This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بسم اللہ الرحمن الرحیم = اذان بلالی ‼
میرے ایک تحقیقی مقالے کاخلاصہ پیش خدمت ہے
میرے سکالر ساتھیو!!!
اذان بلالی کا مشہور واقعہ جس قدر بالتفصیل غلام فرید، مقبول صابری کی قوالی میں ہے شاید اس قدر تفصیل تو جعل ساز علماء کو بھی معلوم نہ ہو اس واقعے کو علامہ ارشد القادری نے زلف وزنجیر،خواجہ اللہ بخش علیہ الرحمہ نے غذاء المحبین،اور ابن قدامہ حنبلی نے المغنی،اور ان کے ایک بھتیجے شمس الدین عمرنے "المقنع" میں ذکر کیا ہے
تحقیق یہ ہے کہ یہ واقعہ بالکل من گھڑت اور منافقین کی سازش پر مبنی ہے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت بلال کا متبادل جو صحابی اذان کیلئے مقرر ہوا کیا وہ (معاذاللہ)کسی قصائی کابیٹا تھا کہ سورج طلوع نہ ہوا؟
خلاصہ یہ ہے کہ یہ بالکل جھوٹ پر مبنی واقعہ ہے
آئیے دلائل ملاحظہ فرمائیں ‼
1: ملاعلی قاری فرماتے ہیں
"حدیث:ان بلالا کان یبدل الشین فی الاذان سینا"
قال المزی فیمانقلہ عنہ البرھان السفاقسی انہ اشتھر علی السنہ العوام ولم نرہ فی شیئ من الکتب"
الاسرار المرفوعہ فی اخبارالموضوعہ ص 73
یعنی یہ جو مشھور بات کہ حضرت بلال اذان میں شین کو سین پڑھتے تھے امام مزی سے برھان سفاقسی نقل کرتے ہیں کہ یہ محض بے اصل کہانی ھےعوام میں مشہور ہے مگر کسی کتاب میں ھمیں نہیں ملی
2:امام عجلونی فرماتے ہیں
"قال ابن کثیر لیس لہ ولایصح "وتقدم فی ان بلالا"
لکن قال ابن قدامہ فی مغنیہ روی ان بلالا کان یقول اسھدیجعل الشین سیناوالمعتمدھوالاول فقدترجمہ غیرواحد بانہ کان اندی الصوت حسنہ فصیح الکلام وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لصاحب رویا الاذان عبداللہ بن زیدالق علیہ ای علی بلال الاذان فانہ اندی صوتامنک فلوکانت فیہ لثغہ لتوفرت الدواعی علی نقلھا
ولعابھا اھل النفاق علیہ المبالغون فی التنقیص لاھل الاسلام۔ انتھی؛
وقال العلامہ ابراھیم الباجی فی "مولدہ"
واشھدباللہ للہ ان سیدی بلالاماقال اسھد بالسین المھملہ قط کماوقع لموفق الدین ابن قدامہ فی مغنیہ وقلدہ ابن اخیہ الشیخ ابوعمرشمس الدین فی شرحہ کتاب المقنع وردعلیہ الحفاظ کمابسطتہ فی ذکر موذنیہ بل کان بلال من افصح الناس وانداھم صوتا"
کشف الخفاء للعجلونی ص564ج1
حافظ ابن کثیر فرماتےہیں
اس واقعے کی کوئی اصل نہیں اور نہ ہی یہ درست ہے اس کی بحث"ان بلالا"کے عنوان سے گذرچکی ہے
لیکن علامہ ابن قدامہ نے اپنی کتاب "المغنی" میں روایت کیاہے کہ حضرت بلال اسھد کہتے تھے یعنی شین کوسین پڑھتے تھے لیکن معتمدبات پہلی ہے(یعنی اس واقعہ کی اصل نہیں)بہت سے لوگوں نے حضرت بلال کے حالات زندگی لکھے اور یہ بھی لکھاہے کہ وہ بلندآواز تھے، ان کی آواز خوبصورت تھی،وہ فصیح وبلیغ تھے،اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے متعلق خواب دیکھنے والے صحابی عبداللہ بن زید سے خود کہاہے کہ اذان حضرت بلال کوسکھاوکیونکہ وہ بلند آوازہیں
اگربالفرض وہ توتلے ہوتے تواس بات کو بہت سے لوگ نقل کرتے، اصل بات یہ ھے کہ منافقین نے حضرت بلال پر عیب پرلگایاہے ان کی عادت ہے کہ وہ حدسے زیادہ صحابہ اوراھل اسلام کی تنقیص کرتے ہیں (انتھی)
علامہ ابراھیم باجی اپنی کتاب "مولد"میں فرماتے ہیں قسم بخداحضرت بلال اسھد نہیں کہتے تھے یہ تو ابن قدامہ اور ان کے بھتیجے شمس الدین نے غلط لکھاہے اس بات کو حفاظ حدیث نے ردکردیا ہے میں نے اپنی کتاب "موذنین رسول"میں خوب تفصیل سے اسکی تردید کی ،
سچی بات یہ ھے کہ حضرت بلال کی زبان بالکل فصیح تھی اور ان کی آواز بلند تھی:
3:حاشیہ نزھہ النظر شرح نخبہ الفکر میں ہے
"وامثلہ احادیث الموضوعہ کثیرہ منھا حدیث سین بلال عنداللہ شین"
حاشیہ شرح نخبہ ص14
یعنی احادیث موضوعہ بہت ہیں ان میں سے ایک وہ حدیث ہے جس میں حضرت بلال کے شین کوسین پڑھنے کاواقعہ ہے
4:علامہ عجلونی ایک اور مقام پررقمطرازہیں
"قال فی الدرر لم یرد فی شیئ من الکتب ، وقال القاری لیس لہ اصل وقال البرھان السفاقسی نقلاعن الامام المزی انہ اشتھر علی السنہ العوام ولم یرد فی شیئ من الکتب "
کشف الخفاء ص263ج1
یعنی درر میں ہے کہ یہ واقعہ کسی کتاب میں نہیں ہے ملاعلی قاری،برھان سفاقسی،علامہ مزی وغیرہ نے اس کوموضوع قرار دیاہے
5:علامہ زرقانی فرماتے ہیں
"سین بلال عنداللہ شین باطل لااصل لہ"
مختصر مقاصدالحسنہ ص140
حضرت بلال کاشین کوسین پڑھنے کاواقعہ من گھڑت ہے
6:مقاصد حسنہ میں ہے
"سین بلال عند اللہ شین لااصل لہ وقدترجمہ غیرواحد بانہ ندی الصوت حسنہ فصیحہ ولعابھااھل النفاق والضلال المجتھدین فی التنقیص لاھل الاسلام نسال اللہ التوفیق"
المقاصد الحسنہ ص295ج1ملخصا
سین بلال عنداللہ شین بالکل بے اصل حدیث ہے حالانکہ حضرت بلال کی سیرت کئی لوگوں نے بیان کیاہے اور سب نے لکھا ہے کہ ان کی آواز خوبصورت تھی اور وہ فصیح وبلیغ تھے یہ عیب جوئی منافقین کوسوجھی اسلام کے ازلی دشمنوں نے اس واقعہ کوگھڑاہے
ھم اللہ سے خیر کے سوالی ہیں ‼
واللہ تعالیٰ اعلم ‼ اپناخیال رکھئیے گا ‼
فقط والسلام ‼
آپکا اپنا محمد عرفان الحق نقشبندی
میرے ایک تحقیقی مقالے کاخلاصہ پیش خدمت ہے
میرے سکالر ساتھیو!!!
اذان بلالی کا مشہور واقعہ جس قدر بالتفصیل غلام فرید، مقبول صابری کی قوالی میں ہے شاید اس قدر تفصیل تو جعل ساز علماء کو بھی معلوم نہ ہو اس واقعے کو علامہ ارشد القادری نے زلف وزنجیر،خواجہ اللہ بخش علیہ الرحمہ نے غذاء المحبین،اور ابن قدامہ حنبلی نے المغنی،اور ان کے ایک بھتیجے شمس الدین عمرنے "المقنع" میں ذکر کیا ہے
تحقیق یہ ہے کہ یہ واقعہ بالکل من گھڑت اور منافقین کی سازش پر مبنی ہے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت بلال کا متبادل جو صحابی اذان کیلئے مقرر ہوا کیا وہ (معاذاللہ)کسی قصائی کابیٹا تھا کہ سورج طلوع نہ ہوا؟
خلاصہ یہ ہے کہ یہ بالکل جھوٹ پر مبنی واقعہ ہے
آئیے دلائل ملاحظہ فرمائیں ‼
1: ملاعلی قاری فرماتے ہیں
"حدیث:ان بلالا کان یبدل الشین فی الاذان سینا"
قال المزی فیمانقلہ عنہ البرھان السفاقسی انہ اشتھر علی السنہ العوام ولم نرہ فی شیئ من الکتب"
الاسرار المرفوعہ فی اخبارالموضوعہ ص 73
یعنی یہ جو مشھور بات کہ حضرت بلال اذان میں شین کو سین پڑھتے تھے امام مزی سے برھان سفاقسی نقل کرتے ہیں کہ یہ محض بے اصل کہانی ھےعوام میں مشہور ہے مگر کسی کتاب میں ھمیں نہیں ملی
2:امام عجلونی فرماتے ہیں
"قال ابن کثیر لیس لہ ولایصح "وتقدم فی ان بلالا"
لکن قال ابن قدامہ فی مغنیہ روی ان بلالا کان یقول اسھدیجعل الشین سیناوالمعتمدھوالاول فقدترجمہ غیرواحد بانہ کان اندی الصوت حسنہ فصیح الکلام وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لصاحب رویا الاذان عبداللہ بن زیدالق علیہ ای علی بلال الاذان فانہ اندی صوتامنک فلوکانت فیہ لثغہ لتوفرت الدواعی علی نقلھا
ولعابھا اھل النفاق علیہ المبالغون فی التنقیص لاھل الاسلام۔ انتھی؛
وقال العلامہ ابراھیم الباجی فی "مولدہ"
واشھدباللہ للہ ان سیدی بلالاماقال اسھد بالسین المھملہ قط کماوقع لموفق الدین ابن قدامہ فی مغنیہ وقلدہ ابن اخیہ الشیخ ابوعمرشمس الدین فی شرحہ کتاب المقنع وردعلیہ الحفاظ کمابسطتہ فی ذکر موذنیہ بل کان بلال من افصح الناس وانداھم صوتا"
کشف الخفاء للعجلونی ص564ج1
حافظ ابن کثیر فرماتےہیں
اس واقعے کی کوئی اصل نہیں اور نہ ہی یہ درست ہے اس کی بحث"ان بلالا"کے عنوان سے گذرچکی ہے
لیکن علامہ ابن قدامہ نے اپنی کتاب "المغنی" میں روایت کیاہے کہ حضرت بلال اسھد کہتے تھے یعنی شین کوسین پڑھتے تھے لیکن معتمدبات پہلی ہے(یعنی اس واقعہ کی اصل نہیں)بہت سے لوگوں نے حضرت بلال کے حالات زندگی لکھے اور یہ بھی لکھاہے کہ وہ بلندآواز تھے، ان کی آواز خوبصورت تھی،وہ فصیح وبلیغ تھے،اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے متعلق خواب دیکھنے والے صحابی عبداللہ بن زید سے خود کہاہے کہ اذان حضرت بلال کوسکھاوکیونکہ وہ بلند آوازہیں
اگربالفرض وہ توتلے ہوتے تواس بات کو بہت سے لوگ نقل کرتے، اصل بات یہ ھے کہ منافقین نے حضرت بلال پر عیب پرلگایاہے ان کی عادت ہے کہ وہ حدسے زیادہ صحابہ اوراھل اسلام کی تنقیص کرتے ہیں (انتھی)
علامہ ابراھیم باجی اپنی کتاب "مولد"میں فرماتے ہیں قسم بخداحضرت بلال اسھد نہیں کہتے تھے یہ تو ابن قدامہ اور ان کے بھتیجے شمس الدین نے غلط لکھاہے اس بات کو حفاظ حدیث نے ردکردیا ہے میں نے اپنی کتاب "موذنین رسول"میں خوب تفصیل سے اسکی تردید کی ،
سچی بات یہ ھے کہ حضرت بلال کی زبان بالکل فصیح تھی اور ان کی آواز بلند تھی:
3:حاشیہ نزھہ النظر شرح نخبہ الفکر میں ہے
"وامثلہ احادیث الموضوعہ کثیرہ منھا حدیث سین بلال عنداللہ شین"
حاشیہ شرح نخبہ ص14
یعنی احادیث موضوعہ بہت ہیں ان میں سے ایک وہ حدیث ہے جس میں حضرت بلال کے شین کوسین پڑھنے کاواقعہ ہے
4:علامہ عجلونی ایک اور مقام پررقمطرازہیں
"قال فی الدرر لم یرد فی شیئ من الکتب ، وقال القاری لیس لہ اصل وقال البرھان السفاقسی نقلاعن الامام المزی انہ اشتھر علی السنہ العوام ولم یرد فی شیئ من الکتب "
کشف الخفاء ص263ج1
یعنی درر میں ہے کہ یہ واقعہ کسی کتاب میں نہیں ہے ملاعلی قاری،برھان سفاقسی،علامہ مزی وغیرہ نے اس کوموضوع قرار دیاہے
5:علامہ زرقانی فرماتے ہیں
"سین بلال عنداللہ شین باطل لااصل لہ"
مختصر مقاصدالحسنہ ص140
حضرت بلال کاشین کوسین پڑھنے کاواقعہ من گھڑت ہے
6:مقاصد حسنہ میں ہے
"سین بلال عند اللہ شین لااصل لہ وقدترجمہ غیرواحد بانہ ندی الصوت حسنہ فصیحہ ولعابھااھل النفاق والضلال المجتھدین فی التنقیص لاھل الاسلام نسال اللہ التوفیق"
المقاصد الحسنہ ص295ج1ملخصا
سین بلال عنداللہ شین بالکل بے اصل حدیث ہے حالانکہ حضرت بلال کی سیرت کئی لوگوں نے بیان کیاہے اور سب نے لکھا ہے کہ ان کی آواز خوبصورت تھی اور وہ فصیح وبلیغ تھے یہ عیب جوئی منافقین کوسوجھی اسلام کے ازلی دشمنوں نے اس واقعہ کوگھڑاہے
ھم اللہ سے خیر کے سوالی ہیں ‼
واللہ تعالیٰ اعلم ‼ اپناخیال رکھئیے گا ‼
فقط والسلام ‼
آپکا اپنا محمد عرفان الحق نقشبندی
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیغام
( دریائے نیل کے نام )
***********************
🖊 واقعہ یوں ہے کہ آپ نے جب حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مصر کا گورنر مقررکیا - ایک دن مصر کے باشندے حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر بولے کہ حضور! ہمارے ملک میں پہلے سے یہ رسم چلی آرہی ہے کہ جس سال دریائے نیل میں باڑھ نہیں آتی اور وہ خشک ہونے لگتا ہے تو ہم لوگ ایک کنواری لڑکی کو بہترین کپڑوں اور عمدہ زیوروں سے سجاکر اسے دریائے نیل کی بھینٹ چڑھا تے ہیں - جب وہ لڑکی دریا میں پھینک دی جاتی ہے تو دریا بڑے جوش وخروش سے بہنے لگتا ہے - پانی کی خوب بہتات ہوتی ہے پھر اسی پانی سے ہماری کھیتیاں سیراب ہوتی ہیں امسال بھینٹ چڑھانے کا زمانہ قریب آگیا ہے اور اس وقت دریائے نیل خشک ہوتا جارہا ہے اگر اس کو بھینٹ نہ دی گئی تو وہ بالکل خشک ہوجائےگا اور ہم لوگ قحط سالی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوجائیں گے -
حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ پہلے جو کچھ بھی ہوا وہ ہوا لیکن اب یہاں اسلام آگیا ہے - اسلام کا مزاج خونی رسم کو کبھی برداشت نہیں کرسکتا - مصری لوگ مجبور ہوکر دریائے نیل کو لڑکی کی بھینٹ نہ دے سکے جب انہوں نے دیکھا کہ اب دریائے نیل میں برائے نام پانی رینگ رہا ہے تو قحط سالی کے خوف سے وہ لوگ اپنے وطن کو چھوڑ کر دوسری جگہ کوچ کرنے کی تیاری کرنے لگے - حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ نازک معاملہ دیکھ کر سرکار فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں مدینہ منورہ ایک خط بھیجا جس میں دریائے نیل اور مصریوں کی خونی رسم کا حال تحریر کیا -
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام فرمان بھیجا کہ تم نے اس خونی رسم کو بند کرکے اچھا کیا - میں تمہارے اس دریائے نیل کے نام ایک پرچہ بھیج رہا ہوں تم اس پرچہ کو دریائے نیل میں ڈال دو - پرچہ کا مضمون یہ تھا
من عبد الله عمر امير المؤمنين الىٰ نيل مصر ط اما بعد فان كنت يجرئ من قبلك فلا تجر وان كان الله يجر يك فاسئل الله الواحد القهار ان يجريك -
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے بندے مسلمانوں کے حاکم عمر کی طرف سے دریائے نیل کے نام یہ خط ہے - اے دریا اگر تو اپنے آپ سے جاری رہتا ہے تو نہ جاری ہو اور اگر تجھے اللہ جاری رکھتا ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے، جو اکیلا زبردست ہے درخواست کرتا ہوں کہ تجھے جاری کردے -
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد کے مطابق حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کا خط دریائے نیل میں ڈال دیا - دنیا حیرت میں تھی کہ کاغذ کے اس پرچہ سے دریائے نیل کیسے رواں ہوسکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم کہ پرچہ پڑنے کے بعد دریائے نیل کے بہاؤ میں تیزی پیدا ہوتی گئی یہاں تک کہ رات گزر کر صبح ہوتے ہوتے اس میں سولہ گز پانی اوپر بڑھ گیا اور دریا موجیں مارکر بہنے لگا - نیز لڑکی کی بھینٹ دینے کی خونی رسم ہمیشہ کیلئے مٹ گئی
(حوالہ تعمیر ادب حصہ پنجم صفحہ ۸۳ تا ۸۵ )
مصنف: حضرت علامہ ومولانا بدر الدین احمد صاحب قبلہ قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ
سچ کہا کسی نے
جب ان کے گدا بھر دیتے ہیں شاہان زمانہ کی جھولی
محتاج کا جب یہ عالم ہے مختار کا عالم کیا ہوگا
***********************
مسلک اعلیٰ حضرت گروپ میں ایڈ ہونے کیلئے ان نمبرات پر رابطہ کریں
7665266550
7654833082
بانئ مسلک اعلیٰ حضرت گروپ
غلام غلامان تاج الشریعہ
ابو محمد حامد رضا: محمد شریف الحق رضوی! خطیب وامام نوری رضوی جامع مسجد ومدرسہ دارلعلوم نوریہ رضویہ: مقام وپوسٹ رسول گنج عرف کوئلی: ضلع سیتا مڑھی بہار ( ہندوستان)
***********************
( دریائے نیل کے نام )
***********************
🖊 واقعہ یوں ہے کہ آپ نے جب حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مصر کا گورنر مقررکیا - ایک دن مصر کے باشندے حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر بولے کہ حضور! ہمارے ملک میں پہلے سے یہ رسم چلی آرہی ہے کہ جس سال دریائے نیل میں باڑھ نہیں آتی اور وہ خشک ہونے لگتا ہے تو ہم لوگ ایک کنواری لڑکی کو بہترین کپڑوں اور عمدہ زیوروں سے سجاکر اسے دریائے نیل کی بھینٹ چڑھا تے ہیں - جب وہ لڑکی دریا میں پھینک دی جاتی ہے تو دریا بڑے جوش وخروش سے بہنے لگتا ہے - پانی کی خوب بہتات ہوتی ہے پھر اسی پانی سے ہماری کھیتیاں سیراب ہوتی ہیں امسال بھینٹ چڑھانے کا زمانہ قریب آگیا ہے اور اس وقت دریائے نیل خشک ہوتا جارہا ہے اگر اس کو بھینٹ نہ دی گئی تو وہ بالکل خشک ہوجائےگا اور ہم لوگ قحط سالی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوجائیں گے -
حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ پہلے جو کچھ بھی ہوا وہ ہوا لیکن اب یہاں اسلام آگیا ہے - اسلام کا مزاج خونی رسم کو کبھی برداشت نہیں کرسکتا - مصری لوگ مجبور ہوکر دریائے نیل کو لڑکی کی بھینٹ نہ دے سکے جب انہوں نے دیکھا کہ اب دریائے نیل میں برائے نام پانی رینگ رہا ہے تو قحط سالی کے خوف سے وہ لوگ اپنے وطن کو چھوڑ کر دوسری جگہ کوچ کرنے کی تیاری کرنے لگے - حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ نازک معاملہ دیکھ کر سرکار فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں مدینہ منورہ ایک خط بھیجا جس میں دریائے نیل اور مصریوں کی خونی رسم کا حال تحریر کیا -
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام فرمان بھیجا کہ تم نے اس خونی رسم کو بند کرکے اچھا کیا - میں تمہارے اس دریائے نیل کے نام ایک پرچہ بھیج رہا ہوں تم اس پرچہ کو دریائے نیل میں ڈال دو - پرچہ کا مضمون یہ تھا
من عبد الله عمر امير المؤمنين الىٰ نيل مصر ط اما بعد فان كنت يجرئ من قبلك فلا تجر وان كان الله يجر يك فاسئل الله الواحد القهار ان يجريك -
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے بندے مسلمانوں کے حاکم عمر کی طرف سے دریائے نیل کے نام یہ خط ہے - اے دریا اگر تو اپنے آپ سے جاری رہتا ہے تو نہ جاری ہو اور اگر تجھے اللہ جاری رکھتا ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے، جو اکیلا زبردست ہے درخواست کرتا ہوں کہ تجھے جاری کردے -
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد کے مطابق حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کا خط دریائے نیل میں ڈال دیا - دنیا حیرت میں تھی کہ کاغذ کے اس پرچہ سے دریائے نیل کیسے رواں ہوسکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم کہ پرچہ پڑنے کے بعد دریائے نیل کے بہاؤ میں تیزی پیدا ہوتی گئی یہاں تک کہ رات گزر کر صبح ہوتے ہوتے اس میں سولہ گز پانی اوپر بڑھ گیا اور دریا موجیں مارکر بہنے لگا - نیز لڑکی کی بھینٹ دینے کی خونی رسم ہمیشہ کیلئے مٹ گئی
(حوالہ تعمیر ادب حصہ پنجم صفحہ ۸۳ تا ۸۵ )
مصنف: حضرت علامہ ومولانا بدر الدین احمد صاحب قبلہ قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ
سچ کہا کسی نے
جب ان کے گدا بھر دیتے ہیں شاہان زمانہ کی جھولی
محتاج کا جب یہ عالم ہے مختار کا عالم کیا ہوگا
***********************
مسلک اعلیٰ حضرت گروپ میں ایڈ ہونے کیلئے ان نمبرات پر رابطہ کریں
7665266550
7654833082
بانئ مسلک اعلیٰ حضرت گروپ
غلام غلامان تاج الشریعہ
ابو محمد حامد رضا: محمد شریف الحق رضوی! خطیب وامام نوری رضوی جامع مسجد ومدرسہ دارلعلوم نوریہ رضویہ: مقام وپوسٹ رسول گنج عرف کوئلی: ضلع سیتا مڑھی بہار ( ہندوستان)
***********************
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بلا ضرورت شرعیہ
حمل ساقط کرنا کروانا حرام ہے ‼
*کیا فرما تےہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا انتقال ہوگیا*
*اور اسکی بیوی ہندہ سات ماہ کی حا ملہ ہے اب اس کی عدت تو وضع حمل ہے*
*لیکن اگر ہندہ حمل ساقط کر والے دوا کے ذریعہ یا آپریشن کے ذریعہ تو کیا اس کی عدت ختم ہو جائے گی*
*اور وہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں خیال رہے کہ ہندہ سات ماہ کی حاملہ ہے*
*سائل - محمد وسیم فیضی*
◆ــــــــــــــــــ▪♥▪ـــــــــــــــــــ◆
*السلا م علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ*
*✍الجواب بعون الملك الوھاب ؛*
*صورت مسؤ لہ میں عرض ہے کہ بلا ضرورت شرعیہ حمل ساقط کرنا کروانا حرام ہے اور ایسا کر نے والے قاتل کے حکم میں ہیں جیساکہ*
*📋 فتاوٰی رضویہ جلد نہم نصف آخرصفحہ(151)(اورصفحہ260 میں ہے*
*لہذا ہندہ بلاوجہ حمل ساقط کراکر اس جرم عظیم میں مبتلا ھو کر مستحق عذاب نہ بنے*
*ہاں اگر حمل ساقط ھو گیا یا خود کر ایا اور بچہ کے اعضاء ظاہر ھوگئے تھے تو عدت ختم ھوگئ اور اگربچہ کے اعضاء ظاہر نہ ھوئے تھے تو عدت ختم نہ ھوئی اور سات ماہ بچے کے اعضاء یقینا ظا ھر ھو گئے اس لئے ہندہ بغیر عدت کسی سنی صحیح العقیدہ سے نکا ح کر سکتی ہے*
*📙فتاوٰی عالمگیری جلد اول مصری صفحہ (473) پر بدائع الصنائع سے ہے*
*(شرط انقضا ء ھذه ا لعدة ان یکون ماوضعت قد استبان خلقه فان لم یستبن خلقة راسا با ن اسقطت علقة اومضغة لم تنقض العدة )*
*📘(فتاوٰی فیض الرسول جلد دوم صفحہ301)*
*؛واللہ تعالی اعلم؛*
◆ــــــــــــــــــ▪♥▪ـــــــــــــــــــ◆
*کتــــبـــہ؛*
*حضرت علامہ مولانامحمد اختررضا قادری رضوی*
*نیپال گنجوی نا ظم اعلی مدرسہ فیض العلوم خطیب وامام نیپالی سنی جا مع مسجد سرکھیت ( نیپال)*
*29 ذی الحجہ 1439 ہجری مطابق10 ستمبر 2018*
*🔸گلـشـن مـدیـنـه گــروپ؛🔸*
*رابطہ؛📞009779815598240*
◆ــــــــــــــــــ▪♥▪ـــــــــــــــــــ◆
*✅ الجواب صحيح والمجيب نجيح فقط محمد عطاء الله النعيمي غفرله خادم دارالحدیث ودارالافتاء جامعۃالنور جمعیة إشاعة أهل السنة (پاكستان) كراتشي حال مكة المكرمة*
◆ــــــــــــــــــ▪♥▪ـــــــــــــــــــ◆
*✍المرتب؛اسـیرتـاج الـشریعه*
*غـلام احمـد رضـا قـادرى يـوپـى*
◆ــــــــــــــــــ▪♥▪ـــــــــــــــــــ◆
حمل ساقط کرنا کروانا حرام ہے ‼
*کیا فرما تےہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا انتقال ہوگیا*
*اور اسکی بیوی ہندہ سات ماہ کی حا ملہ ہے اب اس کی عدت تو وضع حمل ہے*
*لیکن اگر ہندہ حمل ساقط کر والے دوا کے ذریعہ یا آپریشن کے ذریعہ تو کیا اس کی عدت ختم ہو جائے گی*
*اور وہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں خیال رہے کہ ہندہ سات ماہ کی حاملہ ہے*
*سائل - محمد وسیم فیضی*
◆ــــــــــــــــــ▪♥▪ـــــــــــــــــــ◆
*السلا م علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ*
*✍الجواب بعون الملك الوھاب ؛*
*صورت مسؤ لہ میں عرض ہے کہ بلا ضرورت شرعیہ حمل ساقط کرنا کروانا حرام ہے اور ایسا کر نے والے قاتل کے حکم میں ہیں جیساکہ*
*📋 فتاوٰی رضویہ جلد نہم نصف آخرصفحہ(151)(اورصفحہ260 میں ہے*
*لہذا ہندہ بلاوجہ حمل ساقط کراکر اس جرم عظیم میں مبتلا ھو کر مستحق عذاب نہ بنے*
*ہاں اگر حمل ساقط ھو گیا یا خود کر ایا اور بچہ کے اعضاء ظاہر ھوگئے تھے تو عدت ختم ھوگئ اور اگربچہ کے اعضاء ظاہر نہ ھوئے تھے تو عدت ختم نہ ھوئی اور سات ماہ بچے کے اعضاء یقینا ظا ھر ھو گئے اس لئے ہندہ بغیر عدت کسی سنی صحیح العقیدہ سے نکا ح کر سکتی ہے*
*📙فتاوٰی عالمگیری جلد اول مصری صفحہ (473) پر بدائع الصنائع سے ہے*
*(شرط انقضا ء ھذه ا لعدة ان یکون ماوضعت قد استبان خلقه فان لم یستبن خلقة راسا با ن اسقطت علقة اومضغة لم تنقض العدة )*
*📘(فتاوٰی فیض الرسول جلد دوم صفحہ301)*
*؛واللہ تعالی اعلم؛*
◆ــــــــــــــــــ▪♥▪ـــــــــــــــــــ◆
*کتــــبـــہ؛*
*حضرت علامہ مولانامحمد اختررضا قادری رضوی*
*نیپال گنجوی نا ظم اعلی مدرسہ فیض العلوم خطیب وامام نیپالی سنی جا مع مسجد سرکھیت ( نیپال)*
*29 ذی الحجہ 1439 ہجری مطابق10 ستمبر 2018*
*🔸گلـشـن مـدیـنـه گــروپ؛🔸*
*رابطہ؛📞009779815598240*
◆ــــــــــــــــــ▪♥▪ـــــــــــــــــــ◆
*✅ الجواب صحيح والمجيب نجيح فقط محمد عطاء الله النعيمي غفرله خادم دارالحدیث ودارالافتاء جامعۃالنور جمعیة إشاعة أهل السنة (پاكستان) كراتشي حال مكة المكرمة*
◆ــــــــــــــــــ▪♥▪ـــــــــــــــــــ◆
*✍المرتب؛اسـیرتـاج الـشریعه*
*غـلام احمـد رضـا قـادرى يـوپـى*
◆ــــــــــــــــــ▪♥▪ـــــــــــــــــــ◆
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نئے سال کی مبارک باد پیش کرنا کیسا ؟
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرح متین مسئلہ ذیل میں کہ زید محرم الحرام میں نئے سال کی ابتدا کی ہونے پر لوگوں مبارکباد پیش کرتا ہے بکر کہتا ہے یہ درست نہیں ہے یہ غم کا مہینہ ہے سب کو غم منانا چاہیئے قرآن و حدیث سے مفصّل جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں
*🌹سائل- محمد اشہار اختر برکاتی فتحپوری*🌹
*وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ*
*📝الجواب بعون الملك الوهاب :*
*صورت مستفسرہ کے مطابق بکر کا قول غلط ہے کیونکہ محرم الحرام سوگ و غم منانے کا مہینہ نہیں ہے بلکہ اگر کوئی اس مہینے میں سوگ منانے کی نیت سے سبز و سیاہ کپڑے بھی پہنے تو جائز نہیں، جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے :*
*🏷محرم میں سبز اور سیاہ کپڑے علامت سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے-*
*📚فتاویٰ رضویہ ،کتاب الحظر ،جلد ٢٣ ،صفحہ ٧٥٠*
*📿لہٰذا ثابت ہو گیا کہ محرم الحرام کو غم و سوگ کا مہینہ ماننا جہالت ہے اس سے گریز کرنا لازمی ہے -*
*🏷نیز زید کو نئے سال پر بطور لہو لعب مبارک باد پیش کرنے میں پہل کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ یہ ماہ و سال کا گزر جانا کسی خوشی کی بات نہیں ہے جس پر مبارکباد دیا جائے بلکہ ہمیں تو اس پر غور و فکر کرنا چاہیے کہ ہم نے اپنی زندگی کیسے گزاری اپنے نفس کا محاسبہ کریں کیونکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا ہے :*
*حاسِبوا أنفسَكم قبل أن تحاسبوا*
*📄لہٰذا نیا سال آنے پر امت مسلمہ کو تو یہ زیبا دیتا ہے کہ اپنے گزشتہ سال پر غور و فکر کرے اور آئندہ نیکی کرنے کے لیے اپنی زندگی کو وقف کر دے -*
*لیکن........... اگر کوئی اس نیت سے مبارک باد پیش کرے کہ اس نئے سال ہمیں توبہ اور نیک عمل کمانے کا مزید موقع میسر آسکتا ہے۔ یہ مبارکباد خوشی اور اللہ تعالیٰ کے شکر کا اظہار ہو ایسوں کے مبارک باد قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس کا جواب بھی دینے میں کوئی قباحت نہیں ۔*
*🏷حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کی روایت جسے امام طبرانی نے الاوسط میں درج کیا‘*
*اس میں وہ فرماتے ہیں کہ:*
*📑كان أصحاب النبي صلی الله علیه وآله وسلم يتعلمون هذا الدعاء إذا دخلت السنة أو الشهر: اللهم أدخله علينا بالأمن والإيمان، والسلامة و الإسلام، و رضوان من الرحمن، و جواز من الشيطان.*
*نئے سال یا مہینے کی آمد پہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے تھے: اے اللہ! ہمیں اس میں امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ داخل فرما۔ شیطان کے حملوں سے بچا اور رحمن کی رضامندی عطاء فرما۔*
*📚الطبراني، الأوسط: ٦٢٤١*
*حاصلِ کلام یہ ہے کہ نئے سال پر مبارک باد پیش کرنے کو اپنے لازم و ضروری گمان کر کے اسے پیش نہ کیا جائے لیکن اگر کوئی پہل کر دے تو اس کے جواب میں”کل عام و انت بخير“ یا” آپ کو بھی مبارک ہو“ وغیرہ کے الفاظ کہنے میں کوئی قباحت نہیں -*
*🌹هذا ما ظهر لي و الله سبحانه وتعالى أعلم بالصواب*🌹
*◆ــــــــــــــ🌹💠🌹ـــــــــــــــ◆*
*کـــتــبــہ*
*✍ حضرت علامہ و مولانا محمد امتیاز حسین قادری صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورنی لکھنؤ یــوپی*
*📱رابطہ 7634094126*
*♦فیضــانِ غــوث و خــواجـہ گــروپ ایــڈ کـے لئـے*♦👇
*+917800878771*
*◆ــــــــــــــ🌹💠🌹ـــــــــــــــ◆*
*🖥المـرتـــب گدائے اولیائے کرام*
*محمــــــد ایــوب رضـا خان علوی*
*◆ــــــــــــــ🌹💠🌹ـــــــــــــــــ◆*
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرح متین مسئلہ ذیل میں کہ زید محرم الحرام میں نئے سال کی ابتدا کی ہونے پر لوگوں مبارکباد پیش کرتا ہے بکر کہتا ہے یہ درست نہیں ہے یہ غم کا مہینہ ہے سب کو غم منانا چاہیئے قرآن و حدیث سے مفصّل جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں
*🌹سائل- محمد اشہار اختر برکاتی فتحپوری*🌹
*وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ*
*📝الجواب بعون الملك الوهاب :*
*صورت مستفسرہ کے مطابق بکر کا قول غلط ہے کیونکہ محرم الحرام سوگ و غم منانے کا مہینہ نہیں ہے بلکہ اگر کوئی اس مہینے میں سوگ منانے کی نیت سے سبز و سیاہ کپڑے بھی پہنے تو جائز نہیں، جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے :*
*🏷محرم میں سبز اور سیاہ کپڑے علامت سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے-*
*📚فتاویٰ رضویہ ،کتاب الحظر ،جلد ٢٣ ،صفحہ ٧٥٠*
*📿لہٰذا ثابت ہو گیا کہ محرم الحرام کو غم و سوگ کا مہینہ ماننا جہالت ہے اس سے گریز کرنا لازمی ہے -*
*🏷نیز زید کو نئے سال پر بطور لہو لعب مبارک باد پیش کرنے میں پہل کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ یہ ماہ و سال کا گزر جانا کسی خوشی کی بات نہیں ہے جس پر مبارکباد دیا جائے بلکہ ہمیں تو اس پر غور و فکر کرنا چاہیے کہ ہم نے اپنی زندگی کیسے گزاری اپنے نفس کا محاسبہ کریں کیونکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا ہے :*
*حاسِبوا أنفسَكم قبل أن تحاسبوا*
*📄لہٰذا نیا سال آنے پر امت مسلمہ کو تو یہ زیبا دیتا ہے کہ اپنے گزشتہ سال پر غور و فکر کرے اور آئندہ نیکی کرنے کے لیے اپنی زندگی کو وقف کر دے -*
*لیکن........... اگر کوئی اس نیت سے مبارک باد پیش کرے کہ اس نئے سال ہمیں توبہ اور نیک عمل کمانے کا مزید موقع میسر آسکتا ہے۔ یہ مبارکباد خوشی اور اللہ تعالیٰ کے شکر کا اظہار ہو ایسوں کے مبارک باد قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس کا جواب بھی دینے میں کوئی قباحت نہیں ۔*
*🏷حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کی روایت جسے امام طبرانی نے الاوسط میں درج کیا‘*
*اس میں وہ فرماتے ہیں کہ:*
*📑كان أصحاب النبي صلی الله علیه وآله وسلم يتعلمون هذا الدعاء إذا دخلت السنة أو الشهر: اللهم أدخله علينا بالأمن والإيمان، والسلامة و الإسلام، و رضوان من الرحمن، و جواز من الشيطان.*
*نئے سال یا مہینے کی آمد پہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے تھے: اے اللہ! ہمیں اس میں امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ داخل فرما۔ شیطان کے حملوں سے بچا اور رحمن کی رضامندی عطاء فرما۔*
*📚الطبراني، الأوسط: ٦٢٤١*
*حاصلِ کلام یہ ہے کہ نئے سال پر مبارک باد پیش کرنے کو اپنے لازم و ضروری گمان کر کے اسے پیش نہ کیا جائے لیکن اگر کوئی پہل کر دے تو اس کے جواب میں”کل عام و انت بخير“ یا” آپ کو بھی مبارک ہو“ وغیرہ کے الفاظ کہنے میں کوئی قباحت نہیں -*
*🌹هذا ما ظهر لي و الله سبحانه وتعالى أعلم بالصواب*🌹
*◆ــــــــــــــ🌹💠🌹ـــــــــــــــ◆*
*کـــتــبــہ*
*✍ حضرت علامہ و مولانا محمد امتیاز حسین قادری صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورنی لکھنؤ یــوپی*
*📱رابطہ 7634094126*
*♦فیضــانِ غــوث و خــواجـہ گــروپ ایــڈ کـے لئـے*♦👇
*+917800878771*
*◆ــــــــــــــ🌹💠🌹ـــــــــــــــ◆*
*🖥المـرتـــب گدائے اولیائے کرام*
*محمــــــد ایــوب رضـا خان علوی*
*◆ــــــــــــــ🌹💠🌹ـــــــــــــــــ◆*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
https://youtu.be/TlXTE8kwhn8
ZIKRE SHIDE AAZAM BAYAN HAZRAT ALLAMA MOULANA SAGEER AHMED SAHAB QIBLA 2018
https://youtu.be/0mjRfie1WCM
نبی پاکﷺ نے اپنی امت کو نماز کی حفاظت وپابندی کا حکم دیا اور خود اس پر عمل کرکے بھی دنیا کو دکھایا۔حضور اؒقدس ﷺ ہر نماز صحابہ کرام کے ساتھ اس کے وقت ہی میں ادا فرمایا کرتے تھے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ رسول مکرم ﷺ کے سچے عاشق تھے اسی لیے اپنے آقاو مولیٰ کو جو کہتے سنا وہی کہنے لگے‘ جو کرتے پڑھا اس پر عمل پیرا ہو گئے‘قدم قدم پر آپ حضورﷺ کے فرمان و سنت کی پیروی کرتے نظر آئے ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ کبھی بھی اور کسی بھی حالت میں نمازکو وقت سے موخر نہیں فرماتے۔ جیسا کہ واقعات ذیل شاہد ہیں۔
رضوی نیٹ ورک کی پیشکش ، شیخ سجاد حسین رضوی
1337ھ مطابق 1919ء میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ نے عید الاسلام حضرت مولانا عبدالسلام صاحب علیہ الرحمتہ کی دعوت پر جبل پور کا سفر بیماری کی حالت میں کیا۔ آغاز سفر کا ذکر حضرت برہان ملت علیہ الرحمتہ یوں کرتے ہیں۔
صبح چار بجے اعلیٰ حضرت ؒ اور خادم برہان گاڑی پر بریلی ریلوے اسٹیشن کے لیے روانہ ہوئے۔میں نے عرض کیا حضرت عین نماز کے وقت گاڑی روانہ ہوگی۔ نما زفجر کہاں ادا کی جائے گی؟ آپ نے مسکراکر فرمایا’’ ان شاء اﷲ پلیٹ فارم پر‘‘
اسٹیشن پہنچنے پر معلوم ہو کہ گاڑی چالیس منٹ لیٹ ہے‘ پلیٹ فارم پر جانماز‘ رومال بچھالیے گئے اور بعونہ تعالیٰ کثیر تعداد نے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ کے پیچھے نماز فجر اداکی۔ یہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ کی کرامت تھی کہ اطمینان سے نماز سے فارغ ہوئے۔
حضرت مولانا عبدالسلام صاحب اپنے رفقاء کے ہمراہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ کے استقبال کیلئے کٹنی تک چلے آئے تھے آگے کا واقعہ برہان ملت علیہ الرحمتہ یوں لکھتے ہیں:
’’ٹرین چار بجے کٹنی پہنچی… اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ کیلئے وضو کا انتظام کیا گیا۔ فرمایا نماز فجر کہاں ادا ہوگی: عرض کیا سلیمان آباد میں ‘ لیکن صرف تین منٹ گاڑی ٹھہرتی ہے۔حضوروضو فرمائیں۔خادم حاضر ہے۔ میں انجمن کی طرف بڑھا دیکھا ڈرائیور مسلمان ہے اور وہ بھی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ کی قدم بوسی کر کے جارہے ہیں مجھ سے مصافحہ کیا۔ میں نے کہا سلیمان آباد میں نماز فجر ادا کرنا ہے۔ پوچھا کتنا وقت لگے گا؟ میں نے کہا 12 یا 15 منٹ‘ کہا میں لیٹ کر دوں گا۔گارڈ بھی مل گیا اس نے اطمینان دلایا۔ گاڑی ٹھیک وقت پر سلیمان آباد پہنچی۔ پلیٹ فارم پر تقریباً تین سو کی جماعت ہوئی۔پوری ٹرین کے مسافر دیکھ رہے تھے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ اطمینان کے ساتھ وظیفے سے فارغ ہوکر گاڑی میں تشریف لائے۔
جبل پور میں قیام کے دوران اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کے معمولات میں سے حضرت برہان ملت علیہ الرحمتہ نے ایک رات یہ بھی ذکر کی کہ نماز کیلئے پانچویں وقت مسجد میں تشریف لاتے۔
ان دنوں عید السلام اس مسجد میں نماز ادا فرمانے جاتے یہ قدیم کوتوالی کی جانب ہے۔ اس کا فاصلہ آپ کے دولت خانہ سے پانچ سو قدم سے زیادہ ہے۔ایک نجیف و ناتواں کیلئے اتنا فاصلہ بھی بہت ہے بلکہ یہ فاصلہ استطاعت سے کہیں زیادہ ہے۔ جبل پور سے واپس ہو کر 22 رجب 1337ھ کو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے بریلی سے حضرت عید الاسلام کو یہ اطلاع نامہ بھیجھا۔
شب دو شنبہ 8 بجے مع الخیر اسٹیشن بریلی آیا‘ راہ میں بڑی نعمت بفضلہ عزوجل یہ پائی کہ نماز مغرب کا اندیشہ تھا۔ شاہجہانپور 6:33 پر آمد تھی کہ ہنوز وقت مغرب نہ ہوتا اور صرف 8 منٹ قیام۔ مگر گاڑی بفضلہ تعالیٰ 15 منٹ لیٹ ہو کر شاہجہانپور پہنچی اوردس منٹ ٹھہری کہ بہ اطمینان تمام نماز اچھے وقت ادا ہوئی۔ وﷲ الحمد ! موٹر بلحاظ ہمرہیاں (جو استقبال کیلئے اسٹیشن پر کثیر تعداد میں آئے تھے) بہت آہستہ خرامی کے ساتھ بہ دیر مکان پر پہنچا۔فقیر نے ابتداء مسجد سے کی ‘ نماز عشاء ادا ہوئی۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ نے 52 برس کی عمر دوسری بار سفر حج کیا۔مناسک حج کی ادائیگی کے بعد آپ ایسے علیل ہوئے کہ دو ماہ سے زیادہ صاحب فراش رہے جب کچھ روبہ صحت ہوئے تو 24 صفر 1334ھ زیارت روضئہ انور کیلئے مکہ معظمہ سے روانہ ہو کر جدہ سے بذریعہ کشتی رابغ پہنچے اور وہاں سے مدینۃ الرسول ﷺ کیلئے اونٹ کی سواری کی۔ اب آگے کا واقعہ خود اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ کی زبانی سنیے۔
’’ راہ میں جب ’’ پیر شیخ ‘‘ پر پہنچے ہیں۔منزل چند میل باقی تھی اور وقت فجر تھوڑا۔جمالوں (اونٹ والوں) نے منزل پر ہی روکنا چاہا اور جب تک نماز کا وقت نہ رہتا۔ میں اور میرے رفقاء اترپڑے ۔ کرمچ کا ڈول پاس تھا ( لیکن ) رسی نہیں اور کنواں بھی گہرا۔ عمامے باندھ کر پانی بھرا‘ وضو کیا ‘ بحمدہ تعالیٰ نماز ہوگئی۔ اب یہ فکر لاحق ہوگئی کہ طول مرض سے ضعف شدید ہے اتنے میل پیادہ (پیدل) کیونکر چلنا ہوگا
ZIKRE SHIDE AAZAM BAYAN HAZRAT ALLAMA MOULANA SAGEER AHMED SAHAB QIBLA 2018
https://youtu.be/0mjRfie1WCM
نبی پاکﷺ نے اپنی امت کو نماز کی حفاظت وپابندی کا حکم دیا اور خود اس پر عمل کرکے بھی دنیا کو دکھایا۔حضور اؒقدس ﷺ ہر نماز صحابہ کرام کے ساتھ اس کے وقت ہی میں ادا فرمایا کرتے تھے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ رسول مکرم ﷺ کے سچے عاشق تھے اسی لیے اپنے آقاو مولیٰ کو جو کہتے سنا وہی کہنے لگے‘ جو کرتے پڑھا اس پر عمل پیرا ہو گئے‘قدم قدم پر آپ حضورﷺ کے فرمان و سنت کی پیروی کرتے نظر آئے ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ کبھی بھی اور کسی بھی حالت میں نمازکو وقت سے موخر نہیں فرماتے۔ جیسا کہ واقعات ذیل شاہد ہیں۔
رضوی نیٹ ورک کی پیشکش ، شیخ سجاد حسین رضوی
1337ھ مطابق 1919ء میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ نے عید الاسلام حضرت مولانا عبدالسلام صاحب علیہ الرحمتہ کی دعوت پر جبل پور کا سفر بیماری کی حالت میں کیا۔ آغاز سفر کا ذکر حضرت برہان ملت علیہ الرحمتہ یوں کرتے ہیں۔
صبح چار بجے اعلیٰ حضرت ؒ اور خادم برہان گاڑی پر بریلی ریلوے اسٹیشن کے لیے روانہ ہوئے۔میں نے عرض کیا حضرت عین نماز کے وقت گاڑی روانہ ہوگی۔ نما زفجر کہاں ادا کی جائے گی؟ آپ نے مسکراکر فرمایا’’ ان شاء اﷲ پلیٹ فارم پر‘‘
اسٹیشن پہنچنے پر معلوم ہو کہ گاڑی چالیس منٹ لیٹ ہے‘ پلیٹ فارم پر جانماز‘ رومال بچھالیے گئے اور بعونہ تعالیٰ کثیر تعداد نے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ کے پیچھے نماز فجر اداکی۔ یہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ کی کرامت تھی کہ اطمینان سے نماز سے فارغ ہوئے۔
حضرت مولانا عبدالسلام صاحب اپنے رفقاء کے ہمراہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ کے استقبال کیلئے کٹنی تک چلے آئے تھے آگے کا واقعہ برہان ملت علیہ الرحمتہ یوں لکھتے ہیں:
’’ٹرین چار بجے کٹنی پہنچی… اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ کیلئے وضو کا انتظام کیا گیا۔ فرمایا نماز فجر کہاں ادا ہوگی: عرض کیا سلیمان آباد میں ‘ لیکن صرف تین منٹ گاڑی ٹھہرتی ہے۔حضوروضو فرمائیں۔خادم حاضر ہے۔ میں انجمن کی طرف بڑھا دیکھا ڈرائیور مسلمان ہے اور وہ بھی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ کی قدم بوسی کر کے جارہے ہیں مجھ سے مصافحہ کیا۔ میں نے کہا سلیمان آباد میں نماز فجر ادا کرنا ہے۔ پوچھا کتنا وقت لگے گا؟ میں نے کہا 12 یا 15 منٹ‘ کہا میں لیٹ کر دوں گا۔گارڈ بھی مل گیا اس نے اطمینان دلایا۔ گاڑی ٹھیک وقت پر سلیمان آباد پہنچی۔ پلیٹ فارم پر تقریباً تین سو کی جماعت ہوئی۔پوری ٹرین کے مسافر دیکھ رہے تھے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ اطمینان کے ساتھ وظیفے سے فارغ ہوکر گاڑی میں تشریف لائے۔
جبل پور میں قیام کے دوران اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کے معمولات میں سے حضرت برہان ملت علیہ الرحمتہ نے ایک رات یہ بھی ذکر کی کہ نماز کیلئے پانچویں وقت مسجد میں تشریف لاتے۔
ان دنوں عید السلام اس مسجد میں نماز ادا فرمانے جاتے یہ قدیم کوتوالی کی جانب ہے۔ اس کا فاصلہ آپ کے دولت خانہ سے پانچ سو قدم سے زیادہ ہے۔ایک نجیف و ناتواں کیلئے اتنا فاصلہ بھی بہت ہے بلکہ یہ فاصلہ استطاعت سے کہیں زیادہ ہے۔ جبل پور سے واپس ہو کر 22 رجب 1337ھ کو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے بریلی سے حضرت عید الاسلام کو یہ اطلاع نامہ بھیجھا۔
شب دو شنبہ 8 بجے مع الخیر اسٹیشن بریلی آیا‘ راہ میں بڑی نعمت بفضلہ عزوجل یہ پائی کہ نماز مغرب کا اندیشہ تھا۔ شاہجہانپور 6:33 پر آمد تھی کہ ہنوز وقت مغرب نہ ہوتا اور صرف 8 منٹ قیام۔ مگر گاڑی بفضلہ تعالیٰ 15 منٹ لیٹ ہو کر شاہجہانپور پہنچی اوردس منٹ ٹھہری کہ بہ اطمینان تمام نماز اچھے وقت ادا ہوئی۔ وﷲ الحمد ! موٹر بلحاظ ہمرہیاں (جو استقبال کیلئے اسٹیشن پر کثیر تعداد میں آئے تھے) بہت آہستہ خرامی کے ساتھ بہ دیر مکان پر پہنچا۔فقیر نے ابتداء مسجد سے کی ‘ نماز عشاء ادا ہوئی۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ نے 52 برس کی عمر دوسری بار سفر حج کیا۔مناسک حج کی ادائیگی کے بعد آپ ایسے علیل ہوئے کہ دو ماہ سے زیادہ صاحب فراش رہے جب کچھ روبہ صحت ہوئے تو 24 صفر 1334ھ زیارت روضئہ انور کیلئے مکہ معظمہ سے روانہ ہو کر جدہ سے بذریعہ کشتی رابغ پہنچے اور وہاں سے مدینۃ الرسول ﷺ کیلئے اونٹ کی سواری کی۔ اب آگے کا واقعہ خود اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ کی زبانی سنیے۔
’’ راہ میں جب ’’ پیر شیخ ‘‘ پر پہنچے ہیں۔منزل چند میل باقی تھی اور وقت فجر تھوڑا۔جمالوں (اونٹ والوں) نے منزل پر ہی روکنا چاہا اور جب تک نماز کا وقت نہ رہتا۔ میں اور میرے رفقاء اترپڑے ۔ کرمچ کا ڈول پاس تھا ( لیکن ) رسی نہیں اور کنواں بھی گہرا۔ عمامے باندھ کر پانی بھرا‘ وضو کیا ‘ بحمدہ تعالیٰ نماز ہوگئی۔ اب یہ فکر لاحق ہوگئی کہ طول مرض سے ضعف شدید ہے اتنے میل پیادہ (پیدل) کیونکر چلنا ہوگا
منہ پھیرکر دیکھا تو ایک جمال (اونٹ والا) محض اجنبی اپنا اونٹ لیے میرے انتظار میں کھڑا ہے۔ حمد الہی بجالایا‘ اس پر سوار ہوا۔ لوگوں نے پوچھا کہ ’’تم یہ اونٹ کیسے لائے؟ ہمیں شیخ حسین نے تاکید کر دی تھی شیخ کی خدمت میں کمی نہ کرنا۔‘‘ کچھ دور آگے چلے تھے کہ (دیکھا) میرا اپنا جمال اونٹ لیے کھڑا ہے اس سے پوچھا۔ کہا کہ جب قافلہ کے جمال نہ ٹھہرے میں نے (دل میں)کہا شیخ کو تکلیف ہوگی قافلے میں سی اونٹ کھول کر واپس لایا۔‘‘
سبحان اﷲ ! یہ ہے ذوق نماز اور شوق عبادت کہ نماز کے فوت ہونے کے اندیشے سے دل بے چین و بے قرار ہو گیا۔ وقت سے نماز ادا ہوگئی تو دل کو قرار مل گیا اور جان میں جان سی آگئی مہینوں کی طویل علالت اور ضعف شدید کی باوجود ہرطرح کی کی کلفت و مشقت سے بے پروا ہوکر قافلہ کا ساتھ چھوڑ دیا مگر ’’ احب العبادات ‘‘ نماز کو وقت سے موخر کرنا گوارا نہ فرمایا۔ ایک عاشق رسول اسے نعمت عظمیٰ سمجھتا ہے اور خدائے پاک کی اس نوازش پر وہ اس کا شکر بھی ادا کرتا ہے… یقیناً جو ہر چیز خدائے ذوالجلال کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو بہت ہی زیادہ پیاری ہو۔ وہ ایک ’’ مومن کامل‘‘ کیلئے نعمت عظمیٰ ضرور ہوگی۔
اور قربان جائیے اتباع سنت کے اس جذبہ کامل پر کہ آپ سواماہ کے بعد باہر سے اپنے وطن عزیز میں پہنچے تھے لیکن بچوں سے ملنے میں جماعت فوت ہوجائے۔’’یہ ہے نماز کی محافظت اور یہ ہے شوق سجدہ‘‘
بیماری کی حالت میں نماز:
نماز بڑی سے بڑ ی بیماری اور انتہائی کمزوری کی حالت میں بھی معاف نہیں۔ہوش و حواس اگر باقی ہوں تو ہر حال میں اس ککی ادائیگی بعض خاص صورتوں کے سوا فرض قرار دی گئی ہے۔البتہ اس کی ادائیگی کے طریقوں میں نرمی اور آسانی کا لحاظ کیا گیا ہے کہ کھڑا ہونا مشکل ہوتو عصا کے سہارے نماز پڑھو۔ بیٹھنے کی سکت نہ ہوتو کسی چیز سی ٹیک لگا لو۔ اس کی بھی قدرت نج ہو تو لیٹے لیٹے ہی اشارہ سے اس کا سجدئہ بندگی بجا لائو۔
تاجدار کائنات ﷺ کا فرمان ہے: کھٹے ہو کر نماز پڑھو اگر اتنی طات نہیں ہے تو بیٹھ کر پڑھو اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹ کر اشارہ سے ادا کرو۔
خود سرور کائنات ﷺ کا عمل رہا ہے کہ اپنی علالت و ضعف و کمزوری کی حالت میں بیٹھ کر نماز ادا کی ہے۔ اعلیٰ حضرت کی زندگی رسول اﷲ ﷺ کے ارشاد وعمل کی مکمل عملی تصویر تھی۔قیام پر قدرت ہے تو کھڑے ہو کر ہمہ تن شوق مولیٰ سے راز و نیاز میں مشغول ہیں۔بدن میں طاقت نہیں تو عصا کے سہارے قیام ہو رہا ہے اسی کے سہارے رکوع و سجود ادا ہو رہا ہیں لیکن کبھی راحت نفس کیلئے نماز نہیں چھوڑتے۔
حضرت مولانا عبد السلام صاحب علیہ الرحمتہ کے نام اپنے ایک مکتوب (مورخہ 4 ربیع الآخر 1334ھ) میں آپ نے تحریر فرماتے ہیں ’’ ڈھائی سال سے اگرچہ دردِ کمر و مثانہ و سر وغیرہ کے مرض سے دوچار ہوگئے ہیں۔ قیام و قعود‘ رکوع و سجود بذریعہ عصا ہے۔ مگر الحمدﷲ کہ دین حق پر استقامت عطا فرمائی ہے۔ کثرتِ اعداء روز افزوں ہے اور حفظ الہیٰ تفصیل نامتناہی شامل حال ہے۔ والحمد ﷲ رب العالمین۔‘‘
اعلیٰ حضرت کے قیام جبل پور کے دوران ایک روز حضرت عبدالسلام نے عرض کیا ’’ جبل پر خوش نصیب ہے کہ یہاں حضور کی صحت بہت اچھی ہے۔ بریلی شیف میں… کبھی کبھی نماز میں رکوع و سجود میں عصا کا سہارا لینا پڑتاتھا یہاں نہیں دیکھا۔‘‘
اعلیٰ حضرت اپنے مرض وفات کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔ ’’اس مرض کے ساتھ ہی شدت کھانسی و زکام او ربلغم میں لزوجت ایسی کہ دس دس جھٹکوں کے بعد بہ دشوار جدا ہوتا‘ کھانسی اس قدر شدت کی‘ اتنے جھٹکے ہوتے اور جگر و پہلو میں درد‘ ان کو جھٹکوں کی اصلا خبر نہ ہوتی‘ یہ وہ مرض تھا کہ بائیس (22 ) دن میں بازو کا گوشت صحیح پیمائش سے سوا انچ کھل گیا۔رانوں کا ابتدائی حصہ اتنا رہ گیا جتنے بائیس دن پہلے بازو تھے۔شدت قبض و ہیجان و ریاح کا سلسلہ اب تک (جاری) ہے… اب مسجد تک جانے کی طاقت نہ رہی۔ پندرہ روز پہلے اسہال (دست) شروع ہوئے اس نے بالکل گرادیا۔ نماز کی چوکی پلنگ کے برابر لگی ہے۔ الحمدﷲ کہ اب تک فرض ووتر او رصبح کی سنتیں بذریعہ عصا کھڑے ہو کر ہی پڑھتا ہوں۔ مگر جو دشواری ہوتی ہے دل جانتا ہے‘ نبض کی یہ حالت ہی ایک منٹ میں چار چار بار رک جاتی ہے دودو قرع کی قدر رکی رہتی ہے پھر باذنہ تعالیٰ چلنے لگتی ہے۔‘‘
شریعت کاقانون ہے کہ جب تک مریض کسی چیز کے سہارے قیام و قعود‘ رکوع و سجود پر قادر ہو وہ فرض و واجب بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا اور نہ ہی اسے رکوع و سجود کیلئے اشارے کی اجازت ہے۔ اس لیے آپ نفس پر مشقت و تکلیف برداشت کرکے نماز کو تمام شرائط و آداب کے ساتھ ادا کرتے ہیں مگر اپنے آقا و مولیٰ کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں کوئی کمی گوارا نہیں کرتے یہ اتباع سنت کا وہ اعلیٰ نمونہ ہے جس کی نظیر آج کے زمانہ میں نظر نہیں آتی۔
سبحان اﷲ ! یہ ہے ذوق نماز اور شوق عبادت کہ نماز کے فوت ہونے کے اندیشے سے دل بے چین و بے قرار ہو گیا۔ وقت سے نماز ادا ہوگئی تو دل کو قرار مل گیا اور جان میں جان سی آگئی مہینوں کی طویل علالت اور ضعف شدید کی باوجود ہرطرح کی کی کلفت و مشقت سے بے پروا ہوکر قافلہ کا ساتھ چھوڑ دیا مگر ’’ احب العبادات ‘‘ نماز کو وقت سے موخر کرنا گوارا نہ فرمایا۔ ایک عاشق رسول اسے نعمت عظمیٰ سمجھتا ہے اور خدائے پاک کی اس نوازش پر وہ اس کا شکر بھی ادا کرتا ہے… یقیناً جو ہر چیز خدائے ذوالجلال کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو بہت ہی زیادہ پیاری ہو۔ وہ ایک ’’ مومن کامل‘‘ کیلئے نعمت عظمیٰ ضرور ہوگی۔
اور قربان جائیے اتباع سنت کے اس جذبہ کامل پر کہ آپ سواماہ کے بعد باہر سے اپنے وطن عزیز میں پہنچے تھے لیکن بچوں سے ملنے میں جماعت فوت ہوجائے۔’’یہ ہے نماز کی محافظت اور یہ ہے شوق سجدہ‘‘
بیماری کی حالت میں نماز:
نماز بڑی سے بڑ ی بیماری اور انتہائی کمزوری کی حالت میں بھی معاف نہیں۔ہوش و حواس اگر باقی ہوں تو ہر حال میں اس ککی ادائیگی بعض خاص صورتوں کے سوا فرض قرار دی گئی ہے۔البتہ اس کی ادائیگی کے طریقوں میں نرمی اور آسانی کا لحاظ کیا گیا ہے کہ کھڑا ہونا مشکل ہوتو عصا کے سہارے نماز پڑھو۔ بیٹھنے کی سکت نہ ہوتو کسی چیز سی ٹیک لگا لو۔ اس کی بھی قدرت نج ہو تو لیٹے لیٹے ہی اشارہ سے اس کا سجدئہ بندگی بجا لائو۔
تاجدار کائنات ﷺ کا فرمان ہے: کھٹے ہو کر نماز پڑھو اگر اتنی طات نہیں ہے تو بیٹھ کر پڑھو اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹ کر اشارہ سے ادا کرو۔
خود سرور کائنات ﷺ کا عمل رہا ہے کہ اپنی علالت و ضعف و کمزوری کی حالت میں بیٹھ کر نماز ادا کی ہے۔ اعلیٰ حضرت کی زندگی رسول اﷲ ﷺ کے ارشاد وعمل کی مکمل عملی تصویر تھی۔قیام پر قدرت ہے تو کھڑے ہو کر ہمہ تن شوق مولیٰ سے راز و نیاز میں مشغول ہیں۔بدن میں طاقت نہیں تو عصا کے سہارے قیام ہو رہا ہے اسی کے سہارے رکوع و سجود ادا ہو رہا ہیں لیکن کبھی راحت نفس کیلئے نماز نہیں چھوڑتے۔
حضرت مولانا عبد السلام صاحب علیہ الرحمتہ کے نام اپنے ایک مکتوب (مورخہ 4 ربیع الآخر 1334ھ) میں آپ نے تحریر فرماتے ہیں ’’ ڈھائی سال سے اگرچہ دردِ کمر و مثانہ و سر وغیرہ کے مرض سے دوچار ہوگئے ہیں۔ قیام و قعود‘ رکوع و سجود بذریعہ عصا ہے۔ مگر الحمدﷲ کہ دین حق پر استقامت عطا فرمائی ہے۔ کثرتِ اعداء روز افزوں ہے اور حفظ الہیٰ تفصیل نامتناہی شامل حال ہے۔ والحمد ﷲ رب العالمین۔‘‘
اعلیٰ حضرت کے قیام جبل پور کے دوران ایک روز حضرت عبدالسلام نے عرض کیا ’’ جبل پر خوش نصیب ہے کہ یہاں حضور کی صحت بہت اچھی ہے۔ بریلی شیف میں… کبھی کبھی نماز میں رکوع و سجود میں عصا کا سہارا لینا پڑتاتھا یہاں نہیں دیکھا۔‘‘
اعلیٰ حضرت اپنے مرض وفات کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔ ’’اس مرض کے ساتھ ہی شدت کھانسی و زکام او ربلغم میں لزوجت ایسی کہ دس دس جھٹکوں کے بعد بہ دشوار جدا ہوتا‘ کھانسی اس قدر شدت کی‘ اتنے جھٹکے ہوتے اور جگر و پہلو میں درد‘ ان کو جھٹکوں کی اصلا خبر نہ ہوتی‘ یہ وہ مرض تھا کہ بائیس (22 ) دن میں بازو کا گوشت صحیح پیمائش سے سوا انچ کھل گیا۔رانوں کا ابتدائی حصہ اتنا رہ گیا جتنے بائیس دن پہلے بازو تھے۔شدت قبض و ہیجان و ریاح کا سلسلہ اب تک (جاری) ہے… اب مسجد تک جانے کی طاقت نہ رہی۔ پندرہ روز پہلے اسہال (دست) شروع ہوئے اس نے بالکل گرادیا۔ نماز کی چوکی پلنگ کے برابر لگی ہے۔ الحمدﷲ کہ اب تک فرض ووتر او رصبح کی سنتیں بذریعہ عصا کھڑے ہو کر ہی پڑھتا ہوں۔ مگر جو دشواری ہوتی ہے دل جانتا ہے‘ نبض کی یہ حالت ہی ایک منٹ میں چار چار بار رک جاتی ہے دودو قرع کی قدر رکی رہتی ہے پھر باذنہ تعالیٰ چلنے لگتی ہے۔‘‘
شریعت کاقانون ہے کہ جب تک مریض کسی چیز کے سہارے قیام و قعود‘ رکوع و سجود پر قادر ہو وہ فرض و واجب بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا اور نہ ہی اسے رکوع و سجود کیلئے اشارے کی اجازت ہے۔ اس لیے آپ نفس پر مشقت و تکلیف برداشت کرکے نماز کو تمام شرائط و آداب کے ساتھ ادا کرتے ہیں مگر اپنے آقا و مولیٰ کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں کوئی کمی گوارا نہیں کرتے یہ اتباع سنت کا وہ اعلیٰ نمونہ ہے جس کی نظیر آج کے زمانہ میں نظر نہیں آتی۔
ایک بار امام احمد رضا علیہ السلام اپنے علاقہ زمینداری میں سکونت پذیر تھے۔درد قولنج کے سخت دورے ہو کرتے تھے۔ ایک دن تنہا تھے۔ فرماتے ہیں ظہر کے وقت درد شروع ہوا اسی حالت میں جس طرح بنا‘ وضو کیا۔ اب نماز کو کھڑا نہیں ہوا جاتا۔ رب عزوجل سے دعا کی۔ مولیٰ مضطر کی پکار سنتا ہے۔ میں نے سنتوں کی نیت باندھ دی درد بالکل نہ تھا۔ سلام پھیرا تو اسی شدت سے تھا۔ فوراً اٹھ کر فرضوں کی نیت باندھی درد جاتا رہا جب سلام پھیرا وہی حالت تھی بعد کی سنتیں پڑھیں درد موقوف اور سلام کے بعد پھر بدستور میں نے کہا اب عصر تک ہوتا رہ۔ پلنگ پر لیٹا کروٹیں لے رہا تھا کہ درد سے کسی پہلو قرارنہ تھا۔ خواہ یہ کہیے نماز میں درد یکسر اٹھا لیا جاتا تھا یا یہ کہیے کہ توجہ الیٰ اﷲ اور استغراق عبادت کے باعث درد کا احساس نہ ہوتا تھا۔ بہر صورت امام احمد رضا علیہ السلام کی مقبولیت بارگاہ اور ذوقِعرفانی کی دلیل کافی ہے۔
(امام احمد رضا اور تصوف)
سچ کہاہے کہنے والے نے ؎
’’ عشق سچا ہے تو سب لطف و کرم تیر ے ہیں ‘‘
(امام احمد رضا اور تصوف)
سچ کہاہے کہنے والے نے ؎
’’ عشق سچا ہے تو سب لطف و کرم تیر ے ہیں ‘‘
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اویس نام کے متعلق معلومات ‼
سوال : 1
اویس نام کا درست تَلَفُّظْ کیا ہے ؟
جواب :
اویس نام کادرست تلفظ یہ ہے :
اُوَیْسْ { کمافی کتب اللغة }
نوٹ : کچھ لوگ اسکو ”اَوَیْس“
پڑھتے ہیں جو کہ درست نہیں ‼
سوال : 2
اویس نام کا معنیٰ کیا ہے ؟
جواب :
اویس "اَوْسْ" کی تَصْغِیْر ہے اور اوس کا معنیٰ بھیڑیا اور عَطِیَّہْ آتا ہے اور بعض کتب میں اویس کا معنیٰ بھیڑیا بھی لکھا ہے،
جیساکہ لسان العرب میں ہے :
"اُوَیْسُ تَصْغِیْرُ اَوْسٍ وَھُوَ مِنْ اَسْمَاءِ الذِّئْبِ"
یعنی اویس "اوس" کی تصغیر ہے اور وہ (اوس) بھیڑیے کے اسماء میں سے ہے۔
{لسان العرب جلد اول صفحہ 55 دمشق}
المحیط فی اللغة میں ہے:
"اَلْاَوْسُ اَلْعَطَاءُ"
یعنی اوس (کا معنیٰ) عطیہ ہے ۔
{المحیط فی اللغة جلد 2 صفحہ 286
القاموس الوحید جلد¹ صفحہ¹⁴¹ دارالاشاعت}
اورالمنجدمیں ہے : "اُوَیْس : بھیڑیا"
{المنجد عربی اردو ص⁴⁰ خزینہ علم وادب لاہور}
سوال : 3
اویس نام رکھنا کیسا ہے ؟
جواب :
ایک مشھور تابعی کا نام بھی (حضرت) ”اویس“(قرنی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) ہیں جنکے فضائل کُتُبِ حدیث میں موجود ہیں
{کما فی الصحیح المسلم}
اور حضور ﷺ نے بھی اس نام کو بر قرار رکھا، لہذا معنیٰ عطیہ اور نسبتِ تابعی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا لحاظ کرتے ہوئے اویس نام رکھنا بالکل جائز ہے۔
واللہ اعلم ﷻ و رسوله اعلم ﷺ
فقط والسّلام ✍ عبید رضا مدنی
18/09/2018 Tuesday 📱 03068209672
سوال : 1
اویس نام کا درست تَلَفُّظْ کیا ہے ؟
جواب :
اویس نام کادرست تلفظ یہ ہے :
اُوَیْسْ { کمافی کتب اللغة }
نوٹ : کچھ لوگ اسکو ”اَوَیْس“
پڑھتے ہیں جو کہ درست نہیں ‼
سوال : 2
اویس نام کا معنیٰ کیا ہے ؟
جواب :
اویس "اَوْسْ" کی تَصْغِیْر ہے اور اوس کا معنیٰ بھیڑیا اور عَطِیَّہْ آتا ہے اور بعض کتب میں اویس کا معنیٰ بھیڑیا بھی لکھا ہے،
جیساکہ لسان العرب میں ہے :
"اُوَیْسُ تَصْغِیْرُ اَوْسٍ وَھُوَ مِنْ اَسْمَاءِ الذِّئْبِ"
یعنی اویس "اوس" کی تصغیر ہے اور وہ (اوس) بھیڑیے کے اسماء میں سے ہے۔
{لسان العرب جلد اول صفحہ 55 دمشق}
المحیط فی اللغة میں ہے:
"اَلْاَوْسُ اَلْعَطَاءُ"
یعنی اوس (کا معنیٰ) عطیہ ہے ۔
{المحیط فی اللغة جلد 2 صفحہ 286
القاموس الوحید جلد¹ صفحہ¹⁴¹ دارالاشاعت}
اورالمنجدمیں ہے : "اُوَیْس : بھیڑیا"
{المنجد عربی اردو ص⁴⁰ خزینہ علم وادب لاہور}
سوال : 3
اویس نام رکھنا کیسا ہے ؟
جواب :
ایک مشھور تابعی کا نام بھی (حضرت) ”اویس“(قرنی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) ہیں جنکے فضائل کُتُبِ حدیث میں موجود ہیں
{کما فی الصحیح المسلم}
اور حضور ﷺ نے بھی اس نام کو بر قرار رکھا، لہذا معنیٰ عطیہ اور نسبتِ تابعی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا لحاظ کرتے ہوئے اویس نام رکھنا بالکل جائز ہے۔
واللہ اعلم ﷻ و رسوله اعلم ﷺ
فقط والسّلام ✍ عبید رضا مدنی
18/09/2018 Tuesday 📱 03068209672
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
علامہ محمد علی نقشبندی اور ان کی تصانیف
ازقلم- محمد رضوان طاہر
محقق اسلام علامہ محمد علی نقش بندی کی ولادت موضع حاجی محمد، مضافات شہر لالہ موسی ،ضلع گجرات میں 1933ء میں ہوئی
آپ حافظ،محقق،محدث،مدرس،مصنف،متقی،عابد و زاہد اور سچے عاشق رسول ﷺ تھے تدریس کا ذوق آپ کی عادت ثانیہ تھی
آپ نے جن نامور اساتذہ سے اکتساب فیض کیا ان کے اسماء درج ذیل ہیں
1-محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد چشتی
2-شارح بخاری علامہ غلام رسول رضوی
3-خلیفہ اعلی حضرت مفتی غلام جان ہزاری
4-استاذ المحدثین سید ابو البرکات احمد شاہ قادری
5-علامہ مہر الدین صاحب
آپ کاحصول علم دین کا ذوق اعلی درجہ کا تھا مطالعہ کی مصروفیت میں کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ انہیں بالکل خبر نہ ہوتی عشاء کی اذان ہو رہی ہے یا فجر کی،علامہ غلام رسول رضوی فرماتے ہیں کہ محمد علی نے مجھ سے علم پڑھا بھی ہے اور مجھ سے علم چھینا بھی ہے
آپ کوبیعت کی سعادت حضرت پیر سید نورالحسن کیلیانوالہ اور اجازت وخلافت قطب مدینہ مولانا ضیاءالدین مدنی و ابوالبرکات سید احمد شاہ قادری سے حاصل تھی
1963ء میں آپ نےبلال گنج لاہور میں جامعہ رسولیہ شیرازیہ کی بنیاد رکھی جہاں تادم آخر تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے-
#ردشیعہ۔۔
۔ ردشیعہ میں آپ کی ذات مشہور تھی تدریس کے بعد یہی آپ کا خاص موضوع تھا عظمت اہل بیت و صحابہ کرام علیھم الرضوان کے تحفظ کے لیے آپ نے شیعوں سے متعدد مناظرے کرکے انہیں شکست فاش دی،تقریر میں ان کی خوب دھلائی کرتے اور ان کے رد میں کئی ضخیم کتب لکھیں،آپ کی لائبریری رافضیت کی کتب سے بھری پڑی ہے
آپ کی اولاد میں علامہ قاری محمد طیب نقش بندی صاحب نمایاں ہیں جو کہ اسعاف الحاجہ فی شرح سنن ابن ماجہ،شرح سنن ابو داؤد، شرح معجم الصغیر للطبرانی اور تفسیر برھان القرآن جیسی کتب لکھ کر اہلسنت کے تحریری سرمایہ میں اضافہ کر چکے ہیں
#تصانیف
علامہ محمد علی نقش بندی نےچھوٹی بڑی کل دس کتب لکھی ہیں جن میں شرح موطا امام محمد 3مجلدات، دشمنان امیر معاویہ کا علمی محاسبہ 2مجلدات، تحفہ جعفریہ 5مجلدات، عقائد جعفریہ 4مجلدات اور فقہ جعفریہ 4مجلدات شامل ہیں
علامہ محمد علی نقش بندی کی موخرالذکر 3 کتب کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے
#تحفہ #جعفریہ 5 مجلدات
اس کتاب میں آپ نے درج ذیل موضوعات کو شامل کیا ہے
شیعہ مذہب کیسے وجود میں آیا؟ مسئلہ خلافت و امامت، حضرت علی کی خلافت بلا فصل پر اہل تشیع کے دلائل کے جوابات، خلفاء راشدین کی خلافت کی صداقت پر دلائل، حضرت امیر معاویہ کے فضائل، باغ فدک کی تحقیقی بحث، جنگ جمل کا تاریخی پس منظر
#عقائدجعفریہ 4مجلدات
یہ کتاب درج ذیل موضوعات پر شامل ہے
اللہ رب العزت کی شان میں اہل تشیع کی گستاخیاں، انبیاء کرام کی شان میں اہل تشیع کی گستاخیاں، امہات المومنین اور خلفاء راشدین کی شان میں اہل تشیع کی گستاخیاں، حضرت علی، سیدہ فاطمہ اور حسنین کریمین کی شان میں اہل تشیع کی گستاخیاں، امام حسن کو زخمی کرنے والے شیعہ تھے،، قتل امام حسین کے ذمہ دار شیعہ تھے، تقیہ سے متعلق اہل تشیع کے دلائل کے جوابات، بحث جنازہ رسول ﷺ، مناقب اہل بیت کرام از کتب اہل سنت-
#فقہ جعفریہ
اس کتاب کے اہم موضوعات درج ذیل ہیں
فقہ جعفریہ کے بے اصل ہونے پر دلائل، فقہ جعفریہ میں متہ کے مسائل پر تفصیلی بحث، ماتم کی بحث
نوٹ-علامہ محمد علی نقش بندی نے اپنی کتب میں درج بالا موضوعات پر سیر حاصل بحث کی ہے اور شیعہ مسلک کی مستند کتب کےہی حوالاجات دیئے ہیں- رافضیت جس تیزی سے ہمارے ملک میں پھیل رہی ہے اس کے پیش نظر آپ کی کتب کو اب مطالعہ میں رکھنا ایسے ہی ضروری ہے جیسے کبھی جاءالحق اور اس طرح کی دیگر کتب ہوتی تھیں
ان مذکورہ کتب کے علاوہ آپ کی ایک کتاب ،میزان الکتب، بھی ہے جس میں آپ نے ان کتب کی نشاندہی کی ہے جن کے لکھنے والے شیعہ تھے اور وہ خود کو سنی ظاہر کرکے لوگوں کو دھوکا دیتے رہے ان مشہور کتب میں نیا بیع المودہ، فرائط سمطین،ارجح المطالب،تذکرۃ الخواص،فضائل الطالبین،شرح نہجہ البلاغہ لابن ابی الحدید، روضۃ الصفا حبیب الیسر،،تاریخ یعقوبی، الملل و النحل عقد الفرید ، مروج الذہب،روضۃ الاحباب،کفایۃ الطالب وغیرہ
#وفات-
علامہ محمد علی نقش بندی کی تاریخ وفات 28 صفر المظفر1418ھ--14 جولائی 1996ء ہےاور تدفین میانی قبرستان لاہورمیں ہوئی
ازقلم- محمد رضوان طاہر
محقق اسلام علامہ محمد علی نقش بندی کی ولادت موضع حاجی محمد، مضافات شہر لالہ موسی ،ضلع گجرات میں 1933ء میں ہوئی
آپ حافظ،محقق،محدث،مدرس،مصنف،متقی،عابد و زاہد اور سچے عاشق رسول ﷺ تھے تدریس کا ذوق آپ کی عادت ثانیہ تھی
آپ نے جن نامور اساتذہ سے اکتساب فیض کیا ان کے اسماء درج ذیل ہیں
1-محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد چشتی
2-شارح بخاری علامہ غلام رسول رضوی
3-خلیفہ اعلی حضرت مفتی غلام جان ہزاری
4-استاذ المحدثین سید ابو البرکات احمد شاہ قادری
5-علامہ مہر الدین صاحب
آپ کاحصول علم دین کا ذوق اعلی درجہ کا تھا مطالعہ کی مصروفیت میں کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ انہیں بالکل خبر نہ ہوتی عشاء کی اذان ہو رہی ہے یا فجر کی،علامہ غلام رسول رضوی فرماتے ہیں کہ محمد علی نے مجھ سے علم پڑھا بھی ہے اور مجھ سے علم چھینا بھی ہے
آپ کوبیعت کی سعادت حضرت پیر سید نورالحسن کیلیانوالہ اور اجازت وخلافت قطب مدینہ مولانا ضیاءالدین مدنی و ابوالبرکات سید احمد شاہ قادری سے حاصل تھی
1963ء میں آپ نےبلال گنج لاہور میں جامعہ رسولیہ شیرازیہ کی بنیاد رکھی جہاں تادم آخر تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے-
#ردشیعہ۔۔
۔ ردشیعہ میں آپ کی ذات مشہور تھی تدریس کے بعد یہی آپ کا خاص موضوع تھا عظمت اہل بیت و صحابہ کرام علیھم الرضوان کے تحفظ کے لیے آپ نے شیعوں سے متعدد مناظرے کرکے انہیں شکست فاش دی،تقریر میں ان کی خوب دھلائی کرتے اور ان کے رد میں کئی ضخیم کتب لکھیں،آپ کی لائبریری رافضیت کی کتب سے بھری پڑی ہے
آپ کی اولاد میں علامہ قاری محمد طیب نقش بندی صاحب نمایاں ہیں جو کہ اسعاف الحاجہ فی شرح سنن ابن ماجہ،شرح سنن ابو داؤد، شرح معجم الصغیر للطبرانی اور تفسیر برھان القرآن جیسی کتب لکھ کر اہلسنت کے تحریری سرمایہ میں اضافہ کر چکے ہیں
#تصانیف
علامہ محمد علی نقش بندی نےچھوٹی بڑی کل دس کتب لکھی ہیں جن میں شرح موطا امام محمد 3مجلدات، دشمنان امیر معاویہ کا علمی محاسبہ 2مجلدات، تحفہ جعفریہ 5مجلدات، عقائد جعفریہ 4مجلدات اور فقہ جعفریہ 4مجلدات شامل ہیں
علامہ محمد علی نقش بندی کی موخرالذکر 3 کتب کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے
#تحفہ #جعفریہ 5 مجلدات
اس کتاب میں آپ نے درج ذیل موضوعات کو شامل کیا ہے
شیعہ مذہب کیسے وجود میں آیا؟ مسئلہ خلافت و امامت، حضرت علی کی خلافت بلا فصل پر اہل تشیع کے دلائل کے جوابات، خلفاء راشدین کی خلافت کی صداقت پر دلائل، حضرت امیر معاویہ کے فضائل، باغ فدک کی تحقیقی بحث، جنگ جمل کا تاریخی پس منظر
#عقائدجعفریہ 4مجلدات
یہ کتاب درج ذیل موضوعات پر شامل ہے
اللہ رب العزت کی شان میں اہل تشیع کی گستاخیاں، انبیاء کرام کی شان میں اہل تشیع کی گستاخیاں، امہات المومنین اور خلفاء راشدین کی شان میں اہل تشیع کی گستاخیاں، حضرت علی، سیدہ فاطمہ اور حسنین کریمین کی شان میں اہل تشیع کی گستاخیاں، امام حسن کو زخمی کرنے والے شیعہ تھے،، قتل امام حسین کے ذمہ دار شیعہ تھے، تقیہ سے متعلق اہل تشیع کے دلائل کے جوابات، بحث جنازہ رسول ﷺ، مناقب اہل بیت کرام از کتب اہل سنت-
#فقہ جعفریہ
اس کتاب کے اہم موضوعات درج ذیل ہیں
فقہ جعفریہ کے بے اصل ہونے پر دلائل، فقہ جعفریہ میں متہ کے مسائل پر تفصیلی بحث، ماتم کی بحث
نوٹ-علامہ محمد علی نقش بندی نے اپنی کتب میں درج بالا موضوعات پر سیر حاصل بحث کی ہے اور شیعہ مسلک کی مستند کتب کےہی حوالاجات دیئے ہیں- رافضیت جس تیزی سے ہمارے ملک میں پھیل رہی ہے اس کے پیش نظر آپ کی کتب کو اب مطالعہ میں رکھنا ایسے ہی ضروری ہے جیسے کبھی جاءالحق اور اس طرح کی دیگر کتب ہوتی تھیں
ان مذکورہ کتب کے علاوہ آپ کی ایک کتاب ،میزان الکتب، بھی ہے جس میں آپ نے ان کتب کی نشاندہی کی ہے جن کے لکھنے والے شیعہ تھے اور وہ خود کو سنی ظاہر کرکے لوگوں کو دھوکا دیتے رہے ان مشہور کتب میں نیا بیع المودہ، فرائط سمطین،ارجح المطالب،تذکرۃ الخواص،فضائل الطالبین،شرح نہجہ البلاغہ لابن ابی الحدید، روضۃ الصفا حبیب الیسر،،تاریخ یعقوبی، الملل و النحل عقد الفرید ، مروج الذہب،روضۃ الاحباب،کفایۃ الطالب وغیرہ
#وفات-
علامہ محمد علی نقش بندی کی تاریخ وفات 28 صفر المظفر1418ھ--14 جولائی 1996ء ہےاور تدفین میانی قبرستان لاہورمیں ہوئی
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی
✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰:
Ajmal Khan:
محترم علمائے اہلسنت
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع
متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
گاؤں دیہات میں کُچھ عورتیں بکری کے بچہ کو دودھ پلا دیتی ہیں، اب وہ بکری کے اس بچے کا گوشت کھا سکتی ہیں یا نہیں، جسے پہلے دودھ پلایا تھا، اسی طرح دوسری بکری کے دوسرے بچوں کا گوشت کھا سکتی ہیں یا نہیں ؟ ہمارے یہاں عورتیں بکری کے کسی بچے کو دودھ پلانے کے بعد تمام بکری اور بکرے کا گوشت کھانا بند کر دیتی ہیں !
المستفتی : اجمل خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
جواب : بکری کے جس بچہ نے عورت کا دودھ پیا اگر دودھ چھوڑ کر کچھ دنوں تک گھاس وغیرہ کھاتا رہا تو اس کا گوشت کھانا شرعا جائز ہے اس لئے کہ گدھی اور سور کے دودھ جو اشد حرام ہیں ان سے پرورش یافتہ بکرے کا گوشت کھانے میں بھی شرعا حرج نہیں فتاوی عالمگیری مصری ج 5 ص 256 پر ہے " الجدى اذا كان يربى بلبن الاتان و الخنزير ان اعتلف اياما فلا بأس ۔ یعنی بکری کا بچہ جس کی پرورش گدھی اور خنزیر کے دودھ سے ہوتی رہی اور دودھ چھوڑکر کچھ دنوں تک گھاس کھاتا رہا تو اسکا گوشت کھانےمیں کوئی حرج نہیں " اھ ( فتاوی فیض الرسول ج 2 ص 430 )
لہذا مذکورہ باتوں سےثابت ہوا جس بچے کو عورت نے اپنا دودھ پیلایا اس کا گوشت کھانا شرعاجائز ہے لیکن عورتوں کو ایسی حرکتوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
Ajmal Khan:
محترم علمائے اہلسنت
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع
متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
گاؤں دیہات میں کُچھ عورتیں بکری کے بچہ کو دودھ پلا دیتی ہیں، اب وہ بکری کے اس بچے کا گوشت کھا سکتی ہیں یا نہیں، جسے پہلے دودھ پلایا تھا، اسی طرح دوسری بکری کے دوسرے بچوں کا گوشت کھا سکتی ہیں یا نہیں ؟ ہمارے یہاں عورتیں بکری کے کسی بچے کو دودھ پلانے کے بعد تمام بکری اور بکرے کا گوشت کھانا بند کر دیتی ہیں !
المستفتی : اجمل خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
جواب : بکری کے جس بچہ نے عورت کا دودھ پیا اگر دودھ چھوڑ کر کچھ دنوں تک گھاس وغیرہ کھاتا رہا تو اس کا گوشت کھانا شرعا جائز ہے اس لئے کہ گدھی اور سور کے دودھ جو اشد حرام ہیں ان سے پرورش یافتہ بکرے کا گوشت کھانے میں بھی شرعا حرج نہیں فتاوی عالمگیری مصری ج 5 ص 256 پر ہے " الجدى اذا كان يربى بلبن الاتان و الخنزير ان اعتلف اياما فلا بأس ۔ یعنی بکری کا بچہ جس کی پرورش گدھی اور خنزیر کے دودھ سے ہوتی رہی اور دودھ چھوڑکر کچھ دنوں تک گھاس کھاتا رہا تو اسکا گوشت کھانےمیں کوئی حرج نہیں " اھ ( فتاوی فیض الرسول ج 2 ص 430 )
لہذا مذکورہ باتوں سےثابت ہوا جس بچے کو عورت نے اپنا دودھ پیلایا اس کا گوشت کھانا شرعاجائز ہے لیکن عورتوں کو ایسی حرکتوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مفتئ اعظم ماہ و سال کے آئینے میں ‼
✍مولانا اختر الاسلام علیمی مبارک پور
📖 جہان مفتئ اعظم صفحہ ¹¹²⁸ تا ¹¹³⁰
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
✍مولانا اختر الاسلام علیمی مبارک پور
📖 جہان مفتئ اعظم صفحہ ¹¹²⁸ تا ¹¹³⁰
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
مفتئ اعظم ماہ و سال کے آئینے میں ‼
✍مولانا اختر الاسلام علیمی مبارک پور
📖 جہان مفتئ اعظم صفحہ ¹¹²⁸ تا ¹¹³⁰
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
✍مولانا اختر الاسلام علیمی مبارک پور
📖 جہان مفتئ اعظم صفحہ ¹¹²⁸ تا ¹¹³⁰
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge