حضرت سید شاہ آل محمد مارہروی
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ🌹
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید شاہ آل محمد۔
کنیت: ابوالبرکات۔ لقب: برہان الموحدین
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید شاہ آل محمد بن صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ بن سید شاہ اویس بلگرامی بن سید شاہ عبد الجلیل بلگرامی بن سید میر عبدالواحد بلگرامی۔ الیٰ آخرہ۔(علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ بروز بدھ 18 رمضان المبارک،1111 ہجری کو بلگرام شریف میں سید شاہ برکت اللہ کے گھر پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
تمام ظاہری و باطنی علوم کی تعلیم و تکمیل اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی، آپ اپنے وقت کے شیخِ طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ، علومِ شریعت کے بھی ماہرِ کامل تھے۔ آپ کا اکثر وقت اپنے والدِ گرامی اور دیگر اکابرینِ امت کی تصنیف کردہ کتب کے مطالعہ میں گزرتا تھا۔
بیعت و خلافت:
سید شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے مشرف فرمایا تھا۔ آپ کو حضرت شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ نے اپنی ظاہری زندگی میں ہی بیعت و ارشاد کا حکم فرما دیا تھا۔
چنانچہ جب کوئی طالب ان کی خدمت میں حاضر ہوتا تو فرماتے: آل محمد کے پاس جاؤ، اس نے میرے سر سے بہت بوجھ ہلکا کر دیا ہے اور مجھے بہت راحت و آرام بخشا ہے ۔ نیز سند ِخلافت و دستار ِنیابت حضرت سید العارفین شاہ لدھا بلگرامی سے بھی ممتاز ہوئے۔
سیرت و خصائص:
برہان الموحدین، رئیس المتوکلین، سید العارفین، جامع شریعت و طریقت ابو البرکات سید شاہ آل محمد مارہروی رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ علیہ الرحمہ حضرت سید شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ کے بڑے صاحبزادے تھے۔ آپ مکمل 3 سال تک اعتکاف میں خلوت گزیں رہے اور جَو کی روٹی سے افطار کیا کرتے تھے ۔ والد صاحب کی زندگی میں ہی مسندِ مشیخیت و سجادہ پر فائز ہو گئے تھے۔شریعت کی انتہائی نگہداشت کرتے تھے۔ امراضِ قلبی کے ازالہ میں آپ مسیحائی فرماتے تھے، اور ویرانۂ وادیِ شوق کو مقام ” تلوین “ پر پہنچا کر قرار و تسکین بخشتے تھے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع میں سر گرم و کوشاں رہتے تھے، اور ہر وقت ترویجِ شریعتِ مطہرہ میں مصروفِ عمل رہتے تھے۔ خلافِ سنت کوئی عمل برداشت نہیں کرتے تھے۔ اکثر اوقات تصوف کی کتابوں، خصوصاً اپنے والد ماجد کی تالیفات کے مطالعہ میں بسر فرماتے ۔ آپ کی برکت سے مارہرہ مطہرہ اور اس کے اطراف و اکناف سے بہت لوگ مستفید ہو کر شرفِ ارادت سے بہرہ ور ہوئے۔ آپ کی ذات سے تمام سلاسل کو بالعموم اور سلسلہ عالیہ قادریہ کو بالخصوص فروغ حاصل ہوا۔
وصال:
16 رمضان المبارک 1164ھ بروز پیر کی رات کو آپ کا وصال ہوا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزارِ مبارک مارہرہ شریف (انڈیا) مرجعِ خاص وعام ہے۔
چراغ آلِ عبا وود مانِ علا
فزود جلوۂِ او رونق حریم بہشت
اِفادۂ کردبمن سال رحلتش ہاتف
نصیب آ ل محمد بود نعیم بہشت
1164 ہجری
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-aal-e-muhammad-marharvi
Copyright © Zia-e-Taiba
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ🌹
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید شاہ آل محمد۔
کنیت: ابوالبرکات۔ لقب: برہان الموحدین
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید شاہ آل محمد بن صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ بن سید شاہ اویس بلگرامی بن سید شاہ عبد الجلیل بلگرامی بن سید میر عبدالواحد بلگرامی۔ الیٰ آخرہ۔(علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ بروز بدھ 18 رمضان المبارک،1111 ہجری کو بلگرام شریف میں سید شاہ برکت اللہ کے گھر پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
تمام ظاہری و باطنی علوم کی تعلیم و تکمیل اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی، آپ اپنے وقت کے شیخِ طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ، علومِ شریعت کے بھی ماہرِ کامل تھے۔ آپ کا اکثر وقت اپنے والدِ گرامی اور دیگر اکابرینِ امت کی تصنیف کردہ کتب کے مطالعہ میں گزرتا تھا۔
بیعت و خلافت:
سید شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے مشرف فرمایا تھا۔ آپ کو حضرت شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ نے اپنی ظاہری زندگی میں ہی بیعت و ارشاد کا حکم فرما دیا تھا۔
چنانچہ جب کوئی طالب ان کی خدمت میں حاضر ہوتا تو فرماتے: آل محمد کے پاس جاؤ، اس نے میرے سر سے بہت بوجھ ہلکا کر دیا ہے اور مجھے بہت راحت و آرام بخشا ہے ۔ نیز سند ِخلافت و دستار ِنیابت حضرت سید العارفین شاہ لدھا بلگرامی سے بھی ممتاز ہوئے۔
سیرت و خصائص:
برہان الموحدین، رئیس المتوکلین، سید العارفین، جامع شریعت و طریقت ابو البرکات سید شاہ آل محمد مارہروی رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ علیہ الرحمہ حضرت سید شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ کے بڑے صاحبزادے تھے۔ آپ مکمل 3 سال تک اعتکاف میں خلوت گزیں رہے اور جَو کی روٹی سے افطار کیا کرتے تھے ۔ والد صاحب کی زندگی میں ہی مسندِ مشیخیت و سجادہ پر فائز ہو گئے تھے۔شریعت کی انتہائی نگہداشت کرتے تھے۔ امراضِ قلبی کے ازالہ میں آپ مسیحائی فرماتے تھے، اور ویرانۂ وادیِ شوق کو مقام ” تلوین “ پر پہنچا کر قرار و تسکین بخشتے تھے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع میں سر گرم و کوشاں رہتے تھے، اور ہر وقت ترویجِ شریعتِ مطہرہ میں مصروفِ عمل رہتے تھے۔ خلافِ سنت کوئی عمل برداشت نہیں کرتے تھے۔ اکثر اوقات تصوف کی کتابوں، خصوصاً اپنے والد ماجد کی تالیفات کے مطالعہ میں بسر فرماتے ۔ آپ کی برکت سے مارہرہ مطہرہ اور اس کے اطراف و اکناف سے بہت لوگ مستفید ہو کر شرفِ ارادت سے بہرہ ور ہوئے۔ آپ کی ذات سے تمام سلاسل کو بالعموم اور سلسلہ عالیہ قادریہ کو بالخصوص فروغ حاصل ہوا۔
وصال:
16 رمضان المبارک 1164ھ بروز پیر کی رات کو آپ کا وصال ہوا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزارِ مبارک مارہرہ شریف (انڈیا) مرجعِ خاص وعام ہے۔
چراغ آلِ عبا وود مانِ علا
فزود جلوۂِ او رونق حریم بہشت
اِفادۂ کردبمن سال رحلتش ہاتف
نصیب آ ل محمد بود نعیم بہشت
1164 ہجری
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-aal-e-muhammad-marharvi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-09-1443 ᴴ | 17-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-09-1443 ᴴ | 18-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-09-1443 ᴴ | 18-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-09-1443 ᴴ | 18-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20 اپریل درود ڈے ؟
جو لوگ کئی سالوں سے مسلمانوں کے جذبات سے کھیل کر اپنی دنیا چمکا رہے ہیں ان تک یہ ضرور پہنچائیں ـ ہر بار نئے اعلانان ہر بار کوئی نئی بدعت ہر سال کچھ نیا کرنے کے نام پر قوم کا چندہ آخر یہ کب تک چلے گا ؟
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2044853729029864&id=100005157704773
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20 اپریل درود ڈے ؟
جو لوگ کئی سالوں سے مسلمانوں کے جذبات سے کھیل کر اپنی دنیا چمکا رہے ہیں ان تک یہ ضرور پہنچائیں ـ ہر بار نئے اعلانان ہر بار کوئی نئی بدعت ہر سال کچھ نیا کرنے کے نام پر قوم کا چندہ آخر یہ کب تک چلے گا ؟
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2044853729029864&id=100005157704773
❤1👍1