*🌹اعتکاف کے مسائل اور ان کا حل🌹*
*🌺قسط ہفتم (7)- سوال 61 تا 70🌺*
*(عورتوں کے اعتکاف کے مسائل)*
*سوال 61:*
عورت کس جگہ پر اعتکاف کرے گی ؟
*جواب:*
عورت گھر کی مسجد میں اعتکاف کرے گی، جسے مسجدِ بیت کہا جاتا ہے.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع فی الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 494، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، البحرالرائق، باب الاعتکاف، جلد 2، صفحہ 301)*
*سوال 62:*
مسجدِ بیت (یعنی گھر کی مسجد) کسے کہتے ہیں ؟
*جواب:*
گھر میں نماز پڑھنے کے لیے خاص کی گئی جگہ کو مسجدِ بیت کہا جاتا ہے.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع فی الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 494، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، البحرالرائق، باب الاعتکاف، جلد 2، صفحہ 301)*
*سوال 63:*
اگر گھر میں کسی جگہ کو نماز کے لیے خاص نہ کیا گیا ہو تو کیا عورت اعتکاف کر سکتی ہے؟
*جواب:*
اگر گھر میں کسی جگہ کو نماز کے لیے خاص نہ کیا گیا ہو تو عورت اعتکاف نہیں کر سکتی، لہٰذا ایسی صورت میں عورت گھر کی کسی جگہ کو اعتکاف کے لئے خاص کر لے پھر وہاں پر اعتکاف کے لئے بیٹھ جائے۔
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 494، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 64:*
کیا عورتیں مسجد اعتکاف کر سکتی ہیں ؟
*جواب:*
درج ذیل شرائط پائی جائیں تو عورتوں کا مسجد میں اعتکاف کرنا مکروہِ تنزیہی اور شرعاً ناپسندیدہ ہوگا :
1- شرعی پردے کا مکمل اہتمام ہو.
2- ان کی اعتکاف گاہ سے غیر محرم مردوں کا گزر نہ ہو.
3- شادی شدہ ہونے کی صورت میں شوہر سے اجازت لیکر بیٹھیں.
4- کنواری ہونے کی صورت میں والدین سے اجازت لیکر بیٹھیں.
5- اعتکاف کے دیگر مسائل اور شرعی قیودات اور احترام مسجد کی پابندی کریں.
اور اگر مذکورہ شرائط کی پابندی نہ کریں تو سرے سے ان کا مسجد میں اعتکاف کرنا جائز ہی نہ ہو گا.
*(ماخوذ از ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 494، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتح القدیر، باب الاعتکاف، جلد 2، صفحہ 109، تفہیم المسائل، جلد 1، صفحہ 201، 202، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)*
*سوال 65:*
عورت کتنی جگہ کو مسجدِ بیت قرار دے سکتی ہے ؟
*جواب :*
اس کے لئے جگہ کی کوئی پابندی نہیں ہے بلکہ چاہے تو پورے کمرے کو بھی مسجدِ بیت قرار دے سکتی ہے، اور کم از کم اتنی جگہ کو مسجدِ بیت قرار دے کہ جہاں وہ آرام کر سکے اور نماز وغیرہ ادا کرسکے.
*(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد 1، صفحہ 443، مطبوعہ ضیاء القرآن لاہور، دارالافتاء فیضانِ شریعت)*
*سوال 66:*
کیا عورت اعتکاف کے دوران مسجدِ بیت میں بیڈ یا چارپائی پر آرام کر سکتی ہے ؟
*جواب:*
اگر عورت نے اتنی جگہ کو مسجدِ بیت قرار دیا ہو جہاں پر بیڈ اور چارپائی بآسانی آ سکتے ہوں اور نماز کی ادائیگی بھی کر سکتی ہو تو وہ اعتکاف کے دوران بیڈ یا چارپائی پر آرام کر سکتی ہے.
*(دارالافتاء فیضانِ شریعت)*
*سوال 67:*
کیا سنت اعتکاف کے لئے عورت کو اپنے شوہر سے اجازت لینا ضروری ہے ؟
*جواب:*
سنت اعتکاف کے لئے عورت کو اپنے شوہر سے اجازت لینا ضروری ہے اور شوہر چاہے تو اس کو سنت اعتکاف سے روک بھی سکتا ہے، البتہ اگر ایک دفعہ اجازت دے دی تو پھر روکنے کا اختیار اسے باقی نہیں رہے گا.
*(فتاوی عالمگیری، الباب السابع فی الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالکفر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 494، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتاوی السراجیہ، باب الاعتکاف صفحہ 31)*
*سوال 68:*
اگر کسی عورت کا شوہر بیرونِ ملک گیا ہوا ہو تو کیا پھر بھی اعتکاف کے لئے اسے شوہر سے اجازت لینا ضروری ہے ؟
*جواب:*
اگر کسی عورت کا شوہر بیرونِ ملک گیا ہوا ہو اور وہاں عورت کے پاس موجود نہ ہو تو اعتکاف کے لئے اسے شوہر سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے.
*(اعتکاف کے مسائل، صفحہ 12، مکتبہ اعلیٰ حضرت بحوالہ البحرالرائق، باب الاعتکاف، جلد 2، صفحہ 301)*
*سوال 69:*
کیا عورت اعتکاف کے دوران اپنا کھانا پکانے کے لئے کچن میں جا سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت کے لئے کھانا پکانے والا کوئی نہ ہو تو اگر مسجدِ بیت میں کھانا پکانا ممکن ہو تو وہ مسجدِ بیت میں کھانا پکائے گی اور اگر مسجدِ بیت میں کھانا پکانا ممکن نہ ہو تو وہ کھانا پکانے کے لئے کچن میں جا سکتی ہے لیکن جیسے کھانا تیار کر لے، فوراً کھانا لیکر مسجدِ بیت میں آ کر کھائے.
*🌺قسط ہفتم (7)- سوال 61 تا 70🌺*
*(عورتوں کے اعتکاف کے مسائل)*
*سوال 61:*
عورت کس جگہ پر اعتکاف کرے گی ؟
*جواب:*
عورت گھر کی مسجد میں اعتکاف کرے گی، جسے مسجدِ بیت کہا جاتا ہے.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع فی الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 494، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، البحرالرائق، باب الاعتکاف، جلد 2، صفحہ 301)*
*سوال 62:*
مسجدِ بیت (یعنی گھر کی مسجد) کسے کہتے ہیں ؟
*جواب:*
گھر میں نماز پڑھنے کے لیے خاص کی گئی جگہ کو مسجدِ بیت کہا جاتا ہے.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع فی الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 494، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، البحرالرائق، باب الاعتکاف، جلد 2، صفحہ 301)*
*سوال 63:*
اگر گھر میں کسی جگہ کو نماز کے لیے خاص نہ کیا گیا ہو تو کیا عورت اعتکاف کر سکتی ہے؟
*جواب:*
اگر گھر میں کسی جگہ کو نماز کے لیے خاص نہ کیا گیا ہو تو عورت اعتکاف نہیں کر سکتی، لہٰذا ایسی صورت میں عورت گھر کی کسی جگہ کو اعتکاف کے لئے خاص کر لے پھر وہاں پر اعتکاف کے لئے بیٹھ جائے۔
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 494، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 64:*
کیا عورتیں مسجد اعتکاف کر سکتی ہیں ؟
*جواب:*
درج ذیل شرائط پائی جائیں تو عورتوں کا مسجد میں اعتکاف کرنا مکروہِ تنزیہی اور شرعاً ناپسندیدہ ہوگا :
1- شرعی پردے کا مکمل اہتمام ہو.
2- ان کی اعتکاف گاہ سے غیر محرم مردوں کا گزر نہ ہو.
3- شادی شدہ ہونے کی صورت میں شوہر سے اجازت لیکر بیٹھیں.
4- کنواری ہونے کی صورت میں والدین سے اجازت لیکر بیٹھیں.
5- اعتکاف کے دیگر مسائل اور شرعی قیودات اور احترام مسجد کی پابندی کریں.
اور اگر مذکورہ شرائط کی پابندی نہ کریں تو سرے سے ان کا مسجد میں اعتکاف کرنا جائز ہی نہ ہو گا.
*(ماخوذ از ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 494، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتح القدیر، باب الاعتکاف، جلد 2، صفحہ 109، تفہیم المسائل، جلد 1، صفحہ 201، 202، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)*
*سوال 65:*
عورت کتنی جگہ کو مسجدِ بیت قرار دے سکتی ہے ؟
*جواب :*
اس کے لئے جگہ کی کوئی پابندی نہیں ہے بلکہ چاہے تو پورے کمرے کو بھی مسجدِ بیت قرار دے سکتی ہے، اور کم از کم اتنی جگہ کو مسجدِ بیت قرار دے کہ جہاں وہ آرام کر سکے اور نماز وغیرہ ادا کرسکے.
*(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد 1، صفحہ 443، مطبوعہ ضیاء القرآن لاہور، دارالافتاء فیضانِ شریعت)*
*سوال 66:*
کیا عورت اعتکاف کے دوران مسجدِ بیت میں بیڈ یا چارپائی پر آرام کر سکتی ہے ؟
*جواب:*
اگر عورت نے اتنی جگہ کو مسجدِ بیت قرار دیا ہو جہاں پر بیڈ اور چارپائی بآسانی آ سکتے ہوں اور نماز کی ادائیگی بھی کر سکتی ہو تو وہ اعتکاف کے دوران بیڈ یا چارپائی پر آرام کر سکتی ہے.
*(دارالافتاء فیضانِ شریعت)*
*سوال 67:*
کیا سنت اعتکاف کے لئے عورت کو اپنے شوہر سے اجازت لینا ضروری ہے ؟
*جواب:*
سنت اعتکاف کے لئے عورت کو اپنے شوہر سے اجازت لینا ضروری ہے اور شوہر چاہے تو اس کو سنت اعتکاف سے روک بھی سکتا ہے، البتہ اگر ایک دفعہ اجازت دے دی تو پھر روکنے کا اختیار اسے باقی نہیں رہے گا.
*(فتاوی عالمگیری، الباب السابع فی الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالکفر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 494، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتاوی السراجیہ، باب الاعتکاف صفحہ 31)*
*سوال 68:*
اگر کسی عورت کا شوہر بیرونِ ملک گیا ہوا ہو تو کیا پھر بھی اعتکاف کے لئے اسے شوہر سے اجازت لینا ضروری ہے ؟
*جواب:*
اگر کسی عورت کا شوہر بیرونِ ملک گیا ہوا ہو اور وہاں عورت کے پاس موجود نہ ہو تو اعتکاف کے لئے اسے شوہر سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے.
*(اعتکاف کے مسائل، صفحہ 12، مکتبہ اعلیٰ حضرت بحوالہ البحرالرائق، باب الاعتکاف، جلد 2، صفحہ 301)*
*سوال 69:*
کیا عورت اعتکاف کے دوران اپنا کھانا پکانے کے لئے کچن میں جا سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت کے لئے کھانا پکانے والا کوئی نہ ہو تو اگر مسجدِ بیت میں کھانا پکانا ممکن ہو تو وہ مسجدِ بیت میں کھانا پکائے گی اور اگر مسجدِ بیت میں کھانا پکانا ممکن نہ ہو تو وہ کھانا پکانے کے لئے کچن میں جا سکتی ہے لیکن جیسے کھانا تیار کر لے، فوراً کھانا لیکر مسجدِ بیت میں آ کر کھائے.
❤1👍1
*(ماخوذ از تفہیم المسائل، جلد 2، صفحہ 191، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)*
*سوال 70:*
کیا عورت فرض غسل کے علاوہ صرف ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے مسجدِ بیت سے باہر نکل کر غسل کر سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت فرض غسل کے علاوہ صرف ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے مسجدِ بیت سے باہر نکل کر غسل نہیں کر سکتی، اگر اس کے لئے مسجدِ بیت سے باہر نکلے گی تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا، البتہ مسجدِ بیت میں ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے غسل کر سکتی ہے.
*(فتاوی اہلسنت، احکام روزہ و اعتکاف، صفحہ 27، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
18/05/2020
03068209672
*سوال 70:*
کیا عورت فرض غسل کے علاوہ صرف ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے مسجدِ بیت سے باہر نکل کر غسل کر سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت فرض غسل کے علاوہ صرف ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے مسجدِ بیت سے باہر نکل کر غسل نہیں کر سکتی، اگر اس کے لئے مسجدِ بیت سے باہر نکلے گی تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا، البتہ مسجدِ بیت میں ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے غسل کر سکتی ہے.
*(فتاوی اہلسنت، احکام روزہ و اعتکاف، صفحہ 27، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
18/05/2020
03068209672
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
*🌹اعتکاف کے مسائل اور ان کا حل 🌹*
*🌺قسط ہشتم (8)- سوال 71 تا 80🌺*
*(عورتوں کے اعتکاف کے مسائل)*
*سوال 71:*
کیا عورت اعتکاف میں بیٹھنے کے واسطے حیض کو روکنے کے لئے دوا (مانع حیض گولیاں) کھا سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت اعتکاف میں بیٹھنے کے واسطے حیض کو روکنے کے لئے دوا (یعنی مانع حیض گولیاں) کھا سکتی ہے البتہ اگر طبی اعتبار سے حیض روکنے والی دوا کھانے سے عورت کو نقصان ہوتا ہو تو پھر اس کو ایسی دوا کھانے سے بچنا ہوگا.
*(ماخوذ از فتاوی اہلسنت، احکامِ روزہ و اعتکاف، صفحہ 32، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 72:*
کیا عورت کسی کام کے لئے مسجدِ بیت سے باہر نکل سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت حاجتِ طبعی (جیسے پیشاب پاخانہ، وضو اور فرض غسل) کے علاوہ کسی اور کام کے لئے مسجدِ بیت سے باہر نہیں نکل سکتی، اگر نکلے گی تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم و ما لایفسدہ، جلد 3، صفحہ 419، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 73:*
اگر عورت کو حیض آ جائے تو کیا اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا ؟
*جواب:*
اگر عورت کو حیض آ جائے تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا کیونکہ عورت کے اعتکاف کے لئے ضروری ہے کہ وہ حیض سے پاک ہو.
*(بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 287، دار احیاء التراث العربی بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 503، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 74:*
اگر ماہواری کی تاریخیں رمضان المبارک کے آخری عشرے میں آنے والی ہوں تو کیا عورت کو اعتکاف شروع کرنا چاہیے ؟
*جواب:*
اگر ماہواری کی تاریخیں رمضان المبارک کے آخری عشرے میں آنے والی ہوں تو عورت کو اعتکاف شروع نہیں کرنا چاہیے.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 290، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 75:*
کیا عورت اعتکاف کے دوران مسجدِ بیت میں بیٹھ کر کپڑوں کی سلائی وغیرہ کا کام کر سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت اعتکاف کے دوران مسجدِ بیت میں بیٹھ کر کپڑوں کی سلائی وغیرہ کا کام کر سکتی ہے، اسی طرح مسجدِ بیت میں بیٹھ کر سالن کے لئے سبزی وغیرہ بھی بنا کر دے سکتی ہے مگر بہتر یہ ہے کہ عورت کی ساری توجہ تلاوت، ذکر و درود، تسبیحات، دینی کتب کا مطالعہ اور سنتوں بھرے بیانات سننے کی طرف لگی رہے.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 291، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 76:*
کیا عورت اعتکاف کے دوران مدنی چینل دیکھ سکتی ہے ؟
*جواب:*
جی ہاں! عورت اعتکاف کے دوران مدنی چینل دیکھ سکتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے.
*(ماخوذ از جامع ترمذی، جلد 1، صفحہ 435، مکتبہ رحمانیہ، فیضان رمضان مرمم، صفحہ 291، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 77:*
اگر کسی عورت کا اعتکاف ٹوٹ جائے تو اس کی قضا کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟
*جواب:*
اگر کسی عورت کا اعتکاف ٹوٹ جائے تو اس کی قضا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ غروبِ آفتاب سے چند منٹ پہلے اعتکاف کی قضا کی نیت سے مسجدِ بیت میں آ جائے اور اگلے دن کے غروبِ آفتاب تک اعتکاف گاہ میں رہے اور اس میں روزہ بھی رکھنا ہوگا.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 390، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 78:*
کیا عورت اعتکاف کے دوران مسجدِ بیت سے نکل کر نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لئے جا سکتی ہے ؟
*جواب:*
چونکہ عورت پر جمعہ فرض نہیں ہے، لہٰذا وہ اعتکاف کے دوران مسجدِ بیت سے باہر نکل کر نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لئے نہیں جا سکتی.
*(شرح السنۃ للبغوی، کتاب الجمعہ، باب من لاتجب علیہ الجمعۃ، جلد 4، صفحہ 226، احکامِ تراویح و اعتکاف، صفحہ 191)*
*سوال 79:*
عورت کس حاجت کی بنا پر مسجدِ بیت سے باہر نکل سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت صرف حاجتِ طبعی (یعنی پیشاب، پاخانہ، وضو اور فرض غسل) کی بنا پر مسجدِ بیت سے باہر نکل سکتی ہے.
*(احکامِ تراویح و اعتکاف، صفحہ 191)*
*سوال 80:*
اگر عورت بھول کر مسجدِ بیت سے باہر نکل گئی تو کیا حکم ہو گا ؟
*جواب:*
اگر عورت بھول کر بلاحاجتِ طبعی، مسجدِ بیت سے باہر نکل گئی تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 212، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 509، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
18/05/2020
03068209672
*🌺قسط ہشتم (8)- سوال 71 تا 80🌺*
*(عورتوں کے اعتکاف کے مسائل)*
*سوال 71:*
کیا عورت اعتکاف میں بیٹھنے کے واسطے حیض کو روکنے کے لئے دوا (مانع حیض گولیاں) کھا سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت اعتکاف میں بیٹھنے کے واسطے حیض کو روکنے کے لئے دوا (یعنی مانع حیض گولیاں) کھا سکتی ہے البتہ اگر طبی اعتبار سے حیض روکنے والی دوا کھانے سے عورت کو نقصان ہوتا ہو تو پھر اس کو ایسی دوا کھانے سے بچنا ہوگا.
*(ماخوذ از فتاوی اہلسنت، احکامِ روزہ و اعتکاف، صفحہ 32، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 72:*
کیا عورت کسی کام کے لئے مسجدِ بیت سے باہر نکل سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت حاجتِ طبعی (جیسے پیشاب پاخانہ، وضو اور فرض غسل) کے علاوہ کسی اور کام کے لئے مسجدِ بیت سے باہر نہیں نکل سکتی، اگر نکلے گی تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم و ما لایفسدہ، جلد 3، صفحہ 419، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 73:*
اگر عورت کو حیض آ جائے تو کیا اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا ؟
*جواب:*
اگر عورت کو حیض آ جائے تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا کیونکہ عورت کے اعتکاف کے لئے ضروری ہے کہ وہ حیض سے پاک ہو.
*(بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 287، دار احیاء التراث العربی بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 503، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 74:*
اگر ماہواری کی تاریخیں رمضان المبارک کے آخری عشرے میں آنے والی ہوں تو کیا عورت کو اعتکاف شروع کرنا چاہیے ؟
*جواب:*
اگر ماہواری کی تاریخیں رمضان المبارک کے آخری عشرے میں آنے والی ہوں تو عورت کو اعتکاف شروع نہیں کرنا چاہیے.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 290، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 75:*
کیا عورت اعتکاف کے دوران مسجدِ بیت میں بیٹھ کر کپڑوں کی سلائی وغیرہ کا کام کر سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت اعتکاف کے دوران مسجدِ بیت میں بیٹھ کر کپڑوں کی سلائی وغیرہ کا کام کر سکتی ہے، اسی طرح مسجدِ بیت میں بیٹھ کر سالن کے لئے سبزی وغیرہ بھی بنا کر دے سکتی ہے مگر بہتر یہ ہے کہ عورت کی ساری توجہ تلاوت، ذکر و درود، تسبیحات، دینی کتب کا مطالعہ اور سنتوں بھرے بیانات سننے کی طرف لگی رہے.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 291، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 76:*
کیا عورت اعتکاف کے دوران مدنی چینل دیکھ سکتی ہے ؟
*جواب:*
جی ہاں! عورت اعتکاف کے دوران مدنی چینل دیکھ سکتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے.
*(ماخوذ از جامع ترمذی، جلد 1، صفحہ 435، مکتبہ رحمانیہ، فیضان رمضان مرمم، صفحہ 291، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 77:*
اگر کسی عورت کا اعتکاف ٹوٹ جائے تو اس کی قضا کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟
*جواب:*
اگر کسی عورت کا اعتکاف ٹوٹ جائے تو اس کی قضا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ غروبِ آفتاب سے چند منٹ پہلے اعتکاف کی قضا کی نیت سے مسجدِ بیت میں آ جائے اور اگلے دن کے غروبِ آفتاب تک اعتکاف گاہ میں رہے اور اس میں روزہ بھی رکھنا ہوگا.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 390، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 78:*
کیا عورت اعتکاف کے دوران مسجدِ بیت سے نکل کر نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لئے جا سکتی ہے ؟
*جواب:*
چونکہ عورت پر جمعہ فرض نہیں ہے، لہٰذا وہ اعتکاف کے دوران مسجدِ بیت سے باہر نکل کر نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لئے نہیں جا سکتی.
*(شرح السنۃ للبغوی، کتاب الجمعہ، باب من لاتجب علیہ الجمعۃ، جلد 4، صفحہ 226، احکامِ تراویح و اعتکاف، صفحہ 191)*
*سوال 79:*
عورت کس حاجت کی بنا پر مسجدِ بیت سے باہر نکل سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت صرف حاجتِ طبعی (یعنی پیشاب، پاخانہ، وضو اور فرض غسل) کی بنا پر مسجدِ بیت سے باہر نکل سکتی ہے.
*(احکامِ تراویح و اعتکاف، صفحہ 191)*
*سوال 80:*
اگر عورت بھول کر مسجدِ بیت سے باہر نکل گئی تو کیا حکم ہو گا ؟
*جواب:*
اگر عورت بھول کر بلاحاجتِ طبعی، مسجدِ بیت سے باہر نکل گئی تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 212، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 509، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
18/05/2020
03068209672
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
*🌹اعتکاف کے مسائل اور ان کا حل🌹*
*🌺قسط نہم (9)- سوال 81 تا 90🌺*
*سوال 81:*
اگر کوئی عورت کمرے کے اندر مسجدِ بیت میں اعتکاف بیٹھی ہو تو کیا وہ گرمی کی وجہ سے رات کو سونے کے لئے مسجدِ بیت سے باہر آ سکتی ہے ؟
*جواب:*
اگر کوئی عورت کمرے کے اندر مسجدِ بیت میں اعتکاف بیٹھی ہو تو وہ گرمی کی وجہ سے رات کو سونے کے لئے مسجدِ بیت سے باہر نہیں آ سکتی، اگر آئے گی تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا کیونکہ عورت کو مسجدِ بیت سے صرف حاجتِ طبعی (یعنی پیشاب، پاخانہ، وضو اور فرض غسل) کی وجہ سے نکلنے کی اجازت ہے اور گرمی کی وجہ سے مسجدِ بیت سے باہر نکلنا حاجتِ طبعی میں داخل نہیں ہے.
*(ماخوذ از فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 500، 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، احکامِ تروایح و اعتکاف، صفحہ 191)*
*سوال 82:*
کیا عورت اعتکاف میں کپڑے تبدیل کر سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت اعتکاف کے دوران مسجدِ بیت میں کپڑے تبدیل کر سکتی ہے .
*(ماخوذ از فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 272، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 83:*
کیا عورت ایک جگہ اعتکاف میں بیٹھنے کے بعد اعتکاف کی جگہ کو (یعنی مسجدِ بیت کو) تبدیل کر سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت ایک جگہ اعتکاف میں بیٹھ جانے کے بعد اعتکاف کی جگہ کو (یعنی مسجدِ بیت کو) تبدیل نہیں کر سکتی، اگر تبدیل کرے گی تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.
*(ماخوذ از فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فیضانِ رمضان مرمم، 290، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 84:*
اگر غسل خانے، فنائے مسجد میں نہ ہوں بلکہ مسجد کے احاطہ سے باہر ہوں تو کیا معتکف وہاں پر کپڑے تبدیل کرنے کے لئے جا سکتا ہے ؟
*جواب:*
اگر غسل خانے، فنائے مسجد میں نہ ہوں بلکہ مسجد کے احاطہ سے باہر ہوں تو معتکف وہاں پر کپڑے تبدیل کرنے کے لئے نہیں جا سکتا کیونکہ کپڑے تبدیل کرنا حاجتِ طبعی و حاجتِ شرعی میں داخل نہیں ہے، اس لئے مسجد میں چادر کے ذریعے پردہ کر کے کپڑے تبدیل کر لے.
اگر معتکف مسجد سے باہر کپڑے تبدیل کرنے کے لیے نکلا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.
*(ماخوذ از فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 500، 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 85:*
اگر کوئی معتکف کسی ایسی بستی یا گاؤں میں اعتکاف بیٹھا ہو کہ جہاں جمعہ کی نماز نہ ہوتی ہو تو کیا وہ جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے بستی یا گاؤں سے باہر شہر میں جا سکتا ہے ؟
*جواب:*
اگر کوئی معتکف کسی ایسی بستی یا گاؤں میں اعتکاف بیٹھا ہو کہ جہاں جمعہ کی نماز نہ ہوتی ہو تو وہ جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے بستی یا گاؤں سے باہر شہر میں نہیں جا سکتا کیونکہ اس پر جمعہ کی نماز فرض ہی نہیں، لہٰذا ایسی صورت میں اگر وہ نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لئے شہر گیا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.
*(ماخوذ از ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، الجوھرۃالنیرۃ شرح مختصر القدوری، جلد 1، صفحہ 353، مکتبہ رحمانیہ)*
*سوال 86:*
کیا مرد رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف، جائے نماز میں کر سکتے ہیں ؟
*جواب:*
مرد رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف جائے نماز میں نہیں کر سکتے کیونکہ مردوں کے اعتکاف کے لئے مسجد شرط ہے.
*(ماخوذ از سنن ابی داؤد، جلد 2، صفحہ 333، مطبوعہ بیروت، فتاوی عالمگیری، کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس فی آداب المسجد، جلد 5، صفحہ 324، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 494، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 87:*
کیا کسی مسلمان میت کی طرف سے اعتکاف کیا جا سکتا ہے ؟
*جواب:*
اعتکاف کر کے اس کا ثواب کسی بھی مسلمان میت کو ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے.
*(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ، جلد 9، صفحہ 670، رضا فاؤنڈیشن لاہور، بہارِ شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 642، مکتبۃ المدینہ کراچی، نماز کے احکام، صفحہ 482، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 88:*
کیا عورت تین روزہ نفلی اعتکاف کر سکتی ہے ؟
*جواب:*
جی ہاں! عورت مسجدِ بیت میں تین روزہ نفلی اعتکاف کر سکتی ہے.
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بدائع الصنائع، کتاب الاعتکاف، جلد 2، صفحہ 280، 281، 282، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*🌺قسط نہم (9)- سوال 81 تا 90🌺*
*سوال 81:*
اگر کوئی عورت کمرے کے اندر مسجدِ بیت میں اعتکاف بیٹھی ہو تو کیا وہ گرمی کی وجہ سے رات کو سونے کے لئے مسجدِ بیت سے باہر آ سکتی ہے ؟
*جواب:*
اگر کوئی عورت کمرے کے اندر مسجدِ بیت میں اعتکاف بیٹھی ہو تو وہ گرمی کی وجہ سے رات کو سونے کے لئے مسجدِ بیت سے باہر نہیں آ سکتی، اگر آئے گی تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا کیونکہ عورت کو مسجدِ بیت سے صرف حاجتِ طبعی (یعنی پیشاب، پاخانہ، وضو اور فرض غسل) کی وجہ سے نکلنے کی اجازت ہے اور گرمی کی وجہ سے مسجدِ بیت سے باہر نکلنا حاجتِ طبعی میں داخل نہیں ہے.
*(ماخوذ از فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 500، 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، احکامِ تروایح و اعتکاف، صفحہ 191)*
*سوال 82:*
کیا عورت اعتکاف میں کپڑے تبدیل کر سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت اعتکاف کے دوران مسجدِ بیت میں کپڑے تبدیل کر سکتی ہے .
*(ماخوذ از فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 272، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 83:*
کیا عورت ایک جگہ اعتکاف میں بیٹھنے کے بعد اعتکاف کی جگہ کو (یعنی مسجدِ بیت کو) تبدیل کر سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت ایک جگہ اعتکاف میں بیٹھ جانے کے بعد اعتکاف کی جگہ کو (یعنی مسجدِ بیت کو) تبدیل نہیں کر سکتی، اگر تبدیل کرے گی تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.
*(ماخوذ از فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فیضانِ رمضان مرمم، 290، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 84:*
اگر غسل خانے، فنائے مسجد میں نہ ہوں بلکہ مسجد کے احاطہ سے باہر ہوں تو کیا معتکف وہاں پر کپڑے تبدیل کرنے کے لئے جا سکتا ہے ؟
*جواب:*
اگر غسل خانے، فنائے مسجد میں نہ ہوں بلکہ مسجد کے احاطہ سے باہر ہوں تو معتکف وہاں پر کپڑے تبدیل کرنے کے لئے نہیں جا سکتا کیونکہ کپڑے تبدیل کرنا حاجتِ طبعی و حاجتِ شرعی میں داخل نہیں ہے، اس لئے مسجد میں چادر کے ذریعے پردہ کر کے کپڑے تبدیل کر لے.
اگر معتکف مسجد سے باہر کپڑے تبدیل کرنے کے لیے نکلا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.
*(ماخوذ از فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 500، 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 85:*
اگر کوئی معتکف کسی ایسی بستی یا گاؤں میں اعتکاف بیٹھا ہو کہ جہاں جمعہ کی نماز نہ ہوتی ہو تو کیا وہ جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے بستی یا گاؤں سے باہر شہر میں جا سکتا ہے ؟
*جواب:*
اگر کوئی معتکف کسی ایسی بستی یا گاؤں میں اعتکاف بیٹھا ہو کہ جہاں جمعہ کی نماز نہ ہوتی ہو تو وہ جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے بستی یا گاؤں سے باہر شہر میں نہیں جا سکتا کیونکہ اس پر جمعہ کی نماز فرض ہی نہیں، لہٰذا ایسی صورت میں اگر وہ نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لئے شہر گیا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.
*(ماخوذ از ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، الجوھرۃالنیرۃ شرح مختصر القدوری، جلد 1، صفحہ 353، مکتبہ رحمانیہ)*
*سوال 86:*
کیا مرد رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف، جائے نماز میں کر سکتے ہیں ؟
*جواب:*
مرد رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف جائے نماز میں نہیں کر سکتے کیونکہ مردوں کے اعتکاف کے لئے مسجد شرط ہے.
*(ماخوذ از سنن ابی داؤد، جلد 2، صفحہ 333، مطبوعہ بیروت، فتاوی عالمگیری، کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس فی آداب المسجد، جلد 5، صفحہ 324، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 494، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 87:*
کیا کسی مسلمان میت کی طرف سے اعتکاف کیا جا سکتا ہے ؟
*جواب:*
اعتکاف کر کے اس کا ثواب کسی بھی مسلمان میت کو ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے.
*(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ، جلد 9، صفحہ 670، رضا فاؤنڈیشن لاہور، بہارِ شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 642، مکتبۃ المدینہ کراچی، نماز کے احکام، صفحہ 482، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 88:*
کیا عورت تین روزہ نفلی اعتکاف کر سکتی ہے ؟
*جواب:*
جی ہاں! عورت مسجدِ بیت میں تین روزہ نفلی اعتکاف کر سکتی ہے.
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بدائع الصنائع، کتاب الاعتکاف، جلد 2، صفحہ 280، 281، 282، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
👍3❤1
*سوال 89:*
اگر بیوی گھر کے اندر مسجدِ بیت میں اعتکاف میں بیٹھی ہو تو کیا شوہر اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکتا ہے ؟
*جواب:*
اگر بیوی گھر کے اندر مسجدِ بیت میں اعتکاف میں بیٹھی ہو تو شوہر اس کے ساتھ مسجدِ بیت میں بیٹھ کر کھانا کھا سکتا ہے جبکہ دونوں کو اپنے نفس پر کنٹرول ہو کہ وہ ہمبستری اور ہمبستری کی طرف لے جانے والے کاموں سے بچیں گے.
*(بہارشریعت، جلد 1، حصہ پنجم، صفحہ 1025، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 90:*
کیا معتکف مسجد میں کنگھی کر سکتا ہے ؟
*جواب:*
معتکف مسجد میں کنگھی کر سکتا ہے بشرطیکہ کوئی بال مسجد میں نہ گرے، لہٰذا کنگھی کرنے سے پہلے مسجد میں چادر بچھا لینی چاہیے بلکہ زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ فنائے مسجد میں وضو خانہ پر اپنی چادر بچھا کر کنگھی کرنی چاہیے.
*(فیضان رمضان مرمم، صفحہ 272، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
19/05/20120
03068209672
اگر بیوی گھر کے اندر مسجدِ بیت میں اعتکاف میں بیٹھی ہو تو کیا شوہر اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکتا ہے ؟
*جواب:*
اگر بیوی گھر کے اندر مسجدِ بیت میں اعتکاف میں بیٹھی ہو تو شوہر اس کے ساتھ مسجدِ بیت میں بیٹھ کر کھانا کھا سکتا ہے جبکہ دونوں کو اپنے نفس پر کنٹرول ہو کہ وہ ہمبستری اور ہمبستری کی طرف لے جانے والے کاموں سے بچیں گے.
*(بہارشریعت، جلد 1، حصہ پنجم، صفحہ 1025، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 90:*
کیا معتکف مسجد میں کنگھی کر سکتا ہے ؟
*جواب:*
معتکف مسجد میں کنگھی کر سکتا ہے بشرطیکہ کوئی بال مسجد میں نہ گرے، لہٰذا کنگھی کرنے سے پہلے مسجد میں چادر بچھا لینی چاہیے بلکہ زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ فنائے مسجد میں وضو خانہ پر اپنی چادر بچھا کر کنگھی کرنی چاہیے.
*(فیضان رمضان مرمم، صفحہ 272، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
19/05/20120
03068209672
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
*🌹اعتکاف کے مسائل اور ان کا حل 🌹*
*🌺قسط دہم (10)- سوال 91 تا 100🌺*
*سوال 91:*
اگر معتکف فنائے مسجد میں دنیوی باتیں کرے تو کیا اس کا اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے ؟
*جواب:*
اگر معتکف فنائے مسجد میں دنیوی باتیں کرے تو اُس کا اعتکاف نہیں ٹوٹتا.
*(فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 453، رضا فاؤنڈیشن لاہور، فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 399، مکتبہ رضویہ کراچی، فتاوی عبیدیہ، جلد 1، صفحہ 347، ناشر تعلیم الاسلام فاؤنڈیشن پاکستان)*
*سوال 92:*
کیا عورت اپنے گھر کے علاوہ کسی اور کے گھر میں اعتکاف کر سکتی ہے؟
*جواب:*
عورت اپنے گھر کے علاوہ کسی اور کے گھر میں اعتکاف نہیں کر سکتی بلکہ اپنے گھر کی مسجدِ بیت میں اعتکاف کرے گی.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 289، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 93:*
کیا گھر کی دیگر عورتیں، معتکفہ (یعنی اعتکاف میں بیٹھنے والی عورت) کے پاس مسجدِ بیت میں جا سکتی ہیں ؟
*جواب:*
ضرورت کے وقت گھر کی دیگر عورتیں مُعْتَکِفَہ (یعنی اعتکاف میں بیٹھنے والی عورت) کے پاس مسجدِ بیت میں جا سکتی ہیں اور ضروری گفتگو بھی کر سکتی ہیں، اس سے معتکفہ کے اعتکاف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن معتکفہ کا بلاضرورت فضول گفتگو کرنا اعتکاف کے مقاصد کے خلاف ہے.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 291، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 94:*
اگر کسی مرد کا اعتکاف ٹوٹ جائے تو اس کی قضا کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟
*جواب:*
اگر کسی مرد کا اعتکاف ٹوٹ جائے تو اس کی قضا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ غروبِ آفتاب سے چند منٹ پہلے اعتکاف کی قضا کی نیت سے کسی مسجد میں آ جائے اور اگلے دن کے غروبِ آفتاب تک اعتکاف گاہ میں رہے اور اس میں روزہ بھی رکھنا ہوگا.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 290، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 95:*
معتکف کے لئے مسجد میں داڑھی کا خط بنوانا اور زلفیں تراشنا کیسا ہے ؟
*جواب:*
معتکف کے لئے داڑھی کا خط بنوانا اور زلفیں تراشنا جائز ہے مگر اس کے لئے یہ احتیاط ضروری ہے کہ کوئی بال مسجد میں نہ گرے اور اس کی آسان صورت یہ ہے کہ یہ کام وضوخانہ یا فنائے مسجد میں اپنی چادر بچھا کر کیا جائے.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 272، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 96:*
اگر اعتکاف والی مسجد میں جمعہ ہوتا ہوں تو کیا معتکف دوسری مسجد میں جمعہ پڑھانے کے لئے جا سکتا ہے ؟
*جواب:*
معتکف جس مسجد میں اعتکاف کر رہا ہے، اگر وہاں پر جمعہ اپنی تمام شرائط کے ساتھ ادا ہو رہا ہو تو اسے جمعہ پڑھانے کے لئے دوسری مسجد میں جانا جائز نہیں ہے، اگر جائے گا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.
*(فتاوی فیض رسول، جلد 1، صفحہ 534، شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 97:*
کیا معتکف مسجد کی چھت پر چڑھ سکتا ہے؟
*جواب:*
اگر مسجد کی چھت پر جانے والی سیڑھیاں مسجد کے احاطے کے اندر ہوں تو پھر معتکف مسجد کی چھت پر چڑھ سکتا ہے، اِس سے اُس کا اعتکاف نہیں ٹوٹے گا اور اگر چھت پر جانے والی سیڑھیاں مسجد کے احاطہ سے باہر ہوں تو پھر معتکف کے لئے مسجد کی چھت پر چڑھنا جائز نہیں ہے، اگر چڑھے گا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا
*نوٹ:*
معتکف ہو یا غیر معتکف، دونوں کے لئے مسجد کی چھت پر بلا ضرورت چڑھنا مکروہ اور بے ادبی ہے.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الصلوة، باب ما یفسد الصلوۃ۔۔۔الخ، مطلب فی احکام المسجد، جلد 2، صفحہ 516، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فیضان رمضان مرمم، صفحہ 265، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 98:*
رمضان المبارک میں اعتکاف کرنے کا سب سے بڑا مقصد کیا ہے ؟
*جواب:*
رمضان المبارک میں اعتکاف کرنے کا سب سے بڑا مقصد شبِ قدر کو تلاش کرنا ہے اور راجِح (یعنی غالب) یہی ہے کہ شبِ قدر رمضان المبارک کے آخری دس دنوں کی طاق راتوں میں ہوتی ہے.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 232، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 99:*
اگر کسی کو گندہ دَہَن (یعنی جس کو منہ سے بدبو آنے کی بیماری) یا گندہ بَغَل (یعنی جس کے بغل سے بدبو آنے کی بیماری) ہو اُسے مسجد میں اعتکاف بیٹھنا کیسا ہے ؟
*جواب:*
جس کو گندہ دَہَن یا گندہ بَغَل کی بیماری ہو تو اس کو مسجد کے اندر داخل ہونا منع ہوتا ہے، لہٰذا ایسا شخص مسجد میں اعتکاف نہیں بیٹھ سکتا.
*(فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 72، رضا فاؤنڈیشن لاہور، فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 249، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 100:*
اگر معتکف کا بہت ہی قریبی رشتہ دار فوت ہو جائے تو کیا معتکف اس کے جنازے کے لئے جا سکتا ہے ؟
*جواب:*
اگر معتکف کا بہت ہی قریبی رشتہ دار فوت ہو جائے تو معتکف اس کے جنازہ کے لئے جا سکتا ہے اور جانے کی وجہ سے گناہ گار بھی نہیں ہوگا لیکن جنازے میں جانے کے لئے مسجد سے باہر نکلتے ہی اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا، جس کی وجہ سے بعد میں ایک دن کے اعتکاف کی قَضا کرنی ہوگی.
*(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، جلد 2، صفحہ 378، المکتبۃ الغوثیہ)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
23/05/2020
03068209672
*🌺قسط دہم (10)- سوال 91 تا 100🌺*
*سوال 91:*
اگر معتکف فنائے مسجد میں دنیوی باتیں کرے تو کیا اس کا اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے ؟
*جواب:*
اگر معتکف فنائے مسجد میں دنیوی باتیں کرے تو اُس کا اعتکاف نہیں ٹوٹتا.
*(فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 453، رضا فاؤنڈیشن لاہور، فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 399، مکتبہ رضویہ کراچی، فتاوی عبیدیہ، جلد 1، صفحہ 347، ناشر تعلیم الاسلام فاؤنڈیشن پاکستان)*
*سوال 92:*
کیا عورت اپنے گھر کے علاوہ کسی اور کے گھر میں اعتکاف کر سکتی ہے؟
*جواب:*
عورت اپنے گھر کے علاوہ کسی اور کے گھر میں اعتکاف نہیں کر سکتی بلکہ اپنے گھر کی مسجدِ بیت میں اعتکاف کرے گی.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 289، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 93:*
کیا گھر کی دیگر عورتیں، معتکفہ (یعنی اعتکاف میں بیٹھنے والی عورت) کے پاس مسجدِ بیت میں جا سکتی ہیں ؟
*جواب:*
ضرورت کے وقت گھر کی دیگر عورتیں مُعْتَکِفَہ (یعنی اعتکاف میں بیٹھنے والی عورت) کے پاس مسجدِ بیت میں جا سکتی ہیں اور ضروری گفتگو بھی کر سکتی ہیں، اس سے معتکفہ کے اعتکاف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن معتکفہ کا بلاضرورت فضول گفتگو کرنا اعتکاف کے مقاصد کے خلاف ہے.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 291، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 94:*
اگر کسی مرد کا اعتکاف ٹوٹ جائے تو اس کی قضا کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟
*جواب:*
اگر کسی مرد کا اعتکاف ٹوٹ جائے تو اس کی قضا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ غروبِ آفتاب سے چند منٹ پہلے اعتکاف کی قضا کی نیت سے کسی مسجد میں آ جائے اور اگلے دن کے غروبِ آفتاب تک اعتکاف گاہ میں رہے اور اس میں روزہ بھی رکھنا ہوگا.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 290، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 95:*
معتکف کے لئے مسجد میں داڑھی کا خط بنوانا اور زلفیں تراشنا کیسا ہے ؟
*جواب:*
معتکف کے لئے داڑھی کا خط بنوانا اور زلفیں تراشنا جائز ہے مگر اس کے لئے یہ احتیاط ضروری ہے کہ کوئی بال مسجد میں نہ گرے اور اس کی آسان صورت یہ ہے کہ یہ کام وضوخانہ یا فنائے مسجد میں اپنی چادر بچھا کر کیا جائے.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 272، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 96:*
اگر اعتکاف والی مسجد میں جمعہ ہوتا ہوں تو کیا معتکف دوسری مسجد میں جمعہ پڑھانے کے لئے جا سکتا ہے ؟
*جواب:*
معتکف جس مسجد میں اعتکاف کر رہا ہے، اگر وہاں پر جمعہ اپنی تمام شرائط کے ساتھ ادا ہو رہا ہو تو اسے جمعہ پڑھانے کے لئے دوسری مسجد میں جانا جائز نہیں ہے، اگر جائے گا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.
*(فتاوی فیض رسول، جلد 1، صفحہ 534، شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 97:*
کیا معتکف مسجد کی چھت پر چڑھ سکتا ہے؟
*جواب:*
اگر مسجد کی چھت پر جانے والی سیڑھیاں مسجد کے احاطے کے اندر ہوں تو پھر معتکف مسجد کی چھت پر چڑھ سکتا ہے، اِس سے اُس کا اعتکاف نہیں ٹوٹے گا اور اگر چھت پر جانے والی سیڑھیاں مسجد کے احاطہ سے باہر ہوں تو پھر معتکف کے لئے مسجد کی چھت پر چڑھنا جائز نہیں ہے، اگر چڑھے گا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا
*نوٹ:*
معتکف ہو یا غیر معتکف، دونوں کے لئے مسجد کی چھت پر بلا ضرورت چڑھنا مکروہ اور بے ادبی ہے.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الصلوة، باب ما یفسد الصلوۃ۔۔۔الخ، مطلب فی احکام المسجد، جلد 2، صفحہ 516، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فیضان رمضان مرمم، صفحہ 265، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 98:*
رمضان المبارک میں اعتکاف کرنے کا سب سے بڑا مقصد کیا ہے ؟
*جواب:*
رمضان المبارک میں اعتکاف کرنے کا سب سے بڑا مقصد شبِ قدر کو تلاش کرنا ہے اور راجِح (یعنی غالب) یہی ہے کہ شبِ قدر رمضان المبارک کے آخری دس دنوں کی طاق راتوں میں ہوتی ہے.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 232، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 99:*
اگر کسی کو گندہ دَہَن (یعنی جس کو منہ سے بدبو آنے کی بیماری) یا گندہ بَغَل (یعنی جس کے بغل سے بدبو آنے کی بیماری) ہو اُسے مسجد میں اعتکاف بیٹھنا کیسا ہے ؟
*جواب:*
جس کو گندہ دَہَن یا گندہ بَغَل کی بیماری ہو تو اس کو مسجد کے اندر داخل ہونا منع ہوتا ہے، لہٰذا ایسا شخص مسجد میں اعتکاف نہیں بیٹھ سکتا.
*(فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 72، رضا فاؤنڈیشن لاہور، فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 249، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 100:*
اگر معتکف کا بہت ہی قریبی رشتہ دار فوت ہو جائے تو کیا معتکف اس کے جنازے کے لئے جا سکتا ہے ؟
*جواب:*
اگر معتکف کا بہت ہی قریبی رشتہ دار فوت ہو جائے تو معتکف اس کے جنازہ کے لئے جا سکتا ہے اور جانے کی وجہ سے گناہ گار بھی نہیں ہوگا لیکن جنازے میں جانے کے لئے مسجد سے باہر نکلتے ہی اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا، جس کی وجہ سے بعد میں ایک دن کے اعتکاف کی قَضا کرنی ہوگی.
*(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، جلد 2، صفحہ 378، المکتبۃ الغوثیہ)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
23/05/2020
03068209672
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
*🌹اعتکاف کے مسائل اور ان کا حل🌹*
*🌺قسط گیارہ(11)- سوال 101 تا 110🌺*
*سوال 101:*
جب عورت پورے کمرے کو مسجدِ بیت قرار دے سکتی ہے تو اگر اس کمرے میں اٹیچ باتھ روم ہو تو کیا وہ عورت دورانِ سنتِ اعتکاف اٹیچ باتھ میں گرمی کا غسل کر سکتی ہے؟
*جواب :*
اگرچہ پورے کمرے کو مسجد بیت بنایا جا سکتا ہے لیکن عورت دورانِ سنتِ اعتکاف اٹیچ باتھ میں گرمی کا غسل نہیں کر سکتی، اگر کرے گی تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا، کیونکہ عورت کو مسجدِ بیت سے صرف حاجتِ طبعی (یعنی پیشاب، پاخانہ، وضو اور فرض غسل) کی وجہ سے نکلنے کی اجازت ہے اور گرمی کا غسل حاجتِ طبعی میں داخل نہیں ہے.
*(ماخوذ از فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 500، 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، احکامِ تروایح و اعتکاف، صفحہ 191، فتاوی اہلسنت، احکامِ روزہ و اعتکاف، صفحہ 27، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 102:*
اگر اٹیچ باتھ کو بھی مسجدِ بیت قرار دیدے تو کیا پھر اس میں گرمی کا غسل کر سکتی ہے؟
*جواب :*
اٹیچ باتھ کو مسجدِ بیت کیسے قرار دے سکتی ہے جبکہ مسجدِ بیت نماز کے لئے خاص کی گئی جگہ کو کہتے ہیں اور یہ بات اَظْہَرْ مِنَ الشَّمْسِ (یعنی سورج سے زیادہ ظاہر) ہے کہ اٹیچ باتھ کو نماز کے لئے خاص نہیں کیا جاتا اور جب اعتکاف کرنے والی عورت گرمی کا غسل کرنے کے لئے اٹیچ باتھ میں جائے گی تو اس کا مسجدِ بیت سے حاجتِ طبعی کے بغیر نکلنا پایا جائے گا، لہٰذا گرمی کا غسل کرنے کے لئے اٹیچ باتھ میں جانے سے اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
*(ماخوذ از فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 500، 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، احکامِ تروایح و اعتکاف، صفحہ 191، فتاوی اہلسنت، احکامِ روزہ و اعتکاف، صفحہ 27، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ :*
جس طرح مسجد کے لئے فناءِ مسجد کا وجود ہوتا ہے، اسی طرح مسجدِ بیت کے لئے فنا کا کوئی وجود و تصور نہیں ہوتا ہے۔
*(از مفتی فضیل صاحب مدظلہ العالی، تاریخِ اجراء : 06 شعبان المعظم 1437ھ/14مئی2016ء، دَارُالاِفْتَاء اَہْلسُنَّت، دعوت اسلامی)*
*سوال 103:*
کیا عورت دورانِ اعتکاف مسجدِ بیت میں اپنے نابالغ بچے کو اپنے ساتھ رکھ سکتی ہے ؟
*جواب :*
جی ہاں! عورت دورانِ اعتکاف مسجدِ بیت میں اپنے نابالغ بچے کو اپنے ساتھ رکھ سکتی ہے.
*(ماخوذ از فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 291، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 104:*
کیا عورت دورانِ اعتکاف سکائپ وغیرہ کے ذریعہ ہونے والے کورس میں تلاوت کر سکتی ہے ؟
*جواب :*
جی ہاں! عورت دورانِ اعتکاف مسجدِ بیت میں سکائپ وغیرہ کے ذریعہ ہونے والے کورس میں تلاوت کر سکتی ہے۔
*(ماخوذ از فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 291، مکتبۃ المدینہ کراچی، فتاوی عبیدیہ، جلد 1، صفحہ 348، 349، ناشر تعلیم الاسلام فاؤنڈیشن پاکستان)*
*سوال 105:*
اگر کوئی عورت درسِ نظامی فون کے ذریعے پڑھاتی ہو تو کیا وہ دورانِ اعتکاف فون کے ذریعے پڑھا سکتی ہے ؟
*جواب :*
جی ہاں! عورت دورانِ اعتکاف مسجدِ بیت میں فون کے ذریعہ درسِ نظامی کی کلاس پڑھا سکتی ہے۔
*(ماخوذ از فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 291، مکتبۃ المدینہ کراچی، فتاوی عبیدیہ، جلد 1، صفحہ 348، 349، ناشر تعلیم الاسلام فاؤنڈیشن پاکستان)*
*سوال 106:*
جس دن سنت اعتکاف بیٹھنا ہو تو کیا اس دن کا روزہ رکھنا بھی اعتکاف کے لئے ضروری ہے ؟
*جواب :*
جس دن سنت اعتکاف بیٹھنا ہو تو اس دن کا روزہ رکھنا اعتکاف کے لئے ضروری نہیں ہے کیونکہ روزہ سنتِ اعتکاف کے لئے شرط ہے اور اعتکاف غروبِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے جس کے لئے اگلے نو (9) یا دس (10) دنوں کے روزے ضروری ہوتے ہیں۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 496، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 107:*
کیا عورت دورانِ اعتکاف سکول کے بچوں کو تیس (30) منٹس کی اپنی ویڈیو بنا کر بھیج سکتی ہے جس میں وہ بچوں کا سبق بتاتی ہے ؟
*جواب :*
جی ہاں! عورت دورانِ اعتکاف سکول کے بچوں کو سبق سکھانے کے لئے تیس (30) منٹس کی اپنی ویڈیو بنا کر بھیج سکتی ہے۔
*(ماخوذ از فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 291، مکتبۃ المدینہ کراچی، فتاوی عبیدیہ، جلد 1، صفحہ 348، 349، ناشر تعلیم الاسلام فاؤنڈیشن پاکستان)*
*سوال 108:*
رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف چونکہ سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہوتا ہے تو کیا عورت کے مسجدِ بیت میں اعتکاف بیٹھنے سے پورا گاؤں برئ الذمہ ہو جاۓ گا ؟
*🌺قسط گیارہ(11)- سوال 101 تا 110🌺*
*سوال 101:*
جب عورت پورے کمرے کو مسجدِ بیت قرار دے سکتی ہے تو اگر اس کمرے میں اٹیچ باتھ روم ہو تو کیا وہ عورت دورانِ سنتِ اعتکاف اٹیچ باتھ میں گرمی کا غسل کر سکتی ہے؟
*جواب :*
اگرچہ پورے کمرے کو مسجد بیت بنایا جا سکتا ہے لیکن عورت دورانِ سنتِ اعتکاف اٹیچ باتھ میں گرمی کا غسل نہیں کر سکتی، اگر کرے گی تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا، کیونکہ عورت کو مسجدِ بیت سے صرف حاجتِ طبعی (یعنی پیشاب، پاخانہ، وضو اور فرض غسل) کی وجہ سے نکلنے کی اجازت ہے اور گرمی کا غسل حاجتِ طبعی میں داخل نہیں ہے.
*(ماخوذ از فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 500، 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، احکامِ تروایح و اعتکاف، صفحہ 191، فتاوی اہلسنت، احکامِ روزہ و اعتکاف، صفحہ 27، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 102:*
اگر اٹیچ باتھ کو بھی مسجدِ بیت قرار دیدے تو کیا پھر اس میں گرمی کا غسل کر سکتی ہے؟
*جواب :*
اٹیچ باتھ کو مسجدِ بیت کیسے قرار دے سکتی ہے جبکہ مسجدِ بیت نماز کے لئے خاص کی گئی جگہ کو کہتے ہیں اور یہ بات اَظْہَرْ مِنَ الشَّمْسِ (یعنی سورج سے زیادہ ظاہر) ہے کہ اٹیچ باتھ کو نماز کے لئے خاص نہیں کیا جاتا اور جب اعتکاف کرنے والی عورت گرمی کا غسل کرنے کے لئے اٹیچ باتھ میں جائے گی تو اس کا مسجدِ بیت سے حاجتِ طبعی کے بغیر نکلنا پایا جائے گا، لہٰذا گرمی کا غسل کرنے کے لئے اٹیچ باتھ میں جانے سے اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
*(ماخوذ از فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 500، 501، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، احکامِ تروایح و اعتکاف، صفحہ 191، فتاوی اہلسنت، احکامِ روزہ و اعتکاف، صفحہ 27، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ :*
جس طرح مسجد کے لئے فناءِ مسجد کا وجود ہوتا ہے، اسی طرح مسجدِ بیت کے لئے فنا کا کوئی وجود و تصور نہیں ہوتا ہے۔
*(از مفتی فضیل صاحب مدظلہ العالی، تاریخِ اجراء : 06 شعبان المعظم 1437ھ/14مئی2016ء، دَارُالاِفْتَاء اَہْلسُنَّت، دعوت اسلامی)*
*سوال 103:*
کیا عورت دورانِ اعتکاف مسجدِ بیت میں اپنے نابالغ بچے کو اپنے ساتھ رکھ سکتی ہے ؟
*جواب :*
جی ہاں! عورت دورانِ اعتکاف مسجدِ بیت میں اپنے نابالغ بچے کو اپنے ساتھ رکھ سکتی ہے.
*(ماخوذ از فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 291، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 104:*
کیا عورت دورانِ اعتکاف سکائپ وغیرہ کے ذریعہ ہونے والے کورس میں تلاوت کر سکتی ہے ؟
*جواب :*
جی ہاں! عورت دورانِ اعتکاف مسجدِ بیت میں سکائپ وغیرہ کے ذریعہ ہونے والے کورس میں تلاوت کر سکتی ہے۔
*(ماخوذ از فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 291، مکتبۃ المدینہ کراچی، فتاوی عبیدیہ، جلد 1، صفحہ 348، 349، ناشر تعلیم الاسلام فاؤنڈیشن پاکستان)*
*سوال 105:*
اگر کوئی عورت درسِ نظامی فون کے ذریعے پڑھاتی ہو تو کیا وہ دورانِ اعتکاف فون کے ذریعے پڑھا سکتی ہے ؟
*جواب :*
جی ہاں! عورت دورانِ اعتکاف مسجدِ بیت میں فون کے ذریعہ درسِ نظامی کی کلاس پڑھا سکتی ہے۔
*(ماخوذ از فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 291، مکتبۃ المدینہ کراچی، فتاوی عبیدیہ، جلد 1، صفحہ 348، 349، ناشر تعلیم الاسلام فاؤنڈیشن پاکستان)*
*سوال 106:*
جس دن سنت اعتکاف بیٹھنا ہو تو کیا اس دن کا روزہ رکھنا بھی اعتکاف کے لئے ضروری ہے ؟
*جواب :*
جس دن سنت اعتکاف بیٹھنا ہو تو اس دن کا روزہ رکھنا اعتکاف کے لئے ضروری نہیں ہے کیونکہ روزہ سنتِ اعتکاف کے لئے شرط ہے اور اعتکاف غروبِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے جس کے لئے اگلے نو (9) یا دس (10) دنوں کے روزے ضروری ہوتے ہیں۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 496، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 107:*
کیا عورت دورانِ اعتکاف سکول کے بچوں کو تیس (30) منٹس کی اپنی ویڈیو بنا کر بھیج سکتی ہے جس میں وہ بچوں کا سبق بتاتی ہے ؟
*جواب :*
جی ہاں! عورت دورانِ اعتکاف سکول کے بچوں کو سبق سکھانے کے لئے تیس (30) منٹس کی اپنی ویڈیو بنا کر بھیج سکتی ہے۔
*(ماخوذ از فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 291، مکتبۃ المدینہ کراچی، فتاوی عبیدیہ، جلد 1، صفحہ 348، 349، ناشر تعلیم الاسلام فاؤنڈیشن پاکستان)*
*سوال 108:*
رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف چونکہ سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہوتا ہے تو کیا عورت کے مسجدِ بیت میں اعتکاف بیٹھنے سے پورا گاؤں برئ الذمہ ہو جاۓ گا ؟
👍2❤1
*جواب :*
جی نہیں! اگر پورے گاؤں میں رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف صرف عورت ہی مسجدِ بیت میں بیٹھے اور کوئی مرد مسجد میں نہ بیٹھے تو عورت کے اعتکاف بیٹھنے سے پورا گاؤں برئ الذمہ نہیں ہو گا
بلکہ مسجد میں کسی ایک شخص کو بیٹھنا ہو گا۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 496، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 109:*
اگر کسی عورت کو لیکوریا کی بیماری ہو تو کیا وہ اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہے؟
*جواب :*
جی ہاں! اگر کسی عورت کو لیکوریا کی بیماری ہو تو وہ اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہے کیونکہ لیکوریا اعتکاف کے منافی (خلاف) نہیں ہے.
*(ماخوذ از ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 494، 495، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتاوی عبیدیہ، کتاب الطھارۃ، جلد 1، صفحہ 155 تا 163، ناشر تعلیم الاسلام فاؤنڈیشن پاکستان)*
*سوال 110:*
کیا عورت دورانِ اعتکاف فوتگی والے گھر میں میت کو دیکھنے کے لئے جا سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت دورانِ اعتکاف فوتگی والے گھر میں میت کو دیکھنے کے لئے نہیں جا سکتی، اگر جائے گی تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 212، مطبوعہ دارالفکر بیروت)*
*نوٹ :*
اگر قریبی رشتہ دار فوت ہوا ہو تو پھر جانے سے اگرچہ اعتکاف ٹوٹ جائے گا لیکن گناہگار نہیں ہوگی۔
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
06/05/2021
03068209672
جی نہیں! اگر پورے گاؤں میں رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف صرف عورت ہی مسجدِ بیت میں بیٹھے اور کوئی مرد مسجد میں نہ بیٹھے تو عورت کے اعتکاف بیٹھنے سے پورا گاؤں برئ الذمہ نہیں ہو گا
بلکہ مسجد میں کسی ایک شخص کو بیٹھنا ہو گا۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 496، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 109:*
اگر کسی عورت کو لیکوریا کی بیماری ہو تو کیا وہ اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہے؟
*جواب :*
جی ہاں! اگر کسی عورت کو لیکوریا کی بیماری ہو تو وہ اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہے کیونکہ لیکوریا اعتکاف کے منافی (خلاف) نہیں ہے.
*(ماخوذ از ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3، صفحہ 494، 495، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتاوی عبیدیہ، کتاب الطھارۃ، جلد 1، صفحہ 155 تا 163، ناشر تعلیم الاسلام فاؤنڈیشن پاکستان)*
*سوال 110:*
کیا عورت دورانِ اعتکاف فوتگی والے گھر میں میت کو دیکھنے کے لئے جا سکتی ہے ؟
*جواب:*
عورت دورانِ اعتکاف فوتگی والے گھر میں میت کو دیکھنے کے لئے نہیں جا سکتی، اگر جائے گی تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، جلد 1، صفحہ 212، مطبوعہ دارالفکر بیروت)*
*نوٹ :*
اگر قریبی رشتہ دار فوت ہوا ہو تو پھر جانے سے اگرچہ اعتکاف ٹوٹ جائے گا لیکن گناہگار نہیں ہوگی۔
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
06/05/2021
03068209672
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
*🌹صَدَقَۃُ الْفِطْر کے مسائل اور ان کا حل🌹*
*🌺قسط اول (1)- سوال 1 تا 10🌺*
*سوال 1:*
صدقۃ الفطر کا شرعی حکم کیا ہے ؟
*جواب:*
صدقۃ الفطر واجب ہے.
*(جامع ترمذی،ابواب الزکوۃ، باب ماجاء فی صدقۃ الفطر، جلد 2، صفحہ 151، رقم الحدیث : 674، دارالمعرفۃ بیروت)*
*نوٹ:*
صدقۃ الفطر کو فطرانہ اور فطرہ بھی کہتے ہیں.
*سوال 2:*
صدقہ فطر مقرر کرنے کی کیا حکمتیں ہیں ؟
*جواب:*
صدقۃ الفطر مقرر کرنے کی دو حکمتیں ہیں :
1- فضول اور بےہودہ کلام سے روزوں کی طہارت ہو جائے.
2- مساکین کو روزی اور خوراک حاصل ہو جائے.
*(سنن ابو داؤد، کتاب الزکوۃ، باب زکوۃ الفطر، جلد 2، صفحہ 157، رقم الحدیث : 1609، دار احیاء التراث العربی بیروت)*
*سوال 3:*
صَدَقَۃُ الْفِطْر کِن پر واجب ہوتا ہے ؟
*جواب:*
صَدَقۃُالفطر اُن تمام مسلمانوں پر واجب ہوتا ہے، جو صاحبِ نِصاب ہوں اور ان کا نصاب، حاجَتِ اَصْلِیَّہ (یعنی ضروریاتِ زندگی جیسے رہنے کا مکان، خانہ داری کا سامان وغیرہ) سے فارغ ہو.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 191، مطبوعہ دارالفکر بیروت، فیضان رمضان مرمم، صفحہ 313، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 4:*
صاحبِ نصاب کسے کہتے ہیں ؟
*جواب:*
جس کے پاس ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے باون تولے چاندی کی رقم یا اتنی مالیت کا مالِ تجارت ہو (اور یہ سب حاجتِ اصلیہ کے علاوہ ہوں) یا اتنی مالیت کا حاجتِ اصلیہ کے علاوہ سامان ہو تو اس کو صاحبِ نصاب کہا جاتا ہے.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 313، 314، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ:*
صاحبِ نصاب کو مالِکِ نصاب بھی کہا جاتا ہے.
*سوال 5:*
کیا نابالغ بچے اور پاگل پر بھی صدقۃ الفطر واجب ہوتا ہے ؟
*جواب:*
صدقہ فطر واجب ہونے کے لئے عاقِل اور بالِغ ہونا شرط نہیں ہے، لہٰذا اگر چھوٹے بچے اور پاگل (پاگل چاہے بالغ ہوں یا نابالغ) صاحبِ نصاب ہوں، تو اُن کا وَلی (یعنی سرپرست) ان کے مال میں سے ادا کرے گا اور اگر وہ صاحبِ نصاب نہ ہوں تو پھر ان کے سرپرست پر واجب ہے کہ ان کی طرف سے صدقۃُ الفطر اپنے مال میں سے ادا کرے۔
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 192، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، جلد 3، صفحہ 365، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فیضان رمضان مرمم، صفحہ 314، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 6:*
کیا صاحبِ نصاب شوہر پر اپنی بیوی کا صدقۃ الفطر (فطرانہ) واجب ہوتا ہے ؟
*جواب:*
صاحبِ نصاب شوہر پر اپنی بیوی کا صدقۃ الفطر (فطرانہ) واجب نہیں ہوتا.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 193، مطبوعہ دارالفکر بیروت)*
*سوال 7:*
کیا صاحبِ نصاب مرد پر اپنے والدین، چھوٹے بھائی، بہن اور دیگر رشتہ داروں کا صدقۃ الفطر واجب ہوتا ہے؟
*جواب:*
صاحبِ نصاب مرد پر اپنے والِدَیْن، چھوٹے بہن، بھائی اور دیگر رشتہ داروں کا صدقۃ الفطر واجب نہیں ہوتا.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 193، مطبوعہ دارالفکر بیروت)*
*سوال 8:*
کیا والد پر اپنی عاقل، بالغ اولاد کا صدقۃ الفطر واجب ہوتا ہے ؟
*جواب:*
والد پر اپنی عاقل، بالغ اولاد کا صدقۃ الفطر واجب نہیں ہوتا.
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، جلد 3، صفحہ 370، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 9:*
کیا ماں پر اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے صدقۃ الفطر واجب ہوتا ہے ؟
*جواب:*
ماں پر اپنے چھوٹے نابالغ بچوں کا صدقۃ الفطر واجب نہیں ہوتا.
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، جلد 3، صفحہ 368، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 10:*
اگر کسی کے والد زندہ نہ ہوں بلکہ دادا زندہ ہوں تو کیا دادا پر اپنے چھوٹے نابالغ پوتے، پوتیوں کی طرف سے صدقۃ الفطر واجب ہوگا ؟
*جواب:*
اگر کسی کے والد زندہ نہ ہوں بلکہ دادا زندہ ہوں تو اگر اس کے چھوٹے نابالغ پوتے، پوتیاں صاحبِ نصاب ہوں تو دادا ان کی طرف سے ان کے مال میں سے صدقۃ الفطر ادا کرے گا اور اگر وہ صاحبِ نصاب نہ ہوں اور دادا صاحبِ نصاب ہو تو دادا پر ان کی طرف سے اپنے مال میں سے صدقۃ الفطر نکالنا واجب ہوگا.
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، جلد 3، صفحہ 368، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
15/05/2020
03068209672
*🌺قسط اول (1)- سوال 1 تا 10🌺*
*سوال 1:*
صدقۃ الفطر کا شرعی حکم کیا ہے ؟
*جواب:*
صدقۃ الفطر واجب ہے.
*(جامع ترمذی،ابواب الزکوۃ، باب ماجاء فی صدقۃ الفطر، جلد 2، صفحہ 151، رقم الحدیث : 674، دارالمعرفۃ بیروت)*
*نوٹ:*
صدقۃ الفطر کو فطرانہ اور فطرہ بھی کہتے ہیں.
*سوال 2:*
صدقہ فطر مقرر کرنے کی کیا حکمتیں ہیں ؟
*جواب:*
صدقۃ الفطر مقرر کرنے کی دو حکمتیں ہیں :
1- فضول اور بےہودہ کلام سے روزوں کی طہارت ہو جائے.
2- مساکین کو روزی اور خوراک حاصل ہو جائے.
*(سنن ابو داؤد، کتاب الزکوۃ، باب زکوۃ الفطر، جلد 2، صفحہ 157، رقم الحدیث : 1609، دار احیاء التراث العربی بیروت)*
*سوال 3:*
صَدَقَۃُ الْفِطْر کِن پر واجب ہوتا ہے ؟
*جواب:*
صَدَقۃُالفطر اُن تمام مسلمانوں پر واجب ہوتا ہے، جو صاحبِ نِصاب ہوں اور ان کا نصاب، حاجَتِ اَصْلِیَّہ (یعنی ضروریاتِ زندگی جیسے رہنے کا مکان، خانہ داری کا سامان وغیرہ) سے فارغ ہو.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 191، مطبوعہ دارالفکر بیروت، فیضان رمضان مرمم، صفحہ 313، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 4:*
صاحبِ نصاب کسے کہتے ہیں ؟
*جواب:*
جس کے پاس ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے باون تولے چاندی کی رقم یا اتنی مالیت کا مالِ تجارت ہو (اور یہ سب حاجتِ اصلیہ کے علاوہ ہوں) یا اتنی مالیت کا حاجتِ اصلیہ کے علاوہ سامان ہو تو اس کو صاحبِ نصاب کہا جاتا ہے.
*(فیضانِ رمضان مرمم، صفحہ 313، 314، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ:*
صاحبِ نصاب کو مالِکِ نصاب بھی کہا جاتا ہے.
*سوال 5:*
کیا نابالغ بچے اور پاگل پر بھی صدقۃ الفطر واجب ہوتا ہے ؟
*جواب:*
صدقہ فطر واجب ہونے کے لئے عاقِل اور بالِغ ہونا شرط نہیں ہے، لہٰذا اگر چھوٹے بچے اور پاگل (پاگل چاہے بالغ ہوں یا نابالغ) صاحبِ نصاب ہوں، تو اُن کا وَلی (یعنی سرپرست) ان کے مال میں سے ادا کرے گا اور اگر وہ صاحبِ نصاب نہ ہوں تو پھر ان کے سرپرست پر واجب ہے کہ ان کی طرف سے صدقۃُ الفطر اپنے مال میں سے ادا کرے۔
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 192، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، جلد 3، صفحہ 365، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فیضان رمضان مرمم، صفحہ 314، مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 6:*
کیا صاحبِ نصاب شوہر پر اپنی بیوی کا صدقۃ الفطر (فطرانہ) واجب ہوتا ہے ؟
*جواب:*
صاحبِ نصاب شوہر پر اپنی بیوی کا صدقۃ الفطر (فطرانہ) واجب نہیں ہوتا.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 193، مطبوعہ دارالفکر بیروت)*
*سوال 7:*
کیا صاحبِ نصاب مرد پر اپنے والدین، چھوٹے بھائی، بہن اور دیگر رشتہ داروں کا صدقۃ الفطر واجب ہوتا ہے؟
*جواب:*
صاحبِ نصاب مرد پر اپنے والِدَیْن، چھوٹے بہن، بھائی اور دیگر رشتہ داروں کا صدقۃ الفطر واجب نہیں ہوتا.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، جلد 1، صفحہ 193، مطبوعہ دارالفکر بیروت)*
*سوال 8:*
کیا والد پر اپنی عاقل، بالغ اولاد کا صدقۃ الفطر واجب ہوتا ہے ؟
*جواب:*
والد پر اپنی عاقل، بالغ اولاد کا صدقۃ الفطر واجب نہیں ہوتا.
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، جلد 3، صفحہ 370، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 9:*
کیا ماں پر اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے صدقۃ الفطر واجب ہوتا ہے ؟
*جواب:*
ماں پر اپنے چھوٹے نابالغ بچوں کا صدقۃ الفطر واجب نہیں ہوتا.
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، جلد 3، صفحہ 368، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 10:*
اگر کسی کے والد زندہ نہ ہوں بلکہ دادا زندہ ہوں تو کیا دادا پر اپنے چھوٹے نابالغ پوتے، پوتیوں کی طرف سے صدقۃ الفطر واجب ہوگا ؟
*جواب:*
اگر کسی کے والد زندہ نہ ہوں بلکہ دادا زندہ ہوں تو اگر اس کے چھوٹے نابالغ پوتے، پوتیاں صاحبِ نصاب ہوں تو دادا ان کی طرف سے ان کے مال میں سے صدقۃ الفطر ادا کرے گا اور اگر وہ صاحبِ نصاب نہ ہوں اور دادا صاحبِ نصاب ہو تو دادا پر ان کی طرف سے اپنے مال میں سے صدقۃ الفطر نکالنا واجب ہوگا.
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، جلد 3، صفحہ 368، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
15/05/2020
03068209672
❤1👍1