🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-09-1443 ᴴ | 20-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-09-1443 ᴴ | 21-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-09-1443 ᴴ | 21-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-09-1443 ᴴ | 21-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
Forwarded from ✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سوال : حلالہ کیا ہے ؟ اس کی وضاحت فرمائے ؟ مہربانی ہوگی ۔
سائل : محمد ساجد رضا اختری بریلی شریف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* شرعی طور پر جب تین طلاقیں ہو جائیں تو عورت مرد پر حرام ہو جاتی ہے اور بغیر حلالہ کے رجوع کی کوئی صورت نہیں ہوتی ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالی کا ارشاد ہے کہ " فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ " اھ یعنی پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے " اھ ( پ 2 سورۃ البقرہ آیت 230 ) اور حلالہ شرعیہ کی صورت یہ ہے کہ طلاق کی عدت پوری ہو جانے کے بعد وہ عورت کسی اور سے نکاح ِصحیح کرے اور دوسرے شوہر سے بعد از صحبت طلاق ہو جائے یا دوسرا شوہر فوت ہو جائے تو عورت عدت گزار کر پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے قرآن پاک میں ہے کہ " فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَا " اھ یعنی پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے ، تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں " اھ (پ 2 سورۃ البقرہ آیت 230 ) اور فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ میں ہے کہ " ان کان الطلاق ثلاثا لم تحل له حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایة " اھ یعنی اگر تین طلاقیں دی گئی ہوں تو اس کے لیے حلال نہیں ہو گی جب تک کہ کوئی دوسرا شوہر اس سے نکاح صحیح کے ساتھ صحبت نہ کرے اور دخول نہ کرے پھر وہ اس کو طلاق دے یا مر جائے " اھ ( فتاوی عالمگیری مع خانیہ ج 1 ص 473 ) اور فتاوی مصطفویہ میں ہے کہ " حلالہ محض نکاح کانام نہیں، حلالہ اس وقت تک نہ ہوگا جب تک دوسرا شوہر اس سے وطی نہ کرے " اھ ( فتاویٰ مصطفویہ صفحہ364 )

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
*🌹روزے کے مسائل اور ان کا حل🌹*
🌸قسط اوّل سوال1 تا 10🌸
*سوال1:*
کیا قے (الٹی) سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟
*جواب:*
قے (الٹی) کی صرف دو صورتیں ایسی ہیں، جن میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے باقی تمام صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹتا۔
قے کی جن صورتوں میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے وہ یہ ہیں :
1- روزہ یاد ہونے کے باوجود جان بوجھ کر قے کی مثلاً انگلی وغیرہ حلق میں ڈال کر قے کی اور وہ قے منہ بهر ہوئی تو روزہ ٹوٹ جائےگا بشرطیکہ قے کھانے، پانی یا بہتے خون وغیرہ کی ہو۔
2- بغیر اختیار کے منہ بھر قے آئی اور ایک چنے یا اس سے زیادہ مقدار میں واپس حلق سے نیچے واپس لوٹا دی تو روزہ ٹوٹ جائے گا.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لایفسدہ، جلد 3 صفحہ 450، 451، 452 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*فائدہ :*
جس قَے کو بغیر تَکَلُّف کے نہ روکا جا سکے اُسے "مُنہ بھَر قَے" کہتے ہیں.
*(فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ 11 دارالفکر بیروت)*
*سوال2:*
کیا روزے میں احتلام ہوجانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟
*جواب:*
روزے میں احتلام ہوجانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
*(ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لایفسدہ، جلد 3 صفحہ 421 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال3:*
اگر روزے کی حالت میں فرض غسل کرنا ہو تو کیا کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا منع ہے؟
*جواب :*
روزہ شروع ہونے سے پہلے غسل فرض ہو یا روزہ میں احتلام ہو جانے کی وجہ سے غسل فرض ہو تو روزہ کی حالت میں غسل کے تمام فرائض ادا کیے جائیں گے.
غسل میں کلی کرنا اور ناک میں نرم حصہ تک پانی پہنچانا اور تمام ظاہری بدن پر ایک مرتبہ پانی بہانا فرض ہے، ان فرائض کے بغیر نہ غسل اترے گا اور نہ نمازیں ہوں گی.
*(ماخوذ از ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الطھارۃ جلد 1 صفحہ 311، 312 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ وغیرہ)*
*سوال4:*
روزے میں فرض غسل کرنا ہو تو کیا غرغرہ کرسکتے ہیں؟
*جواب:*
روزہ ہو تو غرغرہ نہیں کریں گے اور عام دنوں میں بهی غرغرہ غسل کا فرض یا کلی کا حصہ نہیں بلکہ ایک جداگانہ سنت ہے وہ بهی اس وقت سنت ہے جب روزہ نہ ہو، کیونکہ روزے کی حالت میں غرغرہ مکروہ ہے.
*(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح جلد اول صفحہ 152 المکتبۃ الغوثیہ، الجوھرۃ النیرۃ شرح مختصر القدوری جلد اول صفحہ 30 مکتبہ رحمانیہ، نماز کے احکام صفحہ 102 مکتبۃ المدینہ کراچی )*
*سوال5:*
کیا روزے کی حالت میں مسواک کرسکتے ہیں ؟
*جواب :*
روزے کی حالت میں دن کے کسی بھی وقت مسواک کر سکتے ہے، اور اس سے اور دنوں کی طرح سنت کا ثواب بھی حاصل ہو گا البتہ اگر مسواک چبانے سے اس کے ریشے چھوٹتے ہوں یا مزہ محسوس ہو تو ایسی مسواک روزے کی حالت میں نہیں کرنی چاہیے.
*(البحرالرائق، کتاب الصوم، باب مایفسد الصوم و ما لایفسدہ جلد 2 صفحہ 411 مطبوعہ کوئٹہ، فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 511 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*سوال 6:*
کیا روزے کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ اور منجن کرسکتے ہیں؟
*جواب:*
روزے کی حالت میں ضرورتِ صحیحہ کے بغیر ٹوٹھ پیسٹ اور منجن وغیرہ کرنا مکروہِ تنزیہی ہے اور اگر اس کا کوئی جز حلق سے نیچے اتر گیا تو روزہ ہی ٹوٹ جائے گا, اس لیے روزے کی حالت میں ان کو استعمال کرنے سے بچنا چاہیے۔
*(ماخوذ از فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 551 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*سوال7:*
روزے کی حالت میں تیل لگانا اور زیرِ موئے ناف بنانا کیسا ہے؟
*جواب:*
روزے کی حالت میں تیل لگانا اور موئے زیر ناف بنانا جائز ہے, ان سے روزہ نہیں ٹوٹتا.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لایفسدہ، جلد 3 صفحہ 421 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ وغیرہ)*
*سوال8:*
کیا سرمہ لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟
*جواب :*
سرمہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لایفسدہ، جلد 3 صفحہ 421 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 9:*
کیا روزے کی حالت میں سرمے کی طرح کاجل بھی لگا سکتے ہیں ؟
*جواب:*
جی نہیں !
کاجل کا حکم سرمہ والا نہیں لہذا روزے کی حالت میں کاجل نہیں لگا سکتے.
*(دارالافتاء اہلسنت)*
*سوال 10:*
کیا روزے کیلیے سحری شرط ہے؟
*جواب:*
روزے کے لئے سحری شرط نہیں ہے ، سحری کے بغیر بھی روزہ ہوسکتا ہے مگر جان بوجھ کر سحری نہ کرنا اپنے آپ کو عظیم سنت سے محروم کرنا ہے۔
لہذا اگر سحری نہ کی اور رات میں روزے کی نیت کرلی تھی یا پهر زوال سے پہلے پہلے نیت کرلی تو روزہ ہوجائے گا لیکن سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد اور زوال سے پہلے نیت اُس وقت کرسکتے ہیں جب دو چیزیں پائی جائیں :
1- پہلی چیز یہ کہ روزہ بند ہونے کے بعد سے کوئی منافی روزہ کام مثلا کهانا پینا وغیرہ نہ کیا ہو.
2- دوسری چیز یہ کہ یوں نیت کرے کہ میں روزہ بند ہونے کے وقت سے روزے سے ہوں۔
*(ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لایفسدہ، جلد 3 صفحہ 393، 394 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*نوٹ :*
سحری میں خوب ڈٹ کر کھانا ہی ضروری نہیں، چند کھجوریں اور پانی ہی اگر بہ
1👍1