🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Audio
🎙 اعلیٰ حضرت اور رد بدعات 🎙
अअ़्ला ह़ज़़रत और रद्दे बिदआ़त 🎙
🎤 غلام محی الدین سبحانی صاحب
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
Audio
🎙 محرم الحرام اور تعزیہ داری
🎙 मुह़र्रम और ताज़िया दारी
🎤 غلام محی الدین سبحانی صاحب
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🎙 محرم الحرام اور تعزیہ داری
🎙 माहे मुह़र्रम और ताज़िया दारी
🎤 اولاد رسول حضرت علامہ مولانا
سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
Audio
🎙 محرم الحرام اور تعزیہ داری
🎙 माहे मुह़र्रम और ताज़िया दारी
🎤 اولاد رسول حضرت علامہ مولانا
سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
جس کی ذات سے ذرّیتِ ابلیس ہے نالاں
اس عُمر ابنِ خطاب پہ لاکھوں سلام

یکم مُحرّم الحرام یومِ عُمر فارُوق
(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بسم اللہ الرحمن الرحیم = اذان بلالی

میرے ایک تحقیقی مقالے کاخلاصہ پیش خدمت ہے

میرے سکالر ساتھیو!!!
اذان بلالی کا مشہور واقعہ جس قدر بالتفصیل غلام فرید، مقبول صابری کی قوالی میں ہے شاید اس قدر تفصیل تو جعل ساز علماء کو بھی معلوم نہ ہو اس واقعے کو علامہ ارشد القادری نے زلف وزنجیر،خواجہ اللہ بخش علیہ الرحمہ نے غذاء المحبین،اور ابن قدامہ حنبلی نے المغنی،اور ان کے ایک بھتیجے شمس الدین عمرنے "المقنع" میں ذکر کیا ہے
تحقیق یہ ہے کہ یہ واقعہ بالکل من گھڑت اور منافقین کی سازش پر مبنی ہے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت بلال کا متبادل جو صحابی اذان کیلئے مقرر ہوا کیا وہ (معاذاللہ)کسی قصائی کابیٹا تھا کہ سورج طلوع نہ ہوا؟

خلاصہ یہ ہے کہ یہ بالکل جھوٹ پر مبنی واقعہ ہے

آئیے دلائل ملاحظہ فرمائیں

1: ملاعلی قاری فرماتے ہیں
"حدیث:ان بلالا کان یبدل الشین فی الاذان سینا"
قال المزی فیمانقلہ عنہ البرھان السفاقسی انہ اشتھر علی السنہ العوام ولم نرہ فی شیئ من الکتب"
الاسرار المرفوعہ فی اخبارالموضوعہ ص 73
یعنی یہ جو مشھور بات کہ حضرت بلال اذان میں شین کو سین پڑھتے تھے امام مزی سے برھان سفاقسی نقل کرتے ہیں کہ یہ محض بے اصل کہانی ھےعوام میں مشہور ہے مگر کسی کتاب میں ھمیں نہیں ملی

2:امام عجلونی فرماتے ہیں
"قال ابن کثیر لیس لہ ولایصح "وتقدم فی ان بلالا"
لکن قال ابن قدامہ فی مغنیہ روی ان بلالا کان یقول اسھدیجعل الشین سیناوالمعتمدھوالاول فقدترجمہ غیرواحد بانہ کان اندی الصوت حسنہ فصیح الکلام وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لصاحب رویا الاذان عبداللہ بن زیدالق علیہ ای علی بلال الاذان فانہ اندی صوتامنک فلوکانت فیہ لثغہ لتوفرت الدواعی علی نقلھا
ولعابھا اھل النفاق علیہ المبالغون فی التنقیص لاھل الاسلام۔ انتھی؛
وقال العلامہ ابراھیم الباجی فی "مولدہ"
واشھدباللہ للہ ان سیدی بلالاماقال اسھد بالسین المھملہ قط کماوقع لموفق الدین ابن قدامہ فی مغنیہ وقلدہ ابن اخیہ الشیخ ابوعمرشمس الدین فی شرحہ کتاب المقنع وردعلیہ الحفاظ کمابسطتہ فی ذکر موذنیہ بل کان بلال من افصح الناس وانداھم صوتا"
کشف الخفاء للعجلونی ص564ج1
حافظ ابن کثیر فرماتےہیں
اس واقعے کی کوئی اصل نہیں اور نہ ہی یہ درست ہے اس کی بحث"ان بلالا"کے عنوان سے گذرچکی ہے
لیکن علامہ ابن قدامہ نے اپنی کتاب "المغنی" میں روایت کیاہے کہ حضرت بلال اسھد کہتے تھے یعنی شین کوسین پڑھتے تھے لیکن معتمدبات پہلی ہے(یعنی اس واقعہ کی اصل نہیں)بہت سے لوگوں نے حضرت بلال کے حالات زندگی لکھے اور یہ بھی لکھاہے کہ وہ بلندآواز تھے، ان کی آواز خوبصورت تھی،وہ فصیح وبلیغ تھے،اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے متعلق خواب دیکھنے والے صحابی عبداللہ بن زید سے خود کہاہے کہ اذان حضرت بلال کوسکھاوکیونکہ وہ بلند آوازہیں
اگربالفرض وہ توتلے ہوتے تواس بات کو بہت سے لوگ نقل کرتے، اصل بات یہ ھے کہ منافقین نے حضرت بلال پر عیب پرلگایاہے ان کی عادت ہے کہ وہ حدسے زیادہ صحابہ اوراھل اسلام کی تنقیص کرتے ہیں (انتھی)
علامہ ابراھیم باجی اپنی کتاب "مولد"میں فرماتے ہیں قسم بخداحضرت بلال اسھد نہیں کہتے تھے یہ تو ابن قدامہ اور ان کے بھتیجے شمس الدین نے غلط لکھاہے اس بات کو حفاظ حدیث نے ردکردیا ہے میں نے اپنی کتاب "موذنین رسول"میں خوب تفصیل سے اسکی تردید کی ،
سچی بات یہ ھے کہ حضرت بلال کی زبان بالکل فصیح تھی اور ان کی آواز بلند تھی:

3:حاشیہ نزھہ النظر شرح نخبہ الفکر میں ہے
"وامثلہ احادیث الموضوعہ کثیرہ منھا حدیث سین بلال عنداللہ شین"
حاشیہ شرح نخبہ ص14
یعنی احادیث موضوعہ بہت ہیں ان میں سے ایک وہ حدیث ہے جس میں حضرت بلال کے شین کوسین پڑھنے کاواقعہ ہے

4:علامہ عجلونی ایک اور مقام پررقمطرازہیں
"قال فی الدرر لم یرد فی شیئ من الکتب ، وقال القاری لیس لہ اصل وقال البرھان السفاقسی نقلاعن الامام المزی انہ اشتھر علی السنہ العوام ولم یرد فی شیئ من الکتب "
کشف الخفاء ص263ج1
یعنی درر میں ہے کہ یہ واقعہ کسی کتاب میں نہیں ہے ملاعلی قاری،برھان سفاقسی،علامہ مزی وغیرہ نے اس کوموضوع قرار دیاہے

5:علامہ زرقانی فرماتے ہیں
"سین بلال عنداللہ شین باطل لااصل لہ"
مختصر مقاصدالحسنہ ص140
حضرت بلال کاشین کوسین پڑھنے کاواقعہ من گھڑت ہے

6:مقاصد حسنہ میں ہے
"سین بلال عند اللہ شین لااصل لہ وقدترجمہ غیرواحد بانہ ندی الصوت حسنہ فصیحہ ولعابھااھل النفاق والضلال المجتھدین فی التنقیص لاھل الاسلام نسال اللہ التوفیق"
المقاصد الحسنہ ص295ج1ملخصا
سین بلال عنداللہ شین بالکل بے اصل حدیث ہے حالانکہ حضرت بلال کی سیرت کئی لوگوں نے بیان کیاہے اور سب نے لکھا ہے کہ ان کی آواز خوبصورت تھی اور وہ فصیح وبلیغ تھے یہ عیب جوئی منافقین کوسوجھی اسلام کے ازلی دشمنوں نے اس واقعہ کوگھڑاہے

ھم اللہ سے خیر کے سوالی ہیں
واللہ تعالیٰ اعلم اپناخیال رکھئیے گا
فقط والسلام
آپکا اپنا محمد عرفان الحق نقشبندی
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیغام
( دریائے نیل کے نام )
***********************
🖊 واقعہ یوں ہے کہ آپ نے جب حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مصر کا گورنر مقررکیا - ایک دن مصر کے باشندے حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر بولے کہ حضور! ہمارے ملک میں پہلے سے یہ رسم چلی آرہی ہے کہ جس سال دریائے نیل میں باڑھ نہیں آتی اور وہ خشک ہونے لگتا ہے تو ہم لوگ ایک کنواری لڑکی کو بہترین کپڑوں اور عمدہ زیوروں سے سجاکر اسے دریائے نیل کی بھینٹ چڑھا تے ہیں - جب وہ لڑکی دریا میں پھینک دی جاتی ہے تو دریا بڑے جوش وخروش سے بہنے لگتا ہے - پانی کی خوب بہتات ہوتی ہے پھر اسی پانی سے ہماری کھیتیاں سیراب ہوتی ہیں امسال بھینٹ چڑھانے کا زمانہ قریب آگیا ہے اور اس وقت دریائے نیل خشک ہوتا جارہا ہے اگر اس کو بھینٹ نہ دی گئی تو وہ بالکل خشک ہوجائےگا اور ہم لوگ قحط سالی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوجائیں گے -
حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ پہلے جو کچھ بھی ہوا وہ ہوا لیکن اب یہاں اسلام آگیا ہے - اسلام کا مزاج خونی رسم کو کبھی برداشت نہیں کرسکتا - مصری لوگ مجبور ہوکر دریائے نیل کو لڑکی کی بھینٹ نہ دے سکے جب انہوں نے دیکھا کہ اب دریائے نیل میں برائے نام پانی رینگ رہا ہے تو قحط سالی کے خوف سے وہ لوگ اپنے وطن کو چھوڑ کر دوسری جگہ کوچ کرنے کی تیاری کرنے لگے - حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ نازک معاملہ دیکھ کر سرکار فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں مدینہ منورہ ایک خط بھیجا جس میں دریائے نیل اور مصریوں کی خونی رسم کا حال تحریر کیا -
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام فرمان بھیجا کہ تم نے اس خونی رسم کو بند کرکے اچھا کیا - میں تمہارے اس دریائے نیل کے نام ایک پرچہ بھیج رہا ہوں تم اس پرچہ کو دریائے نیل میں ڈال دو - پرچہ کا مضمون یہ تھا
من عبد الله عمر امير المؤمنين الىٰ نيل مصر ط اما بعد فان كنت يجرئ من قبلك فلا تجر وان كان الله يجر يك فاسئل الله الواحد القهار ان يجريك -

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے بندے مسلمانوں کے حاکم عمر کی طرف سے دریائے نیل کے نام یہ خط ہے - اے دریا اگر تو اپنے آپ سے جاری رہتا ہے تو نہ جاری ہو اور اگر تجھے اللہ جاری رکھتا ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے، جو اکیلا زبردست ہے درخواست کرتا ہوں کہ تجھے جاری کردے -

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد کے مطابق حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کا خط دریائے نیل میں ڈال دیا - دنیا حیرت میں تھی کہ کاغذ کے اس پرچہ سے دریائے نیل کیسے رواں ہوسکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم کہ پرچہ پڑنے کے بعد دریائے نیل کے بہاؤ میں تیزی پیدا ہوتی گئی یہاں تک کہ رات گزر کر صبح ہوتے ہوتے اس میں سولہ گز پانی اوپر بڑھ گیا اور دریا موجیں مارکر بہنے لگا - نیز لڑکی کی بھینٹ دینے کی خونی رسم ہمیشہ کیلئے مٹ گئی
(حوالہ تعمیر ادب حصہ پنجم صفحہ ۸۳ تا ۸۵ )
مصنف: حضرت علامہ ومولانا بدر الدین احمد صاحب قبلہ قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ

سچ کہا کسی نے
جب ان کے گدا بھر دیتے ہیں شاہان زمانہ کی جھولی
محتاج کا جب یہ عالم ہے مختار کا عالم کیا ہوگا
***********************
مسلک اعلیٰ حضرت گروپ میں ایڈ ہونے کیلئے ان نمبرات پر رابطہ کریں
7665266550
7654833082
بانئ مسلک اعلیٰ حضرت گروپ
غلام غلامان تاج الشریعہ
ابو محمد حامد رضا: محمد شریف الحق رضوی! خطیب وامام نوری رضوی جامع مسجد ومدرسہ دارلعلوم نوریہ رضویہ: مقام وپوسٹ رسول گنج عرف کوئلی: ضلع سیتا مڑھی بہار ( ہندوستان)
***********************
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بلا ضرورت شرعیہ
حمل ساقط کرنا کروانا حرام ہے

*کیا فرما تےہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا انتقال ہوگیا*
*اور اسکی بیوی ہندہ سات ماہ کی حا ملہ ہے اب اس کی عدت تو وضع حمل ہے*
*لیکن اگر ہندہ حمل ساقط کر والے دوا کے ذریعہ یا آپریشن کے ذریعہ تو کیا اس کی عدت ختم ہو جائے گی*
*اور وہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں خیال رہے کہ ہندہ سات ماہ کی حاملہ ہے*

*سائل - محمد وسیم فیضی*
◆ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ◆
*السلا م علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملك الوھاب ؛*
*صورت مسؤ لہ میں عرض ہے کہ بلا ضرورت شرعیہ حمل ساقط کرنا کروانا حرام ہے اور ایسا کر نے والے قاتل کے حکم میں ہیں جیساکہ*
*📋 فتاوٰی رضویہ جلد نہم نصف آخرصفحہ(151)(اورصفحہ260 میں ہے*

*لہذا ہندہ بلاوجہ حمل ساقط کراکر اس جرم عظیم میں مبتلا ھو کر مستحق عذاب نہ بنے*

*ہاں اگر حمل ساقط ھو گیا یا خود کر ایا اور بچہ کے اعضاء ظاہر ھوگئے تھے تو عدت ختم ھوگئ اور اگربچہ کے اعضاء ظاہر نہ ھوئے تھے تو عدت ختم نہ ھوئی اور سات ماہ بچے کے اعضاء یقینا ظا ھر ھو گئے اس لئے ہندہ بغیر عدت کسی سنی صحیح العقیدہ سے نکا ح کر سکتی ہے*
*📙فتاوٰی عالمگیری جلد اول مصری صفحہ (473) پر بدائع الصنائع سے ہے*
*(شرط انقضا ء ھذه ا لعدة ان یکون ماوضعت قد استبان خلقه فان لم یستبن خلقة راسا با ن اسقطت علقة اومضغة لم تنقض العدة )*

*📘(فتاوٰی فیض الرسول جلد دوم صفحہ301)*

*؛واللہ تعالی اعلم؛*
◆ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ◆
*کتــــبـــہ؛*
*حضرت علامہ مولانامحمد اختررضا قادری رضوی*
*نیپال گنجوی نا ظم اعلی مدرسہ فیض العلوم خطیب وامام نیپالی سنی جا مع مسجد سرکھیت ( نیپال)*
*29 ذی الحجہ 1439 ہجری مطابق10 ستمبر 2018*
*🔸گلـشـن مـدیـنـه گــروپ؛🔸*
*رابطہ؛📞009779815598240*
◆ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ◆
* الجواب صحيح والمجيب نجيح فقط محمد عطاء الله النعيمي غفرله خادم دارالحدیث ودارالافتاء جامعۃالنور جمعیة إشاعة أهل السنة (پاكستان) كراتشي حال مكة المكرمة*
◆ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ◆
*المرتب؛اسـیرتـاج الـشریعه*
*غـلام احمـد رضـا قـادرى يـوپـى*
◆ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ◆