے، تقیہ سے متعلق اہل تشیع کے دلائل کے جوابات، بحث جنازہ رسول ﷺ، مناقب اہل بیت کرام از کتب اہل سنت-
#فقہ جعفریہ
اس کتاب کے اہم موضوعات درج ذیل ہیں
فقہ جعفریہ کے بے اصل ہونے پر دلائل، فقہ جعفریہ میں متہ کے مسائل پر تفصیلی بحث، ماتم کی بحث
نوٹ-علامہ محمد علی نقش بندی نے اپنی کتب میں درج بالا موضوعات پر سیر حاصل بحث کی ہے اور شیعہ مسلک کی مستند کتب کےہی حوالاجات دیئے ہیں- رافضیت جس تیزی سے ہمارے ملک میں پھیل رہی ہے اس کے پیش نظر آپ کی کتب کو اب مطالعہ میں رکھنا ایسے ہی ضروری ہے جیسے کبھی جاءالحق اور اس طرح کی دیگر کتب ہوتی تھیں
ان مذکورہ کتب کے علاوہ آپ کی ایک کتاب ،میزان الکتب، بھی ہے جس میں آپ نے ان کتب کی نشاندہی کی ہے جن کے لکھنے والے شیعہ تھے اور وہ خود کو سنی ظاہر کرکے لوگوں کو دھوکا دیتے رہے ان مشہور کتب میں نیا بیع المودہ، فرائط سمطین،ارجح المطالب،تذکرۃ الخواص،فضائل الطالبین،شرح نہجہ البلاغہ لابن ابی الحدید، روضۃ الصفا حبیب الیسر،،تاریخ یعقوبی، الملل و النحل عقد الفرید ، مروج الذہب،روضۃ الاحباب،کفایۃ الطالب وغیرہ
#وفات-
علامہ محمد علی نقش بندی کی تاریخ وفات 28 صفر المظفر1418ھ--14 جولائی 1996ء ہےاور تدفین میانی قبرستان لاہورمیں ہوئی
ازقلم- محمد رضوان طاہر
محقق اسلام علامہ محمد علی نقش بندی کی ولادت موضع حاجی محمد، مضافات شہر لالہ موسی ،ضلع گجرات میں 1933ء میں ہوئی
آپ حافظ،محقق،محدث،مدرس،مصنف،متقی،عابد و زاہد اور سچے عاشق رسول ﷺ تھے تدریس کا ذوق آپ کی عادت ثانیہ تھی
آپ نے جن نامور اساتذہ سے اکتساب فیض کیا ان کے اسماء درج ذیل ہیں
1-محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد چشتی
2-شارح بخاری علامہ غلام رسول رضوی
3-خلیفہ اعلی حضرت مفتی غلام جان ہزاری
4-استاذ المحدثین سید ابو البرکات احمد شاہ قادری
5-علامہ مہر الدین صاحب
آپ کاحصول علم دین کا ذوق اعلی درجہ کا تھا مطالعہ کی مصروفیت میں کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ انہیں بالکل خبر نہ ہوتی عشاء کی اذان ہو رہی ہے یا فجر کی،علامہ غلام رسول رضوی فرماتے ہیں کہ محمد علی نے مجھ سے علم پڑھا بھی ہے اور مجھ سے علم چھینا بھی ہے
آپ کوبیعت کی سعادت حضرت پیر سید نورالحسن کیلیانوالہ اور اجازت وخلافت قطب مدینہ مولانا ضیاءالدین مدنی و ابوالبرکات سید احمد شاہ قادری سے حاصل تھی
1963ء میں آپ نےبلال گنج لاہور میں جامعہ رسولیہ شیرازیہ کی بنیاد رکھی جہاں تادم آخر تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے-
#ردشیعہ۔۔
۔ ردشیعہ میں آپ کی ذات مشہور تھی تدریس کے بعد یہی آپ کا خاص موضوع تھا عظمت اہل بیت و صحابہ کرام علیھم الرضوان کے تحفظ کے لیے آپ نے شیعوں سے متعدد مناظرے کرکے انہیں شکست فاش دی،تقریر میں ان کی خوب دھلائی کرتے اور ان کے رد میں کئی ضخیم کتب لکھیں،آپ کی لائبریری رافضیت کی کتب سے بھری پڑی ہے
آپ کی اولاد میں علامہ قاری محمد طیب نقش بندی صاحب نمایاں ہیں جو کہ اسعاف الحاجہ فی شرح سنن ابن ماجہ،شرح سنن ابو داؤد، شرح معجم الصغیر للطبرانی اور تفسیر برھان القرآن جیسی کتب لکھ کر اہلسنت کے تحریری سرمایہ میں اضافہ کر چکے ہیں
#تصانیف
علامہ محمد علی نقش بندی نےچھوٹی بڑی کل دس کتب لکھی ہیں جن میں شرح موطا امام محمد 3مجلدات، دشمنان امیر معاویہ کا علمی محاسبہ 2مجلدات، تحفہ جعفریہ 5مجلدات، عقائد جعفریہ 4مجلدات اور فقہ جعفریہ 4مجلدات شامل ہیں
علامہ محمد علی نقش بندی کی موخرالذکر 3 کتب کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے
#تحفہ #جعفریہ 5 مجلدات
اس کتاب میں آپ نے درج ذیل موضوعات کو شامل کیا ہے
شیعہ مذہب کیسے وجود میں آیا؟ مسئلہ خلافت و امامت، حضرت علی کی خلافت بلا فصل پر اہل تشیع کے دلائل کے جوابات، خلفاء راشدین کی خلافت کی صداقت پر دلائل، حضرت امیر معاویہ کے فضائل، باغ فدک کی تحقیقی بحث، جنگ جمل کا تاریخی پس منظر
#عقائدجعفریہ 4مجلدات
یہ کتاب درج ذیل موضوعات پر شامل ہے
اللہ رب العزت کی شان میں اہل تشیع کی گستاخیاں، انبیاء کرام کی شان میں اہل تشیع کی گستاخیاں، امہات المومنین اور خلفاء راشدین کی شان میں اہل تشیع کی گستاخیاں، حضرت علی، سیدہ فاطمہ اور حسنین کریمین کی شان میں اہل تشیع کی گستاخیاں، امام حسن کو زخمی کرنے والے شیعہ تھے،، قتل امام حسین کے ذمہ دار شیعہ تھے، تقیہ سے متعلق اہل تشیع کے دلائل کے جوابات، بحث جنازہ رسول ﷺ، مناقب اہل بیت کرام از کتب اہل سنت-
#فقہ جعفریہ
اس کتاب کے اہم موضوعات درج ذیل ہیں
فقہ جعفریہ کے بے اصل ہونے پر دلائل، فقہ جعفریہ میں متہ کے مسائل پر تفصیلی بحث، ماتم کی بحث
نوٹ-علامہ محمد علی نقش بندی نے اپنی کتب میں درج بالا موضوعات پر سیر حاصل بحث کی ہے اور شیعہ مسلک کی مستند کتب کےہی حوالاجات دیئے ہیں- رافضیت جس تیزی سے ہمارے ملک میں پھیل رہی ہے اس کے پیش نظر آپ کی کتب کو اب مطالعہ میں رکھنا ایسے ہی ضروری ہے جیسے کبھی جاءالحق اور اس طرح کی دیگر کتب ہوتی تھیں
ان مذکورہ کتب کے علاوہ آپ کی ایک کتاب ،میزان الکتب، بھی ہے جس میں آپ نے ان کتب کی نشاندہی کی ہے جن کے لکھنے والے شیعہ تھے اور وہ خود کو سنی ظاہر کرکے لوگوں کو دھوکا دیتے رہے ان مشہور کتب میں نیا بیع المودہ، فرائط سمطین،ارجح المطالب،تذکرۃ الخواص،فضائل الطالبین،شرح نہجہ البلاغہ لابن ابی الحدید، روضۃ الصفا حبیب الیسر،،تاریخ یعقوبی، الملل و النحل عقد الفرید ، مروج الذہب،روضۃ الاحباب،کفایۃ الطالب وغیرہ
#وفات-
علامہ محمد علی نقش بندی کی تاریخ وفات 28 صفر المظفر1418ھ--14 جولائی 1996ء ہےاور تدفین میانی قبرستان لاہورمیں ہوئی
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی
✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰:
Ajmal Khan:
محترم علمائے اہلسنت
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع
متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
گاؤں دیہات میں کُچھ عورتیں بکری کے بچہ کو دودھ پلا دیتی ہیں، اب وہ بکری کے اس بچے کا گوشت کھا سکتی ہیں یا نہیں، جسے پہلے دودھ پلایا تھا، اسی طرح دوسری بکری کے دوسرے بچوں کا گوشت کھا سکتی ہیں یا نہیں ؟ ہمارے یہاں عورتیں بکری کے کسی بچے کو دودھ پلانے کے بعد تمام بکری اور بکرے کا گوشت کھانا بند کر دیتی ہیں !
المستفتی : اجمل خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
جواب : بکری کے جس بچہ نے عورت کا دودھ پیا اگر دودھ چھوڑ کر کچھ دنوں تک گھاس وغیرہ کھاتا رہا تو اس کا گوشت کھانا شرعا جائز ہے اس لئے کہ گدھی اور سور کے دودھ جو اشد حرام ہیں ان سے پرورش یافتہ بکرے کا گوشت کھانے میں بھی شرعا حرج نہیں فتاوی عالمگیری مصری ج 5 ص 256 پر ہے " الجدى اذا كان يربى بلبن الاتان و الخنزير ان اعتلف اياما فلا بأس ۔ یعنی بکری کا بچہ جس کی پرورش گدھی اور خنزیر کے دودھ سے ہوتی رہی اور دودھ چھوڑکر کچھ دنوں تک گھاس کھاتا رہا تو اسکا گوشت کھانےمیں کوئی حرج نہیں " اھ ( فتاوی فیض الرسول ج 2 ص 430 )
لہذا مذکورہ باتوں سےثابت ہوا جس بچے کو عورت نے اپنا دودھ پیلایا اس کا گوشت کھانا شرعاجائز ہے لیکن عورتوں کو ایسی حرکتوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
Ajmal Khan:
محترم علمائے اہلسنت
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع
متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
گاؤں دیہات میں کُچھ عورتیں بکری کے بچہ کو دودھ پلا دیتی ہیں، اب وہ بکری کے اس بچے کا گوشت کھا سکتی ہیں یا نہیں، جسے پہلے دودھ پلایا تھا، اسی طرح دوسری بکری کے دوسرے بچوں کا گوشت کھا سکتی ہیں یا نہیں ؟ ہمارے یہاں عورتیں بکری کے کسی بچے کو دودھ پلانے کے بعد تمام بکری اور بکرے کا گوشت کھانا بند کر دیتی ہیں !
المستفتی : اجمل خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
جواب : بکری کے جس بچہ نے عورت کا دودھ پیا اگر دودھ چھوڑ کر کچھ دنوں تک گھاس وغیرہ کھاتا رہا تو اس کا گوشت کھانا شرعا جائز ہے اس لئے کہ گدھی اور سور کے دودھ جو اشد حرام ہیں ان سے پرورش یافتہ بکرے کا گوشت کھانے میں بھی شرعا حرج نہیں فتاوی عالمگیری مصری ج 5 ص 256 پر ہے " الجدى اذا كان يربى بلبن الاتان و الخنزير ان اعتلف اياما فلا بأس ۔ یعنی بکری کا بچہ جس کی پرورش گدھی اور خنزیر کے دودھ سے ہوتی رہی اور دودھ چھوڑکر کچھ دنوں تک گھاس کھاتا رہا تو اسکا گوشت کھانےمیں کوئی حرج نہیں " اھ ( فتاوی فیض الرسول ج 2 ص 430 )
لہذا مذکورہ باتوں سےثابت ہوا جس بچے کو عورت نے اپنا دودھ پیلایا اس کا گوشت کھانا شرعاجائز ہے لیکن عورتوں کو ایسی حرکتوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مفتئ اعظم ماہ و سال کے آئینے میں ‼
✍مولانا اختر الاسلام علیمی مبارک پور
📖 جہان مفتئ اعظم صفحہ ¹¹²⁸ تا ¹¹³⁰
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
✍مولانا اختر الاسلام علیمی مبارک پور
📖 جہان مفتئ اعظم صفحہ ¹¹²⁸ تا ¹¹³⁰
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
مفتئ اعظم ماہ و سال کے آئینے میں ‼
✍مولانا اختر الاسلام علیمی مبارک پور
📖 جہان مفتئ اعظم صفحہ ¹¹²⁸ تا ¹¹³⁰
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
✍مولانا اختر الاسلام علیمی مبارک پور
📖 جہان مفتئ اعظم صفحہ ¹¹²⁸ تا ¹¹³⁰
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
مفتئ اعظم ماہ و سال کے آئینے میں ‼
✍مولانا اختر الاسلام علیمی مبارک پور
📖 جہان مفتئ اعظم صفحہ ¹¹²⁸ تا ¹¹³⁰
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
✍مولانا اختر الاسلام علیمی مبارک پور
📖 جہان مفتئ اعظم صفحہ ¹¹²⁸ تا ¹¹³⁰
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
حضور مفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ
تاریخ وصال ¹⁴ محرم الحرام ¹⁴⁰²ھ
مطابق ¹²نومبر ¹⁹⁸¹ء شب پنج شنبہ
¹بجکر ⁴⁰منٹ پر اس دار فانی سے
کوچ کرکے واصل بحق ہو گئے
جہان مفتئ اعظم صـ¹¹²¹
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
تاریخ وصال ¹⁴ محرم الحرام ¹⁴⁰²ھ
مطابق ¹²نومبر ¹⁹⁸¹ء شب پنج شنبہ
¹بجکر ⁴⁰منٹ پر اس دار فانی سے
کوچ کرکے واصل بحق ہو گئے
جہان مفتئ اعظم صـ¹¹²¹
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
🌹 حضور مفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ ❶ 🌹
📜 اصلاحِ معاشرہ اور رد بدعات و منکرات 📜
عرس حضور مفتئ اعظم پر خصوصی تحریر 📃
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍ بقلم : ادیبِ شہیر غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن و رضا لائبریری مالیگاؤں الـہـنـد
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مفتی اعظم ہند شہزادۂ اعلیٰ حضرت علامہ مفتی شاہ محمد مصطفی رضا نوری بریلوی (م۱۴۰۲ھ؛۱۹۸۱ء)عالم اسلام کا مرجع فتاویٰ تھے۔ آپ نے مسلمانوں کی اصلاح اور ایمان و عقیدے کی حفاظت کے لئے انتھک جدوجہد کی۔آپ کا دور بڑا لرزا خیز تھاافق ہند پر کئی لا دینی مذہبی اور سیاسی تحریکا ت سرگرم عمل تھیں جن کا نشانہ صرف مسلمان تھے ،مشرکین کی کوشش یہ تھی کہ مسلمان شرکیہ رنگ میں رنگ جائیں اور اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھیں!مفتی اعظم ہند نے ایسی تحریکات کا سد باب قرطاس وقلم اور تبلیغ وارشاد سے کیا،جس کے اثرات پورے بر صغیر پر اب تک محسوس کئے جاتے ہیں۔آپ نے جن تحریکات کو انجام سے دوچار کیا اور ان کی سازشوں کو واشگاف کیا ان میں ’’شدھی تحریک،خاکسار تحریک،کمیونزم(اشتراکیت)،بالشویک،نس بندی‘‘قابل ذکر ہیں بالخصوص شدھی تحریک کے فتنۂ ارتداد کو ختم کر کے ہزاروں مرتد ہو جانے والے افراد کو مسلمان کرنا ایک تاریخی کارنامہ ہے جسے ہندوستان کی تاریخ کا زریں باب ہے ۔ان سطور میں راقم اصلاح معاشرہ کے موضوع پر مفتی اعظم ہند کی فکر کا اجمالی جائزہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرے گا،
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
رد بدعات :
مفتی اعظم ہندنے معاشرتی اصلاح کے لئے بدعا ت ومنکرات کا رد فرمایا ،بر صغیر کے عظیم اسلامی محقق ونقاد ڈاکٹر عبدالنعیم عزیزی رقم طراز ہیں:’’حضور مفتی اعظم نے عورتوں کی بے پردگی کی سخت مذمت کی ہے ۔ انہیں مزارات پرجانے سے منع کیا ہے ۔ مسلمانوں کو غیر مسلموں کے میلے ٹھیلے ، تقریبات میں شرکت، غیر مسلم کے لئے ایصال ثواب وغیرہ کی سختی سے تردید کی ہے ۔ لہوولعب ، غیر اسلامی رسوم وغیرہ کی بھی تردید فرمائی ہے ۔ غرضیکہ ہر غیر اسلامی رسم و رواج سے مسلمانوں کو روکا ہے ۔‘‘
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سجدہ :
مفتی اعظم ہند سے دریافت کیا گیا کہ زید کہتا ہے کہ ہندو بتوں کو سجدہ کرتے ہیں اور ہم کعبہ میں جاکر پتھر کو سجدہ کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں حضور مفتی اعظم قدس سرہ نے فرمایا :’’ یہ شخص جلد توبہ کرے ۔ کوئی مسلمان کعبہ کو سجدہ نہیں کرتا جہت کعبہ سجدہ خدا کو کرتا ہے ۔ کافر بتوں کو سجدہ کرتا ہے ۔ ان کی پرستش و بندگی و عبادت کرتا ہے۔ کعبہ جاکر پتھر کو سجدہ کرنا مسلمانوں پر محض افترا ہے جیسے کعبہ سے دور سمت قبلہ سجدہ ہوتا یوں ہی وہاں جا کر عین قبلہ کا استقبال کیا جاتا ہے ۔ سجدہ یہاں وہاں سب جگہ خدا ہی کے لئے ہوتا ہے ۔ ‘‘ (۱)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مسلمان کو کافر کہنا :
دریافت کیا گیا کہ مسلمان کو کافر کہنا کیسا ہے؟ تو ارشاد فرمایا :’’ مسلمانوں کو کافر کہنا بہت سخت شدید جرم عظیم ہے ۔ خود اپنے اوپر بے وجہ کی تکفیر عود کرتی ہے ۔ ‘‘ (۲)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
*للہ عزوجل کو ’’ خدا ‘‘ کہنا :
دریافت کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو خدا کہنا درست ہے یا نہیں ؟ تو فرمایا :’’ اللہ عزوجل پر ہی خدا کا اطلاق ہوسکتا ہے ۔ اور سلف سے لے کر خلف تک ہر قرن میں تمام مسلمانوں میں بلا نکیر اطلاق ہوتا ہے ۔ اور وہ اصل میں خود آہے جس کے معنی ہیں وہ جو خود موجود ہو کسی اور کے موجود کئے موجود نہ ہوا ہو۔ اور وہ نہیں مگر اللہ عزوجل ہمارا سچا خدا۔ ‘‘(۳)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اللہ عزوجل کو ’’ اللہ میاں ‘‘ کہنا :
اس مسئلے میں کہ اللہ عزوجل کو اللہ میاں کہنا درست ہے یا نہیں ؟ حضور مفتی اعظم قدس سرہ نے تحریر فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ ، اللہ عزوجل ، اللہ عزجلالہ ، اللہ سبحانہ، اللہ عزشانہ ، یا جل شانہ وغیرہ کہنا چاہئے ۔ عوام میں یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ اس سے انھیں احترازکرنا چاہئے۔ تفصیل کے لئے احکام شریعت دیکھیں ۔ اس میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے مفصل تحریر فرمایا ہے ۔ گناہ نہیں مگر یہ لفظ اس کی جناب میں بولنا برا ہے ۔ اس کی شان و عزت کے لائق نہیں ۔ ‘‘ (۴)آج کل جاہل تو جاہل اہل علم کہے جانے والے افراد بھی اس میں مبتلا ہیں کہ اللہ عزوجل کو ’’اللہ میاں ‘‘ کہتے ہیں ۔ ضروری ہے کہ احتیاط برتا جائے ۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🅣🅣🅢 Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ ↓↓
Jᴏɪɴ & Sʜᴀʀᴇ @islaamic_Knowledege
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
📜 اصلاحِ معاشرہ اور رد بدعات و منکرات 📜
عرس حضور مفتئ اعظم پر خصوصی تحریر 📃
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍ بقلم : ادیبِ شہیر غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن و رضا لائبریری مالیگاؤں الـہـنـد
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مفتی اعظم ہند شہزادۂ اعلیٰ حضرت علامہ مفتی شاہ محمد مصطفی رضا نوری بریلوی (م۱۴۰۲ھ؛۱۹۸۱ء)عالم اسلام کا مرجع فتاویٰ تھے۔ آپ نے مسلمانوں کی اصلاح اور ایمان و عقیدے کی حفاظت کے لئے انتھک جدوجہد کی۔آپ کا دور بڑا لرزا خیز تھاافق ہند پر کئی لا دینی مذہبی اور سیاسی تحریکا ت سرگرم عمل تھیں جن کا نشانہ صرف مسلمان تھے ،مشرکین کی کوشش یہ تھی کہ مسلمان شرکیہ رنگ میں رنگ جائیں اور اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھیں!مفتی اعظم ہند نے ایسی تحریکات کا سد باب قرطاس وقلم اور تبلیغ وارشاد سے کیا،جس کے اثرات پورے بر صغیر پر اب تک محسوس کئے جاتے ہیں۔آپ نے جن تحریکات کو انجام سے دوچار کیا اور ان کی سازشوں کو واشگاف کیا ان میں ’’شدھی تحریک،خاکسار تحریک،کمیونزم(اشتراکیت)،بالشویک،نس بندی‘‘قابل ذکر ہیں بالخصوص شدھی تحریک کے فتنۂ ارتداد کو ختم کر کے ہزاروں مرتد ہو جانے والے افراد کو مسلمان کرنا ایک تاریخی کارنامہ ہے جسے ہندوستان کی تاریخ کا زریں باب ہے ۔ان سطور میں راقم اصلاح معاشرہ کے موضوع پر مفتی اعظم ہند کی فکر کا اجمالی جائزہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرے گا،
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
رد بدعات :
مفتی اعظم ہندنے معاشرتی اصلاح کے لئے بدعا ت ومنکرات کا رد فرمایا ،بر صغیر کے عظیم اسلامی محقق ونقاد ڈاکٹر عبدالنعیم عزیزی رقم طراز ہیں:’’حضور مفتی اعظم نے عورتوں کی بے پردگی کی سخت مذمت کی ہے ۔ انہیں مزارات پرجانے سے منع کیا ہے ۔ مسلمانوں کو غیر مسلموں کے میلے ٹھیلے ، تقریبات میں شرکت، غیر مسلم کے لئے ایصال ثواب وغیرہ کی سختی سے تردید کی ہے ۔ لہوولعب ، غیر اسلامی رسوم وغیرہ کی بھی تردید فرمائی ہے ۔ غرضیکہ ہر غیر اسلامی رسم و رواج سے مسلمانوں کو روکا ہے ۔‘‘
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سجدہ :
مفتی اعظم ہند سے دریافت کیا گیا کہ زید کہتا ہے کہ ہندو بتوں کو سجدہ کرتے ہیں اور ہم کعبہ میں جاکر پتھر کو سجدہ کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں حضور مفتی اعظم قدس سرہ نے فرمایا :’’ یہ شخص جلد توبہ کرے ۔ کوئی مسلمان کعبہ کو سجدہ نہیں کرتا جہت کعبہ سجدہ خدا کو کرتا ہے ۔ کافر بتوں کو سجدہ کرتا ہے ۔ ان کی پرستش و بندگی و عبادت کرتا ہے۔ کعبہ جاکر پتھر کو سجدہ کرنا مسلمانوں پر محض افترا ہے جیسے کعبہ سے دور سمت قبلہ سجدہ ہوتا یوں ہی وہاں جا کر عین قبلہ کا استقبال کیا جاتا ہے ۔ سجدہ یہاں وہاں سب جگہ خدا ہی کے لئے ہوتا ہے ۔ ‘‘ (۱)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مسلمان کو کافر کہنا :
دریافت کیا گیا کہ مسلمان کو کافر کہنا کیسا ہے؟ تو ارشاد فرمایا :’’ مسلمانوں کو کافر کہنا بہت سخت شدید جرم عظیم ہے ۔ خود اپنے اوپر بے وجہ کی تکفیر عود کرتی ہے ۔ ‘‘ (۲)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
*للہ عزوجل کو ’’ خدا ‘‘ کہنا :
دریافت کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو خدا کہنا درست ہے یا نہیں ؟ تو فرمایا :’’ اللہ عزوجل پر ہی خدا کا اطلاق ہوسکتا ہے ۔ اور سلف سے لے کر خلف تک ہر قرن میں تمام مسلمانوں میں بلا نکیر اطلاق ہوتا ہے ۔ اور وہ اصل میں خود آہے جس کے معنی ہیں وہ جو خود موجود ہو کسی اور کے موجود کئے موجود نہ ہوا ہو۔ اور وہ نہیں مگر اللہ عزوجل ہمارا سچا خدا۔ ‘‘(۳)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اللہ عزوجل کو ’’ اللہ میاں ‘‘ کہنا :
اس مسئلے میں کہ اللہ عزوجل کو اللہ میاں کہنا درست ہے یا نہیں ؟ حضور مفتی اعظم قدس سرہ نے تحریر فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ ، اللہ عزوجل ، اللہ عزجلالہ ، اللہ سبحانہ، اللہ عزشانہ ، یا جل شانہ وغیرہ کہنا چاہئے ۔ عوام میں یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ اس سے انھیں احترازکرنا چاہئے۔ تفصیل کے لئے احکام شریعت دیکھیں ۔ اس میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے مفصل تحریر فرمایا ہے ۔ گناہ نہیں مگر یہ لفظ اس کی جناب میں بولنا برا ہے ۔ اس کی شان و عزت کے لائق نہیں ۔ ‘‘ (۴)آج کل جاہل تو جاہل اہل علم کہے جانے والے افراد بھی اس میں مبتلا ہیں کہ اللہ عزوجل کو ’’اللہ میاں ‘‘ کہتے ہیں ۔ ضروری ہے کہ احتیاط برتا جائے ۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🅣🅣🅢 Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ ↓↓
Jᴏɪɴ & Sʜᴀʀᴇ @islaamic_Knowledege
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضور مفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ 1
اصـلاحِ معاشرہ اور رد بدعات و منکرات
عرس مفتئ اعظم ہند پر خصوصی تحریر
اصـلاحِ معاشرہ اور رد بدعات و منکرات
عرس مفتئ اعظم ہند پر خصوصی تحریر
🌹 حضور مفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ ❷ 🌹
📜 اصلاحِ معاشرہ اور رد بدعات و منکرات 📜
عرس حضور مفتئ اعظم پر خصوصی تحریر 📃
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍ بقلم : ادیبِ شہیر غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن و رضا لائبریری مالیگاؤں الـہـنـد
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کفار کے میلوں میں شرکت :
اس مسئلہ میں کہ ہنود کے میلوں میں جہاں مراسم کفریہ و شرکیہ کے علاوہ ہر قسم کے ناچ تماشے اور دیگر لہو و لعب ہوتے ہیں ، مسلمانوں کا بحیثیت تماشائی یا بغرض خرید و فروخت شریک ہونا کیسا ہے؟…حضور مفتی اعظم قدس سرہ نے تحریر فرمایا :’’ ایسے میلوں میں بحیثیت تماشائی جانا حرام حرام اشد حرام بہت اخبث نہایت ہی اشنع کا م بحکم فقہاے کرام معاذ اللہ کفر انجام ہے ۔ حدیث کا ارشاد ہے من کثر سواد قو م فھو منھم‘‘ آگے مزید لکھتے ہیں:’’ ان لوگوں پر توبہ تجدید ایمان نکاح لازم ۔ جو لوگ تجارت کے لئے جاتے ہیں انھیں مجمع کفار سے علیٰحدہ قیام چاہئے ۔ اول تو جانا ہی نہ چاہئے اور جائیں تو وہاں سے دور رہیں اس قدر دور کہ ان سے ان کے مجمع میں اضافہ ہو کر اس کی شوکت نہ ہو۔ ان کی دوکانوں سے اس کی زینت نہ ہو۔ ان کے آگے اعلان کفر نہ ہو۔ مجمع کفار محل لعنت ہے خصوصاً ایسا مجمع جو اظہار و اعلان کفر کا ہو ۔ محل لعنت سے یوں بھی تو بچنا ضرور ہے اگرچہ اس وقت اظہار کفر نہ ہو ۔ تجارت کے لئے اگر جاتے ہیں مجمع کفار سے بالکل علیٰحدہ جہاں سے ان کی کفری باتیں دیکھ سن نہ سکیں راہ میں رہیں مقصد تجارت یوں بھی حاصل ہو گا اگر وہ لوگ خدیدنا چاہیںگے راہ میں خریدیں گے نہ خریدنا چاہیں گے وہاں بھی نہ خریدیں گے ۔ آج کل تو یہ نری ہوس خام ہے ۔‘‘(۵)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ٹائی باندھنا :
’’ ٹائی لگانا اشد حرام ہے وہ شعار کفار بدا نجام ہے نہایت بدکام ہے وہ کھلارد فرمان خدا وند ذوالجلال والا کرام ہے ۔ ٹائی نصاریٰ کے یہاں ان کے عقیدہ باطلہ میں یاد گار ہے حضرت سیدنا مسیح علیہ الصلاۃ و السلام کے سولی دیے جانے اور سارے نصاریٰ کا فدیہ ہوجانے کی ۔ والعیاذ باللّٰہ تعالیٰ ہر نصرانی یوں ٹائی اپنے گلے میں ڈالے رہتا ہے ہر ٹوپ میں نشان صلیب رکھتا ہے جسے کراس مارک کہتا ہے ۔ ٹائی کی طرح یہ کراس مارک بھی رد قرآن ہے ۔ والعیاذ باللّٰہ تعالیٰ ۔ کہ قرآن فرماتا ہے ۔ مَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ یہود نے نہ عیسیٰ مسیح کو قتل کیا نہ سولی دی ۔ ‘‘(۶)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مر دکو مہندی لگانا :
دولہا کو مہندی لگانا کیسا ہے، اس سوال کے جواب میں فرمایا :’’ مرد کوہاتھ پائوں میں مہندی لگانا ناجائز ہے ۔ ‘‘ (۷)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مرد کے لئے انگوٹھی کی مقدار :
حضور مفتی اعظم قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں:’’ سونے کی انگشتری مرد کے لئے جائز نہیں چاندی کی انگشتری ایک نگ کی ۔ نگ جس قدر بھی قیمتی ہو ساڑھے چار ماشہ سے کم کی مرد کو پہننی جائز ہے ۔ ‘‘(۸)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
میت کا کھانا :
اس سوال پر کہ بعض کہتے ہیں تیجے یعنی سوئم کے چنے چبا نے سے قلب سیاہ ہوجاتا ہے اور میت کی فاتحہ کا کھانا کھانے سے قلب سیاہ ہو جاتا ہے ، ارشاد فرمایا … غلط ہے ۔ ہاں اغنیاکو کھانا نہیں چاہئے کہ قلب میں اس سے قساوت پیدا ہوتی ہے ۔ (۹)میت کا کھانا محتاج ، مسکین اور غربا کے لیے ہے ۔ فی زمانہ یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ اصحاب ثروت بھی میت کے کھانے میں شریک ہوجاتے ہیںاور جن کا اس پر حق ہے انھیں پوچھا نہیں جاتا ۔اس بارے میں توجہ درکار ہے کہ حق حقدارکو ملے ۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پیر سے پردہ :
موجودہ دور میں بہت سے پیر ایسے ملیں گے جو بے پردہ عورتوں کو مرید بناتے ہیں اور عورتیں بھی پردے کا اہتمام نہیں کرتیں۔ حضور مفتی اعظم قدس سرہ فرماتے ہیں :’’ عورت پرغیر محرم سے پردہ فرض ہے ۔ پیر استاد محرم نہیں ہوتا محض اجنبی ہے جو بزرگان دین ہیں وہ پردہ کو لازم ہی جانتے ہیں ۔ شرعاً اجانب ( غیر محرم ) سے پردہ لازم ۔ ملاعلی قاری کی مسلک متقسط میں ہے۔ فرماتے ہیں سترالوجہ عن الا جانب واجب علی المرأۃ جو عورتیںخود بے پردہ پھرتی ہیں ان کو ہدایت کرنا پیر کاکام ہے اگر وہ پردہ نہ کریں خود سامنے آئیں اور ان کی طرف دوسری نگاہ قصدی نہ ڈالی جائے تو اس پر الزام نہیں۔ بزرگان دین عورت کی آواز کو بھی عورت بتاتے ہیں اور اس کی آواز بھی سننا جائز نہیں ۔ ‘‘ (۱۰)ایک مقام پر فرماتے ہیں :’’ بیشک پیر مریدہ کا محرم نہیں ہوجاتا ، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے بڑھ کر امت کا پیر کون ہوگا وہ یقینا ابوالروح ہوتا ہے ۔ اگر پیر ہونے سے آدمی محرم ہو جایاکرتا تو چاہئے تھا کہ نبی سے اس کی امت سے کسی عورت کا نکاح نہ ہوسکتا۔‘‘ (۱۱)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🅣🅣🅢 Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ ↓↓
Jᴏɪɴ & Sʜᴀʀᴇ @islaamic_Knowledege
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
📜 اصلاحِ معاشرہ اور رد بدعات و منکرات 📜
عرس حضور مفتئ اعظم پر خصوصی تحریر 📃
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍ بقلم : ادیبِ شہیر غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن و رضا لائبریری مالیگاؤں الـہـنـد
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کفار کے میلوں میں شرکت :
اس مسئلہ میں کہ ہنود کے میلوں میں جہاں مراسم کفریہ و شرکیہ کے علاوہ ہر قسم کے ناچ تماشے اور دیگر لہو و لعب ہوتے ہیں ، مسلمانوں کا بحیثیت تماشائی یا بغرض خرید و فروخت شریک ہونا کیسا ہے؟…حضور مفتی اعظم قدس سرہ نے تحریر فرمایا :’’ ایسے میلوں میں بحیثیت تماشائی جانا حرام حرام اشد حرام بہت اخبث نہایت ہی اشنع کا م بحکم فقہاے کرام معاذ اللہ کفر انجام ہے ۔ حدیث کا ارشاد ہے من کثر سواد قو م فھو منھم‘‘ آگے مزید لکھتے ہیں:’’ ان لوگوں پر توبہ تجدید ایمان نکاح لازم ۔ جو لوگ تجارت کے لئے جاتے ہیں انھیں مجمع کفار سے علیٰحدہ قیام چاہئے ۔ اول تو جانا ہی نہ چاہئے اور جائیں تو وہاں سے دور رہیں اس قدر دور کہ ان سے ان کے مجمع میں اضافہ ہو کر اس کی شوکت نہ ہو۔ ان کی دوکانوں سے اس کی زینت نہ ہو۔ ان کے آگے اعلان کفر نہ ہو۔ مجمع کفار محل لعنت ہے خصوصاً ایسا مجمع جو اظہار و اعلان کفر کا ہو ۔ محل لعنت سے یوں بھی تو بچنا ضرور ہے اگرچہ اس وقت اظہار کفر نہ ہو ۔ تجارت کے لئے اگر جاتے ہیں مجمع کفار سے بالکل علیٰحدہ جہاں سے ان کی کفری باتیں دیکھ سن نہ سکیں راہ میں رہیں مقصد تجارت یوں بھی حاصل ہو گا اگر وہ لوگ خدیدنا چاہیںگے راہ میں خریدیں گے نہ خریدنا چاہیں گے وہاں بھی نہ خریدیں گے ۔ آج کل تو یہ نری ہوس خام ہے ۔‘‘(۵)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ٹائی باندھنا :
’’ ٹائی لگانا اشد حرام ہے وہ شعار کفار بدا نجام ہے نہایت بدکام ہے وہ کھلارد فرمان خدا وند ذوالجلال والا کرام ہے ۔ ٹائی نصاریٰ کے یہاں ان کے عقیدہ باطلہ میں یاد گار ہے حضرت سیدنا مسیح علیہ الصلاۃ و السلام کے سولی دیے جانے اور سارے نصاریٰ کا فدیہ ہوجانے کی ۔ والعیاذ باللّٰہ تعالیٰ ہر نصرانی یوں ٹائی اپنے گلے میں ڈالے رہتا ہے ہر ٹوپ میں نشان صلیب رکھتا ہے جسے کراس مارک کہتا ہے ۔ ٹائی کی طرح یہ کراس مارک بھی رد قرآن ہے ۔ والعیاذ باللّٰہ تعالیٰ ۔ کہ قرآن فرماتا ہے ۔ مَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ یہود نے نہ عیسیٰ مسیح کو قتل کیا نہ سولی دی ۔ ‘‘(۶)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مر دکو مہندی لگانا :
دولہا کو مہندی لگانا کیسا ہے، اس سوال کے جواب میں فرمایا :’’ مرد کوہاتھ پائوں میں مہندی لگانا ناجائز ہے ۔ ‘‘ (۷)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مرد کے لئے انگوٹھی کی مقدار :
حضور مفتی اعظم قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں:’’ سونے کی انگشتری مرد کے لئے جائز نہیں چاندی کی انگشتری ایک نگ کی ۔ نگ جس قدر بھی قیمتی ہو ساڑھے چار ماشہ سے کم کی مرد کو پہننی جائز ہے ۔ ‘‘(۸)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
میت کا کھانا :
اس سوال پر کہ بعض کہتے ہیں تیجے یعنی سوئم کے چنے چبا نے سے قلب سیاہ ہوجاتا ہے اور میت کی فاتحہ کا کھانا کھانے سے قلب سیاہ ہو جاتا ہے ، ارشاد فرمایا … غلط ہے ۔ ہاں اغنیاکو کھانا نہیں چاہئے کہ قلب میں اس سے قساوت پیدا ہوتی ہے ۔ (۹)میت کا کھانا محتاج ، مسکین اور غربا کے لیے ہے ۔ فی زمانہ یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ اصحاب ثروت بھی میت کے کھانے میں شریک ہوجاتے ہیںاور جن کا اس پر حق ہے انھیں پوچھا نہیں جاتا ۔اس بارے میں توجہ درکار ہے کہ حق حقدارکو ملے ۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پیر سے پردہ :
موجودہ دور میں بہت سے پیر ایسے ملیں گے جو بے پردہ عورتوں کو مرید بناتے ہیں اور عورتیں بھی پردے کا اہتمام نہیں کرتیں۔ حضور مفتی اعظم قدس سرہ فرماتے ہیں :’’ عورت پرغیر محرم سے پردہ فرض ہے ۔ پیر استاد محرم نہیں ہوتا محض اجنبی ہے جو بزرگان دین ہیں وہ پردہ کو لازم ہی جانتے ہیں ۔ شرعاً اجانب ( غیر محرم ) سے پردہ لازم ۔ ملاعلی قاری کی مسلک متقسط میں ہے۔ فرماتے ہیں سترالوجہ عن الا جانب واجب علی المرأۃ جو عورتیںخود بے پردہ پھرتی ہیں ان کو ہدایت کرنا پیر کاکام ہے اگر وہ پردہ نہ کریں خود سامنے آئیں اور ان کی طرف دوسری نگاہ قصدی نہ ڈالی جائے تو اس پر الزام نہیں۔ بزرگان دین عورت کی آواز کو بھی عورت بتاتے ہیں اور اس کی آواز بھی سننا جائز نہیں ۔ ‘‘ (۱۰)ایک مقام پر فرماتے ہیں :’’ بیشک پیر مریدہ کا محرم نہیں ہوجاتا ، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے بڑھ کر امت کا پیر کون ہوگا وہ یقینا ابوالروح ہوتا ہے ۔ اگر پیر ہونے سے آدمی محرم ہو جایاکرتا تو چاہئے تھا کہ نبی سے اس کی امت سے کسی عورت کا نکاح نہ ہوسکتا۔‘‘ (۱۱)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🅣🅣🅢 Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ ↓↓
Jᴏɪɴ & Sʜᴀʀᴇ @islaamic_Knowledege
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضور مفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ 2
اصـلاحِ معاشرہ اور رد بدعات و منکرات
عرس مفتئ اعظم ہند پر خصوصی تحریر
اصـلاحِ معاشرہ اور رد بدعات و منکرات
عرس مفتئ اعظم ہند پر خصوصی تحریر
🌹 حضور مفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ ❸ 🌹
📜 اصلاحِ معاشرہ اور رد بدعات و منکرات 📜
عرس حضور مفتئ اعظم پر خصوصی تحریر 📃
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍ بقلم : ادیبِ شہیر غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن و رضا لائبریری مالیگاؤں الـہـنـد
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سجدۂ تعظیمی اور قوالی مع مزامیر :
سجدۂ تعظیمی اور مزامیر کے ساتھ قوالی کے متعلق حضور مفتی اعظم قدس سرہ تحریرفرماتے ہیں :’’قوالی مع مزامیر ہمارے نزدیک ضرور حرام و ناجائز و گناہ ہے اور سجدۂ تعظیمی بھی ایساہی ۔ ان دونوں مسئلوں میں بعض صاحبوں نے اختلاف کیا ہے اگرچہ وہ لائق التفات نہیں ۔ ‘‘ (۱۲) سوال کیا گیاکہ زید کہتا ہے کہ صوفیوں کو مزامیر کے ساتھ قوالی سننا جائز ہے اور بکر اعلیٰ حضرت مجد د دین و ملت امام احمد رضا رضی اللہ عنہ کی کتاب احکام شریعت حصہ اول کے حوالے سے مزامیر کے ساتھ قوالی کو ہر شخص کے لئے ناجائز کہتا ہے ۔ حضور مفتی اعظم نے جواب عنایت فرمایا کہ بکر کا قول صواب و صحیح ہے اور قول زید محض باطل و قبیح و فضیح ۔ (۱۳)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
غلط روایات کی تردید :
روایاتِ میلاد کے حوالے سے حضور مفتی اعظم قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں :’’ وہ لوگ جو من گڑھت موضوعات بکتے ہیں اگر چہ وہ اپنے آپ کوعالم بتائیں ہر گز منبر کے مستحق نہیں نہ وہ ان کی روایاتِ کا ذبہ ذکرنہ ان کا سننا جائز… وہ ذاکرین جو سنی صحیح العقیدہ غیر فاسق معلن ہوں اور کتب معتبرہ مستندہ سے روایات صحیحہ مقبولہ و معتمدہ پڑھیں وہ علما کے اس وقت نائب ہیں انھیں منبر پر بیٹھا نے میں حرج نہیں ذکر پاک کے آداب کے خلاف کوئی امرنہ کرنا چاہئے ۔‘‘ (۱۴)دریافت کیا گیا کہ شہادت نامہ ، جنگ نامہ ، نورنامہ ، داستان امیر حمزہ پڑھنا درست ہے یا نہیں تو حضور مفتی اعظم قدس سرہ نے فرمایا :’’ شہادت نامہ جس میں تمام ترصحیح صحیح روایات ہوں اس کا پڑھنا اچھاہے جیسے آئینۂ قیامت اور جو غلط و باطل روایات پر مشتمل ہو اس کا پڑھنا سخت برا اور ناجائز ہے ۔ جنگ نامہ ، نورنامہ دیکھا نہیں وہ اگر غلط روایات پر مشتمل ہو ں تو ان کا حکم یہی ہے کہ ان کا پڑھنا جائز نہیں ۔داستان امیر حمزہ از سر تاپا کذب و بہتان افترا و طوفان محض دروغ بے فروغ ہے اور اتنا ہی نہیںچوں کہ اس کا مصنف رافضی تھا اس میںجابجا صحابۂ کرام پر تبرا ہے اس کا پڑھنا حرام حرام حرام ہے ۔ ‘‘ (۱۵)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
منت کی چوٹی :
اس مسئلہ میں کہ زید منت مانتا ہے کہ میرا لڑکا آٹھ سال کا ہو گیا تو فلاں بزرگ کا مرغا چڑھائوں گا اب منت کی تاریخ سے بچے کے سرپرچوٹی رکھتا ہے… اس پر حضور مفتی اعظم نے ارشاد فرمایا :’’ چوٹی لڑکے کے سرپر رکھنا ناجائز ہے ۔‘‘(۱۶)
اس نوع کے مضامین تحقیق کئے جائیں تو بکثرت ملیں گے لیکن اختصار کے پیش نظر اتنے پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے،ضرورت ان پر عمل کی ہے۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مصادر :
(۱) فتاویٰ مصطفویہ 📖
✍ حضور مفتئ اعظم ہند
طبع رضا اکیڈمی ممبئی، ص۵۳۴
(۲) ایضاً ص۳۱ (۳) ایضاً ص۳۱
(۴) ایضاً ص۳۱۔۳۲ (۵) ایضاً ص۹۶۔۹۷
(۶)ایضاً ص۵۲۶ (۷) ایضاً ص۴۵۲
(۸) ایضاً ص۴۵۲ (۹) ایضاً ص۴۵۳
(۱۰) ایضاً ص۴۹۰ (۱۱) ایضاً ص۶۳۶
(۱۲) ایضاً ص۴۵۶ (۱۳) ایضاً ص۶۳۱
(۱۴) ایضاً ص۴۳۷ (۱۵) ایضاً ص۵۲۶
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پیشکش : شہباز اختر رضوی {نوری مشن مالیگاؤں}
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نوٹ : اصلاح معاشرہ کیلئے ............
اس تحریر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کیجئے
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🅣🅣🅢 Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ ↓↓
Jᴏɪɴ & Sʜᴀʀᴇ @islaamic_Knowledege
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
📜 اصلاحِ معاشرہ اور رد بدعات و منکرات 📜
عرس حضور مفتئ اعظم پر خصوصی تحریر 📃
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍ بقلم : ادیبِ شہیر غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن و رضا لائبریری مالیگاؤں الـہـنـد
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سجدۂ تعظیمی اور قوالی مع مزامیر :
سجدۂ تعظیمی اور مزامیر کے ساتھ قوالی کے متعلق حضور مفتی اعظم قدس سرہ تحریرفرماتے ہیں :’’قوالی مع مزامیر ہمارے نزدیک ضرور حرام و ناجائز و گناہ ہے اور سجدۂ تعظیمی بھی ایساہی ۔ ان دونوں مسئلوں میں بعض صاحبوں نے اختلاف کیا ہے اگرچہ وہ لائق التفات نہیں ۔ ‘‘ (۱۲) سوال کیا گیاکہ زید کہتا ہے کہ صوفیوں کو مزامیر کے ساتھ قوالی سننا جائز ہے اور بکر اعلیٰ حضرت مجد د دین و ملت امام احمد رضا رضی اللہ عنہ کی کتاب احکام شریعت حصہ اول کے حوالے سے مزامیر کے ساتھ قوالی کو ہر شخص کے لئے ناجائز کہتا ہے ۔ حضور مفتی اعظم نے جواب عنایت فرمایا کہ بکر کا قول صواب و صحیح ہے اور قول زید محض باطل و قبیح و فضیح ۔ (۱۳)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
غلط روایات کی تردید :
روایاتِ میلاد کے حوالے سے حضور مفتی اعظم قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں :’’ وہ لوگ جو من گڑھت موضوعات بکتے ہیں اگر چہ وہ اپنے آپ کوعالم بتائیں ہر گز منبر کے مستحق نہیں نہ وہ ان کی روایاتِ کا ذبہ ذکرنہ ان کا سننا جائز… وہ ذاکرین جو سنی صحیح العقیدہ غیر فاسق معلن ہوں اور کتب معتبرہ مستندہ سے روایات صحیحہ مقبولہ و معتمدہ پڑھیں وہ علما کے اس وقت نائب ہیں انھیں منبر پر بیٹھا نے میں حرج نہیں ذکر پاک کے آداب کے خلاف کوئی امرنہ کرنا چاہئے ۔‘‘ (۱۴)دریافت کیا گیا کہ شہادت نامہ ، جنگ نامہ ، نورنامہ ، داستان امیر حمزہ پڑھنا درست ہے یا نہیں تو حضور مفتی اعظم قدس سرہ نے فرمایا :’’ شہادت نامہ جس میں تمام ترصحیح صحیح روایات ہوں اس کا پڑھنا اچھاہے جیسے آئینۂ قیامت اور جو غلط و باطل روایات پر مشتمل ہو اس کا پڑھنا سخت برا اور ناجائز ہے ۔ جنگ نامہ ، نورنامہ دیکھا نہیں وہ اگر غلط روایات پر مشتمل ہو ں تو ان کا حکم یہی ہے کہ ان کا پڑھنا جائز نہیں ۔داستان امیر حمزہ از سر تاپا کذب و بہتان افترا و طوفان محض دروغ بے فروغ ہے اور اتنا ہی نہیںچوں کہ اس کا مصنف رافضی تھا اس میںجابجا صحابۂ کرام پر تبرا ہے اس کا پڑھنا حرام حرام حرام ہے ۔ ‘‘ (۱۵)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
منت کی چوٹی :
اس مسئلہ میں کہ زید منت مانتا ہے کہ میرا لڑکا آٹھ سال کا ہو گیا تو فلاں بزرگ کا مرغا چڑھائوں گا اب منت کی تاریخ سے بچے کے سرپرچوٹی رکھتا ہے… اس پر حضور مفتی اعظم نے ارشاد فرمایا :’’ چوٹی لڑکے کے سرپر رکھنا ناجائز ہے ۔‘‘(۱۶)
اس نوع کے مضامین تحقیق کئے جائیں تو بکثرت ملیں گے لیکن اختصار کے پیش نظر اتنے پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے،ضرورت ان پر عمل کی ہے۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مصادر :
(۱) فتاویٰ مصطفویہ 📖
✍ حضور مفتئ اعظم ہند
طبع رضا اکیڈمی ممبئی، ص۵۳۴
(۲) ایضاً ص۳۱ (۳) ایضاً ص۳۱
(۴) ایضاً ص۳۱۔۳۲ (۵) ایضاً ص۹۶۔۹۷
(۶)ایضاً ص۵۲۶ (۷) ایضاً ص۴۵۲
(۸) ایضاً ص۴۵۲ (۹) ایضاً ص۴۵۳
(۱۰) ایضاً ص۴۹۰ (۱۱) ایضاً ص۶۳۶
(۱۲) ایضاً ص۴۵۶ (۱۳) ایضاً ص۶۳۱
(۱۴) ایضاً ص۴۳۷ (۱۵) ایضاً ص۵۲۶
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پیشکش : شہباز اختر رضوی {نوری مشن مالیگاؤں}
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نوٹ : اصلاح معاشرہ کیلئے ............
اس تحریر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کیجئے
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🅣🅣🅢 Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ ↓↓
Jᴏɪɴ & Sʜᴀʀᴇ @islaamic_Knowledege
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضور مفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ 3
اصـلاحِ معاشرہ اور رد بدعات و منکرات
عرس مفتئ اعظم ہند پر خصوصی تحریر
اصـلاحِ معاشرہ اور رد بدعات و منکرات
عرس مفتئ اعظم ہند پر خصوصی تحریر
मेडिकल साइंस का नया रिसर्च ‼
उर्दू भाषा बोलने लिखने से दिमाग तेज़ होता है
दिमाग़ का वो हिस्सा जो डिसीज़न लेता हैं वो उर्दू बोलेने से काफ़ी पावरफुल हो जाता है ‼
https://t.me/islaamic_Knowledge
उर्दू भाषा बोलने लिखने से दिमाग तेज़ होता है
दिमाग़ का वो हिस्सा जो डिसीज़न लेता हैं वो उर्दू बोलेने से काफ़ी पावरफुल हो जाता है ‼
https://t.me/islaamic_Knowledge
میڈیکل سائنس کا نیا رِسرچ ‼
اُردو زبان بولنے لکهنے سے دِماغ تیز ہوتا ہے،
دماغ کا وہ حصہ جو ڈِسیزن لیتا ہے وہ اردو
زباب بولنے سے کافی پاور فُل ہو جاتا ہے ‼
https://t.me/islaamic_Knowledge
اُردو زبان بولنے لکهنے سے دِماغ تیز ہوتا ہے،
دماغ کا وہ حصہ جو ڈِسیزن لیتا ہے وہ اردو
زباب بولنے سے کافی پاور فُل ہو جاتا ہے ‼
https://t.me/islaamic_Knowledge