حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ایک مایۂ ناز مدرّس تھے؛ آپ کو تمام کتب اور تمام علوم و فنون میں یک ساں مہارتِ تامّہ حاصل تھی۔ کوئی بھی کتاب اُن کے سامنے مشکل نہ تھی، آپ کی تدریس کا انداز ایسا سہل اور دل نشیں تھا کہ غبی و مبتدی طلبہ بھی بآسانی سمجھ لیتے تھے۔ تعلیم کے ساتھ تربیت اور طلبہ کی ذہن سازی بھی فرماتے تھے، طلبہ میں دینِ متین کی خدمت کا جذبہ اور تصلّب فی الدین، مسلکِ حق کی خدمت فی سبیل اللہ کرنے کا جذبہ اور علماء و طلبہ میں خود داری، تقویٰ و خلوص کوٹ کوٹ کر بھر دیتے تھے۔
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ تھے، بلکہ فنا فی الرسول ﷺ کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ہر سال ماہِ رمضان دیارِ مصطفیٰ ﷺ میں گزارتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ کا ذکر شریف، یا مدینۂ منوّرہ کی یادیں تازہ ہوتیں تو آنکھوں سے موتیوں کی برسات شروع ہو جاتی، اور دیکھنے والے جانتے ہیں کہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور یادِ مدینہ میں ایسے بے قرار رہتے تھے، جیسے ماہیِ بـے آب، اور حقیقتاً یہی زندگی اور یہی بندگی ہے۔ جب اپنا نام تحریر کرتے تو اس طرح تحریر کرتے: ’’مدینے کابھکاری، فقیر فیض احمد اویسی غُفِرَلَہٗ‘‘۔ ایسا بڑا مصنّف، جن کے ہزاروں شاگرد و مریدین ہوں، لیکن سادگی ایسی تھی کہ اکابرین کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔ فی زمانہ تمام دینی شعبہ جات میں بقول ’’من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو‘‘ القاب کی بہتات ہے، اِلَّا مَاشَآءَ اللہ؛ مگر حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ کے ہاں ایسے القاب کی کوئی رو رعایت نہیں تھی۔ دنیاوی آلائشوں سے دامن بچا کر آپ مقصدِ حیات میں کامیاب رہے۔
تدریس کے ساتھ ساتھ، وعظ و نصیحت، مختلف مقامات پر مُناظروں کے چیلنج قبول کرکے احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کے لیے مناظرہ کرنا، اور اپنا وقت بچا کر تحریر و تصنیف میں مصروف رہنا، یہ اس پر فتن اور نفسا نفسی کے عالم میں علماء کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ واقعی فیضِ ملّت تھے۔ کون سا ایسا موضوع اور کون سا ایسا فن ہے جس میں حضرت نے قلم کشائی نہ فرمائی ہو۔ تمام مروّجہ علوم و فنون، عربی و فارسی زبان میں کتب کا اردو ترجمہ، اور قدیم و جدید موضوعات پر تقریباً پانچ ہزار کتب تصنیف فرمائی ہیں؛ بلکہ موجودہ وقت میں یہ آپ کا عالمی ریکارڈ بھی ہے۔
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ کی زندگی آج کے نوجوان علماء و طلبہ کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ خلوص و لِلّٰہِیَتۡ سے دین کی خدمت، تدریس، تصنیف، کے ساتھ دینی مدارس کا قیام اہل سنّت کے بقا و عروج کے لیے لازم ہے۔ اگر تمام علماء مقدور بھر کوشش کریں تو کوئی بعید نہیں کہ اِنْ شَآءَ اللہُ تَعَالیٰ ہر طرف دین کی بہاریں نظر آئیں گی۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصالِ باکمال 15؍رمضان المبارک 1431ھ مطابق 26؍ اگست 2010ء ،بروز جمعرات، بوقت 6:15 صبح جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور میں ہوا۔ جامعہ ہی میں ابدی آرام فرماہیں۔
ماخذ و مراجع:
تعارف علمائے اہلِ سنّت؛ مظلوم مصنّف۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-muhammad-faiz-ahmed-owaisi-rizvi
Copyright © Zia-e-Taiba
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ تھے، بلکہ فنا فی الرسول ﷺ کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ہر سال ماہِ رمضان دیارِ مصطفیٰ ﷺ میں گزارتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ کا ذکر شریف، یا مدینۂ منوّرہ کی یادیں تازہ ہوتیں تو آنکھوں سے موتیوں کی برسات شروع ہو جاتی، اور دیکھنے والے جانتے ہیں کہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور یادِ مدینہ میں ایسے بے قرار رہتے تھے، جیسے ماہیِ بـے آب، اور حقیقتاً یہی زندگی اور یہی بندگی ہے۔ جب اپنا نام تحریر کرتے تو اس طرح تحریر کرتے: ’’مدینے کابھکاری، فقیر فیض احمد اویسی غُفِرَلَہٗ‘‘۔ ایسا بڑا مصنّف، جن کے ہزاروں شاگرد و مریدین ہوں، لیکن سادگی ایسی تھی کہ اکابرین کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔ فی زمانہ تمام دینی شعبہ جات میں بقول ’’من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو‘‘ القاب کی بہتات ہے، اِلَّا مَاشَآءَ اللہ؛ مگر حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ کے ہاں ایسے القاب کی کوئی رو رعایت نہیں تھی۔ دنیاوی آلائشوں سے دامن بچا کر آپ مقصدِ حیات میں کامیاب رہے۔
تدریس کے ساتھ ساتھ، وعظ و نصیحت، مختلف مقامات پر مُناظروں کے چیلنج قبول کرکے احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کے لیے مناظرہ کرنا، اور اپنا وقت بچا کر تحریر و تصنیف میں مصروف رہنا، یہ اس پر فتن اور نفسا نفسی کے عالم میں علماء کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ واقعی فیضِ ملّت تھے۔ کون سا ایسا موضوع اور کون سا ایسا فن ہے جس میں حضرت نے قلم کشائی نہ فرمائی ہو۔ تمام مروّجہ علوم و فنون، عربی و فارسی زبان میں کتب کا اردو ترجمہ، اور قدیم و جدید موضوعات پر تقریباً پانچ ہزار کتب تصنیف فرمائی ہیں؛ بلکہ موجودہ وقت میں یہ آپ کا عالمی ریکارڈ بھی ہے۔
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ کی زندگی آج کے نوجوان علماء و طلبہ کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ خلوص و لِلّٰہِیَتۡ سے دین کی خدمت، تدریس، تصنیف، کے ساتھ دینی مدارس کا قیام اہل سنّت کے بقا و عروج کے لیے لازم ہے۔ اگر تمام علماء مقدور بھر کوشش کریں تو کوئی بعید نہیں کہ اِنْ شَآءَ اللہُ تَعَالیٰ ہر طرف دین کی بہاریں نظر آئیں گی۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصالِ باکمال 15؍رمضان المبارک 1431ھ مطابق 26؍ اگست 2010ء ،بروز جمعرات، بوقت 6:15 صبح جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور میں ہوا۔ جامعہ ہی میں ابدی آرام فرماہیں۔
ماخذ و مراجع:
تعارف علمائے اہلِ سنّت؛ مظلوم مصنّف۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-muhammad-faiz-ahmed-owaisi-rizvi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
#فیضان_حضور_فیض_ملت ❶
✍#علامہ_فیض_احمد_اویسی
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/Faize_Millat_Library
تاریخ ولادت : ۱۵۳۱ھ ۲۳۹۱ء 🌹
وصال: ۱۵ رمضان المبارک ۱۳۴۱ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍#علامہ_فیض_احمد_اویسی
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/Faize_Millat_Library
تاریخ ولادت : ۱۵۳۱ھ ۲۳۹۱ء 🌹
وصال: ۱۵ رمضان المبارک ۱۳۴۱ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
#فیضان_حضور_فیض_ملت ❷
✍#علامہ_فیض_احمد_اویسی
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/Faize_Millat_Library
تاریخ ولادت : ۱۵۳۱ھ ۲۳۹۱ء 🌹
وصال: ۱۵ رمضان المبارک ۱۳۴۱ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍#علامہ_فیض_احمد_اویسی
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/Faize_Millat_Library
تاریخ ولادت : ۱۵۳۱ھ ۲۳۹۱ء 🌹
وصال: ۱۵ رمضان المبارک ۱۳۴۱ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1