🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-09-1443 ᴴ | 19-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-09-1443 ᴴ | 20-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-09-1443 ᴴ | 20-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-09-1443 ᴴ | 20-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤3👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
فضائل و مناقب ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/332164609019585/
محترم قارئینِ کرام : ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ۔ جو مومنہ ، مہاجرہ اور بیوہ تھیں ۔ ان کے بعد نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے شادی فرمائی ۔ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن میں یہی کنواری تھیں اور سب سے زیادہ ذہین اور مضبوط حافظے کی مالکہ تھیں ۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنی جملہ ازواج میں سب سے زیادہ محبت و الفت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی سے فرماتے تھے ۔ علم و فضل اور زہد و تقویٰ میں ان کا رتبہ بڑا بلند تھا ۔ بل کہ اکثر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ عالمہ بھی تھیں اور بڑے بڑے علما صحابہ آپ سے بعض ایسے احکام کے بارے میں سوال کرتے تھے جو انہیں مشکل لگتے تھے ۔ شیخ الاسلام والمسلمین اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں : ⬇
بنتِ صدیقِ آرامِ جانِ نبی
اُس حریمِ برأت پہ لاکھوں سلام
یعنی ہے سورۂ نور جسکی گواہ
ان کی پر نور صورت پے لاکھوں سلام
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بنت امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق عتیق رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت 5 سال بعد اظہار نبوت مطابق شوال المکرم 615 عیسوی مکہ المکرمہ میں ہوئی ۔ نام نامی عائشہ لقب صدیقہ خطاب حمیرا* اور ام عبداللہ کنیت ۔
والد محترم کی طرف سے قریش کے خاندان بنوتمیم سے تھیں ۔
سلسلہ نسب حضرت عائشہ بنت امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما بن عثمان ابی قحافہ بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تمیم بن مرہ بن کعب بن لوئ ۔
اور ماں صاحبہ کی طرف سے آپ کنانیہ مشہور تھیں اس کی تشریح اس طرح ہے حضرت عائشہ بنت حضرت ام رومان بنت عمیر بن عامر بن وہمان بن حارث بن غنم بن مالک بن کنانہ ۔ (طبقات ابن سعد جلد 8 صفحہ 39)
والدہ محترمہ کا نام ام رومان بنت عامر تھا اور یہ بھی جلیل القدر صحابیہ تھیں ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ طفولیت امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق عتیق رضی اللہ تعالٰی عنہ جیسے جلیل القدر باپ کے زیر سایہ بسرہوا. وہ بچپن ہی سے بے حد ذہین ‘ہوشمند تھیں ‘ اپنے بچپن کی تمام باتیں انہیں آخری عمر تک یاد تھیں کہاجاتا ہے کہ کسی دوسرے صحابی یاصحابیہ کی یادداشت اتنی قوی نہ تھی ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا پیدائشی مسلمان تھیں , آپ سے روایت ہے کہ جب میں نے اپنے والدین کو پہچانا تو انہیں مسلمان پایا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر روز ازل سے ہی کفر و شرک کا سایہ تک نہ پڑا ۔
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مَیں نے طب ، فقہ اور شعر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں دیکھا ۔ ‘‘ احادیث اور سیرت کی کتابیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بیش بہا علم اور سمجھ داری کی گواہ ہیں ۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمانا بڑی حکمتوں کا حامل تھا ۔ چناں چہ عورتوں سے متعلق اکثر احکام و مسائل آپ ہی سے روایت کردہ ہیں ۔ آپ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے سوالات کرتیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جو باتیں ارشاد فرماتے انھیں ازبر کر لیتیں ۔ یہی وجہ ہے حدیث کی کتابوں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کردہ حدیثوں کی کافی تعداد ہے ۔ امام بخاری اور امام مسلم علیہم الرحمۃ کے مطابق حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کے علاوہ کسی دوسرے صحابی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ حدیث روایت نہیں کی ۔ شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ ’’نزہۃ القاری شرح بخاری‘‘ میں لکھتے ہیں کہ : اِن (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) سے ۲۲۱۰؍ حدیثیں مروی ہیں ، علما فرماتے ہیں کہ دین کا چوتھائی حصہ آپ سے مروی ہے ۔ (نزہۃ القاری شرح بخاری ص ۱۷۷،چشتی)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی سیرت اور کردار پر یوں تو کئی ضخیم کتابیں لکھی گئیں ۔ رحمانی پبلی کیشنز کی تاریخی شخصیات سیریز کے لیے بچّوں کی عمر اور ان کی نفسیات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پیشِ نظر کتاب تالیف کی گئی ہے بہ ظاہر اسے کوئی اضافہ نہ قرار دیا جائے لیکن پھر بھی اس کتاب سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مختصر سوانح اور آپ کی زندگی کے اہم واقعات سے آگاہی ہو جاتی ہے۔ اہل علم سے التماس ہے کہ کتاب پر اپنی گراں قدر رائے سے ضرور نوازیں ۔
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/332164609019585/
محترم قارئینِ کرام : ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ۔ جو مومنہ ، مہاجرہ اور بیوہ تھیں ۔ ان کے بعد نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے شادی فرمائی ۔ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن میں یہی کنواری تھیں اور سب سے زیادہ ذہین اور مضبوط حافظے کی مالکہ تھیں ۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنی جملہ ازواج میں سب سے زیادہ محبت و الفت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی سے فرماتے تھے ۔ علم و فضل اور زہد و تقویٰ میں ان کا رتبہ بڑا بلند تھا ۔ بل کہ اکثر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ عالمہ بھی تھیں اور بڑے بڑے علما صحابہ آپ سے بعض ایسے احکام کے بارے میں سوال کرتے تھے جو انہیں مشکل لگتے تھے ۔ شیخ الاسلام والمسلمین اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں : ⬇
بنتِ صدیقِ آرامِ جانِ نبی
اُس حریمِ برأت پہ لاکھوں سلام
یعنی ہے سورۂ نور جسکی گواہ
ان کی پر نور صورت پے لاکھوں سلام
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بنت امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق عتیق رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت 5 سال بعد اظہار نبوت مطابق شوال المکرم 615 عیسوی مکہ المکرمہ میں ہوئی ۔ نام نامی عائشہ لقب صدیقہ خطاب حمیرا* اور ام عبداللہ کنیت ۔
والد محترم کی طرف سے قریش کے خاندان بنوتمیم سے تھیں ۔
سلسلہ نسب حضرت عائشہ بنت امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما بن عثمان ابی قحافہ بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تمیم بن مرہ بن کعب بن لوئ ۔
اور ماں صاحبہ کی طرف سے آپ کنانیہ مشہور تھیں اس کی تشریح اس طرح ہے حضرت عائشہ بنت حضرت ام رومان بنت عمیر بن عامر بن وہمان بن حارث بن غنم بن مالک بن کنانہ ۔ (طبقات ابن سعد جلد 8 صفحہ 39)
والدہ محترمہ کا نام ام رومان بنت عامر تھا اور یہ بھی جلیل القدر صحابیہ تھیں ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ طفولیت امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق عتیق رضی اللہ تعالٰی عنہ جیسے جلیل القدر باپ کے زیر سایہ بسرہوا. وہ بچپن ہی سے بے حد ذہین ‘ہوشمند تھیں ‘ اپنے بچپن کی تمام باتیں انہیں آخری عمر تک یاد تھیں کہاجاتا ہے کہ کسی دوسرے صحابی یاصحابیہ کی یادداشت اتنی قوی نہ تھی ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا پیدائشی مسلمان تھیں , آپ سے روایت ہے کہ جب میں نے اپنے والدین کو پہچانا تو انہیں مسلمان پایا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر روز ازل سے ہی کفر و شرک کا سایہ تک نہ پڑا ۔
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مَیں نے طب ، فقہ اور شعر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں دیکھا ۔ ‘‘ احادیث اور سیرت کی کتابیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بیش بہا علم اور سمجھ داری کی گواہ ہیں ۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمانا بڑی حکمتوں کا حامل تھا ۔ چناں چہ عورتوں سے متعلق اکثر احکام و مسائل آپ ہی سے روایت کردہ ہیں ۔ آپ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے سوالات کرتیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جو باتیں ارشاد فرماتے انھیں ازبر کر لیتیں ۔ یہی وجہ ہے حدیث کی کتابوں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کردہ حدیثوں کی کافی تعداد ہے ۔ امام بخاری اور امام مسلم علیہم الرحمۃ کے مطابق حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کے علاوہ کسی دوسرے صحابی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ حدیث روایت نہیں کی ۔ شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ ’’نزہۃ القاری شرح بخاری‘‘ میں لکھتے ہیں کہ : اِن (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) سے ۲۲۱۰؍ حدیثیں مروی ہیں ، علما فرماتے ہیں کہ دین کا چوتھائی حصہ آپ سے مروی ہے ۔ (نزہۃ القاری شرح بخاری ص ۱۷۷،چشتی)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی سیرت اور کردار پر یوں تو کئی ضخیم کتابیں لکھی گئیں ۔ رحمانی پبلی کیشنز کی تاریخی شخصیات سیریز کے لیے بچّوں کی عمر اور ان کی نفسیات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پیشِ نظر کتاب تالیف کی گئی ہے بہ ظاہر اسے کوئی اضافہ نہ قرار دیا جائے لیکن پھر بھی اس کتاب سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مختصر سوانح اور آپ کی زندگی کے اہم واقعات سے آگاہی ہو جاتی ہے۔ اہل علم سے التماس ہے کہ کتاب پر اپنی گراں قدر رائے سے ضرور نوازیں ۔
❤1👍1
ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نام ’’عائشہ‘‘ اور لقب ’’صدیقہ‘‘ اور ’’ حمیرا‘‘ ہے۔ اُن کی کنیت ’’اُم عبداللہ ‘‘ اور خطاب ’’ اُم المؤمنین‘‘ ہے۔ آپ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سب سے محبوب بیوی ہیں ۔ آپ کے والد ماجد خلیفۂ اول امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور والدۂ ماجدہ مشہور صحابیہ حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا ہیں ۔ والدِ گرامی حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپ کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے : عائشہ بنت ابو بکر بن ابو قحافہ بن عثمان بن عامر بن عمر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک ۔
والدۂ ماجدہ حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا کی طرف سے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے : ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبد شمس بن عتاب بن اذنیہ بن سبع بن دھمان بن حارث بن غتم بن مالک بن کنانہ ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا سلسلۂ نسب ساتویں پشت میں جا کر مل جاتا ہے اور والدۂ ماجدہ حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا کی طرف سے بارہویں پشت پر کنانہ سے جا ملتا ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے والدِ ماجد حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا ۔ اعلانِ نبوت سے پہلے اور بعد نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سفر و حضر کے ساتھی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے جو بے مثال قربانیاں ہیں وہ اسلامی تاریخ کے صفحات پر جگمگا رہی ہیں ۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے یارِ غار اور مسلمانوں کے پہلے خلیفہ کے لقب سے سرفراز ہوئے ۔ آپ کی شرافت اور بزرگی بڑی بے مثال ہے ، وصال کے بعد بھی آپ کو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی والدۂ ماجدہ حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا بھی اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے لیے اپنی بے لوث خدمات کی وجہ سے عظیم المرتبت صحابیات میں نمایاں مقام کی حامل ہیں ۔آپ کی وفات ۶ ھ میں ہوئی ۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود اُن کی قبر میں اترے اور فرمایا کہ : جو کوئی جنت کی حورِ عین کو دیکھنا چاہتا ہو وہ امِ رومان (رضی اللہ عنہا) کو دیکھ لے ۔
اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی والدۂ ماجدہ حضرت اُم رومان رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح عبداللہ ازدی سے ہوا ۔ عبداللہ کی موت کے بعد آپ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کے بطن سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ایک بیٹا حضرت عبدالرحمان اور ایک بیٹی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما نصیب فرمائے ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خلیفۃ المسلمین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس مقدس اور مبارک خاندان میں پیدا ہوئیں ۔ جس میں سب سے پہلے اسلام کی کرنوں نے اپنا اجالا بکھیرا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا گھر ابتدا ہی سے نبوت کے نور سے روشن و منور رہا ۔ کفر و شرک کا اس گھرا نے میں دور دور تک پتا نہ تھا اسی نورانی ماحول میں آنکھ کھولنے والی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا دامن بھی ہمیشہ کفر و شرک کی گندگیوں سے پاک و صاف رہا ۔ بچپن ہی سے آپ نے اسلامی اور ایمانی فضا میں اپنی گزر بسر کی ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بچپن ہی سے بے پناہ ذہین اور مثالی قوتِ حافظہ کی مالکہ تھیں ۔ آپ کے والدِ ماجد خلیفۃ المسلمین سیدناصدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی بڑے علم و فضل والے اور حکمت و دانائی کے مجموعہ تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی دوسری اولاد کی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خصوصی تربیت فرمائی ۔ اور انھیں تاریخ و ادب کے علاوہ اُس زمانے کے ضروری علوم بھی پڑھائے ۔ جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ہو گیا اُس کے بعد بھی اُن کے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تعلیم و تربیت فرماتے رہے۔ والدِ ماجد کی اِن ہی تربیت کا اثر تھا کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ نکاح میں آ جانے کی وجہ سے مسلمان عورتوں کے زیادہ ترمسائل اور اُن کی ضروریات کی باتیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے توسط سے ہی پہنچیں ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے والدِ گرامی کے زیرِ سایا تعلیم و تربیت حاصل کرتی رہیں اور جلد ہی انھوں نے اپنے خداداد مثالی قوتِ حافظہ اور ذہن کی وجہ سے علوم و فنون میں مہارت حاصل کر لی۔ جب آپ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نکاح میں آ گئیں تو یہ دور اُن کی تعلیم و تربیت کا حقیقی دور بنا۔ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّمکے کاشانۂ اقدس میں آ کر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جو کچھ سیکھا وہ آج پوری امتِ مسلمہ
والدۂ ماجدہ حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا کی طرف سے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے : ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبد شمس بن عتاب بن اذنیہ بن سبع بن دھمان بن حارث بن غتم بن مالک بن کنانہ ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا سلسلۂ نسب ساتویں پشت میں جا کر مل جاتا ہے اور والدۂ ماجدہ حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا کی طرف سے بارہویں پشت پر کنانہ سے جا ملتا ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے والدِ ماجد حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا ۔ اعلانِ نبوت سے پہلے اور بعد نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سفر و حضر کے ساتھی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے جو بے مثال قربانیاں ہیں وہ اسلامی تاریخ کے صفحات پر جگمگا رہی ہیں ۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے یارِ غار اور مسلمانوں کے پہلے خلیفہ کے لقب سے سرفراز ہوئے ۔ آپ کی شرافت اور بزرگی بڑی بے مثال ہے ، وصال کے بعد بھی آپ کو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی والدۂ ماجدہ حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا بھی اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے لیے اپنی بے لوث خدمات کی وجہ سے عظیم المرتبت صحابیات میں نمایاں مقام کی حامل ہیں ۔آپ کی وفات ۶ ھ میں ہوئی ۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود اُن کی قبر میں اترے اور فرمایا کہ : جو کوئی جنت کی حورِ عین کو دیکھنا چاہتا ہو وہ امِ رومان (رضی اللہ عنہا) کو دیکھ لے ۔
اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی والدۂ ماجدہ حضرت اُم رومان رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح عبداللہ ازدی سے ہوا ۔ عبداللہ کی موت کے بعد آپ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کے بطن سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ایک بیٹا حضرت عبدالرحمان اور ایک بیٹی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما نصیب فرمائے ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خلیفۃ المسلمین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس مقدس اور مبارک خاندان میں پیدا ہوئیں ۔ جس میں سب سے پہلے اسلام کی کرنوں نے اپنا اجالا بکھیرا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا گھر ابتدا ہی سے نبوت کے نور سے روشن و منور رہا ۔ کفر و شرک کا اس گھرا نے میں دور دور تک پتا نہ تھا اسی نورانی ماحول میں آنکھ کھولنے والی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا دامن بھی ہمیشہ کفر و شرک کی گندگیوں سے پاک و صاف رہا ۔ بچپن ہی سے آپ نے اسلامی اور ایمانی فضا میں اپنی گزر بسر کی ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بچپن ہی سے بے پناہ ذہین اور مثالی قوتِ حافظہ کی مالکہ تھیں ۔ آپ کے والدِ ماجد خلیفۃ المسلمین سیدناصدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی بڑے علم و فضل والے اور حکمت و دانائی کے مجموعہ تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی دوسری اولاد کی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خصوصی تربیت فرمائی ۔ اور انھیں تاریخ و ادب کے علاوہ اُس زمانے کے ضروری علوم بھی پڑھائے ۔ جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ہو گیا اُس کے بعد بھی اُن کے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تعلیم و تربیت فرماتے رہے۔ والدِ ماجد کی اِن ہی تربیت کا اثر تھا کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ نکاح میں آ جانے کی وجہ سے مسلمان عورتوں کے زیادہ ترمسائل اور اُن کی ضروریات کی باتیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے توسط سے ہی پہنچیں ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے والدِ گرامی کے زیرِ سایا تعلیم و تربیت حاصل کرتی رہیں اور جلد ہی انھوں نے اپنے خداداد مثالی قوتِ حافظہ اور ذہن کی وجہ سے علوم و فنون میں مہارت حاصل کر لی۔ جب آپ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نکاح میں آ گئیں تو یہ دور اُن کی تعلیم و تربیت کا حقیقی دور بنا۔ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّمکے کاشانۂ اقدس میں آ کر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جو کچھ سیکھا وہ آج پوری امتِ مسلمہ
❤1👍1
خصوصاً مسلمان عورتوں کے لیے بھلائی اور نجات کا سامان بنا ہوا ہے ۔
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پوری کائنات کے معلمِ اعظم کی حیثیت سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی تربیت فرماتے رہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنی جملہ ازواج کے ایک ایک فعل کی نگرانی فرماتے اور کہیں کوئی لغزش نظر آتی تو فوراً اصلاح فرماتے ۔اس سلسلے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو جو امتیاز حاصل ہوا وہ ایک مثال رکھتا ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر شریف نکاح کے وقت کم تھی اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے ذریعہ امت کی عورتوں کی تعلیم و تربیت کا کام لینا مقصود تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اللہ رب العزت نے ذہانت عطا فرمائی تھی اس کے ہوتے آپ کے سامنے جب بھی کوئی مسئلہ درپیش آتا تو آپ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے پوچھ لیتیں اور جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مسئلہ واضح فرما دیتے تو وہ انھیں ازبر کر لیتیں ۔ یہی وجہ ہے حدیث کی کتابوں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کردہ حدیثوں کی کافی تعداد ہے ۔ امام بخاری اور امام مسلم علیہم الرحمۃ کے مطابق حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کے علاوہ کسی دوسرے صحابی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ حدیث روایت نہیں کی ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پڑھنے کے ساتھ لکھنا بھی سیکھا ، ناظرہ قرآن پڑھا ، علم انساب سے واقفیت حاصل کی ، علمِ طب میں مہارت پیدا کی ، شریعت کے باریک باریک نکات یاد کیے،خطابت میں عبور حاصل کیا، ضروریاتِ دین اور قرآنی و نبوی علوم میں ملکہ پیدا کیا۔ اللہ جل شانہٗ نے آپ رضی اللہ عنہا کو قرآن و سنت سے مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے کا شعور بخشا ۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صحبت کے اثر نے آپ کو امت کی ایک بہترین فقیہ اور عالمہ بنا دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے صحابہ مشکل سے مشکل مسائل میں آپ کی طرف رجوع کرتے اور تسلی بخش جواب پاتے ۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کنیت
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی کنیت ام عبداللہ ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے کنیت مقرر کرنے کی درخواست کی چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھانجے ( یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ)سے اپنی کنیت رکھ لو ۔ ایک اور روایت میں آیا ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاجب اپنی بہن کے نوزائیدہ فرزند حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بارگاہِ رسالت میں لے کر حاضر ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کے منہ میں لعاب دہن ڈال کر فرمایا :یہ عبداللہ ہے اور تم ام عبداللہرضی اللہ تعالیٰ عنہما ۔ (مدارج النبوت قسم پنجم باب دوم جلد ۲ صفحہ ۴۶۸،چشتی)
خواب میں سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی صورت
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں :رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:تم تین راتیں مجھے خواب میں دکھائی گئیں ایک فرشتہ تمہیں (تمہاری تصویر)ریشم کے ایک ٹکڑے میں لے کر آیااوراس نے کہا:یہ آپ کی زوجہ ہیں ان کاچہرہ کھولئے۔ پس میں نے دیکھاتووہ تم تھیں میں نے کہا:اگریہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تووہ اسے پوراکرے گا ۔ (صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فی فضل عائشۃ، الحدیث۲۴۳۸ ،ص ۱۳۲۴،چشتی)
دوسری روایت میں یہ لفظ بھی ہیں ، یہ تمہاری زوجہ ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔ (سنن الترمذی،کتاب المناقب ،باب فضل عائشۃ الحدیث ۳۹۰۶، ج۵،ص۴۷۰)
سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور پیغام سنایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نکاح عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے فرمادیا ہے ، اوران کے پاس عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک تصویرتھی۔(شرح العلامۃ الزرقانی،المقصد الثانی،الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاہرات،ج۴،ص۳۸۷)
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا نکاح مدینہ طیبہ میں چھ سال کی عمر میں ماہ شوال میں ہوا،اور ماہِ شوال ہی میں نو سال کی عمر میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں نو سال تک رہیں ۔ جب سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے وصال فرمایا تو اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی عمر اٹھارہ سال تھی ۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد،ذکرازواج رسول اللہ جلد ۸ صفحہ ۴۶،۴۸،چشتی)
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پوری کائنات کے معلمِ اعظم کی حیثیت سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی تربیت فرماتے رہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنی جملہ ازواج کے ایک ایک فعل کی نگرانی فرماتے اور کہیں کوئی لغزش نظر آتی تو فوراً اصلاح فرماتے ۔اس سلسلے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو جو امتیاز حاصل ہوا وہ ایک مثال رکھتا ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر شریف نکاح کے وقت کم تھی اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے ذریعہ امت کی عورتوں کی تعلیم و تربیت کا کام لینا مقصود تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اللہ رب العزت نے ذہانت عطا فرمائی تھی اس کے ہوتے آپ کے سامنے جب بھی کوئی مسئلہ درپیش آتا تو آپ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے پوچھ لیتیں اور جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مسئلہ واضح فرما دیتے تو وہ انھیں ازبر کر لیتیں ۔ یہی وجہ ہے حدیث کی کتابوں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کردہ حدیثوں کی کافی تعداد ہے ۔ امام بخاری اور امام مسلم علیہم الرحمۃ کے مطابق حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کے علاوہ کسی دوسرے صحابی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ حدیث روایت نہیں کی ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پڑھنے کے ساتھ لکھنا بھی سیکھا ، ناظرہ قرآن پڑھا ، علم انساب سے واقفیت حاصل کی ، علمِ طب میں مہارت پیدا کی ، شریعت کے باریک باریک نکات یاد کیے،خطابت میں عبور حاصل کیا، ضروریاتِ دین اور قرآنی و نبوی علوم میں ملکہ پیدا کیا۔ اللہ جل شانہٗ نے آپ رضی اللہ عنہا کو قرآن و سنت سے مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے کا شعور بخشا ۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صحبت کے اثر نے آپ کو امت کی ایک بہترین فقیہ اور عالمہ بنا دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے صحابہ مشکل سے مشکل مسائل میں آپ کی طرف رجوع کرتے اور تسلی بخش جواب پاتے ۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کنیت
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی کنیت ام عبداللہ ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے کنیت مقرر کرنے کی درخواست کی چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھانجے ( یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ)سے اپنی کنیت رکھ لو ۔ ایک اور روایت میں آیا ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاجب اپنی بہن کے نوزائیدہ فرزند حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بارگاہِ رسالت میں لے کر حاضر ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کے منہ میں لعاب دہن ڈال کر فرمایا :یہ عبداللہ ہے اور تم ام عبداللہرضی اللہ تعالیٰ عنہما ۔ (مدارج النبوت قسم پنجم باب دوم جلد ۲ صفحہ ۴۶۸،چشتی)
خواب میں سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی صورت
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں :رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:تم تین راتیں مجھے خواب میں دکھائی گئیں ایک فرشتہ تمہیں (تمہاری تصویر)ریشم کے ایک ٹکڑے میں لے کر آیااوراس نے کہا:یہ آپ کی زوجہ ہیں ان کاچہرہ کھولئے۔ پس میں نے دیکھاتووہ تم تھیں میں نے کہا:اگریہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تووہ اسے پوراکرے گا ۔ (صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فی فضل عائشۃ، الحدیث۲۴۳۸ ،ص ۱۳۲۴،چشتی)
دوسری روایت میں یہ لفظ بھی ہیں ، یہ تمہاری زوجہ ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔ (سنن الترمذی،کتاب المناقب ،باب فضل عائشۃ الحدیث ۳۹۰۶، ج۵،ص۴۷۰)
سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور پیغام سنایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نکاح عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے فرمادیا ہے ، اوران کے پاس عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک تصویرتھی۔(شرح العلامۃ الزرقانی،المقصد الثانی،الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاہرات،ج۴،ص۳۸۷)
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا نکاح مدینہ طیبہ میں چھ سال کی عمر میں ماہ شوال میں ہوا،اور ماہِ شوال ہی میں نو سال کی عمر میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں نو سال تک رہیں ۔ جب سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے وصال فرمایا تو اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی عمر اٹھارہ سال تھی ۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد،ذکرازواج رسول اللہ جلد ۸ صفحہ ۴۶،۴۸،چشتی)
❤1👍1