🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
*🌹اعتکاف کے مسائل اور ان کا حل🌹*
*🌺قسط نہم (9)- سوال 81 تا 90🌺*
*سوال 81:*
اگر کوئی عورت کمرے کے اندر مسجدِ بیت میں اعتکاف بیٹھی ہو تو کیا وہ گرمی کی وجہ سے رات کو سونے کے لئے مسجدِ بیت سے باہر آ سکتی ہے ؟
*جواب:*
اگر کوئی عورت کمرے کے اندر مسجدِ بیت میں اعتکاف بیٹھی ہو تو وہ گرمی کی وجہ سے رات کو سونے کے لئے مسجدِ بیت سے باہر نہیں آ سکتی، اگر آئے گی تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا کیونکہ عورت کو مسجدِ بیت سے صرف حاجتِ طبعی (یعنی پیشاب، پاخانہ، وضو اور فرض غسل) کی وجہ سے نکلنے کی اجازت ہے اور گرمی کی وجہ سے مسجدِ بیت سے باہر نکلنا حاجتِ طبعی میں داخل نہیں ہے.
*(ماخوذ از فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 500، 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، احکامِ تروایح و اعتکاف، صفحہ 191)*
*سوال 82:*
کیا عورت اعتکاف میں کپڑے تبدیل کر سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت اعتکاف کے دوران مسجدِ بیت میں کپڑے تبدیل کر سکتی ہے .
*(ماخوذ از فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 272، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 83:*
کیا عورت ایک جگہ اعتکاف میں بیٹھنے کے بعد اعتکاف کی جگہ کو (یعنی مسجدِ بیت کو) تبدیل کر سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت ایک جگہ اعتکاف میں بیٹھ جانے کے بعد اعتکاف کی جگہ کو (یعنی مسجدِ بیت کو) تبدیل نہیں کر سکتی، اگر تبدیل کرے گی تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.
*(ماخوذ از فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فیضانِ رمضان مرمم، 290، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 84:*
اگر غسل خانے، فنائے مسجد میں نہ ہوں بلکہ مسجد کے احاطہ سے باہر ہوں تو کیا معتکف وہاں پر کپڑے تبدیل کرنے کے لئے جا سکتا ہے ؟
*جواب:*
اگر غسل خانے، فنائے مسجد میں نہ ہوں بلکہ مسجد کے احاطہ سے باہر ہوں تو معتکف وہاں پر کپڑے تبدیل کرنے کے لئے نہیں جا سکتا کیونکہ کپڑے تبدیل کرنا حاجتِ طبعی و حاجتِ شرعی میں داخل نہیں ہے، اس لئے مسجد میں چادر کے ذریعے پردہ کر کے کپڑے تبدیل کر لے.
اگر معتکف مسجد سے باہر کپڑے تبدیل کرنے کے لیے نکلا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.
*(ماخوذ از فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 500، 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 85:*
اگر کوئی معتکف کسی ایسی بستی یا گاؤں میں اعتکاف بیٹھا ہو کہ جہاں جمعہ کی نماز نہ ہوتی ہو تو کیا وہ جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے بستی یا گاؤں سے باہر شہر میں جا سکتا ہے ؟
*جواب:*
اگر کوئی معتکف کسی ایسی بستی یا گاؤں میں اعتکاف بیٹھا ہو کہ جہاں جمعہ کی نماز نہ ہوتی ہو تو وہ جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے بستی یا گاؤں سے باہر شہر میں نہیں جا سکتا کیونکہ اس پر جمعہ کی نماز فرض ہی نہیں، لہٰذا ایسی صورت میں اگر وہ نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لئے شہر گیا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.
*(ماخوذ از ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، الجوھرۃالنیرۃ شرح مختصر القدوری، جلد 1، صفحہ 353، مکتبہ رحمانیہ)*
*سوال 86:*
کیا مرد رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف، جائے نماز میں کر سکتے ہیں ؟
*جواب:*
مرد رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف جائے نماز میں نہیں کر سکتے کیونکہ مردوں کے اعتکاف کے لئے مسجد شرط ہے.
*(ماخوذ از سنن ابی داؤد، جلد 2، صفحہ 333، مطبوعہ بیروت، فتاوی عالمگیری، کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس فی آداب المسجد، جلد 5، صفحہ 324، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 494، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 87:*
کیا کسی مسلمان میت کی طرف سے اعتکاف کیا جا سکتا ہے ؟
*جواب:*
اعتکاف کر کے اس کا ثواب کسی بھی مسلمان میت کو ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے.
*(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ، جلد 9، صفحہ 670، رضا فاؤنڈیشن لاہور، بہارِ شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 642، مکتبۃ المدینہ کراچی، نماز کے احکام، صفحہ 482، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 88:*
کیا عورت تین روزہ نفلی اعتکاف کر سکتی ہے ؟
*جواب:*
جی ہاں! عورت مسجدِ بیت میں تین روزہ نفلی اعتکاف کر سکتی ہے.
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بدائع الصنائع، کتاب الاعتکاف، جلد 2، صفحہ 280، 281، 282، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
👍31
*سوال 89:*
اگر بیوی گھر کے اندر مسجدِ بیت میں اعتکاف میں بیٹھی ہو تو کیا شوہر اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکتا ہے ؟
*جواب:*
اگر بیوی گھر کے اندر مسجدِ بیت میں اعتکاف میں بیٹھی ہو تو شوہر اس کے ساتھ مسجدِ بیت میں بیٹھ کر کھانا کھا سکتا ہے جبکہ دونوں کو اپنے نفس پر کنٹرول ہو کہ وہ ہمبستری اور ہمبستری کی طرف لے جانے والے کاموں سے بچیں گے.
*(بہارشریعت، جلد 1، حصہ پنجم، صفحہ 1025، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 90:*
کیا معتکف مسجد میں کنگھی کر سکتا ہے ؟
*جواب:*
معتکف مسجد میں کنگھی کر سکتا ہے بشرطیکہ کوئی بال مسجد میں نہ گرے، لہٰذا کنگھی کرنے سے پہلے مسجد میں چادر بچھا لینی چاہیے بلکہ زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ فنائے مسجد میں وضو خانہ پر اپنی چادر بچھا کر کنگھی کرنی چاہیے.
*(فیضان رمضان مرمم، صفحہ 272، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
19/05/20120
03068209672
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
*🌹اعتکاف کے مسائل اور ان کا حل 🌹*
*🌺قسط دہم (10)- سوال 91 تا 100🌺*
*سوال 91:*
اگر معتکف فنائے مسجد میں دنیوی باتیں کرے تو کیا اس کا اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے ؟
*جواب:*
اگر معتکف فنائے مسجد میں دنیوی باتیں کرے تو اُس کا اعتکاف نہیں ٹوٹتا.
*(فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 453، رضا فاؤنڈیشن لاہور، فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 399، مکتبہ رضویہ کراچی، فتاوی عبیدیہ، جلد 1، صفحہ 347، ناشر تعلیم الاسلام فاؤنڈیشن پاکستان)*
*سوال 92:*
کیا عورت اپنے گھر کے علاوہ کسی اور کے گھر میں اعتکاف کر سکتی ہے؟
*جواب:*
عورت اپنے گھر کے علاوہ کسی اور کے گھر میں اعتکاف نہیں کر سکتی بلکہ اپنے گھر کی مسجدِ بیت میں اعتکاف کرے گی.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 289، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 93:*
کیا گھر کی دیگر عورتیں، معتکفہ (یعنی اعتکاف میں بیٹھنے والی عورت) کے پاس مسجدِ بیت میں جا سکتی ہیں ؟
*جواب:*
ضرورت کے وقت گھر کی دیگر عورتیں مُعْتَکِفَہ (یعنی اعتکاف میں بیٹھنے والی عورت) کے پاس مسجدِ بیت میں جا سکتی ہیں اور ضروری گفتگو بھی کر سکتی ہیں، اس سے معتکفہ کے اعتکاف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن معتکفہ کا بلاضرورت فضول گفتگو کرنا اعتکاف کے مقاصد کے خلاف ہے.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 291، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 94:*
اگر کسی مرد کا اعتکاف ٹوٹ جائے تو اس کی قضا کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟
*جواب:*
اگر کسی مرد کا اعتکاف ٹوٹ جائے تو اس کی قضا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ غروبِ آفتاب سے چند منٹ پہلے اعتکاف کی قضا کی نیت سے کسی مسجد میں آ جائے اور اگلے دن کے غروبِ آفتاب تک اعتکاف گاہ میں رہے اور اس میں روزہ بھی رکھنا ہوگا.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 290، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 95:*
معتکف کے لئے مسجد میں داڑھی کا خط بنوانا اور زلفیں تراشنا کیسا ہے ؟
*جواب:*
معتکف کے لئے داڑھی کا خط بنوانا اور زلفیں تراشنا جائز ہے مگر اس کے لئے یہ احتیاط ضروری ہے کہ کوئی بال مسجد میں نہ گرے اور اس کی آسان صورت یہ ہے کہ یہ کام وضوخانہ یا فنائے مسجد میں اپنی چادر بچھا کر کیا جائے.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 272، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 96:*
اگر اعتکاف والی مسجد میں جمعہ ہوتا ہوں تو کیا معتکف دوسری مسجد میں جمعہ پڑھانے کے لئے جا سکتا ہے ؟
*جواب:*
معتکف جس مسجد میں اعتکاف کر رہا ہے، اگر وہاں پر جمعہ اپنی تمام شرائط کے ساتھ ادا ہو رہا ہو تو اسے جمعہ پڑھانے کے لئے دوسری مسجد میں جانا جائز نہیں ہے، اگر جائے گا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.
*(فتاوی فیض رسول، جلد 1، صفحہ 534، شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 97:*
کیا معتکف مسجد کی چھت پر چڑھ سکتا ہے؟
*جواب:*
اگر مسجد کی چھت پر جانے والی سیڑھیاں مسجد کے احاطے کے اندر ہوں تو پھر معتکف مسجد کی چھت پر چڑھ سکتا ہے، اِس سے اُس کا اعتکاف نہیں ٹوٹے گا اور اگر چھت پر جانے والی سیڑھیاں مسجد کے احاطہ سے باہر ہوں تو پھر معتکف کے لئے مسجد کی چھت پر چڑھنا جائز نہیں ہے، اگر چڑھے گا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا
*نوٹ:*
معتکف ہو یا غیر معتکف، دونوں کے لئے مسجد کی چھت پر بلا ضرورت چڑھنا مکروہ اور بے ادبی ہے.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الصلوة، باب ما یفسد الصلوۃ۔۔۔الخ، مطلب فی احکام المسجد، جلد 2، صفحہ 516، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فیضان رمضان مرمم، صفحہ 265، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 98:*
رمضان المبارک میں اعتکاف کرنے کا سب سے بڑا مقصد کیا ہے ؟
*جواب:*
رمضان المبارک میں اعتکاف کرنے کا سب سے بڑا مقصد شبِ قدر کو تلاش کرنا ہے اور راجِح (یعنی غالب) یہی ہے کہ شبِ قدر رمضان المبارک کے آخری دس دنوں کی طاق راتوں میں ہوتی ہے.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 232، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 99:*
اگر کسی کو گندہ دَہَن (یعنی جس کو منہ سے بدبو آنے کی بیماری) یا گندہ بَغَل (یعنی جس کے بغل سے بدبو آنے کی بیماری) ہو اُسے مسجد میں اعتکاف بیٹھنا کیسا ہے ؟
*جواب:*
جس کو گندہ دَہَن یا گندہ بَغَل کی بیماری ہو تو اس کو مسجد کے اندر داخل ہونا منع ہوتا ہے، لہٰذا ایسا شخص مسجد میں اعتکاف نہیں بیٹھ سکتا.
*(فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 72، رضا فاؤنڈیشن لاہور، فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 249، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 100:*
اگر معتکف کا بہت ہی قریبی رشتہ دار فوت ہو جائے تو کیا معتکف اس کے جنازے کے لئے جا سکتا ہے ؟
*جواب:*
اگر معتکف کا بہت ہی قریبی رشتہ دار فوت ہو جائے تو معتکف اس کے جنازہ کے لئے جا سکتا ہے اور جانے کی وجہ سے گناہ گار بھی نہیں ہوگا لیکن جنازے میں جانے کے لئے مسجد سے باہر نکلتے ہی اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا، جس کی وجہ سے بعد میں ایک دن کے اعتکاف کی قَضا کرنی ہوگی.
*(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، جلد 2، صفحہ 378، المکتبۃ الغوثیہ)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
23/05/2020
03068209672
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
*🌹اعتکاف کے مسائل اور ان کا حل🌹*
*🌺قسط گیارہ(11)- سوال 101 تا 110🌺*
*سوال 101:*
جب عورت پورے کمرے کو مسجدِ بیت قرار دے سکتی ہے تو اگر اس کمرے میں اٹیچ باتھ روم ہو تو کیا وہ عورت دورانِ سنتِ اعتکاف اٹیچ باتھ میں گرمی کا غسل کر سکتی ہے؟
*جواب :*
اگرچہ پورے کمرے کو مسجد بیت بنایا جا سکتا ہے لیکن عورت دورانِ سنتِ اعتکاف اٹیچ باتھ میں گرمی کا غسل نہیں کر سکتی، اگر کرے گی تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا، کیونکہ عورت کو مسجدِ بیت سے صرف حاجتِ طبعی (یعنی پیشاب، پاخانہ، وضو اور فرض غسل) کی وجہ سے نکلنے کی اجازت ہے اور گرمی کا غسل حاجتِ طبعی میں داخل نہیں ہے.
*(ماخوذ از فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 500، 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، احکامِ تروایح و اعتکاف، صفحہ 191، فتاوی اہلسنت، احکامِ روزہ و اعتکاف، صفحہ 27، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 102:*
اگر اٹیچ باتھ کو بھی مسجدِ بیت قرار دیدے تو کیا پھر اس میں گرمی کا غسل کر سکتی ہے؟
*جواب :*
اٹیچ باتھ کو مسجدِ بیت کیسے قرار دے سکتی ہے جبکہ مسجدِ بیت نماز کے لئے خاص کی گئی جگہ کو کہتے ہیں اور یہ بات اَظْہَرْ مِنَ الشَّمْسِ (یعنی سورج سے زیادہ ظاہر) ہے کہ اٹیچ باتھ کو نماز کے لئے خاص نہیں کیا جاتا اور جب اعتکاف کرنے والی عورت گرمی کا غسل کرنے کے لئے اٹیچ باتھ میں جائے گی تو اس کا مسجدِ بیت سے حاجتِ طبعی کے بغیر نکلنا پایا جائے گا، لہٰذا گرمی کا غسل کرنے کے لئے اٹیچ باتھ میں جانے سے اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
*(ماخوذ از فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 500، 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، احکامِ تروایح و اعتکاف، صفحہ 191، فتاوی اہلسنت، احکامِ روزہ و اعتکاف، صفحہ 27، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ :*
جس طرح مسجد کے لئے فناءِ مسجد کا وجود ہوتا ہے، اسی طرح مسجدِ بیت کے لئے فنا کا کوئی وجود و تصور نہیں ہوتا ہے۔
*(از مفتی فضیل صاحب مدظلہ العالی، تاریخِ اجراء : 06 شعبان المعظم 1437ھ/14مئی2016ء، دَارُالاِفْتَاء اَہْلسُنَّت، دعوت اسلامی)*
*سوال 103:*
کیا عورت دورانِ اعتکاف مسجدِ بیت میں اپنے نابالغ بچے کو اپنے ساتھ رکھ سکتی ہے ؟
*جواب :*
جی ہاں! عورت دورانِ اعتکاف مسجدِ بیت میں اپنے نابالغ بچے کو اپنے ساتھ رکھ سکتی ہے.
*(ماخوذ از فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 291، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 104:*
کیا عورت دورانِ اعتکاف سکائپ وغیرہ کے ذریعہ ہونے والے کورس میں تلاوت کر سکتی ہے ؟
*جواب :*
جی ہاں! عورت دورانِ اعتکاف مسجدِ بیت میں سکائپ وغیرہ کے ذریعہ ہونے والے کورس میں تلاوت کر سکتی ہے۔
*(ماخوذ از فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 291، مکتبۃ المدینہ کراچی، فتاوی عبیدیہ، جلد 1، صفحہ 348، 349، ناشر تعلیم الاسلام فاؤنڈیشن پاکستان)*
*سوال 105:*
اگر کوئی عورت درسِ نظامی فون کے ذریعے پڑھاتی ہو تو کیا وہ دورانِ اعتکاف فون کے ذریعے پڑھا سکتی ہے ؟
*جواب :*
جی ہاں! عورت دورانِ اعتکاف مسجدِ بیت میں فون کے ذریعہ درسِ نظامی کی کلاس پڑھا سکتی ہے۔
*(ماخوذ از فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 291، مکتبۃ المدینہ کراچی، فتاوی عبیدیہ، جلد 1، صفحہ 348، 349، ناشر تعلیم الاسلام فاؤنڈیشن پاکستان)*
*سوال 106:*
جس دن سنت اعتکاف بیٹھنا ہو تو کیا اس دن کا روزہ رکھنا بھی اعتکاف کے لئے ضروری ہے ؟
*جواب :*
جس دن سنت اعتکاف بیٹھنا ہو تو اس دن کا روزہ رکھنا اعتکاف کے لئے ضروری نہیں ہے کیونکہ روزہ سنتِ اعتکاف کے لئے شرط ہے اور اعتکاف غروبِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے جس کے لئے اگلے نو (9) یا دس (10) دنوں کے روزے ضروری ہوتے ہیں۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 496، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 107:*
کیا عورت دورانِ اعتکاف سکول کے بچوں کو تیس (30) منٹس کی اپنی ویڈیو بنا کر بھیج سکتی ہے جس میں وہ بچوں کا سبق بتاتی ہے ؟
*جواب :*
جی ہاں! عورت دورانِ اعتکاف سکول کے بچوں کو سبق سکھانے کے لئے تیس (30) منٹس کی اپنی ویڈیو بنا کر بھیج سکتی ہے۔
*(ماخوذ از فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 291، مکتبۃ المدینہ کراچی، فتاوی عبیدیہ، جلد 1، صفحہ 348، 349، ناشر تعلیم الاسلام فاؤنڈیشن پاکستان)*
*سوال 108:*
رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف چونکہ سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہوتا ہے تو کیا عورت کے مسجدِ بیت میں اعتکاف بیٹھنے سے پورا گاؤں برئ الذمہ ہو جاۓ گا ؟
👍21
*جواب :*
جی نہیں! اگر پورے گاؤں میں رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف صرف عورت ہی مسجدِ بیت میں بیٹھے اور کوئی مرد مسجد میں نہ بیٹھے تو عورت کے اعتکاف بیٹھنے سے پورا گاؤں برئ الذمہ نہیں ہو گا
بلکہ مسجد میں کسی ایک شخص کو بیٹھنا ہو گا۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 496، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 109:*
اگر کسی عورت کو لیکوریا کی بیماری ہو تو کیا وہ اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہے؟
*جواب :*
جی ہاں! اگر کسی عورت کو لیکوریا کی بیماری ہو تو وہ اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہے کیونکہ لیکوریا اعتکاف کے منافی (خلاف) نہیں ہے.
*(ماخوذ از ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 494، 495، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتاوی عبیدیہ، کتاب الطھارۃ، جلد 1، صفحہ 155 تا 163، ناشر تعلیم الاسلام فاؤنڈیشن پاکستان)*
*سوال 110:*
کیا عورت دورانِ اعتکاف فوتگی والے گھر میں میت کو دیکھنے کے لئے جا سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت دورانِ اعتکاف فوتگی والے گھر میں میت کو دیکھنے کے لئے نہیں جا سکتی، اگر جائے گی تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 212، مطبوعہ دارالفکر بیروت)*
*نوٹ :*
اگر قریبی رشتہ دار فوت ہوا ہو تو پھر جانے سے اگرچہ اعتکاف ٹوٹ جائے گا لیکن گناہگار نہیں ہوگی۔
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
06/05/2021
03068209672
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
*🌹صَدَقَۃُ الْفِطْر کے مسائل اور ان کا حل🌹*
*🌺قسط اول (1)- سوال 1 تا 10🌺*
*سوال 1:*
صدقۃ الفطر کا شرعی حکم کیا ہے ؟
*جواب:*
صدقۃ الفطر واجب ہے.
*(جامع ترمذی،ابواب الزکوۃ، باب ماجاء فی صدقۃ الفطر، جلد 2، صفحہ 151، رقم الحدیث : 674، دارالمعرفۃ بیروت)*
*نوٹ:*
صدقۃ الفطر کو فطرانہ اور فطرہ بھی کہتے ہیں.
*سوال 2:*
صدقہ فطر مقرر کرنے کی کیا حکمتیں ہیں ؟
*جواب:*
صدقۃ الفطر مقرر کرنے کی دو حکمتیں ہیں :
1- فضول اور بےہودہ کلام سے روزوں کی طہارت ہو جائے.
2- مساکین کو روزی اور خوراک حاصل ہو جائے.
*(سنن ابو داؤد، کتاب الزکوۃ، باب زکوۃ الفطر، جلد 2، صفحہ 157، رقم الحدیث : 1609، دار احیاء التراث العربی بیروت)*
*سوال 3:*
صَدَقَۃُ الْفِطْر کِن پر واجب ہوتا ہے ؟
*جواب:*
صَدَقۃُالفطر اُن تمام مسلمانوں پر واجب ہوتا ہے، جو صاحبِ نِصاب ہوں اور ان کا نصاب، حاجَتِ اَصْلِیَّہ (یعنی ضروریاتِ زندگی جیسے رہنے کا مکان، خانہ داری کا سامان وغیرہ) سے فارغ ہو.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 191، مطبوعہ دارالفکر بیروت، فیضان رمضان مرمم، صفحہ 313، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 4:*
صاحبِ نصاب کسے کہتے ہیں ؟
*جواب:*
جس کے پاس ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے باون تولے چاندی کی رقم یا اتنی مالیت کا مالِ تجارت ہو (اور یہ سب حاجتِ اصلیہ کے علاوہ ہوں) یا اتنی مالیت کا حاجتِ اصلیہ کے علاوہ سامان ہو تو اس کو صاحبِ نصاب کہا جاتا ہے.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 313، 314، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ:*
صاحبِ نصاب کو مالِکِ نصاب بھی کہا جاتا ہے.
*سوال 5:*
کیا نابالغ بچے اور پاگل پر بھی صدقۃ الفطر واجب ہوتا ہے ؟
*جواب:*
صدقہ فطر واجب ہونے کے لئے عاقِل اور بالِغ ہونا شرط نہیں ہے، لہٰذا اگر چھوٹے بچے اور پاگل (پاگل چاہے بالغ ہوں یا نابالغ) صاحبِ نصاب ہوں، تو اُن کا وَلی (یعنی سرپرست) ان کے مال میں سے ادا کرے گا اور اگر وہ صاحبِ نصاب نہ ہوں تو پھر ان کے سرپرست پر واجب ہے کہ ان کی طرف سے صدقۃُ الفطر اپنے مال میں سے ادا کرے۔
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 192، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، جلد 3، صفحہ 365، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فیضان رمضان مرمم، صفحہ 314، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 6:*
کیا صاحبِ نصاب شوہر پر اپنی بیوی کا صدقۃ الفطر (فطرانہ) واجب ہوتا ہے ؟
*جواب:*
صاحبِ نصاب شوہر پر اپنی بیوی کا صدقۃ الفطر (فطرانہ) واجب نہیں ہوتا.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 193، مطبوعہ دارالفکر بیروت)*
*سوال 7:*
کیا صاحبِ نصاب مرد پر اپنے والدین، چھوٹے بھائی، بہن اور دیگر رشتہ داروں کا صدقۃ الفطر واجب ہوتا ہے؟
*جواب:*
صاحبِ نصاب مرد پر اپنے والِدَیْن، چھوٹے بہن، بھائی اور دیگر رشتہ داروں کا صدقۃ الفطر واجب نہیں ہوتا.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 193، مطبوعہ دارالفکر بیروت)*
*سوال 8:*
کیا والد پر اپنی عاقل، بالغ اولاد کا صدقۃ الفطر واجب ہوتا ہے ؟
*جواب:*
والد پر اپنی عاقل، بالغ اولاد کا صدقۃ الفطر واجب نہیں ہوتا.
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، جلد 3، صفحہ 370، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 9:*
کیا ماں پر اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے صدقۃ الفطر واجب ہوتا ہے ؟
*جواب:*
ماں پر اپنے چھوٹے نابالغ بچوں کا صدقۃ الفطر واجب نہیں ہوتا.
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، جلد 3، صفحہ 368، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 10:*
اگر کسی کے والد زندہ نہ ہوں بلکہ دادا زندہ ہوں تو کیا دادا پر اپنے چھوٹے نابالغ پوتے، پوتیوں کی طرف سے صدقۃ الفطر واجب ہوگا ؟
*جواب:*
اگر کسی کے والد زندہ نہ ہوں بلکہ دادا زندہ ہوں تو اگر اس کے چھوٹے نابالغ پوتے، پوتیاں صاحبِ نصاب ہوں تو دادا ان کی طرف سے ان کے مال میں سے صدقۃ الفطر ادا کرے گا اور اگر وہ صاحبِ نصاب نہ ہوں اور دادا صاحبِ نصاب ہو تو دادا پر ان کی طرف سے اپنے مال میں سے صدقۃ الفطر نکالنا واجب ہوگا.
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، جلد 3، صفحہ 368، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
15/05/2020
03068209672
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
*🌹صدقۃ الفطر کے مسائل اور ان کا حل🌹*
*🌺قسط دوم(2)- سوال 11 تا 20🌺*
*سوال 11:*
اگر باپ صاحبِ نصاب نہ ہو اور اس کے چھوٹے نابالغ بچے ہوں اور ان کا دادا صاحبِ نصاب ہو تو کیا دادا پر اپنے پوتے، پوتیوں کا صدقۃ الفطر واجب ہوگا؟
*جواب:*
اگر باپ صاحبِ نصاب نہ ہو اور دادا صاحبِ نصاب ہو اور چھوٹے پوتے، پوتیاں بھی صاحبِ نصاب نہ ہوں تو ان کا صدقۃ الفطر دادا پر واجب ہوگا۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، جلد 3، صفحہ 368، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 12:*
جو بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو کیا اس کا صدقۃ الفطر دینا بھی واجب ہوتا ہے ؟
*جواب:*
جو بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے، اس کی طرف سے صدقۃ الفطر دینا واجب نہیں ہوتا.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 192، مطبوعہ دارالفکر بیروت)*
*سوال 13:*
اگر کسی نے رمضان المبارک کے روزے مجبوری یا بغیر کسی مجبوری کے نہ رکھے ہوں تو کیا اس پر صاحبِ نصاب ہونے کی صورت میں صدقہ فطر واجب ہو گا ؟
*جواب:*
اگر کسی نے رمضان المبارک کے روزے مجبوری یا بغیر مجبوری کے نہ رکھے ہوں تو اس پر صاحبِ نصاب ہونے کی صورت میں صدقۃ الفطر واجب ہوگا.
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، جلد 3، صفحہ 367، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 14:*
اگر کسی نے بیوی اور بالغ اولاد کی اجازت کے بغیر ان کا صدقۃ الفطر ادا کر دیا تو کیا صدقۃ الفطر ادا ہو جائے گا؟
*جواب:*
بیوی یا بالغ اولاد کا نفقہ وغیرہ (یعنی روٹی کپڑے وغیرہ کا خرچ) جس شخص کے ذمے ہے، اگر اس شخص نے ان کی اجازت کے بغیر ہی ان کا صدقۃ الفطر ادا کردیا تو ان کا صدقۃ الفطر ادا ہوجائے گا، اور اگر نفقہ اس کے ذمے نہیں ہے مثلاً بالغ بیٹے نے شادی کر کے گھر الگ بسا لیا اور وہ اپنا گزارا خود ہی کر لیتا ہے تو اب اپنے نان و نفقے (یعنی روٹی، کپڑے وغیرہ) کا خود ہی ذمے دار ہوگیا ہے، لہٰذا ایسی اولاد کی طرف سے بغیر اجازت صدقۃ الفطر دے دیا تو ادا نہ ہوگا.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 193، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، جلد 3، صفحہ 370، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فیضان رمضان مرمم، صفحہ 315، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 15:*
اگر بیوی نے شوہر کے حکم کے بغیر شوہر کا صدقۃ الفطر ادا کر دیا تو کیا شوہر کا صدقۃ الفطر ادا ہو جائے گا؟
*جواب:*
اگر بیوی نے شوہر کے حکم کے بغیر شوہر کا صدقۃ الفطر ادا کر دیا تو شوہر کا صدقۃالفطر ادا نہیں ہوگا.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 193، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، جلد 3، صفحہ 370، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فیضان رمضان مرمم، صفحہ 315، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 16:*
عید کے دن جو مہمان گھر آئیں تو کیا ان کا صدقۃ الفطر میزبان پر واجب ہوتا ہے ؟
*جواب:*
عید کے دن جو مہمان گھر پر آئیں تو ان کا صدقہ الفطر میزبان پر واجب نہیں ہوتا بلکہ اگر وہ خود صاحبِ نصاب ہوں گے تو خود ان پر ہی واجب ہو گا.
*(فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 300، رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*سوال 17:*
صدقہ فطر ادا کرنے کا افضل وقت کونسا ہے ؟
*جواب:*
صدقۃ الفطر ادا کرنے کا افضل وقت عید الفطر کی صبحِ صادق کے طلوع ہونے کے بعد سے لیکر عید کی نماز ادا کرنے سے پہلے پہلے تک ہے.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 192، مطبوعہ دارالفکر بیروت)*
*سوال 18:*
اگر کوئی شخص صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد صاحبِ نصاب ہوا تو کیا اس پر صدقہ فطر واجب ہوگا؟
*جواب:*
عیدالفطر کی صبح صادق کے طلوع ہوتے ہی جو صاحبِ نصاب ہو تو اس پر صدقۃ الفطر واجب ہوتا ہے، اگر کوئی صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد صاحبِ نصاب ہوا تو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں ہوگا.
*(ماخوذ از فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 192، مطبوعہ دارالفکر بیروت)*
*سوال 19:*
کیا عیدالفطر کی چاند رات یا رمضان المبارک کے کسی بھی دن صدقۃ الفطر ادا کیا جا سکتا ہے ؟
*جواب:*
عیدالفطر کی چاند رات یا رمضان المبارک کے کسی بھی دن صدقۃ الفطر ادا کیا جا سکتا ہے.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 192، مطبوعہ دارالفکر بیروت)*
*سوال 20:*
کیا رمضان المبارک سے پہلے صدقۃ الفطر ادا کیا جا سکتا ہے؟
*جواب:*
جی ہاں! رمضان المبارک سے پہلے بھی صدقۃ الفطر ادا کیا جا سکتا ہے.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 192، مطبوعہ دارالفکر بیروت)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ و سلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
16/05/2030
03068209672
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
*🌹صدقۃ الفطر کے مسائل اور ان کا حل🌹*
*🌺قسط سوم(3)- سوال 21 تا 30🌺*
*سوال 21:*
اگر عید کا دن گزر گیا اور کسی نے صدقۃ الفطر ادا نہ کیا ہو تو کیا بعد میں ادا کیا جا سکتا ہے؟
*جواب:*
اگر عید کا دن گزر گیا اور کسی نے صدقۃ الفطر ادا نہ کیا ہو تو صدقۃ الفطر معاف نہیں ہو گا بلکہ عمر بھر جب بھی صدقۃ الفطر ادا کریں گے، ادا ہو جائے گا.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 192، مطبوعہ دارالفکر بیروت)*
*سوال 22:*
صدقۃ الفطر کن کو دے سکتے ہیں ؟
*جواب:*
جن کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں، ان کو صدقۃ الفطر بھی دے سکتے ہیں، اور جن کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے، انہیں صدقۃ الفطر بھی نہیں دے سکتے.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 194، مطبوعہ دارالفکر بیروت)*
*سوال 23:*
صدقۃ الفطر کس وقت واجب ہوتا ہے ؟
*جواب:*
صدقۃ الفطر، عیدالفطر یعنی یکم شوال المکرم کی صبحِ صادق کے طلوع ہوتے وقت واجب ہوتا ہے جبکہ اس کے واجب ہونے کی شرائط پائی جائیں.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، جلد 1،بصفحہ 192، مطبوعہ دارالفکر بیروت)*
*سوال 24:*
کیا ساداتِ کِرام کو صدقۃ الفطر دیا جا سکتا ہے ؟
*جواب:*
ساداتِ کرام کو صدقۃالفطر نہیں دے سکتے کیونکہ یہ بنی ہاشم میں سے ہیں اور بنی ہاشم کو زکوٰۃ و فطرانہ دینا حرام ہے.
*نوٹ:*
بنی ہاشم سے مراد حضرت علی، حضرت جعفر، حضرت عقیل، حضرت عباس اور حضرت حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنھم کی اولادیں ہیں.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع فی المصارف، جلد 1، صفحہ 189، مطبوعہ دارالفکر بیروت، بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ پنجم، صفحہ 931، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 25:*
کیا میاں بیوی ایک دوسرے کو صدقۃ الفطر دے سکتے ہیں؟
*جواب:*
میاں بیوی ایک دوسرے کو صدقۃ الفطر نہیں دے سکتے.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 194، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الزکوۃ، باب المصرف، جلد 3، صفحہ 345، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 26:*
کیا اصول و فروع کو صدقۃ الفطر دیا جاسکتا ہے؟
*جواب:*
اصول و فروع کو صدقۃ الفطر نہیں دیا جاسکتا.
*نوٹ:*
اصول سے مراد ماں باپ، دادا، دادی، نانا، نانی وغیرہ ہیں اور فروع سے مراد اولاد یعنی بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسا، نواسی وغیرہ ہیں.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 194، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الزکوۃ، باب المصرف، جلد 3 صفحہ 345 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 27:*
صدقۃ الفطر کی مقدار کتنی ہے؟
*جواب:*
صدقۃ الفطر کے لئے شریعتِ مُطَہَّرَہ نے درج ذیل چار چیزوں کو مقرر فرمایا ہے، لہٰذا ان چار چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ صدقۃ الفطر ادا کیا جا سکتا ہے، جن کی تفصیل یہ ہے :
1- آدھا صاع (یعنی دو کلو میں سے 80 گرام کم) گندم یا گندم کا آٹا یا گندم کے ستو (یا ان کی قیمت).
2- ایک صاع (یعنی 4 کلو میں سے 160 گرام کم) جَو یا جو کا آٹا یا جو کے سّتُّو (یا ان کی قیمت).
3- ایک صاع (یعنی 4 کلو میں سے 160 گرام کم) کھجوریں (یا ان کی قیمت).
4- ایک صاع (یعنی 4 کلو میں سے 160 گرام کم) مُنَقّٰی یا کشمش (یا ان کی قیمت).
*نوٹ:*
یہ ایک صدقۃ الفطر کی مقدار ہے.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 191، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، جلد 3، صفحہ 372، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 316، مکتبۃ المدینہ کراچی، تفسیر صراط الجنان، جلد 1)*
*سوال 28:*
دارالافتاء اہلسنت (دعوتِ اسلامی) کی حانب سے ملکِ پاکستان میں اس سال رمضان المبارک 1442 ہجری بمطابق 2021ء میں فطرانے کی کتنی رقم کا اعلان کیا گیا ہے ؟
*جواب:*
دارالافتاء اہلسنت کی حانب سے ملکِ پاکستان میں اس سال رمضان المبارک 1442 ہجری بمطابق 2021ء میں فطرانے کی رقم کا جو اعلان کیا گیا ہے وہ درج ذیل ہے :
1- گندم (چکی والا آٹا) = 150 روپے
2- جو = 320 روپے
3- کھجور = 1000 روپے
4- کشمش = 2200 روپے۔
*(دارالافتاء اہلسنت، دعوتِ اسلامی)*
*سوال 29:*
اگر نابالغ بچے پاکستان میں ہوں اور باپ بیرونِ ملک ہو تو باپ صدقۃ الفطر کس حساب سے دے گا ؟
*جواب:*
اگر نابالغ بچے پاکستان میں ہوں اور باپ بیرونِ ملک ہو اور وہ وہاں پر صدقۃ الفطر نکالنا چاہے تو بچوں کا صدقۃ الفطر بھی بیرونِ ملک کے حساب سے دے گا.
*(الھدایہ، کتاب الاضحیہ، اخیرین، صفحہ 466، مطبوعہ لاہور، البنایہ شرح الھدایہ، کتاب الاضحیہ، جلد 11، صفحہ 27، 28، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب السابع فی المصارف، جلد 1، صفحہ 190، دارالکتب العلمیہ بیروت، فتاوی فیض الرسول، جلد 1، صفحہ 512، شبیر برادرز لاہور)*
2👍1
*سوال 30:*
اگر شادی شدہ بیٹی اپنے بچوں سمیت اپنے والدین کے گھر پر ہو تو اس کا اور اس کے بچوں صدقۃ الفطر کس پر واجب ہوگا ؟
*جواب:*
اگر شادی شدہ بیٹی اپنے بچوں سمیت اپنے والدین کے گھر پر ہو تو اس بیٹی کا صدقۃ الفطر نہ باپ پر واجب ہوگا اور نہ ہی اس کے شوہر پر بلکہ اگر وہ خود صاحبِ نصاب ہوئی تو خود اس پر واجب ہوگا، اور اگر اس کے بچے صاحبِ نصاب ہوں تو بچوں کا صدقۃ الفطر ان کے اپنے مال میں سے ان بچوں کا والد ادا کرے گا اور اگر وہ بچے صاحبِ نصاب نہ ہوں تو پھر ان بچوں کا صدقۃ الفطر ان کے والد پر واجب ہوگا بشرطیکہ ان کا والد صاحبِ نصاب ہو، ان بچوں کے نانا پر صدقۃ الفطر واجب نہ ہو گا.
*(فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 300، رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
16/05/2020
03068209672
2👍1