🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-09-1443 ᴴ | 16-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-09-1443 ᴴ | 17-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-09-1443 ᴴ | 17-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-09-1443 ᴴ | 17-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
آج کی تاریخ ۱۵ رمضان المبارک
حضرت سیدنا امام حسن
علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی
علامہ فیض احمد اویسی رضوی
پندرہویں صدی کے مجدد محدث حجاز حضرت علامہ سید محمد بن علوی مالکی
داماد تاج الشریعہ مفتی شعیب رضا
عالم اور طالب علم کا مقام
👍21
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
فضائل و مناقب حضرت امام
حسن رضی اللہ عنہ حصّہ اوّل

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/330900285812684/

محترم قارئینِ کرام : تین (3) ہجری میں پندرہ (15) رمضان المبارک کو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت ہوئی ، آپ رضی اللہ عنہ حضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنہ اور خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی پہلی اولاد ہیں ۔ قُرب ولادت کے وقت نبی کریم عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ام ایمن اور حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو سیدہ عالم کی دیکھ بھال کےلیے مامور کیا ۔ انہوں نے آیت الکرسی اور تینوں معوذ پڑھ کر ان کو دم کیا ، بچے کی ولادت ہوئی تو نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساتویں دن نومولود کے عقیقے کے موقع پردو دُنبے ذبح کئے اور اپنی پیاری بیٹی سے فرمایا کہ بچے کے سر کے بال اتروائیں اور بالوں کے وزن کے برابر چاندی خیرات کریں ۔ جب آپ کا سر منڈا کر بالوں کا وزن کیا گیا تو یہ وزن ایک درہم کے برابر تھا۔ اتنی چاندی خیرات کی گئی ۔ دایہ کو دنبے کی ران اور ایک دینار دیا گیا ۔ سرمنڈانے کے بعد نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے نومولود کے سر پر خوشبو ملی اور اسی دن آپ کا نام رکھا گیا اور ختنہ کیا گیا ۔ علاوہ ازیں نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی آپ کے کان میں اذان کہی تھی ۔ (ضیاء النبی ، مدارج النبوۃ ، سیرت حلبیہ)

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسن علیہ السلام سینہ سے سرتک نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل شبیہہ ہیں اور حضرت امام حسین علیہ السلام سینہ سے نیچے تک حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل شبیہہ ہیں ۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب، رقم: 3779،چشتی)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود مبارک میں تھے اور وہ اپنی انگلیاں نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک میں ڈال رہے تھے اور نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زبان مبارک ان کے منہ میں ڈالتے اور فرماتے : اللهم انی احبه فاحبه ۔
ترجمہ : اے اللہ میں اسے محبوب رکھتا ہوں تو بھی اسے محبوب رکھ ۔ (صواعق محرقہ صفحہ نمبر467)

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا میرا یہ بیٹا سردار ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں دو جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا ۔ راوی فرماتے ہیں کہ بیٹے سے مراد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب، رقم: 3773)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خانوادۂ عالیہ کے ہر فرد کو اللہ تعالی نے فضائل وکمالات کا جامع بنایا اور بے شمار خصائص وکرامات سے بہرہ مند فرمایا ۔

حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی ذات اقدس سے خصوصی تعلق ہے،انہیں اہل بیت نبوت ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے اور وہ صحابیت کے شرف سے بھی مشرف ہیں،اسی وابستگی وتعلق کے سبب اللہ تعالی نے انہیں حق وصداقت کا پیکر بنایا،وہ گفتار وکردار کے پاکیزہ ہیں اور ان کا ہر طریقۂ کار بے مثل وبے مثال اور امت کےلیے عمدہ نمونہ ہے،ان کی تابناک زندگی امت کے لئے مشعل راہ ہے۔

جنتی جوانوں کے سردار،امام المتقین ، سبط رسول،امام عالی مقام سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کا نام مبارک "حسن " اور کنیت شریفہ "ابو محمد" رضی اللہ تعالی عنہ ہے ۔

معجم کبیر طبرانی میں روایت ہے : عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ , أَنَّهُ سَمَّى ابْنَهُ الأَكْبَرَ حَمْزَةَ ، وَسَمَّى حُسَيْنًا جَعْفَرًا بِاسْمِ عَمِّهِ ، فَسَمَّاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا ۔
ترجمہ : حضرت سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے بڑے شہزادے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کانام مبارک حمزہ اور سید نا حسین رضی اللہ عنہ کا نام مبارک ان کے چچا حضرت جعفر کے نام پر رکھا،پھر حضو راکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کا نام حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رکھا ۔ (معجم کبیر طبرانی ، حد یث نمبر:2713)

حسن اور حسین رضی اللہ عنہما یہ دونوں نام اہل جنت کے اسماء سے ہیں اور قبل اسلام عرب نے یہ دونوں نام نہ رکھے ۔

علامہ ابن حجر مکی ہیتمی رحمۃ اللہ علیہ نے الصواعق المحرقۃ صفحہ 115 ، میں روایت درج کی ہے : أخرج ابن سعد عن عمران بن سليمان قال : " الحسن والحسين " اسمان من أسماء أهل الجنة ، ما سمت العرب بهما في الجاهلية ۔ (الصواعق المحرقہ، ص:115- تاریخ الخلفاء،ج:1 ص:76)
1👍1