🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-09-1443 ᴴ | 18-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-09-1443 ᴴ | 19-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-09-1443 ᴴ | 19-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-09-1443 ᴴ | 19-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
۱۷ رمضان المبارک
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ
حضرت رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ
سعید بن جبیر اسدی تابعی
شیخ اکبر محی الدین محمد بن عربی
علامہ شاہ احمد نورانی
خواجہ قمر الدین سیالوی
دانتوں کے درمیان چنے کے برابر
جنگ بدر 17 رمضان المبارک ۲ھ
تین آدمی جتنا بھی کھا لیں ...
روزہ سے سوا پیاس کے کچھ نہیں
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
غزوہ بدر الکبریٰ حصّہ اوّل

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/331605035742209/

محترم قارئینِ کرام : غزوہ بدر تاریخ اسلام کا وہ معرکہ ہے جب اسلام وکفر ، حق و باطل کی پہلی ٹکر ہوئی ، اس معرکہ میں فرزندانِ اسلام کی تعدادکفار کے مقابلے میں ایک تہائی تھی ، بے سروسامانی کا عالم تھا جبکہ باطل ، حق کامقابلہ کرنے کےلیے بڑے کرّوفر اور غرورورعونت کیساتھ میدان میں اترا لیکن اسے ایسی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا کہ پھر کبھی بھی اسے حق کو اس شان سے للکارنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ مؤرخین اسے غزوہ بدر الکبریٰ کے نام سے یاد کرتے ہیں جبکہ قرآن عظیم میں یوم الفرقان کے لقب کیساتھ ذکر کیا گیا ہے یعنی وہ دن جب حق اور باطل کے درمیان فرق اس طور پر واضح ہواکہ اندھوں اوربہروں کو بھی پتہ چل گیا کہ حق کا دعویدار کون ہے اور باطل کا محب کون ہے ؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وما انزلناعلی عبدنایوم الفرقان یوم التقیٰ الجمعٰن ۔ (سورہ الانفال:۱۴)
ترجمہ : اور جیسے ہم نے اتارا اپنے بندے پر فیصلے کے دن جس روز دولشکر آمنے سامنے ہوئے تھے ۔

نبی کریم کرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ تین سوتیرہ افراد کولے کرقریش کے تجارتی قافلے کوروکنے کےلیے نکلے جوکہ شام سے ابو سفیان کی سربراہی میں واپس آرہاتھا،ابوسفیان نے جب مسلمانوں سے خطرہ محسوس کیا تو قبیلہ غفار کے ایک شخص ضمضم کو اجرت دے مکہ بھیجا کہ وہ قریش کو اس معاملے کی خبر دے اور انہیں کہے کہ اگر تم قافلے کی سلامتی چاہتے ہو تو جلدی مدد کےلیے آؤ ، چنانچہ ابو جہل نے جب یہ سنا تو بڑے کروفر رعب و دعب کے ساتھ مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کےلیے لشکر جرار کیساتھ اس انداز میں نکلا کہ اس کے بارے میں مؤرخین نے لکھا ہے کہ : ومعھم القیان وھن الاماء المغنیات یضربن بالدفوف یغنّین بھجاء المسلمین ۔ السیرۃ النبویۃ لابن کثیرج۲ ص۷۸۲۔السیرۃ النبویۃ عرض وقائع ج۲ص۲،چشتی)
ترجمہ : ان کیساتھ رقص کرنے والی کنیزیں تھیں وہ دفیں بجارہی تھیں انہیں جوش دلانے کیلئے گارہی تھیں اور مسلمانوں کی ہجو میں اشعار پڑھ رہی تھیں ۔

ابوسفیان تو راستہ بدل کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا اور ابوجہل کی طرف پیغام بھیجا کہ اب مدد کی کوئی ضرورت نہیں لیکن لعین ابو جہل (علیہ ماعلیہ) نے لشکر کشی پر اصرار کیا اور مقابلہ کرنے کیلئے سردارانِ قریش کو لے کر میدان میں اترا ، مسلمانوں کے اس قلیل لشکر نے ایک ہزار کفار کا مقابلہ دلیری سے کیا اور اللہ تعالی نے مسلمانوں کی مدد فرما کر انہیں عظیم کامیابی عطافرمائی اور مسلمانوں کا رعب ودبدبہ ہمیشہ کےلیے ان پر مسلط کردیا ۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے : وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ۔ (سورۃ آل عمران آیت نمبر 123)
ترجمہ : اور بے شک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سرو سامان تھے تو اللہ سے ڈرو کہ کہیں تم شکر گزار ہو ۔

یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے عظیم احسان کو بیان فرما رہا ہے کہ غزوۂ بدر میں جب مسلمانوں کی تعداد بھی کم تھی اوران کے پاس ہتھیاروں اور سواروں کی بھی کمی تھی جبکہ کفار تعداد اور جنگی قوت میں مسلمانوں سے کئی گناہ زیادہ تھے۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور کفار پر فتح و کامرانی عطا فرمائی ۔ جنگ بدر 17 رمضان 2 ہجری میں جمعہ کے دن ہوئی ۔ مسلمان 313 تھے جبکہ کفار تقریباً ایک ہزار ۔ بدر ایک کنواں ہے جو ایک شخص بدر بن عامر نے کھودا تھا ، اس کے نام پر اس علاقے کا نام ’’بدر‘‘ ہوگیا ۔ (یہ علاقہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ہے) ۔ (تفسیر صاوی، اٰل عمران الآیۃ: ۱۲۳، ۱/۳۱۰،چشتی)

اس آیتِ مبارکہ سے اہلسنّت کا ایک عظیم عقیدہ واضح طور پر ثابت ہوتا ہے ۔ وہ یہ کہ جنگِ بدر میں مسلمانوں کی مدد کیلئے فرشتے نازل ہوئے جیسا کہ اگلی آیتوں میں موجود ہے ، جنگ میں فرشتے لڑے ، انہوں نے مسلمانوں کی مدد کی لیکن ان کی مدد کو اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ بدر میں اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے جب اللہ تعالیٰ کی اجازت سے مدد فرماتے ہیں تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کی مدد ہوتی ہے ۔ لہٰذا انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ جو مدد فرمائیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کی مدد قرار پائے گی اور اسے کفر و شرک نہیں کہا جائے گا ۔

اِذْ تَقُوۡلُ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ اَلَنۡ یَّکْفِیَکُمْ اَنۡ یُّمِدَّکُمْ رَبُّکُمۡ بِثَلٰثَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُنۡزَلِیۡنَ ، بَلٰۤیۙ اِنۡ تَصْبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا وَیَاۡتُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوْرِہِمْ ہٰذَا یُمْدِدْکُمْ رَبُّکُمۡ بِخَمْسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُسَوِّمِیۡنَ ۔ (سورۃ آل عمران آیت نمبر 124 ، 125)
1👍1
ترجمہ : جب اے محبوب تم مسلمانوں سے فرماتے تھے کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتے اتار کر۔ ہا ں کیوں نہیں اگر تم صبرو تقویٰ کرو اور کافر اسی دم تم پر آپڑیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا ۔

نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو حوصلہ دیتے ہوئے اور ان کی ہمت بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ’’ تم اپنی ہمت بلند رکھو ، کیا تمہیں یہ کافی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد فرمائے ۔ اس کے بعد فرمان ہے کہ تین ہزار فرشتوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ اگرتم صبر و تقویٰ اختیار کرو او راس وقت دشمن تم پر حملہ آور ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ پانچ ہزار ممتاز فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد فرمائے گا۔ یہ ایک غیبی خبر تھی جو بعد میں پوری ہوئی اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے صبر و تقویٰ کی بدولت اللہ تعالیٰ نے پانچ ہزار فرشتوں کو نازل فرمایا جنہوں نے میدانِ بدر میں مسلمانوں کی مدد کی ۔

(1) بدر میں شرکت کرنے والے تمام مہاجرین و انصار صابر اور متقی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد اتارنے کےلیے صبر اور تقویٰ کی شرط رکھی تھی اور چونکہ فرشتے بعد میں نازل ہوئے تو اس سے معلوم ہوا کہ شرط پائی گئی تھی ، یعنی صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے صبر و تقویٰ کا مظاہرہ کیا تھا ، لہٰذا صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے صبر اور تقویٰ پر قرآن گواہ ہے ۔

(2) بدر میں تشریف لانے والے فرشتے دوسرے فرشتوں سے افضل ہیں کہ رب عَزَّوَجَلَّ نے ان پر خاص نشان لگا دیے تھے جن سے وہ دوسروں سے ممتا ز ہوگئے اور احادیث میں اس کی صراحت بھی موجود ہے کہ بدر میں اترنے والے فرشتے دوسرے فرشتوں سے افضل ہیں ۔

(3) نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی خدمت اور مجاہدین کی مدد اعلیٰ عبادت ہے کہ یہ فرشتے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی مدد کےلیے نازل ہوئے اور دوسرے فرشتوں سے افضل قرار پائے ۔ لہٰذا نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم تمام مسلمانوں سے افضل ہیں کہ یہ وہ خوش نصیب حضرات ہیں جنہیں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی خدمت نصیب ہوئی۔ حدیث میں ہے’’ اللہ تعالیٰ نے اصحابِ بدر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے بارے میں فرمایا ’’تم جو چاہے عمل کرو تمہارے لیے جنت واجب ہو چکی ہے ۔ (بخاری کتاب المغازی باب فضل من شہد بدراً، ۳/۱۲، الحدیث: ۳۹۸۳،چشتی)

حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’غزوۂ بدر کے دن حضرت حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ شہید ہو گئے تو ان کی والدہ نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی : یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، آپ کو بخوبی معلوم ہے کہ مجھے حارثہ کتنا پیارا تھا ، اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کروں اور ثواب کی امید رکھوں اور اگر خدانخواستہ معاملہ برعکس ہے تو آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’تجھ پر افسوس ہے ، کیا تو پگلی ہو گئی ہے ؟ کیا خدا کی ایک ہی جنت ہے ؟ اس کی جنتیں تو بہت ساری ہیں اور بے شک حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جنت الفردوس میں ہے ۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب فضل من شہد بدراً، ۳/۱۲، الحدیث: ۳۹۸۲،چشتی)

اس سے پہلی دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے جنگ احد کا واقعہ بیان کیا تھا اور اب ان آیتوں میں جنگ بدر کا تذکرہ فرما رہا ہے ‘ کیونکہ جنگ بدر میں مسلمان نہایت بےسروسامانی کی حالت میں تھے اور کفار بہت تیاری اور اسلحہ کی فراوانی کے ساتھ آئے تھے ‘ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مشرکوں پر غالب کردیا ‘ اور یہ اس بات کی قومی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر توکل نہیں کرنا چاہیے ‘ اور نہ اس کے سوا اور کسی سے مدد طلب کرنی چاہیے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ اس آیت کو موکد کیا جائے کہ اگر تم اللہ کے احکام (کی اطاعت) پر صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو کافروں کا مکرو و فریب تمہیں بالکل ضرر نہیں پہنچا سکتا ‘ نیز اس بات کو موکد کرنا ہے کہ مومنوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے ۔

مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک وادی کا نام بدر ہے ‘ شعبی نے کہا یہاں ایک کنواں تھا جس کا نام بدر تھا کیونکہ اس کے مالک کا نام بدر تھا ‘ پھر مالک کے نام سے وہ کنواں مشہور ہو گیا ۔
1👍1
علامہ ابوعبداللہ یاقوت بن عبداللہ حموی متوفی ٦٢٦ ھ لکھتے ہیں : بدر ایک گاؤں کا نام ہے جہاں ہر سال میلہ لگتا تھا ‘ بدر مدینہ منورہ سے تقریبا اسی میل کی مسافت پر واقع ہے ‘ بدر کا لغوی معنی ہے بھرنا ‘ چودھویں رات کے چاند کو بدر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ بھرا ہوا اور مکمل ہوتا ہے ‘ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک وادی میں مشہور کنواں ہے جس کو بدر کہتے ہیں ۔ (معجم البلدان ج ١ ص ٣٥٦‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٣٩٩ ھ)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور بیشک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی درآں حالیکہ تم ذلیل تھے اور ایک اور جگہ فرمایا ہے : وللہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین ۔ (سورہ المنافقون : ٨)
ترجمہ : اللہ ہی کے لیے عزت (غلبہ) ہے اور اس کے رسول کےلیے اور مومنین کےلیے ۔

اس آیت میں مسلمانوں کےلیے ذلت کا لفظ استعمال فرمایا اور سورة منافقون میں عزت کا لفظ استعمال فرمایا اور یہ بظاہر تعارض ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں ذلت سے مراد مادی ضعف ہے اور سورة منافقون میں اس سے مراد ہے اللہ کی نظر میں معزز ہونا ‘ یا دلائل اور معقولیت کے لحاظ سے مسلمانوں کے دین کا باقی ادیان پر غالب آنا ‘ یا اللہ اور اس کی اطاعت کی شرط پر دنیا میں بھی مادی غلبہ پانا اور سرفرازی حاصل کرنا۔ جنگ بدر میں مسلمان مادی طور پر ضعیف تھے کیونکہ ان کی تعداد تین سو تیرہ نفوس قدسیہ تھی اور کفار نو سو پچاس تھے۔ ان کے پاس صرف دو گھوڑے اسی اونٹ تھے اور کفار کے پاس سو گھوڑے ‘ بہ کثرت اونٹ اور وافر مقدار میں اسلحہ تھا۔ دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کفار کی نظروں میں مسلمان ضعیف تھے یا مسلمانوں نے مکہ میں کفار کی جو قوت اور شوکت دیکھی تھی اس کے مقابلہ میں وہ خود کو ضعیف اور کمزور خیال کرتے تھے ۔

آج بھی مسلمان مادی طور پر ضعیف اور مغلوب ہیں اور ان کے مقابلہ میں کفار مادی طور پر قوی اور غالب ہیں ‘ لیکن مسلمانوں کو اس لحاظ سے غلبہ حاصل ہے کہ ان کی کتاب اپنے اصل متن کے ساتھ من وعن محفوظ ہے ‘ جب کہ تورات اور انجیل جس زبان میں نازل ہوئیں تھیں اس زبان میں وہ کتاب آج کہیں بھی موجود نہیں ہے ‘ قرآن مجید میں کسی ایک لفظ کی تبدیلی یا کمی اور بیشی نہیں ہوئی ‘ جب کہ تورات اور انجیل محرف ہوچکی ہیں ‘ متن قرآن کے ہزاروں بلکہ لاکھوں حافظ موجود ہیں جب کہ تورات اور انجیل کا کوئی ایک حافظ دنیا میں کبھی بھی نہیں پایا گیا ‘ قرآن کا چیلنج ہے کہ اس کی کسی ایک سورت کی مثل کوئی بنا کر نہیں لا سکتا ‘ اور آج تک کوئی اس چیلنج کو نہیں توڑ سکا ‘ مسلمانوں کے نبی کی پیدائش سے لے کر وفات تک مکمل سیرت مستند مآخذ کے ساتھ مکمل محفوظ ہے ‘ جب کہ اور کسی نبی کی مکمل سیرت پوری سند کے ساتھ موجود نہیں ہے ‘ مسلمانوں کے نبی کے تمام ارشادات (احادیث مبارکہ) اسانید کے ساتھ موجود ہیں اور کتاب کی تعلیم اور دین کی ہدایت کے متعلق آپ نے جو کچھ بھی فرمایا وہ محفوظ کرلیا گیا اور سینوں سے صحیفوں میں منتقل ہو کر دنیا میں آج تک موجود ہے اور وہی دین پر اتھارٹی ہے ‘ جب کہ اور کسی نبی کے ارشادات اس طرح محفوظ نہیں کیے گئے ‘ نہ ان کو دین میں حجت تسلیم کیا گیا ‘ قرآن اور حدیث کی پیش گوئیاں اپنے صدق کو ہر زمانہ میں منواتی رہی ہیں مثلا روم کا ایرانیوں پر غالب آنا ‘ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی فرعون کے جسد کا قرآن مجید کی پیش گوئی کے مطابق آج تک سلامت رہنا قرآن، مجید کی کسی سورت کی مثال نہ لا سکنا ‘ اس میں کمی بیشی اور تغیر نہ ہونا ‘ قرآن مجید نے معیشت کا جو نظام پیش کیا ہے اس کے مقابلہ میں تمام معاشی نظاموں کا ناقص ہونا ‘ یہ چند مثالیں ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمان اپنی بےعملی اور بد عملی کی وجہ سے خواہ مادی طور پر ضعیف اور مغلوب ہوں لیکن ان کا دین تمام ادیان پر غالب ہے : ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ وکفی باللہ شہیدا ۔ (سورہ الفتح : ٢٨)
ترجمہ : (اللہ) وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کردے اور اللہ کافی گواہ ہے ۔

باقی مسلمانوں کے ضعف اور مغلوبیت کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت سے اجتماعی طور پر انحراف کیا الا ماشاء اللہ ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا وہ باعث عار سمجھنے لگے ‘ اور مغربی تہذیب اپنانے کو باعث فخر سمجھنے لگے ‘ وہ موسیقی اور راگ ورنگ میں ڈوب گئے اور مسلمان آپس میں افتراق اور انتشار کا شکار ہو گئے ۔

سائنسی علوم اور عسکری تربیت حاصل کرنے کے بجائے تعیشات اور تن آسانیوں میں مبتلا ہوگئے مضاربت کے اصول پر تجارت کرنے کے بجائے سودی کاروبار اور جوئے اور سٹے کو اپنایا نتیجے کے طور پر وہ معاشرتی بدحالی کا شکار ہوئے اور اپنے وطن کے دفاع اور اس کی حفاظت کے قابل نہ رہے ۔
👍21