*معرکۂ بدر!*
_اسلام کی سچائی اور فتح مبین کا دل کش نظارہ_
غلام مصطفٰی رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔ اپنا محبوب صلی اللہ علیہ وسلم بھیج کر بابِ رسالت مکمل کر دیا۔ بہاروں کی زمیں پر انبیا کی آمد ہوتی رہی۔ محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھروں کی زمیں پر بھیجا۔ ریگ زارِ عرب میں بھیجا۔ اہلِ باطل کے معبودانِ باطلہ بھی پتھر کے تھے۔ سچائی کا آوازہ بلند ہوا۔ حرا کی وادیوں سے علم ویقیں کا اُجالا پھیلا۔ وادیِ مکہ مکرمہ نغماتِ توحید سے گونج گونج اُٹھی۔ سردارانِ قریش، آقایانِ کفر لرزہ بر اندام ہو گئے۔ اُنھیں پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ فطرت ایک آنکھ نہ بھائی۔ جور وستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ ایذا دی گئی۔ سَتایا گیا۔ سماجی بائیکاٹ کیا گیا۔ ظلم شباب کو پہنچا۔ ہجرت کا عظیم مرحلہ پیش آیا۔ اوّل جانبِ حبشہ ہجرت کی گئی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت فرما ہوئے۔ جو ہماری تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اہلِ مدینہ مسرور ہو اُٹھے کہ اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ وادیِ طیبہ -طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا- کے والہانہ نغموں سے گونج گونج اُٹھی۔ اور یہ نغمۂ مدحت بھی بچیوں کی زباں پر جاری تھا ؎
نَحْنُ جَوَارٍ مِّنْ بَّنِیْ النَّجَّارٖ
یَا حَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِّنْ جَارٖ
"ہم خاندانِ بنو النجار کی بچیاں ہیں، واہ کیا ہی خوب ہوا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پڑوسی ہو گئے۔"
ابھی ہجرت کا مرحلۂ شوق جاری تھا۔ اصحابِ رسول کی املاک کو کفار نے ضبط کرنا شروع کیا۔ اسلام کے خلاف ان کی ریشہ دوانیاں حدیں پار کر گئیں۔ رسول گرامی وقار صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں جرأت کی جا رہی تھی۔ دوسری سَمت زنگ آلود دل مائل بہ اسلام تھے۔ قبولِ اسلام کا کارواں تیزگام ہو رہا تھا۔ خطۂ عرب ایسے انقلاب سے گزر رہا تھا جس کے خوش گوار اثرات جلد ہی پوری کائنات پر رونما ہونے والے تھے۔ کفار نے ٹھان لیا تھا کہ اسلام کی روشنی بُجھا دیں گے۔ ناموسِ رسالت کے جتنے دُشمن تھے سب ایک تھے۔ اُن کی نگاہیں جانبِ طیبہ لگی ہوئی تھیں۔ وہ اِس وَہم میں تھے کہ چراغِ مصطفوی بُجھ جائے گا۔
*عہدِ وفا:*
اہلِ مدینہ نازاں تھے کہ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ گر ہیں۔ اصحاب و انصار محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے لیے جان نچھاور کرنے کو آمادہ تھے۔ گرچہ اب تک جور و زیادتی اور ظلم و ستم پرصبر ہی کیا گیا تھا۔ لیکن اب تقاضا تھا کہ باطل کو سرنگوں کیا جائے اور ظلم کے پنجوں کو مروڑ دیا جائے۔ ۲؍ ہجری میں حکم الٰہی نازل ہوا کہ ’’خدا کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم لوگوں سے لڑتے ہیں۔‘‘ اس لیے جہاد کے لیے قصد فرمایا گیا۔صحابۂ کرام و انصار نے جاں نثاری کا عہدِ وفا کیا۔ بخاری شریف کی روایت میں یہ الفاظ محفوظ ہیں: ’’ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں؛ جنھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تنہا چھوڑ دیا، ہم آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے چاروں طرف سے لڑیں گے۔‘‘ راویِ حدیث حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اس وقت دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ انور فرطِ مسرت سے چمک اُٹھا ۔ (بخاری شریف، جلد۲،صفحہ۵۶۴)
انصار کی نیابت میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے جو تاریخی الفاظ ارشاد فرمائے وہ اس طرح ہیں:
’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ پر ایمان لائے ہیں۔ ہم نے آپ کی اطاعت کا عہد کر رکھا ہے، جو حکم ہو گا اسے بجالائیں گے۔ آپ بلا تامل اپنا ارادہ پورا فرمائیں۔ ہم دل و جان سے آپ کا ساتھ دیں گے۔ قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے۔ اگر آپ ہم کو سمندر میں کود جانے کا حکم دیں گے تو ہم سارے سمندر میں کود پڑیں گے اور ہم میں سے ایک شخص بھی پیچھے نہ رہے گا۔‘‘
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے یہ جاں نثارانہ جوابات سن کر مسرور ہوئے اور فرمایا: ’’اللہ کے نام پر چلو، تمہیں خوش خبری ہو کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ ابوجہل یا ابوسفیان کی دو جماعتوں میں سے کسی ایک جماعت پر ضرور فتح و نصرت عطا کروں گا۔‘‘ (زرقانی، جلد۱، صفحہ۶۱۶)
کفارِ مکہ نے مسلمانوں کو زیارتِ کعبہ سے روکا، املاکِ مومنین ضبط کیں، مدینہ منورہ پر لشکر کشی کی تیاری کی، اسلام کے خلاف ماحول سازی کی، رسول کونین صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے قتل کے منصوبے بنائے، اہلِ ایماں پر ستم ڈھائے کہ وہ دین سے باز آجائیں۔ اسی کے نتیجے میں اسلام کی پہلی جنگ ’’بدر‘‘ کے میدان میں ہوئی۔
*معرکۂ بدر:*
_اسلام کی سچائی اور فتح مبین کا دل کش نظارہ_
غلام مصطفٰی رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔ اپنا محبوب صلی اللہ علیہ وسلم بھیج کر بابِ رسالت مکمل کر دیا۔ بہاروں کی زمیں پر انبیا کی آمد ہوتی رہی۔ محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھروں کی زمیں پر بھیجا۔ ریگ زارِ عرب میں بھیجا۔ اہلِ باطل کے معبودانِ باطلہ بھی پتھر کے تھے۔ سچائی کا آوازہ بلند ہوا۔ حرا کی وادیوں سے علم ویقیں کا اُجالا پھیلا۔ وادیِ مکہ مکرمہ نغماتِ توحید سے گونج گونج اُٹھی۔ سردارانِ قریش، آقایانِ کفر لرزہ بر اندام ہو گئے۔ اُنھیں پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ فطرت ایک آنکھ نہ بھائی۔ جور وستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ ایذا دی گئی۔ سَتایا گیا۔ سماجی بائیکاٹ کیا گیا۔ ظلم شباب کو پہنچا۔ ہجرت کا عظیم مرحلہ پیش آیا۔ اوّل جانبِ حبشہ ہجرت کی گئی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت فرما ہوئے۔ جو ہماری تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اہلِ مدینہ مسرور ہو اُٹھے کہ اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ وادیِ طیبہ -طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا- کے والہانہ نغموں سے گونج گونج اُٹھی۔ اور یہ نغمۂ مدحت بھی بچیوں کی زباں پر جاری تھا ؎
نَحْنُ جَوَارٍ مِّنْ بَّنِیْ النَّجَّارٖ
یَا حَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِّنْ جَارٖ
"ہم خاندانِ بنو النجار کی بچیاں ہیں، واہ کیا ہی خوب ہوا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پڑوسی ہو گئے۔"
ابھی ہجرت کا مرحلۂ شوق جاری تھا۔ اصحابِ رسول کی املاک کو کفار نے ضبط کرنا شروع کیا۔ اسلام کے خلاف ان کی ریشہ دوانیاں حدیں پار کر گئیں۔ رسول گرامی وقار صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں جرأت کی جا رہی تھی۔ دوسری سَمت زنگ آلود دل مائل بہ اسلام تھے۔ قبولِ اسلام کا کارواں تیزگام ہو رہا تھا۔ خطۂ عرب ایسے انقلاب سے گزر رہا تھا جس کے خوش گوار اثرات جلد ہی پوری کائنات پر رونما ہونے والے تھے۔ کفار نے ٹھان لیا تھا کہ اسلام کی روشنی بُجھا دیں گے۔ ناموسِ رسالت کے جتنے دُشمن تھے سب ایک تھے۔ اُن کی نگاہیں جانبِ طیبہ لگی ہوئی تھیں۔ وہ اِس وَہم میں تھے کہ چراغِ مصطفوی بُجھ جائے گا۔
*عہدِ وفا:*
اہلِ مدینہ نازاں تھے کہ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ گر ہیں۔ اصحاب و انصار محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے لیے جان نچھاور کرنے کو آمادہ تھے۔ گرچہ اب تک جور و زیادتی اور ظلم و ستم پرصبر ہی کیا گیا تھا۔ لیکن اب تقاضا تھا کہ باطل کو سرنگوں کیا جائے اور ظلم کے پنجوں کو مروڑ دیا جائے۔ ۲؍ ہجری میں حکم الٰہی نازل ہوا کہ ’’خدا کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم لوگوں سے لڑتے ہیں۔‘‘ اس لیے جہاد کے لیے قصد فرمایا گیا۔صحابۂ کرام و انصار نے جاں نثاری کا عہدِ وفا کیا۔ بخاری شریف کی روایت میں یہ الفاظ محفوظ ہیں: ’’ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں؛ جنھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تنہا چھوڑ دیا، ہم آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے چاروں طرف سے لڑیں گے۔‘‘ راویِ حدیث حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اس وقت دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ انور فرطِ مسرت سے چمک اُٹھا ۔ (بخاری شریف، جلد۲،صفحہ۵۶۴)
انصار کی نیابت میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے جو تاریخی الفاظ ارشاد فرمائے وہ اس طرح ہیں:
’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ پر ایمان لائے ہیں۔ ہم نے آپ کی اطاعت کا عہد کر رکھا ہے، جو حکم ہو گا اسے بجالائیں گے۔ آپ بلا تامل اپنا ارادہ پورا فرمائیں۔ ہم دل و جان سے آپ کا ساتھ دیں گے۔ قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے۔ اگر آپ ہم کو سمندر میں کود جانے کا حکم دیں گے تو ہم سارے سمندر میں کود پڑیں گے اور ہم میں سے ایک شخص بھی پیچھے نہ رہے گا۔‘‘
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے یہ جاں نثارانہ جوابات سن کر مسرور ہوئے اور فرمایا: ’’اللہ کے نام پر چلو، تمہیں خوش خبری ہو کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ ابوجہل یا ابوسفیان کی دو جماعتوں میں سے کسی ایک جماعت پر ضرور فتح و نصرت عطا کروں گا۔‘‘ (زرقانی، جلد۱، صفحہ۶۱۶)
کفارِ مکہ نے مسلمانوں کو زیارتِ کعبہ سے روکا، املاکِ مومنین ضبط کیں، مدینہ منورہ پر لشکر کشی کی تیاری کی، اسلام کے خلاف ماحول سازی کی، رسول کونین صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے قتل کے منصوبے بنائے، اہلِ ایماں پر ستم ڈھائے کہ وہ دین سے باز آجائیں۔ اسی کے نتیجے میں اسلام کی پہلی جنگ ’’بدر‘‘ کے میدان میں ہوئی۔
*معرکۂ بدر:*
❤2👍1
مدینہ منورہ سے ۸۰؍ میل کی دوری پر بدر واقع ہے۔ جہاں ۱۷؍ رمضان کو اسلام و کفر کے درمیان عظیم معرکہ ہوا۔ جس میں کفر کو شکست ہوئی۔ فتح اسلامی کا یہ عظیم دن ’’یوم الفرقان‘‘ کہلایا۔ اسلامی فوج ۳۱۳؍ افراد پر مشتمل تھی۔ جن میں ۶۰؍ انصار بقیہ مہاجرین تھے۔ جب کہ کفار ایک ہزار سے کم نہ تھے۔ جن کے پاس بیش قیمت تلواریں، ہتھیار اور اونٹ وغیرہ سامانِ جنگ کثیر تھے۔ مسلمان فرسودہ ہتھیار، قلیل سامانِ جنگ کے باوجود اللہ کی مدد پر مکمل یقین کے ساتھ محبوب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں باطل سے نبرد آزمائی کو تیار تھے۔
میدان میں زبردست حکمت کے ساتھ محبوب پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیں آراستہ کروائیں۔ محل وقوع و ماحول کے پیشِ نظر انتظامات فرمائے۔ قریبی ٹیلے پر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مشورے سے محبوب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عریش (سایہ) بنوایا گیا تا کہ میدانِ جنگ کا مشاہدہ کیا جا سکے۔ اسی مقام پر آج مسجد عریش ہے۔ جہاں پہنچ کر روحانی سکون ملتا ہے۔ ماضی میں ہم نے ۱۷؍ رمضان (٢٠١٦ء) کی دوپہر اصحابِ بدر کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت پیش کیا اور محفلِ ذکر سجائی، مسجد عریش کی بہاروں میں کئی ساعتیں گزاریں۔ ؎
جاں نثارانِ بدر و اُحد پر درود
حق گزارانِ بیعت پہ لاکھوں سلام
(اعلیٰ حضرت)
تین سو تیرہ جاں نثارانِ اسلام ایک ہزار سپاہ سے لڑنے کے لیے پُر عزم تھے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھڑی ہاتھ میں لیے میدان میں آئے، صفوں کو درست فرمایا۔ سردارانِ کفار کے مرنے کی جگہ نشانات لگائے۔ میمنہ اور میسرہ پر سالار تعینات فرمائے۔ جنگی اُصول دیے۔ ہدایات دیں۔
*حق غالب آیا:*
جنگ ہوئی۔ کثیر پر قلیل غالب آئے۔ کفر نے وہ زخم کھائے جس کے نتیجے میں اسلام کا قصرِ رفیع مستحکم ہوا۔ جنگ کا غبار چھٹا تو دیکھا گیا کہ جس مقام پر جس سردارِ قریش کی موت کا فرمایا گیا تھا وہیں وہ قتل ہوا۔ علمِ غیبِ نبوی کی وسعت کا نظارہ دُنیا نے دیکھا۔ اللہ نے فرشتوں کی سپاہ بھیج کر کفر کو مغلوب کیا۔ جو سازشوں کے خوگر تھے ان کی موت اسلام کی شوکت کا پیغام بن گئی۔ ان کی نسلوں نے اسلام قبول کیا۔ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم پر جانیں نچھاور کیں۔ آج بھی معرکۂ بدر عزم و یقیں کے اَن گنت چراغ نصب کر رہا ہے، جن سے روشنی لے کر یہود و نصاریٰ اور فرقہ پرستوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے، اور اسلام کے قصرِ رفیع کی حفاظت کی جا سکتی ہے، آج پھر درجنوں طوفان درپیش ہیں۔ ہر روز نئے فتنے ہیں۔ شام و عراق، یمن و فلسطین کی تاراجی کے بعد ایوانِ کفر سربراہانِ مملکتِ اسلامیہ سے متحد ہو کر مزید اسلامی مملکتوں کی تاراجی کو آمادہ ہے۔ آج پھر حرمین کی مقدس زمیں پر مغربیت کا زور ہے- اسیرانِ یہود، یہودی ریاست اسرائیل کے استحکام کا اعلان کر رہے ہیں۔ بیداری کے ساتھ تگ و دَو کی ضرورت ہے۔ جس کا نتیجہ یقیناً اُمید افزا اور عزم کا اشاریہ ثابت ہوگا، ؎
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نُصرت کو
اُتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
٭٭٭
یہ مضمون ٢٠١٩ء میں لکھا گیا، حال کے شامیانے میں جزوی ترمیم کے ساتھ پیش کیا گیا- (رمضان المبارک ١٤٤٣ھ)
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/408556554432871/
میدان میں زبردست حکمت کے ساتھ محبوب پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیں آراستہ کروائیں۔ محل وقوع و ماحول کے پیشِ نظر انتظامات فرمائے۔ قریبی ٹیلے پر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مشورے سے محبوب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عریش (سایہ) بنوایا گیا تا کہ میدانِ جنگ کا مشاہدہ کیا جا سکے۔ اسی مقام پر آج مسجد عریش ہے۔ جہاں پہنچ کر روحانی سکون ملتا ہے۔ ماضی میں ہم نے ۱۷؍ رمضان (٢٠١٦ء) کی دوپہر اصحابِ بدر کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت پیش کیا اور محفلِ ذکر سجائی، مسجد عریش کی بہاروں میں کئی ساعتیں گزاریں۔ ؎
جاں نثارانِ بدر و اُحد پر درود
حق گزارانِ بیعت پہ لاکھوں سلام
(اعلیٰ حضرت)
تین سو تیرہ جاں نثارانِ اسلام ایک ہزار سپاہ سے لڑنے کے لیے پُر عزم تھے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھڑی ہاتھ میں لیے میدان میں آئے، صفوں کو درست فرمایا۔ سردارانِ کفار کے مرنے کی جگہ نشانات لگائے۔ میمنہ اور میسرہ پر سالار تعینات فرمائے۔ جنگی اُصول دیے۔ ہدایات دیں۔
*حق غالب آیا:*
جنگ ہوئی۔ کثیر پر قلیل غالب آئے۔ کفر نے وہ زخم کھائے جس کے نتیجے میں اسلام کا قصرِ رفیع مستحکم ہوا۔ جنگ کا غبار چھٹا تو دیکھا گیا کہ جس مقام پر جس سردارِ قریش کی موت کا فرمایا گیا تھا وہیں وہ قتل ہوا۔ علمِ غیبِ نبوی کی وسعت کا نظارہ دُنیا نے دیکھا۔ اللہ نے فرشتوں کی سپاہ بھیج کر کفر کو مغلوب کیا۔ جو سازشوں کے خوگر تھے ان کی موت اسلام کی شوکت کا پیغام بن گئی۔ ان کی نسلوں نے اسلام قبول کیا۔ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم پر جانیں نچھاور کیں۔ آج بھی معرکۂ بدر عزم و یقیں کے اَن گنت چراغ نصب کر رہا ہے، جن سے روشنی لے کر یہود و نصاریٰ اور فرقہ پرستوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے، اور اسلام کے قصرِ رفیع کی حفاظت کی جا سکتی ہے، آج پھر درجنوں طوفان درپیش ہیں۔ ہر روز نئے فتنے ہیں۔ شام و عراق، یمن و فلسطین کی تاراجی کے بعد ایوانِ کفر سربراہانِ مملکتِ اسلامیہ سے متحد ہو کر مزید اسلامی مملکتوں کی تاراجی کو آمادہ ہے۔ آج پھر حرمین کی مقدس زمیں پر مغربیت کا زور ہے- اسیرانِ یہود، یہودی ریاست اسرائیل کے استحکام کا اعلان کر رہے ہیں۔ بیداری کے ساتھ تگ و دَو کی ضرورت ہے۔ جس کا نتیجہ یقیناً اُمید افزا اور عزم کا اشاریہ ثابت ہوگا، ؎
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نُصرت کو
اُتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
٭٭٭
یہ مضمون ٢٠١٩ء میں لکھا گیا، حال کے شامیانے میں جزوی ترمیم کے ساتھ پیش کیا گیا- (رمضان المبارک ١٤٤٣ھ)
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/408556554432871/
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_حضرات_اصحاب_بدر ¹⁰ رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡهُمۡ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یوم بدر | یوم الفرقان | جنگ بدر غزوۂ بدر شہدائے بدر شرکائے بدر
#فیضان_حضرات_اصحاب_بدر ¹¹
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡهُمۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم بدر | یوم الفرقان | جنگ بدر
غزوۂ بدر شہدائے بدر شرکائے بدر
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡهُمۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم بدر | یوم الفرقان | جنگ بدر
غزوۂ بدر شہدائے بدر شرکائے بدر
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
*مختصر سوانح حیات:*
حضرت مولانا شاہ غلام قطب الدین برہمچاری رحمۃ اللہ علیہ
*نام و نسب:*
مولانا شاہ قطب الدین ۔ *لقب:* سہیل ِ ہند، برہم چاری۔ (یعنی ویدوں اور شاستروں کا عالم / پرہیزگار)۔
*والد کا اسم گرامی:*
فخر العلماء حضرت مولانا حکیم سخاوت حسین چشتی فخری سلیمانی حافظی سہسوانی رحمۃ اللہ علیہ۔
خاندانی تعلق قطب المشائخ حضرت خواجہ ابو یوسف چشتی اور خواجہ مودود چشتی علیہما الرحمہ سے ہے۔
آپ کے والد گرامی (مولانا حکیم سخاوت حسین علیہ الرحمہ مرید و خلیفہ شیخ الاسلام حافظ محمد علی خیر آبادی، وہ مرید و خلیفہ حضرت خواجہ شاہ سلیمان تونسوی، وہ استاذ مولانا فضل حق خیر آبادی علیہم الرحمہ کے ہیں۔ تونسوی غفرلہ)۔
*جائے ولادت:*
آپ کی ولادت باسعادت سہسوان، ضلع بدایوں (ہند) میں ہوئی۔
*تحصیلِ علم:*
ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی،بعدہ استاذ العلماء مفتی محمد لطف اللہ علی گڑھی علیہ الرحمہ سے تکمیل کی۔آپ علیہ الرحمہ تمام علوم عقلیہ و نقلیہ، فلسفۂ قدیمہ وجدیدہ اور تقابل ادیان میں اپنے وقت کے سب سےبڑے عالم تھے۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت:202)
*بیعت و خلافت:*
سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت مولانا شاہ سید محمد اسلم خیر آبادی (سجادہ نشین شیخ الاسلام مولانا حافظ محمد علی خیر آبادی) سے بیعت ہوئے، اور قطب المشائخ مخدوم شاہ علی حسین اشرفی میاں سرکار کچھوچھہ شریف نے اجازت و خلافت مرحمت فرمائی۔ (ایضا ً:202)
حضرت مخدوم الاولیاء محبوب ربانی علیہ الرحمہ آپ سے بہت محبت فرماتے تھے۔ بلکہ جس کا آپ سے تعلق ہوتا اس کو بھی محبوب رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: ’’جمیع مریدان و محبان خاندان اشرفیہ کو واضح ہو کہ حاجی غلام حسین جو ہمارے خلیفہ برہمچاری قطب الدین سہیل ہند کے مرید ہیں۔ اگر ان سے اور آپ لوگوں سے کسی مسئلہ میں اختلاف ظاہری پیدا ہو تو لازم ہے کہ اس کے فقیر کے پاس لکھ کر تسکین کرلیں‘‘۔ (حیات مخدوم الاولیاء:387)
*سیرت و خصائص:* استاذ العلماء، رئیس الاتقیاء، حامیِ دینِ مصطفیٰ ﷺ، جامع کمالاتِ علمیہ و وعملیہ، ماہر علوم جدیدہ و قدیمہ، حاویِ علوم عقلیہ، حضرت علامہ مولانا غلام قطب الدین برہم چاری رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ ہندو فلسفے کے ماہر تھے، اس سے آپ نے ہزاروں ہندوؤں کو حلقہ بگوش اسلام کیا۔ جب اسلام اور مسلمانان ہند کے خلاف شدھی تحریک جاری تھی، آپ ہی کی مساعیِ جمیلہ سے اس ارتدادی تحریک کا سد باب ہوا۔ آپ نے سترہ برس تک بنارس کے مندر میں بڑے پنڈت سے ہندو فلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔ بعد فجر سے عصر تک مطالعہ میں منہمک رہتے تھے اور عصر کے وقت اپنے کمرے میں جاکر اندر سے کمرہ بند کر لیتے اور فوت شدہ نماز کی قضا پڑھتے۔ اس زمانے میں سال میں کئی کئی بار آپ کی ملاقات کے لیے عالمی مبلغ اسلام، سفیر اسلام مولانا شاہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ بنارس پہنچتے اور پُل پر کھڑے ہو کر پر اٹھے اور گائے کے گوشت کے کباب کپڑے میں لپیٹ کر آپکی طرف پھینک دیتے، آپ لے کر کمرے میں چلےجاتے۔سنسکرت اور ہندو فلسفہ کے پوری واقفیت کے بعد ایک دن اپنے پنڈت استاد سے مباحثہ کرنے لگے، جب جاکر آپ کے مسلمان ہونے کا اس پر راز فاش ہوا۔ جس کا اسے سخت افسوس ہوا۔ یہاں سے کلکتہ کے مشہور پیارو قوال کے پاس پہنچے، پہلے تو اس نے سکھانے سے انکار کیا، مگر جب اس کو آپ کا مقصد معلوم ہوا تو پوری توجہ سے ایک ہی ہفتہ میں تمام راگ سکھا دیئے ۔ کلکتہ سے واپسی پر آپ نے متھرا، ہر دوار و غیرہ کو تبلیغ و اشاعت اسلام کا مرکز قرار دیا، پہلے دیر تک بھجن گاتے جب لوگ جمع ہو جاتے تو آپ حقانیتِ اسلام پر ہندو کتابوں کی روشنی میں تقریر فرماتے، اس طرح بکثرت افراد کو آپ نے مسلمان کیا۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت:203)
حضرت مولانا برہم چاری علیہ الرحمہ ہندو مذہب کےاسرار و رموز اور سنسکرت سے مکمل واقف تھے۔ شروع سے ہی مشرکوں میں تبلیغِ اسلام کا ذوق تھا۔ آپ پاک باز اور خدا رسیدہ بزرگ تھے۔ اپنی سعی و ارادوں میں بے حد کامیاب تھےـ
جب 1344ھ میں آریہ سماج نے فتنۂ ارتداد پیدا کیا تو آپ نے مبلغین کی تیاری کے لئے ’’مجلس اشاعت الحق ‘‘ قائم فرمائی۔ اپنے شاگردوں کو لے کر اس فتنے کا بھر پور مقابلہ کیا، بقول حضرت حافظ الحدیث شیخ الحدیث مولانا عبد العزیز مبارک پوری علیہ الرحمہ ، آپ بھیس بدل کر کبھی معالج ِ حیوانات، وید، حکیم، گانے والی پارٹی، اور سادھوؤں کی بھجن گانے والی پارٹی بنا کر عوام کا مجمع لگاتے اور اسلام پر ہندو وانہ اعتراض قائم کرتے، پھر ہندوؤں کی کتابوں سے ان کا جواب دیتے، اسی مجمع میں سینکڑوں ہندو حلقہ بگوش اسلام ہو جاتے، اس طرح آپ نے دور دراز علاقوں کا سفر کیا اور خوب اسلام کی اشاعت فرمائی۔ (حیات مخدوم الاولیاء:387)
حضرت مولانا شاہ غلام قطب الدین برہمچاری رحمۃ اللہ علیہ
*نام و نسب:*
مولانا شاہ قطب الدین ۔ *لقب:* سہیل ِ ہند، برہم چاری۔ (یعنی ویدوں اور شاستروں کا عالم / پرہیزگار)۔
*والد کا اسم گرامی:*
فخر العلماء حضرت مولانا حکیم سخاوت حسین چشتی فخری سلیمانی حافظی سہسوانی رحمۃ اللہ علیہ۔
خاندانی تعلق قطب المشائخ حضرت خواجہ ابو یوسف چشتی اور خواجہ مودود چشتی علیہما الرحمہ سے ہے۔
آپ کے والد گرامی (مولانا حکیم سخاوت حسین علیہ الرحمہ مرید و خلیفہ شیخ الاسلام حافظ محمد علی خیر آبادی، وہ مرید و خلیفہ حضرت خواجہ شاہ سلیمان تونسوی، وہ استاذ مولانا فضل حق خیر آبادی علیہم الرحمہ کے ہیں۔ تونسوی غفرلہ)۔
*جائے ولادت:*
آپ کی ولادت باسعادت سہسوان، ضلع بدایوں (ہند) میں ہوئی۔
*تحصیلِ علم:*
ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی،بعدہ استاذ العلماء مفتی محمد لطف اللہ علی گڑھی علیہ الرحمہ سے تکمیل کی۔آپ علیہ الرحمہ تمام علوم عقلیہ و نقلیہ، فلسفۂ قدیمہ وجدیدہ اور تقابل ادیان میں اپنے وقت کے سب سےبڑے عالم تھے۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت:202)
*بیعت و خلافت:*
سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت مولانا شاہ سید محمد اسلم خیر آبادی (سجادہ نشین شیخ الاسلام مولانا حافظ محمد علی خیر آبادی) سے بیعت ہوئے، اور قطب المشائخ مخدوم شاہ علی حسین اشرفی میاں سرکار کچھوچھہ شریف نے اجازت و خلافت مرحمت فرمائی۔ (ایضا ً:202)
حضرت مخدوم الاولیاء محبوب ربانی علیہ الرحمہ آپ سے بہت محبت فرماتے تھے۔ بلکہ جس کا آپ سے تعلق ہوتا اس کو بھی محبوب رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: ’’جمیع مریدان و محبان خاندان اشرفیہ کو واضح ہو کہ حاجی غلام حسین جو ہمارے خلیفہ برہمچاری قطب الدین سہیل ہند کے مرید ہیں۔ اگر ان سے اور آپ لوگوں سے کسی مسئلہ میں اختلاف ظاہری پیدا ہو تو لازم ہے کہ اس کے فقیر کے پاس لکھ کر تسکین کرلیں‘‘۔ (حیات مخدوم الاولیاء:387)
*سیرت و خصائص:* استاذ العلماء، رئیس الاتقیاء، حامیِ دینِ مصطفیٰ ﷺ، جامع کمالاتِ علمیہ و وعملیہ، ماہر علوم جدیدہ و قدیمہ، حاویِ علوم عقلیہ، حضرت علامہ مولانا غلام قطب الدین برہم چاری رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ ہندو فلسفے کے ماہر تھے، اس سے آپ نے ہزاروں ہندوؤں کو حلقہ بگوش اسلام کیا۔ جب اسلام اور مسلمانان ہند کے خلاف شدھی تحریک جاری تھی، آپ ہی کی مساعیِ جمیلہ سے اس ارتدادی تحریک کا سد باب ہوا۔ آپ نے سترہ برس تک بنارس کے مندر میں بڑے پنڈت سے ہندو فلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔ بعد فجر سے عصر تک مطالعہ میں منہمک رہتے تھے اور عصر کے وقت اپنے کمرے میں جاکر اندر سے کمرہ بند کر لیتے اور فوت شدہ نماز کی قضا پڑھتے۔ اس زمانے میں سال میں کئی کئی بار آپ کی ملاقات کے لیے عالمی مبلغ اسلام، سفیر اسلام مولانا شاہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ بنارس پہنچتے اور پُل پر کھڑے ہو کر پر اٹھے اور گائے کے گوشت کے کباب کپڑے میں لپیٹ کر آپکی طرف پھینک دیتے، آپ لے کر کمرے میں چلےجاتے۔سنسکرت اور ہندو فلسفہ کے پوری واقفیت کے بعد ایک دن اپنے پنڈت استاد سے مباحثہ کرنے لگے، جب جاکر آپ کے مسلمان ہونے کا اس پر راز فاش ہوا۔ جس کا اسے سخت افسوس ہوا۔ یہاں سے کلکتہ کے مشہور پیارو قوال کے پاس پہنچے، پہلے تو اس نے سکھانے سے انکار کیا، مگر جب اس کو آپ کا مقصد معلوم ہوا تو پوری توجہ سے ایک ہی ہفتہ میں تمام راگ سکھا دیئے ۔ کلکتہ سے واپسی پر آپ نے متھرا، ہر دوار و غیرہ کو تبلیغ و اشاعت اسلام کا مرکز قرار دیا، پہلے دیر تک بھجن گاتے جب لوگ جمع ہو جاتے تو آپ حقانیتِ اسلام پر ہندو کتابوں کی روشنی میں تقریر فرماتے، اس طرح بکثرت افراد کو آپ نے مسلمان کیا۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت:203)
حضرت مولانا برہم چاری علیہ الرحمہ ہندو مذہب کےاسرار و رموز اور سنسکرت سے مکمل واقف تھے۔ شروع سے ہی مشرکوں میں تبلیغِ اسلام کا ذوق تھا۔ آپ پاک باز اور خدا رسیدہ بزرگ تھے۔ اپنی سعی و ارادوں میں بے حد کامیاب تھےـ
جب 1344ھ میں آریہ سماج نے فتنۂ ارتداد پیدا کیا تو آپ نے مبلغین کی تیاری کے لئے ’’مجلس اشاعت الحق ‘‘ قائم فرمائی۔ اپنے شاگردوں کو لے کر اس فتنے کا بھر پور مقابلہ کیا، بقول حضرت حافظ الحدیث شیخ الحدیث مولانا عبد العزیز مبارک پوری علیہ الرحمہ ، آپ بھیس بدل کر کبھی معالج ِ حیوانات، وید، حکیم، گانے والی پارٹی، اور سادھوؤں کی بھجن گانے والی پارٹی بنا کر عوام کا مجمع لگاتے اور اسلام پر ہندو وانہ اعتراض قائم کرتے، پھر ہندوؤں کی کتابوں سے ان کا جواب دیتے، اسی مجمع میں سینکڑوں ہندو حلقہ بگوش اسلام ہو جاتے، اس طرح آپ نے دور دراز علاقوں کا سفر کیا اور خوب اسلام کی اشاعت فرمائی۔ (حیات مخدوم الاولیاء:387)
❤1👍1
آپ نے کتنے ہندو مسلمان کیے اس کا اندازہ آپ کے قریبی رشتے دار حضرت مولانا شاہ مصباح الحسن پھپھوندی علیہ الرحمہ کے اس بیان سے لگایا جاسکتاہے کہ آپ فرماتے تھے: کہ مولانا کے پاس دوبڑے بورے ان ہندوؤں کی چوٹیوں کے تھے جو آپ کے دست پر حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے۔ مولانا فرمایا کرتے تھے کہ یہ ہماری نجات کا ذریعہ ہیں، ان کو میری قبر کے تختے کے اوپر رکھ دینا، چنانچہ ان کی وصیت پوری کردی گئی۔(ایضا ً:388)
حضرت مولانا قطب الدین علیہ الرحمہ کے وطن میں مودودی سادات کا خاصہ وہابی ہوگیا تھا۔آئے دن مولانا کا ان سے مباحثہ جاری رہتا تھا، کبھی ڈنڈوں سے بھی ان کی خبر لیتے تھے۔ کبھی کبھی یہ بھی فرماتے: کہ’’میں مر بھی جاؤںگا پھر بھی وہابیوں کو پیٹنا نہیں چھوڑوںگا، حضرت مولانا شاہ مصباح الحسن فرماتے تھے کہ ان کی قبر کے پاس سے جو وہابی گزرا، اسے ٹھوکر ضرور لگی، اس کی وجہ سے وہابیوں نےاس طرف سے آمد و رفت ہی ترک کر دی تھی‘‘۔(ایضاً:388)
سید مصباح الحسن فرماتے تھے کہ موصوف نے وصیت فرمائی تھی کہ میری نماز جنازہ مولانا مصباح الحسن پڑھائیںگےـ
چنانچہ میں بغیر کسی ارادے و اطلاع کے اچانک سہسوان پہنچا، وہاں یہ معاملہ دیکھا کہ حضرت کا وصال ہو گیا نماز پڑھائی، تدفین میں شریک رہا۔
مولانا شاہ مصباح الحسن علیہ الرحمہ آپ کے خالہ زاد بھائی تھے، اور رئیس المحققین آفتاب ہند حضرت علامہ مولانا امام سید غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمہ آپ کےحقیقی بھتیجے تھے۔ آپ کے صاحبزادے مولانا غلام زین العابدین حضرت صدر الشریعہ کے شاگرد اور جید عالم دین تھے۔ (ایضا :388)
*تاریخِ وصال:*
آپ کا وصال 18/رمضان المبارک 1350ھ، مطابق اخیر جنوری/1932ء کو اپنے آبائی وطن سہسوان، ضلع بدایوں میں ہوا۔
*ماخذ و مراجع:*
تذکرہ وعلمائے اہل سنت۔ حیات مخدوم الاولیاء محبوب ربانی۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-ghulam-qutubuddin-ashrafi
Copyright © Zia-e-Taiba
حضرت مولانا قطب الدین علیہ الرحمہ کے وطن میں مودودی سادات کا خاصہ وہابی ہوگیا تھا۔آئے دن مولانا کا ان سے مباحثہ جاری رہتا تھا، کبھی ڈنڈوں سے بھی ان کی خبر لیتے تھے۔ کبھی کبھی یہ بھی فرماتے: کہ’’میں مر بھی جاؤںگا پھر بھی وہابیوں کو پیٹنا نہیں چھوڑوںگا، حضرت مولانا شاہ مصباح الحسن فرماتے تھے کہ ان کی قبر کے پاس سے جو وہابی گزرا، اسے ٹھوکر ضرور لگی، اس کی وجہ سے وہابیوں نےاس طرف سے آمد و رفت ہی ترک کر دی تھی‘‘۔(ایضاً:388)
سید مصباح الحسن فرماتے تھے کہ موصوف نے وصیت فرمائی تھی کہ میری نماز جنازہ مولانا مصباح الحسن پڑھائیںگےـ
چنانچہ میں بغیر کسی ارادے و اطلاع کے اچانک سہسوان پہنچا، وہاں یہ معاملہ دیکھا کہ حضرت کا وصال ہو گیا نماز پڑھائی، تدفین میں شریک رہا۔
مولانا شاہ مصباح الحسن علیہ الرحمہ آپ کے خالہ زاد بھائی تھے، اور رئیس المحققین آفتاب ہند حضرت علامہ مولانا امام سید غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمہ آپ کےحقیقی بھتیجے تھے۔ آپ کے صاحبزادے مولانا غلام زین العابدین حضرت صدر الشریعہ کے شاگرد اور جید عالم دین تھے۔ (ایضا :388)
*تاریخِ وصال:*
آپ کا وصال 18/رمضان المبارک 1350ھ، مطابق اخیر جنوری/1932ء کو اپنے آبائی وطن سہسوان، ضلع بدایوں میں ہوا۔
*ماخذ و مراجع:*
تذکرہ وعلمائے اہل سنت۔ حیات مخدوم الاولیاء محبوب ربانی۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-ghulam-qutubuddin-ashrafi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1👍1
مختصر سوانح حیات:
علامہ ریحان رضا خان بریلوی
رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* مولانا محمد ریحان رضا خان۔ *لقب:* ریحانِ ملت۔
*سلسلہ نسب اس طرح ہے:* حضرت مولانا محمد ریحان رضا قادری *بن* مفسرِ اعظم ہند حضرت مولانا محمد ابراہیم رضا خاں *بن* حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں *بن* اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری فاضل بریلوی *بن* مولانا نقی علی خاں بن مولانا رضا علی خاں *بن* حافظ کاظم علی خاں ۔(علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ (حیاتِ اعلیٰ حضرت)
*تاریخِ ولادت:*
آپ کی ولادت باسعادت 18/ذی الحجہ 1325ھ،مطابق ماہ جنوری/1908ء کو محلہ خواجہ قطب بریلی (انڈیا) میں ہوئی ـ
حضرت ریحان ملت مولانا محمد ریحان رضا علیہ الرحمہ کی ولادت سے پورے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ خاندان کے ہر فرد کا چہرہ مسکرانے لگا۔ چونکہ نبیرۂ اعلیٰ حضرت مفسرِ اعظم ہند کے یہاں یہ پہلی ولادت تھی، کانوں میں اذان و تکبیر پڑھی گئی۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا علیہ الرحمہ نے اپنا لعابِ دہن عطا فرمایا، جو منھ میں رکھ دیا گیا، جد امجد حجۃ الاسلام علیہ الرحمہ نے *محمد* نام رکھا، بعدہٗ پکارنے کے لیے *ریحان رضا* تجویز فرمایا، اسی واقعہ کی طرف نشان دہی کراتے ہوئے حضرت *ریحان ملت* نے اپنے نعتیہ کلام میں تحریر فرمایا ہے۔
؏: نام یہ جس نے دیا اس کو خبر تھی شاید
ان کا ریحاں زمانے میں چمکتا ہوگا
*تحصیلِ علم:*
پیدائش کے بعد ریحان ملت نے طفولیت کے ایام علم و حکمت معرفت وطریقت کے خوش گوار ماحول میں گذارے۔ بچپن ہی سے علم وادب کے دلدادہ تھے۔ اعلیٰ ذہانت و فطانت رکھتے تھے۔ ریحان ملت کی تعلیم گھر پر ہوئی حسب الحکم والد ماجد مفسر اعظم ہند علیہ الرحمہ لائل پور پاکستان تشریف لے گئے۔ وہاں پر جامعہ رضویہ مظہر اسلام میں داخلہ لے کر محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رضوی لائل پوری علیہ الرحمہ کی خدمت میں تین سال مسلسل رہ کر معیاری کتابوں کا درس حاصل کیا، پھر وہاں سے واپسی کے بعد دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف سے باقاعدہ دستار بندی ہوئی، اور سندِ فراغت پائی۔
*اساتذہ:*
حضرت ریحان ملت کے اساتذۂ کرام میں مندرجہ ذیل حضرات کے اسماءِ گرامی قابل ذکر ہیں، جنہوں نے شب و روز محبت و شفقت کے ساتھ علمِ دین پڑھایا، اور معرفت و حکمت، علوم و فنون عطا فرما کر مستند عالم بنایا:
❶ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں قادری بریلوی علیہ الرحمہ ❷ تاجدارِ اہلسنت حضرت مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رجا نوری بریلوی قدس سرہٗ ❸ محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رضوی لائل پوری علیہ الرحمۃ ❹ مفسر اعطم ہند حضرت مولانا محمد ابراہیم رضا خاں جیلانی بریلوی علیہ الرحمہ ❺ امام النحو حضرت مولانا سید غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمۃ ❻ محدث منظر اسلام حضرت مولانا احسان علی رضوی علیہ الرحمۃ ❼ بحر العلوم حضرت مفتی سید افضل حسین رضوی مونگیری علیہ الرحمۃ ❽ حضرت مولانا مفتی جہانگیر خاں رضوی اعظمی مدظلہ۔
*بیعت و خلافت:*
حضرت ریحان ملت بیعت واردت حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ سے رکھتے تھے۔ 1357ھ/1938ء کو جد امجد حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمۃ نے ماذون و مجاز فرمایا۔15/جنوری 1962/1381 کو حضور مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے ریحان ملت اور جانشین مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری قادری بریلوی دامت برکاتہم القدسیہ کو ساتھ ہی ساتھ خلافت و اجازت عطا فرمائی، اور یہ خلافت میلاد شریف کی مبارک محفل میں عطا ہوئی۔ خلافت کے وقت شمس العلماء حضرت مولانا قاضی شمس الدین احمد رضوی جعفری جونپوری علیہ الرحمہ (مصنف قانون شریعت) بھی رونق افروز تھے، اور علاوہ ازیں والد ماجد مفسر اعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا بریلوی علیہ الرحمہ سے بھی اجازت حاصل تھی۔ (مفتی اعظم اور ان کے خلفاء:368)
*سیرت و خصائص:*
گلشنِ رضویہ کے مہکتے پھول، جامع المنقول والمعقول، استاذ العلماء، سند الفضلاء، ریحانِ ملت، حضرت علامہ مولانا محمد ریحان رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ فاضلِ کامل، اور جید عالم دین تھے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی علمی و روحانی امانتوں کے وارثِ کامل تھے۔ آپ علیہ الرحمہ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی گئی تھی۔یہی وجہ ہے کہ آگے چل کر اس مردِ کامل نے قوم و ملت، اور دینِ اسلام کے لئے کارہائے نمایاں انجام دئیے۔ جن میں سے اہم کارنامے مرکزِ اِسلام ’’منظر ِ اسلام‘‘ اور رضا مسجد کی جدید خطوط پر تعمیر و ترقی، اور دار الاقامہ، نشر و اشاعت کے لئے برقی پریس کا اہتمام ہے۔ آپ نے مشن اعلیٰ حضرت کی خوب ترویج فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے پناہ خوبیوں سے مالا مال کیا تھا۔ دینی و عصری علوم و فنون سے بہرہ ور تھے۔ اگر چاہتے تو مالی منفعت کی خاطر کسی بھی فیلڈ کو منتخب کر لیتے۔ لیکن حضرت ریحان ملت سند فراغت حاصل کرنے کے بعد منظر اسلام
علامہ ریحان رضا خان بریلوی
رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* مولانا محمد ریحان رضا خان۔ *لقب:* ریحانِ ملت۔
*سلسلہ نسب اس طرح ہے:* حضرت مولانا محمد ریحان رضا قادری *بن* مفسرِ اعظم ہند حضرت مولانا محمد ابراہیم رضا خاں *بن* حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں *بن* اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری فاضل بریلوی *بن* مولانا نقی علی خاں بن مولانا رضا علی خاں *بن* حافظ کاظم علی خاں ۔(علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ (حیاتِ اعلیٰ حضرت)
*تاریخِ ولادت:*
آپ کی ولادت باسعادت 18/ذی الحجہ 1325ھ،مطابق ماہ جنوری/1908ء کو محلہ خواجہ قطب بریلی (انڈیا) میں ہوئی ـ
حضرت ریحان ملت مولانا محمد ریحان رضا علیہ الرحمہ کی ولادت سے پورے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ خاندان کے ہر فرد کا چہرہ مسکرانے لگا۔ چونکہ نبیرۂ اعلیٰ حضرت مفسرِ اعظم ہند کے یہاں یہ پہلی ولادت تھی، کانوں میں اذان و تکبیر پڑھی گئی۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا علیہ الرحمہ نے اپنا لعابِ دہن عطا فرمایا، جو منھ میں رکھ دیا گیا، جد امجد حجۃ الاسلام علیہ الرحمہ نے *محمد* نام رکھا، بعدہٗ پکارنے کے لیے *ریحان رضا* تجویز فرمایا، اسی واقعہ کی طرف نشان دہی کراتے ہوئے حضرت *ریحان ملت* نے اپنے نعتیہ کلام میں تحریر فرمایا ہے۔
؏: نام یہ جس نے دیا اس کو خبر تھی شاید
ان کا ریحاں زمانے میں چمکتا ہوگا
*تحصیلِ علم:*
پیدائش کے بعد ریحان ملت نے طفولیت کے ایام علم و حکمت معرفت وطریقت کے خوش گوار ماحول میں گذارے۔ بچپن ہی سے علم وادب کے دلدادہ تھے۔ اعلیٰ ذہانت و فطانت رکھتے تھے۔ ریحان ملت کی تعلیم گھر پر ہوئی حسب الحکم والد ماجد مفسر اعظم ہند علیہ الرحمہ لائل پور پاکستان تشریف لے گئے۔ وہاں پر جامعہ رضویہ مظہر اسلام میں داخلہ لے کر محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رضوی لائل پوری علیہ الرحمہ کی خدمت میں تین سال مسلسل رہ کر معیاری کتابوں کا درس حاصل کیا، پھر وہاں سے واپسی کے بعد دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف سے باقاعدہ دستار بندی ہوئی، اور سندِ فراغت پائی۔
*اساتذہ:*
حضرت ریحان ملت کے اساتذۂ کرام میں مندرجہ ذیل حضرات کے اسماءِ گرامی قابل ذکر ہیں، جنہوں نے شب و روز محبت و شفقت کے ساتھ علمِ دین پڑھایا، اور معرفت و حکمت، علوم و فنون عطا فرما کر مستند عالم بنایا:
❶ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں قادری بریلوی علیہ الرحمہ ❷ تاجدارِ اہلسنت حضرت مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رجا نوری بریلوی قدس سرہٗ ❸ محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رضوی لائل پوری علیہ الرحمۃ ❹ مفسر اعطم ہند حضرت مولانا محمد ابراہیم رضا خاں جیلانی بریلوی علیہ الرحمہ ❺ امام النحو حضرت مولانا سید غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمۃ ❻ محدث منظر اسلام حضرت مولانا احسان علی رضوی علیہ الرحمۃ ❼ بحر العلوم حضرت مفتی سید افضل حسین رضوی مونگیری علیہ الرحمۃ ❽ حضرت مولانا مفتی جہانگیر خاں رضوی اعظمی مدظلہ۔
*بیعت و خلافت:*
حضرت ریحان ملت بیعت واردت حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ سے رکھتے تھے۔ 1357ھ/1938ء کو جد امجد حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمۃ نے ماذون و مجاز فرمایا۔15/جنوری 1962/1381 کو حضور مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے ریحان ملت اور جانشین مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری قادری بریلوی دامت برکاتہم القدسیہ کو ساتھ ہی ساتھ خلافت و اجازت عطا فرمائی، اور یہ خلافت میلاد شریف کی مبارک محفل میں عطا ہوئی۔ خلافت کے وقت شمس العلماء حضرت مولانا قاضی شمس الدین احمد رضوی جعفری جونپوری علیہ الرحمہ (مصنف قانون شریعت) بھی رونق افروز تھے، اور علاوہ ازیں والد ماجد مفسر اعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا بریلوی علیہ الرحمہ سے بھی اجازت حاصل تھی۔ (مفتی اعظم اور ان کے خلفاء:368)
*سیرت و خصائص:*
گلشنِ رضویہ کے مہکتے پھول، جامع المنقول والمعقول، استاذ العلماء، سند الفضلاء، ریحانِ ملت، حضرت علامہ مولانا محمد ریحان رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ فاضلِ کامل، اور جید عالم دین تھے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی علمی و روحانی امانتوں کے وارثِ کامل تھے۔ آپ علیہ الرحمہ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی گئی تھی۔یہی وجہ ہے کہ آگے چل کر اس مردِ کامل نے قوم و ملت، اور دینِ اسلام کے لئے کارہائے نمایاں انجام دئیے۔ جن میں سے اہم کارنامے مرکزِ اِسلام ’’منظر ِ اسلام‘‘ اور رضا مسجد کی جدید خطوط پر تعمیر و ترقی، اور دار الاقامہ، نشر و اشاعت کے لئے برقی پریس کا اہتمام ہے۔ آپ نے مشن اعلیٰ حضرت کی خوب ترویج فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے پناہ خوبیوں سے مالا مال کیا تھا۔ دینی و عصری علوم و فنون سے بہرہ ور تھے۔ اگر چاہتے تو مالی منفعت کی خاطر کسی بھی فیلڈ کو منتخب کر لیتے۔ لیکن حضرت ریحان ملت سند فراغت حاصل کرنے کے بعد منظر اسلام
👍2❤1
بریلی میں بحیثیت مدرس بارہ سال تک قلیل مشاہرے پر تدریسی خدمات انجام دیتے رہے، اور زبانِ فیض ترجمان سے گوہر فشانی کرتے رہے، اس دوران ریحان ملت نے درسِ نظامی کی مختلف کتابیں پڑھائیں۔ ادب سے زیادہ دل چسپی تھی۔
*فنِ وعظ گوئی:*
حضرت ریحان ملت وقت کے بہترین مقرر اور مایۂ ناز خطیب تھے۔ کبھی بھی تقریر کرنے سے قبل ذہن میں مضامین کی ترتیب نہیں دی اور نہ ہی تقریر کو لکھ کردیاد کیا بلکہ فی البدیہ تقریر فرماتے۔
*سیاسی گرمیاں:*
1976ء میں عوام و خواص بالخصوص علماءِ کرام کے انبوہ کثیر نے حضرت ریحان ملت کی ذہانت، فطانت، بالغ نظری، دور اندیشی دیکھ کر بالجبر ریحانِ ملت کو میدانِ سیاست میں آزاد امید وار کی حیثیت سے کھڑا کیا، کیونکہ اس وقت پارلیمنٹ اور اسمبلی میں کوئی حق بات کہنے والا نہیں تھا، کوئی نمائندہ ایسا نہیں تھا جو مسلمانوں کی صحیح قیادت کر سکے۔ انہیں حالات کے پیش نظر لوگوں کے اصرار پر راضی ہوئے، میدان سیاست میں رہ کر کارہائے نمایاں انجام دیئے جو اپنی مثال آپ ہیں۔ اس میدان میں بڑے بڑے دانشوروں کے قدم لغزش کھا جاتے ہیں، مگر ریحان ملت نے اٹھارہ سال کا طویل عرصہ میدان سیاست میں گزارا۔ کہیں بھی کسی قسم کا دامن ِ سفید پر بد نمائی کا داغ نہیں لگنے دیا، بلکہ کونسل اور اسمبلی میں ایسی بے باکی اور دلیری سے تقریریں کیں کہ خود کانگریس آئی کہ ممبروں کے دانت کھٹے ہوگئے۔
**جلوس محمدی کا دوبارہ آغاز:*
ہندوستان کی آزادی سے پہلے جلوسِ محمدی ﷺ بریلی میں نہایت ہی تزک واحتشام کے ساتھ منایا جاتا تھا، اور لوگ شان و شوکت کے ساتھ جلوس میں شریک ہوتے تھے، لیکن 1947ء سے جلوس محمدی ﷺ کانکلنا بند ہوگیا تھا۔ لوگوں کے پیہم اصرار سے ریحان ملت نے اچانک 1980ء میں 12/ربیع الاول شریف کے موقع پر جلوس محمدیﷺ نکالنے کا اعلان کردیا۔ پولیس والوں نے انتھک کوشش کی کہ جلوسِ محمدی ﷺ نہ نکالا جائے لیکن ریحانِ ملت نے فرمایا:ہر گز نہیں! جلوس ضرور نکلے گا۔ آج ہمارے رسول سرکارِ مدینہﷺ کا یوم ولادت ہے، ہم اس خوشی میں جلوس نکالتے ہیں اور نکالتے رہیں گے چاہے اس کےلئے ہمیں جیل بھی جانا پڑے۔ آپ علیہ الرحمہ نے پوری دنیا میں تبلیغی دورے کیے،جہاں گئے مشنِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کوزندہ کرتے گئے،اور عشقِ محمدی ﷺ کی سوغات تقسیم کرتے گئے،بدمذہبیت ولادینیت کےعفریت کوختم کرتےگئے۔
*تاریخِ وصال:*
آپ کا وصال 18/رمضان المبارک 1405ھ،مطابق جون/ 1985ء کو ہوا۔ گنبدِ رضا (بریلی شریف) میں آرام فرما ہیں۔
*ماخذ و مراجع:*
مفتی اعظم اور ان کے خلفاء۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/molana-muhammad-rehan-raza-khan-barelvi
Copyright © Zia-e-Taiba
*فنِ وعظ گوئی:*
حضرت ریحان ملت وقت کے بہترین مقرر اور مایۂ ناز خطیب تھے۔ کبھی بھی تقریر کرنے سے قبل ذہن میں مضامین کی ترتیب نہیں دی اور نہ ہی تقریر کو لکھ کردیاد کیا بلکہ فی البدیہ تقریر فرماتے۔
*سیاسی گرمیاں:*
1976ء میں عوام و خواص بالخصوص علماءِ کرام کے انبوہ کثیر نے حضرت ریحان ملت کی ذہانت، فطانت، بالغ نظری، دور اندیشی دیکھ کر بالجبر ریحانِ ملت کو میدانِ سیاست میں آزاد امید وار کی حیثیت سے کھڑا کیا، کیونکہ اس وقت پارلیمنٹ اور اسمبلی میں کوئی حق بات کہنے والا نہیں تھا، کوئی نمائندہ ایسا نہیں تھا جو مسلمانوں کی صحیح قیادت کر سکے۔ انہیں حالات کے پیش نظر لوگوں کے اصرار پر راضی ہوئے، میدان سیاست میں رہ کر کارہائے نمایاں انجام دیئے جو اپنی مثال آپ ہیں۔ اس میدان میں بڑے بڑے دانشوروں کے قدم لغزش کھا جاتے ہیں، مگر ریحان ملت نے اٹھارہ سال کا طویل عرصہ میدان سیاست میں گزارا۔ کہیں بھی کسی قسم کا دامن ِ سفید پر بد نمائی کا داغ نہیں لگنے دیا، بلکہ کونسل اور اسمبلی میں ایسی بے باکی اور دلیری سے تقریریں کیں کہ خود کانگریس آئی کہ ممبروں کے دانت کھٹے ہوگئے۔
**جلوس محمدی کا دوبارہ آغاز:*
ہندوستان کی آزادی سے پہلے جلوسِ محمدی ﷺ بریلی میں نہایت ہی تزک واحتشام کے ساتھ منایا جاتا تھا، اور لوگ شان و شوکت کے ساتھ جلوس میں شریک ہوتے تھے، لیکن 1947ء سے جلوس محمدی ﷺ کانکلنا بند ہوگیا تھا۔ لوگوں کے پیہم اصرار سے ریحان ملت نے اچانک 1980ء میں 12/ربیع الاول شریف کے موقع پر جلوس محمدیﷺ نکالنے کا اعلان کردیا۔ پولیس والوں نے انتھک کوشش کی کہ جلوسِ محمدی ﷺ نہ نکالا جائے لیکن ریحانِ ملت نے فرمایا:ہر گز نہیں! جلوس ضرور نکلے گا۔ آج ہمارے رسول سرکارِ مدینہﷺ کا یوم ولادت ہے، ہم اس خوشی میں جلوس نکالتے ہیں اور نکالتے رہیں گے چاہے اس کےلئے ہمیں جیل بھی جانا پڑے۔ آپ علیہ الرحمہ نے پوری دنیا میں تبلیغی دورے کیے،جہاں گئے مشنِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کوزندہ کرتے گئے،اور عشقِ محمدی ﷺ کی سوغات تقسیم کرتے گئے،بدمذہبیت ولادینیت کےعفریت کوختم کرتےگئے۔
*تاریخِ وصال:*
آپ کا وصال 18/رمضان المبارک 1405ھ،مطابق جون/ 1985ء کو ہوا۔ گنبدِ رضا (بریلی شریف) میں آرام فرما ہیں۔
*ماخذ و مراجع:*
مفتی اعظم اور ان کے خلفاء۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/molana-muhammad-rehan-raza-khan-barelvi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1👍1